11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 11:41

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

اور بولاسوار ہوجاؤ اس میں اللہ کے نام سے ہے اس کا چلنا اور ٹھہرنا تحقیق میرا رب ہے بخشنے والا مہربان2

2 نوح (علیہ السلام) نے اپنے ساتھیوں کو فرمایا کہ بنام خدا کشتی پر سوار ہوجاؤ، کچھ فکر مت کرو اس کا چلنا اور ٹھہرنا سب خدا کے اذن و حکم اور اس کے نام کی برکت سے ہے۔ غرقابی کا کوئی اندیشہ نہیں۔ میرا پروردگار مومنین کی کوتاہیوں کو معاف کرنے والا اور ان پر بیحد مہربان ہے۔ وہ اپنے فضل سے ہم کو صحیح سلامت اتارے گا۔ اس آیت سے نکلتا ہے کہ کشتی وغیرہ پر سوار ہوتے وقت " بِسْمِ اللّٰہ " کہنا چاہیے۔
Ayah 11:42

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور وہ لیے جا رہی تھی ان کو لہروں میں جیسے پہاڑ اور پکارا نوح نے اپنے بیٹے کو اور وہ ہو رہا تھا کنارے اے بیٹے سوار ہوجا ساتھ ہمارے اور مت رہ ساتھ کافروں کے3

3 یعنی کشتی پہاڑ جیسی موجوں کو چیرتی پھاڑتی بےخوف و خطر چلی جا رہی تھی۔ سوار ہونے کے بعد نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے " یام " (کنعان) کو جو اپنے بھائی وغیرہ سارے کنبہ سے کنارے ہو کر کافروں کی صحبت میں تھا، آواز دی کہ ان بدبخت کافروں کی معیت چھوڑ کر ہمارے ساتھ سوار ہوجا ! تاکہ اس مصیبت عظمیٰ سے نجات پا سکے۔ (تنبیہ) یا تو نوح (علیہ السلام) اسے مومن خیال کرتے تھے، اس لیے آواز دی خواہ واقعہ میں مومن نہ ہو یا کافر جانتے ہوں مگر یہ توقع ہوگی کہ ان ہولناک نشانات کو دیکھ کر مسلمان ہوجائے گا۔ یا " واہلک " کے عموم میں داخل سمجھ کر شفقت پدری کے جوش سے ایسا کیا ہو، اور " الا من سبق علیہ القول " کو مجمل ہونے کی وجہ سے اس پر منطبق نہ سمجھتے ہوں۔ واللہ اعلم۔
Ayah 11:43

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

بولا جالگوں گا کسی پہاڑ کو جو بچالے گا مجھ کو پانی سے4 کہا کوئی بچانے والا نہیں آج اللہ کے حکم سے مگر جس پر وہی رحم کرے اور حائل ہوگئی دونوں میں موج پھر ہوگیا ڈوبنے والوں میں5

4 وہ اپنے جہل و غباوت سے ابھی یہ خیال کر رہا تھا کہ جس طرح معمولی سیلابوں میں بعض اوقات کسی بلندی پر چڑھ کر آدمی جان بچا لیتا ہے، میں بھی کسی اونچے پہاڑ پر چڑھ کر جان بچا لوں گا۔ 5 یعنی کس خبط میں پڑا ہے۔ یہ معمولی سیلاب نہیں۔ عذاب الٰہی کا طوفان ہے۔ پہاڑ کی کیا حقیقت کوئی چیز آج عذاب سے نہیں بچا سکتی ہاں خدا ہی کسی پر رحم کرے تو بچ سکتا ہے مگر اس ہنگامہ دار و گیر اور مقام انتقام میں کٹر مجرموں پر رحم کیسا ؟ باپ بیٹے کی گفتگو پوری نہ ہوئی تھی کہ پانی کی ایک موج نے درمیان میں حائل ہو کر ہمیشہ کے لیے دونوں کو جدا کردیا۔
Ayah 11:44

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور حکم آیا اے زمین نگل جا اپنا پانی اور اے آسمان تھم جا اور سکھا دیا گیا پانی اور ہوچکا کام اور کشتی ٹھہری جودی پہاڑ پر اور حکم ہوا کہ دور ہو قوم ظالم6

6 ایک مدت تک اس قدر پانی برسا گویا آسمان کے دہانے کھل گئے اور زمین کے پردے پھٹ گئے۔ درخت اور پہاڑیاں تک پانی میں چھپ گئیں۔ اصحاب سفینہ کے سوا تمام لوگ جن کے حق میں نوح (علیہ السلام) نے دعا کی تھی ( رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَي الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا) 71 ۔ نوح :26) غرق ہوگئے۔ اس وقت خداوند قدوس نے زمین کو حکم دیا کہ اپنا پانی نگل جا ! اور بادل کو فرمایا کہ تھم جا ! پھر کیا مجال تھی کہ دونوں اس کے امتثال حکم میں ایک لمحہ کی تاخیر کرتے۔ چناچہ پانی خشک ہونا شروع ہوگیا۔ کشتی " جودی " پہاڑ پر جا لگی جو بعض کے نزدیک موصل میں تھا۔ اور جو کام خدا نے چاہا (یعنی مجرمین کو سزا دینا) وہ پورا ہوچکا۔ ظالموں کے حق میں کہہ دیا گیا کہ خدا کی رحمت سے دور ہو کر ہمیشہ کے لیے مصیبت و ہلاکت کے غار میں پڑے رہو۔ (تنبیہ) اس میں اختلاف ہے کہ " طوفان نوح " تمام دنیا میں آیا یا خاص ملکوں میں۔ اس کے فیصلہ کا یہاں موقع نہیں۔ مگر یاد رہے کہ " دائرۃ المعارف " میں بعض محققین یورپ کے ایسے اقوال و دلائل نقل کیے ہیں جو عموم طوفان کی تائید کرتے ہیں۔ جو لوگ عام طوفان کے قائل ہیں، ان میں سے اکثر کے نزدیک موجودہ دنیا کے کل انسان نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹوں " سام "، " حام "،" یافث " کی اولاد ہیں۔ (وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهٗ هُمُ الْبٰقِيْنَ ) 37 ۔ الصافات :77) طوفان سے جو بچے اور حیوانات ہلاک ہوئے، ان کا ہلاک بطور تعذیب نہ تھا بلکہ جیسے خدا دوسرے اسباب طبیعیہ کے ذریعہ سے ان پر موت وارد کرتا ہے اور وہ ظلم نہیں ہوتا۔ اسی طرح یہاں ان کی موت اس ذریعہ سے واقع ہوئی آخر اب بھی جو سیلاب اور طوفان آتے ہیں ان میں کتنے جانور اور بچے ہلاک ہوجاتے ہیں۔
Ayahs 11:45–46

