78. Surah An-Naba

النبإThe Announcement · 40 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 78:38

یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ صَفًّا١ۙۗؕ لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا Open ayah 78:38 in the Quran reader

جس دن کہ روح (القدس) اور (سارے) فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے اور وہ بات نہ کرسکیں گے سوائے اس کے جسے رحمن نے اجازت دی ہوگی اور وہ ٹھیک ٹھیک بات کہے گا

جس دن روح القدس اور دوسرے فرشتے صفیں باندھے کھڑے ہوں گے ۔ 38 یہ دن کونسا دن ہے ؟ وہی جس کو قیامت کے نام سے اور آخرت کے نام سے اور بہت سے دوسرے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ فرمایا یہ دن تو اتنا سخت دن ہوگا کہ اس روز جبریل اور اس کے ساتھ دوسرے فرشتے الگ اپنی صفیں بنا کر کھڑے ہوں گے تاکہ جونہی ہم کو حکم دیا جائے تو ہم فوراً آ کھڑے ہوں اور حکم کی پابندی کرنے میں ذرا بھر دیر نہ لگے حالانکہ فرشتوں میں جو مقام جبریل کو حاصل ہے وہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ہے لیکن مخلوق ہونے میں تو وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہی ہے اور یہی حال دوسرے فرشتوں کا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی رب ذواللال والا کرام سے کلام کرنے کی جرأت نہیں کرے گا خواہ وہ کون ہو۔ ہاں ! کوئی نبی و رسول ہی کیوں نہ ہو نہ تو کسی کی ہمت پڑے گی اور نہ ہی کسی کو اس بات کا حق ہے۔ ہاں ! بات کرنے کا حق صرف اور صرف اس کو ہے جس کے لئے رحمٰن نے اجازت دے دی ہے کہ وہ کوئی بات کرنا چاہتا ہے تو کرے اور اسی طرح جب کسی کو بات کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا تو اس قید کے ساتھ ہوگا کہ خبردار ! کہ رحمٰن کے سامنے کوئی ناحق بات کرے جس کا اس کو حکم نہ دیا گیا ہو۔ ہر وہ بات حق بات سمجھی جائے گی جو قانون بندی کے باعث ہے اور پھر فرمایا کہ یہ ضروری ہے کہ جس شخص کو رحمٰن سے بات کی اجازت دی جائے وہ ہرگز ہرگز کوئی غلط ملط بات نہیں کر پائے گا کہ اس میں کسی قسم کا مبالغہ ہو یا کسی طرح کی کمی و بیشی ہو۔ (صواباً ) ٹھیک بات ، حق ، راست اور درست بات۔ (صواباً ) خطاء کی ضد ہے۔ چناچہ ام راغب رقم طراز ہیں کہ : ” صواب کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے ایک کسی شے کے اپنی ذات کے لحاظ سے چناچہ جب کوئی شے فی نفسہ تعریف کے قابل ہو اور عقل و شرح کے متقضیٰ کے مطابق پسندیدہ ہو تو کہا جاتا ہے : ھذا صواب۔ دوسرے قاصد یعنی ارادہ کرنے والے کے اعتبار سے اس کا استعمال ہوتا ہے جب کہ وہ مقصود کو اپنے ارادہ کے مطابق پالے۔ چناچہ کہا جاتا ہے : اصاب کذا جس کی طلب تھی اسے پا لیا۔ اور اس کی مختلف صورتیں ہیں : (1) یہ کہ جس چیز کا قصد کرنا مستحسن ہے اس کا قصد کرے اور اسے کر ڈالے اور یہی صواب نام ہے کہ جس پر انسان کی مدح کی جاتی ہے۔ (2) یہ کہ جس چیز کا قصد کرنا مستحسن ہے بس اس کا قصد کرے مگر اس شے کے علاوہ اور کوئی شے اس سے سر زد ہوجائے کیونکہ اس کے اجتہاد کے بعد اپنے اندازہ میں وہی چیز ” صواب “ تھی جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے (کل مجتھد مصیب) فرمایا ہے۔ اس سے یہی مراد ہے۔ نیز آپ کا ارشاد گرامی ہے کہ : (المجتھد مصیب و ان اخفاء فھذالہ اجر) مجتہد صواب پر ہے اور اگر اس نے خطا کی تو اس کو اجر ہے۔ آپ نے فرمایا ہے کہ : (من اجتھد فاصاب فلہ اجران و من اجتھد فاخطا فلہ اجر) ” جس نے اجتہاد کیا اور اس کا اجتہاد ٹھیک تھا تو اس کے دو اجر ہیں اور جس نے اجتہاد کیا اور خطا کی تو اس کیلئے ایک اجر ہے۔ “ (3) صواب کا قصد کیا مگر کسی خارجی سبب کے باعث خطا ہوئی جیسے ایک شخص شکار پر تیر لگانا چاہتا تھا کہ انسان کو لگ گیا تو یہ معذور ہے ۔ (4) یہ کہ فعل قبیح کا قصد کرتا تھا لیکن اس سے اپنے مقصد کے خلاف واقع ہوا تو کہا جائے گا کہ اس نے اپنے قصد میں خطا کی اور جو اس نے پایا وہ صواب یعنی درست ہے۔ “ زیر نظر آیت میں فرمایا گیا ہے کہ ” جس دن روح القدس اور دوسرے سارے فرشتے صف باندھ کر کھڑے ہوں گے لیکن وہ بات نہ کرسکیں گے سوائے ان کے کہ جسے رحمٰن نے اجازت دی ہوگی اور وہ ٹھیک ٹھیک بات کہے گا اس میں کسی طرح کی خطا نہیں ہوگی۔ “ اس میں گویا کہ جلال خداوندی کو بیان کیا جا رہا ہے کہ اس وقت یہ عالم ہوگا کہ سب چپ اور دم بخود ہوں گے کسی میں لب ہلانے کی جرأت بھی نہ ہوگی البتہ وہ متقین لوگ جن کو بات کرنے کا حکم ملے گا کہ وہ اپنی گزارشات پیش کریں اور اپنی التجائیں پیش کریں وہ کچھ کہیں گے مگر جو کچھ وہ کہہ سکیں گے وہ وہی ہوگا جس کے متعلق ان کو بات کرنے کی اجازت دی جائے گی علاوہ ازیں کسی دوسرے موضوع پر بات کرنا ویسے ہی رد ادب ہے اور کوئی اس کی ہمت بھی نہیں کرے گا۔ “ اتنی بات تھی ، ہے اور رہے گی لیکن سفارش کرانے والوں نے اتنی گنجائش ملنے پر بھی حد کردی کہ اس بیان کو ایک مذاق بنا کر رکھ دیا کہ آپ سے شفاعت کرانے کے لئے اٹھے اور نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ میاں کو ریٹائر (Retire) کر کے تخت شاہی سے الگ کردیا اور نبی کریم ﷺ کو واں بٹھا کر احد کو احمد بنانے کا چکر دے دیا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ خود ہی اس چکر میں پھنس کر رہ گئے اور شاید اب وہ قیامت تک نکل بھی نہ سکیں۔
Ayah 78:39

