89. Surah Al-Fajr
الفجرThe Dawn · 30 ayahsعروۃ الوثقٰی
ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ Open ayah 89:28 in the Quran reader
تو اپنے رب کی طرف واپس چل اس طرح کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی
تو اپنے رب کی طرف واپس چل تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے
28 ؎ کیا خوب صورت انداز ہے اس نفس مطمئنہ کے لیے اور کیا ہی شیرینی ہے اس انداز میں کہ کچھ کہا بھی نہیں گیا اور گویا سب کچھ کہہ بھی دیا کہ تم جس حال میں بھی ہو تمہارا مراد رضائے الٰہی تھا اس لیے تو اپنے رب کی طرف واپس لوٹ چل ۔ اس میں جو میٹھا انداز پایا گیا ہے اور جو اشارہ کیا گا ہے ، جو استعارہ بیان ہوا ہے اس کی کیا ہی شان ہے سبحان اللہ ! اگر انسان مرنے کے بعد صرف اور صرف دنیا کا ہو کر رہ جاتا ہے اور اس کا تعلق آخرت کے ساتھ کسی حال میں بھی قائم نہیں ہوتا کیونکہ اس کا جسم تو فنا ہونے والی چیز تھا اور وہ مرنے کے بعد فنا ہوگیا کسی نے اس کو زمین میں گڑھا کھود کر دبا دیا تو کسی نے اس کو جلا کر اس کی راکھ کو ہوا میں بکھیر دیا اور کئی انسان ایسے بھی تھے جن کے مرنے کے بعد سمندر کی مچھلیوں کے سپرد کردیا گیا اور ایسے بھی ہوں گے جن کو درندوں نے پھاڑ کھایا لیکن کوئی چیز تو آخر ضرور تھی جس کو اس طرح اشارہ دیا گیا اور استعارہ میں رکھ کر اس کو اپنے پروردگار کی طرف واپس لوٹنے کی تلقین کی جا رہی ہے اگر واپس لوٹنے والی کوئی چیز ہی موجود نہیں ہے تو یہ خطاب کس سے کیا گیا ہے ؟ آخر وہ کیا شے ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف واپس لوٹ جانے کا ہم سب سے وعدہ لیا گیا ہے اور دوسری جگہ ہم کو حکم دیا گیا ہے کہ یہاں سے رخصت ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ کر جانے کا اقرار کرتے ہوئے یعنی جدائی کی اس حالت کا جب تم کو معلوم ہو تو انا اللہ وانا الیہ راجعون پڑھو اور اقرار کرو کہ ہم سب اس ذات الٰہ کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں ۔ بہر حال ہمارے ان بھائیوں کو اس پر غور کرنا چاہیے کہ جو محض عقل کے سہارے یہ سوچ بیٹھتے ہیں کہ مرنے کے بعد ہم کلیتاً مر مٹ جاتے ہیں اور اب قیامت تک کسی جگہ روح کے جانے کا کوئی ذکر قرآن کریم میں موجود نہیں ہے اس لے برزخ کی زندگی لوگوں نے خواہ مخواہ ایک زندگی تصور کرلی ہے اور روح کا زندہ وحیات رہنے کا کوئی ثبوت قرآن کریم میں موجود نہیں ہے ان کو ذرا ٹھنڈے دل سے غور کرنا ضروری ہے کہ یہ خطاب کس سے ہے جب کہ یہ بات سو فی صد صحیح ہے کہ جسم تو بہر حال خاکی ہے اور اس کو ہر حال اس دنیا کے ساتھ باقی رہنا ہے اور اسی میں فنا ہونا ہے خواہ اس کے فنا ہونے کی کوئی صورت بھی ہو۔ اشارہ ہم نے کردیا ہے غور کرنا ہر انسان کا اپنا فرض ہے کوئی انسان بھی کسی انسان کی تفہیم نہیں کرا سکتا جب تک انسان خود کسی چیز کے سمجھنے کی کوشش نہ کرے خواہ وہ معاملہ کچھ بھی ہو اور اس سلسلہ میں خواہ چھوٹی بات ہو یا بڑی بات اس کا تعلق بہر حال اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے ہے اور خود اس بندے نے جو غور و فکر کرے اگر کسی انسان کے اختیار میں ہدایت یا تفہیم کرانا رکھ دیا گیا ہوتا تو شاید دنیا کے ان اختلافات کے ختم ہونے کی کوئی صورت نکل آتی اور اسی طرح یہ بھی ہے کہ ایسے اختلافات کو کسی حال میں بھی نکالا نہیں جاسکتا اور نہ ختم کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان کو ختم ہونا چاہیے ۔ بہر حال ہم نے اپنے بھائیوں سے جو درخواست کی ہے جو عذاب قبر یعنی برزخ کی روحانی زندگی کا کلیۃً انکار کرتے ہیں ۔ بہرحال فرمایا جا رہا ہے کہ اے جان مطمئنہ تو اپنے پروردگار متین کی طرف لوٹ کر چل اس حال میں کہ تو اس پر راضی ہے اور وہ تجھ پر راضی ہے اور اس اطمینان قلبی کے ساتھ چل کر تیرے اندر ذرا بھر بھی خوف اور ڈر نہ ہو تیرے اندرگھبراہٹ ہو اور نہ تو اس خیال سے پریشان ہو کہ جس رب کو میں نے راضی کرنے کے لیے اپنی زندگی وقف کی وہ راضی ہوا یا نہیں ؟ فرمایا نہیں ان خدشات کو ، ان وسوسوں کو دل سے نکال کر باہر پھینک دیا اور اپنے رب ذوالجلال والاکرام کی طرف اس انداز سے واپس چل کر تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی ۔ یہ وہ سعادت ہے جو ہر ایک کو نصیب نہیں ہوتی ۔ زیر نظر آیت میں جو خطاب کیا گیا ہے وہ کس سے ہے اور کس وقت ہے ؟ کیا میدان حشر کے بارے میں ہے یا جان جان آفرین کے سپرد کرنے کے وقت کی بات ہے ؟ یہ خطاب بتا رہا ہے اور انداز بیان سے واضح ہے کہ جان نکلنے کی بات ہے نہ کہ قیامت کے دن کی اگر اس کو قیامت کے دن پر محمول کرنا ہے تو بھی اسی نظریہ کے تحت کہ جب کسی شخص کی موت کا وقت آتا ہے اور وہ مرتا ہے تو گویا اس کی قیامت آجاتی ہے۔
فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ Open ayah 89:29 in the Quran reader
پھر تو میرے (برگزیدہ) بندوں میں شامل ہو جا
پھر تو میرے برگزیدہ بندوں میں شامل ہوجا
29 ؎ اس جان کو جان آفرین کے سپرد کرنے والے کو کہا جائے گا کہ واپس اپنے پروردگار کی طرف آ اور اس طرح سے واپس آ کہ تجھ پر نہ تو کسی قسم کا خوف ہو اور نہ ہی کسی قسم کا ڈر ہو اور نہ ہی کسی طرح کی گھبراہٹ ہو کیونکہ تو میرے ان بندوں میں سے ہے جن پر شیطان کا کوئی مکر بھی کامیاب نہ ہوا بلکہ وہ عمر بھر میرے بندے بنے رہے اور میرے رضا اور چاہت کے لیے انہوں نے زمانہ سے بہت کچھ کہہ دیا اور باتیں کرنے والوں نے ان سے کوئی بات بھی ایسی نہ کی جو دکھ درد کی بات نہ ہو ۔ تو نے دنیا میں میری رضا کے لیے بہت کچھ سنا اور بر داشت کیا اب تو نہایت آرام اور ادب و احترام کے ساتھ میرے بندوں میں داخل ہوجا۔
وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠ Open ayah 89:30 in the Quran reader
اور میری جنت میں داخل ہو جا
اوداخل ہو جائو میری جنت میں
30 ؎ اللہ تعالیٰ کے وہ خاص بندے کہاں ہیں جن میں داخل ہونے کی بشارت دی جا رہی ہے ؟ اس کی وضاحت بھی خود ہی فرما دی کہ وہ جنت الفردوس میں ہیں اور اس جنت میں داخل ہونے کا اس کو حکم دیا جا رہا ہے ۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ کے بندے مرتے ہی جنت میں داخل ہوجاتے ہیں یا حشر و نشر کے بعد ان کو داخل ہونے کا حکم دیا جائے گا ؟ سچی ، سیدھی اور صاف بات تو یہی ہے کہ اس وقت جب اس دنیا سے اس کا تعلق منقطع ہوگا اس وقت یہ خوشخبری اس کو سنائی جائے گی اور اس دنیا سے جونہی تعلق منقطع ہوا تو اب عالم آخرت میں چلا گیا اور آخرت میں دو ہی مقامات ہیں ایک کا نام جنت ہے اور دوسرے کا نام دوزخ ہے اس لیے یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ یہاں سے رخصت ہوتے ہی اہل دوزخ کا تعلق دوزخ سے اور اہل جنت کا تعلق جنت سے قائم ہوجاتا ہے اگرچہ مکمل داخلہ جو قیامت کے بعد کے بدن کے ساتھ الحاق کے بعد ہوگا ۔ اس کو کہا جائے گا اور آخرت کی کسی بات کی مکمل تفہیم اسی وقت ہوگی جب معاملہ پیش آئے گا کیونکہ یہ چیز دنیا میں مشاہدہ میں آنے والی نہیں ہے بلکہ یہ معاملہ خالصتا ً ایمان بالغیب کا ہے جس پر کسی طرح کی بحث ممکن ہی نہیں۔
الحمد للہ کہ اس مضمون پر ہم سورة الفجر کے مضمون کو ختم کر رہے ہیں کہ اس وقت ظہر کی اذان ہو رہی ہے اللھم انی اسلک نفسابک مطمئنۃ تو من بلقائک وترضی بقضائک و تقنع یعطائک۔