22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 22:41

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 22:41 in the Quran reader

وہ لوگ کہ اگر ہم ان کو قدرت دیں ملک میں تو وہ قائم رکھیں نماز اور دیں زکوٰۃ اور حکم کریں بھلے کام کا اور منع کریں برائی سے1 اور اللہ کے اختیار میں ہے آخر ہر کام2

1 یہ ان ہی مسلمانوں کا بیان ہے جن پر ظلم ہوئے اور جن کو گھروں سے نکالا گیا۔ یعنی خدا ان کی مدد کیوں نہ کرے گا جب کہ وہ ایسی قوم ہے کہ اگر ہم اسے زمین کی سلطنت دے دیں تب بھی خدا سے غافل نہ ہوں۔ بذات خود بدنی و مالی نیکیوں میں لگے رہیں۔ اور دوسروں کو بھی اسی راہ پر ڈالنے کی کوشش کریں۔ چناچہ حق تعالیٰ نے ان کو زمین کی حکومت عطاء کی اور جو پیشین گوئی کی تھی حرف بحرف سچی ہوئی۔ فللّٰہ الحمد علیٰ ذالک۔ اس آیت سے صحابہ ؓ خصوصاً مہاجرین اور ان میں اخص خصوص کے طور پر حضرات خلفائے راشدین ؓ کی حقانیت اور مقبولیت و منقبت ثابت ہوئی۔ 2 یعنی گو آج مسلمان کمزور اور کافر غالب و قوی نظر آتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے کہ آخرکار انھیں منصور و غالب کر دے۔ یا یہ مطلب کہ یہ امت خدا کا دین قائم کرے گی ایک مدت تک آخر اللہ ہی جانے کیا ہوگا۔
Ayahs 22:42–44

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ Open ayah 22:42 in the Quran reader

اور اگر تجھ کو جھٹلائیں تو ان سے پہلے جھٹلا چکی ہے نوح کی قوم اور عاد اور ثمود

وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ Open ayah 22:43 in the Quran reader

اور ابراہیم کی قوم اور لوط کی قوم

وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 22:44 in the Quran reader

اور مدین کے لوگ3 اور موسیٰ کو جھٹلایا4 پھر میں نے ڈھیل دی منکروں کو پھر پکڑ لیا ان کو تو کیسا ہوا میرا انکار5

3 جن کی طرف حضرت شعیب (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے۔ 4 یعنی مصر کے قبطیوں نے۔ 5 یعنی مسلمانوں کے غلبہ و نصرت کے جو وعدے کیے جا رہے ہیں، کفار اپنی موجودہ کثرت و قوت کو دیکھتے ہوئے ان کی تکذیب نہ کریں، یہ خدا کی ڈھیل ہے۔ پہلی قوموں نے بھی خدا کی چند روزہ ڈھیل سے دھوکہ کھا کر اپنے پیغمبروں کو جھٹلایا تھا۔ آخر جب پکڑے گئے تو دیکھ لو ان کا حشر کیسا ہوا۔ اور خدا نے اپنے عذاب سے ڈرا کر ان کی شرارتوں پر جو انکار فرمایا تھا وہ کس طرح سامنے آگیا۔ اگلی آیت میں اسی کی تفصیل ہے۔
Ayah 22:45

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

سو کتنی بستیاں ہم نے غارت کر ڈالیں اور وہ گناہ گار تھیں اب وہ گری پڑتی ہیں اپنی چھتوں پر6 اور کتنے کنوئیں نکمے پڑے اور کتنے محل گچکاری کے7

6 یعنی بنیادیں ہلنے سے اول چھتیں گرپڑیں پھر دیواریں اور سارا مکان گر کر چھت کے ڈھیر پر آرہا۔ یہ ان کے تہ وبالا ہونے کا نقشہ کھینچا ہے۔ 7 یعنی کنویں جن پر پانی کھینچنے والوں کی بھیڑ رہتی تھی۔ آج ان میں کوئی ڈول پھانسنے والا نہ رہا۔ اور بڑے بڑے پختہ، بلند عالیشان، قلعی چونے کے محل ویران کھنڈر بن کر رہ گئے۔ جن میں کوئی بسنے والا نہیں۔
Ayah 22:46

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

کیا سیر نہیں کی ملک کی جو ان کے دل ہوتے جن سے سمجھتے یا کان ہوتے جن سے سنتے8 سو کچھ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں پر اندھے ہوجاتے ہیں دل جو سینوں میں ہیں9

8 یعنی ان تباہ شدہ مقامات کے کھنڈر دیکھ کر کبھی غور و فکر نہ کیا، ورنہ ان کو سچی بات کی سمجھ آجاتی اور کان کھل جاتے۔ 9 یعنی آنکھوں سے دیکھ کر اگر دل سے غور نہ کیا تو وہ نہ دیکھنے کے برابر ہے۔ گو اس کی ظاہری آنکھیں کھلی ہوں پر دل کی آنکھیں اندھی ہیں۔ اور حقیقت میں زیادہ خطرناک اندھا پن وہی ہے جس میں دل اندھے ہوجائیں۔ (العیاذ باللہ)
Ayah 22:47

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

اور تجھ سے جلدی مانگتے ہیں عذاب اور اللہ ہرگز نہ ٹالے گا اپنا وعدہ10 اور ایک دن تیرے رب کے یہاں ہزار برس کے برابر ہوتا ہے جو تم گنتے ہو11

