Ayah 19:412 گذشتہ رکوع میں حضرت مسیح و مریم کا قصہ بیان فرما کر نصاریٰ کا رد کیا گیا تھا جو ایک آدمی کو خدا بنا رہے ہیں۔ اس رکوع میں مشرکین مکہ کو شرمانے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ سنایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے باپ تک کو کس طرح شرک و بت پرستی سے روکا۔ اور آخرکار وطن و اقارب کو چھوڑ کر خدا کے واسطے ہجرت اختیار کی۔ مشرکین مکہ کا دعویٰ تھا کہ وہ ابراہیم کی اولاد ہیں اور اسی کے دین پر ہیں۔ انھیں بتلایا گیا کہ بت پرستی کے متعلق تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا رویہ کیا رہا ہے۔ اگر آباؤ اجداد کی تقلید کرنا چاہتے ہو تو ایسے باپ کی تقلید کرو۔ اور مشرک باپ دادوں سے اسی طرح بیزار ہوجاؤ۔ جیسے ابراہیم (علیہ السلام) ہوگئے تھے۔
3 " صدیق " کے معنی ہیں " بہت زیادہ سچ کہنے والا " جو اپنی بات کو عمل سے سچا کر دکھائے۔ یا وہ راستباز پاک طینت جس کے قلب میں سچائی کو قبول کرنے کی نہایت اعلیٰ و اکمل استعداد موجود ہو۔ جو بات خدا کی طرف سے پہنچے بلا توقف اس کے دل میں اتر جائے۔ شک و تردد کی گنجائش ہی نہ رہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) ہر ایک معنی سے صدیق تھے اور چونکہ صدیقیت کے لیے نبوت لازم نہیں اس لیے آگے " صِدِّیْقًا " کے ساتھ " نَبِیًّا " فرما کر نبوت کی تصریح کردی۔ یہیں سے معلوم ہوگیا کہ کذبات ثلاثہ کی حدیث اور " نَحْنُ اَحَقُّ بالشَّکِّ مِنْ اِبْرَاہِیْمَ " وغیرہ روایات میں کذب و شک کے وہ معنی مراد نہیں جو سطح کلام سے مفہوم ہوتے ہیں۔
Ayah 19:424 یعنی جو چیزدیکھتی سنتی ہو اور مشکلات میں کچھ کام آسکے مگر واجب الوجود نہ ہو، اس کی عبادت بھی جائز نہیں۔ چہ جائیکہ ایک پتھر کی بےجان مورتی جو نہ سنے نہ دیکھے نہ ہمارے کسی کام آئے، خود ہمارے ہاتھ کی تراشی ہوئی، اس کو معبود ٹھہرا لینا کسی عاقل اور خود دار کا کام نہیں ہوسکتا۔
Ayah 19:435 یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے مجھ کو توحید و معاد وغیرہ کا صحیح علم دیا اور حقائق شریعت سے آگاہ کیا ہے۔ اگر تم میری پیروی کرو گے تو سیدھی راہ پر لے چلوں گا جو رضائے حق تک پہنچانے والی ہے۔ اس کے سوا سب راستے ٹیڑھے ترچھے ہیں جن پر چل کر کوئی شخص نجات حاصل نہیں کرسکتا۔
Ayah 19:446 بتوں کو پوجنا شیطان کے اغواء سے ہوتا ہے اور شیطان اس حرکت کو دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے بتوں کی پرستش گویا شیطان کی پرستش ہوئی اور نافرمان کی پرستش رحمان کی انتہائی نافرمانی ہے۔ شاید لفظ " عصٰی " میں ادھر بھی توجہ دلائی ہو کہ شیطان کی پہلی نافرمانی کا اظہار اس وقت ہوا تھا جب تمہارے باپ آدم کے سامنے سربسجود ہونے کا حکم دے دیا گیا۔ لہذا اولاد آدم کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ رحمٰن کو چھوڑ کر اپنے اس قدیم ازلی دشمن کو معبود بنالیں۔
Ayah 19:457 یعنی رحمان کی رحمت عظیمہ تو چاہتی ہے کہ تمام بندوں پر شفقت و مہربانی ہو، لیکن تیری بداعمالیوں کی شامت سے ڈر ہے کہ ایسے حلیم و مہربان خدا کو غصہ نہ آجائے اور تجھ پر کوئی سخت آفت نازل نہ کر دے جس میں پھنس کر تو ہمیشہ کے لیے شیطان کا ساتھی بن جائے یعنی کفر و شرک کی مزاولت سے آئندہ ایمان و توبہ کی توفیق نصیب نہ ہو اور اولیاء الشیطان کے گروہ میں شامل کر کے دائمی عذاب میں دھکیل دیا جائے۔ عموماً مفسرین نے یہ ہی معنی لیے ہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " یعنی کفر کے وبال سے کچھ آفت آئے اور تو مدد مانگنے لگے شیطان سے یعنی بتوں سے، اکثر لوگ ایسے ہی وقت شرک کرتے ہیں۔ " واللّٰہ اعلم۔
