24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 24:36

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

ان گھروں میں کہ اللہ نے حکم دیا ان کو بلند کرنے کا2 اور وہاں اس کا نام پڑھنے کا3 یاد کرتے ہیں اس کی وہاں صبح اور شام4

2 ان کی تعظیم و تطہیر کا حکم دیا یعنی ان کی خبر گیری کی جائے اور ہر قسم کی گندگی اور لغو افعال و اقوال سے پاک رکھا جائے۔ مساجد کی تعظیم میں یہ بھی داخل ہے کہ وہاں پہنچ کردو رکعت تحیۃ المسجد پڑھے۔ 3 تسبیح و تہلیل اور تلاوت قرآن وغیرہ سب اذکار اس میں شامل ہیں۔ 4 یعنی تمام مناسب اوقات میں خدا کو یاد کرتے ہیں۔ بعض مفسرین نے کہا کہ " غدو " سے صبح کی نماز مراد ہے اور " آصال " میں باقی چاروں نمازیں داخل ہیں۔ کیونکہ اصیل زوال شمس سے صبح تک کے اوقات پر بولا جاتا ہے۔
Ayah 24:37

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

وہ مرد کہ نہیں غافل ہوتے سودا کرنے میں اور نہ بیچنے میں اللہ کی یاد سے اور نماز قائم رکھنے سے اور زکوٰۃ دینے سے5 ڈرتے رہتے ہیں اس دن سے جس میں الٹ جائیں گے دل اور آنکھیں6

5 یعنی معاش کے دھندے ان کو اللہ کی یاد اور احکام الٰہیہ کی بجا آوری سے غافل نہیں کرتے۔ بڑے سے بڑا بیوپار یا معمولی خریدو فروخت کوئی چیز خدا کے ذکر سے نہیں روکتی۔ صحابہ ؓ کی یہی شان تھی۔ 6 یعنی اس روز دل وہ باتیں سمجھ لیں گے جو ابھی تک نہ سمجھے تھے اور آنکھیں وہ ہولناک واقعات دیکھیں گی جو کبھی نہ دیکھے تھے۔ قلوب میں کبھی نجات کی توقع پیدا ہوگی، کبھی ہلاکت کا خوف۔ اور آنکھیں کبھی داہنے کبھی بائیں دیکھیں گی کہ دیکھئے کس طرف سے پکڑے جائیں، یا کس جانب سے اعمالنامہ ہاتھ میں دیا جائے۔
Ayah 24:38

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

تاکہ بدلہ نہ دے ان کو اللہ ان کے بہتر سے بہتر کاموں کا اور زیادتی دے ان کو اپنے فضل سے7 اور اللہ روزی دیتا ہے جس کو چاہے بیشمار8

7 یعنی اچھے کاموں کا جو صلہ مقرر ہے وہ ملے گا۔ اور حق تعالیٰ کے فضل سے اور زیادہ دیا جائے گا جس کی تفصیل و تعیین ابھی نہیں کی جاسکتی۔ 8 یعنی اس کے ہاں کیا کمی ہے، اگر جنتیوں کو بیحدو حساب عنایت فرمائے تو کچھ مشکل نہیں۔
Ayah 24:39

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

اور جو لوگ منکر ہیں ان کے کام جیسے ریت جنگل میں پیاسا جانے اس کو پانی یہاں تک کہ جب پہنچا اس پر اس کو کچھ نہ پایا اور اللہ کو پایا اپنے پاس پھر اس کو پورا پہنچا دیا اس کا لکھا، اور اللہ جلد لینے والا ہے حساب9

9 کافر دو قسم کے ہیں ایک وہ جو اپنے زعم اور عقیدہ کے موافق کچھ اچھے کام کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ مرنے کے بعد کام آئیں گے۔ حالانکہ اگر کوئی کام بظاہر اچھا بھی ہو تو کفر کی شامت سے وہ عند اللہ مقبول و معتبر نہیں۔ ان فریب خوردہ کافروں کی مثال ایسی سمجھو کہ دوپہر کے وقت جنگل میں ایک پیاسے کو دور سے پانی دکھائی دیا اور وہ حقیقت میں چمکتی ہوئی ریت تھی۔ پیاسا شدت تشنگی سے بیتاب ہو کر وہاں پہنچا، دیکھا تو پانی وانی کچھ نہ تھا، ہاں ہلاکت کی گھڑی سامنے تھی اور اللہ تعالیٰ عمر بھر کا حساب لینے کے لیے موجود تھا، چناچہ اسی اضطراب و حسرت کے وقت اللہ نے اس کا سب حساب ایک دم میں چکا دیا۔ کیونکہ وہاں حساب کرتے کیا دیر لگتی ہے۔ ہاتھوں ہاتھ عمر بھر کی شرارتوں اور غفلتوں کا بھگتان کردیا گیا۔ دوسرے وہ ہیں جو سر سے پاؤں تک دنیا کے مزوں میں غرق اور جہل و کفر، ظلم و عصیان کی اندھیروں میں پڑے غوطے کھا رہے ہیں ان کی مثال آگے بیان فرمائی۔ ان کے پاس روشنی کی اتنی بھی چمک نہیں جتنی سراب پر دھوکہ کھانے والے کو نظر آتی تھی۔ یہ لوگ خالص اندھیریوں اور تہ بر تہ ظلمات میں بند ہیں کسی طرف سے روشنی کی شعاع اپنے تک نہیں پہنچنے دیتے۔ نعوذ باللہ منہا۔
Ayah 24:40

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا جیسے اندھیرے گہرے دریا میں چڑھی آتی ہے اس پر ایک لہر اس پر ایک اور لہر اس کے اوپر بادل اندھیرے ہیں ایک پر ایک10 جب نکالے اپنا ہاتھ لگتا نہیں کہ اس کو وہ سوجھے11 اور جس کو اللہ نے نہ دی روشنی اس کے واسطے کہیں نہیں روشنی12

