81. Surah At-Takwir

التكويرThe Overthrowing · 29 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 81:24

وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ Open ayah 81:24 in the Quran reader

اور وہ (اللہ سے حاصل کردہ) غیب کی خبریں بتانے میں ہرگز بخیل نہیں ہے

24 ؎ ( ضنین) بخیل اس کا اصل مادہ ض ن ن ہے اور اس کا مادہ کا لفظ یہ ایک ہی ہے اور اسی ایک جگہ استعمال ہوا ہے ۔ اس مادہ کا کوئی دوسرا لفظ قرآن کریم میں بیان نہیں ہوا ۔ ضن کے معنی بخل کرنے کے ہیں صفت مشبہ کا صیغہ ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ ضنن کا استعمال نفیس چز کے بارے میں بخل سے کام لینے کے ہیں ۔ ( الغیب) غیب کا معنی پوشیدہ ہونا ۔ غیر حاضر ہونا ، انسان کے علم و احساس سے بالاتر ہونا ۔ وہ چیزیں جو آدمی کی حس اور عقلی رسائی سے خارج ہیں اور جن کا علم انبیاء کی اطلاع کے بغیر نہیں ہو سکتا ۔ انبیاء و رسل (علیہ السلام) پر آنے والی وحی اندرون اور باطن۔ غیب کا استعمال قرآن کریم میں ان تمام معانی میں ہوا ہے لفظ غیب پورے قرآن کریم میں بصورت نکرہ صرف 6 بار استعمال ہوا ہے۔ (1) سورة البقرہ کی آیت 33 (2) سورة ہود کی آیت 123 (3) سورة النحل کی آیت 77 (4) سورة الکہف کی آیت 26 (5) سورة فاطر کی آیت 38 (6) سورة الحجرات کی آیت 18 میں ۔ یہ وضاحت ضروری اس لیے سمجھی گئی کہ بعض اہل لغت نے وضاحت کی ہے کہ غیب کا لفظ پورے قرآن کریم میں بصورت نکرہ کہیں نہیں آیا۔ ( ندوۃ المصنفین) اس لیے ان مقامات کو دیکھ لیا جائے کہ آیا یہ لفظ غیب نکرہ ہے یا نہیں ؟ اور ( الغیب) کا لفظ معرفہ ہونے کی صورت میں 42 جگہوں پر آیا ہے اور جمع کی صورت میں یعنی ( الغیوب) کا لفظ چار بار استعمال ہوا ہے ۔ سورة المائدہ میں دو بار آیت 109 ، 106 میں سورة التوبہ کی آیت 78 میں اور سورة سبا کی آیت 48 میں ۔ مطلب یہ ہے کہ جیسا کہ اس کی وضاحت قبل ازیں بہت سے مقامات پر گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا غیب نہیں جانتا خواہ وہ کوئی ہو ، کون ہو اور کیسا ہو ، خواہ وہ اللہ تعالیٰ کا کوئی رسول اور نبی ہو ، کوئی ولی اور دوست ہو ، زندہ ہو یا مردہ کیونکہ غیب کا علم فقط اللہ تعالیٰ ہی کے لیے خاص ہے لیکن ہاں اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں ، رسولوں کو بذریعہ وحی غیب کی باتوں سے مطلع کرتا رہتا ہے اور ظاہر ہے کہ جو چیز کوئی بتا دے کسی کے بتانے کے بعد جس کو اس نے بتائی غیب نہیں رہتی ۔ اگرچہ ان سب کے لیے وہ غیب ہوتی ہے جن کو بتائی نہیں گئی۔ پھر اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی نبی و رسول کو وہ خبر پہنچاتا ہے تو وہ نبی و رسول اس کو سن کر ، سمجھ کر اپنی قوم کے لوگوں تک پہنچا دیتا ہے اور جب وہ نبی و رسول اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے تو اس وقت وہ نبی و رسول کے لیے غیب نہیں ہوتی اور بتانے کے بعد ان لوگوں کے لیے وہ غیب نہ رہی اس لیے اس جگہ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم جن باتوں کا علم اپنے نبی و رسول کو دیتے ہیں ان باتوں کو آگے پہنچانے میں ہمارا رسول کبھی بخل سے کام نہیں لیتا کہ بعض باتیں لوگوں کو بتائے اور بعض کو چھپا رکھے۔ اس معاملہ میں چونکہ یہ بخل ہے اور ہمارا کوئی رسول بھی بخیل نہیں ہوتا اور خصوصاً ہمارا رسول محمد رسول اللہ ﷺ کے بخیل ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ مطلب یہ ہے کہ ایسا ممکن ہی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کو ایک بات بتائے کہ آپ ﷺ اپنی قوم کو یہ کہہ دیں اور رسول وہ بات قوم تک نہ پہنچائے ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ کسی معاملہ میں بخیل ہو اور بخیل کی وضاحت عروۃ الوثقیٰ جلد دوم سورة آل عمران کی آیت 180 ، جلد چہارم سورة التوبہ کی آیت 76 ، جلد ہشتم سورة محمد کی آیت 38 اور جلد ہذا سورة الحدید کی آیت 24 میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ فرمائیں۔
Ayah 81:25

وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 81:25 in the Quran reader

اور یہ ( قرآن کریم) کسی شیطان مردود کا کلام (بھی) نہیں

پھر یہ قرآن کسی شیطان مردود کا کلام نہیں ہے 25 ؎ ( رجیم) ملعون ، مردود ، راندہ ہوا رجم بروزن فعیل بمعنی مفعول مرحوم شیطان چونکہ اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے راندہ ہوا اور مردود ہے اس لیے یہ اس کی مخصوص صفت ہے اور قرآن کریم میں جہاں بھی یہ لفظ آیا ہے اس کی صفت میں آیا ہے۔ ( رجیم) کا لفظ قرآن کریم میں چار بار آیا ہے ایک زیر نظر آیت میں دوسرا سورة الحج کی آیت 17 میں تیسرا سورة الحجر کی آیت 34 میں اور چوتھا سورة ص کی آیت 77 میں اور (الرجیم) کا لفظ صرف دو بار آیا ہے سورة آل عمران کی آیت 36 میں اور سورة النحل کی آیت 98 میں۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کے مضامین پر غور کرو کہ اس میں کیا بیان ہوا ہے کہ میں توحید کی دعوت ہے ، کفر و شرک سے اعراض کا حکم ہے ، اخلاق حسنہ کی تاکید ہے ، شیطان کو کیا پڑی ہے کہ وہ لوگوں کو توحید کی تبلیغ کرے اور کفر و شرک اور عادات رذیلہ سے بچنے کی تاکید کرے حالانکہ یہ کلام بذاتہٖ بتا رہا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے کیونکہ اس میں وہ پاکیزہ تعلیم دی گئی ہے جو کسی دوسری کتاب میں نہیں ملتی اور پھر شیطان جو مجسمہ برائی ہے وہ ایسی تعلیم کیسے دے سکتا ہے۔ اس لیے تم کو حق ہے کہ بات کرنے سے پہلے کم از کم یہ تو سوچ لیا ہوتا کہ ہم کیا بات کہہ رہے ہیں اور ہمارے اس طرح کہہ دینے سے حقیقت تو بدل نہیں سکتی ۔ تعجب ہے تم پر کہ تم کیسی باتیں کرتے ہو کیا اس طرح کی باتیں تم نے کسی راندہ درگاہ کی زبان سے بھی سنی ہیں ؟
Ayah 81:26

فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَؕ Open ayah 81:26 in the Quran reader

پھر (اے کافرو ! ) تم کہاں پھرتے جا رہے ہو ؟

پھر اے کافرو ! تم کہاں پھرتے جا رہے ہو ؟ 26 ؎ تمہاری ہٹ دھرمی کے قربانی تم بھی اپنی ضد کے کتنے پکے ہو کہ جو کہہ دیتے ہو بس کیے ہی چلے جاتے ہو اور نہیں سوچتے کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں اور کیا ہمارے کہنے سے دو اور دو پانچ ہوجائیں گے کبھی نہیں لیکن تم نے بھی سو گند کھائی ہے کہ کوئی ہم کو منوا کر دیکھے ہم کہتے ہیں کہ دال پتلی ہے اور کہتے رہیں گے دال اگرچہ جل ہی کیوں نہ جائے اور جب ہم نے کہہ دیا ہے کہ کوا سفید ہوتا ہے تو اب ساری دنیا کہے کہ کوا تو سیاہ ہوتا ہے لیکن کبھی ہم بھی مانیں گے تو بات بنے گی ۔ ہمارا کام اس کو سفید کہتے رہتا ہے اور وہ کہہ رہے ہیں اور کہتے رہیں گے ۔ فرمایا جارہا ہے کہ تف تم پر کہ صاف و شفاف پانی کو چھوڑ کر سراب کی طرف بھاگے جا رہے ہو ، ابھی ٹھوکرکھائو گے تو تمہاری مت درست ہوگی اگرچہ بھیجہ نکل چکا ہوگا۔
Ayah 81:27