Ayah 19:468 باپ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تقریر سن کر کہا " معلوم ہوتا ہے کہ تو ہمارے معبودوں سے بدعقیدہ ہے۔ بس اپنی بد اعتقادی اور وعظ و نصیحت کو رہنے دے، ورنہ تجھ کو کچھ اور سننا پڑے گا بلکہ میرے ہاتھوں سنگسار ہونا پڑے گا۔ اگر اپنی خیر چاہتا ہے تو میرے پاس سے ایک مدت (عمر بھر) کے لیے دور ہوجا۔ میں تیری صورت دیکھنا نہیں چاہتا۔ اس سے پہلے کہ میں تجھ پر ہاتھ اٹھاؤں یہاں سے روانہ ہوجا۔
Ayah 19:479 یہ رخصت یا متارکت کا سلام ہے۔ جیسے ہمارے محاورات میں ایسے موقع پر کہہ دیتے ہیں کہ " فلاں بات یوں ہے تو ہمارا سلام لو۔ " دوسری جگہ فرمایا (وَقَالُوْا لَنَآ اَعْمَالُنَا وَلَكُمْ اَعْمَالُكُمْ ۡ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ۡ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ ) 28 ۔ القصص :55) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " معلوم ہوا اگر دین کی بات سے ماں باپ ناخوش ہوں اور گھر سے نکالنے لگیں اور بیٹا ماں باپ کو میٹھی بات کہہ کر نکل جائے، وہ بیٹا عاق نہیں۔ "
10 امید ہے اپنی مہربانی سے میرے باپ کے گناہ معاف فرما دے گا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے استغفار کا وعدہ ابتداء کیا تھا۔ چناچہ استغفار کرتے رہے جب اللّٰہ کی مرضی نہ دیکھی تب موقوف کیا۔ یہ بحث سورة توبہ (برأۃ) میں (مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ ) 9 ۔ التوبہ :113) کے تحت میں گزر چکی ہے۔ ملاحظہ کرلی جائے۔
Ayah 19:4811 یعنی میری نصیحت کا جب کوئی اثر تم پر نہیں، بلکہ الٹا مجھے دھمکیاں دیتے ہو، تو اب میں خود تمہاری بستی میں رہنا نہیں چاہتا۔ تم کو اور تمہارے جھوٹے معبودوں کو چھوڑ کر وطن سے ہجرت کرتا ہوں تاکہ یکسو ہو کر اطمینان سے خدائے واحد کی عبادت کرسکوں۔ حق تعالیٰ کے فضل و رحمت سے کامل امید ہے کہ اس کی بندگی کر کے میں محروم و ناکام نہیں رہوں گا۔ غربت و بیکسی میں جب اس کو پکاروں گا، ادھر سے ضرور اجابت ہوگی۔ میرا خدا پتھر کی مورتی نہیں کہ کتنا ہی چیخو چلاؤ سن ہی نہ سکے۔
Ayah 19:491 یعنی اللّٰہ کی راہ میں ہجرت کی اور اپنوں سے دور پڑے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے ان سے بہتر اپنے دیے تاکہ غریب الوطنی کی وحشت دور ہو اور انس و سکون حاصل کریں۔ شاید یہاں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر اس لیے نہیں کیا کہ وہ ان کے پاس نہیں رہے۔ بچپن ہی میں جدا کردیے گئے تھے۔ نیز ان کا مستقل تذکرہ آگے آنے والا ہے۔ (تنبیہ) حضرت اسحاق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں۔ ان ہی سے سلسلہ بنی اسرائیل کا چلا۔ جن میں سینکڑوں نبی ہوئے۔
Ayah 19:502 یعنی اپنی رحمت خاصہ سے ان کو بڑا حصہ عنایت فرمایا اور دنیا میں بول بالا کیا اور ہمیشہ کے لیے ان کا ذکر خیر جاری رکھا۔ چناچہ تمام مذاہب و ملل ان کی تعظیم و توصیف کرتے ہیں اور امت محمدیہ دائماً اپنی نمازوں میں پڑھتی ہے۔ اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمْدٍ وَّعَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْم وَعَلٰی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدُ مَّجِیْدٌ" فی الحقیقت یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء " وَاجْعَل لِّی لِسَانَ صِدْقٍ فِیْ الْاٰخِرِیْنَ " کی مقبولیت کا ثمرہ ہے۔
