25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 25:41–42

وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا Open ayah 25:41 in the Quran reader

اور جہاں تجھ کو دیکھیں کچھ کام نہیں ان کو تجھ سے مگر ٹھٹھے کرنے کیا یہی ہے جس کو بھیجا اللہ نے پیغام دے کر

اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَا١ؕ وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 25:42 in the Quran reader

یہ تو ہم کو بچلا ہی دیتا ہمارے معبودوں سے اگر ہم نہ جمے رہتے ان پر4 اور آگے جان لیں گے جس وقت دیکھیں گے عذاب کہ کون بہت بچلا ہوا ہے راہ سے5

4 یعنی بجائے عبرت حاصل کرنے کے ان کا مشغلہ تو یہ ہے کہ پیغمبر سے ٹھٹھا کیا کریں۔ چناچہ آپ ﷺ کو دیکھ کر استہزاءاً کہتے ہیں کہ کیا یہ بزرگ ہیں جن کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ؟ بھلا یہ حیثیت اور منصب رسالت ؟ کیا ساری خدائی میں سے یہ ہی اکیلے رسول بننے کے لیے رہ گئے تھے ؟ آخر کوئی بات تو ہو۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کی تقریر جادو کا اثر رکھتی ہے۔ قوت فصاحت اور زور تقریر سے رنگ تو ایسا جمایا تھا کہ بڑے بڑوں کے قدم پھسل گئے ہوتے۔ قریب تھا کہ اس کی باتیں ہم کو ہمارے معبودوں سے برگشتہ کر دیتیں۔ وہ تو ہم پکے ہی ایسے تھے کہ برابر جمے رہے ان کی کسی بات کا اثر قبول نہ کیا۔ ورنہ یہ ہم سب کو کبھی کا گمراہ کر کے چھوڑتے (العیاذ باللہ) 5 یعنی عذاب الٰہی کو آنکھوں سے دیکھیں گے تب ان کو پتہ لگے گا کہ واقع میں کون گمراہی پر تھا۔
Ayah 25:43

اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ Open ayah 25:43 in the Quran reader

بھلا دیکھ تو اس شخص کو جس نے پوجنا اختیار کیا اپنی خواہش کا کہیں تو لے سکتا ہے اس کا ذمہ6

6 یعنی آپ ایسے ہوا پرستوں کو راہ ہدایت پر لے آنے کی کیا ذمہ داری کرسکتے ہیں جن کا معبود ہی محض خواہش ہو کہ جدھر خواہش لے گئی ادھر ہی جھک پڑے جو بات خواہش کے موافق ہوئی قبول کرلی، جو مخالف ہوئی رد کردی۔ آج ایک پتھر اچھا معلوم ہوا اسے پوجنے لگے کل دوسرا اس سے خوبصورت مل گیا پہلے کو چھوڑ کر اس کے آگے سر جھکا دیا۔
Ayah 25:44

اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:44 in the Quran reader

یا تو خیال رکھتا ہے کہ بہت سے ان میں سنتے یا سمجھتے ہیں اور کچھ نہیں وہ برابر ہیں چوپایوں کے بلکہ وہ زیادہ بہکے ہوئے ہیں راہ سے7

7 یعنی کیسی ہی نصیحتیں سنائیے، یہ تو چوپائے جانور ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر، انھیں سننے یا سمجھنے سے کیا واسطہ چوپائے تو بہرحال اپنے پرورش کرنے والے مالک کے سامنے گردن جھکا دیتے ہیں۔ اپنے محسن کو پہچانتے ہیں، نافع و مضر کی کچھ شناخت رکھتے ہیں۔ کھلا چھوڑ دو تو اپنی چراگاہ اور پانی پینے کی جگہ پہنچ جاتے ہیں، لیکن ان بدبختوں کا حال یہ ہے کہ نہ اپنے خالق و رازق کا حق پہچانا، نہ اس کے احسانات کو سمجھا۔ نہ بھلے برے کی تمیز کی، نہ دوست دشمن میں فرق کیا، نہ غذائے روحانی اور چشمہ ہدایت کی طرف قدم اٹھایا۔ بلکہ اس سے کوسوں دور بھاگے اور جو قوتیں خدا تعالیٰ نے عطا کی تھیں ان کو معطل کیے رکھا بلکہ بےموقع صرف کیا۔ اگر ذرا بھی عقل و فہم سے کام لیتے تو اس کارخانہ قدرت میں بیشمار نشانیاں موجود تھیں جو نہایت واضح طور پر اللہ تعالیٰ کی توحید و تنزیہ اور اصول دین کی صداقت و حقانیت کی طرف رہبری کر رہی ہیں جن میں سے بعض نشانیوں کا ذکر آئندہ آیات میں کیا گیا ہے۔
Ayahs 25:45–46