10 یعنی عذاب اپنے وقت پر یقینا آکر رہے گا۔ استہزاء و تکذیب کی راہ سے جلدی مچانا فضول ہے۔ 11 یعنی تمہارے ہزار برس اس کے یہاں ایک دن کے برابر ہیں۔ جیسے مجرم آج اس کے قبضہ میں ہے ہزار برس گزرنے کے بعد بھی اسی طرح اس کے قبضہ و اقتدار کے نیچے ہے۔ کہیں بھاگ کر نہیں جاسکتا۔ یا یہ مطلب کہ ہزار برس کا کام وہ ایک دن میں کرسکتا ہے۔ مگر کرتا وہی ہے جو اس کی حکمت و مصلحت کے موافق ہو۔ کسی کے جلدی مچانے سے وہاں کچھ اثر نہیں ہوتا۔ یا یوں کہا جائے کہ اخروی عذاب کا وعدہ ضرور آکر رہے گا۔ یعنی قیامت آئے گی اور تم کو پوری سزا ملے گی۔ آگے قیامت کے دن کا بیان ہوا کہ وہ ایک دن اپنی شدت و ہول کے لحاظ سے ہزار سال کے برابر ہوگا پھر ایسی مصیبت کو بلانے کے لیے کیوں جلدی مچاتے ہو۔
Ayah 22:48

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

اور کتنی بستیاں ہیں کہ میں نے ان کو ڈھیل دی اور وہ گناہ گار تھیں پھر میں نے ان کو پکڑا اور میری طرف پھر کر آنا ہے1

1 یعنی کیا ڈھیل دینے سے وہ کہیں نکل کر بھاگ گئیں، آخر سب کو لوٹ کر ہماری ہی طرف آنا پڑا اور ہم نے ان کو پکڑ کر تباہ کردیا۔
Ayah 22:49

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

تو کہہ اے لوگوں میں تو ڈر سنا دینے والا ہوں تم کو کھول کر2

2 یعنی میرا کام آگاہ و ہوشیار کردینا ہے۔ عذاب کا لے آنا میرے قبضہ میں نہیں خدا ہی کے قبضہ میں ہے کہ سب مطیع و عاصی کا فیصلہ کرے گا اور ہر ایک کو اس کے مناسب حال جگہ پر پہنچائے۔
Ayah 22:50

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

سو جو لوگ یقین لائے اور کیں بھلائیاں ان کے گناہ بخش دیتے ہیں اور ان کو روزی ہے عزت کی3

3 یعنی جنت میں میوے پھل اور عمدہ عمدہ الوان نعمت اور حق تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوگا۔
Ayahs 22:51–52

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور جو دوڑے ہماری آیتوں کے ہرانے کو وہی ہیں دوزخ کے رہنے والے

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

اور جو رسول بھیجا ہم نے تجھ سے پہلے یا نبی سو جب لگا خیال باندھنے شیطان نے ملا دیا اس کے خیال میں پھر اللہ مٹا دیتا ہے شیطان کا ملایا ہوا پھر پکی کردیتا ہے اپنی باتیں اور اللہ سب خبر رکھتا ہے حکمتوں والاف 4

