Ayah 65:9گجرات شہر کے ایک وفادار خاوند اور شریف النفس اور پارسا بیوی کی کہانی
اس سلسلہ میں آپ کو ایک سچی کہانی سناتا ہوں ۔ آپ اس سے اندازہ لگا گیں کہ ہمارے مذہب پروہتوں کا کیا حال ہے ؟ ایک صاحب انگلینڈ (Engladn) میں ملازم تھے جو گجرات شہر کے رہنے والے تھے۔ ایک عورت سے ان کی شادی ان کے والدین نے کی ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے دونوں میاں بیوی میں بہت محبت تھی اور بہت خوشی سے رہ رہے تھے۔ اتفاق یہ کہ ان کے ہاں کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی ۔ عرصہ دس سال کے بعد ان صاحب کے والد کا لڑکی کے والدین سے کسی معاملہ میں جھگڑا ہوگیا اور بات تو تو میں میں پر ہی ختم ہوگئی ۔ اس وقت وہ صاحب اپنی بیوی کے ہمراہ ملک سے باہر ہی تھے۔ تقریباً ڈیڑھ دو سال کے بعد جب وہ پاکستان آئے تو لڑکے کے والدین نے لڑکی کے والدین کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ تم اپنی بیوی یعنی ان کی بیٹی کو طلاق دے دو ۔ وہ صاحب کہتے ہیں کہ میں ٹالتا رہا اور تحقیق کرتا رہا کہ جھگڑا کیوں ہوا اور زیادتی کس فریق کی تھی ؟ مجھے تصدی ہوگئی کہ زیادتی میرے والد کی تھی ۔ تا ہم تو تو میں میں دونوں طرف سے ہوئی ۔ انگلینڈ والے صاحب کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والدین کی عزت افزائی کے لیے لڑکی کے والدین کو مجبور کیا کہ آپ میرے والدین سے معافی مانگیں ورنہ اس کا نتجہت اچھا نہیں رہے گا ۔ وہ میرے ساتھ میرے گھر میرے والدین کے پاس آئے اور ان کے پاؤں پڑگئے اور نہایت عاجزی اور زاری سے معافی مانگی اور خصوصاً میرے والد کو باور کرایا کہ ہماری بیٹی کا چیک اپ (Check up) کرا لو اگر اس میں کوئی ایسا نقص ظاہر ہو کہ جس کے باعث اولاد نہ ہو رہی ہو تو آپ جو چاہو کرو ۔ چاہے اپنے بیٹے کی دوسری شادی کرلو چاہے ہماری بیٹی کو طلاق ہی دلوا دو ۔ بہر حال بہت مشکل سے میرے والدین مان گئے لیکن جب ہم واپس انگلینڈ جانے کے لیے تیار ہوئے تو میرے والد نے مجھے مجبور کیا کہ تم ایک طلاق نامہ لکھوا کر مجھے دے دو اگر تیرے سسرال والوں نے اپنا وعدہ قائم رکھا کہ ہم آئندہ آپ سے تو تو میں میں نہیں کریں گے تو طلاق نامہ میرے پاس ہی رہے گا لیکن اگر انہوں نے کوئی ایسی حرکت کی تو میں بہر حال یہ طلاق نامہ ان کو بھجوائوں گا ۔ میں نے والد کی بہت منت سماجت کی لیکن میرا والد مصر رہا اور میں نے یہ بیوقوفی کی کہ ایک طلاق نامہ عرضہ نویس سے لکھوا کر والد کے دے دیا اور جو کچھ کیا محض والد کی خوشنودی کے لیے کیا اور مجھے یقین تھا کہ میرے سسرال میرے والد کے ساتھ نہ اس طرح کی کوئی بات کریں گے نہ طلاق بھجوائی جائے گی ۔ بہر حال یہ تحریر والد کو دے کر ہم دونوں میاں بیوی انگلینڈواپس چلے گئے۔ میری بیوی میرے ساتھ دو سال رہی اور پھر ایک شادی کے سلسلہ میں وہ پاکستان آئی اور میں اس کو انگلینڈ سے کپڑے ، تحفے ، رقم اور دوسری چیزیں بھیجتا رہا اور وہ کبھی میرے والدین کے پاس ، کبھی اپنے والدین کے پاس بالکل راضی خوشی رہتی رہی ۔ اگرچہ میرے گھر والوں کے رویئے کا اس نے ایک دو خط میں ذکر بھی کیا لیکن میں بھی اس کو برداشت کرنے کی تلقین کرتا رہا ۔ اس میں تقریباً ایک سال سے زیادہ گزر گیا ۔ اتفاق دیکھیں کہ میرا والد اچانک بیمار ہوا اور دو تین روز بیمار رہ کر وفات پا گیا ۔ مجھے انگلینڈ فون پر اطلاع ملی تو میں فوراً پاکستان پہنچا اور والد کے جنازے میں شریک ہوا ۔ تقریباً ایک ماہ والد کی وفات کے بعد میں اپنے گھر میں رہا اور ہنسی خوشی وقت گزرتا گیا ۔ والد کی وفات کے صدمہ کے سوا کوئی دوسرا غم مجھے نہیں تھا۔ بہر حال ہم میاں بیوی ایک ماہ کے بعد واپس انگلینڈ چلے گئے ۔ ہمارے جانے کے کچھ عرصہ بعد میری بہنوں نے میرے والد کا کوئی بیگ یا نہ معلوم کونسا سامان کھولا تو اس سے وہ کاغذ یعنی طلاق نامہ ان کی نظروں سے گزرا ، وہ پڑھ سکتی تھیں ، انہوں نے پڑھا اور پھر کئی دوسرے لوگوں کو بھی پڑھوایا اور یہاں تک کہ میری بیوی کے میکہ والوں کو بھی اطلاع کردی اور ہمارے پیر صاحب جو بخاری سید ہیں ان کو بھی پڑھوا دیا کیونکہ ان سے ہمارے پورے گھر کو گہری عقیدت تھی ، انہوں نے میری بہنوں کو کہا کہ ووہ خط لکھیں کہ تمہاری بیوی کو طلاق ہوگئی ہے اس کو بیوی مت بنائو اور جتنا جلدی ہو سکتا ہے اس کو واپس پاکستان بھجوا دو ۔ یہ خط جب ہم کو ملا تو ہمارے طوطے اڑ گئے ۔ میری بیوی رو رو کر ہلاک ہونے کو ہوگئی ۔ میں بہت حیران ہوا اور جو حقیقت تھی وہ من و عن اس کو بتائی ۔ میں نے انگلینڈ سے اپنے پیر جی کو صورت حال سے آگاہ کیا اور ساتھ ایک دوست کو بھی پاکستان خط لکھا اور ساری صورت حال سے آگاہ کیا ۔ آٹھ دن کے اندر میرے دوست کا خط آیا کہ کوئی طلاق نہیں ہوئی آپ گھبرائیں نہیں اور پھر دو دن بعد ہمارے پیر جی کا خط آیا تو اس میں تحریر تھا کہ بیٹا تیری بیوی تجھ پر حرام ہے اس کو جلد واپس پاکستان بھیج دو ۔ میں نے وہ طلاق نامہ خود پڑھا ہے ۔ اس میں آپ کے آباد رکھنے کی کوئی صورت نہیں پھر میری حیرانی بہت بڑھی اور میں نے بھی کھانا پینا اگر ترک نہیں کیا تو بہر حال بہت کم کردیا اور میری بیوی کی حالت بہت ڈائون (Down) ہوگئی لیکن خوف کے باعث ہم پاکستان نہ گئے۔ میں نے پیر جی کو ٹکٹ کے لیے چالیس ہزار (40 , 000) روپے پاکستان بھیجے کہ وہ میرے پاس انگلینڈ تشریف لائیں اور بڑی تگ و دو کے بعد ایک مہینہ لندن آنے کا اجازت نامہ بھی بھجوایا ۔ پیر جی خود تشریف نہ لائے لیکن بیٹے کو جو آج کل اپنے والد کی جگہ خطیب ہیں بھیجا ، ان کی خاطر مدارت کی لیکن لا حاصل ۔ میں نے مجبوراً اپنی بیوی کو پاکستان اس کے میکے والوں کے پاس بھیج دیا ۔ دو روز کے بعد پیر جی روانہ ہوگئے ۔ چار چھ روز کے بعد میں خود پاکستان آگیا ۔ میں نے آتے ہی بڑے شاہ جی کو سب حقائق رو رو کر بتائے تو انہوں نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری بہنوں کا خیال ہے کہ ہماری بھا بھی اب ہمارے ہاں نہ رہے اس لیے اب اس کا خیال چھوڑ دو تمہاری شادی کی بات ایک جگہ کی ہے بس تم وہاں شادی کرلو ۔ یہ بات سن کر میرے دل میں آیا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ میں اپنے دوست کے پاس گیا جو ایک فیکٹری کا مالک ہے اس نے مجھے پاس ٹھہرایا ۔ ایک دو دن کے بعد اس نے ایک مولانا کو دعوت دی وہ آئے ۔ میں نے ان کو ساری رام کہانی سنائی ۔ انہوں نے جو سوال مجھ پر کیے میں نے ایمانداری سے ان کو جواب دے دیئے۔ مولانا نے وہ طلاق نامہ لانے کا مجھے کہا ۔ میں نے دوسرے روز وہ طلاق نامہ اور ساتھ اپنا حلفیہ تحریر کر کے مولانا کو بھجوا دیا ۔ انہوں نے میرے اطمینان کے لیے مجھے فتویٰ لکھ دیا جس میں تحریر تھا کہ تمہاری بیوی تم پر بالکل حلال ہے اس کو اپنے گھر آباد کرو اور اس کے ساتھ ہی یہ شرط بھی لگائی کہ اپنے نکاح نامہ کی نقل یونین کونسل سے لے کر فوراً آئو ۔ میں وہ نقل کمیٹی لے گیا اور خود حاضر ہوا ۔ فتویٰ ان سے وصول کیا اور بیوی کے میکے والوں کے پاس چلا گیا لیکن میری بیوی کی حالت ناگفتہ بہ تھی ۔ میرے سسرا نے مجھے کچھ نہ کہا لیکن میری بیوی کو میرے ساتھ بھنے ا۔ سے بھی انکار کردیا اور یہ بھی کہا کہ ہم شاہ جی کے پاس گئے ہیں لیکن وہ نہیں مانتے۔ مختصر یہ کہ میرے سسرال والوں نے میرے دوستوں کے ساتھ یہ وعدہ کرلیا کہ اگر تم کسی حنفی عالم کا فتویٰ لے آئو تو ہم اپنی بیٹی کو اس کے خاوند کے ساتھ بھیج دیں گے بشرطیکہ وہ انگلینڈ چلا جائے۔ یہاں اسکے آبائی مکان میں جہاں اس کے دوسرے گھر والے بھی رہتے ہیں ہم اپنی بیٹی کو نہیں بھیج سکتے۔ پھر ہماری دوڑ لگ گئی کسی خنفی عالم کی تلاش میں ۔ اس دورانیہ میں میں نے غصہ میں آ کر اس طلاق نامہ کو بھی جلا دیا لیکن اس کی فوٹو سٹیٹ اور اہل حدیث عالم کا فتویٰ اور میرا حلفیہ بیان اور میرے نکاح نامہ کی تصدیق یہ سب کچھ میرے پاس تھا۔ پھر ہم نے کہاں کہاں خاک چھانی اور کیا کچھ خرچ کیا کچھ نہ پوچھو ۔ شاہ جی کے پاس دوبارہ میں تو نہیں گیا لیکن میرے دوست جاتے رہے۔ وہ مختلف باتیں کہتے رہے کبھی کچھ اور کبھی کچھ اور شاہ جی کی تان اس جگہ ٹوٹتی کہ میری بہنوں کا تقاضا ہے اس لیے اس کو ان کی بات مان لینی چاہئے۔
ہم نے سسرال والوں کو حنفی عالم کا فتویٰ دکھایا اور اس کی فوٹو کاپی دی ۔ اپنی بیوی کو تسلی دی ، بہت سمجھایا لیکن اس کی طبیعت نہ سنبھل سکی ۔ وہ بدستور بیمار رہی ۔ تین ماہ گزرنے کے بعد میں اپنی بیمار بوی کو ساتھ لے کر انگلینڈ چلا گیا ۔ بہت علاج کیا لیکن میری بیوی کی صحت بھی خراب رہی تا ہم میری بیوی کی طبیعت سنبھلنے میں نہ آئی یہاں تک کہ اس کے تقاضا کرنے پر میں نے اسے دس ماہ کے بعد پاکستان بھیج دیا اور وہ پاکستان آ کر چند دن زندہ رہ کر اللہ کو پیاری ہوگئی ۔ مجھے اطلاع ملی تو میں نے اپنے سسرال کو کہا میں پاکستان نہیں آئوں گا تم لوگ میری بیوی کو قبر کے سپرد کر دو اور اس کی چیزیں جو تمہارے پاس ہیں سب خیرات کر دو ، انہوں نے میری ہدایات کے مطابق عمل کیا اور اب میں زندگی و موت کی کشمکش میں ہوں کہ جلد فرشتہ اجل مجھے پکارے اور لبیک کہہ دوں کیونکہ اس کے سوا اب دنیا میں میری کوئی خواہش نہیں ہے۔ اس مضمون پر مشتمل خط عبد الرحمن کے دوستوں کے پاس اس کی یاد رہ گئے کیونکہ بیوی کی وفات کے 17 ماہ بعد عبد الرحمن پاکستان آیا ، دوستوں کے ساتھ کار میں بیٹھ کر قبرستان بیوی کی قبر پر گیا اور ایک دن گزارنے کے بعد اپنی بہنوں کو سلام کرنے کے لیے اپنے گھر گیا اور پھر اس گھر سے نکلنا اس کو نصیب نہ ہو ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
