11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 11:81

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

مہمان بولے اے لوط ہم بھیجے ہوئے ہیں تیرے رب کے ہرگز نہ پہنچ سکیں گے تجھ تک7 سو لے نکل اپنے لوگوں کو کچھ رات سے اور مڑ کر نہ دیکھے تم میں کوئی مگر عورت تیری کہ اس کو پہنچ کر رہے گا جو ان کو پہنچے گا8 ان کے وعدہ کا وقت ہے صبح کیا صبح نہیں ہے نزدیک9

7 جب لوط (علیہ السلام) کے اضطراب و قلق کی حد ہوگئی، تب مہمانوں نے کہا کہ حضرت آپ کس فکر میں ہیں مطلق پریشان نہ ہوں، ہم خدا کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو ان کو تباہ و ہلاک کرنے کے لیے آئے ہیں یہ خبیث ہمارا تو کیا بگاڑ سکتے آپ تک بھی نہیں پہنچ سکیں گے۔ تفاسیر میں ہے کہ وہ شریر لوگ دروازہ توڑ کر یا دیوار پھاند کر اندر گھسے جاتے تھے، تب جبرائیل (علیہ السلام) نے خدا سے اجازت لے کر لوط (علیہ السلام) کو علیحد بٹھا دیا اور ایک ذرا بازو ان ملعونوں کی طرف ہلایا۔ جو سب کے سب نپٹ اندھے ہوگئے اور کہنے لگے کہ بھاگو ! لوط کے مہمان تو بڑے جادوگر معلوم ہوتے ہیں۔ 8 یعنی صبح کو عذاب آنے والا ہے۔ تھوڑی رات رہے آپ اپنے متعلقین کو لے کر یہاں سے تشریف لے جائیے اور اپنے ہمراہیوں کو ہدایت کر دیجئے کہ جلدی کریں اور کوئی پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھے۔ ہاں تیری عورت کے وہ ساتھ نہ جائے گی یا پیچھے پھر کر دیکھے گی اسی طرح اس عذاب کی لپیٹ میں آجائے گی جو سب قوم کو پہنچنے والا ہے۔ کہتے ہیں اسی عورت نے قوم کو مہمانوں کی آمد سے مطلع کیا تھا۔ 9 یعنی خوش ہوجائیے اب ان ظالموں کے ہلاک ہونے میں کچھ دیر نہیں ہے صبح ہوتے ہی سب کا صفایا ہوجائے گا۔
Ayah 11:82

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

پھر جب پہنچا حکم ہمارا کر ڈالی ہم نے وہ بستی اوپر نیچے اور برسائے ہم نے اس پر پتھر کنکر کے1 تہہ بہ تہہ2

1 جبرائیل (علیہ السلام) نے ان بستیوں کو اٹھا کر آسمان کے قریب سے نیچے پٹک دیا۔ اس طرح سب بستیاں تہ وبالا ہوگئیں۔ پھر ان کی نکایت اور ذلت و رسوائی کی پوری تکمیل کے لیے اوپر سے جھانوے اور پتھر برسائے گئے۔ شہر کی آبادی سے الگ جو افراد اس قوم کے جس جگہ تھے وہیں پتھروں سے ہلاک کیے گئے (العیاذ باللہ) (تنبیہ) جو سزا اس قوم کو اوپر نیچے کرنے کی ملی ان کی شرمناک حرکت سے ظاہری مناسبت بھی رکھتی ہے۔ 2 " منضود " کے معنی مترجم محقق ' نے " تہ بہ تہ " کئے ہیں۔ بعض نے یہ معنی لیے کہ پتھر مسلسل یکے بعد دیگرے برس رہے تھے۔
Ayah 11:83

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

نشان کیے ہوئے تیرے رب کے پاس3 اور نہیں ہے وہ بستی ان ظالموں سے کچھ دور4

3 یعنی کوئی خاص علامت ان پر تھی جو عام پتھروں سے ممتاز کر کے ظاہر کرتی تھی کہ یہ عذاب الٰہی کے پتھر ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ ہر پتھر پر اس کا نام درج تھا جس کی ہلاکت کا وہ سبب بنا۔ واللہ اعلم۔ 11 یعنی باعتبار زمانہ کے بھی قریب ہے کیونکہ " عاد " و " ثمود " اور قوم نوح وغیرہ کے بعد یہ واقعہ ہوا۔ اور باعتبار مکان کے بھی کیونکہ ان کی بستیاں مدینہ اور شام کے درمیان میں تھیں۔ گزرنے والے قافلے وہاں کھنڈرات مشاہدہ کرتے تھے۔ یا اس جملہ (وَمَا ھِيَ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ بِبَعِيْدٍ ) 11 ۔ ہود :83) کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کا عذاب ایسے ظالموں سے اب بھی کچھ دور نہیں۔ ہمیشہ خدا کے غضب سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ (تنبیہ) اس قصہ کے بعض اجزاء " اعراف " میں گزر چکے ہیں وہاں ملاحظہ کیے جائیں۔
Ayah 11:84

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ Open ayah 11:84 in the Quran reader

اور مدین کی طرف بھیجا ان کے بھائی شعیب کو بولا اے میری قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی نہیں تمہارا معبود اس کے سوا اور نہ گھٹاؤ ناپ اور تول کو5 میں دیکھتا ہوں تم کو آسودہ حال اور ڈرتا ہوں تم پر عذاب سے ایک گھیر لینے والے دن کے6

5 یہ قصہ بھی سورة " اعراف " میں گزر چکا۔ 6 یعنی خدا نے فراغت اور آسودگی عنایت کی تو ڈرتے رہو کہیں نافرمانی سے چھن نہ جائے اور آسائش و خوشحالی سلب ہو کر دنیاوی یا اخروی عذاب مسلط نہ کردیا جائے۔
Ayah 11:85

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 11:85 in the Quran reader

اور اے قوم پورا کرو ناپ اور تول کو انصاف سے7 اور نہ گھٹادو لوگوں کو ان کی چیزیں8 اور مت مچاؤ زمین میں فساد9

7 یعنی اب تک جو ظلم وعدوان کا معیارو قانون تھا، اس کی اصلاح کرو۔ 8 یعنی صرف ناپ تول میں نہیں بلکہ کسی چیز میں بھی لوگوں کے حقوق تلف مت کرو۔ 9 یعنی شرک و کفر سے یا کم ناپنے تولنے سے یا دوسری طرح اتلاف حقوق اور ظلم و ستم کر کے زمین میں فساد مت مچاؤ۔ کہتے ہیں وہ لوگ ڈکیتی ڈالتے تھے اور امانت میں خیانت کرتے تھے۔
Ayah 11:86