10 یعنی سمندر کی تہ میں خود دریا کا اندھیرا، اس پر طوفانی لہریں جو ایک پر ایک چڑھی آتی ہیں۔ پھر سب کو اوپر گھٹا بادل کا اندھیرا، اور رات کا وقت فرض کیا جائے تو ان اندھیریوں میں اور اضافہ ہوجائے گا۔ 11 یعنی اپنا ہاتھ اٹھا کر آنکھوں سے قریب کر کے دیکھے تو اندھیرے کی وجہ سے نظر نہ آئے جس کو ہمارے یہاں کہتے ہیں کہ ہاتھ کو ہاتھ نہیں پہنچانتا۔ 12 اوپر مومنین کے ذکر میں جو (يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ) 24 ۔ النور :35) فرمایا تھا، یہ جملہ اس کے مقابل ہوا یعنی جس کو خدا تعالیٰ نور توفیق نہ دے اسے اور کون روشنی پہنچا سکتا ہے۔ ان کی استعداد خراب تھی توفیق نہ ملی۔ اور دریا کی تہ میں گر کر انہوں نے سب دروازے روشنی کے اپنے اوپر بند کرلیے۔ پھر نور آئے تو کدھر سے آئے۔
Ayah 24:41

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ کی یاد کرتے ہیں جو کوئی ہیں آسمان و زمین میں اور اڑتے جانور پر کھولے ہوئے1 ہر ایک نے جان رکھی ہے اپنی طرح کی بندگی اور یاد2 اور اللہ کو معلوم ہے جو کچھ کرتے ہیں3

1 شاید اڑتے جانوروں کا علیحدہ ذکر اس لیے کیا کہ وہ اس وقت آسمان اور زمین کے بیچ میں معلق ہوتے ہیں۔ اور ان کا اس طرح ہوا میں اڑتے رہنا قدرت کی بڑی نشانی ہے۔ 2 یعنی حق تعالیٰ نے ہر ایک چیز کو اس کے حال کے مناسب جو طریقہ انابت و بندگی اور تسبیح خوانی کا الہام فرمایا اس کو سمجھ کر وہ اپنا وظیفہ ادا کرتی رہتی ہے۔ لیکن افسوس و تعجب کا مقام ہے کہ بہت سے انسان کہلانے والے غرور و غفلت اور ظلمت جہالت میں پھنس کر مالک حقیقی کی یاد اور ادائے وظیفہ عبودیت سے بےبہرہ ہیں۔ (تنبیہ) مخلوقات کی تسبیح کے متعلق پندرھویں پارہ میں ربع کے قریب کچھ مضمون گزر چکا۔ وہاں دیکھ لیا جائے۔ ایک حدیث میں ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو تسبیح کی وصیت کی اور فرمایا۔ " واِنَّہَا لِصَلٰوۃِ الْخَلْقِ ۔ " (یہ ہی مخلوق کی نماز ہے) 3 یعنی ان کی بندگی اور تسبیح کو خواہ تم نہ سمجھو، لیکن حق تعالیٰ کو سب معلوم ہے کہ کون کیا کرتا ہے۔
Ayah 24:42

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

اور اللہ کی حکومت ہے آسمان اور زمین میں اور اللہ ہی تک پھرجانا ہے4

4 یعنی جیسے اس کا علم سب کو محیط ہے، اس کی حکومت بھی تمام علویات و سفلیات پر حاوی ہے اور سب کو آخرکار اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ آگے اپنے حاکمانہ اور قادرانہ تصرفات کو بیان فرماتے ہیں۔
Ayah 24:43

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

تو نے نہ دیکھا کہ اللہ ہانک لاتا ہے بادل کو پھر ان کو ملا دیتا ہے پھر ان کو رکھتا ہے تہ بتہ پھر تو دیکھے مینہ نکلتا ہے اس کے بیچ سے5 اور اتارتا ہے آسمان سے اس میں جو پہاڑ ہیں اولوں کے پھر وہ ڈالتا ہے جس پر چاہے اور بچا دیتا ہے جس سے چاہے6 ابھی اس کی بجلی کی کوند لے جائے آنکھوں کو7

5 یعنی ابتداء میں بادل کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اٹھتے ہیں پھر مل کر بڑا بادل بن جاتا ہے۔ پھر بادلوں کی تہ پر تہ جما دی جاتی ہے۔ 6 یعنی جیسے زمین میں پتھروں کے پہاڑ ہیں، بعض سلف نے کہا کہ اسی طرح آسمان میں اولوں کے پہاڑ ہیں۔ مترجم (رح) نے اسی کے موافق ترجمہ کیا ہے۔ لیکن زیادہ راحج اور قوی یہ ہے کہ " سمائ " سے بادل مراد ہو۔ مطلب یہ ہے کہ بادلوں سے جو کثیف اور بھاری ہونے میں پہاڑوں کی طرح ہیں، اولے برساتا ہے جس سے بہتوں کو جانی یا مالی نقصان پہنچ جاتا ہے اور بہت سے محفوظ رکھے جاتے ہیں۔ مشہور ہے کہ اولے کی چھال بیل کے ایک سینگ پر پڑتی ہے اور دوسرا سینگ خشک رہ جاتا ہے۔ 7 یعنی بجلی کی چمک اس قدر تیز ہوتی ہے کہ آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہیں، قریب ہے کہ بینائی جاتی رہے۔
Ayah 24:44