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ Open ayah 25:45 in the Quran reader

تو نے نہیں دیکھا اپنے رب کی طرف کیسے دراز کیا سایہ کو اور اگر چاہتا تو اس کو ٹھہرا رکھتا پھر ہم نے مقرر کیا سورج کو اس کا راہ بتلانے والا

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا Open ayah 25:46 in the Quran reader

پھر کھینچ لیا ہم نے اس کو اپنی طرف سہج سہج سمیٹ کر8

8 صبح سے طلوع شمس تک سب جگہ سایہ رہتا ہے اگر حق تعالیٰ سورج کو طلوع نہ ہونے دیتا تو یہ ہی سایہ قائم رہتا، مگر اس نے اپنی قدرت سے سورج نکالا جس سے دھوپ پھیلنی شروع ہوئی اور سایہ بتدریج ایک طرف کو سمٹنے لگا۔ اگر دھوپ نہ آتی تو سایہ کو ہم سمجھ بھی نہ سکتے۔ کیونکہ ایک ضد کے آنے سے ہی دوسری ضد پہچانی جاتی ہے۔ (قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيْكُمُ الَّيْلَ سَرْمَدًا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَيْرُ اللّٰهِ يَاْتِيْكُمْ بِضِيَاۗءٍ ۭ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ ) 28 ۔ القصص :71) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " اول ہر چیز کا سایہ لمبا پڑتا ہے۔ پھر جس طرف سورج چلتا ہے اس کے مقابل سایہ ہٹا جاتا ہے جب تک کہ جڑ میں آلگے۔ " اپنی طرف کھینچ لیا کا یہ مطلب ہے کہ اپنی اصل کو جا لگتا ہے۔ سب کی اصل اللہ ہے۔ " (موضح القرآن) پھر زوال کے بعد سے ایک طرف سے دھوپ سمٹنا شروع ہوتی ہے اور دوسری طرف سایہ لمبا ہونے لگتا ہے حتی کہ آخر نہار میں دھوپ غائب ہوجاتی ہے۔ یہ ہی مثال دنیا کی ہستی کی سمجھو۔ اول عدم تھا، پھر نور وجود آیا، پھر آخرکار کتم عدم میں چلی جائے گی۔ اور اسی جسمانی نوروظل کے سلسلہ پر روحانی نوروظلمت کو قیاس کرلو۔ اگر کفر و عصیان اور جہل و طغیان کی ظلمات میں آفتاب نبوت کی روشنی اللہ تعالیٰ نہ بھیجتا تو کسی کو معرفت صحیحہ کا راستہ ہاتھ نہ آتا۔
Ayah 25:47

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا Open ayah 25:47 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے بنادیا تمہارے واسطے رات کو اوڑھنا اور نیند کو آرام اور دن کو بنادیا اٹھ نکلنے کے لیے9

9 یعنی رات کی تاریکی چادر کی طرح سب پر محیط ہوجاتی ہے جس میں لوگ کاروبار چھوڑ کر آرام کرتے ہیں، پھر دن کا اجالا ہوتا ہے تو نیند سے اٹھ کر ادھر ادھر چلنے پھرنے لگ جاتے ہیں۔ اسی طرح موت کی نیند کے بعد قیامت کی صبح آئے گی جس میں سارا جہان دوبارہ اٹھ کھڑا ہوگا اور یہ حالت اس وقت پیش آتی ہے جب انبیاء (علیہم السلام) وحی والہام کی روشنی سے دنیا میں اجالا کرتے ہیں، تو جہل و غفلت کی نیند سے سوئی ہوئی مخلوق ایک دم آنکھیں مل کر اٹھ بیٹھتی ہے۔
Ayahs 25:48–49

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ Open ayah 25:48 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے چلائیں ہوائیں خوشخبری لانے والیاں اس کی رحمت سے آگے اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی پاکی حاصل کرنے کا

لِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا Open ayah 25:49 in the Quran reader

کہ زندہ کردیں اس سے مرے ہوئے دیس کو اور پلائیں اس کو اپنے پیدا کیے ہوئے بہت سے چوپایوں اور آدمیوں کو1

1 یعنی اول برساتی ہوائیں بارش کی خوشخبری لاتی ہیں، پھر آسمان کی طرف سے پانی برستا ہے جو خود پاک اور دوسروں کو پاک کرنے والا ہے۔ پانی پڑتے ہی مردہ زمینوں میں جان پڑجاتی ہے، کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں جہاں خاک اڑ رہی تھی وہاں سبزہ زار بن جاتا ہے۔ اور کتنے جانور اور آدمی بارش کا پانی پی کر سیراب ہوتے ہیں۔ اسی طرح قیامت کے دن ایک غیبی بارش کے ذریعہ مردہ جسموں کو جو خاک میں مل چکے تھے زندہ کردیا جائے گا اور دنیا میں بھی اسی طرح جو دل جہل و عصیان کی موت سے مرچکے تھے، وحی الٰہی کی آسمانی بارش ان کو زندہ کردیتی ہے جو روحیں پلیدی میں پھنس گئی تھیں۔ روحانی بارش کے پانی سے دھل کر پاک و صاف ہوجاتی ہیں اور معرفت و وصول الی اللہ کی پیاس رکھنے والے اس کو پی کر سیراب ہوتے ہیں۔
Ayah 25:50

وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 25:50 in the Quran reader

اور طرح طرح سے تقسیم کیا ہم نے اس کو ان کے بیچ میں تاکہ دھیان رکھیں پھر بھی نہیں رہتے بہت لوگ بدون ناشکری کیے2

2 یعنی بارش کا پانی تمام زمینوں اور آدمیوں کو یکساں نہیں پہنچتا بلکہ کہیں کم کہیں زیادہ، کہیں جلد کہیں بدیر، جس طرح اللہ کی حکمت مقتضی ہو پہنچتا رہتا ہے۔ تاکہ لوگ سمجھیں کہ اس کی تقسیم کسی قادر مختار و حکیم کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن بہت لوگ پھر بھی نہیں سمجھتے اور نعمت الٰہی کا شکر ادا نہیں کرتے۔ الٹے کفر اور ناشکری پر اتر آتے ہیں۔ یہی حال روحانی بارش کا ہے کہ جس کو اپنے استعداد اور ظرف کے موافق جتنا حصہ ملنا تھا مل گیا اور بہت سے اس نعمت عظمیٰ کا کفران ہی کرتے رہے۔
Ayahs 25:51–52

وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ Open ayah 25:51 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو اٹھاتے ہر بستی میں کوئی ڈرانے والا

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا Open ayah 25:52 in the Quran reader

سو تو کہنا مت مان منکروں کا اور مقابلہ کر ان کا اس کے ساتھ بڑے زور سے3

3 یعنی نبی کا آنا تعجب کی چیز نہیں۔ اللہ چاہے تو اب بھی نبیوں کی کثرت کر دے کہ ہر بستی میں علیحدہ نبی ہو۔ مگر اس کو منظور ہی یہ ہوا کہ اب آخر میں سارے جہان کے لیے اکیلے محمد رسول اللہ ﷺ کو نبی بنا کر بھیجے۔ سو آپ کافروں کے احمقانہ طعن وتشنیع اور سفیہانہ نکتہ چینیوں کی طرف التفات نہ فرمائیں۔ اپنا کام پوری قوت اور جوش سے انجام دیتے رہیں اور قرآن ہاتھ میں لے کر ان منکرین کا مقابلہ زور و شور کے ساتھ کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو کامیاب کرنے والا ہے۔
Ayah 25:53

وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:53 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے ملے ہوئے چلائے دو دریا یہ میٹھا ہے پیاس بجھانے والا اور یہ کھاری ہے کڑوا اور رکھا ان دونوں کے بیچ پردہ اور آڑ روکی ہوئی4