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور پکارا نوح نے اپنے رب کو کہا اے رب میرا بیٹا ہے میرے گھر والوں میں اور بیشک تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بڑا حاکم ہے

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

فرمایا اے نوح وہ نہیں تیرے گھر والوں میں اس کے کام ہیں خراب سو مت پوچھ مجھ سے جو تجھ کو معلوم نہیں میں نصیحت کرتا ہوں تجھ کو کہ نہ ہوجائے تو جاہلوں میں1

1 نوح (علیہ السلام) نے یہ کس وقت عرض کیا، کنعان کے غرق ہونے سے پہلے یا غرق ہونے کے بعد، دونوں احتمال ہیں۔ نیز کنعان کو اس کی منافقانہ اوضاع واطوار دیکھ کر غلط فہمی سے مومن سمجھ رہے تھے یا کافر سمجھتے ہوئے بارگاہ رب العزت میں یہ گزارش کی۔ دونوں باتوں کا امکان ہے۔ اگر مومن سمجھ کر غرقابی سے پہلے عرض کیا تھا تو مقصود اپنی اضطرابی کیفیت کا اظہار اور خدا سے کہہ کر اس کے بچاؤ کا انتظام کرنا تھا۔ اگر غرقابی کے بعد یہ گفتگو ہوئی تو محض معاملہ کی اصل حقیقت معلوم کرنے کی غرض سے اپنا خلجان یا اشکال پیش کیا۔ یعنی خداوندا ! تو نے میرے گھر والوں کو بچانے کا وعدہ کیا تھا۔ اور کنعان مومن ہونے کی وجہ سے ( اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ ) 11 ۔ ہود :40) کے استثناء میں بظاہر داخل نہیں۔ پھر اس کی غرقابی کا راز کیا ہے ؟ بلاشبہ آپ کا وعدہ سچا ہے۔ کسی کو یہ خیال نہیں گزر سکتا کہ معاذ اللہ وعدہ خلافی کی ہو۔ آپ احکم الحاکمین اور شہنشاہ مطلق ہیں۔ سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ کسی کو حق نہیں کہ آپ کے فیصلہ کے سامنے دم مار سکے، یا آپ کو وعدہ خلافی پر مجبور کرسکے۔ فقط قلبی اطمینان کے لیے بطریق استعلام و استفسار اس واقعہ کا راز معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ جواب ملا یہ ان گھر والوں میں سے نہیں جن کے بچانے کا وعدہ تھا۔ بلکہ ( اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ ) 11 ۔ ہود :40) میں شامل ہے۔ کیونکہ اس کے عمل خراب ہیں۔ تم کو اس کے کفر و شرک کی خبر نہیں۔ مقام تعجب ہے کہ پیغمبرانہ فراست کی روشنی میں صریح آثار کفر کے باوجود ایک کافر کا حال مشتبہ ہے۔ جس شخص کا واقعی حال تمہیں معلوم نہیں اس کے بارے میں ہم سے ایسی نامناسب رعایت یا اس طرح کی کیفیت مت طلب کرو۔ مقربین کو لائق نہیں کہ وہ بےسوچے سمجھے ادب ناشناس جاہلوں کی سی باتیں کرنے لگیں۔ آیت کی یہ تقریر اس صورت میں ہے کہ نوح (علیہ السلام) کنعان کو مومن سمجھتے ہوں اور اگر کافر سمجھتے تھے تو شاید اس درخواست یا سوال کا منشاء یہ ہو کہ " انجاء " کے ذکر میں " اہل " کو چونکہ عام مومنین سے الگ کر کے بیان فرمایا تھا، اس سے نوح (علیہ السلام) نے یہ خیال کیا کہ میرے اہل کو اس دنیاوی عذاب سے محفوظ رکھنے کے لیے ایمان شرط نہیں اور ( اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ ) 11 ۔ ہود :40) مجمل تھا۔ اس لیے اس کے مصداق کی تعیین نہیں کرسکے۔ بناء علیہ شفقت پدری کے جوش میں عرض کیا کہ اللہ العالمین ! میرا بیٹا یقینا میرے اہل میں داخل ہے جس کے بچانے کا آپ وعدہ فرما چکے ہیں پھر یہ کیوں غرق کیا جا رہا ہے یا غرق کردیا گیا۔ جواب ملا کہ تمہارا پہلا ہی مقدمہ ( اِنَّ ابْنِيْ مِنْ اَهْلِيْ ) 11 ۔ ہود :45) غلط ہے۔ جس اہل کے بچانے کا وعدہ تھا اس میں یہ داخل نہیں۔ کیونکہ اس کے کرتوت بہت خراب ہیں نیز ( اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ ) 11 ۔ ہود :40) کے مصداق کا تم کو کچھ علم نہیں کہ وہ کون لوگ ہیں۔ پھر جس چیز کا علم تم نہیں رکھتے اس کی نسبت ایسے محاجہ کے رنگ میں سوال یا درخواست کرنا تمہارے لیے زیبا نہیں۔
Ayah 11:47

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

بولا اے رب میں پناہ لیتا ہوں تیری اس سے کہ پوچھوں تجھ سے جو معلوم نہ ہو مجھ کو2 اور اگر تو نہ بخشے مجھ کو اور رحم نہ کرے تو میں ہوں نقصان والوں میں3

2 حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " آدمی وہ ہی پوچھتا ہے جو معلوم نہ ہو۔ لیکن مرضی معلوم ہونی چاہیے۔ یہ کام جاہل کا ہے کہ بڑے کی مرضی پوچھنے کی نہ دیکھے، پھر پوچھے۔ " مرضی کیوں نہ تھی ؟ " اسے ہم فائدہ گزشتہ میں بیان کرچکے ہیں۔ 3 حضرت نوح کانپ اٹھے اور توبہ کی، لیکن یہ نہ کہا کہ پھر ایسانہ کروں گا کہ اس میں دعویٰ نکلتا ہے۔ بندہ کو کیا مقدور ہے۔ چاہیے اس کی پناہ مانگے کہ مجھ سے پھر نہ ہو اور دل میں عزم نہ کرنے کا رکھے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) اور یونس (علیہ السلام) وغیرہ کی توبہ کے جو الفاظ قرآن میں نقل ہوئے ہیں ان میں یہ ہی ادب ملحوظ رہا ہے۔
Ayah 11:48

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

حکم ہوا اے نوح اتر سلامتی کے ساتھ ہماری طرف سے اور برکتوں کے ساتھ تجھ پر اور ان فرقوں پر جو تیرے ساتھ ہیں اور دوسرے فرقے ہیں کہ فائدہ دیں گے ان کو پھر پہنچے گا ان کو ہماری طرف سے عذاب دردناک4

