67. Surah Al-Mulk

الملكThe Sovereignty · 30 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 67:21

اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ Open ayah 67:21 in the Quran reader

بھلا وہ کون ہے جو تم کو رزق پہنچاتا ہے ؟ اگر وہ (اللہ) اپنا رزق روک لے (تو پھر تم کیا کرو) لیکن یہ لوگ سرکشی اور نفرت میں الجھ کر رہ گئے ہیں

کیا کوئی ایسی ہستی ہے جو اللہ اگر رزق روک لے تو تم کو روزی بہم پہنچائے 21 ؎ (لجوا) جمع مذکر غائب ماضی معروف لحاج اور لحاجۃ مصدر وہ اڑ رہتے اور وہ جمے رہتے۔ وہ پھنس گئے لحاج کسی ممنوع فعل پر اڑ جانے کو مجازاً کہتے ہیں۔ (راغب) (عتو) اصل مادہ ع ت ر ہے اور اس کے معنی شرارت ، سرکشی اور نافرمانی کے ہیں۔ عتایعتو کا مصدر ہے جس کے معنی اطاعت و فرمانبرداری سے اکڑنے ، تکبر کرنے اور حد سے بڑھ جانے کے ہیں ، اس کا فعل باب نصر سے آتا ہے العتد مجاوزۃ الحد فی الطغیان والبلوغ الی اقصی غایاتہ (قاضی شوکانی فتح القدر) ج 4 ص 67 طبع مصر) (عتو) کے معنی ہیں سرکشی میں حد سے گزر جانا اور نافرمانی کی آخری منزل پر پہنچ جانا “ استفساراً پوچھا جا رہا ہے کہ کیا تمہارے پاس کوئی ایسی ہستی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے رزق کو روک لے تو وہ تم کو رزق بہم پہنچائے اور پہنچاتا ہی رہے ؟ مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ان سارے اسباب کو روک لے جو اس نے تم کو روزی دینے کے لئے مقرر فرمائے ہیں تو کا اللہ کے سوا کوئی اور ہے جو تمہارے لئے وہ وسائل پیدا کر دے کہ ان وسائل کے ذریعہ سے تم کو روزی حاصل ہوتی رہے اور وسائل میں صرف یہی نہیں آتا کہ اگر بارش نہ ہو تو تم ٹیوب ویل چلا لو اور اپنا مطلب حاصل کرلو کیونکہ وسائل میں یہ زمین بھی آتی ہے اور اسی زمین میں جو اس نے صلاحیتیں ودیعت کی ہیں وہ بھی آتی ہیں یعنی زمین کی وہ نمی جو بیج کی قوت نمو کو بڑھا کر ایک چیز کو پیدا کردیتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نہ چاہے تو کیا تم خود یا تمہارے پیرو بزرگ اس کا کوئی انتظام کرسکتے ہو کہ اگر اللہ رزق کے وسائل روک لے تو تم ان وسائل کو پیدا کرلو۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے وسائل رزق کو روک لے تو کوئی دوسرا ان وسائل کو بروے کار لاسکے لیکن یہ لوگ اس حقیقت کو سمجھنے کے باوجود اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر ڈٹے ہوئے ہیں اور شرارت سے باز نہیں آتے اور اپنی سرکشی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں اور اس طرح قرآن کریم ، دین اسلام اور حق سے دور ہی ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
Ayah 67:22

اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 67:22 in the Quran reader

کیا وہ شخص جو منہ کے بل گرتے پڑتے چلنے والا ہو وہ سیدھی راہ پر ہوگا یا وہ شخص جو سیدھا ہموار راستہ پر چلا جا رہا ہو