Ayah 19:513 یعنی قرآن کریم میں جو حال موسیٰ (علیہ السلام) کا بیان کیا جا رہا ہے لوگوں کے سامنے ذکر کیجئے کیونکہ اسحاق و یعقوب (علیہما السلام) کی نسل سے اسرائیلی سلسلہ کے اولوالعزم پیغمبر اور مشرّع اعظم ہوئے ہیں۔ اور جس طرح حضرت یحییٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) کے تذکرہ میں خصوصیت کے ساتھ عیسائیوں کی اصلاح اور ابراہیم (علیہ السلام) کے ذکر میں مشرکین مکہ کو متنبہ کرنا مقصود تھا، حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کے تذکرہ سے شاید " یہود " کو بتانا ہو کہ قرآن کس قدر کشادہ دلی سے ان کے مقتدائے اعظم کے واقعی کمالات و محاسن کا اعلان کرتا ہے۔ یہود کو چاہیے کہ وہ بھی اپنے اس جلیل القدر پیغمبر کی صریح پیشین گوئی کے موافق اسمٰعیلی نبی (محمد ﷺ کی رسالت و نبوت کا کھلے دل سے اعتراف کریں شاید اسی لیے حضرت موسیٰ کے بعد روئے سخن حضرت اسماعیل کی طرف پھیر دیا گیا۔
4 جس آدمی کو اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئے وہ " نبی " ہے انبیاء میں سے جن کو خصوصی امتیاز حاصل ہو، یعنی مکذبین کے مقابلہ پر جداگانہ امت کی طرف مبعوث ہوں یا نئی کتاب اور مستقل شریعت رکھتے ہوں وہ " رسول نبی " یا " نبی رسول " کہلاتے ہیں۔ شرعیات میں جزئی تصرف مثلاً کسی عام کی تخصیص یا مطلق کی تقیید وغیرہ رسول کے ساتھ مخصوص نہیں عام انبیاء بھی کرسکتے ہیں۔ باقی غیر انبیاء پر رسول یا مرسل کا اطلاق جیسا کہ قرآن کے بعض مواضع میں پایا جاتا ہے وہ اس معنی مصطلح کے اعتبار سے نہیں۔ وہاں دوسری حیثیات معتبر ہیں۔ واللّٰہ اعلم۔
Ayah 19:525 یعنی موسیٰ (علیہ السلام) جب آگ کی چمک محسوس کر کے " طور " پہاڑ کی اس مبارک و میمون جانب میں پہنچ گئے جو ان کے دائیں ہاتھ مغرب کی طرف واقع تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کو پکارا اور ہم کلامی کا شرف بخشا۔ تفصیل سورة " طہٰ " میں آئے گی۔ کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) اس وقت ہر جہت اور ہر بن مو سے خدا کا کلام سن رہے تھے جو بدون توسط فرشتے کے ہو رہا تھا۔ اور روحانی طور پر اس قدر قرب و علو حاصل تھا کہ غیبی قلموں کی آواز سنتے تھے جس سے تورات نقل کی جا رہی تھی۔ وحی کو " بھید " اس لیے فرمایا کہ اس وقت کوئی بشر استماع میں شریک نہ تھا۔ گو بعد میں اوروں کو بھی خبر کردی گئی۔ واللہ اعلم۔
Ayah 19:536 یعنی ہارون (علیہ السلام) حضرت موسیٰ کے کام میں مددگار ہوئے جیسے کہ انہوں نے خود درخواست کی تھی۔ (وَاَخِيْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّيْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْاً يُّصَدِّقُنِيْٓ) 28 ۔ القصص :34) اور (وَاجْعَلْ لِّيْ وَزِيْرًا مِّنْ اَهْلِيْ 29ۙ هٰرُوْنَ اَخِي 30ۙ ) 20 ۔ طہ :30-29) حق تعالیٰ نے درخواست قبول فرمائی اور ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنا کر ان کی اعانت وتقویت کے لیے دے دیا۔ ویسے عمر میں حضرت ہارون (علیہ السلام) بڑے تھے کہتے ہیں کہ دنیا میں کسی نے اپنے بھائی کے لیے اس سے بڑی شفاعت نہیں کی جو موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کے لیے کی تھی۔