4 یعنی کشتی سے " جودی " پر۔ پھر " جودی " سے زمین پر اترے۔ برکتیں اور سلامتی آئندہ تم پر اور ان اقوام پر رہے گی جو تمہارے ساتھیوں سے پیدا ہونے والی ہیں۔ فی الحال جو زمین طوفان سے بالکل اجڑ گئی ہے خدا دوبارہ آباد کر دے گا اور اس کی رونق و برکت پھر عود کر آئے گی۔ " سلامت " کے لفظ سے گویا حق تعالیٰ نے تسلی فرما دی کہ پھر ساری نوع انسانی پر قیامت سے پہلے ایسی عام ہلاکت نہ آئے گی، مگر بعضے فرقے ہلاک ہوں گے۔
Ayah 11:49

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

یہ باتیں منجملہ غیب کی خبروں کے ہیں کہ ہم بھیجتے ہیں تیری طرف نہ تجھ کو ان کی خبر تھی اور نہ تیری قوم کو اس سے پہلے5 سو تو صبر کر البتہ انجام بھلا ہے ڈرنے والوں کا6

5 یعنی یہ دلائل نبوت میں سے ہے کہ ایک امی کی زبان سے امم سابقہ کے ایسے مستند و مفصل واقعات سنوائے جائیں۔ 6 جیسے نوح اور ان کے رفقاء کا انجام بھلا ہوا آپ کے ساتھیوں کا مستقبل بھی نہایت تابناک اور کامیاب ہے۔ آپ کفار کی ایذاؤں پر صبر کریں، گھبرا کر تنگدل نہ ہوں۔ جیسے نوح (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سو برس صبر کیا۔
Ayah 11:50

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور عاد کی طرف ہم نے بھیجا ان کے بھائی ہود کو بولا اے قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی تمہارا حاکم نہیں سوائے اس کے تم سب جھوٹ کہتے ہو7

7 کہ پتھر کے " بت " بھی با اختیار حاکم بلکہ معبود ہیں۔ سورة " اعراف " میں قوم " ہود " کا قصہ گزر چکا۔
Ayah 11:51

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

اے قوم میں تم سے نہیں مانگتا اس پر مزدوری میری مزدوری اسی پر ہے جس نے مجھ کو پیدا کیا8 پھر کیا تم نہیں سمجھتے9

8 یعنی تمہارے مال کی مجھے ضرورت نہیں۔ میرا پیدا کرنے والا ہی تمام دنیاوی ضروریات اور اخروی اجرو ثواب کا کفیل ہے یہ بات ہر ایک پیغمبر نے اپنی قوم سے کہی تاکہ نصیحت بےلوث اور موثر ہو۔ لوگ ان کی محنت کو دنیاوی طمع پر محمول نہ کریں۔ 9 یعنی اس قدر غبی ہو، اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھتے کہ ایک شخص بےطمع بےغرض، محض درد مندی اور خیر خواہی سے تمہاری فلاح دارین کی بات کہتا ہے۔ تم اسے دشمن اور بدخواہ سمجھ کر دست و گریباں ہوتے ہو۔
Ayah 11:52

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور اے قوم گناہ بخشواؤ اپنے رب سے پھر رجوع کرو اسی کی طرف1 چھوڑے گا تم پر آسمان سے دھاریں2 اور زیادہ دے گا تم کو زور پر زور اور روگردانی نہ کرو گناہ گار ہو کر3

1 اسی سورت کے شروع میں اسی جملہ کی تفسیر گزر چکی۔ 2 یعنی موقع بہ موقع خوب بارشیں دے گا۔ وہ قوم چونکہ کھیتی، باغ لگانے سے بڑی دلچسپی رکھتی تھی اس لیے ایمان لانے کے ظاہری فوائد و برکات وہ بیان کیے جو ان کے حق میں خصوصی طور پر موجب ترغیب ہوں۔ لکھتے ہیں کہ وہ لوگ تین سال سے خشک سالی اور امساک باراں کی مصیبت میں گرفتار تھے۔ ہود (علیہ السلام) نے وعدہ کیا کہ ایمان لا کر خدا کی طرف رجوع کرو گے تو یہ مصیبت دور ہوجائے گی۔ 3 یعنی مالی اور بدنی قوت بڑھائے گا، اولاد میں برکت دے گا۔ خوشحالی میں ترقی ہوگی، اور مادی قوت کے ساتھ روحانی و ایمانی قوت کا اضافہ کردیا جائے گا۔ بشرطیکہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع ہو کر اس کی اطاعت سے مجرموں کی طرح روگردانی نہ کرو۔
Ayah 11:53

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

بولے اے ہود تو ہمارے پاس کوئی سند لے کر نہیں آیا اور ہم نہیں چھوڑنے والے اپنے ٹھاکروں (معبودوں) کو تیرے کہنے سے اور ہم نہیں تجھ کو ماننے والے4

4 یہ ان کی کھلی ہٹ دھرمی تھی جو کہتے تھے کہ آپ کوئی واضح سند اور دلیل اپنی صداقت کی نہیں لائے۔ خدا جسے پیغمبری کے عہدہ پر فائز کرے، ضرور ہے کہ اس کو تقرر کی سند اور پروانہ عطا فرمائے۔ چناچہ حدیث میں ہے کہ جو نبی مبعوث ہوا اس کے ساتھ ایسے واضح نشان بھیجے گئے جس پر آدمی ایمان لانا چاہیں تو لاسکتے ہیں۔ اس لیے بالیقین کہا جاسکتا ہے کہ ہود (علیہ السلام) نے نشان پیش کیے ہوں گے، مگر وہ لوگ ہٹ دھرمی اور بےحیائی سے یہ ہی کہتے رہے کہ آپ کوئی کھلا ہوا نشان نہیں لائے (شاید یہ مراد ہو کہ ایسا نشان نہ لائے جو سب کی گردنیں پکڑ کر ایمان لانے پر مجبور کر دے) بہرحال ہم محض تیرے کہنے سے اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے۔ نہ کبھی تیری رسالت پر ایمان لاسکتے ہیں۔
Ayah 11:54

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تجھ کو آسیب پہنچایا ہے کسی ہمارے ٹھاکروں (معبودوں) نے بری طرح5 بولا میں گواہ کرتا ہوں اللہ کو اور تم گواہ رہو کہ میں بیزار ہوں ان سے جن کو تم شریک کرتے ہو