4 آیت کی تفسیر میں اختلاف ہے۔ مترجم محقق قدس اللہ روحہ، نے اپنے پیشرو حضرت شاہ عبدالقادر (رح) کی روش اختیار فرمائی ہے جس کی طرف حضرت شاہ ولی اللہ قدس سرہ ' نے بھی " حجۃ اللہ البالغہ " کے آخر میں اشارہ کیا ہے۔ حضرت شاہ صاحب " موضح القرآن " میں لکھتے ہیں " نبی کو ایک حکم (یا ایک خبر) اللہ کی طرف سے آتی ہے۔ اس میں ہرگز ذرہ بھر تفاوت نہیں ہوسکتا۔ اور ایک اپنے دل کا خیال (اور رائے کا اجتہاد) وہ کبھی ٹھیک پڑتا ہے کبھی نہیں۔ جیسے حضرت ﷺ نے خواب میں دیکھا (اور نبی کا خواب وحی ہوتا ہے) کہ آپ مدینہ سے مکہ تشریف لے گئے اور عمرہ کیا۔ خیال میں آیا کہ شاید امسال ایسا ہوگا (چنانچہ عمرہ کی نیت سے سفر شروع کیا لیکن درمیان میں احرام کھولنا پڑا) اور اگلے سال خواب کی تعبیر پوری ہوئی یا وعدہ ہوا کہ کافروں پر غلبہ ہوگا۔ خیال آیا کہ اب کی لڑائی میں۔ اس میں نہ ہوا، بعد کو ہوا۔ پھر اللہ جتلا دیتا ہے کہ جتنا حکم یا وعدہ تھا اس میں سرمو تفاوت نہیں۔ " ہاں نبی کے ذاتی خیال و اجتہاد میں تفاوت ہوسکتا ہے۔ گو نبی اصل پیشنگوئی کے ساتھ ملا کر اپنے ذاتی خیال کی اشاعت نہیں کرتا بلکہ دونوں کو الگ رکھتا ہے۔ باقی اس صورت میں " القاء " کی نسبت شیطان کی طرف ویسی ہوگی جیسے (وَمَآ اَنْسٰنِيْهُ اِلَّا الشَّيْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ ) 18 ۔ الکہف :63) میں " انساء " کی نسبت اس کی طرف کی گئی ہے۔ واللہ اعلم۔ احقر کے نزدیک بہترین اور سہل ترین تفسیر وہ ہے جس کی مختصر اصل سلف سے منقول ہے۔ یعنی " تمنّیٰ " کو بمعنی قرأت و تلاوت یا تحدیث کے اور " اُمْنِیَّتْ " کو بمعنی متلو یا حدیث کے لیا جائے۔ مطلب یہ ہے کہ قدیم سے یہ عادت رہی ہے کہ جب کوئی نبی یا رسول کوئی بات بیان کرتا یا اللہ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے۔ شیطان اس بیان کی ہوئی بات یا آیت میں طرح طرح کے شبہات ڈال دیتا ہے۔ یعنی بعض باتوں کے متعلق بہت لوگوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کر کے شکوک و شبہات پیدا کردیتا ہے۔ مثلاً نبی نے آیت (اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ ) 2 ۔ البقرۃ :173) پڑھ کر سنائی، شیطان نے شبہ ڈالا کہ دیکھو اپنا مارا ہوا تو حلال اور اللہ کا مارا ہوا حرام کہتے ہیں۔ یا آپ نے (اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ) 21 ۔ الانبیآء :98) پڑھا۔ اس نے شبہ ڈالا کہ " مَاتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ " میں حضرت مسیح و عزیر اور ملائکۃ اللہ بھی شامل ہیں۔ یا آپ نے حضرت مسیح کے متعلق پڑھا (وَكَلِمَتُهٗ ۚ اَلْقٰىهَآ اِلٰي مَرْيَمَ وَرُوْحٌ مِّنْهُ ) 4 ۔ النسآء :173) شیطان نے سجھایا کہ اس سے حضرت مسیح کی ابنیت والوہیت ثابت ہوتی ہے۔ اس لقاء شیطانی کے ابطال و ردّ میں پیغمبر ﷺ اللہ تعالیٰ کی وہ آیات سناتے ہیں جو بالکل صاف اور محکم ہوں اور ایسی پکی باتیں بتلاتے ہیں جن کو سن کر شک و شبہ کی قطعاً گنجائش نہ رہے۔ گویا " متشابہات " کی ظاہری سطح کو لے کر شیطان جو اغواء کرتا ہے " آیات محکمات " اس کی جڑ کاٹ دیتی ہیں جنہیں سن کر تمام شکوک و شبہات ایک دم کافور ہوجاتے ہیں۔ یہ دو قسم کی آیتیں کیوں اتاری جاتی ہیں ؟ شیاطین کو اتنی وسوسہ اندازی اور تصرف کا موقع کیوں دیا جاتا ہے ؟ اور آیات کا جو احکام بعد کو کیا جاتا ہے ابتداء ہی سے کیوں نہیں کردیا جاتا ؟ یہ سب امور حق تعالیٰ کی غیر محدود علم و حکمت سے ناشی ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو علماً و عملاً دار امتحان بنایا ہے۔ چناچہ اس قسم کی کارروائی میں بندوں کی جانچ ہے کہ کون شخص اپنے دل کی بیماری یا سختی کی وجہ سے پادر ہوا شکوک و شبہات کی دلدل میں پھنس کر رہ جاتا ہے اور کون سمجھ دار آدمی اپنے علم و تحقیق کی قوت سے ایمان و جَنّات کے مقام بلند پر پہنچ کر دم لیتا ہے، سچ تو یہ ہے کہ آدمی نیک نیتی اور ایمانداری سے سمجھنا چاہے تو اللہ تعالیٰ دستگیری فرما کر اس کو سیدھی راہ پر قائم فرما دیتے ہیں۔ رہے منکرین و مشککین ان کو قیامت تک اطمینان حاصل نہیں ہوسکتا۔ " ہرچہ گیرد علتی علت شود "۔ ہماری اس تقریر میں دور تک کئی آیتوں کا مطلب بیان ہوگیا۔ سمجھ دار آدمی اس کے اجزاء کو آیات کے اجزاء پر بےتکلف منطبق کرسکتا ہے یہ آیات جیسا کہ ہم نے سورة " آل عمران " کے شروع میں بیان کیا تھا۔ (ھُوَ الَّذِيْٓ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ) 3 ۔ آل عمران :7) سے بہت مشابہ ہیں۔ ( اِلَّآ اِذَا تَـمَنّىٰٓ اَلْقَى الشَّيْطٰنُ فِيْٓ اُمْنِيَّتِهٖ ) 22 ۔ الحج :52) میں متشابہات کا اور (ثُمَّ يُحْكِمُ اللّٰهُ اٰيٰتِهٖ ) 22 ۔ الحج :52) میں " محکمات " کا ذکر ہوا۔ اور ( لِّيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّالْقَاسِيَةِ قُلُوْبُهُمْ ۭ وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ لَفِيْ شِقَاقٍۢ بَعِيْدٍ ) 22 ۔ الحج :53) میں زاغین کی دو قسمیں مذکور ہوئیں۔ جن میں اَلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ کا کام ابتغاء تاویل، اور اَلْقَاسِیَۃِ قُلُوْبُہُمْ کی غرض ابتغاء فتنہ ہے۔ آگے (وَّلِيَعْلَمَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ ) 22 ۔ الحج :54) کو آیت (وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ ) 3 ۔ آل عمران :7) کی جگہ سمجھو اور وہاں جو دعاء (رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا) 3 ۔ آل عمران :8) سے کی تھی یہاں اس کی اجابت کا ذکر (وَاِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ) 22 ۔ الحج :54) میں کیا گیا اور (رَبَّنَآ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيْهِ ) 3 ۔ آل عمران :9) کے مناسب (وَلَا يَزَالُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ مِرْيَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِيَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ يَاْتِيَهُمْ عَذَابُ يَوْمٍ عَقِيْمٍ 55؀ اَلْمُلْكُ يَوْمَىِٕذٍ لِّلّٰهِ ۭ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ ) 22 ۔ الحج :56 ۔ 55) ہوئی۔ (تنبیہ) آیت حاضرہ کے تحت مفسرین نے جو قصہ غرانیق کا ذکر کیا ہے اس پر بحث کا یہاں موقع نہیں۔ شاید سورة نجم میں کچھ لکھنے کی نوبت آئے۔ ہم نے شرح صحیح مسلم میں بہت بسط سے اس پر کلام کیا ہے۔ بہرحال آیت کا مطلب سلف کی تفسیر کے موافق بالکل صاف ہے گویا یہ تفصیل اس کی ہوئی جو اوپر والَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْ اٰیٰـتـِنَا مُعٰجِزِیْنَ میں ابطال آیات اللہ کی سعی کا ذکر تھا۔
Ayahs 22:53–54