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

اللہ بدلتا ہے رات اور دن کو8 اس میں دھیان کرنے کی جگہ ہے آنکھ والوں کو9

8 یعنی دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن اسی کی قدرت سے آتا ہے۔ وہ ہی کبھی رات کو کبھی دن کو گھٹاتا بڑھاتا رہتا ہے، اور ان کی گرمی کو سردی سے، سردی کو گرمی سے تبدیل کرتا ہے۔ 9 یعنی چاہیے کہ قدرت کے ایسے عظیم الشان نشانات دیکھ کر آدمی بصیرت و عبرت حاصل کرے اور اس شہنشاہ حقیقی کی طرف سچے دل سے رجوع ہو جس کے قبضہ میں ان تمام تصرفات و تقلبات کی باگ ہے۔
Ayah 24:45

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اور اللہ نے بنایا ہر پھرنے والے کو ایک پانی سے10 پھر کوئی ہے کہ چلتا ہے اپنے پیٹ پر11 اور کوئی ہے کہ چلتا ہے دو پاؤں پر12 اور کوئی ہے کہ چلتا ہے چار پر13 بناتا ہے اللہ جو چاہتا ہے بیشک اللہ ہر چیز کرسکتا ہے14

10 اس کے لیے سترھویں پارہ کے تیسرے رکوع میں آیت (وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ) 21 ۔ الانبیآء :30) کا فائدہ دیکھنا چاہیے۔ 11 جیسے سانپ اور مچھلی۔ 12 جیسے آدمی اور طیور۔ 13 جیسے گائے بھینس وغیرہ۔ 14 یعنی کسی جانور کو چار سے زائد پاؤں دیے ہوں تو بعید نہیں۔ اس کی لامحدود قدرت و مشیت کو کوئی محصور نہیں کرسکتا۔
Ayah 24:46

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

ہم نے اتاریں آیتیں کھول کھول کر بتلانے والی اور اللہ چلائے جس کو چاہے سیدھی راہ پر1

1 یعنی آیات تکوینیہ و تنزیلیہ تو اس قدر واضح ہیں کہ انھیں دیکھ کر اور سن کر چاہیے کوئی آدمی نہ بہکے لیکن سیدھی راہ پر چلتا وہ ہی ہے جسے خدا تعالیٰ نے ہدایت کی توفیق دی ہو۔ لاکھوں آدمی یہ کھلی کھلی نشانیاں دیکھتے ہیں پر نتیجہ کے اعتبار سے ان کا دیکھنا نہ دیکھنا برابر ہے۔
Ayah 24:47

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

اور لوگ کہتے ہیں ہم نے مانا اللہ کو اور رسول کو اور حکم میں آگئے پھرجاتا ہے ایک فرقہ ان میں سے اس کے پیچھے اور وہ لوگ نہیں ماننے والے2

2 یہ منافقین کا ذکر ہے۔ وہ زبان سے دعوے ایمان و اطاعت کیا کرتے تھے اور جب عمل کا وقت آتا تو پھرجاتے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے دلوں میں شروع سے ایمان وانقیاد موجود ہی نہ تھا۔ جو کچھ زبانی جمع خرچ تھا امتحان و ابتلاء کے وقت اس کی بھی قلعی کھل جاتی تھی۔
Ayahs 24:48–49

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور جب ان کو بلائے اللہ اور رسول کی طرف کہ ان میں قضیہ چکائے تبہی ایک فرقہ کے لوگ ان میں منہ موڑتے ہیں

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور اگر ان کو کچھ پہنچتا ہو تو چلے آئیں اس کی طرف قبول کر کر3

3 یعنی اگر ان کا جھگڑا کسی سے ہوگیا اور سمجھتے ہوں کہ ہم ناحق پر ہیں اس وقت اگر دوسرا فریق کہتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں چل کر اس معاملہ کو طے کرا لو تو یہ منافق رضامند نہیں ہوتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ حضور ﷺ پر یقیناً بلا رو رعایت حق کے موافق فیصلہ کریں گے۔ جو ان کے مفاد کے خلاف پڑے گا۔ حالانکہ پہلے سے یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ ہم اللہ و رسول پر ایمان لانے اور ان کا حکم ماننے کو تیار ہیں۔ اب وہ دعویٰ کہاں گیا۔ ہاں فرض کیجئے اگر کسی معاملہ میں حق ان کی جانب ہو تو اس وقت بہت جلدی سے گردن جھکا کر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوجائیں اور فیصلہ کا انحصار حضور ﷺ کی ذات مبارک پر کردیں گے۔ کیونکہ سمجھتے ہیں عدالت سے ہمارے موافق فیصلہ ہوگا۔ تو یہ ایمان و اسلام کیا ہوا، محض ہوا پرستی ہوئی۔
Ayah 24:50

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں روگ ہے4 یا دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں، یا ڈرتے ہیں کہ بےانصافی کرے گا ان پر اللہ اور اس کا رسول کچھ نہیں وہ ہی لوگ بےانصاف ہیں5

4 روگ یہ کہ خدا اور رسول کو سچ مانا لیکن حرص نہیں چھوڑتی کہ کہے پر چلیں جیسے بیمار چاہتا ہے چلے اور پاؤں نہیں اٹھتا۔ 5 یعنی خدا اور رسول کی بابت کوئی دھوکہ لگا ہوا ہے اور حضور ﷺ کی صداقت یا اللہ کے وعدہ وعید میں کوئی شک و شبہ ہے ؟ یا یہ گمان ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ان کے معاملات کا خلاف انصاف فیصلہ کریں گے ؟ اس لیے ان کی عدالت میں مقدمہ لے جانے سے کتراتے ہیں۔ سو یاد رکھو وہاں تو ظلم و بےانصافی کا احتمال ہی نہیں۔ ہاں خود ان ہی لوگوں نے ظلم پر کمر باندھ رکھی ہے۔ چاہتے ہیں کہ اپنا حق پورا وصول کرلیں اور دوسروں کا ایک پیسہ نہ دیں۔ اسی لیے ان معاملات کو خدائی عدالت میں لانے سے گھبراتے ہیں جن میں سمجھتے ہیں کہ رسول کا منصفان فیصلہ ہمارے مطلب کے خلاف ہوگا۔ یہ تو منافقین کا ذکر تھا، آگے ان کے بالمقابل مخلصین کی اطاعت و فرمانبرداری کو بیان فرماتے ہیں۔
Ayah 24:51