5 یہ جو تم بہکی بہکی باتیں کرتے ہو اور سارے جہان کو بیوقوف بتلا کر اپنا دشمن بنا رہے ہو۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ ہمارے دیوتاؤں میں سے کسی نے آسیب پہنچا کر تمہیں مجنون اور پاگل کردیا ہے (العیاذ باللہ) تم جو ان کی عبادت سے روکتے اور برا بھلا کہتے تھے، انہوں نے اس گستاخی کی سزا دی کہ اب تم بالکل دیوانوں کی سی باتیں کرنے لگے۔
Ayahs 11:55–56

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

اس کے سوا، سو برائی کرو میرے حق میں تم سب مل کر پھر مجھ کو مہلت نہ دو

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

میں نے بھروسہ کیا اللہ پر جو رب ہے میرا اور تمہارا کوئی نہیں زمین پر پاؤں دھرنے والا مگر اللہ کے ہاتھ میں ہے چوٹی اس کی بیشک میرا رب ہے سیدھی راہ پر6

6 یعنی وہ بےچاری پتھر کی مورتیں تو مجھے کیا گزند پہنچا سکتیں، تم سب جو بڑے شہ زور، تنو مند اور طاقتور نظر آتے ہو اپنے دیوتاؤں کی فوج میں بھرتی ہو کر اور مجھ جیسے یکہ و تنہا پر پوری قوت سے بیک وقت ناگہاں حملہ کر کے بھی میر ابال بیکا نہیں کرسکتے۔ سنو میں خدا کو گواہ بنا کر اعلان کرتا ہوں اور تم سب بھی اس پر گواہ رہو کہ میں تمہارے جھوٹے دیوتاؤں سے قطعا بیزار ہوں۔ تم سب جمع ہو کر جو برائی مجھے پہنچا سکتے ہو پہنچاؤ نہ ذرا کوتاہی کرو نہ ایک منٹ کی مجھے مہلت دو ۔ اور خوب سمجھ لو کہ میرا بھروسہ خدائے وحدہ ' لاشریک لہ ' پر ہے جو میرا رب ہے اور وہی تمہارا بھی مالک و حاکم ہے۔ گو بد فہمی سے تم نہیں سمجھتے۔ نہ صرف میں اور تم بلکہ ہر چھوٹی بڑی چیز جو زمین پر چلتی ہے خالص اس کے قبضہ اور تصرف میں ہے گویا ان کے سر کے بال اس کے ہاتھ میں ہیں۔ جدھر چاہے پکڑ کر کھینچے اور پھیر دے۔ کسی کی مجال نہیں کہ اس کے قبضہ اختیار سے نکل کر بھاگ جائے۔ نہ ظالم اس کی گرفت سے چھوٹ سکتے ہیں نہ سچے اس کی پناہ میں رہ کر رسوا ہوسکتے ہیں۔ بلاشبہ میرا پروردگار عدل و انصاف کی سیدھی راہ پر ہے اس کے ہاں نہ ظلم ہے نہ بےموقع انعام، اپنے بندوں کو نیکی اور خیر کی جو سیدھی راہ اس نے بتلائی، بیشک اسی پر چلنے سے وہ ملتا ہے اور اس پر چلنے والوں کی حفاظت کرنے کے لیے خود ہر وقت وہاں موجود ہے۔
Ayah 11:57

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

پھر اگر تم منہ پھیرو گے تو میں پہنچا چکا تم کو جو میرے ہاتھ بھیجا تھا تمہاری طرف اور قائم مقام کرے گا میرا رب اور لوگ اور نہ بگاڑ سکو گے اللہ کا کچھ تحقیق میرا رب ہے ہر چیز پر نگہبان7

7 یعنی ایسی صاف اور کھری کھری باتیں سن کر بھی نہ مانو گے تو اب میرا کچھ نقصان نہیں۔ میں فرض تبلیغ پوری طرح ادا کرچکا۔ تم اپنی فکر کرلو۔ ضرور ہے کہ اس قسم کی ہٹ دھرمی اور تعصب وعناد پر آسمان سے عذاب آئے جو تم کو ہلاک کر ڈالے۔ خدا کی زمین تمہاری تباہی سے ویران نہ ہوگی۔ وہ دوسرے لوگوں کو تمہارے اموال وغیرہ کا وارث بنا دے گا۔ تمہار قصہ ختم کردینے سے یاد رکھو خدا کا یا اس کے پیغمبروں کا کچھ نہیں بگڑتا نہ اس کا ملک خراب ہوتا ہے۔ جب وہ ہر چیز کا محافظ و نگہبان ہے تو ہر قابل حفاظت چیز کی حفاظت اور اس کے سامان کی حفاظت اپنی قدرت کاملہ سے کر دے گا۔
Ayah 11:58

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جب پہنچا ہمارا حکم بچا دیا ہم نے ہود کو اور جو لوگ ایمان لائے تھے اس کے ساتھ اپنی رحمت سے اور بچا دیا ان کو ایک بھاری عذاب سے8

8 یعنی سات رات اور آٹھ دن مسلسل آندھی کا طوفان آیا جیسا کہ سورة " اعراف " میں ہم ذکر کرچکے ہیں۔ مکان گرگئے چھتیں اڑ گئیں، درخت جڑ سے اکھڑ کر کہیں کے کہیں جا پڑے۔ ہوا ایسی مسموم تھی کہ آدمیوں کی ناک میں داخل ہو کر نیچے سے نکل جاتی اور جسم کو پارہ پارہ کر ڈالتی تھی۔ اس ہولناک عذاب سے ہم نے ہود (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو جو آخر میں چار ہزار تک پہنچ گئے تھے بالکل محفوظ رکھا اور ایمان و عمل صالح کی بدولت آخرت کے بھاری عذاب سے بھی ان کو نجات دے دی۔
Ayah 11:59

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

اور یہ تھے عاد کے منکر ہوئے اپنے رب کی باتوں سے اور نہ مانا اس کے رسولوں کو اور مانا حکم ان کا جو سرکش تھے مخالف9

9 یعنی ان کے کھنڈرات کو چشم عبرت سے دیکھو کہ یہ وہ قوم " عاد " تھی جن کے بڑوں نے بہت طمطراق سے اپنے پروردگار کی باتوں کا مقابلہ کیا اور اس کے پیغمبروں کی نافرمانی کی۔ اور چھوٹوں نے بڑے شیطانوں کی پیروی کی۔ آخر دونوں تباہ و برباد ہوئے۔ (تنبیہ) " رسلہ " شاید اس لیے فرمایا کہ ایک کی تکذیب سب پیغمبروں کی تکذیب ہے۔ کیونکہ توحید وغیرہ اصول دین میں سب متفق اور ایک دوسرے کے مصدق ہیں۔
Ayah 11:60

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

اور پیچھے سے آئی ان کو اس دنیا میں پھٹکار قیامت کے دن بھی1 سن لو عاد منکر ہوئے اپنے رب سے سن لو پھٹکار ہے عاد کو جو قوم تھی ہود کی2