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 11:86 in the Quran reader

جو بچ رہے اللہ کا دیا وہ بہتر ہے تم کو اگر ہو تم ایمان والے10 اور میں نہیں ہوں تم پر نگہبان11

10 ایک ایماندار کے لیے اللہ کا دیا ہوا جو ٹھیک ٹھیک حقوق ادا کر کے بچ رہے گو قلیل ہو، اس کثیر سے بہتر ہے جو حرام طریقہ سے حاصل کیا جائے یا جس میں لوگوں کے حقوق مارے جائیں۔ مال حلال میں جو ٹھیک ناپ تول کرلیا دیا جائے فی الحال برکت ہوتی ہے، اور خدا کے یہاں اجر ملتا ہے۔ 11 یعنی میں نے تم کو نصیحت کردی۔ آگے اس کا ذمہ دار نہیں کہ تم سے زبردستی عمل کرا کے چھوڑوں۔
Ayah 11:87

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ Open ayah 11:87 in the Quran reader

بولے اے شعیب کیا تیرے نماز پڑھنے نے تجھ کو یہ سکھایا کہ ہم چھوڑ دیں جن کو پوجتے رہے ہمارے باپ دادے، یا چھوڑ دیں کرنا جو کچھ کہ کرتے ہیں اپنے مالوں میں تو ہی بڑا باوقار ہے نیک چلن12

12 یہ بطور استہزاء و تمسخر کہہ رہے تھے، کہ بس زیادہ بزرگ نہ بنئے۔ کیا ساری قوم میں ایک آپ ہی بڑے عقلمند، باوقار اور نیک چلن رہ گئے ہیں ؟ باقی ہم اور ہمارے بزرگ سب جاہل اور احمق ہی رہے ؟ حضرت شعیب (علیہ السلام) نماز بہت کثرت سے پڑھتے تھے، کہنے لگے کہ شاید آپ کی نماز یہ حکم دیتی ہے کہ ہم سے باپ دادوں کا پرانا دین چھڑوا دیں اور ہمارے اموال میں ہمارا مالکانہ اختیار نہ رہنے دیں۔ بس آپ اپنی نماز پڑھے جائیے، ہمارے مذہبی و دنیاوی معاملات اور ناپ تول کے قصوں میں دخل دینے کی ضرورت نہیں۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " جاہلوں کا دستور ہے کہ نیکوں کے کام آپ نہ کرسکیں تو انھیں کو چڑانے لگیں۔ یہ ہی خصلت ہے کفر کی۔ " بعض مفسرین نے " اِنَّکَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدٌ" کو استہزاء پر نہیں۔ واقعیت پر حمل کیا ہے۔ یعنی تو ایک سمجھ دار، باوقار، اور نیک چلن آدمی ہے۔ پھر ایسی بےموقع باتیں کیوں کرنے لگا۔ جیسے صالح (علیہ السلام) کو کہا تھا (قَدْ كُنْتَ فِيْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ ھٰذَآ اَتَنْهٰىنَآ اَنْ نَّعْبُدَ مَا يَعْبُدُ اٰبَاۗؤُنَا وَاِنَّنَا لَفِيْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَآ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ ) 11 ۔ ہود :62)
Ayah 11:88

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 11:88 in the Quran reader

بولا اے قوم دیکھو تو اگر مجھ کو سمجھ آگئی اپنے رب کی طرف سے اور اس نے روزی دی مجھ کو نیک روزی13 اور میں یہ نہیں چاہتا کہ بعد کو خود کروں وہ کام جو تم سے چھڑاؤں1 میں تو چاہتا ہوں سنوارنا جہاں تک ہو سکے اور بن آنا ہے اللہ کی مدد سے اسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف میرا رجوع ہے2

13 یا تو ظاہری روزی مراد ہے۔ یعنی ناپ تول میں کمی بیشی کیے بدون حلال و طیب طریق سے روزی مرحمت فرمائی یا باطنی روزی یعنی علم و حکمت اور نبوت عطا کی، خلاصہ یہ ہے کہ اگر حق تعالیٰ نے مجھ کو فہم و بصیرت دے کر وہ صاف راستہ دکھلا دیا جو تم کو نظر نہیں آتا اور اس دولت سے مالا مال کیا جس سے تمہیں حصہ نہیں ملا تو کیا اس کا حق یہ ہے کہ میں " معاذ اللہ " تمہاری طرح اندھا بن جاؤں اور خدا کے احکام سے روگردانی کرنے لگوں، یا تمہارے استہزاء و تمسخر سے گھبرا کر نصیحت کرنا اور سمجھانا چھوڑ دوں ؟ ہرگز نہیں۔ 1 یعنی جن بری باتوں سے تم کو روکتا ہوں میری یہ خواہش نہیں کہ تم سے علیحد ہو کر خود ان کا ارتکاب کروں مثلا تمہیں تارک الدنیا بناؤں اور خود دنیا سمیٹ کر گھر میں بھر لوں، نہیں جو نصیحت تم کو کرتا ہوں میں تم سے پہلے اس کا پابند ہوں، تم یہ الزام مجھ پر نہیں رکھ سکتے کہ میری نصیحت کسی خود غرضی اور ہوا پرستی پر محمول ہے۔ 2 میری تمام تر کوشش یہ ہے کہ تمہاری دینی و دنیاوی حالت درست ہوجائے۔ موجودہ ردی حالت سے نکل کر بام ایمان و عرفان پر چڑھنے کی کوشش کرو۔ اس مقصد اصلاح کے سوا دوسرا مقصد نہیں، جسے میں اپنے مقدور و استطاعت کے موافق کسی حال نہیں چھوڑ سکتا، باقی یہ کہ میری بات بن آئے اور اپنی کوشش میں کامیاب ہوجاؤں، یہ سب خداوند قدس کے قبضہ میں ہے۔ اسی کی امداد و توفیق سے سب کام انجام پاسکتے ہیں، میرا بھروسہ اسی پر ہے اور ہر معاملہ میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
Ayah 11:89

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ Open ayah 11:89 in the Quran reader

اور اے قوم نہ کمائیو میری ضد کر کے یہ کہ پڑے تم پر جیسا کچھ کہ پڑچکا قوم نوح پر یا قوم ہود پر یا قوم صالح پر اور قوم لوط تو تم سے کچھ دور ہی نہیں3

3 یعنی میری ضد اور عداوت کے جوش میں ایسی حرکتیں مت کرنا جو تم کو گزشتہ اقوام کی طرح سخت تباہ کن عذاب کا مستحق بنادیں، نوح، ہود اور صالح (علیہم السلام) کی امتوں پر تکذیب و عداوت کی بدولت جو عذاب آئے وہ پوشیدہ نہیں، اور لوط (علیہ السلام) کی قوم کا قصہ تو ان سب کے بعد ماضی قریب میں ہوا ہے اس کی یاد تمہارے حافظہ میں تازہ ہوگی ان نظائر کو فراموش مت کرو۔
Ayah 11:90

وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ Open ayah 11:90 in the Quran reader

اور گناہ بخشواؤ اپنے رب سے اور رجوع کرو اس کی طرف البتہ میرا رب ہے مہربان محبت والاف 4

4 کیسا ہی پرانا اور کٹر مجرم ہو جب صدق دل سے اس کی بارگاہ میں رجوع ہو کر معافی چاہے وہ اپنی مہربانی سے معاف کردیتا ہے۔ بلکہ اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔
Ayah 11:91

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ Open ayah 11:91 in the Quran reader

بولے اے شعیب ہم نہیں سمجھتے بہت باتیں جو تو کہتا ہے5 اور ہم تو دیکھتے ہیں کہ تو ہم میں کمزور ہے6 اور اگر نہ ہوتے تیرے بھائی بند تو تجھ کو ہم سنگسار کر ڈالتے اور ہماری نگاہ میں تیری کچھ عزت نہیں7

5 سمجھتے سب کچھ تھے لیکن عناد اور حق پوشی سے ایسا کہتے تھے کہ تیری بات کچھ نہیں سمجھتے، نہ معلوم کیا مجذوبوں کی بڑہانک رہا ہے (العیاذ باللہ) اور اگر واقعی وہ ایسی سیدھی اور صاف باتیں بےتوجہی یا غباوت کی وجہ سے سمجھتے نہ تھے تو یہ کلام اپنے ظاہر پر محمول ہوگا۔ 6 یعنی ایک کمزور اور بےحقیقت آدمی خواہ مخواہ سارے جہان کو اپنا دشمن بنا رہا ہے۔ اسے چاہیے اپنے حال پر رحم کھائے، بیٹھے بٹھائے اپنے کو موت کے منہ میں ڈالنے سے کیا فائدہ ہے (تنبیہ) بعض سلف نے " ضعیف " کے معنی " ضریرالبصر " (نابینا) کے منقول ہیں۔ شاید کسی خاص وقت میں عارضی طور پر ظاہری بینائی جاتی رہی ہو۔ جیسے یوسف (علیہ السلام) کے فراق میں حضرت یعقوب کا حال ہوا تھا۔ مفسرین نے بعض روایات نقل کی ہیں کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) روتے بہت تھے، حتی کہ نگاہ جاتی رہی۔ حق تعالیٰ نے فرمایا کہ شعیب ! اس قدر کیوں روتا ہے ؟ جنت کے شوق میں یا دوزخ کے ڈر سے ؟ عرض کیا پروردگار ! تیری لقاء کا خیال کر کے روتا ہوں کہ جس وقت آپ کا دیدار ہوگا نہ معلوم میرے ساتھ کیا برتاؤ کریں گے ؟ ارشاد ہوا تجھ کو ہماری لقاء (دیدار) مبارک ہو، اے شعیب ! اسی لیے میں نے اپنے کلیم موسیٰ ابن عمران کو تیری خدمت کے لیے کھڑا کردیا ہے، کہتے ہیں خدا نے ان کی بینائی واپس کردی۔ وَاللّٰہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ بِصِحَّتِہٖ ۔ 7 یعنی تیرے کنبہ کے لوگ جو ہمارے ساتھ ہیں ان کا خیال آتا ہے ورنہ اب تک تجھے سنگسار کر ڈالتے۔
Ayah 11:92

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 11:92 in the Quran reader

بولا اے قوم کیا میرے بھائی بندوں کا دباؤ تم پر زیادہ ہے اللہ سے اور اس کو ڈال رکھا تم نے پیٹھ پیچھے بھلا کر تحقیق میرے رب کے قابو میں ہے جو کچھ کرتے ہو8

8 یعنی افسوس اور تعجب ہے کہ خاندان کی وجہ سے میری رعایت کرتے ہو اس وجہ سے نہیں کرتے کہ میں خدا کا بھیجا ہوا ہوں اور صاف وصریح نشانات اپنی سچائی کے دکھلا رہا ہوں گویا تمہاری نگاہ میں میرے خاندان کی عزت اور اس کا دباؤ خدا وند قدوس سے زیادہ ہے۔ خدا کی عظمت و جلال کو ایسا بھلا دیا کہ کبھی تمہیں تصور بھی نہیں آتا۔ جو قوم خدا تعالیٰ کو بھلا کر (معاذاللہ) پس پشت ڈال دے اسے یاد رکھنا چاہیے۔ کہ اس کے تمامی افعال و اعمال خدا تعالیٰ کے علم وقدرت کے احاطہ میں ہیں۔ تم کوئی کام کرو اور کسی حالت میں ہو، ایک آن کے لیے بھی اس کے قابو سے باہر نہیں۔
Ayah 11:93

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ Open ayah 11:93 in the Quran reader

اور اے میری قوم کام کیے جاؤ اپنی جگہ میں بھی کام کرتا ہوں آگے معلوم کرلو گے کس پر آتا ہے عذاب رسوا کرنے والا اور کون ہے جھوٹا اور تاکتے رہو میں بھی تمہارے ساتھ تاک رہا ہوں9

9 یعنی اچھا، تم اپنی ضد اور ہٹ پر جمے رہو، میں خدا کی توفیق سے راہ ہدایت پر ثابت قدم ہوں عنقریب پتہ چل جائے گا کہ ہم میں سے کس کو خدا کا عذاب فضیحت کرتا ہے اور کون جھوٹا ثابت ہوتا ہے۔ اب ہم اور تم دونوں آسمانی فیصلہ کا انتظار کرتے ہیں
Ayahs 11:94–95

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:94 in the Quran reader

اور جب پہنچا ہمارا حکم بچا دیا ہم نے شعیب کو اور جو ایمان لائے تھے اس کے ساتھ اپنی مہربانی سے اور آپکڑا ان ظالموں کو کڑک نے پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ Open ayah 11:95 in the Quran reader

گویا کبھی وہاں بسے ہی نہ تھے1 سن لو پھٹکار ہے مدین کو جیسے پھٹکار ہوئی تھی ثمود کو2