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

اس واسطے کہ جو کچھ شیطان نے ملایا اس سے جانچے ان کو کہ جن کے دل میں روگ ہیں اور جن کے دل سخت ہیں اور گنہ گار تو ہیں مخالفت میں دور جا پڑے

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

اور اس واسطے کہ معلوم کرلیں وہ لوگ جن کو سمجھ ملی ہے کہ یہ تحقیق ہے تیرے رب کی طرف سے پھر اس پر یقین لائیں نرم ہوجائیں اس کے آگے ان کے دل اور اللہ سمجھانے والا ہے یقین لانے والوں کو راہ سیدھی1

1 " موضح القرآن " میں ہے۔ " یعنی اس میں گمراہ بہکتے ہیں سو ان کا کام ہے بہکنا، اور ایمان والے اور زیادہ مضبوط ہوتے ہیں کہ اس کلام میں بندہ کا دخل نہیں۔ اگر ہوتا تو یہ بھی بندہ کے خیال کی طرح کبھی صحیح کبھی غلط نکلتا۔ اور جس کی نیت اعتقاد پر ہو۔ اللہ اس کو یہ بات سمجھاتا ہے۔ " حضرت شاہ صاحب نے یہ فائدہ اپنے مذاق کے موافق لکھا ہے۔ ہمارا جو خیال ہے اس کی تقریر گذشتہ فائدہ میں گزر چکی۔ واللہ اعلم۔
Ayah 22:55

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

اور منکروں کو ہمیشہ رہے گا اس میں دھوکا جب تک کہ آپہنچے ان پر قیامت بیخبر ی میں یا آپہنچے ان پر آفت ایسے دن کی جس میں راہ نہیں خلاصی کی2

2 یعنی نفس قیامت کا ہولناک حادثہ اچانک آپہنچے یا اسی قیامت کے دن کا عذاب مراد ہو۔ یعنی دنیا ہی میں سزا مل جائے جس سے کوئی رستگاری کی شکل نہیں۔
Ayah 22:56

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

راج اس دن اللہ کا ہے ان میں فیصلہ کرے گا3 سو جو یقین لائے اور کہیں بھلائیاں نعمت کے باغوں میں ہیں

3 یعنی قیامت کے دن اکیلے خدا کی بادشاہت کام کرے گی۔ کسی کی ظاہری و مجازی حکومت برائے نام بھی باقی نہ رہے گی۔ اس وقت سب دنیا کا بیک وقت عملی فیصلہ ہوجائے گا۔ جس کی تفصیل آگے مذکور ہے۔
Ayahs 22:57–59

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جو منکر ہوئے اور جھٹلائیں ہماری باتیں سو ان کے لیے ہے ذلت کا عذاب

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور جو لوگ گھر چھوڑ آئے اللہ کی راہ میں پھر مارے گئے یا مرگئے البتہ ان کو دے گا اللہ روزی خاصی اور اللہ ہے سب سے بہتر روزی دینے والا

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

البتہ پہنچائے گا ان کو ایک جگہ جس کو پسند کریں گے اور اللہ سب کچھ جانتا ہے تحمل والاف 4

4 مومنین کا انجام پہلے بتلایا تھا، یہاں ان میں سے ایک ممتاز جماعت کا خصوصی طور پر ذکر فرمایا۔ یعنی جو لوگ خدا کے راستہ میں گھر بار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے خواہ وہ لڑائی میں شہید ہوں یا طبعی موت سے مریں دونوں صورتوں میں اللہ کے ہاں ان کی خاص مہمانی ہوگی۔ کھانا پینا، رہنا سہنا سب ان کی مرضی کے موافق ہوگا۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کس چیز سے راضی ہوں گے اور یہ بھی جانتا ہے کہ کن لوگوں نے خالص اس کے راستہ میں اپنا گھر بار ترک کیا ہے۔ ایسے مہاجرین و مجاہدین کی فرو گذاشتوں پر حق تعالیٰ تحمل کرے گا۔ اور شان عفو سے کام لے گا یا " علیم " و " حلیم " کی صفات اس غرض سے ذکر کیں کہ اللہ سب کو جانتا ہے ان کو بھی جنہوں نے ایسے مخلص بندوں کو تکلیفیں دے کر گھر چھوڑنے پر مجبور کیا۔ لیکن اپنی بردباری کی وجہ سے فوراً سزا نہیں دیتا۔
Ayah 22:60

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

یہ سن چکے اور جس نے بدلہ لیا جیسا کہ اس کو دکھ دیا تھا پھر اس پر کوئی زیادتی کرے تو البتہ اس کی مدد کرے گا اللہ5 بیشک اللہ درگزر کرنے والا بخشنے والا ہے6

5 یعنی مظلوم اگر ظالم سے واجبی بدلہ لے لے۔ پھر ازسر نو ظالم اس پر زیادتی کرے تو وہ پھر مظلوم ٹھہر گیا۔ حق تعالیٰ پھر مدد کرے گا جیسا کہ اس کی عادت ہے کہ مظلوم کی آخر حمایت کرتا ہے۔ وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُوْمِ فَاِنَّہ، لَیْسَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ اللّٰہِ حِجَابٌ۔ بترس از آہ مظلوماں کہ ہنگام دعا کرد ناجابت از درِ حق بہر استقبال می آید 6 یعنی بندوں کو بھی چاہیے کہ اپنے ذاتی اور معاشرتی معاملات میں عفو و درگزر کی عادت سیکھیں۔ ہر وقت بدلہ لینے کے درپے نہ ہوں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی واجبی بدلہ لینے والے کو خدا عذاب نہیں کرتا اگرچہ بدلہ نہ لینا بہتر تھا " بدر " کی لڑائی میں مسلمانوں نے بدلہ لیا کافروں کی ایذا کا۔ " احد " و " احزاب " میں زیادتی کرنے کو آئے۔ پھر اللہ نے پوری مدد کی۔ "
Ayah 22:61

