74. Surah Al-Muddaththir

المدثرThe Cloaked One · 56 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayahs 74:38–44

كُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ رَهِیْنَةٌۙ Open ayah 74:38 in the Quran reader

ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے رہن ہے

اِلَّاۤ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِؕۛ Open ayah 74:39 in the Quran reader

سوائے اصحاب یمین کے

فِیْ جَنّٰتٍ١ۛؕ۫ یَتَسَآءَلُوْنَۙ Open ayah 74:40 in the Quran reader

(وہ) باغوں میں (ہوں گے) اور پوچھتے ہوں گے

عَنِ الْمُجْرِمِیْنَۙ Open ayah 74:41 in the Quran reader

مجرموں سے

مَا سَلَكَكُمْ فِیْ سَقَرَ Open ayah 74:42 in the Quran reader

(کہ) تم کو کس بات نے دوزخ میں پہنچا دیا ؟

قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَۙ Open ayah 74:43 in the Quran reader

وہ (جواباً ) کہیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے

وَ لَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِیْنَۙ Open ayah 74:44 in the Quran reader

اور ہم محتاجوں کو کھانا بھی نہیں کھلاتے تھے

(ہر جان جو کچھ کمایا اس میں گرو ہے) یعنی اللہ کے ہاں ہر نفس اپنے اعمال کا قیدی ہوگا ،۔۔۔ بعض تفاسیر میں ہے کہ ہر نفس بسبب اپنے برے اعمال کے قیدی ہوگا۔۔۔ (مگر داہنے ہاتھ والے) جن کے اعمال صالحہ ہوں گے۔ وہ لوگ اعمال صالحہ کی وجہ سے آزاد ہوں گے ، جیسے راہن شے کو آزاد کردیتا ہے جو قرض ادا کردے۔ یہ اصحاب یمین ایسے (باغوں میں) رہنے والے (ہیں) جن کی حقیقت کوئی نہیں جانتا اور نہ ہی کوئی اس کی وسعت کو بیان کرسکتا ہے۔ یہی اہل یمین جنتوں کے اونچے محل پر ہوں گے اور دوزخ کو دیکھنے والے ہوں گے ، جو (دریافت کریں گے۔ مجرموں سے) یعنی مشرکین سے ان کے احوال ، (کہ کیا چیز لے گئی تمہیں جہنم میں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نہ تھے نمازیوں سے) یعنی اس کے فرض ہونے کا ہم اعتقاد نہ رکھتے تھے (اور نہیں کھلایا کرتے تھے مسکین کو) یعنی ان کو مال زکوۃ نہیں دیتے تھے ، اور زکوۃ کی فرضیت کے ہم منکر تھے۔
Ayahs 74:45–48

وَ كُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآئِضِیْنَۙ Open ayah 74:45 in the Quran reader

اور حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ ہم بھی باتیں بنایا کرتے تھے

وَ كُنَّا نُكَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِۙ Open ayah 74:46 in the Quran reader

اور ہم جزا و سزا کے دن کو جھٹلایا کرتے تھے

حَتّٰۤى اَتٰىنَا الْیَقِیْنُؕ Open ayah 74:47 in the Quran reader

یہاں تک کہ ہم کو اس یقینی بات سے سابقہ پیش آگیا

فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِیْنَؕ Open ayah 74:48 in the Quran reader

اب کسی سفارش کرنے والے کی کوئی سفارش ان کے کام نہ آئے گی

(اور بےہودہ بحثیں کرتے تھے بےہودہ گویوں کے ساتھ ساتھ) یعنی محمد عربی ، کی شان میں ہم بحث کرتے تھے اور ان کی غیبت میں مشغول ہوتے تھے۔ (اور ہم جھٹلایا کرتے تھے روز جزا کو) اور اسے ہم باور نہ کرتے تھے (یہاں تک کہ آگئی ہمیں موت) اور موت سے پہلے جو حالتیں تھیں جن میں سے بعض اوپر مذکور ہوئیں اسی حال میں ہم مرگئے توبہ کی توفیق نہ مل سکی اور ہم ایمان نہ لاسکے۔ (اب) اگر بفرض محال کوئی ان کی شفارش بھی کرے تو (نہ فائدہ دے گی انہیں شفاعت کرنے والوں کی شفاعت) شفاعت کے باب میں بنیادی بات یہ ہے کہ شفاعت وہی کرے گا جس کو رب کریم شفاعت کرنے کی اجازت مرحمت فرمائے گا۔ اور وہ اسی کے لیے شفاعت کرے گا جس کی شفاعت کرنے کا خدائے مہربان اذن عطا فرمائے گا ، اس لیے کوئی شفاعت کرنے والا مشرکین کی شفاعت کرے۔ یہ بات محال ہے ۔
Ayahs 74:49–51

فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِیْنَۙ Open ayah 74:49 in the Quran reader

پھر انہیں کیا ہوا ہے کہ وہ اس نصیحت سے منہ پھیرے ہوئے ہیں

كَاَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌۙ Open ayah 74:50 in the Quran reader

گویا وہ ڈرے ہوئے گدھے ہیں

فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍؕ Open ayah 74:51 in the Quran reader

جو شیر کو دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوئے ہیں

(تو انہیں کیا ہے کہ نصیحت سے روگردانی کرنے والے ہیں) یعنی قرآن اور اس کی ہدایات سے منہ پھیرتے ہیں (گویا کہ وہ بھڑکے ہوئے گدھے ہیں۔ بھاگے ہیں شیر سے) یا شکاری سے ، یا پھندے سے ، یا تیر انداز آدمی سے ، یا مختلف آوازوں سے ، یعنی جس طرح جنگلی گدھے ان چیزوں سے بھاگتے ہیں ، اس طرح وہ قرآن سننے سے بھاگتے ہیں اس واسطے کہ بات سننے والے کان اور نصیحت قبول کرنے والے دل نہیں رکھتے ہیں۔۔۔
Ayahs 74:52–53

بَلْ یُرِیْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ یُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةًۙ Open ayah 74:52 in the Quran reader

بلکہ ان میں سے ہر ایک شخص کی طلب یہ ہے کہ اس کو کھلے ہوئے صحیفے دے دیئے جائیں

كَلَّا١ؕ بَلْ لَّا یَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَؕ Open ayah 74:53 in the Quran reader

ہرگز نہیں ، (حقیقت یہ ہے کہ) وہ آخرت سے نہیں ڈرتے

(بلکہ چاہتا ہے ہر شخص ان کا کہ دیے جاتے الگ الگ صحیفے) سر کھلے بےمہر اس مضمون کے کہ اے فلاں ! محمد کی پیروی کرو۔ (ہرگز نہیں) دیے جائیں گے ان کو یہ نامے ، اور اگر دیے بھی جائیں تو بھی وہ ایمان نہ لائیں گے ، پس ان کا انکار اس واسطے نہیں کہ نامہ نہیں دیا جاتا ، (بلکہ وہ ڈرتے ہی نہیں آخرت) کے عذاب (کو) ۔
Ayahs 74:54–56

كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذْكِرَةٌۚ Open ayah 74:54 in the Quran reader

ہرگز نہیں ، بلکہ یہ ( قرآن کریم) تو ایک نصیحت ہے

فَمَنْ شَآءَ ذَكَرَهٗؕ Open ayah 74:55 in the Quran reader

پھر جو چاہے وہ اس سے نصیحت حاصل کرے

وَ مَا یَذْكُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَ اَهْلُ الْمَغْفِرَةِ۠ Open ayah 74:56 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر اسلام ! ) وہ لوگ تو نصیحت تب ہی قبول کریں گے جب اللہ چاہے گا ، وہی ہے جس سے ڈڑنا چاہیے اور وہی ہے جس سے مغفرت طلب کرنی چاہیے

(نہیں کیا) ہاں ہاں بیشک ! یہ قرآن وہ نہیں جو کفار کہتے ہیں کہ آدمی کا کلام ہے ۔ یا۔۔ سحر ہے ، بلکہ (بلاشبہ یہ نصیحت ہے۔ تو جس نے چاہا نصیحت لی اس سے ۔ اور) یہ بھی اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہے ، کہ (نہیں نصیحت حاصل کرتے مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ) (چاہے) ۔ ایں سعادت بزور بازو نیست ۔۔۔۔ تا نہ بخشد خدائے بخشندہ۔ تو (وہی ڈرنے کے لائق ) ہے ۔ تو چاہیے کہ اسی کا خوف رکھا جائے ، (اور) وہی (مغفرت ) فرمانے (والا ہے) یعنی مغفرت فرمانا اسی کی شان ہے ۔