1 یعنی خدا کی لعنت (پھٹکار) دنیا میں ان کے پیچھے لگا دی گئی کہ جہاں جائیں ساتھ جائے اور قیامت تک جہاں ان کا ذکر ہو لعنت کے ساتھ ہو، بلکہ قیامت کے بعد بھی وہ ان کا پیچھا نہ چھوڑے گی۔ لعنت کا طوق ہمیشہ ان کے گلے میں پڑا رہے گا۔ 2 بعض مفسرین نے کہا کہ قیامت کے دن یوں پکارا جائے گا۔ ( اَلَآ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ ۭ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ ) 11 ۔ ہود :60) (تنبیہ) " عاد ' کے ساتھ " قوم ہود " کا لفظ یا تو اس لیے بڑھایا کہ دونوں کا تصور سننے والے کے دماغ میں ساتھ ساتھ آئے۔ یعنی " ہود " کا کیا حال تھا، اور یہ اسی کی قوم تھی جس کا حشر یہ ہوا۔ اور ممکن ہے اس پر تنبیہ کرنا ہو کہ " عاد " دو ہیں " اولیٰ " اور " اخریٰ ۔ " اسی لیے ایک جگہ فرمایا (وَاَنَّهٗٓ اَهْلَكَ عَادَۨا الْاُوْلٰى) 53 ۔ النجم :50) یہاں " عاد اولیٰ " مراد ہے جس کی طرف " ہود " مبعوث ہوئے تھے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 11:61

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور ثمود کی طرف بھیجا ان کا بھائی صالح3 بولا اے قوم بندگی کرو اللہ کی کوئی حاکم نہیں تمہارا اس کے سوا اسی نے بنایا تم کو زمین سے4 اور بسایا تم کو اس میں سو گناہ بخشواؤ اس سے اور رجوع کرو اس کی طرف تحقیق میرا رب نزدیک ہے قبول کرنے والاف 5

3 ان کا قصہ " اعراف " میں گزر چکا۔ 4 یعنی اول آدم کو مٹی سے پیدا کیا۔ پھر زمین سے غذائیں پیدا کیں جن سے نطفہ وغیرہ بنتا ہے جو مادہ ہے آدمی کی پیدائش کا۔ 5 یعنی پیدا کر کے باقی رکھا۔ بقاء کا سامان کیا۔ زمین کے آباد کرنے کی ترکیبیں بتلائیں۔ تدابیر الہام فرمائیں، جب وہ ایسا منعم و محسن ہے تو چاہیے آدمی اسی کی طرف ایمان وطاعت کے ساتھ رجوع کرے اور کفر و شرک وغیرہ جو گناہ کرچکا ہے ان کی معافی چاہے، وہ ہم سے بالکل نزدیک ہے، ہر بات خود سنتا ہے اور جو توبہ اور استغفار صدق دل سے کیا جائے اسے سن کر قبول کرتا ہے۔
Ayah 11:62

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

بولے اے صالح تجھ سے تو ہم کو امید تھی اس سے پہلے کیا تو ہم کو منع کرتا ہے کہ پرستش کریں جن کی پرستش کرتے رہے ہمارے باپ داداے، اور ہم کو تو شبہ ہے اس میں جس کی طرف تو بلاتا ہے ایسا کہ دل نہیں مانتا6

6 یعنی تجھ سے امید تھی کہ آگے چل کر بڑا فاضل اور نیک مرد ہوگا جس کو معزز بزرگوں کا جانشین سمجھ کر قوم سر پر بٹھائے گی۔ تیری پیشانی سے رشدو صلاح کے آثار ہویدا تھے۔ سب کو توقع تھی، کہ مستقبل قریب میں بڑا فائدہ تجھ سے پہنچے گا۔ رائے و تدبیر، صلاح و مشورہ سے اپنے قومی بھائیوں کی راہنمائی اور نہایت قوت قلب کے ساتھ آبائی مذہب کی حمایت و تائید کرے گا۔ یہ درست ہے کہ ابتداء سے تجھ کو بت پرستی مبغوض تھی اور عام قومی مذہب سے الگ تھلگ رہتا تھا، تاہم تیری سمجھ اور فطری قابلیت پر اعتماد کر کے ہم کو امید رہی کہ آگے چل کر عقل و تجربہ کی پختگی کے بعد یہ روش نہ رہے گی۔ لیکن افسوس یک بیک تو ایسی باتیں کرنے لگا جس نے تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ تو نے ہمارے آباؤ اجداد کے قدیم مذہب کے خلاف اعلانیہ جہاد شروع کر کے سب توقعات خاک میں ملا دیں۔ کیا تو یہ چاہتا ہے کہ ہم ایک خدا کو لے کر سارے پرانے دیوتاؤں کو چھوڑ بیٹھیں۔ ہمارے نزدیک بزرگوں کی روش کے خلاف ایسا مسلک اختیار کرنا سخت شبہ کی چیز ہے جسے ہمارا دل کسی طرح نہیں مانتا۔ " موضح القرآن " میں ہے۔ " یعنی ہونہار لگتا تھا کہ باپ دادے کی راہ روشن کرے گا۔ تو لگا مٹانے۔ "
Ayah 11:63

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

بولا اے قوم بھلا دیکھو تو اگر مجھ کو سمجھ مل گئی اپنے رب کی طرف سے اور اس نے مجھ کو دی رحمت اپنی طرف سے پھر کون بچائے مجھ کو اس سے اگر اس کی نافرمانی کروں7 سو تم کچھ نہیں بڑھاتے میرا سوائے نقصان کے8

7 یعنی تمہارے شک و شبہ کی وجہ سے میں ایک صاف راستہ کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔ خدا نے مجھ کو سمجھ دی اور اپنی رحمت عظیمہ سے منصب پیغمبری عطا کیا۔ اب اگر فرض کیجئے میں اس کی نافرمانی کرنے لگوں اور جن چیزوں کے پہنچانے کا حکم ہے نہ پہنچاؤں تو مجھ کو اس کی سزا سے کون بچا لے گا۔ 8 یعنی بجائے اس کے کہ اپنے سچے خیر خواہ اور محسن کی قدر کرتے مجھے فرائض دعوت و تبلیغ سے رک جانے کا مشورہ دے کر ناقابل تلافی نقصان پہنچانا چاہتے ہو۔ بعض سلف نے اس جملہ کا مطلب یہ لیا ہے کہ تمہاری گفتگو سے مجھ میں کوئی چیز نہیں بڑھتی بجز اس یقین کے کہ تم اپنا سخت نقصان کر رہے ہو۔ مگر سیاق کے مناسب پہلے معنی ہیں۔
Ayahs 11:64–65