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

یہ اس واسطے کہ اللہ لے لیتا ہے رات کو دن میں اور دن کو رات میں7 اور اللہ سنتا دیکھتا ہے8

7 یعنی وہ اتنی بڑی قدرت والا ہے کہ رات دن کا الٹ پلٹ کر اور گھٹانا بڑھانا اسی کے ہاتھ میں ہے اسی کے تصرف سے کبھی کے دن بڑے کبھی کی راتیں بڑی ہوتی ہیں۔ پھر کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ ایک مظلوم قوم یا شخص کو امداد دے کر ظالموں کے پنجہ سے نکال دے بلکہ ان پر غالب و مسلط کر دے۔ پہلے مسلمان مہاجرین کا ذکر تھا اس آیت میں اشارہ فرما دیا کہ عنقریب حالات رات دن کی طرح پلٹا کھانے والے ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ رات کو دن میں لے لیتا ہے اسی طرح کفر کی سرزمین کو اسلام کی آغوش میں داخل کر دے گا۔ 8 یعنی مظلوم کی فریاد سنتا اور ظالم کے کرتوت دیکھتا ہے۔
Ayah 22:62

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

یہ اس واسطے کہ اللہ وہی ہے صحیح اور جس کو پکارتے ہیں اس کے سوا وہی ہے غلط اور اللہ وہی ہے سب سے اوپر بڑا1

1 یعنی اللہ کے سوا ایسے عظیم الشان انقلابات اور کس سے ہوسکتے ہیں۔ واقع میں صحیح اور سچا خدا تو وہ ہی ایک ہے باقی اس کو چھوڑ کر خدائی کے جو دوسرے پاکھنڈ پھیلائے گئے ہیں سب غلط جھوٹ اور باطل ہیں۔ اسی کو خدا کہنا اور معبود بنانا چاہیے جو سب سے اوپر اور سب سے بڑا ہے اور یہ شان بالاتفاق اسی ایک اللہ کی ہے۔
Ayah 22:63

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے اتارا آسمان سے پانی پھر زمین ہوجاتی ہے سرسبز2 بیشک اللہ جانتا ہے چھپی تدبیریں خبردار ہے3

2 اسی طرح کفر کی خشک و ویران زمین کو اسلام کی بارش سے سبزہ زار بنا دے گا۔ 3 وہ ہی جانتا ہے کہ کس طرح بارش کے پانی سے سبزہ اگ آتا ہے۔ قدرت اندر ہی اندر ایسی تدبیر و تصرف کرتی ہے کہ خشک زمین پانی وغیرہ کے اجزاء کو اپنے اندر جذب کر کے سرسبز و شاداب ہوجائے اسی طرح وہ اپنی مہربانی، لطیف تدبیر و تربیت، اور کمال خبرداری و آگاہی سے قلوب بنی آدم کو فیوض اسلام کا مینہ برسا کر سرسبز و شاداب بنا دے گا۔
Ayah 22:64

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

اسی کا ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں اور اللہ وہی ہے بےپروا تعریفوں والاف 4

4 یعنی آسمان و زمین کی تمام چیزیں جب اسی کی مملوک و مخلوق ہیں اور سب کو اس کی احتیاج ہے وہ کسی کا محتاج نہیں تو ان میں جس طرح چاہے تصرف اور ادل بدل کرے، کوئی مانع و مزاحم نہیں ہوسکتا۔ البتہ باوجود غنائے نام اور اقتدار کامل کے کرتا وہ ہی ہے جو سراپا حکمت و مصلحت ہو۔ اس کے تمام افعال محمود ہیں اور اس کی ذات تمام خوبیوں اور صفات حمیدہ کی جامع ہے۔
Ayah 22:65

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

تو نے نہ دیکھا کہ اللہ نے بس میں کردیا تمہارے جو کچھ ہے زمین میں اور کشتی کو جو چلتی ہے دریا میں اس کے حکم سے اور تھام رکھتا ہے آسمان کو اس سے کہ گرپڑے زمین پر مگر اس کے حکم سے بیشک اللہ لوگوں پر نرمی کرنے والا مہربان ہے5

5 یعنی اس کو تمہاری یا کسی کی کیا پروا تھی۔ محض شفقت و مہربانی دیکھو کہ کس طرح خشکی اور تری کی چیزوں کو تمہارے قابو میں کردیا۔ پھر اسی نے اپنے دست قدرت سے آسمان، چاند، سورج اور ستاروں کو اس فضائے ہوائی میں بدون کسی ظاہری کھمبے یا ستون کے تھام رکھا ہے جو اپنی جگہ سے نیچے نہیں سرکتے۔ ورنہ گر کر اور ٹکرا کر تمہاری زمین کو پاش پاش کردیتے۔ جب تک اس کا حکم نہ ہو یہ کر ات یوں ہی اپنی جگہ قائم رہیں گے مجال نہیں کہ ایک انچ سرک جائیں۔ " اِلَّابِاِذْنِہِ " کا استثناء محض اثبات قدرت کی تاکید کے لیے ہے۔ یا شاید قیامت کے واقعہ کی طرف اشارہ ہو۔ واللہ اعلم۔
Ayah 22:66

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

اور اسی نے تم کو جلایا پھر مارتا ہے پھر زندہ کرے گا6 بے شک انسان ناشکرا ہے7

6 اسی طرح کفر و جہل سے جو قوم روحانی موت مرچکی تھی، ایمان و معرفت کی روح سے اس کو زندہ کر دے گا۔ 7 یعنی اتنے احسانات و انعامات دیکھ کر بھی اس کا حق نہیں مانتا منعم حقیقی کو چھوڑ کر دوسروں کے سامنے جھکنے لگتا ہے۔
Ayahs 22:67–69