Ayah 19:547 اس سے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی فضیلت حضرت اسحاق (علیہ السلام) پر ظاہر ہوتی ہے کیونکہ ان کو صرف نبی فرمایا اور اسماعیل (علیہ السلام) کو رسول نبی کہا گیا ہے۔ صحیح مسلم میں حدیث ہے۔ " اِنَّ اللّٰہَ اصْطَفٰی مِنْ وُّلْدِ اِبْرَاہِیْمَ اِسْمَاعِیْلَ " (ابراہیم کی اولاد میں سے اللہ نے اسماعیل کو چن لیا) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) عرب حجاز کے مورث اعلیٰ اور ہمارے پیغمبر ﷺ کی اجداد میں سے ہیں جو ابراہیمی شریعت دے کر " بنی جرہم " کی طرف مبعوث ہوئے۔ ان کا صادق الوعد ہونا مشہور تھا۔ خدا سے یا بندوں سے جو وعدہ کیا پورا کر کے دکھلایا۔ ایک شخص سے وعدہ کیا کہ جب تک تو آئے میں اسی جگہ رہوں گا۔ کہتے ہیں وہ ایک برس نہ آیا، یہ وہیں رہے۔ نبی کریم ﷺ سے بھی منقول ہے کہ " قبل از بعثت آپ ﷺ سے عبداللّٰہ بن ابی الحمساء نے کہا کہ آپ یہاں ٹھہریے میں ابھی آتا ہوں۔ آپ ﷺ تین دن تک اسی جگہ رہے۔ جب وہ واپس آیا تو فرمایا کہ تو نے ہم کو تکلیف دی۔ میں حسب وعدہ تین دن سے یہیں ہوں۔ " حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے وعدہ کی انتہائی سچائی اس وقت ظاہر ہوئی جب اپنے باپ ابراہیم سے کہا تھا۔ ( يٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُــؤْمَرُ ۡ سَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ ) 37 ۔ الصافات :102) اور اسی طرح کر کے دکھایا۔
Ayah 19:558 کیونکہ گھر والے قریب ہونے کی وجہ سے ہدایت کے اول مستحق ہیں، ان سے آگے کو سلسلہ چلتا ہے۔ اسی لیے دوسری جگہ فرمایا (وَاْمُرْ اَهْلَكَ بالصَّلٰوةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا) 20 ۔ طہ :132) اور (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا) 66 ۔ التحریم :6) خود نبی کریم ﷺ کو بھی یہ ہی ارشاد ہوا (وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ ) 26 ۔ الشعرآء :214) بعض کہتے ہیں کہ یہاں " اہل " سے ان کی ساری قوم مراد ہے۔ چناچہ عبد اللہ بن مسعود ؓ کے مصحف میں " اَہْلَہ،" کی جگہ " قَوْمَہ،" تھا۔ واللہ اعلم۔
9 یعنی دوسروں کو ہدایت کرنا اور خود اپنے اقوال و افعال میں پسندیدہ مستقیم الحال اور مرضی الخصال تھا۔
Ayah 19:5610 راجح یہ ہے کہ ادریس (علیہ السلام) حضرت آدم اور نوح (علیہما السلام) کے درمیانی زمانہ میں گزرے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دنیا میں نجوم و حساب کا علم، قلم سے لکھنا، کپڑا سینا، ناپ تول کے آلات اور اسلحہ کا بنانا اول ان سے چلا۔ واللہ اعلم۔ شب معراج میں نبی کریم ﷺ کی چوتھے آسمان پر ان سے ملاقات ہوئی۔
Ayah 19:5711 یعنی قرب و عرفان کے بہت بلند مقام اور اونچی جگہ پر پہنچا۔ بعض کہتے ہیں کہ حضرت مسیح کی طرح وہ بھی زندہ آسمان پر اٹھائے گئے اور اب تک زندہ ہیں۔ بعض کا خیال ہے کہ آسمان پر لے جا کر روح قبض کی گئی۔ ان کے متعلق بہت سی اسرائیلیات مفسرین نے نقل کی ہیں۔ ابن کثیر نے ان پر تنقید کی ہے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 19:5812 یعنی جن انبیاء کا ابتدائی سورت سے یہاں تک ذکر ہوا۔ اسی قسم کے لوگوں پر حق تعالیٰ نے اپنے انعامات کی بارش کی ہے۔ یہ سب آدم کی اولاد ہیں اور ادریس (علیہ السلام) کے سوا باقی سب ان کی اولاد بھی ہیں جنہیں نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ہم نے کشتی پر سوار کیا تھا۔ اور بعض ابراہیم (علیہ السلام) کی ذریت میں ہیں۔ مثلاً اسحق، یعقوب، اسماعیل (علیہم السلام) اور بعض اسرائیل (یعقوب) (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں۔ مثلاً موسیٰ ، ہارون، زکریا، یحییٰ ، عیسیٰ علیہم السلام۔