کیا منہ کے بل چلنے والا سیدھے راستے پر ہوگا یا وہ جو سیدھا ہموار چل رہا ہے 22 ؎ (مکتبا) کا اصل مادہ ک ب ب ہے۔ اسم فاعل واحد مذکر البات مصدر ، سرنگوں ، اوندھا۔ عرب کہتے ہیں کہ کبہ اللہ اللہ اس کو اوندھا گرا دے۔ اس طرح اوندھے منہ کسی کو گرانا یا اوندھے منہ گرانا دونوں پر اس کا استعمال ہوتا ہے۔ زیر نظر آیت میں کافر کی حالت کو ایک ایسے شخص سے تشبیہ دی جا رہی ہے جو سر اوندھا کئے ہوئے کسی راستہ پر چل رہا ہے نہ دائیں دیکھتا ہے نہ بائیں ، نہ اوپر اور نہ نیچے اس کی نظر پڑتی ہے اور اس حالت میں کسی وقت بھی وہ کسی چیز سے ٹکرا کر تباہ و برباد ہو سکتا ہے اور اس طرح وہ کسی بھی گڑھے میں گر کر اپنا آپ تباہ و برباد کرسکتا ہے اور ایسے شخص کا منزل مقصود تک پہنچنا نہایت ہی مشکل ہوجاتا ہے اور یہ مثال ہے اس شخص کی جو کفر پر ڈٹ گیا ہے اور ایک طرح سے اڑ کر رہ گیا ہے گویا وہ بہت ضدی اور بہت نکما آدمی ہے جو بغیر سوچے سمجھے چلا جا رہا ہے اور پھر اس آیت میں مومن کو ایسے شخص سے تشبیہ دی ہے جس نے سوچ سمجھ کر اور اچھی طرح دیکھ سمجھ کر ایک راہ اختیار کی ہے اور وہ راہ بھی بالکل سیدھی اور مستقیم ہے۔ اب دونوں میں اپنی منزل مقصود پر کون پہنچ سکتا ہے وہ جو کبڑا ہو کر چل رہا ہے یا وہ جو بالکل صاف اور ستھرے راہ پر سیدھا منزل مقصود کی طرف رواں دواں ہے۔ غور کرو کہ کون ہے جو یہ کہے گا کہ کبڑا ہو کر چلنے والا بھی کبھی سیدھی راہ پر گامزن ہے اور وہ بھی صحیح اور درست چلتا جا رہا ہے۔ پھر یہ بات سمجھنے کے باوجود جو سیدھی اور صاف راہ چھوڑ کر ٹیڑھی اور ناہموار راہ اختیار کرتا ہے اور یہ بات اتنی واضح اور اتنی صاف ہے کہ اس کی مزید وضاحت اور زیادہ تشریح کی ضرورت نہیں ہے۔
Ayah 67:23

قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 67:23 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے (اے پیغمبر اسلام ! ) کہ وہی تو ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تم کو کان ، آنکھیں اور دل دیئے (لیکن) تم لوگ بہت کم ہی احسان مانتے ہو

اللہ وہ ہے جس نے تم کو سماعت ، باصرہ اور دل دیئے ہیں لیکن تم نے کم ہی ان سے کام لیا ہے 23 ؎ اللہ کون ہے ؟ وہی جس نے انسان کو کان ، آنکھ اور دل عطا کیا اور اس کو سمجھ بھی عطا فرمائی کہ یہ سماعت باصرہ اور دل کا کیا کام ہے اور ان کے دیئے جانے کا کیا فائدہ اور کیا ضرورت ہے لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ انسان سب کچھ سمجھنے کے باوجود ان سے وہ کام نہ لے جس کام کے لئے اس کو یہ سب عطا کئے گئے ہیں اور نہ ہی ان کے عطا کئے جانے کے باعث اللہ کا وہ شکر ادا کرنے والا ہو بلکہ وہ اندھا ، بہرا اور گونگا ہو کر ایک طرف ہٹ کر بیٹھ جائے۔ گویا بجائے شکر ادا کرنے کے ان سے وہ کام لینا ہی ترک کر دے جس کام کے لئے اللہ نے ان کو بنایا ہے۔
Ayah 67:24

قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 67:24 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) آپ کہہ دیجئے کہ اس نے تم کو زمین میں پھیلایا اور (انجام کار) تم اس کے سامنے جمع کیے جاؤ گے