4 بیان القرآن میں دو معتبر بنگالی علماء کی شہادت نقل کی ہے کہ " ارکان " سے " چاٹگام " تک دریا کی شان یہ ہے کہ اس کی دو جانبیں بالکل الگ الگ نوعیت کے دو دریا نظر آتے ہیں، ایک کا پانی سفید ہے، ایک کا سیاہ، سیاہ میں سمندر کی طرح طوفانی تلاطم اور تموج ہوتا ہے اور سفید بالکل ساکن رہتا ہے کشتی سفید میں چلتی ہے اور دونوں کے بیچ میں ایک دھاری سی برابر چلی گئی ہے جو دونوں کا ملتقی ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ سفید پانی میٹھا ہے اور سیاہ کڑوا۔ اور مجھ سے " باریسال " کے بعض طلبہ نے بیان کیا کہ ضلع " باریسال " میں دو ندیاں ہیں جو ایک ہی دریا سے نکلی ہیں۔ ایک کا پانی کھاری بالکل کڑوا، اور ایک کا نہایت شیریں اور لذیذ ہے۔ یہاں گجرات میں راقم الحروف جس جگہ آجکل مقیم ہے (ڈابھیل سملک ضلع سورت) سمندر تقریباً دس بارہ میل کے فاصلہ پر ہے ادھر کی ندیوں میں برابر مدوجزر (جوار بھاٹا) ہوتا رہتا ہے۔ بکثرت ثقات نے بیان کیا کہ مد کے وقت جب سمندر کا پانی ندی میں آجاتا ہے تو میٹھے پانی کی سطح پر کھاری پانی بہت زور سے چڑھ جاتا ہے لیکن اس وقت بھی دونوں پانی مختلط نہیں ہوتے۔ اوپر کھاری رہتا ہے، نیچے میٹھا، جزر کے وقت اوپر سے کھاری اتر جاتا اور میٹھا جوں کا توں باقی رہ جاتا ہے واللہ اعلم۔ ان شواہد کو دیکھتے ہوئے آیت کا مطلب بالکل واضح ہے۔ یعنی خدا کی قدرت دیکھو کہ کھاری اور میٹھے دونوں دریاؤں کے پانی کہیں نہ کہیں مل جانے کے باوجود بھی کس طرح ایک دوسرے سے ممتاز رہتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہو کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں دریا الگ الگ اپنے اپنے مجریٰ میں چلائے اور دونوں کے بیچ میں بہت جگہ زمین حائل کردی، اس طرح آزاد نہ چھوڑا کہ دونوں زور لگا کر درمیان سے زمین کو ہٹا دیتے اور اس کی ہستی کو تباہ کردیتے، پھر دونوں میں ہر ایک کا جو مزہ ہے وہ اسی کے لیے لازم ہے۔ یہ نہیں کہ میٹھا دریا کھاری، یا کھاری میٹھا بن جائے۔ گویا باعتبار اوصاف کے ہر ایک دوسرے سے بالکل الگ رہنا چاہتا ہے۔ وقیل غیر ذالک والراجح عندی ہوالاول۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 25:54–55

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا Open ayah 25:54 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے بنایا پانی سے آدمی پھر ٹھہرایا اس کے لیے جد اور سسرال اور تیرا رب سب کچھ کرسکتا ہے

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا Open ayah 25:55 in the Quran reader

اور پوجتے ہیں اللہ کو چھوڑ کر وہ چیز جو نہ بھلا کرسکے ان کا نہ برا اور ہے کافر اپنے رب کی طرف سے پیٹھ پھیر رہا5

5 دیکھ لو ! کس طرح اپنی قدرت کاملہ سے ایک قطرہ آب کو عاقل و کامل آدمی بنادیا۔ پھر آگے اس سے نسلیں چلائیں اور دامادی اور سسرال کے تعلقات قائم کیے۔ ایک ناچیز قطرہ کو کیا سے کیا کردیا اور کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ لیکن یہ حضرت تھوڑی ہی دیر میں اپنی اصل کو بھول گئے اور رب قدیر کو چھوڑ کر عاجز مخلوق کو خدا کہنے لگے۔ اپنے پروردگار کا حق تو کیا پہچانتے اس سے منہ موڑ کر اور پیٹھ پھیر کر شیطان کی فوج میں جا شامل ہوئے۔ تاکہ اغواء واضلال کے مشن میں اس کی مدد کریں اور مخلوق کو گمراہ کرنے میں اس کا ہاتھ بٹائیں۔ نَعُوذ باللّٰہ مِنْ شُرُور اَنْفُسِنَا وَمِنْ سَیِّئَاتِ اَعْمَالِنَا۔
Ayahs 25:56–57