اب پیر جی کہو یا بڑے شاہ جی ان کا کردار اپنے ذہن میں رکھو ۔ ان کے فتویٰ کے الفاظ یاد رکھو اور ان کی دعائے عریض کا حال شہر کے در و دیوار سے سن لو اور قرآن کریم کی آیت کا ترجمہ پھر پڑھ لو ۔ فرمایا جا رہا ہے کہ ” اور کتنی ہی بستیاں تھیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے اور اس کے رسولوں سے سرتابی کی تو ہم نے بھی ان کا سخت محاسبہ کیا اور ان کو ہم نے نرالی آفت ( مصیبت) میں مبتلا کردیا “۔
Ayah 65:10انہوں نے اپنی بد اعمالیوں کا مزہ چکھا اور آخرت کا خسارہ اس کے علاوہ ہے
9 ؎ ہم نے پیچھے ان قوموں اور بستیوں کا ذکر بہت سے مقامات پر کیا ہے اور انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) کی سرگزشتیں بھی بیان کی ہیں ، ذران قوموں کی تاریخ کو پڑھو اور ان برباد شدہ شہروں اور بستیوں کی درد بھری داستانیں سنو جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی اور اس کے نبیوں اور رسولوں کی اطاعت سے منہ موڑا اور تمردو سر کشی کا راستہ اختیار کیا تو ہم نے بھی ان سے بڑی شدید قسم کی باز پرس کی اور ان پر ایسا عذاب نازل کیا جس کے نتیجہ میں وہ ( سباء منثورا) ہو کر رہ گئے۔ اس دنیا میں ہی ان کے کرتوتوں اور بداعمالیوں کا مزاچکھا دیا گیا اور انہوں نے جیتے جاگتے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیا کہ جو لوگ سر کشی کی روش اختیار کرتے ہیں ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی سنت کیا ہے ؟ اور ان کا انجام کتنا خوفناک ہوتا ہے۔ وہ اپنی شخصیتوں کے رعب داب میں اپنی عیاریاں اور مکاریاں کس طرح چھپائے رہتے ہیں اور نو سر بازیوں سے بڑی بڑی منفعتوں کی آس لگائے بیٹھے رہتے ہیں اور انجام کار وہ ایسے گھاٹے سے دو چار ہوجاتے ہیں جس کی تلافی کی کوئی صورت ممکن نہیں ہوتی اور آخرت میں میں وہ منہ بسورتے رہ جائیں گے اور ان کی شکل و صورت دیدنی ہوگی ۔ وہ جو بھی ہوں اور جیسے بھی ہوں قبروں میں داخل ہونے سے پہلے وہ ذلیل و خوار ہوئے اور ان کی ساری بزرگی ہوا ہوگی ۔ وہ جو بھی ہوں اور جیسے بھی ہوں قبروں میں داخل ہونے سے پہلے وہ ذلیل و خوار ہوئے اور ان کی ساری بزرگ ہوا ہوگئی اور میدان حشر میں وہ جس طرح حواس باختہ ہوں گے وہ کسی خسارہ پانے والے کے حال سے اندازہ کرلو جو نفع کماتا کماتا اصل زر سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
Ayah 65:11آخرت میں ان کے لیے سخت عذاب ہے اور ایمان والے ہی نصیحت حاصل کرسکتے ہیں
10 ؎ ان لوگوں کی صرف دنیا ہی خراب نہ ہوئی بلکہ انہوں نے اپنی آخرت بھی برباد کرلی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جو عذاب تیار کر رکھا ہے اس کے شدید ہونے کی اطلاع وہ خود دے رہا ہے پھر جس کو اللہ تعالیٰ نے شدید فرمایا اس کی سختی کا کون اندازہ کرسکتا ہے تا ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت بےپایاں کا اندازہ کرو کہ وہ بندوں کو بار بار ڈراتا ہے کہ جب تک زندگی ہے یہ آس بھی موجود ہے کہ نہ معلوم کسوقت ہی ان کی سمجھ سیدھی ہوجائے اور عقل ان کی رہنمائی