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 81:27 in the Quran reader

(یہ قرآن) تو بس دنیا جہاں (والوں) کے لیے بڑی نصیحت ہے

یہ قرآن کریم تو بس دنیا جہان والوں کے لیے بڑی نصیحت ہے 27 ؎ اب بتایا جا رہا ہے کہ یہ جو نبی اعظم و آخر ﷺ پر نازل ہوا ہے یہ کیا ہے ؟ فرمایا یہ ایک یاددہانی ہے جو قبل از وقت لوگوں کو کرائی جا رہی ہے تاکہ وہ کرتوتوں سے باز آئیں اور اپنے پائوں پر خود کلہاڑی چلانے سے بچ جائیں ۔ شیخ چلی کی طرح جس ٹہنے پر بیٹھے ہیں اسی کو نہ کاٹنا شروع کردیں۔ پھر اس کا نازل کرنے والا اللہ رب العزت ہے اور جس پر نازل کیا گیا ہے وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے جو رحمۃ اللعالمین سے متصف ہے اور اس ذکر کا کیا کہنا کہ یہ بھی ذکرللعالمین ہی ہے۔ (68 : 52) کہ زمان و مکان کی حد بندیوں سے آزاد ہے اور قیامت تک کے تمام بنی نوع انسان کے لیے رشد و ہدایت کا مینار ہے اور چمکتا ہوا آفتاب ہے لیکن اس سے روشنی وہی حاصل کرسکتا ہے جو خود کو رچشم نہ ہو لاریب شپرہ چشم کو اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ تعصب کے مارے ہوئوں کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا ۔ گھی بلا شبہ گھی ہے لیک کتے کو بھی ہضم نہیں ہوتا ۔ شہد بلا شہد ہے لیکن کتا اس کے قریب بھی نہیں جاتا ۔ گوشت ایک بہترین خوراک ہے لیکن بدھ دیکھ کر ہی سب کچھ قے کردیتا ہے۔
Ayah 81:28

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَؕ Open ayah 81:28 in the Quran reader

(خصوصاً تم میں سے) اس کے لیے جو سیدھی راہ چلنا چاہے

نصیحت ہے اس کے لیے جو سیدھی راہ چلنا چاہے 28 ؎ قرآن کریم رشد و ہدایت ہے ، رحمت و شفقت ہے ، نصیحت اور یاددہانی ہے لیکن کس کے لیے ؟ اس کے لے جو رشد و ہدایت کو حاصل کرنا چاہے ، رحمت و شفقت کا جو یا ہو اور نصیحت اور یاددہانی قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سیدھی راہ چلنا بھی چاہتا ہو ۔ اگر وہ سیدھی راہ کی بجائے الٹا چلنے کا عادی ہو تو وہ ہدایت اور رشد سے اتنا دور ہوتا چلا جائے گا جیتنا الٹی چال چلے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے آتے ہی اعلان کردیا تھا کہ : ( یضل بہ کثیرا ویھدی بہ کثیراً ) (2 : 27) ” کتنے انسان ہیں جن کے قصے اس سے گمراہی آئے گی اور کتنے ہی ہیں جن پر اس سے راہ کھل جائے گی “۔ ( وما یضل بہ الا الفسقین) (2 : 27) ” اور وہ گمراہ نہیں کرتا مگر انہی لوگوں کو جو فاسق ہوگئے ہوں “۔
Ayah 81:29