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا Open ayah 25:56 in the Quran reader

اور تجھ کو ہم نے بھیجا یہی خوشی اور ڈر سنانے کے لیے

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 25:57 in the Quran reader

تو کہہ میں نہیں مانگتا تم سے اس پر کچھ مزدوری مگر جو کوئی چاہے کہ پکڑ لے اپنے رب کی طرف راہ6

6 یعنی آپ کا کام خدا تعالیٰ کی وفاداری پر بشارات سنانا اور غداروں کو خراب نتائج و عواقب سے آگاہ کردینا ہے۔ آگے کوئی مانے یا نہ مانے، آپ کو کچھ نقصان نہیں۔ آپ ان سے کچھ فیس یا مزدوری تھوڑی طلب کر رہے تھے کہ ان کے نہ ماننے سے اس کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو۔ آپ تو ان سے صرف اتنا ہی چاہتے ہیں کہ جو کوئی چاہے خدا کی توفیق پا کر اپنے رب کا راستہ پکڑ لے۔ اسی کو چاہو فیس کہہ لو یا مزدوری۔
Ayah 25:58

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ Open ayah 25:58 in the Quran reader

اور بھروسہ کر اوپر اس زندہ کے جو نہیں مرتا7 اور یاد کر اس کی خوبیاں اور وہ کافی ہے اپنے بندوں کے گناہوں سے خبردار8

7 یعنی آپ تنہا خدا پر بھروسہ کر کے اپنا فرض (تبلیغ و دعوت وغیرہ) ادا کیے جائیے۔ کسی کی مخالفت یا موافقت کی پروا نہ کریں۔ فانی چیزوں کا کیا سہارا۔ سہارا تو اسی کا ہے جو ہمیشہ زندہ رہے کبھی نہ مرے۔ 8 یعنی اسی پر توکل رکھیے اور اسی کی عبادت اور حمدو ثنا کرتے رہیے۔ ان مجرموں سے وہ خود نبٹ لے گا۔
Ayah 25:59

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا Open ayah 25:59 in the Quran reader

جس نے بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے چھ دن میں پھر قائم ہوا عرش پر1 وہ بڑی رحمت والا سو پوچھ اس سے جو اس کی خبر رکھتا ہو2

1 اس کا بیان سورة اعراف میں گزر چکا ہے۔ 2 یعنی اللہ تعالیٰ کی شانوں اور رحمتوں کو کسی جاننے والے سے پوچھو۔ یہ جاہل مشرک اسے کیا جانیں۔ (وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖٓ) 6 ۔ الانعام :91) اپنی شؤن و کمالات کا پوری طرح جاننے والا تو خدا ہی ہے۔ " اَنْتَ کَمَآ اَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِکَ " لیکن مخلوق میں سب سے بڑے جاننے والے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں جن کی ذات گرامی میں حق تعالیٰ نے اولین و آخرین کے تمام علوم جمع کردیئے، خدا تعالیٰ کی شانوں کو کوئی ان سے پوچھے۔
Ayah 25:60

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩ Open ayah 25:60 in the Quran reader

اور جب کہیے ان سے سجدہ کرو رحمان کو کہیں رحمان کیا ہے کیا سجدہ کرنے لگیں ہم جس کو تو فرمائے اور بڑھ جاتا ہے ان کا بدکنا3

3 یعنی یہ جاہل مشرک رحمان کی عظمت شان کو کیا سمجھ سکتے ہیں جن کو اس نام سے بھی چڑ ہے۔ جب یہ نام سنتے ہیں تو انتہائی جہل یا بےحیائی اور تعنت سے ناواقف بن کر کہتے ہیں کہ رحمان کون ہے جس کو ہم سے سجدہ کراتا ہے کیا محض تیرے کہہ دینے سے ایسی بات مان لیں ؟ بس تم نے ایک نام لے دیا اور ہم سجدہ میں گرپڑے۔ غرض جس قدر انھیں رحمان کی اطاعت وانقیاد کی طرف توجہ دلائے اسی قدر زیادہ بدکتے اور بھاگتے ہیں۔
Ayah 25:61

تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا Open ayah 25:61 in the Quran reader