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

ایمان والوں کی بات یہی تھی کہ جب بلائے ان کو اللہ اور رسول کی طرف فیصلہ کرنے کو ان میں تو کہیں ہم نے سن لیا اور حکم مان لیا اور وہ لوگ کہ انہی کا بھلا ہے6

6 یعنی سچے مسلمان کا کام یہ ہوتا ہے اور یہ ہونا چاہیے کہ جب کسی معاملہ میں ان کو خدا اور رسول کی طرف بلایا جائے خواہ اس میں بظاہر ان کا نفع ہو یا نقصان۔ ایک منٹ کا توقف نہ کریں۔ فی الفور " سمعاً وطاعۃ " کہہ کر حکم ماننے کے لیے تیار ہوجائیں۔ اسی میں ان کی اصلی بھلائی اور حقیقی فلاں کا راز مضمر ہے۔
Ayah 24:52

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو کوئی حکم پر چلے اللہ کے اور اس کے رسول کے اور ڈرتا ہے اللہ سے اور بچ کر چلے اس سے سو وہ ہی لوگ ہیں مراد کو پہنچنے والے7

7 یعنی جو فی الحال فرمانبردار ہو، گذشتہ تقصیرات پر نادم ہو کر اور خدا سے ڈر کر توبہ کرے اور آئندہ برے راستہ سے بچ کر چلے، اسی کے لیے دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔
Ayah 24:53

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

اور قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی اپنی تاکید کی قسمیں کہ اگر تو حکم کرے تو سب کچھ چھوڑ کر نکل جائیں، تو کہہ قسمیں نہ کھاؤ حکم برداری چاہیے جو دستور ہے البتہ اللہ کو خبر ہے جو تم کرتے ہو1

1 یعنی منافقین بڑی سخت تاکیدی قسمیں کھا کر آپ کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہم کو آپ حکم دیں تو سب گھر بار چھوڑ کر خدا کے راستہ میں نکل جانے کے لیے تیار ہیں ذرا حضور ﷺ اشارہ فرمائیں تو سب مال و دولت اللہ کے راستہ میں لٹا کر الگ ہوجائیں۔ اس پر فرمایا کہ اس قدر منہ بھر کر لمبی چوڑی قسمیں کھانے کی ضرورت نہیں۔ تمہاری فرمانبرداری کی حقیقت سب معلوم ہوچکی کہ زبان سے دعوے بہت کیا کرتے ہو۔ اور عمل کا وقت آئے تو آہستہ سے کھسک جاتے ہو۔ چاہیے کہ سچے مسلمانوں کے دستور کے موافق حکمبرداری کر کے دکھلاؤ زبانی قسمیں کھانے سے کوئی فائدہ نہیں۔ فرض کرو تم قسمیں کھا کر بندوں کو اپنی بات کا یقین دلا دو ۔ لیکن اللہ کے آگے کسی کی چالاکی اور فریب نہیں چل سکتا۔ وہ تو تمام ظاہر اور پوشیدہ باتوں کی خبر رکھتا ہے۔ آگے چل کر تمہاری مکاری کا پردہ فاش کر دے گا۔
Ayah 24:54

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

تو کہہ حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسول کا پھر اگر تم منہ پھیرو گے تو اس کا ذمہ ہے جو بوجھ اس پر رکھا اور تمہارا ذمہ ہے جو بوجھ تم پر رکھا اور اگر اس کا کہا مانو تو راہ پاؤ اور پیغام لانے والے کا ذمہ نہیں مگر پہنچا دینا کھول کر2

2 یعنی پیغمبر ﷺ پر خدا کی طرف سے تبلیغ کا جو بوجھ رکھا گیا ہے، سو اس نے پوری طرح ادا کردیا۔ اور تم پر جو بوجھ ڈالا گیا وہ تصدیق و قبول حق کا ہے، اور یہ کہ اس کے ارشاد کے موافق چلو۔ اگر تم اپنی ذمہ داری کو محسوس کر کے اس کے احکام کی تعمیل کرو گے تو کامیابی دارین کی راہ پاؤ گے اور دنیا و آخرت میں خوش رہو گے ورنہ پیغمبر کا کچھ نقصان نہیں، تمہاری شرارت و سرکشی کا خمیازہ تم کو ہی بھگتنا پڑے گا۔ پیغمبر تو اپنا فرض ادا کر کے عند اللہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوچکے۔ آگے اطاعت رسول کے بعض ثمرات بیان فرماتے ہیں جن کا سلسلہ دنیا ہی میں شروع ہوجائے گا۔
Ayah 24:55

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

وعدہ کرلیا اللہ نے ان لوگوں سے جو تم میں ایمان لائے ہیں اور کیے ہیں انہوں نے نیک کام، البتہ پیچھے حاکم کر دے گا ان کو ملک میں جیسا حاکم کیا تھا ان سے اگلوں کو اور جمادے گا ان کے لیے دین ان کا جو پسند کردیا ان کے واسطے اور دے گا ان کو ان کے ڈر کے بدلے میں امن میری بندگی کریں گے شریک نہ کریں گے میرا کسی کو3 اور جو کوئی ناشکری کرے گا اس کے پیچھے سو وہ ہی لوگ ہیں نافرمان4

