Ayah 73:20آپ ﷺ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں ؓ کی حالت کو اللہ خو جانتا ہے
۔ 20 زیر نظر آیت مہمات قرآنی میں سے ہے اور اس کا مضمون خود اس پر دال ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں کی پہچان نہایت آسان ہے اگر ذرا اس معاملہ میں غور و فکر سے کام لیا جائے تو حق اور ناحق کو اس طرح واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ کسی طرح کا شک و شبہ ہی باقی نہیں رہتا۔ اب ہم اس کی تفصیل میں گئے بغیر قرآن کریم کی آیت کے ترجمہ سے اس بات کو معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ یہ بات سب پر عیاں ہوجائے۔ ارشاد الٰہی ہے کہ :
” بلاشبہ تیرا رب جانتا ہے کہ آپ اور آپ کے ساتھیوں میں سے کچھ لوگ قریب دو تہائی رات اور کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات میں کھڑے رہتے ہیں “ جونہی نبی اعظم و آخر ﷺ کو نبوت و رسالت کے لئے چن لیا گیا اور نبوت و رسالت کیلئے انتخاب کر لئے گئے اس وقت سے لے کر آج تک اور آج سے لے کر قیامت تک کے لوگوں میں سے آپ کے ساتھیوں کی ایک نشانی اس طرح واضح فرما دی کہ اس کو دیکھ کر فوراً پہچانا جا سکات ہے کہ کھرا کون ہے اور کھوٹا کون ہے ؟ ابھی اسلام کی ابتدا تھی اور نماز پنج وقتہ فرض نہیں ہوئی تھی اور آپ کو حکم ملا تھا کہ آپ رات کو اٹھیں اور نماز تہجد کے لئے قیام کریں اور جو قرآن کریم آپ پر اتر رہا ہے اس کی تلاوت کیا کریں کیونکہ آپ پر جو ایک بہت بھاری بوجھ پڑنے والا ہے اس کے لئے آپ اچھی طرح تیار ہوجائیں گے۔ آپ راتوں کو اٹھتے اور بیت اللہ کی طرف منہ کرلیتے ، سدڑھے بیت اللہ میں آ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول و مصروف ہوجاتے اور رات کے اس قیام میں مشغول ہوتے تو آپ کے ساتھی اس کو معلوم کر کے خود بخود ہی اس کام میں آپ کے شریک کار ہوگئے اور آپ کے انتظار میں آپ سے بھی پہلے پہنچنا شروع ہوگئے۔ آپ نے رات کے دو تہائی حصہ قیام کیا تو ساتھی ساتھ رہے۔ آپ نے آدھی پچھلی رات قیام کیا تو ساتھیوں کو ساتھ پایا اور آپ نے تیسرا حصہ رات کا قیام فرمایا تو آپ نے ساتھیوں کو اپنے ساتھ پایا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کو آپ کے ساتھیوں کی اس حالت اور اس شوق و ذوق کا ذکر کرنا پڑا اور زیر نظر آیت میں آپ کے ساتھیوں کے نشان میں یہ پہلا نشان قرار پایا جس کے ماحصل میں ایک تو قیام رات کا معلوم ہوگیا اور دوسری یہ بات سمجھ میں آگئی کہ آپ کے سچے اور پکے ساتھیوں کی نشانیوں میں سے ایک یہ نشانی بھی ہے کہ وہ آپ کی نقل و حرکت کا خیال رکھتے ہیں اور ہر وہ حرکت ان کو پسند ہے جو رسول اللہ ﷺ نے کی ہے اور ہر اس حرکت کو وہ ترک کرنے پر کمر بستہ ہوجاتے ہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ نے نہیں کی۔ اس طرح گویا انہوں نے اپنی زندگیوں کو اس کام کے لئے وقف (Donate) کردیا ہے کہ زمانہ کچھ کرے ، کچھ کہے ، خاندان کچھ کرے ، مکتبہ فکر کچھ کہے اور کچھ کرے ان کی بلا سے وہ ان میں سے کسی ایک چیز کے پابند نہیں۔ ان کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا ہے تو وہ صرف اور صرف آپ کا اسوہ حسنہ ہے۔ ان کو اس سے کوئی بحث نہیں کہ آپ نے ایسا کیوں کیا اور کیوں نہیں کیا اس لئے کہ آپ اللہ کے رسول تھے اور آپ کی پیروی میں اس طرح کی بات کو ذہن نشین کرنے کی کوئی ضرورت نہ اس وقت تھی اور نہ اب ہے اور نہ ہی قیامت تک ہوگی اور کسی دوسرے کی پیروی اور فرمانبرداری میں کسی کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا خواہ وہ کون ہو ، کیا ہو اور کہاں ہو۔ یہ صرف آپ کا حق تھا اور رہے گا کہ بغیر کسی حیل و حجت وہ کام کیا جائے جو آپ آپ نے کیا اور بغیر کسی وجہ پوچھے اس کو چھوڑ دیا جائے جس کو آپ نے نہیں کیا یا کرنے کے بعد ترک کردیا۔