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور اے قوم یہ اونٹنی ہے اللہ کی تمہارے لیے نشانی سو چھوڑ دو اس کو کھاتی پھرے اللہ کی زمین میں اور مت ہاتھ لگاؤ اس کو بری طرح پھر تو آپکڑے گا تم کو عذاب بہت جلد

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

پھر اس کے پاؤں کاٹے تب کہا فائدہ اٹھالو اپنے گھروں میں تین دن یہ وعدہ ہے جو جھوٹا نہ ہوگا9

9 حضرت صالح (علیہ السلام) سے قوم نے معجزہ طلب کیا تھا۔ وہ انھیں دکھلا دیا۔ اس واقعہ کی پوری تفصیل اور الفاظ کی تشریح سورة " اعراف " میں آٹھویں پارہ کے ختم پر گزر چکی ہے۔ وہاں ملاحظہ کرلی جائے۔
Ayah 11:66

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

پھر جب پہنچا حکم ہمارا بچا دیا ہم نے صالح کو اور جو ایمان لائے اس کے ساتھ اپنی رحمت سے اور اس دن کی رسوائی سے10 بیشک تیرا رب وہی ہے زور والا زبردست1

10 یعنی جب حکم عذاب پہنچا تو ہم نے " صالح " اور ان کے ساتھیوں کو بچا دیا۔ اور کا ہے سے بچا دیا ؟ اس دن کی رسوائی سے، " ( وَمِنْ خِزْيِ يَوْمِىِٕذٍ ) 11 ۔ ہود :66) ، نَجَّیْنَا " کی شرح و تفصیل ہے ؟ 1 یعنی جسے چاہے ہلاک کردے اور جسے چاہے بچادے
Ayahs 11:67–68

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور پکڑ لیا ان ظالموں کو ہولناک آواز نے پھر صبح کو رہ گئے اپنے گھروں میں اوندھے پڑے ہوئے

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

جیسے کبھی رہے ہی نہ تھے وہاں2 سن لو ثمود منکر ہوئے اپنے رب سے سن لو پھٹکار ہے ثمود کو3

2 یعنی بےنام و نشان ہوگئے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں ان پر عذاب آیا اس طرح کہ رات کو پڑے سوتے تھے فرشتہ نے چنگھاڑ ماری سب کے جگر پھٹ گئے، بعض آیات میں " رَجْفَۃً " کا لفظ آیا ہے۔ یعنی " زلزلہ " یا " کپکپی " سے ہلاک ہوئے۔ سورة " اعراف " میں ہم اس کے متعلق تطبیق کی صورت لکھ چکے ہیں۔ 3 یعنی جو اپنے پروردگار کی آیات و احکام سے منکر ہو اس کی یہ گت بنتی ہے اور ایسی پھٹکار پڑتی ہے کہ سن کر عبرت حاصل کرو۔
Ayah 11:69

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور البتہ آچکے ہیں ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر بولے سلام وہ بولا سلام ہے پھر دیر نہ کی لے آیا ایک بچھڑا تلا ہوا4

4 اس سورت کے قصص کی ترتیب " اعراف " کی ترتیب کے موافق ہے۔ صرف قوم لوط کے قصہ سے پہلے یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کا تھوڑا سا قصہ بیان فرمایا ہے۔ مگر تعبیر ایسی رکھی جو ظاہر کرتی ہے کہ مقصود اصلی لوط (علیہ السلام) کا قصہ بیان کرنا ہے چونکہ اس میں اور ابراہیم کے قصہ میں کئی طرح کی مناسبت اور تعلق پایا جاتا تھا اس لیے بطور تمہید و توطیہ ابراہیم کا قصہ مذکور ہوا۔ لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم کے خالہ زاد بھائی ہیں جو آپ کے ہمراہ عراق سے ہجرت کر کے آئے۔ ایک ہی جماعت فرشتوں کی دونوں کے پاس بھیجی گئی۔ حضرت ابراہیم نے قوم لوط کی ہلاکت کے مسئلہ میں فرشتوں سے بحث کی جو آگے آتی ہے یہ فرشتے نہایت حسین و جمیل نوجوانوں کی شکل میں لوط (علیہ السلام) کی طرف جاتے ہوئے حضرت ابراہیم کے پاس خوشخبری لے کر آئے کہ حق تعالیٰ نے ان کو اپنا خلیل بنایا ہے اور اس بڑھاپے میں حضرت " سارہ " کے بطن سے بیٹا عطا کرنے والا ہے۔ نیز یہ کہ قوم لوط کے بدمعاشوں اور ظالموں کے وجود سے عنقریب دنیا پاک کردی جائے گی جس میں حضرت ابراہیم و حضرت لوط کے متبعین کو کسی قسم کا ضرر نہ پہنچے گا۔ فرشتوں نے ابراہیم کو سلام کیا۔ آپ نے جواب دیا مگر اول وہلہ میں پہچان نہ سکے۔ جیسے ابتداء حضرت لوط نے بھی ان کو نہیں پہچانا۔ (بلکہ صحیحین کی حدیث میں ہے کہ ایک مرتبہ جبرائیل آدمی کی شکل میں حضور ﷺ سے سوال و جواب کرتے رہے، جب اٹھ کر چلے گئے تب آپ کو بتلایا گیا کہ یہ جبرائیل تھے) گویا متنبہ کردیا کہ نبی کو بھی فرشتہ وغیرہ کا علم ضروری خدا کے دینے سے ہوتا ہے۔ وہ کسی وقت مخفی رکھنا چاہے تو کسی کی قدرت نہیں کہ معلوم کرسکے۔ بہرحال ابراہیم (علیہ السلام) انھیں آدمی سمجھ کر مہمان نوازی کے لیے اٹھے اور نہایت فربہ بچھڑا بھون تل کر سامنے حاضر کیا۔
Ayah 11:70

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

پھر جب دیکھا ان کے ہاتھ نہیں آتے کھانے پر تو کھٹکا اور دل میں ان سے ڈرا5 وہ بولے مت ڈر ہم بھیجے ہوئے آئے ہیں طرف قوم لوط کی6