1 یہاں قوم شعیب کا کڑک (فرشتہ کی چیخ) سے ہلاک ہونا مذکور ہے اور " اعراف " میں " رجفہ " کا لفظ آیا ہے یعنی زلزلہ سے ہلاک ہوئے۔ اور سورة شعراء میں " عَذَابَ یَوْمِ الظُّلَّۃِ " آیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ عذاب کے بادل سائبان کی طرح ان پر محیط ہوگئے۔ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہ تینوں قسم کے عذاب اس قوم کے حق میں جمع کردیئے گئے تھے، پھر ہر سورت میں وہاں کے سیاق کے مناسب عذاب کا ذکر کیا گیا۔ " اعراف " میں تھا کہ ان لوگوں نے شعیب سے کہا کہ ہم تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو اپنی سرزمین سے نکال دیں گے۔ وہاں بتلا دیا کہ جس زمین سے نکالنا چاہتے تھے، اسی کے زلزلہ سے ہلاک ہوئے۔ یہاں ان کے سخت گستاخانہ مقالات کا ذکر تھا، اس لیے بالمقابل آسمانی " صیحہ " (کڑک) کا ذکر فرمایا۔ گویا عذاب الٰہی کی ایک کڑک میں ان کی سب آوازیں گم ہوگئیں۔ سورة شعراء میں ان کا یہ قول نقل کیا ہے۔ (فَاَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًا مِّنَ السَّمَاۗءِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ ) 26 ۔ الشعراء :187) یعنی اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان کا ایک ٹکڑا گرا دے۔ اس کے مقابلہ میں " عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّۃِ " کا تذکرہ فرمایا۔ 2 یعنی دونوں " صیحہ " سے ہلاک ہوئے۔
Ayah 11:96

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 11:96 in the Quran reader

اور البتہ بھیج چکے ہیں ہم موسیٰ کو اپنی نشانیاں اور واضح سند دے کر3

3 نشانیوں سے غالبا معجزات اور وہ نو آیتیں مراد ہیں جن کا ذکر (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ ) 17 ۔ الاسراء :101) میں ہوا ہے۔ ان میں سے معجزہ عصا کو جو نہایت ظاہر و قاہر معجزہ تھا شاید " سُلْطَانٌ مُّبِیْنٌ" (واضح سند) فرمایا " یاسُلْطَانٌ مُّبِیْنٌ" سے وہ روشن دلائل مراد ہوں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے خدا تعالیٰ کے وجود و توحید وغیرہ کے متعلق پیش کیے جن کا ذکر دوسرے مقامات میں آئے گا۔ اور ممکن ہے سُلْطَانٌ مُّبِیْنٌ سے اس کے لغوی معنی (یعنی کھلا ہوا غلبہ) مراد لیے گئے ہوں، کیونکہ فرعونیوں کے مقابلہ پر بار بار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نمایاں غلبہ اور فتح مبین حاصل ہوتی رہی۔
Ayah 11:97

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ Open ayah 11:97 in the Quran reader

فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس پھر وہ چلے حکم پر فرعون کے اور نہیں بات فرعون کی کچھ کام کی4

4 یعنی کھلے کھلے نشان دیکھ کر بھی فرعونیوں نے پیغمبر خدا کی بات نہ مانی، اسی دشمن خدا کے حکم پر چلتے رہے۔ حالانکہ اس کی کوئی بات ٹھکانے کی نہ تھی، جسے مان کر انسان بھلائی حاصل کرسکتا۔
Ayah 11:98

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ Open ayah 11:98 in the Quran reader

آگے ہوگا اپنی قوم کے قیامت کے دن پھر پہنچائے گا ان کو آگ پر اور برا گھاٹ ہے جس پر پہنچے5

5 جس طرح یہاں کفر و تکذیب میں ان کا امام تھا، قیامت کے دن بھی امام رہے گا۔ جو لوگ دنیا میں اس کی اندھی تقلید کر رہے تھے وہ اس کے پیچھے پیچھے آخر منزل (جہنم) تک پہنچ جائیں گے۔ یہ ہی وہ گھاٹ ہے جہاں ٹھنڈے پانی کی جگہ بھسم کردینے والی آگ ملے گی۔
Ayah 11:99

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ Open ayah 11:99 in the Quran reader

اور پیچھے سے ملتی رہی اس جہان میں لعنت اور دن قیامت کے بھی برا انعام ہے جو ان کو ملا6

6 یعنی رہتی دنیا تک لوگ فرعون اور فرعونیوں پر لعنت بھیجتے رہیں گے۔ پھر قیامت میں ملائکۃ اللہ اور اہل موقف کی طرف سے لعنت پڑے گی۔ غرض لعنت کا سلسلہ لگاتار ان کے ساتھ ساتھ چلتا رہے گا۔ گویا یہ انعام ہے جو ان کے کارناموں پر دیا گیا۔
Ayah 11:100

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ Open ayah 11:100 in the Quran reader

یہ تھوڑے سے حالات ہیں بستیوں کے کہ ہم سناتے ہیں تجھ کو بعض ان میں سے اب تک قائم ہیں اور بعض کی جڑ کٹ گئی7

7 یعنی پچھلی قوموں کے قصے جو تم کو سنائے گئے کہ کس طرح انہوں نے پیغمبروں کی تکذیب اور گستاخیاں کیں، پھر کس طرح تباہ ہوئے، ان میں سے بعض کی بستیاں ابھی آباد ہیں جیسے " مصر " جو فرعون کا مقام تھا اور بعض اجڑ گئیں۔ مگر ان کے کچھ کھنڈر باقی ہیں۔ جیسے قوم لوط کی بستیاں، اور بعض کا نشان بھی صفحہ ہستی پر باقی نہ رہا۔
Ayah 11:101

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ Open ayah 11:101 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن ظلم کر گئے وہی اپنی جان پر پھر کچھ کام نہ آئے ان کے ٹھاکر (معبود) جن کو پکارتے تھے سوائے اللہ کے کسی چیز میں جس وقت پہنچا حکم تیرے رب کا8 اور نہیں بڑھایا انکے حق میں سوائے ہلاک کرنے کے9

8 یعنی خدا نے کسی کو بےقصور نہیں پکڑا جس سے ظلم کا وہم ہو سکے، جب وہ جرائم کے ارتکاب میں حد سے آگے نکل گئے اور اس طرح اپنے کو کھلم کھلا سزا کا مستحق ٹھہرا دیا تب خدا کا عذاب آیا۔ پھر دیکھ لو جن معبودوں (دیوتاؤں) کا انھیں بڑا سہارا تھا اور جن سے بڑی بڑی توقعات قائم کر رکھی تھیں وہ ایسی سخت مصیبت کے وقت کچھ بھی کام نہ آئے۔ 9 باطل معبود کام کیا آتے ؟ الٹے ہلاکت کا سبب بنے۔ جب انھیں نفع و ضرر کا مالک سمجھا، امیدیں قائم کیں، چڑھاوے چڑھائے تعظیم اور ڈنڈوت کی، تو یہ روز بد دیکھنا پڑا۔ تکذیب انبیاء وغیرہ کا جو عذاب ہوتا شرک و بت پرستی کا عذب اس پر مزید رہا۔
Ayah 11:102