کر دے اور وہ راہ راست پر آجائیں اور سچے دل سے ایمان لا کر اپنے کیے ہوئے گناہوں پر پھر والیں کیونکہ سنت الٰہی یہی ہے کہ غلط راستہ پر چلنے والا جب سیدھے راستے کی طرف منہ کرتا ہے تو اس کے قدم خود بخودتزی ہوجاتے ہیں اور اس کو یہ نئی تبدیلی سفر طے کرنے میں بہت کام دیتی ہے اور نئے جوش و جذبہ کا حال سب پر ظاہر ہے اور حقیقت بھی یہ ہے کہ عقل اور ایمان جب اتحاد کرلیں تو ایمان کی طاقت و قوت عقل کی رفتار کو اس قدر بڑھا دیتی ہے کہ اس کا اندازہ لگانا ہی مشکل ہوجاتا ہے۔ ایمان بغیر عقل کے بےپر پرندہ ہے اور عقل بغیر ایمان کے اندھی ، بہری اور گونگی ہوتی ہے ۔ اس لیے ان دونوں کے لزوم کا اندازہ خود لگا لو اور اس کو تم اس طرح بھی ادا کرسکتے ہو کہ عقل بغیر ایمان کے اور ایمان بغیر عقل کے جسم رکھتے ہیں لیکن بغیر جان کے۔ کیونکہ دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور جو چیزیں بھی لازم و ملزوم ہوں ان پر یہ مثال صادق آتی ہے ۔ خیال رہے کہ دونوں ہی کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی صورت میں اکٹھا کردیا ہے گویا قرآن کریم میں جو قانون اور جو ہدایات بیان کی گئی ہیں وہ مجموعہ عقل و ایمان ہیں ۔ اس لیے قرآن کریم کے بیان کے لیے ان دونوں کی سخت ضرورت ہے اور ان دونوں کا جمع ہونا رسول اللہ ﷺ پر ختم ہے۔
رسول ﷺ کے قرآن پڑھنے کا مدعا کیا ہے ؟ ایمان والوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لانا
11 ؎ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ ( ذکرا) وہی ہے جس کو دوسری جگہ قرآن کریم نے ( ذکری) اور ( ذی الذکر) کے الفاظ سے موسوم کیا ہے اور بلا شبہ اس میں انسانی فطرت کے سبق یاد کرائے گئے ہیں اور اس کی وضاحت کی گئی ہے اور گزشتہ دعوتوں کا یہ نچوڑ بھی ہے کیونکہ گزشتہ دعوتوں میں جو باتیں قابل ذکر تھیں وہ اس میں بیان کردی گئی ہیں اور اگر تم غورکروگے تو اس میں ان لوگوں کا بھی بیان ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کی ، ان کا انجام کیا ہوا اور اس کی وضاحت بھی ہے کہ جو کچھ کرتا ہے جلد بازی میں نہیں کرتا بلکہ بہت کچھ سوچ سمجھ لینے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ایک قوم کو خلاف ورزیاں کرتے ایک مدت گزر جاتی ہے اور وہ ان کی ساری بداعتدالیوں کو برداشت کرتا رہتا ہے اور پھر جب اس کے انتقام کا وقت آتا ہے تو آنکھ جھپکنے میں وہ کچھ سے کچھ کر کے رکھ دیتا ہے۔ تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کا اور رسول ﷺ کا جوڑ کس خوبصورتی سے جوڑ کر رکھ دیا ہے کہ قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ نے ( ذکرا) کہا ہے تو رسول اللہ ﷺ کو ( مذکر) یا ( مذکر) کہہ کر پکارا گیا ہے اور آپ ﷺ کی پوری زندگی ان ہی حقائق کی یاددہانی کراتی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی بعثت کا جو مقصد بیان کیا گیا وہ یہ ہے کہ اللہ کا رسول تم پر اللہ تعالیٰ کی آیات کریمات کی تلاوت کرے اور روشن دلائل تمہارے سامنے کھول کھول کر رکھ دے جس کے نتیجہ میں صاحب ایمان لوگ یعنی وہ جن کے دلوں میں ایمان کی رمق پہلے ہی موجود