اس سورت کے شروع میں بتایا دیا گیا کہ یہ قیام آپ کے لئے مخصوص تھا۔ ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ وہ فرض تھا ، سنت تھا ، نقل تھا یا واجب تھا ؟ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ آپ کو اس کا حکم دیا گیا تھا لیکن آپ پر ایمان لانے والوں کے لئے اس میں اشارہ تک بھی نہیں پایا گیا تھا تاہم ماننے والوں کا حال یہ تھا کہ وہ آپ کو دیکھ کر بغیر کسی بات کے استفسار کرنے کے آپ کے ساتھ شریک قیام تھے اور ادھر یہ بات بھی ہے کہ آپ نے بھی ان کو اس معاملہ میں کچھ نہیں کہا کہ جب میں نے تم کو قیام کرنے کا حکم نہیں دیا تو تم لوگ کیسے قیام کرنے لگ گئے۔ اس لئے کہا آپ کے اس عملی حکم کی موجودگی میں قولی حکم کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ہاں ! اگر کوئی بات وضاحت کی ہوتی تو آپ خود اس کی وضاحت فرما دیتے جب آپ نے ایسی کوئی بات ارشاد نہیں فرمائی تو یہ سلسلہ برابر چلتا رہا اور اس کو رب ذوالجلال والا کرام نے بھی پسند فرمایا اور اس پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جو لوگ آپ کی پیروی کرنے کے لئے طرح طرح کے ڈھنگ اختیار کرتے ہیں اور وظائف کے طریقے ایجاد کرتے ہیں سب کے سب کھوٹے سکے ہیں جن کی اسلام میں قطعاً کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں ہے خواہ وہ اس کے کرنے والا ، بنانے والا کون ہے ، کہاں ہے اور کیسا ہے ؟ کیونکہ یہ اتھارٹی (Athorty) صرف اور صرف آپ کو حاصل ہے کسی دوسرے کو حاصل نہیں خواہ وہ کون ہو ؟ آج جس طرح لوگوں نے اپنے اپنے مسلک اور اپنے اپنے مسلک کے طور طریقے اختیار کر لئے ہیں کہ قادری ایسا کرتے ہیں اور سہروردی ایسا ، چشتیوں کا یہ طریقہ ہے اور نقشبندی اس طرح اعمال بجا لاتے ہیں سب کے سب لغو اور فضول ہیں۔ دین اسلام میں جو حیثیت نبی اعظم و آخر ﷺ کی ہے وہ کسی دوسرے کو نہیں دی جاسکتی اگر کوئی دے گا تو وہ شرک فی الرسالت کا مرتکب ہوگا خواہ وہ کوئی ہے ، کون ہے اور کیسا ہے ؟ اس وقت جتنی باتیں اور جتنی چیزیں ہم میں رواج پا گئی ہیں ایک ایک تجزیہ کرتے جائو اور نتیجہ خود دیکھتے جائو جس کے لئے کسوٹی تم کو اللہ کی کتاب نے عطا کردی ہے اگر وہ طریقہ آپ کا ہے تو مبارک ہے اگر آپ نے ارشاد نہیں فرمایا اور آپ نے ایسا نہیں کیا تو بغیر کسی حیل و حجت اس کو ترک کر دو اور اس معاملہ کی بحث و تمحیث میں نہ پڑو اور نہ اپنا وقت ضائع کرو ، نہ دوسروں کا۔
فرمایا ” رات اور دن کا اندازہ اللہ تعالیٰ ہی نے مقرر کیا ہے “ مطلب یہ ہے کہ کبھی رات بڑی ہوتی ہے اور کبھی دن اور ظاہر ہے کہ جب رات بڑی ہوگی تو دن کم ہوگا اور جب دن بڑا ہوگا تو رات کم ہوگی۔ اس لئے اس نے تمہاری آسانی کے لئے ہر موسم میں ایک جیسا وقت متعین نہیں کیا جس طرح اس معاملہ میں تمہارے حالات بدلتے ہیں ان کے ساتھ تم بھی اس میں تھوڑی بہت تبدیلی کرنے کے مجاز ہو اور وقت کی کمی بیشی اپنے اختیار سے کم یا زیادہ کرسکتے ہو اور پھر یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وقت کے کم یا زیادہ ہونے کی اتنی اہمیت نہیں جتنی اہمیت نیت کی صفائی کو حاصل ہے کیونکہ نیت کی صفائی پر عمل کا سارا دار و مدار ہے اس لئے آپ نے ارشاد فرمایا ہے کہ (انما الاعمال بالنیات) اعمال کا دار وم دار نیت پر ہے۔