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ Open ayah 11:102 in the Quran reader

اور ایسی ہی ہے پکڑ تیرے رب کی جب پکڑتا ہے بستیوں کو اور وہ ظلم کرتے ہوتے ہیں بیشک اس کی پکڑ دردناک ہے شدت (زور) کی1

1 یعنی ظالموں کو بڑی حد تک مہلت دی جاتی ہے۔ جب کسی طرح باز نہیں آتے تو پکڑ کر گلا دبا دیا جاتا ہے۔ مجرم چاہے کہ تکلیف کم ہو، یا اس کی پکڑ سے چھوٹ کر بھاگ نکلے، ایں خیال است و محال است و جنوں۔
Ayah 11:103

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ Open ayah 11:103 in the Quran reader

اس بات میں نشانی ہے اس کو جو ڈرتا ہے آخرت کے عذاب سے2 وہ ایک دن ہے جس میں جمع ہوں گے سب لوگ اور وہ دن ہے سب کے پیش ہونے کا3

2 یعنی دنیا جو " دارعمل " ہے، جب اس میں شرک و کفر اور تکذیب انبیاء پر سزائیں ملتی ہیں اور اس قدر سخت ملتی ہیں تو یہ ایک نشان اس بات کے معلوم کرنے کا ہے کہ آخرت میں جو خالص " دار جزاء " ہے کیا کچھ سزا ان جرائم پر ملے گی ؟ اور کیا صورت رستگاری کی ہوگی۔ عقلمند آدمی کے لیے جو اپنے انجام کو سوچ کر ڈرتا رہتا ہے۔ اس چیز میں بڑی عبرت و نصیحت ہے۔ 3 یعنی تمام دنیا کا بیک وقت فیصلہ اسی دن ہوگا جب سارے اولین و آخرین اکٹھے کیے جائیں گے اور کوئی شخص غیر حاضر نہ رہ سکے گا، گویا خدائی عدالت کی سب سے بڑی پیشی کا دن وہ ہی ہوگا۔
Ayah 11:104

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ Open ayah 11:104 in the Quran reader

اور اس کو ہم دیر جو کرتے ہیں سو ایک وعدہ کے لیے جو مقرر ہے4

4 یعنی اللہ کے علم میں جو میعاد مقرر ہے وہ پوری ہوجائے گی تب وہ دن آئے گا، تاخیر سے یہ گمان مت کرو کہ یہ محض فرضی اور وہمی باتیں ہیں۔
Ayah 11:105

یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ Open ayah 11:105 in the Quran reader

جس دن وہ آئے گا بات نہ کرسکے گا کوئی جاندار مگر اس کے حکم سے، سو ان میں بعض بدبخت ہیں اور بعضے نیک بخت،5

5 یعنی کوئی شخص ایسی بات جو منقول و نافع ہو بدون حکم الٰہی کے نہ کرسکے گا اور محشر کے بعض مواقف میں تو مطلقا ایک حرف بھی اذن و اجازت کے بدون منہ سے نہ نکال سکیں گے۔
Ayahs 11:106–108

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ Open ayah 11:106 in the Quran reader

سو جو لوگ بدبخت ہیں وہ تو آگ میں ہیں ان کو وہاں چیخنا ہے اور دھاڑنا

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ Open ayah 11:107 in the Quran reader

ہمیشہ رہیں اس میں جب تک رہے آسمان اور زمین مگر جو چاہے تیرا رب بیشک تیرا رب کر ڈالتا ہے جو چاہے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ Open ayah 11:108 in the Quran reader

اور جو لوگ نیک بخت ہیں سو جنت میں ہیں ہمیشہ رہیں اس میں جب تک رہے اسمان اور زمین مگر جو چاہے تیرا رب بخشش ہے بےانتہا6

6 ان آیات کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ جس قدر مدت آسمان و زمین دنیا میں باقی رہے اتنی مدت تک اشقیاء دوزخ میں اور سعداء جنت میں رہیں گے مگر جو اور زیادہ چاہے تیرا رب، وہ اسی کو معلوم ہے۔ کیونکہ ہم جب طویل سے طویل زمانہ کا تصور کرتے ہیں تو اپنے ماحول کے اعتبار سے بڑی مدت یہ ہی خیال میں آتی ہے۔ اسی لیے " مَادَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ " وغیرہ الفاظ محاورات عرب میں دوام کے مفہوم کو ادا کرنے کے لیے بولے جاتے ہیں۔ باقی دوام و ابدیت کا اصلی مدلول جسے لامحدود زمانہ کہنا چاہیے وہ حق تعالیٰ ہی کے علم غیر متناہی کے ساتھ مختص ہے۔ جس کو " مَاشَاء ربک " سے ادا کیا۔ دوسرے معنی آیت کے یہ ہوسکتے ہیں کہ لفظ (مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ ) 11 ۔ ہود :107) کو کنایہ دوام سے مانا جائے۔ یا آسمان و زمین سے آخرت کا زمین و آسمان مراد لیا جائے۔ جیسے فرمایا (يَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَيْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ ) 14 ۔ ابراہیم :48) مطلب یہ ہوا کہ اشقیاء دوزخ اور سعداء جنت میں اس وقت تک رہیں گے جب تک آخرت کے زمین و آسمان باقی رہیں، یعنی ہمیشہ۔ مگر جو چاہے تیرا رب تو موقوف کر دے، وہاں ہمیشہ نہ رہنے دے۔ کیونکہ جنتیوں اور دوزخیوں کا خلود بھی اسی کی مشیت و اختیار سے ہے۔ لیکن وہ چاہ چکا کہ کفار و مشرکین کا عذاب اور اہل جنت کا ثواب کبھی موقوف نہ ہوگا۔ چناچہ فرما دیا ( وَمَا ھُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنَ النَّار) 2 ۔ البقرۃ :167) اور (يُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنْهَا ۡ وَلَهُمْ عَذَابٌ مُّقِيْمٌ) 5 ۔ المائدہ :37) اور (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ) 4 ۔ النسآء :48) اس پر تمام اہل اسلام کا اجماع رہا ہے اور ہمارے زمانہ کے بعض نام نہاد مفسرین نے جو کچھ اس کے خلاف چیزیں پیش کی ہیں وہ یا روایات ضعیفہ و موضوعہ ہیں یا اقوال غریبہ ُ مأولہ۔ یا بعض آیات و احادیث ہیں جن کا مطلب کوتاہ نظری یا بدفہمی سے غلط سمجھ لیا گیا ہے۔ اگر خدا کی توفیق سے مستقل تفسیر لکھنے کی نوبت آئی، اس میں مفصل کلام کیا جائے گا۔ اختصار کی وجہ سے یہاں گنجائش نہیں، رہا عصاۃ موحدین کا مسئلہ یعنی جو مسلمان گناہوں کی بدولت دوزخ میں ڈالے جائیں گے (العیاذ باللہ) ان کے متعلق احادیث صحیحہ نے ہم کو خدا کی مشیت پر مطلع کردیا ہے کہ ایک دن ضرور ان کو نکال کر جنت میں پہنچائیں گے جہاں سے کسی جنتی کو کبھی نکلنا نہیں۔ شاید اسی لحاظ سے جنتیوں کے ذکر میں (عَطَاۗءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ ) 11 ۔ ہود :108) اور اشقیاء کے ذکر میں (اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيْدُ ) 11 ۔ ہود :107) ارشاد ہوا۔ تاکہ معلوم ہوجائے کہ بعض اشقیاء دوزخ سے نکالے جائیں گے مگر سعید کوئی جنت سے خارج نہ کیا جائے گا۔ (تنبیہ) " اِلاَّمَاشَآءَ رَبُّکَ " سے متنبہ فرما دیا کہ خدا کے ہمیشہ رہنے اور مخلوق کے ہمیشہ رہنے میں فرق ہے، کسی مخلوق کا ہمیشہ رہنا بہمہ وجوہ خدا کی مشیت پر موقوف ہے۔ وہ جب چاہے فنا کرسکتا ہے۔ نیز یہ جتلا دیا کہ جزاء و سزا دینا اس کے اختیار و مشیت کے تابع ہے۔ " آریہ سماج " وغیرہ کے عقیدہ کے موافق وہ اس پر مجبور نہیں۔
Ayah 11:109