13 یعنی طریق حق کی طرف ہدایت کی اور منصب نبوت و رسالت کے لیے پسند کرلیا۔
14 یعنی باوجود اس قدر علو مقام اور معراج کمال پر پہنچنے کے شان عبودیت و بندگی میں کامل ہیں۔ اللہ کا کلام سن کر اور اس کے مضامین سے متأثر ہو کر نہایت عاجزی اور خشوع کے ساتھ سجدہ میں گرپڑتے ہیں اور اس کو یاد کر کے روتے ہیں۔ اسی لیے علماء کا اجماع ہے کہ اس آیت پر سجدہ کرنا چاہیے۔ تاکہ ان مقربین کے طرز عمل کو یاد کر کے ایک طرح کی مشابہت ان سے حاصل ہوجائے۔ روایات میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے سورة مریم پڑھ کر سجدہ کیا اور فرمایا " ہذا السجود فاین البکی " (یہ تو سجدہ ہوا، آگے بکاء کہاں ہے) بعض مفسرین نے یہاں " آیات الرحمن " سے خاص آیات سجود اور " سجدًا " سے سجود تلاوت مراد لیا ہے۔ مگر ظاہر وہ ہی ہے جو تقریر ہم پہلے کرچکے ہیں۔ حدیث میں ہے کہ قرآن کی تلاوت کرو اور روؤ، اگر رونا نہ آئے تو (کم ازکم) رونے کی صورت بنا لو۔
Ayah 19:591 وہ تو اگلوں کا حال تھا یہ پچھلوں کا ہے کہ دنیا کے مزوں اور نفسانی خواہشات میں پڑھ کر خدا تعالیٰ کی عبادت سے غافل ہوگئے۔ نماز جو اہم العبادات ہے اسے ضائع کردیا۔ بعض تو فرضیت ہی کے منکر ہوگئے۔ بعض نے فرض جانا مگر پڑھی نہیں۔ بعض نے پڑھی تو جماعت اور وقت وغیرہ شروط و حقوق کی رعایت نہ کی ان میں سے ہر ایک درجہ بدرجہ اپنی گمراہی کو دیکھ لے گا کہ کیسے خسارہ اور نقصان کا سبب بنتی ہے اور کس طرح کی بدترین سزا میں پھنساتی ہے۔ حتی کہ ان میں سے بعض کو جہنم کی اس بدترین وادی میں دھکیلا جائے گا جس کا نام ہی " غیّ " ہے۔
Ayah 19:602 یعنی توبہ کا دروازہ ایسے مجرموں کے لیے بھی بند نہیں جو گناہ گار سچے دل سے توبہ کرکے ایمان و عمل صالح کا راستہ اختیار کرلے اور اپنا چال چلن درست رکھے بہشت کے دروازے اس کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔ توبہ کے بعد جو نیک اعمال کرے گا سابق جرائم کی بنا پر اس کے اجر میں کچھ کمی نہیں کی جائے گی نہ کسی قسم کا حق ضائع ہوگا۔ حدیث میں ہے۔ " اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنبِ کَمَن لَّا ذَنبَ لَہ،" (گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے گویا اس نے گناہ کیا ہی نہ تھا) اللّٰهُمَّ تُبْ عَلَيْنَا ۚ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّاب الرَّحِيْمُ
Ayah 19:613 جب یہ بندے اَن دیکھی چیزوں پر پیغمبروں کے فرمانے سے ایمان لائے، بن دیکھے خدا کی عبادت کی، تو اللّٰہ نے ان سے جنت کی اَن دیکھی نعمتوں کا وعدہ فرما لیا۔ جو ضرور بالضرور پورا ہو کر رہے گا۔ کیونکہ خدا کے وعدے بالکل حتمی اور اٹل ہوتے ہیں۔
Ayah 19:624 یعنی جنت میں لغو و بیکار اور بیہودہ شورو شغب نہ ہوگا۔ ہاں فرشتوں اور مومنین کی طرف سے " سَلَامٌ عَلَیْکَ " کی آوازیں بلند ہوں گی۔
5 صبح و شام سے جنت کی صبح و شام مراد ہے۔ وہاں دنیا کی طرح طلوع و غروب نہ ہوگا جس سے رات دن اور صبح شام مقرر کی جائے۔ بلکہ خاص قسم کی انوار کا توارد و تنوع ہوگا۔ جس کے ذریعہ سے صبح و شام کی تحدید و تعیین کی جائے گی۔ حسب عادت و معمول صبح و شام جنت کی روزی پہنچے گی۔ ایک منٹ کے لیے بھوک کی تکلیف نہیں ستائے گی۔ وہ روزی کیا ہوگی ؟ اس کی کیفیت خدا ہی جانے۔ حدیث میں ہے۔ " یُسَبِّحُوْنَ اللّٰہَ بُکْرَۃً وَّعَشِیّاً " (اجنبی صبح و شام حق تعالیٰ کی تسبیح کہیں گے) گویا جسمانی غذا کے ساتھ روحانی غذا بھی ملتی رہے گی۔