بڑی برکت ہے اس کی جس نے بنائے آسمان میں برج4 اور رکھا اس میں چراغ5

4 یعنی بڑے بڑے ستارے، یا آسمانی قلعے جن میں فرشتے پہرہ دیتے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ آسمان کے بارہ حصے، ان کا نام برج، ہر ایک پر ستاروں کا پتہ، یہ حدیں رکھی ہیں حساب کو۔ (موضح) 5 یعنی سورج، شاید نور و حرارت کے جمع ہونے اور صفت احراق رکھنے کی وجہ سے اس کو چراغ فرمایا۔ (وَّجَعَلَ الْقَمَرَ فِيْهِنَّ نُوْرًا وَّجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا) 71 ۔ نوح :16)
Ayah 25:62

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا Open ayah 25:62 in the Quran reader

اور چاند اجالا کرنے اور وہی ہے جس نے بنائے رات اور دن بدلتے سدلتے6 اس شخص کے واسطے کہ چاہے دھیان رکھنا یا چاہے شکر کرنا7

6 گھٹنے بڑھنے یا آنے جانے کو بدلنا سدلنا فرمایا، یا یہ مطلب ہے کہ ایک کو دوسرے کا بدل بنایا ہے۔ مثلاً دن کا کام رہ گیا، رات کو کرلیا، رات کا وظیفہ رہ گیا، دن میں پورا کردیا۔ کما ورد فی الحدیث۔ 7 یعنی چاند سورج وغیرہ کا الٹ پھیر اور رات دن کا ادل بدل اس لیے ہے کہ اس میں دھیان کر کے لوگ خداوند قدیر کی معرفت کا سراغ لگائیں کہ یہ سب تصرفات و تقلبات عظیمہ اسی کے دست قدرت کی کارسازیاں ہیں۔ اور رات دن کے فوائد و انعامات کو دیکھ کر اس کی شکر گزاری کی طرف متوجہ ہوں۔ چناچہ رحمان کے مخلص بندے جن کا ذکر آگے آتا ہے، ایسا ہی کرتے ہیں۔
Ayah 25:63

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا Open ayah 25:63 in the Quran reader

اور بندے رحمان کے وہ ہیں جو چلتے ہیں زمین پر دبے پاؤں8 اور جب بات کرنے لگیں ان سے بےسمجھ لوگ تو کہیں صاحب سلامت9

8 یعنی مشرکین کی طرح رحمان کا نام سن کر ناک بھویں نہیں چڑھاتے بلکہ ہر فعل و قول سے بندگی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کی چال ڈھال سے تواضع، متانت، خاکساری اور بےتکلفی ٹپکتی ہے۔ متکبروں کی طرح زمین پر اکڑ کر نہیں چلتے۔ یہ مطلب نہیں کہ ریاء و تصنع سے بیماروں کی طرح قدم اٹھاتے ہیں۔ کیونکہ حضور ﷺ کی جو رفتار احادیث میں منقول ہے، اس کی تائید نہیں کرتی۔ 9 یعنی کم عقل اور بےادب لوگوں کی بات کا جواب عفو وصفح سے دیتے ہیں۔ جب کوئی جہالت کی گفتگو کرے تو ملائم بات اور صاحب سلامت کہہ کر الگ ہوجاتے ہیں۔ ایسوں سے منہ نہیں لگتے۔ نہ ان میں شامل ہوں نہ ان سے لڑیں۔ ان کا شیوہ وہ نہیں جو جاہلیت میں کسی نے کہا تھا۔ اَلاَ لاَ یَجْہَلَنَ اَحَدَعَلَیْ نَا فَنَجْہَلْ فَوْقَ جَہْلِ الْجَاھلِیْنَا یہ تو رحمان کے ان مخلص بندوں کا دن تھا، آگے رات کی کیفیت بیان فرماتے ہیں۔
Ayah 25:64

وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا Open ayah 25:64 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو رات کا ٹتے ہیں اپنے رب کے آگے سجدہ میں اور کھڑے10

10 یعنی رات کو جب غافل بندے نیند اور آرام کے مزے لوٹتے ہیں، یہ خدا کے آگے کھڑے اور سجدہ میں پڑے ہوئے گذارتے ہیں۔ رکوع چونکہ قیام و سجود کے درمیان واقع ہے، شاید اسی لیے اس کو علیحدہ ذکر نہیں کیا۔ گویا ان ہی دونوں کے بیچ میں آگیا۔
Ayahs 25:65–66