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ Open ayah 11:109 in the Quran reader

سو تو نہ رہ دھو کے میں ان چیزوں سے جن کو پوجتے ہیں یہ لوگ کچھ نہیں پوجتے مگر ویسا ہی جیسا کہ پوجتے تھے ان کے باپ دادے اس سے پہلے اور ہم دینے والے ہیں ان کو ان کا حصہ یعنی عذاب سے بلا نقصان7

7 یعنی اتنی مخلوق کا شرک و بت پرستی کے راستہ پر پڑ لینا اور اب تک سزا یاب نہ ہونا، کوئی ایسی چیز نہیں جس سے دھوکہ کھا کر آدمی شبہ میں پڑجائے۔ یہ لوگ اپنے باپ دادوں کی کو رانہ تقلید کر رہے ہیں۔ وہ جھوٹے معبود ان کے کیا کام آئے، جو ان کے کام آئیں گے ؟ یقینا ان سب کو آخرت میں عذاب کا پورا حصہ ملے گا۔ جس میں کوئی کمی نہ ہوگی یا کبھی کم نہ کیا جائے گا گویا لفظ " غَیْرَ مَنْقُوْصٍ "، (عَطَاۗءً غَيْرَ مَجْذُوْذٍ ) 11 ۔ ہود :108) کے مقابل ہوا۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ دنیا میں رزق غیرہ کا جو حصہ مقدر ہے وہ پورا ملے گا۔ پھر شرک کی پوری سزا بھگتیں گے۔
Ayah 11:110

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 11:110 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے دی تھی موسیٰ کو کتاب پھر اس میں پھوٹ پڑگئی اور اگر نہ ہوتا ایک لفظ کہ پہلے فرما چکا تھا تیرا رب تو فیصلہ ہوجاتا ان میں اور ان کو اس میں شبہ ہے کہ مطمئن نہیں ہونے دیتا1

1 موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات دے کر بھیجا تو آپس میں پھوٹ پڑگئی، کسی نے قبول کیا کسی نے نہ کیا۔ جس طرح آج قرآن عظیم کے متعلق یہ ہی اختلاف ہو رہا ہے۔ بیشک خدا کو قدرت تھی کہ یہ اختلاف و تفریق پیدا نہ ہونے دیتا یا پیدا ہو چکنے کے بعد تمام مکذبین کا فورا استیصال کر کے سارے جھگڑے ایک دم میں چکا دیتا۔ مگر اس کی حکمت تکوینی اس کو مقتضی نہ ہوئی۔ ایک بات اس کے یہاں پہلے سے طے شدہ ہے کہ انسان کو ایک خاص حد تک کسب و اختیار کی آزادی دے کر آزمائے کہ وہ کس راستہ پر چلتا ہے، آیا خالق و مخلوق کا ٹھیک ٹھیک حق پہچان کر خدا کی رحمت و کرامت کا مستحق بنتا ہے یا کجروی اور غلط کاری سے فطرت صحیحہ کی راہنمائی کو خیر باد کہہ کر اپنے کو غضب و سخط کا مظہر ٹھہراتا ہے۔ (لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا) 11 ۔ ہود :7) اسی مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے انسان کی ساخت ایسی بنائی کہ وہ نیکی یا بدی کے اختیار کرنے میں بالکل مجبور و مضطر نہ ہو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ دنیا میں خیر و شر اور نیک و بد کی باہمی آوزیش جاری رہے بعدہ ' مرحوم و مغضوب علیحدہ کیے جائیں۔ تاکہ " اِلَّامَنْ رَّحِمَ رَبُّکَ " کے ساتھ (لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِيْنَ ) 7 ۔ الاعراف :18) والی بات بھی پوری ہو۔ غالبا یہ ہی وہ کلمہ (لفظ) ہے جو اگر نہ فرما چکا ہوتا تو سب اختلاف کا ایک دم خاتمہ کردیا جاتا۔ عام لوگ ان حکمتوں کو نہ سمجھ سکنے کی وجہ سے شک میں پڑے ہوئے ہیں کہ آئندہ بھی ان اختلاف کا فیصلہ ہوگا یا نہیں۔
Ayah 11:111

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 11:111 in the Quran reader

اور جتنے لوگ ہیں جب وقت آیا پورا دے گا رب تیرا ان کو ان کے اعمال اس کو سب خبر ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں2

2 یعنی ابھی وقت نہیں آیا کہ ہر ایک کے عمل کا پورا بھگتان کیا جائے۔ لیکن جب وقت آئے گا تو یقینا ذرہ ذرہ کا حساب کردیا جائے گا۔ تاخیر عذاب سے یہ نہ سمجھو کہ اسے تمہارے اعمال کی خبر نہیں۔
Ayah 11:112

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 11:112 in the Quran reader

سو تو سیدھا چلا جا جیسا تجھ کو حکم ہوا اور جس نے توبہ کی تیرے ساتھ اور حد سے نہ بڑھو بیشک وہ دیکھتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو3