Ayah 19:636 یعنی میراث آدم کی کہ اول ان کو بہشت ملی ہے۔ اور شاید لفظ میراث اس لیے اختیار فرمایا کہ اقسام تملیک میں یہ سب سے زیادہ اتم و احکم قسم ہے جس میں نہ فسخ کا احتمال نہ لوٹائے جانے کا نہ ابطال و اقالہ کا۔
Ayah 19:647 ایک مرتبہ جبرائیل (علیہ السلام) کئی روز تک نہ آئے۔ آپ منقبض تھے۔ کفار نے کہنا شروع کیا کہ محمد ﷺ کو اس کے رب نے خفا ہو کر چھوڑ دیا ہے۔ اس طعن سے آپ اور زیادہ دل گیر ہوئے۔ آخر جبرائیل (علیہ السلام) تشریف لائے۔ آپ نے اتنے روز تک نہ آنے کا سبب پوچھا۔ اور ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا " مَایَمْنَعُکَ اَنْ تَزُوْرَنَا اَکْثَرَ مِمَّا تَزُوْرُنَا " (جتنا تم آتے ہو اس سے زیادہ کیوں نہیں آتے ؟ ) اللہ تعالیٰ نے جبرائیل کو سکھلایا کہ جواب میں یوں کہو۔ (وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ ) 19 ۔ مریم :64) یہ کلام ہوا اللہ کا جبرائیل کی طرف سے۔ جیسا " اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ " میں ہم کو سکھلایا ہے۔ حاصل جواب یہ ہے کہ ہم خالص عبد مامور ہیں۔ بدون حکم الٰہی ایک پر نہیں ہلا سکتے۔ ہمارا چڑھنا اترنا سب اس کے حکم و اذن کے تابع ہے۔ وہ جس وقت اپنی حکمت کاملہ سے مناسب جانے ہم کو نیچے اترنے کا حکم دے۔ کیونکہ ہر زمانہ (ماضی، مستقبل، حال) اور ہر مکان (آسمان زمین اور ان کے درمیان) کا علم اسی کو ہے اور وہ ہی ہر چیز کا مالک و قابض ہے۔ وہ ہی جانتا ہے کہ فرشتوں کو پیغمبر کے پاس کس وقت بھیجنا چاہیے۔ مقرب ترین فرشتہ اور معظم ترین پیغمبر کو بھی یہ اختیار نہیں کہ جب چاہے کہیں چلا جائے یا کسی کو اپنے پاس بلالے خدا کا ہر کام برمحل اور بروقت ہے۔ بھول چوک یا نسیان و غفلت کی اس کی بارگاہ میں رسائی نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جبرائیل کا جلد یا بدیر آنا بھی اس کی حکمت و مصلحت کے تابع ہے۔ (تنبیہ اول) " ہمارے آگے پیچھے " کہا آسمان و زمین کو۔ اترتے ہوئے زمین آگے، آسمان پیچھے، چڑھتے ہوئے وہ پیچھے یہ آگے۔ اور اگر " آگے پیچھے " سے تقدم و تاخر زمانی مراد ہو تو زمانہ مستقبل آگے آنے والا اور زمانہ ماضی پیچھے گزر چکا ہے اور زمانہ حال دونوں کے بیچ میں واقع ہے۔ (تنبیہ دوم) پہلے فرمایا تھا کہ جنت کے وارث اتقیاء (خدا سے ڈرنے والے پرہیزگار) ہیں۔ اس آیت میں بتلا دیا کہ ڈرنے کے لائق وہ ہی ذات ہوسکتی ہے جس کے قبضہ میں تمام زمان و مکان ہیں۔ اور جس کے حکم و اجازت کے بدون بڑے سے بڑا فرشتہ بھی پر نہیں ہلا سکتا۔ انسان کو چاہیے اگر وہ جنت کی میراث لینا چاہتا ہے کہ فرشتوں کی طرح حکم الٰہی کا مطیع و منقاد بن جائے اور ادھر بھی اشارہ ہوگیا کہ جو خدا اپنے مخلص بندوں کو یہاں نہیں بھولتا، وہاں بھی نہیں بھولے گا۔ ضرور جنت میں پہنچا کر چھوڑے گا۔ ہاں ہر چیز کا ایک وقت ہے جنت میں ہر ایک کا نزول بھی اپنے اپنے وقت پر ہوگا۔ اور جیسے یہاں پیغمبر کے پاس فرشتے حکم الٰہی کے موافق وقت معین پر آتے ہیں۔ جنت میں جنتیوں کی غذائے روحانی و جسمانی بھی صبح و شام اوقات مقررہ پر آئے گی۔
Ayah 19:658 یعنی کسی کے کہنے سننے کی پروا مت کر۔ اپنے دل کو خدا کی بندگی پر جمائے رکھ جو سارے جہان کا رب ہے اور سب سے نرالی صفات رکھتا ہے۔
9 اللہ کے نام اس کی صفات ہیں۔ یعنی کوئی ہے اس کی صفت کا ؟ جس میں اس جیسی صفات موجود ہوں ؟ جب کوئی نہیں تو بندگی کے لائق اور کون ہوسکتا ہے ؟