3 یہ خطاب فرمایا حضرت ﷺ کے وقت کے لوگوں کو یعنی جو ان میں اعلیٰ درجہ کے نیک اور رسول کے کامل متبع ہیں رسول کے بعد ان کو زمین کی حکومت دے گا اور جو دین اسلام خدا کو پسند ہے ان کے ہاتھوں سے دنیا میں ان کو قائم کرے گا۔ گویا جیسا کہ لفظ استخلاف میں اشارہ ہے وہ لوگ محض دنیاوی بادشاہوں کی طرح نہ ہوں گے۔ بلکہ پیغمبر کے جانشین ہو کر آسمانی بادشاہت کا اعلان کریں گے اور دین حق کی بنیادیں جمائیں گے اور خشکی و تری میں اس کا سکہ بٹھلا دیں گے۔ اس وقت مسلمانوں کو کفار کا خوف مرعوب نہ کرے گا وہ کامل امن و اطمینان کے ساتھ اپنے پروردگار کی عبادت میں مشغول رہیں گے اور دنیا میں امن وامان کا دور دورہ ہوگا۔ اور ان مقبول و معزز بندوں کی ممتاز شان یہ ہوگی کہ وہ خالص خدائے واحد کی بندگی کریں گے جس میں ذرہ برابر شرک کی آمیزش نہ ہوگی۔ شرک جلی کا تو وہاں ذکر کیا ہے شرک خفی کی ہوا بھی ان کو نہ پہنچے گی۔ صرف ایک خدا کے غلام ہوں گے، اسی سے ڈریں گے اسی سے امید رکھیں گے۔ اسی پر بھروسہ کریں گے اسی کی رضا میں ان کا جینا اور مرنا ہوگا۔ کسی دوسری ہستی کا خوف و ہراس ان کے پاس نہ پھٹکے گا۔ نہ کسی دوسرے کی خوشی ناخوشی کی پروا کریں گے۔ الحمدللہ۔ کہ یہ وعدہ الٰہی چاروں خلفاء ؓ کے ہاتھوں پر پورا ہوا۔ اور دنیا نے اس عظیم الشان پیشین گوئی کے ایک ایک حرف کا مصداق اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ خلفائے اربعہ کے بعد بھی کچھ بادشاہان اسلام وقتاً و فوقتاً اس نمونہ کے آتے رہے اور جب اللہ چاہے گا آئندہ بھی آئیں گے۔ احادیث سے معلوم ہوا کہ آخری خلیفہ حضرت امام مہدی ؓ ہوں گے جن کے متعلق عجیب و غریب بشارات سنائی گئی ہیں۔ وہ خدا کی زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے اور خارق عبادت جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعہ سے اسلام کا کلمہ بلند کریں گے۔ " اَللّٰہُمَّ احْشُرْنَا فِی زُمْرَتِہٖ وَارْزُقْنَا شَہَادَۃً فِی سَبِیْلِکَ اِنَّکَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَۃِ وَذُوالْفَضْلِ الْعَظِےْمِ ۔ " (تنبیہ) اس آیت استخلاف سے خلفائے اربعہ کی بڑی بھاری فضیلت و منقبت نکلتی ہے۔ ابن کثیر نے اس کے تحت میں عہد نبوت سے لے کر عہد عثمانی تک کی فتوحات کو درجہ بدرجہ بیان کیا ہے اور آخر میں یہ الفاظ لکھے ہیں : " وَجُبِیَ الْخَرَاجُ مِنَ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ اِلٰی حَضْرۃِ اَمِیْرِ الْمُوْمِنِیْنَ عُثْمَانْ بِنْ عَفَانِ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ وَذٰلِکَ بِبَرْکَۃِ تِلَاوَتِہٖ وَدَرَاسَتِہٖ وَجَمْعہ الْاُمَّۃِ عَلٰی حِفْظِ الْقُرْاٰنِ وَلِہٰذَا ثَبَتَ فِی الصَّحِیْحِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ اِنَّ اللّٰہَ زَوٰی لِی الْاَرْضِ فَرَأیْتَ مَشَارِقِہَا وَمَغَارِبِہَا وَسَیَبْلُغُ مُلْکُ اُمَّتِی مَازُوِیَ لِی مِنْہَا فَہَا نَحْنُ نَتَقَلَّبُ فِیْمَا وَعَدْنَا اللّٰہُ وَرَسُولِہٖ وَصَدَقَ اللّٰہ وَرَسُولُہ فَنَسْئَال اللّٰہ الْاِیْمَانَ بِہٖ وَبِرَسُولِہٖ وَالْقِیَامَ بِشُکْرِہٖ عَلٰی الْوجْہِ الَّذِیْ یُرْضِیہ عَنَّا۔ " 4 یعنی ایسے انعامات عظیمہ کے بعد ناشکری کرنا بہت ہی بڑے نافرمان اور ہیکڑ مجرم کا کام ہے حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ جو کوئی خلفائے اربعہ کی خلافت (اور ان کے فضل و شرف) سے منکر ہوا۔ ان الفاظ سے اس کا حال سمجھا گیا۔ (رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ) 59 ۔ الحشر :10)
Ayah 24:56

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

اور قائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ اور حکم پر چلو رسول کے تاکہ تم پر رحم ہو5

5 یعنی خدا کی رحمت سے حصہ لینا چاہتے ہو تم بھی ان ہی مقبول بندوں کی روش اختیار کرو۔ اور روش یہ ہی ہے نمازیں قائم کرنا، زکوٰۃ دیتے رہنا اور تمام شعب زندگی میں رسول کے احکام پر چلنا۔ " اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنَا مُتَابِعَۃَ رَسُولِکَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَتَوَفَّنَا عَلَیْہَا وَاَلْحِقْنَا بالصَّالِحِیْنَ ۔ " آمین۔
Ayah 24:57