3 آپ ان مشرکین کی جھنجھٹ میں نہ پڑیے۔ آپ کو اور ان لوگوں کو جنہوں نے کفر وغیرہ سے توبہ کر کے آپ کی معیت اختیار کرلی اور حق تعالیٰ کی طرف رجوع کیا، احکام الٰہیہ پر نہایت پامردی اور استقلال کے ساتھ ہمیشہ جمے رہنا چاہیے۔ عقائد، اخلاق، عبادات، معاملات، دعوت و تبلیغ وغیرہ، ہر چیز میں افراط وتفریط سے علیحد ہو کر توسط و استقامت کی راہ پر سیدھے چلے جاؤ۔ کسی معاملہ میں افراط یا تفریط کی جانب اختیار کر کے حد سے نہ نکلو، اور یقین رکھو کہ حق تعالیٰ ہر آن تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے۔
Ayah 11:113

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 11:113 in the Quran reader

اور مت جھکو ان کی طرف جو ظالم ہیں پھر تم کو لگے گی آگ اور کوئی نہیں تمہارا اللہ کے سوا مددگار پھر کہیں مدد نہ پاؤ گے4

4 پہلے " لَاتَطْغَوْا " میں حد سے نکلنے کو منع کیا تھا اب بتلاتے ہیں کہ جو لوگ ظالم (حد سے نکلنے والے) ہیں، ان کی طرف تمہارا ذرا سا میلان اور جھکاؤ بھی نہ ہو۔ ان کی موالات، مصاحبت، تعظیم و تکریم، مدح و ثنا، ظاہری تشبہ، اشتراک عمل، ہر بات سے حسب مقدور محترز رہو، مبادا آگ کی لپٹ تم کو نہ لگ جائے۔ پھر نہ خدا کے سوا تم کو کوئی مددگار ملے گا اور نہ خدا کی طرف سے کوئی مدد پہنچے گی۔
Ayah 11:114

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ Open ayah 11:114 in the Quran reader

اور قائم کر نماز کو دونوں طرف دن کے اور کچھ ٹکڑوں میں رات کے5 البتہ نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو یہ یادگاری ہے یاد رکھنے والوں کو6

5 ظالموں کی طرف مت جھکو۔ بلکہ خدائے وحدہ ' لاشریک لہ ' کی طرف جھکو۔ یعنی صبح و شام اور رات کی تاریکی میں خشوع و خضوع سے نمازیں ادا کرو کہ یہ ہی بڑا ذریعہ خدا کی مدد حاصل کرنے کا ہے۔ (تنبیہ) دن کے دونوں طرف یعنی طلوع و غرب سے پہلے فجر اور عصر کی نمازیں مراد ہیں۔ یا ایک طرف فجر اور دوسری طرف مغرب کو رکھا جائے کہ وہ بھی بالکل غروب کے متصل ہوتی ہے۔ اور بعض سلف کے نزدیک اس میں فجر اور ظہر و عصر تینوں نمازیں داخل ہیں۔ گویا دن کے دو حصے کر کے پہلے حصے میں فجر کو اور دوسرے حصہ میں جو نصف النہار سے شروع ہو کر غروب پر ختم ہوتا ہے، دونوں نمازوں (ظہر و عصر) کو شمار کرلیا۔ (زلف اور (وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ ) 11 ۔ ہود :114) سے فقط " عشاء " یا " مغرب و عشاء " دونوں مراد ہیں۔ ابن کثیر نے یہ احتمال بھی لکھا ہے کہ اور " طَرَفَیِ النَّہَارِ " سے فجر اور (وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ ) 11 ۔ ہود :114) سے تہجد مراد ہو۔ کیونکہ ابتدائے اسلام میں یہ ہی تین نمازیں فرض ہوئی تھیں۔ بعدہ ' تہجد کی فرضیت منسوخ ہوئی اور باقی دو کے ساتھ تین کا اضافہ کیا گیا (واللہ اعلم) 6 یعنی نمازوں کا قائم رکھنا، خدا کی یادگاری ہے۔ جیسے دوسری جگہ فرمایا۔ اور " اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکْرِی " یا یہ مطلب ہے کہ (اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّـيِّاٰتِ ) 11 ۔ ہود :114) کا ضابطہ یاد رکھنے والوں کے لیے یاد رکھنے کی چیز ہے۔ جسے کبھی فراموش نہ کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے مومن کو نیکیوں کی طرف خاص ترغیب ہوتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو تین طرح، جو نیکیاں کرے اس کی برائیاں معاف ہوں، اور جو نیکیاں اختیار کرے اس سے خوبی برائیوں کی چھوٹے، اور جس ملک میں نیکیوں کا رواج ہو وہاں ہدایت آئے اور گمراہی مٹے، لیکن تینوں جگہ وزن غالب چاہیے۔ جتنا میل اتنا صابون۔ "
Ayah 11:115

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 11:115 in the Quran reader

اور صبر کر البتہ اللہ ضائع نہیں کرتا ثواب نیکی کرنے والوں کا7

7 قرآن کریم میں غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ کی امداد و اعانت حاصل کرنے میں دو چیزوں کو خاص دخل ہے۔ صلوٰۃ اور صبر (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَعِيْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ۭاِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِيْنَ ) 2 ۔ البقرۃ :153) یہاں بھی " صلوٰۃ کے بعد " صبر " کا حکم فرمایا۔ مطلب یہ ہے کہ مومن خدا کی عبادت و فرمانبرداری میں ثابت قدم رہے اور کسی دکھ درد کی پروا نہ کرے، تب خدا کی مدد و نصرت حاصل ہوتی ہے اس کے یہاں کسی نیکوکار کا اجر ضائع نہیں ہوتا، بلکہ اندازہ سے زائد ملتا ہے۔
Ayah 11:116

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:116 in the Quran reader

سو کیوں نہ ہوئے ان جماعتوں میں جو تم سے پہلے تھیں ایسے لوگ جن میں اثر خیر رہا ہو کہ منع کرتے رہتے بگاڑ کرنے سے ملک میں مگر تھوڑے کہ جن کو ہم نے بچا لیا ان میں سے اور چلے وہ لوگ جو ظالم تھے وہی راہ جس میں عیش سے رہے تھے اور تھے گناہ گار8