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

ہر امت کے لیے ہم نے مقرر کردی ایک راہ بندگی کی کہ وہ اسی طرح کرتے ہیں بندگی، سو چاہیے تجھ سے جھگڑا نہ کریں اس کام میں اور تو بلائے جا اپنے رب کی طرف بیشک تو ہے سیدھی راہ پر سوجھ والا

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اور اگر تجھ سے جھگڑنے لگیں تو تو کہہ اللہ بہتر جانتا ہے جو تم کرتے ہو

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

اللہ فیصلہ کرے گا تم میں قیامت کے دن جس چیز میں تمہاری راہ جدا جدا تھی1

1 تمام انبیاء اصول دین میں متفق رہے ہیں۔ البتہ ہر امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے بندگی کی صورتیں مختلف زمانوں میں مختلف مقرر کی ہیں۔ جن کے موافق وہ امتیں خدا کی عبادت بجا لاتی رہیں۔ اس امت محمدی کے لیے بھی ایک خاص شریعت بھیجی گئی لیکن اصل دین ہمیشہ سے ایک ہی رہا۔ بجز اللہ کے کبھی کسی دوسری چیز کی عبادت مقرر نہیں کی گئی۔ اس سے توحید وغیرہ کے ان متفق علیہ کاموں میں جھگڑا کرنا کسی کو کسی حال زیبا نہیں۔ جب ایسی کھلی ہوئی چیز میں بھی حجتیں نکالی جائیں تو آپ کچھ پروا نہ کریں۔ آپ جس سیدھی راہ پر قائم ہیں لوگوں کو اسی طرف بلاتے رہیے۔ اور خواہ مخواہ کے جھگڑے نکالنے والوں کا معاملہ خدائے واحد کے سپرد کیجئے۔ وہ خود ان کی تمام حرکات سے واقف ہے۔ قیامت کے دن ان کے تمام اختلافات اور جھگڑوں کا عملی فیصلہ کر دے گا۔ آپ دعوت و تبلیغ کا فرض ادا کر کے ان کی فکر میں زیادہ درد سری نہ اٹھائیں۔ ایسے ضدی معاندین کا علاج خدا کے پاس ہے (تنبیہ) (فَلَا يُنَازِعُنَّكَ فِي الْاَمْرِ وَادْعُ اِلٰى رَبِّكَ ) 22 ۔ الحج :67) کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب ہر امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے جداگانہ دستور العمل مقرر کیا ہے، پھر اس پیغمبر کی امت کے لیے نئی شریعت آئی تو جھگڑنے کی کیا بات ہے۔ بعض مفسرین نے " مَنْسَک " کے معنی ذبح و قربانی کے لیے ہیں، مگر اقرب وہ ہی ہے جو مترجم محقق قدس اللہ روحہ نے اختیار فرمایا۔ واللہ اعلم۔
Ayah 22:70

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ ہے آسمان اور زمین میں یہ سب لکھا ہوا ہے کتاب میں یہ اللہ پر آسان ہے2

2 یعنی کچھ ان کے اعمال پر منحصر نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا علم تو زمین و آسمان کی تمام چیزوں کو محیط ہے اور بعض مصالح اور حکمتوں کی بناء پر اسی علم کے موافق تمام واقعات " لوح محفوظ " میں اور بنی آدم کے تمام اعمال ان کے اعمالناموں میں لکھ بھی دیے گئے ہیں۔ اس کے موافق قیامت کے دن فیصلہ ہوگا۔ اور اتنی بیشمار چیزوں کا ٹھیک ٹھیک جاننا اور لکھ دینا اور اسی کے مطابق ہر ایک کا فیصلہ کرنا، ان میں سے کوئی بات اللہ کے ہاں مشکل نہیں، جس میں کچھ تکلیف یا دقت اٹھانی پڑے۔
Ayah 22:71

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

اور پوجتے ہیں اللہ کے سوا اس چیز کو جس کی سند نہیں اتاری اس نے اور جس کی ان کو خبر نہیں3 اور بےانصافوں کا کوئی نہیں مددگار4

3 محض باپ دادوں کی کو رانہ تقلید میں ایسا کرتے ہیں، کوئی نقلی یا عقلی دلیل نہیں رکھتے۔ 4 سب سے بڑا ظلم اور بےانصافی یہ ہے کہ خدا کا کوئی شریک ٹھہرایا جائے۔ سو ایسے ظالم اور بےانصاف لوگ خوب یاد رکھیں کہ ان کے شرکاء مصیبت پڑنے پر کچھ کام نہ آئیں گے نہ اور کوئی اس وقت مدد کرسکے گا۔
Ayah 22:72

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

اور جب سنائے ان کو ہماری آیتیں صاف تو پہچانے تو منکروں کے منہ کی بری شکل نزدیک ہوتے ہیں کہ حملہ کر پڑیں ان پر جو پڑھتے ہیں ان کے پاس ہماری آیتیں5 تو کہہ میں تم کو بتلاؤں ایک چیز اس سے بدتر وہ آگ ہے اس کا وعدہ کردیا ہے اللہ نے منکروں کو اور وہ بہت بری ہے پھرجانے کی جگہ6