ہے ان کو کفر و شرک کے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے آئے اس لیے رسول کی بعثت کا مقصد ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ اہل ایمان کو اور نیک عمل کرنے والوں کو طرح طرح کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کے نور تاباں تک پہنچائیں اور اس جگہ اس کے بیان سے مقصود یہ ہوگا کہ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے جو عائلی قوانین اور ازواجی زندگی کی ہدایات بیان کی ہیں یہ روشنی ہی روشنی ہیں ۔ لیکن ہمارے عوام کیا خواص سب نے سو گند کھائی ہے کہ ہم کو اندھیرا پسند ہے اور روشنی کے ہم شیدائی نہیں کیونکہ اس کے سامنے ہماری آنکھیں چندھیاجاتی ہیں اور دل ہیں کہ دھک دھک کرنے لگتے ہیں اور آج ایسے شپرہ چشموں کی بہت کثرت ہے جن کی آنکھوں اس روشنی کو قطعاً پسند نہیں کرتیں بلکہ جوں جوں اندھیرا بڑھتا ہے ان کو زیادہ دکھائی دیتا ہے اور وہ بہت خوش ہیں اور ان کی ڈھٹائی کی یہ حالت ہے کہ دنیا والوں کو دکھانے کے لیے یہ شور لگاتے ہیں کہ ہم نے کفر کے مقابلہ میں ان کی فہرست نوٹ (Note) کر کے اپنی جیب میں ڈال رکھی ہے کہ آئو اسلام کے عائلی قوانین کو دیکھو اور اپنے قانون لے آئو ہم کو دے دو ہم ان کو استعمال کرتے ہیں اور تم کو اپنے قانون دکھانے کی دعوت دیتے ہیں لیکن ہماری طرف سے ایک شرط عائد ہے کہ ان کو دیکھ کر استعمال کرتے ہیں اور تم کو اپنے قانون دکھانے کی دعوت دیتے ہیں لیکن ہماری طرف سے ایک شرط عائد ہے کہ ان کو دیکھ کر اس طرح بند کر کے ہم کو واپس کردینا کہ کہیں ان کو ہوا نہ لگ جائے۔ ہم نے ان کو سنبھال کر رکھا ہے بس جب کسی قوم کو صداقت کا یقین دلانا مقصود ہو تو ان کو نکال کر رکھا دیتے ہیں ورنہ مردوں پر ہم کو یہ کام دیتے ہیں اور ان کو پڑھ پڑھ کر ہم ان کو ثواب پہنچاتے ہیں۔
ذرا غور کرو قرآن کریم کی دعوت کیا ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں ؟ فرمایا جا رہا ہے کہ ’ ’ جو کوئی اللہ پر ایمان لاتا ہے اور نیک عمل کرتا ہے اللہ اس کو ایسے باغوں میں داخل کردے گا جن میں نہریں رواں دواں ہوں گی اور ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے “ دارالعمل تو دنیا ہے اور اس میں جو خود عمل کرتا ہے وہ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اس کے اجر کا مستحق ٹھہرتا ہے ۔ یہ بیان قرآن کریم کا ہے کہ ان اعمال صالحہ کا نتیجہ آخرت میں ملے گا لیکن ہماری اس غفلت کا یہ عالم ہے کہ ہم ساری زندگی میں بد اعتدالیاں کرتے ہیں اور انہی بداعتدالیوں میں اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں اور جب ہم رخصت ہوجاتے ہیں تو ہمارے لواحقین کو ہماری آخرت کی فکر لا حق ہوتی ہے اور مذہبی پیشوا اور رہنما ہماری بخشش کا ٹھیکہ چکا لیتے ہیں ۔ اس طرح جو کچھ ہوتا ہے بس ہمارے مرنے کے بعد ہی ہوتا ہے ۔ پھر جو ہمارے لیے کوشاں ہیں جب وہ مریں گے تو ان کے پیچھے رہنے والے ان کے لیے اپنی بساط کے مطابق کوشش شروع کردیتے ہیں ۔ کیا قرآن کریم کی منشاء یہی ہے ؟ اللہ تعالیٰ ہم کو سمجھ کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے مذہبی رہنمائوں اور پیشوائوں کو حق کی راہ سے روشناس کروا دے ورنہ اس وقت جو بات نظر آتی ہے وہ تو یہی ہے کہ گزشتہ قوموں کی تباہی کے بعد ان کو ہوش آیا اور ہماری حالت بھی کسی تباہی کے انتظار میں ہے ۔ ہاں ! اللہ تعالیٰ اس کے لیے کوئی دوسری راہ نکال دے تو وہ بلا شبہ انسانوں کو اچھا رزق پہنچانے والا ہے اور رزق کی اس کے ہاں کوئی کمی نہیں جب کہ اس رزق کو کوئی حاصل کرنے والا بھی ہو ۔
