13. Surah Ar-Ra'd

الرعدThe Thunder · 43 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 13:41

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ وَ اللّٰهُ یَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ١ؕ وَ هُوَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 13:41 in the Quran reader

کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ہم چلے آتے ہیں زمین کو گھٹاتے اس کے کناروں سے6 اور اللہ حکم کرتا ہے کوئی نہیں کہ پیچھے ڈالے اس کا حکم7 اور وہ جلد لیتا ہے حساب8

6 یعنی سرزمین مکہ کے آس پاس اسلام کا اثر پھیلتا جاتا اور کفر کی عملداری گھٹتی جاتی ہے۔ بڑے بڑے قبائل اور اشخاص کے قلوب پر اسلام کا سکہ بیٹھ رہا ہے۔ اوس و خزرج کے دل حق و صداقت کے سامنے مفتوح ہو رہے ہیں۔ اس طرح ہم آہستہ آہستہ کفر کی حکومت کو دباتے چلے آرہے ہیں۔ کیا یہ روشن آثار ان مکذبین کو نہیں بتلاتے کہ خدا کا فیصلہ ان کے مستقبل کے متعلق کیا ہوچکا ہے۔ ایک عقل مند سمجھ سکتا ہے کہ اسلام آج جس رفتار سے بڑھ رہا ہے وہ کسی طاقت سے رکنے والا نہیں۔ لہذا انجام بینی اسی میں ہے کہ آنے والی چیز کو آئی ہوئی سمجھیں۔ 7 یعنی اس کا تکوینی حکم اور فیصلہ اٹل ہے۔ جب وقت آجائے تو کس کی طاقت ہے کہ ایک منٹ کے لیے ملتوی کر کے پیچھے ڈال دے۔ 8 یعنی جہاں حساب کا وقت آن پہنچا پھر دیر نہ لگے گی۔ یا جو چیز یقینا آنے والی ہے اسے جلد ہی سمجھو۔
Ayah 13:42

وَ قَدْ مَكَرَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَلِلّٰهِ الْمَكْرُ جَمِیْعًا١ؕ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُ كُلُّ نَفْسٍ١ؕ وَ سَیَعْلَمُ الْكُفّٰرُ لِمَنْ عُقْبَى الدَّارِ Open ayah 13:42 in the Quran reader

اور فریب کرچکے ہیں جو ان سے پہلے تھے سو اللہ کے ہاتھ میں ہے سب فریب9 جانتا ہے جو کچھ کماتا ہے ہر ایک جی10 اور اب معلوم کیے لیتے ہیں کافر کہ کس کا ہوتا ہے پچھلا گھر11

9 وہ نہ چاہے تو سب فریب رکھے رہ جائیں، یا یہ کہ خدا ان کے فریب کا توڑ کرتا ہے مکر اصل میں خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں اگر برائی کے لیے کی جائے بری ہے اور برائی کو دور کرنے کے لیے ہو تو اچھی ہے۔ یعنی انہوں نے چھپ چھپ کر ناپاک تدبیریں کیں لیکن خدا کی تدبیر سب پر غالب رہی، اس نے وہ تدبیریں ان ہی پر الٹ دیں " ( وَلَا يَحِيْقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ اِلَّا بِاَهْلِهٖ ) 35 ۔ فاطر :43) 10 یعنی جس سے کوئی حرکت و سکون اور کھلا چھپا کام پوشیدہ نہیں اس کے آگے کسی کا مکر کیا چل سکتا ہے وہ ان مکاروں کو خوب مزا چکھائے گا۔ 11 یعنی جسے اگلوں نے اپنے مکر کا انجام دیکھ لیا، موجودہ کفار کو بھی قدر عافیت معلوم ہوا چاہتی ہے۔
Ayah 13:43

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا١ؕ قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًۢا بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ١ۙ وَ مَنْ عِنْدَهٗ عِلْمُ الْكِتٰبِ۠ Open ayah 13:43 in the Quran reader

کہتے ہیں کافر تو بھیجا ہوا نہیں آیا کہہ دے اللہ کافی ہے گواہ میرے اور تمہارے بیج میں1 اور جس کو خبر ہے کتاب کی2

1 یعنی تمہارے جھٹلانے سے کچھ نہیں ہوتا جبکہ خداوند قدوس میری صداقت کے بڑے بڑے نشان دکھلا رہا ہے قرآن جو اس کا کلام ہے جیسے اپنے کلام الٰہی ہونے کی شہادت دیتا ہے، اسی طرح میرے پیغمبر برحق ہونے کا گواہ ہے۔ اگر آنکھیں کھول کر دیکھو تو سخت ناموافق حالات میں سچ کا اس شان سے پھیلتے جانا اور دشمنوں تک کے دلوں میں گھر کرنا اور جھوٹ کا مغلوب ومقہور ہو کر سمٹتے رہنا خدا کی طرف سے کھلی ہوئی گواہی میری حقانیت کی ہے۔ 2 یعنی جن کو قرآن کا علم اور اس کے حقائق کی خبر ہوگئی ہے وہ بھی دل سے گواہ ہیں کہ میں نے کچھ جھوٹ نہیں بنایا۔ نیز جنہیں پہلی کتب سماویہ اور ان کی پیشین گوئیوں کی اطلاع ہے ان کے دل گواہی دیتے ہیں کہ محمد ﷺ ٹھیک ان پیشین گوئیوں کے مطابق تشریف لائے ہیں جو سینکڑوں برس پیشتر موسیٰ اور مسیح کرچکے تھے۔ " عَلَیْہِمَا وَعَلَیٰ نَبِیِّنَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ ۔ " اے خدا ! تو گواہ رہ کہ جس چیز کی گواہی تو نے اور تیری کتاب والوں نے دی، یہ عاجز خاطی بھی صدق دل سے اس کی گواہی دیتا ہے۔ تَمَّ سُوْرَۃُ الرَّعْدِ بِعَوْنِ اللّٰہِ وَحُسْنِ تَوْفِیْقِہٖ ۔