ذٰلِكَ الْیَوْمُ الْحَقُّ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ مَاٰبًا Open ayah 78:39 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ﷺ وہ دن حق ہے ، پس جو شخص چاہے اپنے رب کے پاس اپنا ٹھکانا بنا لے

وہ حق ہے پس جو شخص چاہے اپنے رب کے پاس اپنا ٹھکانا بنا لے ۔ 39 (ذلک) یہ (الیوم الحق) بالکل حق ہے یعنی قیامت کا دن حق ہے اور اس کا آنا لازم اور ضروری ہے۔ جو شخص اس کے حق ہونے میں شک کرتا ہے وہ اس میں کمی بیشی نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس دن کافی نفسہ کوئی نقصان ہوگا کہ اگر سب مانیں گے تو وہ آئے گا ورنہ رک جائے گا نہیں ایسا کوئی معاملہ نہیں کوئی مانے یا نہ مانے کسی کے ماننے نہ ماننے سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس دن کو ہر حال میں آنا ہے اور وہ آ کر رہے گا اس کے لئے نہ تو اس کو کسی سے مشورہ کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی اس کا ماننے یا نہ ماننے سے کچھ نفع یا نقصان ہے یہ تو محض انسان کی اپنی مرضی کی بات ہے کہ وہ اگر چاہے تو اپنے رب ذوالجلال والا کرام کی طرف ٹھکانا پکڑے اور اگر نہ چاہے تو اس سے دور ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات نفع و نقصان سے پاک ہے ، اس میں اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ ہاں ! اس میں ماننے والوں کا اپنا فائدہ ہے کہ وہ اپنے رب کی طرف رجوع کرے تاکہ اس کی دنیا میں درست ہو اور اس کی آخرت بھی سنور جائے۔ ہاں ! جس کا جی چاہے وہ آج ہی اس راستہ پر چل پڑے تاکہ وہ فیصلہ کے دن سے پہلے اپنے ایمان کی توثیق کرا لے۔ ربنا وانا الحق حقاً
Ayah 78:40