5 کہ آخر یہ کون ہیں، کس غرض سے آئے ہیں ؟ ہم کھانا پیش کرتے ہیں، یہ اسے ہاتھ نہیں لگاتے۔ اس وقت کے دستور کے موافق جو مہمان کھانے سے انکار کرتا، سمجھا جاتا تھا کہ یہ کسی اچھے خیال سے نہیں آیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) گھبرائے کہ اگر آدمی ہیں تو کھانے سے انکار کرنا ضرور کچھ معنی رکھتا ہے اور فرشتے ہیں تو نہ معلوم کس مطلب کے لیے بھیجے گئے ہیں، آیا مجھ سے کوئی غلطی ہوئی یا میری قوم کے حق میں کوئی ناخوشگوار چیزلے کر آئے۔ اسی حیص و بیص میں زبان سے اظہار بھی کردیا۔ (اِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُوْنَ ) 15 ۔ الحجر :52) یعنی ہم کو تم سے اندیشہ ہے۔ عموما مفسرین نے ابراہیم کے خوف کی یہ ہی توجہیات کی ہیں۔ مگر حضرت شاہ صاحب نے میرے نزدیک نہایت لطیف توجیہ کی۔ " کہ فرشتوں کے ساتھ جو عذاب الٰہی تھا اور شان غضب و انتقام کے مظہر بن کر قوم لوط کی طرف جا رہے تھے اس کا طبعی اثر یہ تھا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے قلب پر ایک طرح کے خوف و خشیت کی کیفیت طاری ہوئی جس کا اظہار انہوں نے (اِنَّا مِنْكُمْ وَجِلُوْنَ ) 15 ۔ الحجر :52) کہہ کر کیا۔ یعنی ہم کو تم سے ڈر لگتا ہے۔ واللہ اعلم۔ 6 یعنی ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہم فرشتے ہیں، جو " قوم لوط " کو تباہ کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ آپ کچھ اندیشہ ضرر کا نہ کیجئے۔
Ayah 11:71

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور اس کی عورت کھڑی تھی تب وہ ہنس پڑی پھر ہم نے خوشخبری دی اس کو اسحاق کے پیدا ہونے کی اور اسحاق کے پیچھے یعقوب کی7

7 یعنی حضرت سارہ جو مہمانوں کی خدمت گزاری یا اور کسی کام کے لیے وہاں کھڑی تھیں اس ڈر کے رفع ہونے سے خوش ہو کر ہنس پڑیں۔ حق تعالیٰ نے خوشی پر اور خوشیاں سنائیں کہ تجھ کو اس عمر میں بیٹا ملے گا۔ (اسحاق علیہ السلام) اور اس کی نسل سے ایک پوتا یعقوب عطا ہوگا۔ جس سے ایک بڑی بھاری قوم بنی اسرائیل اٹھنے والی ہے یہ بشارت حضرت سارہ کو شاید اس لیے سنائی گئی کہ حضرت ابراہیم کے ایک بیٹا (اسمٰعیل علیہ السلام) حضرت ہاجرہ کے بطن سے پہلے ہی موجود تھا۔ سارہ کو تمنا تھی کہ مجھے بھی بیٹا ملے۔ مگر بوڑھی ہو کر مایوس ہوچکی تھی۔ اس وقت یہ بشارت ملی۔ بعض علماء نے بیان کیا۔ علماء نے (وَمِنْ وَّرَاۗءِ اِسْحٰقَ يَعْقُوْبَ ) 11 ۔ ہود :71) سے استدلال کیا ہے کہ حضرت اسحاق " ذبیح " نہ تھے۔ اسماعیل (علیہ السلام) تھے۔ (راجع ابن کثیر)
Ayah 11:72

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

بولی اے خرابی کیا میں بچہ جنوں گی، اور میں بڑھیا ہوں، اور یہ خاوند میرا ہے بوڑھا48 یہ تو ایک عجیب بات ہے9

8 یہاں " یَاوَیْلَتٰی " کا لفظ ایسا ہے جیسے ہمارا محاوارت میں عورتیں کہہ دیتی ہیں کہ میں " نگوڑی " کیا اس بڑھاپے میں اولاد جنوں گی۔ حضرت سارہ کی عمر کہتے ہیں اس وقت ننانوے سال تھی اور حضرت ابراہیم سو سال یا اس سے بھی متجاوز تھے۔ 5 یعنی ایسا ہو تو بالکل انوکھی اور عجیب و غریب بات ہوگی۔
Ayah 11:73

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

وہ بولے کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم سے اللہ کی رحمت سے اور برکتیں تم پر اے گھر والو تحقیق اللہ ہے تعریف کیا گیا بڑائیوں والاف 10

10 یعنی جس گھرانے پر خدا کی اس قدر رحمتیں اور برکتیں نازل رہی ہیں اور جنہیں ہمیشہ معجزات و خوارق دیکھنے کا اتفاق ہوتا رہا، کیا ان کے لیے یہ کوئی تعجب کا مقام ہے ؟ ان کا تعجب کرنا خود قابل تعجب ہے۔ انھیں لائق ہے کہ بشارت سن کر تعجب کی جگہ خدا کی تحمید و تمجید کریں کہ سب بڑائیاں اور خوبیاں اسی کی ذات میں جمع ہیں۔ (تنبیہ) بعض محققین نے لکھا ہے کہ نمازوں میں جو درود شریف پڑھتے ہیں اس کے الفاظ میں اس آیت سے اقتباس کیا گیا ہے۔
Ayahs 11:74–76

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

پھر جب جاتا رہا ابراہیم سے ڈر اور آئی اس کو خوشخبری، جھگڑنے لگا ہم سے قوم لوط کے حق میں

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

البتہ ابراہیم تحمل والا نرم دل ہے رجوع رہنے والا

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

اے ابراہیم چھوڑ یہ خیال وہ تو آچکا حکم تیرے رب کا اور ان پر آتا ہے عذاب جو لوٹایا نہیں جاتا1

1 یعنی ادھر سے مطمئن ہوئے تو فورا قوم لوط کے مسئلہ میں فرشتوں سے بحث شروع کردی۔ جس کا خلاصہ سورة " عنکبوت " میں بیان فرمایا کہ فرشتوں نے ابراہیم کو مطلع کیا کہ ہم ان بستیوں کو ہلاک کرنے آئے ہیں۔ ابراہیم بولے کہ ان میں تو خود لوط (علیہ السلام) موجود ہیں (پھر ایک پیغمبر کو ان میں موجود ہوتے ہوئے کیسے ہلاک کیے جاسکتے ہیں ؟ ) فرشتوں نے کہا ہم سب کو جانتے ہیں جو وہاں رہتے ہیں لوط اور اس کے متعلقین کو وہاں سے علیحدہ کر کے عذاب نازل کیا جائے گا۔ تفاسیر میں اس بحث کی جو تفاصیل بیان ہوئی ہیں اللہ جانے کہاں تک صحیح ہیں۔ بہرحال اسی بحث کو مبالغۃ لفظ " یجادلنا " سے تعبیر فرمایا۔ جس سے صاف مترشح ہوتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) اپنی فطری شفقت، نرم خوئی اور رحم دلی سے اس قوم پر ترس کھا کر حق تعالیٰ کی جناب میں کچھ سفارش کرنا چاہتے تھے اسی کا جواب دیا کہ اس خیال کو چھوڑیے ان ظالموں کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اب خدا کا حکم واپس نہیں ہوسکتا۔ عذاب آکر رہے گا جو کسی سفارش یا دعاء وغیرہ سے نہیں ٹل سکتا۔
Ayah 11:77