8 یہ پچھلوں کا حال سنا کر امت محمدیہ کو ابھارا گیا ہے کہ ان میں " امربالمعروف " اور " نہی عن المنکر " کرنے والے بکثرت موجود رہنے چاہیں۔ گزشتہ قومیں اس لیے تباہ ہوئیں کہ عام طور پر لوگ عیش و عشرت کے نشہ میں چور ہو کر جرائم کا ارتکاب کرتے رہے اور بڑے با اثر آدمی جن میں کوئی اثر خیر کا باقی نہیں تھا انہوں نے منع کرنے چھوڑ دیا، اس طرح کفر و عصیان اور ظلم و طغیان سے دنیا کی جو حالت بگڑ رہی تھی اس کا سنوارنے والا کوئی نہ رہا۔ چند گنتی کے آدمیوں نے " امر بالمعروف " کی کچھ آواز بلند کی مگر نقار خانہ میں طوطی کی صدا کون سنتا تھا، نتیجہ یہ ہوا کہ وہ منع کرنے والے عذاب سے محفوظ رہے باقی سب قوم تباہ ہوگئی۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں " نیک لوگ غالب ہوتے تو قوم ہلاک نہ ہوتی۔ تھوڑے تھے سو آپ بچ گئے۔ ' حدیث صحیح میں ہے کہ جب ظالم کا ہاتھ پکڑ کر ظلم سے نہ روکا جائے اور لوگ " امر بالمعروف " و " نہی عن المنکر " ترک کر بیٹھیں، تو قریب ہے کہ خدا تعالیٰ ایسا عام عذاب بھیجے جو کسی کو نہ چھوڑے (العیاذ باللہ) ۔
Ayah 11:117

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ Open ayah 11:117 in the Quran reader

اور تیرا رب ہرگز ایسا نہیں کہ ہلاک کرے بستیوں کو زبردستی سے اور لوگ وہاں کے نیک ہوں1

1 یعنی جس بستی کے لوگ اپنی حالت درست کرنے کے کی طرف متوجہ ہوں، نیکی کو رواج دیں، ظلم و فساد کو روکیں تو خداوند قدوس کی یہ شان نہیں کہ خواہ مخواہ انھیں زبردستی پکڑ کر ہلاک کر دے۔ عذاب اسی وقت آتا ہے جب لوگ کفر و عصیان یا ظلم و طغیان میں حد سے نکل جائیں۔
Ayahs 11:118–119

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ Open ayah 11:118 in the Quran reader

اور اگر چاہتا تیرا رب کر ڈالتا لوگوں کو ایک راستہ پر اور ہمیشہ رہتے ہیں اختلاف میں

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 11:119 in the Quran reader

مگر جن پر رحم کیا تیرے رب نے2 اور اسی واسطے ان کو پیدا کیا ہے اور پوری ہوئی بات تیرے رب کی کہ البتہ بھر دوں گا دوزخ جنوں سے اور آدمیوں سے اکٹھے3

2 یعنی جیسا کہ بارہا پہلے لکھا جا چکا ہے خدا تعالیٰ کی حکمت تکوینی اس کو مقتضی نہیں ہوئی کہ ساری دنیا کو ایک ہی راستہ پر ڈال دیتا۔ اسی لیے حق کے قبول کرنے نہ کرنے میں ہمیشہ اختلاف رہتا ہے اور رہے گا۔ مگر فی الحقیقت اختلاف اور پھوٹ ڈالنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے صاف وصریح فطرت کے خلاف حق کو جھٹلایا۔ اگر فطرت سلیمہ کے موافق سب چلتے تو کوئی اختلاف نہ ہوتا۔ اسی لیے " اِلَّامَنْ رَّحِمَ رَبُّکَ " سے متنبہ فرما دیا کہ جس پر خدا نے ان کی حق پرستی کی بدولت رحم کیا وہ اختلاف کرنے والوں سے مستثنیٰ ہیں۔ 3 یعنی دنیا کی آفرینش سے غرض یہ ہی ہے کہ حق تعالیٰ کی ہر قسم کی " صفات جمالیہ " و " قہریہ " کا ظہور ہو، اس لیے مظاہرہ کا مختلف ہونا ضروری ہے تاکہ ایک جماعت اپنے مالک کی وفاداری و اطاعت دکھا کر رحمت وکرم اور رضوان و غفران کا مظہر بنے۔ جو اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّکَ کی مصداق ہے اور دوسری جماعت اپنی بغاوت و غداری سے اس کی صفت عدل و انتقام کا مظہر بن کر اس دوام کی سزا بھگتے۔ جس پر خدا کی یہ بات پوری ہو (لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكُمْ اَجْمَعِيْنَ ) 7 ۔ الاعراف :18) بہرحال آفرینش عالم کا تشریعی مقصد عبادت ہے، (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ ) 51 ۔ الذاریات :56) اور تکوینی غرض یہ ہے کہ تشریعی مقصد کو اپنے کسب و اختیار سے پورا کرنے اور نہ کرنے والے دو گروہ ایسے موجود ہوں جو حق تعالیٰ کی صفات جلالیہ و جمالیہ یا بالفاظ دیگر لطف و قہر کے مورود و مظہر بن سکیں درکار خانہ عشق از کفرناگزیر است دوزخ کرا بسوزد گر بولہب نہ باشد پھر لطف و کرم سے مظاہر بھی اپنے مدارج استعداد و عمل کے اعتبار سے مختلف ہوں گے۔ گلہائے رنگ رنگ سے ہے رونق چمن اے ذوق اسے جہاں کو ہے زیب اختلاف سے
Ayah 11:120

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:120 in the Quran reader

اور سب چیز بیان کرتے ہیں ہم تیرے پاس رسولوں کے احوال سے جس سے تسلی دیں تیرے دل کو اور آئی تیرے پاس اس سورت میں تحقیق بات اور نصیحت اور یادداشت ایمان والوں کو4

4 اوپر بہت سے انبیاء و رسل کے قصص مذکور ہوئے تھے، اب ختم سورت پر ذکر قصص کی بعض حکمتوں پر تنبیہ فرماتے ہیں۔ یعنی گزشتہ اقوام و رسل کے واقعات سن کر پیغمبر ﷺ کا قلب بیش از بیش ساکن و مطمئن ہوتا ہے اور امت کو تحقیقی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ جن میں نصیحت و تذکیر کا بڑا سامان ہے۔ آدمی جب سنتا ہے کہ میرے ابنائے نوع پہلے فلاں فلاں جرائم کی پاداش میں ہلاک ہوچکے ہیں تو ان سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور جب دیکھتا ہے کہ فلاں راستہ اختیار کرنے سے پچھلوں کو نجات ملی تو طبعا اس کی طرف دوڑتا ہے۔ فی الحقیقت قرآن کریم میں قصص کا حصہ اس قدر موثر و مذکر واقع ہوا ہے کہ کوئی شخص جس میں تھوڑا سا آدمیت کا جزء ہو اور خوف خدا کی ذرا سی ٹیس دل میں رکھتا ہو انھیں سن کر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ باقی قصص یا بعض دوسرے مضامین کی تکرار جو قرآن کریم میں پائی جاتی ہے اس پر ہم نے رسالہ " القاسم " کے ابتدائی دور میں ایک مستقل مضمون لکھا ہے اسے ملاحظہ کرلیا جائے۔