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ Open ayah 25:65 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ کہتے ہیں اے رب ہٹا ہم سے دوزخ کا عذاب بیشک اس کا عذاب چمٹنے والا ہے

اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:66 in the Quran reader

وہ بری جگہ ہے ٹھہرنے کی اور بری جگہ رہنے کی11

11 یعنی اتنی عبادت پر اتنا خوف بھی ہے۔ یہ نہیں کہ تہجد کی آٹھ رکعت پڑھ کر خدا کے عذاب و قہر سے بےفکر ہوگئے۔
Ayah 25:67

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا Open ayah 25:67 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جب خرچ کرنے لگیں نہ بےجا اڑائیں اور نہ تنگی کریں اور ہے اس کے بیچ ایک سیدھی گزران12

12 یعنی موقع دیکھ بھال کر میانہ روی کے ساتھ خرچ کرتے ہیں۔ نہ مال کی محبت نہ اس کی اضاعت۔ کما قال تعالٰی۔ (وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا) 17 ۔ الاسراء :29)
Ayah 25:68

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ Open ayah 25:68 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ نہیں پکارتے اللہ کے ساتھ دوسرے حاکم کو اور نہیں خون کرتے جان کا جو منع کردی اللہ نے مگر جہاں چاہیے1 اور بدکاری نہیں کرتے اور جو کوئی کرے یہ کام وہ جا پڑا گناہ میں2

1 مثلاً قتل عمد کے بدلہ قتل کرنا، یا بدکاری کی سزا میں زانی محصن کو سنگسار کرنا، یا جو شخص دین چھوڑ کر جماعت سے علیحدہ ہوجائے اس کو مار ڈالنا، یہ سب صورتیں " الا بالحق " میں شامل ہیں۔ کما ورد فی الحدیث۔ 2 یعنی بڑا سخت گناہ کیا جس کی سزا مل کر رہے گی۔ بعض روایات میں آیا کہ " آثام " جہنم کی ایک وادی کا نام ہے جس میں بہت ہی ہولناک عذاب بیان کیے گئے ہیں۔ اعاذنا اللہ منہا۔
Ayah 25:69

یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ Open ayah 25:69 in the Quran reader

دونا ہوگا اس کو عذاب قیامت کے دن اور پڑا رہے گا اس میں خوار ہو کر3

3 یعنی اور گناہوں سے یہ گناہ بڑے ہیں۔ عذاب بھی ان پر بڑا ہوگا اور دم بدم بڑھتا رہے گا۔
Ayah 25:70

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:70 in the Quran reader

مگر جس نے توبہ کی اور یقین لایا اور کیا کچھ کام نیک سو ان کو بدل دے گا اللہ برائیوں کی جگہ بھلائیاں اور ہے بخشنے والا مہربان4

4 یعنی گناہوں کی جگہ نیکیوں کی توفیق دے گا اور کفر کے گناہ معاف کرے گا۔ یا یہ کہ بدیوں کو مٹا کر توبہ اور عمل صالح کی برکت سے ان کی تعداد کے مناسب نیکیاں ثبت فرمائے گا۔ کما یظہر من بعض الاحادیث۔
Ayah 25:71

وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا Open ayah 25:71 in the Quran reader

اور جو کوئی توبہ کرے اور کرے کام نیک سو وہ پھر آتا ہے اللہ کی طرف پھر آنے کی جگہ5

5 پہلے ذکر تھا کافر کے گناہوں کا جو پیچھے ایمان لے آیا۔ یہ ذکر ہے اسلام میں گناہ کرنے کا۔ وہ بھی جب توبہ کرے یعنی پھر برے کام سے تو اللہ کے یہاں جگہ پائے۔ معلوم ہوا کہ سورة نسآء میں جو فرمایا (وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاۗؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا وَغَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهٗ وَاَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِيْمًا) 4 ۔ النسآء :93) وہ غیر تائب کے حق میں ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 25:72

وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا Open ayah 25:72 in the Quran reader

اور جو لوگ شامل نہیں ہوتے جھوٹے کام میں6 اور جب گزرتے ہیں کھیل کی باتوں پر نکل جائیں بزرگانہ7