” وہ جانتا ہے کہ تم لوگ اس کو نباہ نہ سکوں گے اس لئے اس نے تم پر مہربانی فرمائی “ مطلب یہ ہے کہ انسان کی حالت ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہوتی اور نہ ہی شوق و ذوق ہمیشہ ایک جیسا ہوتا ہے۔ عمر کے ساتھ ساتھ حالات خود بخود تبدیل ہوتے چلے جاتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے تمہارے ذوق و شوق کا ذکر بھی کیا ، تمہارے کام کو بھی بہت پسند کیا لیکن اس کے باوجود تمہارے لئے رات کا قیام نہ تو فرض قرار دیا اور نہ ہی اس کے لئے وقت کو مقرر کیا کہ اتنا وقت تم ضرور رات کو اٹھور ورنہ یہ ہوگا اور وہ ہوگا۔ نہیں ایسی کوئی بات نہ اس نے کی اور نہ ہی وہ ایسی باتیں کرتا ہے۔ اس معاملہ میں اللہ نے تم پر یہ خاص فضل کیا کہ تمہارے لئے کوئی وقت مقرر نہیں کیا اور اس کو صرف تمہارے شوق و ذوق ہی پر چھوڑ دیا کہ جتنا تم آسانی کے ساتھ جاگ سکتے ہو جاگ لو اور جتنا آسانی کے ساتھ قرآن کریم پڑھ سکتے ہو پڑھ لو نہ تو اللہ تعالیٰ نے تم پر وقت فرض کیا اور نہ قرآن کریم کا کوئی خاص حصہ یا مقدار ضروری قرار دیا اور رسول اللہ ﷺ کا اسوہ حسنہ تمہارے لئے کفایت کرتا ہے کہ اگر رات کو اٹھ سکتے ہو تو گیارہ رکعات ادا کر دو اس میں 8 نفل اورت ین و تر ہوں گے۔ پانچ معلوم سے دو دو رکعت کر کے ادا کرلو اور ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیر دو پھیر صبح کی دو سنتیں بالکل ہلکی سی پڑھ کر صبح کی نماز کے لئے انتظار کرو۔ پھر خلس میں صبح کی نماز ادا کرو۔ اگر مزید آسانی کی ضرورت ہے تو عشاء کی نماز با جماعت ادا کرو اور صبح کی نماز با جماعت ادا کر کے ساری رات کے قیام کا اجر وثواب حاصل کرلو۔ دینے والا تم پر خوشی سے جو انعام دیتا ہے اس سے اور بھی فائدہ اٹھا لو اور آسانی میں بھی رہو اور تھوڑا عمل اور مسلسل عمل کر کے اپنے آپ کو کسی اصول کا پابند بنا لو جس میں تمہارے لئے بھی آسانی ہوگی اور تمہارے لواحق کے لئے بھی۔
” بس تم سے جتنا آسانی کے ساتھ قرآن کریم پڑھا جاسکتا ہے اتنا پڑھ لو ‘ ذ اپنے اوپر ناجائز قیود نہ لگائو جس کو نبھانا تمہارے لئے وبال جان بن جائے۔ آج تم میں ہمت ہے شاید کل اتنی نہ رہے۔ آج تمہارے پاس وقت ہے شاید کل اتنا وقت نہ رہے۔ آج تم پر دنیاوی بوجھ کم ہے اور کل نہ معلوم زیادہ ہوجائے اس طرح کی باتیں اپنے ذہن میں رکھو اور ایسا لائحہ عمل تیار کرو جس کو آسانی کے ساتھ نباہ سکو۔ دیکھو تم پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی اور تم خود بھی اپنے اوپر پابندیاں مت لگائو جو پابندیاں شریعت نے لگائی ہیں ان کو پورا کرنے کی سعی و کوشش کرو۔ غور کرو کہ اسلام نے عشاء کی نماز فرض کی۔ یہ پابندی ہے اور صبح کی نماز فرض کی یہ پابندی ہے۔ اب اس پابندی کو پورا کرو کہ با جماعت نماز ادا کرنے کی سعی و کوشش کرو اور اس پر دوام کرو۔ باقی رات کے وقت جتنا وقت آسانی سے اٹھ سکتے ہو اپنے حالات کے مطابق اتنا ہی جاگ لو لیکن ہاں ! اس طرح جاگو کہ کسی دوسرے کو کانوں کان خبر نہ ہو اگر دوسروں کو تم نے بیزار کیا تو فائدہ کے بجائے نقصان کرلیا۔ اٹھ کر بیٹھے تو دوسروں پر آوازے کسنے شروع کردیئے اور سب لوگوں کو بیزار کردیا۔ اس لئے ان ساری باتوں کا خیال رکھتے ہوئے جو کچھ تم کو آسانی سے میسر آئے اس کو کرو۔ اللہ تمہاری ہر حرکت سے ہر آن واقف ہے۔
” اس کے علم میں ہے کہ تم میں سے بعض بیمار بھی ہو سکتے ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنے کیلئے کہاں سے کہاں تک سفر میں رہتے ہیں اور وہ ان کو بھی اسی طرح جانتا ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے میں مصروف ہیں خواہ وہ جہاد بالسیف ہے یا جہاد بالقلم یا کسی دوسری جدوجہد میں مصروف ہیں تاکہ لوگوں کو ان کے وجود سے آسانیاں میسر آئیں اور وہ دن رات تجربات میں مصروف ہیں “ اس کو معلوم ہے کہ تم سب کی حالت یکساں نہیں ہے اور تمہارے حالات میں اختلاف ہے اور تمہارے کام بھی مختلف ہیں اور تمہارے کام کی نوعتا بھی مختلف ہے۔ ان ساری باتوں کا اس کو علم ہے اسی بنا پر اس نے تم پر کسی طرح کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ہاں ! اس نماز کا ماحصل یہ ہے کہ تم جس حال میں بھی ہو اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوی میں سستی نہ کرو۔ اگر تم جہاد میں مصروف ہو تو تمہاری نیت میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہو ، اگر تم تاجر ہو تو تجارت کو ان خطوط پر چلائو جو خطوط اسلام نے متعین کئے ہیں اور خصوصاً یہ ہے کہ تم لوگ مال تجارت کو محض رقم کے بڑھانے کے لئے مت روکو اگر تم نے اشیاء خوردنی کو روک لیا اور مہنگے داموں فروخت کرنے کے لئے اس نیت سے روک رکھا تو تمہاری تہد ادا کرنے سے تم کو کچھ فائدہ نہ ہوگا بلکہ وہ تو الٹا تمہارا نقصان کرے گی کہ تم نے تہد گزار ہو کر لوگوں کو اس دھوکا میں مبتلا کیا کہ سیٹھ تہد گزار ہے اور اس ظاہری نیکی سے تم نے لاکھوں کمائے اس طرح ایک ایک بات پر غور کرتے جائو گے تو تم کو خود بخود راہنمائی حاصل ہوتی چلی جائے گی اور خصوصاً جب اپنی حالت پر غور کرو گے تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ اس آپ کے ساتھ شریک قیام تھے اور ادھر یہ بات بھی ہے کہ آپ نے بھی ان کو اس معاملہ میں کچھ نہیں کہا کہ جب میں نے تم کو قیام کرنے کا حکم نہیں دیا تم تم لوگ کیسے قیام کرنے لگ گئے۔ اس لئے کہ آپ کے اس عملی حکمت کی موجودگی میں قولی حکم کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ہاں ! اگر کوئی بات وضاحت کی ہوتی تو آپ خود اس کی وضاحت فرما دیتے جب آپ نے ایسی کوئی بات ارشاد نہیں فرمائی تو یہ سلسلہ برابر چلتا رہا اور اس کو رب ذوالجلال والا کرام نے بھی پسند فرمایا اور اس پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جو لوگ آپ کی پیروی کرنے کیلئے طرح طرح کے ڈھنگ اختیار کرتے ہیں اور وظائف کے طریقے ایجاد کرتے ہیں سب کے سب کھوٹے سکے ہیں جن کی اسلام میں قطعاً کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں ہے خواہ وہ اس کے کرنے والا ، بنانیوالا کون ہے ، کہاں ہے اور کیسا ہے ؟ کیونکہ یہ اتھارٹی (Athorty) صرف اور صرف آپ کو حاصل ہے کسی دوسرے کو حاصل نہیں خواہ وہ کون ہو ؟ آج جس طرح لوگوں نے اپنے اپنے مسلک اور اپنے اپنے مسلک کے طور طریقے اختیار کر لئے ہیں کہ قادری ایسا کرتے ہیں اور سہروردی ایسا ، چشتیوں کا یہ طریقہ ہے اور نقشبندی اس طرح اعمال بجا لاتے ہیں سب کے سب لغو اور فضول ہیں۔ دین اسلام میں جو حیثیت نبی اعظم و آخر ﷺ کی ہے وہ کسی دوسرے کو نہیں دی جاسکتی اگر کوئی دے گا تو وہ شرک فی الرسالت کا مرتکب ہوگا خواہ وہ کوئی ہے ، کون ہے اور کیسا ہے ؟ اس وقت جتنی باتیں اور جتنی چیزیں ہم میں رواج پا گئی ہیں ایک ایک کا تجزیہ کرتے جائو اور نتیجہ خود دیکھتے جائو جس کے لئے کسوٹی تم کو اللہ کی کتاب نے عطا کردی ہے اگر وہ طریقہ آپ کا ہے تو مبارک ہے اگر آپ نے ارشاد نہیں فرمایا اور آپ نے ایسا نہیں کیا تو بغیر کسی حیل و حجت اس کو ترک کر دو اور اس معاملہ کی بحث و تمحیث میں نہ پڑو اور نہ اپنا وقت ضائع کرو ، نہ دوسروں کا۔
فرمایا ” رات اور دن کا اندازہ اللہ تعالیٰ ہی نے مقرر کیا ہے “ مطلب یہ ہے کہ کبھی رات بڑی ہوتی ہے اور کبھی دن اور ظاہر ہے کہ جب رات بڑی ہوگی تو دن کم ہوگا اور جب دن بڑا ہوگا تو رات کم ہوگی۔ اس لئے اس نے تمہاری آسانی کے لئے ہر موسم میں ایک جیسا وقت متعین نہیں کیا جس طرح اس معاملہ میں تمہارے حالات بدلتے ہیں ان کے ساتھ تم بھی اس میں تھوڑی بہت تبدیلی کرنے کے مجاز ہو اور وقت کی کمی بیشی اپنے اختیار سے کم یا زیادہ کرسکتے ہو اور پھر یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ کی ہاں وقت کے کم یا زیادہ ہونے کی اتنی اہمیت نہیں جتنی اہمیت نیت کی صفائی کو حاصل ہے کیونکہ نیت کی صفائی پر عمل کا سارا دار و مدار ہے اس لئے آپ نے ارشاد فرمایا ہے کہ (انما الاعمال بالنیات) اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے۔