Ayah 65:12اللہ وہ ہے جس نے ساتوں آسمانوں اور ان کی مثل زمینوں کو پیدا کیا ہے
12 ؎ زیر نظر آیت اس سورت کی آخری آیت ہے اور اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ جس طرح ہم اس زمین پر بستے ہیں اور ہمارے لیے بعض سیارے سورج ، بعض چاند اور بعض ستارے دکھائی دیتے ہیں عین ممکن ہے کہ یہ ہماری زمین کسی دوسری زمین کے لیے ستارہ ، چاند یا سورج کا کام دے رہی ہو اور اس طرح ان ستاروں ، چاند اور سورج ہی میں ساتوں زمینیں اور ساتوں آسمان پورے ہوتے ہیں یا علاوہ ازیں کوئی زمین ظاہر ہوجائے جس کو ہم اسی زمین کی طرح جاننے لگیں۔ ہم سے پہلے جب یہ دنیا علم کی روشنی میں آرہی تھی تو ان سات براعظموں کو سات زمینیں قرار دیا گیا جنہیں بڑے بڑے سمندر ایک دوسرے سے جدا کرتے ہیں ۔ بہر حال اس میں کسی وضاحت کو ابھی تک حرف آخر نہیں کہا جاسکتا ۔ ہم کو اس طرح کی کسی بحث میں مبتلا ہونے کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے ۔ ایک بیج کے اندر پورا درخت موجود ہوتا ہے جس درخت کا وہ بیج ہو لیکن اس کے اظہار کے لیے وہ ماحول درکار ہوتے ہیں جس میں وہ قوت نمو حاصل کر کے پودا اور پودے سے درخت بن جائے اور اس طرح اس کے لیے ایک لمبا وقت درکار ہوتا ہے ۔ اس دنیا کی زندگی کا کوئی اندازہ لگا ئو ، اگر لگا سکتے ہو ، اور پھر اس کی ایجادات کا اندازہ کرو جو اس وقت تک ہوچکی ہیں پھر یہ خیال کرو کہ تمہاری اپنی زندگی میں ان کے اندر کتنی ترقی ہوئی اور اس سے تم یہ حاصل کرلو کہ ابھی نہ معلوم اس کی کتنی زندگی باقی ہے اور اب تک کتنی چیزیں نئی نئی دیکھنے میں آئی ہیں اور ابھی نہ معلوم لوگ کیا کیا دیکھیں گے ۔ جوں جوں کسی چیز کے ظاہر ہونے کا وقت آتا ہے ظاہر ہوتا چلا جاتا ہے اور یہ بھی کہ ( مثلھن ) میں مثل سے کیا مراد ہے ؟ مماثلت عدد وہی ہے یا ان کی بناوٹ میں اور یہ بات ہم اس سے قبل بہت دفعہ عرض کرچکے ہیں کہ آسمانوں میں یا دوسرے سیاروں میں زندگی کا پایا جانا قرآن کریم کے اشاروں اور استعاروں میں عام پایا جاتا ہے ۔ رہی یہ بات کہ یہ مخلوق کیسی ہوگی اور کتنی ترقی یافتہ ہوگی تو اس سلسلہ میں زیادہ گفتگو کرنا اصناعت وقت کے سوا کچھ نہیں جن چیزوں کا تعلق مشاہدہ سے ہو جب تک ان کا مشاہدہ نہ ہوجائے کوئی بحث مفید طلب نہیں ہو سکتی اور پوشیدہ کو کھولنے کی ہمت ہمیشہ اس کو کرنی چاہئے جس کے اندر ہمت ہو ۔ ابھی ہماری اس زمین کے اندر کیا کچھ ظاہر ہونے والا ہے اور اس کے رہنے والوں نے ان زمینوں کے ساتھ تعلق و رابطہ قائم کرنا ہے ان سب باتوں کا احتمال ہو سکتا ہے یا جو سامنے ہے دیکھ رہے ہیں اور سامنے آتا جائے گا دیکھنے جائیں گے ۔ جو بات ایمانات سے ہے وہ یہ کہ جس طرح کائنات کی اشیاء جن کو ہم جان چکے ہیں ان کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اسی طرح جن کو ہم ابھی ہم نے نہیں جانا ان کا پیدا کرنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور یہی بات مقصد اصل ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اس کائنات کو جس کو ہم جان چکے ہیں یا جس کو ہم نہیں جانتے ان کو پیدا کر کے اس نے ان سے لا تعلقی کا اظہار نہیں فرمایا بلکہ سب چیزوں کا جس طرح وہ پیدا کرنے والا ہے اسی طرح ان کا نظام چلانے والا ہے اور ہر حال میں اس کے احکام ہر جگہ جاری وساری ہیں اور اس کی طرف سے نزول ہوا ہے اور اسی کی طرف سے نزول ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا اور بلا شبہ ہر جگہ ان کی تعمیل ہو رہی ہے ۔ زندگی ہو یا موت ، عزت ہو یا ذلت ، غنی ہو یا فقر ، بنائو ہو یا بگاڑمختصر یہ کہ جو تغیرات رونما ہوتے ہیں اور جو رونما ہو رہے ہیں اور جن کو ہم بلندیوں اور پستیوں میں ملاحظہ کرتے ہیں ، کر رہے ہیں یا ابھی ملاحظہ کریں گے اب اس کے حسن تدبیر کی جلوہ نمائی ہے اور اگر تم غورو فکر کرو گے تو تم کو یقین ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ ہی قادر مطلق ہے ، جو چاہتا ہے اپنے قانون کے مطابق کرتا ہے ۔ اس نے جن قوانین کا اعلان کیا ہے اور اس کے اعلان کرنے ہی کے باعث ہم کو معلوم ہوا ہے کہ یہ اس کا قانون ہے ۔ آج تک نہ اس کے خلاف اس نے کیا ہے اور نہ ہی کبھی اس نے خلاف ہونے دیا ہے ۔ جو ہوا ہے اس کی چاہت سے ہوا ہے ، جو ہو رہا ہے اسی کی چاہت سے ہو رہا ہے اور جو ہوگا اس کی چاہت سے ہوگا ۔ لیکن اس کا چاہنا ایک اس کی مرضی و رضا ہے اور ایک اس کا قانون ہے ۔ اس کی مرضی اور رضا کے خلاف جو کچھ بھی ہوتا ہے بہر حال ہوتا ہے لیکن جو اس کی مرضی اور رضا کے مطابق نہ ہو وہ اس کے قانون کے مطابق ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔ جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس کی رضا اور مرضی اور چیز ہے اور قانون کی چاہت اور چیز ہے ۔ اس میں فرق نہ کرنے والے اور اس فرق کو نہ سمجھنے والے ہمیشہ غلطیوں میں مبتلا ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے ۔ اور اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ پانچوں انگلیاں برابر نہ ہوں اور ان کے برابر نہ ہونے سے انسان کا سارا نظام چل رہا ہے اگر برابر ہوتیں تو معلوم نہیں ہے کہ انسان کس کس مصیبت میں مبتلا ہوجاتا ۔ اس طرح یہ بھی سمجھ لو اور جان لو کہ اس کی قدرت اور اندازہ سے کوئی چیز بھی باہر نہیں ہے اور اس وقت جتنے علوم ظاہر ہوئے اور جتنے ابھی تک ظاہر نہیں ہوئے ان سب پر اللہ تعالیٰ کا علم محیط ہے اور علم ازل سے اس قادر مطلق نے ہر ایک کو احاطہ کر رکھا ہے ۔ اس کی ذات ہو یا صفات ، علم ہو یا حکمت سب غیر محدود ہیں اور کوئی انسان یا کوئی دوسری مخلوق ان کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ اسی مضمون پر ہم اس سورت کی تفسیر ختم کر رہے ہیں ۔ ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم وتب علینا انک انت التواب الرحیم۔