Ayah 19:6610 گذشتہ رکوع میں نیکوں اور بدوں کا انجام فرمایا تھا جو مرنے کے بعد ہوگا۔ جو لوگ مر کر زندہ ہونے کو محال یا مستبعد سمجھتے ہیں یہاں ان کے شبہات کا جواب دیا جاتا ہے۔ یعنی آدمی انکار و تعجب کی راہ سے کہتا ہے کہ مرگل کر جب ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوگئیں اور مٹی میں مل کر مٹی بن گئے۔ کیا اس کے بعد پھر ہم قبروں سے زندہ کر کے نکالے جائیں گے۔ اور پردہ عدم سے نکل کر پھر منصہ وجود پر جلوہ گر ہوں گے۔
Ayah 19:6711 یعنی آدمی ہو کر اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھتا کہ چند روز پہلے وہ کوئی چیز نہ تھا۔ حق تعالیٰ نے نابود سے بود کیا۔ کیا وہ ذات جو لاشئی کو شئی اور معدوم محض کو موجود کر دے، اس پر قادر نہیں کہ ایک چیز کو فنا کر کے دوبارہ پیدا کرسکے۔ آدمی کو اپنی پہلی ہستی کی کیفیت یاد نہیں رہی جو دوسری ہستی کا مذاق اڑاتا ہے (وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ ) 30 ۔ الروم :27)
Ayah 19:6812 یعنی یہ منکرین ان شیاطین کی معیت میں قیامت کے دن خدا کے سامنے حاضر کیے جائیں گے جو اغواء کر کے انھیں گمراہ کرتے تھے، ہر مجرم کا شیطان اس کے ساتھ پکڑا ہوا آئے گا۔
1 یعنی مارے دہشت کے کھڑے سے گرپڑیں گے اور چین سے بیٹھ بھی نہ سکیں گے۔ یہ ہی ہوا گھٹنوں پر گرنا۔
Ayahs 19:69–702 یعنی منکرین کے ہر فرقہ میں جو زیادہ بدمعاش، سرکش اور اکڑ باز تھے، انھیں عام مجرموں سے علیحدہ کرلیا جائے گا۔ پھر ان میں بھی جو بہت زیادہ سزا کے لائق اور دوزخ کا حقدار ہوگا وہ خدا کے علم میں ہے اس کو دوسرے مجرموں سے پہلے آگ میں جھونکا جائے گا۔
Ayahs 19:71–723 یعنی ہر نیک و بد، مجرم و برَی، اور مومن و کافر کے لیے حق تعالیٰ قسم کھاچکا اور فیصلہ کرچکا ہے کہ ضرور بالضرور دوزخ پر اس کا گزر ہوگا، کیونکہ جنت میں جانے کا راستہ ہی دوزخ کو گیا ہے جسے عام محاورات میں " پل صراط " کہتے ہیں، اس پر لامحالہ سب کا گزر ہوگا خدا سے ڈرنے والے مومنین اپنے اپنے درجہ کے موافق وہاں سے صحیح سلامت گزر جائیں گے اور گنہگار الجھ کر دوزخ میں گرپڑیں گے۔ (العیاذ باللہ) پھر کچھ مدت کے بعد اپنے اپنے عمل کے موافق، نیز انبیاء ملائکہ اور صالحین کی شفاعت سے، اور آخر میں براہ راست ارحم الراحمین کی مہربانی سے وہ سب گنہگار جنہوں نے سچے اعتقاد کے ساتھ کلمہ پڑھا تھا۔ دوزخ سے نکالے جائیں گے، صرف کافر باقی رہ جائیں گے اور دوزخ کی آگ میں ہر شخص کو داخل کیا جائے گا مگر صالحین پر وہ آگ بردو سلام بن جائے گی، وہ بےکھٹکے اس میں سے گزر جائیں گے۔ واللہ اعلم۔ امام فخر الدین رازی نے اپنی تفسیر میں اس دخول کی بہت سی حکمتیں بیان کی ہیں۔ فلیراجع۔
Ayah 19:734 یعنی کفار قرآن کی آیتیں سن کر جن میں ان کا برا انجام بتلایا گیا ہے ہنستے ہیں اور بطور استہزاء و تفاخر غریب مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ تمہارے زعم کے موافق آخرت میں جو کچھ پیش آئے گا دونوں فریق کی موجود حالت اور دنیاوی پوزیشن پر منطبق نہیں ہوتا۔ کیا آج ہمارے مکانات، فرنیچر، اور بودوباش کے سامان تم سے بہتر نہیں اور ہماری مجلس (یا سوسائٹی) تمہاری سوسائٹی سے معزز نہیں یقینا ہم جو تمہارے نزدیک باطل پر ہیں، تم اہل حق سے زیادہ خوشحال اور جتھے والے ہیں۔ جو لوگ آج ہم سے خوف کھا کر کوہ صفا کی گھاٹی میں نظر بند ہوں، کیا گمان کیا جاسکتا ہے کہ کل وہ چھلانگ مار کر جنت میں جا پہنچیں گے ؟ اور ہم دوزخ میں پڑے جلتے رہیں گے ؟