” وہ جانتا ہے کہ تم لوگ اس کو نباہ نہ سکو گے اس لئے اس نے تم پر مہربانی فرمائی “ مطلب یہ ہے کہ انسان کی حات ہمیشہ ایک جیسی نہیں ہوتی اور نہ ہی شوق و ذوق ہمیشہ ایک جیسا ہوتا ہے۔ عمر کے ساتھ ساتھ حالات خود بخود تبدیل ہوتے چلے جاتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے تمہارے ذوق و شوق کا ذکر بھی کیا ، تمہارے کام کو بھی بہت پسند کیا لیکن اس کے باوجود تمہارے لئے رات کا قیام نہ تو فرض قرار دیا اور نہ ہی اس کے لئے وقت کو مقرر کیا کہ اتنا وقت تم ضرور رات کو اٹھو ورنہ یہ ہوگا اور وہ ہوگا۔ نہیں ایسی کوئی بات نہ اس نے کی اور نہ ہی وہ ایسی باتیں کرتا ہے۔ اس معاملہ میں اللہ نے تم پر یہ خاص فضل کیا کہ تمہارے لئے کوئی وقت مقرر نہیں کیا اور اس کو صرف تمہارے شوق و ذوق ہی پر چھوڑ دیا کہ جتنا تم آسانی کیساتھ جاگ سکتے ہو جاگ لو اور جتنا آسانی کے ساتھ قرآن کریم پڑھ سکتے ہو پڑھ لو نہ تو اللہ تعالیٰ نے تم پر وقت فرض کیا اور نہ قرآن کریم کا کوئی خاص حصہ یا مقدار ضروری قرار دی اور رسول اللہ ﷺ کا اسوہ حسنہ تمہارے لئے کفایت کرتا ہے کہ اگر رات کو اٹھ سکتے ہو تو گیارہ رکعات ادا کر دو اس میں 8 نفل اور تین وتر ہوں گے۔ پانچ معلوم سے دو دو رکعت کر کے ادا کرلو اور ایک رکعت پڑھ کر سلام پھیر دو پھر صبح کی دو سنتیں بالکل ہلکی سی پڑھ کر صبح کی نماز کے لئے انتظار کرو۔ پھر خلس میں صبح کی نماز ادا کرو۔ اگر مزید آسانی کی ضرورت ہے تو عشاء کی نماز با جماعت ادا کرو اور صبح کی نماز با جماعت ادا کر کے ساری رات کے قیام کا اجر وثواب حاصل کرلو۔ دینے والا تم پر خوشی سے جو انعام دیتا ہے اس سے اور بھی فائدہ اٹھا لو اور آسانی میں بھی رہو اور تھوڑا عمل اور مسلسل عمل کر کے اپنے آپ کو کسی اصول کا پابند بنا لو جس میں تمہارے لئے بھی آسانی ہوگی اور تمہارے لواحق کے لئے بھی۔
” بس تم سے جتنا آسانی کے ساتھ قرآن کریم پڑھا جاسکتا ہے اتنا پڑھ لو “ اپنے اوپر ناجائز قیود نہ لگائو جس کو نبھانا تمہارے لئے وبال جان بن جائے۔ آج تم میں ہمت ہے شاید کل اتنی نہ رہے۔ آج تمہارے پاس وقت ہے شاید کل اتنا وقت نہ رہے۔ آج تم پر دنیا بوجھ کم ہے اور کل نہ معلوم زیادہ ہوجائے اس طرح کی باتیں اپنے ذہن میں رکھو اور ایسا لائحہ عمل تیار کرو جس کو آسانی کے ساتھ نباہ سکو۔ دیکھو تم پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی اور تم خود بھی اپنے اوپر پابندیاں مت لگائو اور جو پابندیاں شریعت نے لگائی ہیں ان کو پورا کرنے کی سعی و کوشش کرو۔ غور کرو کہ اسلام نے عشاء کی نماز فرض کی۔ یہ پابندی ہے اور صبح کی نماز فرض کی یہ پابندی ہے۔ اب اس پابندی کو پورا کرو کہ با جماعت نماز ادا کرنے کیسعی و کوشش کرو اور اس پر دوام کرو۔ باقی رات کے وقت جتنا وقت آسانی سے اٹھ سکتے ہو اپنے حالات کے مطابق اتنا ہی جاگ لو لیکن ہاں ! اس طرح جاگو کہ کسی دوسرے کو کانوں کان خبر نہ ہو اگر دوسروں کو تم نے بیزار کیا تو فائدہ کے بجائے نقصان کرلیا۔ اٹھ کر بیٹھے تو دوسروں پر آوازے کسنے شروع کردیئے اور سب لوگوں کو بیزار کردیا۔ اس لئے ان ساری باتوں کا خیال رکھتے ہوئے جو کچھ تم کو آسانی سے میسر آئے اس کو کرو۔ اللہ تمہاری ہر حرکت سے ہر وقت اور ہر آن واقف ہے۔