اِنَّاۤ اَنْذَرْنٰكُمْ عَذَابًا قَرِیْبًا١ۖۚ۬ یَّوْمَ یَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ وَ یَقُوْلُ الْكٰفِرُ یٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ تُرٰبًا۠ Open ayah 78:40 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے تم کو عنقریب آنے والے عذاب سے ڈرا دیا ، اس دن ہر شخص (اپنے) ان (اعمال) کو جو اس نے آگے بھیجے ہیں (اپنی آنکھوں سے) دیکھ لے گا اور کافر کہے گا اے کاش ! کہ میں مٹی ہوتا

بلاشبہ ہم نے تم کو فریب آنے والے دن کے عذاب سے ڈرایا ہے ۔ 40 مقرر وقت کوئی بھی ہو وہ قریب ہی ہوتا ہے دور نہیں ہوتا لیکن اس جگہ (عذاباً قریباً ) سے مراد موت کا دن ہے جو ہر ایک انسان کے لئے انفرادی طور پر مقرر کیا گیا ہے اور جو اتنا قریب ہے کہ بس ابھی آیا کہ آیا اور جوں ہی کسی شخص کی موت واقع ہوگئی اس کی قیامت واقع ہوگئی کیونکہ اب موت کے بعد خواہ کروڑوں سال گزر جائیں یا ایک دن ؟ مرنے والے کے لئے ان کی نوعیت ایک ہی جیسی ہے کیونکہ اس کے لئے اب دوبارہ پیدا ہونا ایک ہی بار ہے اور وہ وہی آخرت کا مقررہ دن ہے۔ رہی یہ بات کہ موت کے دن کو (عذاباً ) کیوں کہا گیا ہے ؟ تو ظاہر ہے کہ موت فی الواقع ایک عذاب ہے کہ دو ایسے ساتھیوں کی جدائی کا وقت ہے جو ایک ساتھ اس دنیا میں آئے تھے اور اب دونوں کے الگ الگ ہونے کا نام موت ہے اور جدائی کا وقت خواہ کتنا ہی خوشی کا وقت کیوں نہ ہو ایک طرح کا عذاب ہے اس لئے جان کنی کے وقت کو عذاب کا وقت قرار دیا گیا ہے اور جس شخص پر بھی یہ وقت آتا ہے یا آئے گا خواہ وہ کتنا ہی کم کیوں نہ ہو بہرحال ایک عذاب ہے اور یہی وہ دن ہے جس دن انسان کو اپنی زندگی کا ایک ایک ورق ، ایک ایک حرف اور ایک ایک لمحہ یاد آئے گا کیونکہ اس نے جو کچھ آگے بھیاج ہوگا وہ یقینا اس کو یاد آئے گا اور ایسا لگے گا گویا سب کچھ اس کی آنکھوں کے سامنے پھر گیا ہے اور اس کے بعد کیا ہے ؟ بس ایک چیز ہے کہ انسان کا دوبارہ جی اٹھنا پھر جونہی دوبارہ جی اٹھنا اور اس دن کو اپنے سامنے پانا ہے جس دن سے دنیا میں وہ اناکر کرتا رہا تو جو اس پر گزرے گی اور خصوصاً اس شخص پر جو ساری زندگی کفر کرتا رہا یعنی اس دوبارہ زندگی سے انکار کرتا رہا اب وہ سوائے اس کے کیا کہے گا یہی کہ کاش جب میں مر گیا ہوتا تو مرا ہی رہتا اور اس وقت کبھی بھی زندہ نہ ہوتا ، کیوں ؟ اس لئے کہ اب دوزخ اس کو اپنے سامنے نظر آرہی ہے اور دوزخ کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے کہ کوئی اس کو خوشی سے قبول کرلے۔ بلاشبہ کافر کے اعمال کا مکمل نتیجہ جب اس کے سامنے کھول کر رکھ دیا جائے گا تو اس وقت اس کے سارے نشے ہرن ہوجائیں گے اور ساری نخوتیں خاک میں مل جائیں گی اور وہ بصد حسرت و یاس کہے گا کہ کاش ! میں مٹی میں مل کر مٹی ہوگیا ہوتا اور مجھے یہ روز بد کبھی دیکھنا نہ پڑتا لیکن اب جو ہونا تھا وہ ہوگیا اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ اسی مضمون پر ہم سورة النباء کی تفسیر کو ختم کر رہے ہیں اللھم اغفرلی وارحمتی و عافنی وارزقنی یوم القیامۃ انک انت الغفور الرحیم۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