اللہ وہ ذات ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جائو گے 24 ؎ (ذرا) اس نے پیدا کیا ، اس نے پھیلایا ، اس نے بکھیرا ذرئٌ سے جس کے معنی پیدا کرنے ، ظاہر کرنے اور پھیلانے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب کم ضمیر جمع مذکر حاضر یعنی اس نے تم کو پیدا کیا۔ اس نے تم کو پھیلایا اور اسی نے تم کو بکھیرا۔ یعنی وہ اللہ ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور تم کو پھیلایا اور تم کو ادھر ادھر سب جگہ پھیلا دیا اور پھر انجام کار تم اسی کی طرف لوٹائے جائو گے۔ یعنی جہاں اور جس جگہ بھی تم ہو تم کو اکٹھا کر کے اللہ تعالیٰ کے پاس میدان حشر میں لا کر کھڑا کیا جائے گا۔
Ayah 67:25

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 67:25 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا ، اگر تم سچے ہو ؟

وہ کہتے ہیں کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو 25 ؎ کفار کا یہ سوال بیسیوں دفعہ پیچھے گزر گیا اور ہر بار اللہ تعالیٰ کی طرف سیان کو جواب بھی دیا گیا ہے اور ہم نے یہ بار بار عرض کیا ہے کہ کفار کا یہ سوال اس مقصد کے لئے نہیں تھا کہ اگر انہیں پتہ چل جائے کہ قیامت فلاں سال ، فلاں مہینے اور فلاں تاریخ کو ہوگی تو وہ ایمان لے آئیں گے اور اب تک جو وہ ایمان نہیں لائے تو محض اس لئے نہیں لائے کہ ان کو سال ، ماہ اور دن کا کسی نے نہیں بتایا۔ ان کی یہ مراد بالکل نہ تھی بلکہ ہر بار ان کا یہ استفسار محض مذاق اور استہزاء کے طور پر تھا اور پھر یہ بھی کہ یہ سوال فقط پیغمبر اسلام محمد رسول اللہ ﷺ ہی سے نہیں کیا گیا بلکہ دوسرے انبیاء کرام کی امتوں نے بھی کیا اور مقصد ان کا بھی استہزاء ہی تھا اور وہ بڑے دھڑلے سے یہ بات کہتے تھے کہ مدتیں گزر گئیں جو بھی آیا اس نے یہی کہا اور آج تک وہ نہ آئی اگر اس کو آنا ہوتا تو آج سے کبھی کی وہ آگئی ہوتی۔ ہر آنے والے نے جو اس کی خبر دی لیکن آج تک وہ نہیں آئی اور اس کو جانچنے کے لئے آخر کوئی معیار اور کوئی طریقہ کہ یہ بات حق ہے یا ناحق کچھ تو مزید بتائو کہ اس کے آنے میں ابھی کتنی دیر باقی ہے۔ ان کے اس مطالبہ کا جواب یہ دیا گیا کہ تم یہ بتائو کہ اس دنیا میں کتنے آنے والوں کے متعلق تم جانتے ہو کہ وہ آتے رہے اور چلے گئے۔ تم ہی بتائو کہ کوئی آنے والا اپنی مرضی سے آیا ؟ اگر نہیں تو یہ بتا دو کہ کیا کوئی اپنی مرضی سے گیا ؟ دونوں کا جواب نفی میں ہے تو تم بتائو کہ اس آنے والے کو کس نے بھیجا اور اگر بھیج دیا تو پھر وہ کون ہے جس نے اس کو واپس بلا لیا اگر اس کا جواب تم کو معلوم نہیں ہے تو ہم سے سن لو کہ ان سب کو بھیجنے والا اللہ تھا اور واپس بھی وہی لے گیا۔ نہ بھیجتے وقت اس نے ان سے مشورہ کیا اور نہ لے جاتے وقت۔ جس طرح انسانوں کا آنا جانا تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے ، اسی طرح اللہ تعالیٰ کی ان گنت مخلوق ہے جس کا آنا جانا لگا رہا اور لگا ہوا ہے جس سے یہ بات خود بخود ثابت ہوجاتی ہے کہ ہر آنے والے کو جانا ہے۔ اس سے سمجھ لو کہ اس کائنات کا نظام بنانے والے نے بنایا اور اب بھی اس کو چلا رہا ہے اور جب تک اس کو منظور ہے وہ چلتا رہے گا لیکن جس طرح ہر آنے والے کے لئے جانا ہے اسی طرح اس نظام کے چلانے والے نے ایک روز اس کو بھی ختم کرنا ہے اور وہ دن جو اس کیخاتمہ کا ہوگا اسلام نے اس کو قیامت کا دن کہا ہے اگر بات تمہاری عقل میں آئی ہے تو مان لو اور یہ آخرت کے لئے کچھ تو توشہ تیار کرلو اگر بات سمجھ میں نہیں آتی تو موت تک کا انتظار کرو جب مر جائو گے تو اس وقت جاگو گے جب سب کے جاگنے کا وقت ہوجائے گا اور اس وقت تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور تم اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ لو گے۔ اس مضمون کو مطالعہ کرنے کا مزید خیال ہو تو غزوۃ الوثقی ، جلد چہارم سورة یونس کی آیت 48 ، جلد پنجم سورة الاسراء کی آیت 51 ، جلد ششم سورة الانبیاء کی آیت 71 ، جلد ہفتم سورة سبا کی آیت 27 ، سورة یٰسین کی آیت 48 کی تفسیر دیکھیں۔ انشاء اللہ کافی تفصیل مل جائے گی۔
Ayah 67:26

قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ١۪ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 67:26 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) آپ کہہ دیجئے کہ (اس کا) علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اور میں تو محض واضح طور پر ڈر سنانے والا ہوں

اے پیغمبر اسلام ! ان سے کہیے کہ اس کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے 26 ؎ اوپر دیئے گئے حوالہ جات میں بھی منافقین و معاندین کو جواب دیا گیا ہے اور زیر نظر آیت میں بھی ان کو جواب دیا گیا ہے اور سب کو جمع کرنے کا ماحصل بھی یہی نکلے گا کہ اگر تم تاریخ ، سال اور مہینہ چاہتے ہو تو اللہ تعالیٰ سے رابطہ قائم کرو ، اگر کرسکتے ہو۔ ہم تو تم سے اس طرح کا مطالبہ کر ہی نہیں سکتے ، ہمیں تو ایمان لانا ہے ، وہ لائے ہیں اور جہاں تک ہو سکتا ہے ایمان لانے کے بعد احکام الٰہی کے مطابق عمل کرنا ہے۔ وہ جہاں تک ہم کرسکتے ہیں ، کر رہے ہیں اور آئندہ بھی کوشش کریں گے بلکہ ہمارا ایمان ہے کہ اگر اس کا علم دیا جانا انسانوں کے لئے مفید ہوتا تو وہ ضرور دیتا اور جو چیز ہمارے لئے مفید نہیں ہے اس کے پیچھے پڑنے کا آخر کوئی فائدہ۔ ایک میں محمد رسول اللہ ﷺ ہی نہیں سارے انبیاء و رسل (علیہم السلام) کو یہی کہا گیا ہے کہ اس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔ خواہ کوئی پہلے آیا اور خواہ کوئی مجھ سے مطالبہ کرتا رہے اور میرے بعد تو کوئی آنے والا ہی نہیں ہے۔ بہرحال اس کا علم نہ کسی کے لئے مفید تھا ، نہ ہے اور نہ کبھی ہوگا تا آنکہ آنے والی آدھمکے گی جس طرح ہر انسان کے سر پر موت آدھمکتی ہے اور پھر ایک دفعہ کان کھول کر سن لو کہ میں ہوں یا مجھ سے پہلے آنے والے سب کے سب کا کام ڈرانا تھا ، اس کی خبر دینا تھا۔ وہ پہلے آنے والے بھی ڈراتے رہے اور خبر دیتے رہے ہیں ، میں بھی ڈرا رہا ہوں اور تم کو خبر دے رہا ہوں۔
Ayah 67:27

فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ Open ayah 67:27 in the Quran reader

پھر جس وقت وہ اس وعدے کو قریب آتے دیکھیں گے تو کافروں کے چہرے بگڑ جائیں گے اور کہا جائے گا کہ یہی تو ہے جس کا تم تقاضا کیا کرتے تھے