” اس کے علم میں ہے کہ تم میں سے بعض بیمار بھی ہو سکتے ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کا فضل تلاش کرنے کے لئے کہاں سے کہاں تک سفر میں رہتے ہیں اور وہ ان کو بھی اسی طرح جانتا ہے جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے میں مصروف ہیں خواہ وہ جہاد بالسیف ہے یا جہاد بالقلم یا کسی دوسری جدوجہد میں مصروف ہیں تاکہ لوگوں کو ان کے وجود سے آسانیاں میسر آئیں اور وہ دن رات تجربات میں مصروف ہیں ‘ ذ اس کو معلوم ہے کہ تم سب کی حالت یکساں نہیں ہے اور تمہارے حالات میں اختلاف ہے اور تمہارے کام بھی مختلف ہیں اور تمہارے کام کی نوعیت بھی مختلف ہے۔ ان ساری باتوں کا اس کو علم ہے اسی بنا پر اس نے تم پر کسی طرح کی کوئی قید نہیں لگائی۔ ہاں ! اس نماز کا ماحصل یہ ہے کہ تم جس حال میں بھی ہو اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری میں سستی نہ کرو۔ اگر تم جہاد میں مصروف ہو تو تمہاری نیت میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہو ، اگر تم تاجر ہو تو تجارت کو ان خطوط پر چلائو جو خطوط اسلام نے متعین کئے ہیں اور خصوصاً یہ ہے کہ تم لوگ مال تجارت کو محض رقم کے بڑھان یکے لئے مت روکو اگر تم نے اشیاء خوردنی کو روک لیا اور مہنگے داموں فروخت کرنے کے لئے اس نیت سے روک رکھا تو تمہاری تہجد ادا کرنے سے تم کو کچھ فائدہ نہ ہوگا بلکہ وہ تو الٹا تمہارا نقصان کرے گی کہ تم نے تہجد گزار ہو کر لوگوں کو اس دھوکا میں مبتلا کیا کہ سیٹھ تہد گزار ہے اور اس ظاہری نیکی سے تم نے لاکھوں کمائے اس طرح ایک ایک بات پر غور کرتے جائو گے تو تم کو خود بخود راہنمائی حاصل ہوتی چلی جائے گی اور خصوصاً جب اپنی حالت پر غور کرو گے تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ اس معاملہ میں تمہاری اپنی حالت کیا ہے اور اس طرح جب اور جہاں کچھ کمزوری نظر آئے تو اس کو خود دور کرنے کی کوشش کرو گے تو ان شاء اللہ اصلاح ہوگی اور کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔
” اس لئے تم اتنا ہی قیام کرو اور اتنا ہی قرآن کریم پڑھو جتنا آسانی سے پڑھ سکتے ہو “ یہ بات دوسری بار پھر ارشاد فرمائی کہ آرام و سکون کے ساتھ جتنا وقت آرام کے ساتھ تم رات کو جاگ سکتے ہو جاگو اور جتنا آرام سے قیام کرسکتے ہو اتنا ہی لمبا قیام کرو اور جو کچھ کرو اس میں اللہ تعالیٰ کی مرضی تمہارے پیش نظر رہے اور اس کا تعیین اپنی حالت کے پیش نظر خود کرسکتے ہو تو مضائقہ نہیں کیونکہ ایک رکعت میں ایک آیت بڑی یا تین آیات چھوٹی سے پچاس پچاس آیتوں تک ایک حد مقرر کرنا چاہتے ہو تو متوسط طریقہ سے کرسکتے ہو۔
” ہاں ! فرض نماز کا ادا کرنا بہت ضروری ہے اس کا خیال رکھو اور فرض زکوۃ کا ادا کرنا بہت ضروری ہے اس کو ذہن نشین کرنا اور علاوہ ازیں جو کچھ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرسکتے ہو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں گویا تمہارا قرض ہے جو تم کو واپس ملے گا۔ “ ایک دن رات میں پانچ نمازیں فرض کردی گئی ہیں ان کی پابندی کرو اور جماعت کو اپنے اوپر لازم کرلو کہ با جماعت نمازیں ادا کرو اس طرح ایک صدقہ تم پر فرض ہے جس کو صرف اسلام میں زکوۃ کے نام سے معروف کیا گیا ہے اس کا ادا کرنا لازم و ضروری ہے اس کا خیال رکھو باقاعدہ حساب کتاب کر کے اپنے مال کی زکوۃ ادا کرو اور یاد رکھو کہ اس طرح تم اپنے مال کا نقصان نہیں کروں گے بلکہ مال کو عند اللہ بڑھائو گے اگرچہ اس کی حقیقت تمہاری سمجھ میں آئے یا نہ آئے اس فرض کو ادا کرنا لازم کرلو اور علاوہ ازیں جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے گویا اس مال کو اللہ کے ہاں محفوظ کرلو گے اور وہ اس روز تمہارے کام آئے گا جس روز کسی کے پاس کچھ نہیں ہوگا یعنی میدان حشر میں قیامت کے دن کے لئے اس مال کو محفوظ کرلو اور خود اپنے ہاتھوں اس کی ادائیگی کرو اس کو اپنے مرنے تک مئوخر نہ کرو کیونکہ زندگی میں جب ساری ضرورتیں اور حوائج تمہارے ساتھ ہوں اس مال کو خرچ کرنا عند اللہ جو قدر رکھتا ہے وہ مرنے کے بعد خرچ کرنے کی اہمیت نہیں ہو سکتی اور نہ ہی دوسروں کا خرچ کیا ہوا مال کمانے والے کے کام آسکتا ہے۔ یہ نظریہ معلوم نہیں کہ آج کل ہماریاس ملائیت نے کہاں سے ادھار مانگا ہے تاکہ ان کے پیٹ کا دھندا چلتا رہے لیکن اس کی وضاحت کی اس جگہ ضرورت نہیں اگر وضاحت درکار ہو تو عروۃ الوثقی جلد ہفتم میں سورة لقمان کی آیت 43 کی تفسیر دیکھیں وہاں اس مسئلہ کی مکمل وضاحت ان شاء اللہ آپ کو مل جائے گی۔