5 یعنی قرآن کی آیتیں (جو توحید وغیرہ کے صاف بیانات پر مشتمل ہیں) سن کر کفار و مشرکین کے چہرے بگڑ جاتے اور مارے ناخوشی کے تیوریاں بدل جاتی ہیں۔ حتی کہ شدت غیظ و غضب سے پاگل ہو کر چاہتے ہیں کہ آیات سنانے والوں پر حملہ کردیں۔ چناچہ بعض اوقات کر بھی گزرتے ہیں۔ 6 یعنی تمہارے اس غیظ و غضب اور ناگواری سے بڑھ کر جو آیات اللہ کے پڑھے جانے پر پیدا ہوتی ہے، ایک سخت بری ناگوار چیز اور ہے جس پر کسی طرح صبر ہی نہ کرسکو گے اور وہ دوزخ کی آگ ہے جس کا وعدہ کافروں سے کیا جا چکا ہے۔ دونوں کا موازنہ کر کے فیصلہ کرلو کہ کونسا تلخ گھونٹ پینا تم کو نسبۃً آسان ہوگا۔
Ayah 22:73

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

اے لوگو ایک مثل کہی ہے سو اس پر کان رکھو7 جن کو تم پوجتے ہو اللہ کے سوائے ہرگز نہ بنا سکیں گے ایک مکھی اگرچہ سارے جمع ہوجائیں اور اگر کچھ چھین لے ان سے مکھی چھڑا نہ سکیں وہ اس سے بودا ہے چاہنے والا اور جن کو چاہتا ہے1

7 یہ توحید کے مقابلہ میں شرک کی شناعت و قبح ظاہر کرنے کے لیے مثال بیان فرمائی جسے کان لگا کر سننا اور غور وفکر سے سمجھنا چاہیے تاکہ ایسی رکیک و ذلیل حرکت سے باز رہو۔ 1 یعنی مکھی بہت ہی ادنیٰ اور حقیر جانور ہے۔ جن چیزوں میں اتنی بھی قدرت نہیں کہ سب مل کر ایک مکھی پیدا کردیں، یا مکھی ان کے چڑھاوے وغیرہ میں سے کوئی چیز لے جائے تو اس سے واپس لے سکیں ان کو " خالق السموات والارضین " کے ساتھ معبودیت اور خدائی کی کرسی پر بٹھا دینا کس قدر بےحیائی، حماقت اور شرمناک گستاخی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ مکھی بھی کمزور مکھی سے زیادہ ان کے بت کمزور اور بتوں سے بڑھ کر ان کا پوجنے والا کمزور ہے جس نے ایسی حقیر اور کمزور چیز کو اپنا معبود و حاجت روا بنا لیا۔
Ayah 22:74

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

اللہ کی قدر نہیں سمجھے جیسی اس کی قدر ہے بیشک اللہ زور آور ہے زبردست2

2 سمجھتے تو ایسی گستاخی کیوں کرتے۔ کیا اللہ کی شان رفیع اور قدرو منزلت اتنی ہے کہ ایسی کمزور چیزوں کو اس کا ہمسر بنادیا جائے ؟ (العیاذ باللہ) اس کی قوت و عزت کے سامنے تو بڑے بڑے مقرب فرشتے اور پیغمبر بھی مجبور و بےبس ہیں۔ آگے ان کا ذکر کیا ہے۔
Ayah 22:75

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

اللہ چھانٹ لیتا ہے فرشتوں میں پیغام پہنچانے والے اور آدمیوں میں3 اللہ سنتا دیکھتا ہے4

3 یعنی بعض فرشتوں سے پیغامبری کا کام لیتا ہے (مثلاً جبرائیل علیہ السلام) اور بعض انسانوں سے جن کو خدا اس منصب کے لیے انتخاب فرمائے گا۔ ظاہر ہے ان کا درجہ دوسری تمام خلائق سے اعلیٰ ہونا چاہیے۔ 4 یعنی ان کی تمام باتوں کو اور ان کے ماضی و مستقبل کے تمام احوال کو دیکھتا ہے اس لیے وہ ہی حق رکھتا ہے کہ جس کے احوال و استعداد پر نظر کر کے منصب رسالت پر فائز کرنا چاہیے فائز کر دے۔ ( ۂاَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ ) 6 ۔ الانعام :124) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی ساری خلق میں بہتر وہ لوگ ہیں پیغام پہنچانے والے، فرشتوں میں بھی وہ فرشتے اعلیٰ ہیں۔ ان کو (یعنی ان کی ہدایات کو) چھوڑ کر بتوں کو مانتے ہو " کس قدر بےتکی بات ہے۔
Ayah 22:76

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

جانتا ہے جو کچھ ان کے آگے ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے اور اللہ تک پہنچ ہے ہر کام کی5

5 یعنی وہ بھی اختیار نہیں رکھتے، اختیار ہر چیز میں اللہ کا ہے (کذا فی الموضح)
Ayah 22:77

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ Open ayah 22:77 in the Quran reader

اے ایمان والو رکوع کرو اور سجدہ کرو اور بندگی کرو اپنے رب کی اور بھلائی کرو تاکہ تمہارا بھلا ہو6

6 شرک کی تقبیح اور مشرکین کی تفضیح کے بعد مومنین کو خطاب فرماتے ہیں کہ تم اکیلے اپنے رب کی بندگی پر لگے رہو۔ اسی کے آگے جھکو، اسی کے حضور میں پیشانی ٹیکو، اور اسی کے لیے دوسرے بھلائی کے کام کرو۔ تاکہ دنیا اور آخرت میں تمہارا بھلا ہو۔
Ayah 22:78

وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠ Open ayah 22:78 in the Quran reader

اور محنت کرو اللہ کے واسطے جیسی کہ چاہیے اس کے واسطے محنت7 اس نے تم کو پسند کیا8 اور نہیں رکھی تم پر دین میں کچھ مشکل9 دین تمہارے باپ ابراہیم کا10 اسی نے نام رکھا تمہارا مسلمان پہلے سے اور اس قرآن میں11 تاکہ رسول ہو بتانے والا تم پر اور تم ہو بتانے والے لوگوں پر12 سو قائم رکھو نماز اور دیتے رہو زکوٰۃ اور مضبوط پکڑو اللہ کو وہ تمہارا مالک ہے سو خوب مالک ہے اور خوب مددگار13