Ayah 19:745 یہ ان کی بات کا جواب دیا کہ پہلے ایسی بہت قومیں گزر چکی ہیں جو دنیا کے سازو سامان اور شان و ونمود میں تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں۔ لیکن جب انہوں نے انبیاء کے مقابلہ میں سرکشی کی اور تکبرو تفاخر کو اپنا شعار بنا لیا، خدا تعالیٰ نے ان کی جڑ کاٹ دی اور دنیا کے نقشہ میں ان کا نشان بھی باقی نہ رہا۔ پس آدمی کو چاہیے کہ دنیا کی فانی ٹیپ ٹاپ اور عارضی بہار سے دھوکہ نہ کھائے۔ عموماً متکبر دولت مند ہی حق کو ٹھکرا کر نہنگ ہلاکت کا لقمہ بنا کرتے ہیں۔ مال اولاد یا دنیاوی خوشحالی مقبولیت اور حسن انجام کی دلیل نہیں۔
Ayah 19:756 یعنی جو خود گمراہی میں جا پڑا اسے گمراہی میں جانے دے۔ کیونکہ دنیا جانچنے کی جگہ ہے۔ یہاں ہر ایک کو عمل کی فی الجملہ آزادی دی گئی ہے، خدا تعالیٰ کی عادت اور حکمت کا اقتضاء یہ ہے کہ جو اپنے کسب و ارادہ سے کوئی راستہ اختیار کرلے اس کو نیک و بد سے خبردار کردینے کے بعد اسی راستہ پر چلنے کے لیے ایک حد تک آزاد چھوڑ دے۔ اسی لیے جو بدی کی راہ چل پڑا اس کے حق میں دنیا کی مرفّہ الحالی اور درازئی عمر وغیرہ تباہی کا پیش خیمہ سمجھنا چاہیے۔ نیک و بد یہاں رلے ملے ہیں آخرت میں پوری طرح جدا ہوں گے۔ اصلی بھلائی برائی وہاں ملے گی۔
7 یعنی کفار مسلمانوں کو ذلیل و کمزور اور اپنے کو معزز و طاقتور سمجھتے ہیں۔ اپنے عالیشان محلات اور بڑی بڑی فوجوں اور جتھوں پر اتراتے ہیں۔ کیونکہ خدا نے ابھی ان کی باگ ڈھیلی چھوڑ رکھی ہے جس وقت گلا دبایا جائے گا خواہ دنیاوی عذاب کی صورت میں یا قیامت کے بعد، تب پتہ لگے گا کہ کس کا مکان برا ہے اور کس کی جمعیت کمزور ہے۔ اس موقع پر تمہارے سامان اور لشکر کچھ کام نہ آئیں گے۔
Ayah 19:768 یعنی جیسے گمراہوں کو گمراہی میں لنبا چھوڑ دیتا ہے، ان کے بالمقابل جو سوجھ بوجھ کی راہ ہدایت اختیار کرلیں ان کی سوجھ بوجھ اور فہم و بصیرت کو اور زیادہ تیز کردیتا ہے جس سے وہ حق تعالیٰ کی خوشنودی کے راستوں پر بگ ٹُٹ اڑے چلے جاتے ہیں۔
9 یعنی دنیا کی رونق رب کے ہاں کام کی نہیں۔ نیکیاں سب رہیں گی اور دنیا نہ رہے گی۔ آخرت میں ہر نیکی کا بہترین بدلہ اور بہترین انجام ملے گا۔
Ayah 19:7710 یعنی کفر کے باوجود آپ نے یہ جرأت دیکھی، ایک کافر مالدار ایک مسلمان لوہار کو کہنے لگا تو مسلمانی سے منکر ہو تو تیری مزدوری دوں۔ اس نے کہا اگر تو مرے اور پھر جئے تو بھی میں منکر نہ ہوں۔ اس نے کہا اگر مر کر پھر جیوں گا تو یہ ہی مال و اولاد بھی ہوگا، تجھ کو مزدوری وہاں دے دوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یعنی وہاں دولت ملتی ہے ایمان سے، کافر چاہے کہ یہاں کی دولت وہاں ملے، یا کفر کے باوجود اخروی عیش و تنعم کے مزے اڑائے یہ کبھی نہیں ہوسکتا۔
Ayah 19:781 یعنی ایسے یقین و وثوق سے جو دعویٰ کر رہا ہے کیا غیب کی خبر پا لی ہے ؟ یا خدا سے کوئی وعدہ لے چکا ہے ؟ ظاہر ہے کہ دونوں میں سے ایک بات بھی نہیں۔ ایک گندے کافر کی کیا بساط کہ وہ اس طرح کی غیبیات تک رسائی حاصل کرلے ؟ رہا خدا کا وعدہ، وہ ان لوگوں سے ہوسکتا ہے جنہوں نے اپنا عہد پورا کر کے " لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ " اور عمل صالح کی امانت خدا کے پاس رکھ دی ہے۔
Ayah 19:792 یعنی یہ قول بھی شامل مسل کرلیا جائے گا۔ اور مال و اولاد کی جگہ اس کی سزا بڑھا دی جائے گی۔
Ayah 19:803 " جو بتلا رہا ہے " یعنی مال اور اولاد۔ چناچہ اس کافر کے دونوں بیٹے مسلمان ہوئے (کذافی الموضح) یا یہ مطلب ہے کہ یہ چیزیں اس سے الگ کرلی جائیں گی۔ قیامت میں اکیلا حاضر ہوگا نہ مال کام آئے گا نہ اولاد ساتھ دے گی۔