ہاں ! جونہی اس آنے والی کو لوگ دیکھیں گے تو منکرین کے چہرے اترنا شروع ہوجائیں گے 27 ؎ ہاں ! جس بات کا مجھے علم دیا گیا ہے اس کو مجھے آگے پہنچانے میں کوئی دیر نہیں ہے۔ میں تم کو یہ بات کہوں گا کہ وہ جب آئے گی اور اس کو آتے لوگ دیکھیں گے تو یہ بات مجھ کو بتائی گئی کہ منکرین کے چہرے تو اس کے نشانات کو دیکھتے ہی اتر جائیں گے اور ان کے بگڑتے چہروں کے سامنے بزور آواز دے کر کہا جائے گا کہ یہ آنے والی آگئی ہے اور بلاشبہ یہ وہی ہے جس کا تم کو وعدہ دیا جاتا تھا اور آج جو لوگ جلدی مچا رہے ہیں وہ تو خیر مچا ہی رہے ہیں لیکن اس وقت بھی ان کے ساتھی موجود ہوں گے اور ان کے چہرے قیامت کے آثار دیکھتے ہی اترنا شروع ہوجائیں گے اور ان کی شکل و صورت اس وقت دیکھنے کے قابل ہوگی اور بالکل وہی کیفیت ہوگی جو انسان کی موت کے وقت ہوتی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ بگڑی ہوئی ہوگی۔ اس کا نقشہ آنے والی سورتوں میں پیش کیا گیا ہے آپ اس کو اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ جو صورت کسی پیٹو کی ہیضے کے وقت ہوتی ہے اگر کبھی آپ کو دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے کہ اچانک رخساروں کی سرخی غائب ہوجائے گی ، ہونٹ لٹکنے لگیں گے ، زبان باہر نکل آئے گی ، آنکھیں اندر کو دھنس جائیں گی اور حواس باختہ ہوجائیں گے اور دماغی توازن کھو بیٹھیں گے اور وہ عجیب سی حرکات و سکنات کرتے ہوں گے اور جب وہ منظر شروع ہوجائے گا جو ہر طرف دھڑام دھڑام کا شروع ہوگا اور فلک کے ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گرنا شروع ہوجائیں گے تو وہ حالت ایسی ہوگی کہ اس کا نقشہ کوئی چالاک سے چالاک انسان بھی اتارنے سے معذور ہوجائے گا اور ہر طرف آواز بلند ہوں گی تو کان یہی سنیں گے کہ بس وہی ہے جس کا تم مطالبہ کیا کرتے تھے اور جس کے لئے تمہارے کئی ساتھی جلدی جلدی کا شور مچاتے اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔ (تدعون) تم آرزو کرتے ہو۔ تم آرزو کرو گے ، تم مانگتے ہو ، تم مانگو گے ، تم چاہتے ہو ، تم چاہو گے۔ ادعاء سے جس کے معنی دعویٰ کرنے ، آرزو کرنے اور خود کو کسی چیز کی طرف نسبت کرنے کے ہیں۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر (کنتم بہ تدعون) جس چیز کی تم آرزو کرتے تھے ، جس چیز کو تم چاہتے تھے ، جس چیز کو تم مانگتے تھے ، جس چیز کی تم آرزو کیا کرتے تھے۔
Ayah 67:28

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 67:28 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے بھلا دیکھو تو کہ (تمہارے خیال کے مطابق) اگر اللہ مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر رحم فرما دے تو کافروں کو (دوزخ کے) دردناک عذاب سے کون بچائے گا ؟