7 اپنے نفس کو درست رکھنے اور دنیا کو درستی پر لانے کے لیے پوری محنت کرو جو اتنے بڑے اہم مقصد کے شایان شان ہو۔ آخر دنیاوی مقاصد میں کامیابی کیلئے کتنی محنتیں اٹھاتے ہو۔ یہ تو دین کا اور آخرت کی دائمی کامیابی کا راستہ ہے جس میں جس قدر محنت برداشت کی جائے انصافاً تھوڑی ہے (تنبیہ) لفظ " مجاہدہ " میں ہر قسم کی زبانی، قلمی، مالی، بدنی کوشش شامل ہے۔ اور " جہاد " کی تمام قسمیں (جہاد مع النفس، جہاد مع الشیطان، جہاد مع الکفار، جہاد مع البغات، جہاد مع المبطلین) اس کے نیچے مندرج ہیں۔ 8 کہ سب سے اعلیٰ و افضل پیغمبر دیا اور تمام شرائع سے اکمل شریعت عنایت کی، تمام دنیا میں خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے تم کو چھانٹ لیا اور سب امتوں پر فضیلت بخشی۔ 9 دین میں کوئی ایسی مشکل نہیں رکھی جس کا اٹھانا کٹھن ہو۔ احکام میں ہر طرح کی رخصتوں اور سہولتوں کا لحاظ رکھا ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ تم خود اپنے اوپر ایک آسان چیز کو مشکل بنا لو۔ 10 ابراہیم (علیہ السلام) چونکہ حضور ﷺ کے اجداد میں ہیں اس لیے ساری امت کے باپ ہوئے، یا یہ مراد ہو کہ عربوں کے باپ ہیں کیونکہ اولین مخاطب قرآن کے وہ ہی تھے۔ 11 یعنی اللہ نے پہلی کتابوں میں اور اس قرآن میں تمہارا نام " مسلم " رکھا (جس کے معنی حکمبردار اور وفا شعار کے ہیں) یا ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے تمہارا یہ نام رکھا تھا جب کہ دعاء میں کہا (وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَآ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ ) 2 ۔ البقرۃ :128) اور اس قرآن میں شاید ان ہی کے مانگنے سے یہ نام پڑا ہو۔ بہرحال تمہارا نام " مسلم " ہے۔ گو اور امتیں بھی مسلم تھیں مگر لقب یہ تمہارا ہی ٹھہرا ہے سو اس کی لاج رکھنی چاہیے۔ 12 یعنی پسند کیا تم کو اس واسطے کہ تم اور امتوں کو سکھاؤ اور رسول تم کو سکھائے۔ اور یہ امت جو سب سے پیچھے آئی یہ ہی غرض ہے کہ تمام امتوں کی غلطیاں درست کرے اور سب کو سیدھی راہ بتائے۔ گویا جو مجدو شرف اس کو ملا ہے اسی وجہ سے ہے کہ یہ دنیا کے لیے معلم بنے اور تبلیغی جہاد کرے۔ (تنبیہ) دوسرے مفسرین نے " شہید " اور " شہداء " کو بمعنی " گواہ " لیا ہے۔ قیامت کے دن جب دوسری امتیں انکار کریں گی کہ پیغمبروں نے ہم کو تبلیغ نہیں کی اور پیغمبروں سے گواہ مانگے جائیں گے تو وہ امت محمدیہ کو بطور گواہ پیش کریں گے، یہ امت گواہی دے گی کہ بیشک پیغمبروں نے دعوت و تبلیغ کر کے خدا کی حجت قائم کردی تھی۔ جب سوال ہوگا کہ تم کو کیسے معلوم ہوا۔ جواب دیں گے کہ ہمارے نبی نے اطلاع کی جس کی صداقت پر خدا کی محفوظ کتاب (قرآن کریم) گواہ ہے۔ گویا یہ فضل و شرف اس لیے دیا گیا کہ تم کو ایک بڑے عظیم الشان مقدمہ میں بطور معزز گواہ کے کھڑا ہونا ہے۔ لیکن تمہاری گواہی کی سماعت اور وقعت بھی تمہارے پیغمبر کے طفیل میں ہے کہ وہ تمہارا تزکیہ کریں گے۔ 13 یعنی انعامات الٰہیہ کی قدر کرو، اپنے نام و لقب اور فضل و شرف کی لاج رکھو، اور سمجھو کہ تم بہت بڑے کام کے لیے کھڑے کیے گئے ہو۔ اس لیے اول اپنے کو نمونہ عمل بناؤ۔ نماز، زکوٰۃ (بالفاظ دیگر بدنی و مالی عبادات) میں کوتاہی نہ ہونے پائے، ہر کام میں اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑے رہو۔ ذرا بھی قدم جادہ حق سے ادھر ادھر نہ ہو۔ اس کے فضل و رحمت پر اعتماد رکھو۔ تمام کمزور سہارے چھوڑ دو ، تنہا اسی کو اپنا مولیٰ اور مالک سمجھو، اس سے اچھا مالک و مددگار اور کون ملے گا ؟ " رَبِّ اجْعَلْنَا مِنْ مُّقِیْمِی الصَّلٰوۃِ وَمُؤْتِی الزَّکٰوۃِ وَالْمُعْتَصِمِیْنَ بِکَ وَالْمَتَوَکِّلِیْنَ عَلَیْکَ فَاَنْتَ مَوْلَانَا وناصِرُنَا فَنِعْمَ الْمَوْلٰی اَنْتَ وَنِعْمَ الْنَّصِیْرُ " ثم سورة الحج بفضلہ ومنہ فللّٰہ الحمد وعلیٰ نبیہ الصلوٰۃ والتسلیم۔