” اور تم جو بیر نیک عمل اپنے لئے پہلے بھیجو گے اسے تم اللہ کے ہاں بہتر صورت میں پائو گے جس کا اجر تم کو بہت ملے گا “ جیسا کہ پیچھے تم کو سورة لقمان کو دیکھنے کا میں نے اشارہ دیا تھا تفصیل کے لئے بیشک دیکھو بلکہ ضرور دیکھو لیکن زیر نظر الفاظ میں ذرا غور کرلو کہ اللہ تعالیٰ کس قدر وضاحت سے ارشاد فرما رہے ہیں کہ : (ماتقدموا لانفسکم من خیر) ” جو تم اپنے لئے اپنے آنے سے پہلے اپنی زندگی میں خود مال صرف کرو گے اس کا اجر عند اللہ محفوظ پائو گے “ یہ اللہ کا کلام ہے اور مسلمانوں کا اس پر ایمان ہونے کے باوجود عوام کی خواہش بھی یہی ہوتی ہے کہ ہم کچھ خرچ کریں محض اپنے وڈیروں یعنی ماں باپ اور اسی طرح اپنے مرنے والوں کے لئے نام بنام خرچ کریں اور ملائیت نے ان کو وثوق دلا دیا ہے کہ بس مال ہم کو دے دو ہماری ملک میں آنے دو ، ہم اس کو پہنچانے کا گر جانتے ہیں اسلئے ان کو ضرور پہنچا دیں گے۔ ہاں ! اگر سارا نہیں تو کچھ حصہ تو بہرحال آپکو دینا ہی پڑے گا ورنہ تمہارا دیا ہوا تمہارے بزرگوں تک پہنچ نہیں سکے گا اور مال ضائع ہونے کا احتمال باقی رہے گا۔ لیکن قرآن کریم کے الفاظ اس بات کی تائید کرتے ہیں ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر مال خرچ کرنے والوں کو آخر قرآن کریم کا بنایا ہوا اور سمجھایا ہوا طریقہ کیوں پسند نہیں۔ کیا اللہ کے کلام کا موازنہ کسی دوسرے انسان کے کلام ، دوسرے انسان کے فعل ، قول اور عمل سے کیا جاسکتا ہے ؟ کیا قرآن کریم کے اس نظریہ کے خلاف جو اس جگہ بیان ہوا ہے کہ : (ماتقدموا لا نفسکم) کیا اس کا ترجمہ اس طرح کیا جاسکتا ہے کہ ” جو کچھ تم آگے بھیجو گے اپنے لگوگوں کے لئے ” آئو جتنے تراجم اس وقت تک ہوچکے ہیں خواہ وہ کس کس نے کئے ہیں اور کس کس زمانے میں کئے ہیں اس میں انگریزی بھی ہیں اردو بھی ، کسی دوسری زبان میں بھی ، ان سب کو جمع کرو اور ایک ایک کر کے دیکھتے چلے جائویہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہے کہ آج تک کسی نے بھی (لانفسکم) کا ترجمہ اپنے لوگوں ، اپنے مرنے والوں کے لئے نہیں کیا بلکہ سب نے جو ترجمہ کیا ہے ان میں اس بات کو محلوظ خاطر رکھا گیا کہ ” جو کچھ بھلائی تم اپنے لئے آگے بھوج گے۔ “ ” تم آگے بھیجو گے اپنے لئے “ ” جو کچھ تم اپنی جانوں کے لئے آگے بھیجو گے “ اسی طرح کا ترجمہ پائو گے۔ اب بھی اگر اس بات پر کسی کا دل چین نہ پائے تو ہم کیا کہہ سکتے ہیں مگر یہی کہ اللہ سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمارا ماحول ہی کچھ اس طرح کا بن چکا ہے کہ قرآن کریم کے دیئے ہوئے نظریات و عقائد کا خلاف کر کے ہم خوش ہوتے ہیں اور ہمارے دلوں کو چینآتا ہے اور قرآن کریم کے مطابق کرنے پر ہمارا جی نہیں لگتا اور اس کی باتیں ہماری قوم کے دلوں میں بالکل نہیں جمتیں اور پھر تعجب ہے کہ اس وقت اسلامی گروہ سارے کے سارے اور ان کے راہنما اس ڈگر پر چل نکلے ہیں خواہ کوئی کم ہے یا زیادہ۔ اگر مانیں گے تو مرنے والوں کو ، قدر و منزلت ہمارے دلوں میں آئے گی تو مرنے والوں کی ، ہم کچھ خرچ کرنا چاہیں گے تو مرنے والوں کے ناموں سے منسوب کریں گے۔ لیکن اس کے مقابلہ میں زندوں کی جو حالت ہمارے ہاں ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اس میں اگر کچھ قدر ہے تو وہ ان ہی لوگوں کو ہے جو خود شرک کے مرتکب ہوئے ہیں اور اس طرح شرک کی دعوت دے رہے ہیں ، وہ مرنے والوں کے ساتھ ساتھ کچھ زندوں کو بھی شریک ٹھہرانے میں ساتھ رکھیں گے یہ دسری بات ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم کو ، ہماری قوم کو حق سمجھنے اور حق پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ خیال رہے کہ کسی شخص کی نیک اولاد جو بھی کوئی نیک عمل کرتی ہے اس کے والدین کو حق سمجھنے اور حق پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ خیال رہے کہ کسی شخص کی نیک اولاد جو بھی کوئی نیک عمل کرتی ہے اس کے والدین کو حق بخود اس کا اجر بغیر کام کرنے والے کے اجر کے ضائع ہونے کے جو ملتا ہے اس کا انکار نہیں۔ لیکن ! اس میں ایصال ثواب اور نام بنام مردوں کے نام منسوب کرنے کا کوئی شائبہ تک بھی نہیں۔ وہ تو صرف یہ ہے کہ اگر والدین خود بھی نکو ہیں اور ان کو اللہ نے اولاد بھی صالح عطا کر دیتو چونکہ اولاد بھی والدین کے عمل سے تعلق رکھتی ہے لہٰذا اسی عمل کے باعث ان کا فائدہ تسلیم کرنا اور احادیث میں اس کی اس طرح وضاحت کا آنا صحیح اور درست ہے لیکن اس سے اس نظریہ کا کوئی بطلان نہیں ہے لیکن ہمارے ہاں کے مرنیوالوں کی رسومات جو دین کے نام سے یاد کی جاتی ہیں اور دین کے نام سے جو ان پر خرچ کیا جاتا ہے سب لغویات میں سے ہیں اس کی کوئی اصل موجود نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اصل بیان کی جاسکتی ہے سوائے اس کے کہ سب لوگ ایسا کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اگر یہ بھی کوئی دلیل ہے تو اس کا فیصلہ خود کریں۔
” اللہ سے بخشش طلب کرو بلاشبہ اللہ بخشنے والا اور پیار کرنے والا ہے “ پورا قرآن کر بم پڑھ جائو کسی ایک جگہ بھی یہ مل جائے کہ اللہ سے بخشش طلب کرو یعنی اپنے لئے اور اپنے مرنے والوں کے لئے ، دوسروں سے بخشش کرانے کی طلب کرو خواہ وہ قرآن خوانی کر کے تمہارے مردوں کو بخشوا دیں اور خواہ صدقہ و خیرات تم سے وصول کر کے تمہارے مردوں کو بخشوا دیں۔ ہاں ! خوداپنے لئے دعا کرو ، اپنے بھائیوں کے لئے دعا کرو ، اپنے والدین کے لئے دعا کرو ، جب چاہو کرو ، جہاد چاہو کرو اور جس وقت چاہو کرو تم کو یہ خود بخود حق دیا گیا ہے اور اپنا حق خود استعمال کرو۔ اللہ سے دعائیں مانگو اور جو طریقہ اسلام نے تم کو دیا ہے اسی طریقہ کے مطابق عمل کرو۔ اپنے رسم و رواج کو ایک ذرہ بھر بھی اہمیت نہ دو اگر تم نے اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے تجاوز کرتے ہوئے اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کا حق دوسروں کو دے دیا تو تم شرک فی الرسالت کے مرتکب ہوگئے اور تم نے وہ طریقہ اختیار کیا جس کے اختیار کرنے کا کوئی حق نہ تھا۔ اس لئے کہ دین محمد رسول اللہ ﷺ پر کامل اور مکمل کردیا گیا اور دین کے کاموں کیلئے کوئی ایساطریقہ استعمال نہیں کیا جاسکتا جو صاحب وحی محمد رسول اللہ ﷺ نے نہ بتایا ہو۔ نہ اس پر عمل کیا ہو اور نہ دوسروں کو عمل کرنے کا حکم دیا ہو۔ ہاں خود دعا کرنا اور دوسروں سے اپنے حق میں دعا کرانے کی اپیل کرنا یہ زندوں کا حق ہے اور اس حق سے کسی کو روکا نہیں جاسکتا لیکن اپنی ذات کے لئے درخواست کرنا اور یہ بھی سمجھنا کہ اگر انہوں نے درخواست قبول کرلی تو بس ہم بخشش دیئے گئے نہیں یہ حق اللہ نے کسی انسان کو نہیں دیا۔ دعا کی درخواست اور چیز ہے اور قبولیت دعا کا معاملہ اور ہے۔ دونوں کو آپس میں ملایا نہیں جاسکتا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں درخواست پیش کرنا انسان کے کام ، قبول کرنا نہ کرنا اللہ تعالیٰ کا معاملہ ہے۔ وہ اپنے قانون کے مطابق چاہے قبول کرے اور چاہے رد کر دے۔ اللہ تعالیٰ سے درخواست اپنے لئے بھی پیش کی جاسکتی ہے اور دوسروں کیلئے بھی۔ ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ و فیالاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار۔
الحمد اللہ کہ اس وقت سورة المزمل کی تفسیر ختم ہوئی۔