ذرا دیکھتے جائو کہ اللہ مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کرتا ہے یا بچا دیتا ہے ؟ 28 ؎ جب آنے والی آجائے گی اور جو کچھ ہونے والا ہے ہوجائے گا اور ہو چکنے کے بعد یہ راز کھل جائے گا کہ کس کا نتیجہ کیا رہا ؟ فرمایا اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ اب ہے وقت حقیقت کے دیکھنے کا کہ اللہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کرتا ہے یا ہلاکت سے ہم کو بچا لیتا ہے مجھے بھی اور میرے ساتھیوں کو بھی یا مجھے اور میرے ساتیوں کو بچا لیتا ہے یہ بات تو اس وقت چھپی نہیں رہ جائے گی اور ہم تو بہرحال بفضلہ و باحسانہ مکمل طور پر مطمئن ہیں کہ ہمارا رب ہم کو یقینا پاس کریگا اور فیل ہونا دوسروں کے مقدر کی بات ہے لیکن بفرض محال ہم کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے ساتھ جو ہوگا سو ہوگا لیکن ہم تو یہ پوچھتے ہیں کہ ان کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا ؟ اس وقت وہ لوگ نچنت ہیں کہ ہم کو کچھ ہونے والا ہی نہیں ہے اگر ہم کو کچھ ہوگا تو آخر کیوں ہوگا کیونکہ ہم جو کچھ یہاں ہیں وہاں بھی ہوں گے اور جب ہم کو اس جگہ ان کے مقابلہ میں زیادہ دیا گیا ہے جو آج ہم پر تنقید کرنے والے ہیں اور ہم کو برا سمجھنے والے ہیں اگر بات وہ ہوتی جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں تو ہم کو اللہ تعالیٰ ان انعامات و احسانات سے کیوں نوازتا جس طرح وہ نواز رہا ہے۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر قیامت ہوئی تو ہم ہی وہاں بھی تقسیم کرنے والے ہوں گے۔ ان کی گھٹی میں مانگنا ہے اور یہ وہاں بھی مانگتے ہی نظر آئیں گے۔ یہ اور اسی طرح کی باتیں بنانے والوں سے کہا جا رہا ہے اور رسول اللہ ﷺ کو کہنے کا حکم دیا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ ان کو جواب سنا دیں۔
Ayah 67:29

قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 67:29 in the Quran reader

آپ ﷺ کہہ دیجئے وہی بڑا مہربان ہے ، ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور اس پر ہمارا بھروسہ ہے پس تم جلد ہی جان لو گے کہ صریح گمراہی میں کون پڑا ہوا ہے

آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ ابھی فیصلہ ہوا چاہتا ہے بس تم دنیا کی زندگی کے دن پورے کرو 29 ؎ ان کی مذاق اڑائی جانے والی باتوں کو سن کر اور استہزاء کو برداشت کر کے نہایت تسلی کے ساتھ آپ ﷺ فرما دیجئے کہ جو تم کہہ رہے ہو ہم نے سن لیا ہے اور تمہاری ان باتوں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ ہمارا اللہ رحمن ہے اور ہم اس پر سچے دل سے ایمان لائے ہیں اور ہمارا بھروسہ اسی پر ہے اسی پر رہے گا تم جو کہتے ہو ہم سن رہے ہیں اور جو کہو گے سنیں گے اور آپ جو کچھ کہیں گے یا کہنا چاہتے ہیں اس کو تم بھی کان کھول کر سن لو کہ عنقریب یہ بات واضح ہوجائے گی اور اس کو سب جان لیں گے اور سمجھ لیں گے کہ کون ہے جو کھلی گمراہی میں مبتلا ہے اور رحمن کا لفظ اس سورت میں اس جگہ چوتھی بار استعمال ہوا ہے اور اس کے بار بار ذکر کئے جانے میں رمز ہے اس کا ہم اوپر ذکر کر آئے ہیں۔ اس طرح زیر نظر آیت میں گویا دونوں جماعتوں کا تقابل پیش کیا گیا ہے کہ ہم آپس میں الجھتے رہے تو اس کا آخر فائدہ ؟ جب ہم سب کو انجام کار لوٹ کر اسی طرف جانا ہے جس طرف سے ہم آئے ہیں تو ہماری طرف سے اس جھگڑے کا آخری فیصلہ یہ ہے ہم اور تم دونوں ہی اپنی اپنی راہ چلتے ہوئے اس وقت کا انتظار کریں اور جونہی وقت گزر گیا معلوم ہوجائے گا کہ فیل کون ہے اور پاس کون اور پھر ساری الجھن خود بخود ختم ہوجائے گی۔
Ayah 67:30

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠ Open ayah 67:30 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے دیکھو تو اگر صبح کو تمہارا پانی خشک ہوجائے تو کون ہے جو صاف ستھرا اور شیریں پانی تمہارے پاس لے آئے ؟