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور جب پہنچے ہمارے بھیجے ہوئے لوط کے پاس غمگین ہوا ان کے آنے سے اور تنگ ہوا دل میں اور بولا آج دن بڑا سخت ہے2

2 فرشتے نہایت حسین و جمیل بےریش و بروت نوجوانوں کی شکل میں تھے۔ ابتداء حضرت لوط نے نہ پہچانا کہ فرشتے ہیں۔ معمولی مہمان سمجھے۔ ادھر اس قوم کی بےحیائی اور خوئے بد معلوم تھی۔ سخت فکر مند اور تنگ دل ہوئے کہ یہ بدمعاش اور مہمانوں کا پیچھا کریں گے۔ مہمانوں کو چھوڑنا بھی مشکل اور ان خبیثوں کے ہاتھوں سے چھڑانا بھی دشوار، گویا ساری قوم سے لڑائی مول لینا ہے۔
Ayah 11:78

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور آئی اس کے پاس قوم اس کی دوڑتی بےاختیار اور آگے سے کر رہے تھے برے کام3 بولا اے قوم یہ میری بیٹیاں حاضر ہیں یہ پاک ہیں تم کو ان سے سو ڈرو تم اللہ سے اور مت رسوا کرو مجھ کو میرے مہمانوں میں کیا تم میں ایک مرد بھی نہیں نیک چلن4

3 یعنی اس قوم کو نامعقول حرکتوں اور خلاف فطرت فواحش کی جو عادت پڑی ہوئی تھی کہاں چین سے بیٹھنے دیتی، وہ ایسے خوبصورت لڑکوں کی خبر پاتے ہی نہایت بےحیائی کے ساتھ لوط (علیہ السلام) کے مکان پر اندھا دھند چڑھ دوڑے اور پوری قوت و شدت سے مطالبہ کیا کہ مہمان ان کے حوالے کردیئے جائیں کیونکہ ہم پہلے ہی منع کرچکے ہیں کہ تم کسی مرد کو اپنا مہمان نہ بنایا کرو۔ یہاں آنے والے مہمان کو ہم پر چھوڑ دو ہم جو چاہیں کریں۔ 4 حضرت لوط نے مہمانوں کی آبرو بچانے کے لیے ہر قسم کی کوشش کی۔ آخری بات اس شہوت پرست قوم سے یہ کہی کہ ظالمو ! یہ میری بیٹیاں تمہارے لیے حاضر ہیں۔ نکاح ہوجانے پر اس سے بطریق حلال تمتع کرسکتے ہو جو نہایت پاکیزہ اور شائستہ طریقہ ہے۔ خدا سے ڈرنا چاہیے کہ پاک اور مشروع طریقہ کو چھوڑ کر ایسے خلاف فطرت گندے کاموں میں مبتلا ہوتے ہو کم از کم میری ہی رعایت کرو میں ان مقدس مہمانوں کے سامنے شرمندہ اور رسوا نہ ہوں۔ مہمان کی بےعزتی میزبان کی بےعزتی ہے۔ کیا تم میں ایک شخص بھی نہیں جو سیدھی سیدھی باتوں کو سمجھ کر نیکی اور تقویٰ کی راہ اختیار کرے (تنبیہ) " ہٰؤُلَآءِ بَنَاتِیْ " سے مراد عام طور پر اس قوم کی لڑکیاں ہیں جن کو تجوزا " بیٹیاں " کہا گیا۔ کیونکہ پیغمبر امت کے حق میں روحانی باپ ہوتا ہے، اور ویسے بھی محاورات میں قوم کے بڑے بوڑھے سب کی لڑکیوں کو اپنی " بیٹیاں " کہہ کر پکار سکتے ہیں۔ اور اگر خاص لوط (علیہ السلام) کی بیٹیاں مراد ہوں تو شاید ان میں سے بعض ممتاز لوگوں کے نکاح کے لیے پیش کی ہوں گی۔ اس وقت کافر کا نکاح مسلمان عورت سے جائز تھا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ لوط (علیہ السلام) کا مقصود اس قول سے نکاح وغیرہ کچھ نہ تھا۔ بلکہ ان کی زیادتیوں سے عاجز ہو کر مہمانوں کی آبرو بچانے کی دھن میں انتہائی تواضع سے یہ لفظ کہے۔ تاکہ ان میں غیرت و حیاء کا کچھ شائبہ اور آدمیت کا کوئی ذرہ بھی موجود ہو تو یہ لفظ سن کر جھینپ جائیں۔ اور نرمی اختیار کرلیں، مگر وہ ایسے حیادار کا ہے کو تھے ؟ کان پر جوں بھی نہ رینگی۔ پہلے سے زیادہ بےباک ہو کر بےغیرتی کا مظاہرہ کرنے لگے۔
Ayah 11:79

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

بولے تو تو جانتا ہے ہم کو تیری بیٹیوں سے کچھ غرض نہیں اور تجھ کو تو معلوم ہے جو ہم چاہتے ہیں5

5 پھر اتنی حجت و تکرار کیوں کر رہا ہے۔ ہم اپنا ناپاک ارادہ پورے کیے بدون نہ ہٹیں گے۔
Ayah 11:80

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

کہنے لگا کاش مجھ کو تمہارے مقابلہ میں زور ہوتا، یا جا بیٹھتا کسی مستحکم پناہ میں6

6 لوط (علیہ السلام) کی زبان سے انتہائی گھبراہٹ اور پریشانی میں بےساختہ الفاظ نکلے کہ کاش مجھ میں بذات خود تم سب سے لڑنے اور مقابلہ کرنے کی طاقت ہوتی یا کوئی طاقتور اور مضبوط پناہ دینے والا ہوتا۔ یعنی میرا کنبہ اور جتھا یہاں ہوتا۔ حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ " یَرْحَمُ اللّٰہُ لُوْطًالَقَدْکَانَ یَاْوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ " خدا لوط پر رحم فرمائے، بیشک وہ مضبوط مستحکم پناہ حاصل کر رہے تھے۔ یعنی خداوند قدوس کی مگر اس وقت سخت گھبراہٹ اور بیحد ضیق کی وجہ سے ادھر خیال نہ گیا۔ بےساختہ ظاہری اسباب پر نظر گئی۔ لوط کے بعد جو انبیاء مبعوث ہوئے سب بڑے جتھے اور قبیلے والے تھے۔