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

نہ خیال کر کہ یہ جو کافر ہیں تھکا دیں گے بھاگ کر ملک میں اور ان کا ٹھکانا آگ ہے اور وہ بری جگہ ہے پھرجانے کی6

6 یہ نیک بندوں کے بالمقابل مردود و مغضوب لوگوں کا انجام بتلایا۔ یعنی جبکہ نیکوں کو ملک کی حکومت اور زمین کی خلافت عطا کی جاتی ہے، کافروں اور بدکاروں کی ساری مکاریاں اور تدبیریں شکست ہوجاتی ہیں۔ اللہ کے ارادہ کو کوئی روک نہیں سکتا۔ اگر تمام خدائی میں ادھر ادھر بھاگتے پھریں تب بھی وہ خدائی سزا سے اپنے کو نہیں بچا سکتے۔ یقینا ان کو جہنم کے جیل خانہ میں جانا پڑے گا۔
Ayah 24:58

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

اے ایمان والو اجازت لے کر آئیں تم سے جو تمہارے ہاتھ کے مال ہیں7 اور جو کہ نہیں پہنچے تم میں عقل کی حد کو تین بار فجر کی نماز سے پہلے اور جب اتار رکھتے ہو اپنے کپڑے دوپہر میں اور عشاء کی نماز سے پیچھے یہ تین وقت بدن کھلنے کے ہیں تمہارے1 کچھ تنگی نہیں تم پر اور نہ ان پر ان وقتوں کے پیچھے پھرا ہی کرتے ہو ایک دوسرے کے پاس2 یوں کھولتا ہے اللہ، تمہارے آگے باتیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے

7 یعنی لونڈی، غلام، چار رکوع پہلے مسئلہ استیذان (اجازت لینے) کا ذکر تھا۔ یہ اسی کا تتمہ ہے۔ درمیان میں خاص خاص مناسبتوں سے دوسرے مضامین آگئے۔ 1 ان تین وقتوں میں عموماً زائد کپڑے اتار دیے جاتے ہیں یا سونے جاگنے کا لباس تبدیل کیا جاتا ہے اور بیوی کے ساتھ مصاحبت بھی بیشتر ان ہی اوقات میں ہوتی ہے کبھی فجر سے قبل یا دوپہر کے وقت آدمی غسل کرنے کا ارادہ کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ کوئی مطلع نہ ہو۔ اس لیے حکم دیا کہ ان تین وقتوں میں نابالغ لڑکوں اور لونڈی غلام کو بھی اجازت لے کر آنا چاہیے۔ باقی وقتوں میں ان کو اجانب کی طرح اجازت طلب کرنے کی حاجت نہیں۔ الا یہ کہ کوئی شخص اپنی مصلحت سے دوسرے اوقات میں بھی استیذان کی پابندی عائد کر دے۔ 2 یعنی اوقات مذکورہ بالا کو چھوڑ کر باقی جن اوقات میں عادۃً ایک دوسرے کے پاس بےروک ٹوک آتے جاتے ہیں ان میں نابالغ لڑکوں یا لونڈی غلام کو ہر مرتبہ اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ ایسا پابند کرنے میں بہت تنگی اور کاروبار کا تعطل ہے جو حق تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے۔
Ayah 24:59

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جب پہنچیں لڑکے تم میں کے عقل کی حد کو تو ان کو ویسی ہی اجازت لینی چاہیے جیسے لیتے رہے ہیں ان سے اگلے3 یوں کھول کر سناتا ہے اللہ تم کو اپنی باتیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے

3 یعنی لڑکا جب تک نابالغ ہے تین وقتوں کے سوا باقی اوقات میں بلا اجازت لیے آجا سکتا ہے۔ جس وقت حد بلوغ کو پہنچا پھر اس کا حکم ان ہی مردوں جیسا ہوگیا جو اس سے پہلے بالغ ہوچکے ہیں اور جن کا حکم پیشتر آیت (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتًا غَيْرَ بُيُوْتِكُمْ حَتّٰى تَسْتَاْنِسُوْا وَتُسَلِّمُوْا عَلٰٓي اَهْلِهَا) 24 ۔ النور :27) میں گزر چکا ہے۔
Ayah 24:60

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور جو بیٹھ رہی ہیں گھروں میں تمہاری عورتوں میں سے جن کو توقع نہیں رہی نکاح کی ان پر گناہ نہیں کہ اتار رکھیں اپنے کپڑے یہ نہیں کہ دکھاتی پھریں اپنا سنگار اور اس سے بھی بچیں تو بہتر ہے ان کے لیے4 اور اللہ سب باتیں سنتا جانتا ہے5

4 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی بوڑھی عورتیں گھر میں تھوڑے کپڑوں میں رہیں تو درست ہے اور پورا پردہ رکھیں تو اور بہتر " اور گھر سے باہر نکلتے وقت بھی زائد کپڑے مثلاً برقع وغیرہ اتار دیں تو کچھ مضائقہ نہیں۔ بشرطیکہ اس زینت کا اظہار نہ ہو جس کے چھپانے کا حکم آیت (وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ ) 24 ۔ النور :31) میں دیا جا چکا ہے۔ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ جوان عورتوں کے تستر کے متعلق قرآن کریم کا منشاء کیا ہے۔5۔ یعنی یہ تو فتنہ کی روک تھام کے ظاہری انتظامات ہیں باقی پردہ کے اندر جو باتیں کی جاتی ہیں اور فتنے اٹھائے جاتے ہیں یاد رہے کہ خدا تعالیٰ ان سب کو سنتا اور جانتا ہے۔ اسی کے موافق ہر ایک سے معاملہ کرے گا۔
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