اس بات پر بھی غور کرو کہ اگر تمہارا یہ پانی خشک ہوجائے تو کون ہے جو اس کو لائے گا ؟ 30 ؎ پانی جس پر حیوانی زندگی کا دارومدار ہے خواہ وہ کون ہے ؟ اس پر انسانوں کی زندگی کا بھی انحصار ہے کیونکہ ہوا کے بعد دوسری چیز جو زندگی کیلئے ضروری سمجھی گئی ہے یہی پانی ہے۔ اس کی قدر ہم کو نہیں ہے کیوں ؟ اس لئے کہ ہمارے ہاں اس کی بہتات ہے اور ہم کو اس کی تلاش کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ اگر یہ پانی جس پر تمہاری زندگی کا انحصار ہے اللہ تعالیٰ اس کو خشک کر دے اور اس کو اتنا گہرا کر دے کہ تمہاری دسترس سے باہر ہوجائے تو صرف اتنی بات بتا دو کہ وہ کون ہے جو تم کو یہ پانی لا دے جو اس طرح صاف ستھرا بھی ہو اور ٹھنڈا اور میٹھا بھی۔ اگر تم اسی تلاش میں نکل کھڑے ہو تو تمہاری زندگی کی شام آجائے لیکن تم اس کا پتہ نہیں بتا سکتے۔ اس لئے کہ اللہ کے سوا کوئی اور ایسا موجود ہی نہیں ہے۔ آج تم صرف یہ معلوم کر کے بہت خوش ہو اور پھولے نہیں سماتے کہ فلاں فلاں گیس کے ملا دینے سے پانی بن جاتا ہے۔ مان لیا کہ بن جاتا ہے لیکن ان گیسوں کو بنانے والا کون ہیڈ تمہارا کیا کمال ہے یہی کہ تم نے تجربہ سے ثابت کرلیا کہ فلاں فلاں گیس ملے گی تو پانی بن جائے گا لیکن تم یہ نہ بتا سکے کہ وہ گیس کس نے تیار کی ہے اور اگر تم غور کرو گے تو تم کو ماننا اور تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان کو بنانے والا اور ان کا محفوظ کرنے والا اور فضا میں ان کے موجود ہونے کے باوجود وہ کون ہے جو ان کو آپس میں ملنے نہیں دیتا۔ جب ان سارے سوالوں کا جواب پھر اللہ ہی ہے تو الٹا کان پکڑنے کی بجائے سیدھا پکڑنے سے تمہارا کیا نقصان ہے کہ جو بات صاف اور سیدھی ہے اس کو صاف اور سیدھے طریقہ ہی سے مان لیا جائے۔ اس وقت دنیا ترقی کرتے کرتے کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے لیکن اب بھی تقریباً ہر ملک میں ایسے علاقے موجود ہیں جہاں صاف ستھرا اور شیریں پانی کا نصیب ہونا ان کی قسمت ہی نہیں ہے اور وہاں کا پانی اتنا گہرا کر دیاگ یا ہے کہ آج تک نل اور ہینڈ پمپ تو درکنار ٹیوب ویل لگانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے اور پانی کی جو صفتیں اس جگہ بیان کی گئی ہیں ان صفات کا متحمل پانی مشکل سے بھی دستیاب نہیں ہے لکنا یہ اس کی رحمت و شفقت کی مہربانیاں ہیں کہ اس نے نمک کی کان کے وسط میں میٹھے پانی کا چشمہ جاری کردیا ہے اور بلاشبہ یہ اس کی کرشمہ سازیاں ہیں ورنہ انسان اس کی تلاش کر کے کبھی اس کو حاصل نہ سکتا تھا بلکہ اس کی عقل ہی اس سے ابی کرتی ہے کہ شور زدہ زمین میں میٹھے اور ٹھنڈے پانی کے چشمے موجود ہوں۔ لیکن ان چیزوں کو آنکھوں سے دیکھ کر تو اس کا شکر بجا لانا انسان کے ایمان کی تازگی کے لئے بہت ضروری ہے اور اسی مضمون پر اس سورت کی تفسیر کو ختم کر رہے ہیں۔ فالحمد للہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد و ھو علی کل شیء قدیر۔