6 یعنی نہ جھوٹ بولیں نہ جھوٹی شہادت دیں۔ نہ باطل کاموں اور گناہ کی مجلسوں میں حاضر ہوں۔ 7 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی گناہ میں شامل نہیں، اور کھیل کی باتوں کی طرف دھیان نہیں کرتے نہ اس میں شامل نہ ان سے لڑیں۔ "
Ayah 25:73

وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا Open ayah 25:73 in the Quran reader

اور وہ لوگ کہ جب ان کو سمجھائے ان کے رب کی باتیں نہ پڑیں ان پر بہرے اندھے ہو کر8

8 بلکہ نہایت فکرو تدبر اور دھیان سے سنیں اور سن کر متاثر ہوں مشرکین کی طرح پتھر کی مورتیں نہ بن جائیں۔
Ayah 25:74

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا Open ayah 25:74 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو کہتے ہیں اے رب دے ہم کو ہماری عورتوں کی طرف سے اور اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک9 اور کر ہم کو پرہیزگاروں کا پیشوا10

9 یعنی بیوی بچے ایسے عنایت فرما جنہیں دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی اور قلب مسرور ہو۔ اور ظاہر ہے مومن کامل کا دل اسی وقت ٹھنڈا ہوگا۔ جب اپنے اہل و عیال کو طاعت الٰہی کے راستہ پر گامزن اور علم نافع کی تحصیل میں مشغول پائے۔ دنیا کی سب نعمتیں اور مسرتیں اس کے بعد ہیں۔ 10 یعنی ایسا بنا دے کہ لوگ ہماری اقتداء کر کے متقی بن جایا کریں۔ حاصل یہ کہ ہم نہ صرف بذات خود مہتدی، بلکہ دوسروں کے لیے ہادی ہوں۔ اور ہمارا خاندان تقویٰ و طہارت میں ہماری پیروی کرے۔
Ayah 25:75

اُولٰٓئِكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ Open ayah 25:75 in the Quran reader

ان کو بدلہ ملے گا کوٹھوں کے جھروکے اس لیے کہ وہ ثابت قدم رہے اور لینے آئیں گے ان کو وہاں دعا اور سلام کہتے ہوئے11

11 یعنی جنت میں اوپر کے درجے ملیں گے اور فرشتے دعا وسلام کہتے ہوئے ان کا استقبال کریں گے اور آپس کی ملا قاتوں میں یہ ہی کلمات سلام و دعا ان کی تکریم و عزت افزائی کے لیے استعمال ہوں گے۔
Ayah 25:76

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:76 in the Quran reader

سدا رہا کریں ان میں خوب جگہ ہے ٹھہرنے کی اور خوب جگہ رہنے کی12

12 یعنی ایسی جگہ تھوڑی دیر ٹھہرنا ملے تو بھی غنیمت ہے ان کا تو وہ گھر ہوگا۔
Ayah 25:77

قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ١ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا۠ Open ayah 25:77 in the Quran reader

تو کہہ پروا نہیں رکھتا میرا رب تمہاری اگر تم اس کو نہ پکارا کرو13 سو تم تو جھٹلا چکے اب آگے کو ہونی ہے مٹھ بھیڑ14

13 یعنی تمہارے نفع نقصان کی باتیں سجھا دیں۔ بندہ کو چاہیے مغرور اور بیباک نہ ہو، خدا کو اس کی کیا پروا، ہاں اس کی التجاء پر رحم کرتا ہے، نہ التجا کرو گے اور بڑے بنے رہو گے تو مڈ بھیڑ کے لیے تیار ہوجاؤ جو عنقریب ہونے والی ہے۔ 14 یعنی کافر جو حق کو جھٹلا چکے۔ یہ تکذیب عنقریب ان کے گلے کا ہار بنے گی۔ اس کی سزا سے کسی طرح چھٹکارا نہ ہوگا۔ آخرت کی ابدی ہلاکت تو ہے ہی، دنیا میں بھی اب جلدی مڈ بھیڑ ہونے والی ہے۔ یعنی لڑائی جہاد۔ چناچہ غزوہ " بدر " میں اس مٹھ بھیڑ کا نتیجہ دیکھ لیا۔ تم سورة الفرقان وللہ الحمد والمنہ۔