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 81:29 in the Quran reader

اور تم وہی کچھ چاہ سکتے ہو جو اللہ رب العالمین چاہے

اور تم وہی کچھ چاہ سکتے ہو جو اللہ رب العالمین چاہے 29 ؎ (تشاء ون) تم چاہتے ہو ۔ تم چاہو گے مشیئۃ سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ، یہ لفظ صرف دو بار قرآن کریم میں آیا ہے اس بار اس جگہ اور دوسری بار سورة الانسان کی آیت 40 میں اور اس سے مراد دنیا کے سارے انسان ہیں خواہ وہ نیک ہوں یا بد ، امیر ہوں یا غریب ، شاہ ہوں یا گدا اس میں کسی طرح کی رعایت موجود نہیں ہے کوئی شخص ہو ، کہاں ہو اور کیسا ہو اس کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتاکیون کہ کوئی شخص بھی ہو ازخود وہ خواہش نہیں کر سکتا جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی مشیت کا فیصلہ اس کا ساتھ نہ دے۔ آپ زمانہ کے حالات دیکھ لیں بڑے بڑے زیرک لوگ ، بڑے بڑے سمجھدار لوگ اپنی سکیموں میں کس طرح فیل ہوجاتے ہیں اور انکے فہم و ادراک کے سارے چراغ اس وقت گل ہوجاتے ہیں اور ساری تدبیریں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں اور سارے پروگرام فسخ ہوجاتے ہیں اور جو اس کو منظور ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ایک اپنے وقت کا بہت بڑا امیر اپنے بیٹے کی شادی کے پروگرام بناتا ہے اور اس کے لیے بارات کا انتظام کرتا اور ساری خوردنی چیزیں اپنے آرڈر سے خریدتا ہے ، خود ان کے بل ادا کرتا ہے ، کھانے پکنا شروع ہوجاتے ہیں ، بارات کے آنے جانے میں فقط 3 گھنٹے کا وقت صرف ہونا طے ہوچکا ہے ، شہنائیاں بج رہی ہیں ، گیت گائے جا رہے ہیں ، بھنگڑا ڈالا جا رہا ہے ، سمدھی صاحب غسل خانہ میں غسل کرنے کے لیے داخل ہوتے ہیں لیکن برآمد نہیں ہوتے ، بارات چل پڑی ہے کہ صاحب کار پر پانچ منٹ میں پہنچ جاتے ہیں لیکن صاحب نے جہاں پہنچنا تھا وہ غسل خانہ کے اندر ہی پہنچ گئے ہیں ، کیا ہوا ؟ سارا گھر ماتم کدہ بن جاتا ہے۔ جانے والی بارات دروازہ پر پہنچتے پہنچتے واپس آجاتی ہے اور سارا سامان جو شادی کے لیے تیار کیا گیا تھا وہ مرنے والے کے ماتمیوں کے کام آتا ہے۔ ما تشاون الا ان یشاء اللہ۔ انسان خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتا جب تک اس کی نگاہ کرم شامل حال نہ ہو اور جب اس کی طرف سے منظوری ملتی ہے تو ساری رکاوٹیں دور ہوجاتی ہیں اور حالات کو وہ خود ساز گار بنا دیتا ہے اور دیکھنے والے کہتے ہیں کہ فلاں تو مٹی پر ہاتھ ڈالتا ہے تو وہ سونا ہوجاتی ہے۔ ہمارا گھی بھی نیں جلتا لیکن اس کا تو پیشاب بھی جلتا ہے۔ ہم گندم بوتے ہیں تو گند نا اگ آتا ہے وہ جو بوتا ہے تو گندم اٹھاتا ہے بلا شبہ بعض باتیں انسان ناممکن بھی کہہ جاتا ہے لیکن مبالغہ اپنی جگہ اور حقیقت بھی اس کے قریب قریب مل جاتی ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ پر انحصار رکھتے ہوئے قدم اٹھانا چاہیے اور اپنی طرف سے جائز اور درست قدم کی بھی کوشش کرتے رہناچاہیے تا ہم نتائج اللہ کے سپرد رہیں تو بہتری اسی میں ہے کیونکہ نتائج رب العالمین ہی کے قبضہ میں ہیں ۔ انسان کو اللہ تعالیٰ پر نظر رکھنا چاہیے۔ اس کی مزید وضاحت چاہتے ہوں تو اس جلد کے اندر سورة الانسان کی آیت 40 کی تفسیر دیکھیں اور اسی اشارہ پر ہم اس سورت کی تفسیر کو ختم کرتے ہیں ۔ وما تشاء ون الا ان یشاء اللہ رب العالمین لا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔ یا حی یا قیوم برحمتک استغیث۔