نہیں ہے اندھے پر کچھ تکلیف اور نہ لنگڑے پر تکلیف اور نہ بیمار پر تکلیف6 اور نہیں تکلیف تم لوگوں پر کہ کھاؤ اپنے گھروں سے یا اپنے باپ کے گھر سے یا اپنی ماں کے گھر سے یا اپنے بھائی کے گھر سے یا اپنی بہن کے گھر سے یا اپنے چچا کے گھر سے یا اپنی پھوپھی کے گھر سے یا اپنے ماموں کے گھر سے یا اپنی خالہ کے گھر سے یا جس گھر کی کنجیوں کے تم مالک ہو یا اپنے دوست کے گھر سے1 نہیں گناہ تم پر کہ کھاؤ آپس میں مل کر یا جدا ہو کر پھر جب کبھی جانے لگو گھروں میں تو سلام کہو اپنے لوگوں پر نیک دعا ہے اللہ کے یہاں سے برکت والی ستھری یوں کھولتا ہے اللہ تمہارے آگے اپنی باتیں تاکہ سمجھ لو2

6 یعنی جو کام تکلیف کے ہیں وہ ان کو معاف ہیں مثلاً جہاد، حج، جمعہ اور جماعت اور ایسی چیزیں۔ (کذافی الموضح) یا یہ مطلب ہے کہ ان معذور محتاج لوگوں کو تندرستوں کے ساتھ کھانے میں کچھ حرج نہیں۔ جاہلیت میں اس قسم کے محتاج و معذور آدمی اغنیاء اور تندرستوں کے ساتھ کھانے سے رکتے تھے انھیں خیال گزرتا تھا کہ شاید لوگوں کو ہمارے ساتھ کھانے سے نفرت ہو اور ہماری بعض حرکات و اوضاع سے ایذاء پہنچتی ہو، اور واقعی بعضوں کو نفرت و وحشت ہوتی بھی تھی۔ نیز بعض مومنین کو غایت اتقاء سے یہ خیال پیدا ہوا کہ ایسے معذوروں اور مریضوں کے ساتھ کھانے میں شاید اصول عدل و مساوات قائم نہ رہ سکے۔ اندھے کو سب کھانے نظر نہیں آتے لنگڑا ممکن ہے دیر میں پہنچے اور مناسب نشست سے نہ بیٹھ سکے۔ بیمار کا تو پوچھنا ہی کیا ہے اس بناء پر ساتھ کھلانے میں احتیاط کرتے تھے کہ ان کی حق تلفی نہ ہو۔ دوسری ایک اور صورت پیش آتی تھی کہ یہ معذور محتاج لوگ کسی کے پاس گئے، وہ شخص استطاعت نہ رکھتا تھا، ازراہ بےتکلفی ان کو اپنے باپ، بھائی، بہن، چچا، ماموں وغیرہ کسی عزیز و قریب کے گھر لے گیا۔ اس پر ان حاجت مندوں کو خیال ہوتا تھا کہ ہم تو آئے تھے اس کے پاس، یہ دوسرے کے ہاں لے گیا۔ کیا معلوم وہ ہمارے کھلانے سے کارہ اور ناخوش تو نہیں۔ ان تمام خیالات کی اصلاح آیت حاضرہ میں کردی گئی کہ خوا ہی نہ خواہی اس طرح کے اوہام و وساوس میں مت پڑو۔ اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ میں وسعت رکھی ہے پھر تم خود اپنے اوپر تنگی کیوں کرتے ہو۔ 1 یعنی تمہارے زیر تصرف دیا گیا ہو۔ مثلاً کسی نے اپنی چیز کا وکیل یا محافظ بنادیا اور بقدر معروف اس میں سے کھانے پینے کی اجازت دے دی۔ 2 یعنی اپنایت کے علاقوں میں کھانے کی چیز کو ہر وقت پوچھنا ضروری نہیں۔ نہ کھانے والا حجاب کرے نہ گھر والا دریغ کرے۔ مگر عورت کا گھر اگر اس کے خاوند کا ہو۔ اس کی مرضی حاصل کرنی چاہیے اور مل کر کھاؤ یا جدا یعنی اس کی تکرار دل میں نہ رکھے کہ کسی نے کم کھایا کس نے زیادہ۔ سب نے مل کر پکایا سب نے مل کر کھایا۔ اور اگر ایک شخص کی مرضی نہ ہو تو پھر کسی کی چیز کھانی ہرگز درست نہیں اور تقید فرمایا سلام کا آپس کی ملاقات میں۔ کیونکہ اس سے بہتر دعا نہیں۔ جو لوگ اس کو چھوڑ کر اور الفاظ گھڑتے ہیں اللہ کی تجویز سے ان کی تجویز بہتر نہیں ہوسکتی۔ (تنبیہ) آیت سے تنہا کھانے کا جواز بھی نکلا۔ بعض حضرات کو لکھا ہے کہ جب تک کوئی مہمان ساتھ نہ ہو کھانا نہ کھاتے تھے۔ معلوم ہوا یہ غلو ہے۔ البتہ اگر کئی کھانے والے ہوں اور اکٹھے بیٹھ کر کھائیں تو موجب برکت ہوتا ہے۔ کما وردفی الحدیث۔
Ayah 24:62

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

ایمان والے وہ ہیں جو یقین لائے ہیں اللہ پر اور اس کے رسول پر اور جب ہوتے ہیں اس کے ساتھ کسی جمع ہونے کے کام میں تو چلے نہیں جاتے جب تک اس سے اجازت نہ لے لیں جو لوگ تجھ سے اجازت لیتے ہیں وہ ہی ہیں جو مانتے ہیں اللہ کو اور اس کے رسول کو3 پھر جب اجازت مانگیں تجھ سے اپنے کسی کام کے لیے تو اجازت دے جس کو ان میں سے تو چاہے اور معافی مانگ ان کے واسطے اللہ سے، اللہ بخشنے والا مہربان ہے4

3 اوپر کی آیتوں میں آنے کے وقت استیذان (اجازت طلب کرنے) کا ذکر تھا۔ یہاں جانے کے وقت استیذان کی ضرورت بتائی ہے یعنی پورے ایمان والے وہ ہیں جو رسول کے بلانے پر حاضر ہوتے ہیں اور جب کسی اجتماعی کام میں شریک ہوں مثلاً جمعہ، عیدین، جہاد اور مجلس مشاورت وغیرہ میں تو بدون اجازت کے اٹھ کر نہیں جاتے۔ یہ ہی لوگ ہیں جو کامل اور صحیح معنی میں اللہ اور رسول کو مانتے ہیں۔ 4 یعنی غور وفکر کے بعد جس کو مناسب سمجھیں اجازت دے دیں۔ اور چونکہ اس اجازت پر عمل کرنا بھی فی الجملہ صحبت نبوی سے حرمان اور صورت تقدیم الدنیا علی الدین کا شائبہ اپنے اندر رکھتا ہے اس لیے ان مخلصین کے حق میں استغفار فرمائیں تاکہ آپ ﷺ کے استغفار کی برکت سے اس نقص کا تدارک ہو سکے۔
Ayah 24:63

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

مت کرلو بلانا رسول کا اپنے اندر برابر اس کے جو بلاتا ہے تم میں ایک دوسرے کو5 اللہ جانتا ہے ان لوگوں کو تم میں سے جو سٹک جاتے ہیں آنکھ بچا کر6 سو ڈرتے رہیں وہ لوگ جو خلاف کرتے ہیں اس کے حکم کا اس سے کہ آپڑے ان پر کچھ خرابی یا پہنچے ان کو عذاب دردناک1

5 یعنی حضرت ﷺ کے بلانے پر حاضر ہونا فرض ہوجاتا ہے۔ آپ ﷺ کا بلانا اوروں کی طرح نہیں کہ چاہے اس پر " لبیک " کہے یا نہ کہے۔ اگر حضور ﷺ کے بلانے پر حاضر نہ ہو تو آپ کی بددعا سے ڈرنا چاہیے کیونکہ آپ کی دعا معمولی انسانوں جیسی نہیں۔ نیز مخاطبات میں حضور ﷺ کے ادب و عظمت کا پورا خیال رکھنا چاہیے۔ عام لوگوں کی طرح " یامحمد " وغیرہ کہہ کر خطاب نہ کیا جائے " یا نبی اللہ " اور " یا رسول اللہ " جیسے تعظیمی القاب سے پکارنا چاہیے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " حضرت ﷺ کے بلانے سے فرض ہوتا تھا حاضر ہونا جس کام کو بلائیں۔ پھر یہ بھی تھا کہ وہاں سے بےاجازت اٹھ کر چلے نہ جائیں۔ اب بھی سب مسلمان کو اپنے سرداروں کے ساتھ یہ برتاؤ کرنا چاہیے۔ " 6 یہ منافقین تھے جن کو مجلس نبوی میں بیٹھنا اور پندو نصیحت سننا شاق گزرتا تھا۔ وہ اکثر موقع پا کر اور آنکھ بچا کر مجلس سے بلا اجازت کھسک جاتے تھے۔ مثلاً کوئی مسلمان اجازت لے کر اٹھا، یہ بھی اس کی آڑ میں ہو کر ساتھ ساتھ چل دیئے، اس کو فرمایا کہ تم پیغمبر سے کیا چھپاتے ہو، خدا تعالیٰ کو تمہارا سب کا حال معلوم ہے۔ 1 یعنی اللہ و رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان کے دلوں میں کفر و نفاق وغیرہ کا فتنہ ہمیشہ کے لیے جڑ نہ پکڑ جائے۔ اور اس طرح دنیا کی کسی سخت آفت یا آخرت کے دردناک عذاب میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ العیاذ باللہ۔
Ayah 24:64

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

سنتے ہو اللہ ہی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں اور زمین میں اس کو معلوم ہے جس حال پر تم ہو اور جس دن پھیرے جائیں گے اس کی طرف تو بتائے گا ان کو جو کچھ انہوں نے کیا، اور اللہ ہر ایک چیز کو جانتا ہے2

2 یعنی ممکن ہے مخلوق سے آنکھ بچا کر کوئی کام کر گزرو، لیکن حق تعالیٰ سے تمہارا کوئی حال پوشیدہ نہیں رہ سکتا نہ اس کی زمین و آسمان میں سے نکل کر کہیں بھاگ سکتے ہو۔ وہ جس طرح تمہارے احوال موجودہ سے باخبر ہے ایسے ہی اس دن کی کیفیت مجازات سے بھی پورا آگاہ ہے۔ جب تمام مخلوق حساب و کتاب کے لیے اس کی طرف لوٹائی جائے گی اور ہر ایک کے سامنے اس کا ذرہ ذرہ عمل کھول کر رکھ دیا جائے گا۔ ایسے علیم الکل اور مالک الکل کی سزا سے مجرم کس طرح اپنے کو بچا سکتا ہے۔ " تَمَّ سُورَۃٌ النُّوْرِ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَتُوفِیقِہٖ اَللّٰہُمَّ نَوِّرْ قُلُوبَنَا باا لْاِ یْمَانِ وَالْاِحْسَانِ وَنَوِّرْ قُبُورَنَا وَاَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْلَنَا اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ءٍ قَدِیْر وَبِاْلِاجَابَۃِ جَدِیْرٌ۔ "