65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 65:3

وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا Open ayah 65:3 in the Quran reader

اور اس کو روزی دیتا ہے جہاں سے اس کا وہم و گمان بھی نہ ہو اور جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے کافی ہے بلاشبہ اللہ اپنا کام (بہرحال) پورا کردیتا ہے بلاشبہ اللہ نے ہرچیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے

اللہ تعالیٰ ڈرنے والوں کو اس طرح رزق عطا کرتا ہے کہ ان کے وہم گمان میں بھی نہیں ہوتا 3 ؎ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور حدود اللہ کی پابندی کرتے ہیں خصوصاً جن باتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے عقل و فکر سے کام لینے کی تاکید کی ہے وہاں دیانت و امانت کے ساتھ عقل و فکر سے کام لینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کی فرمانبرداری اور ان کو بجا لانے کے ان کے دل میں کبھی اس بات کی سوچ ہی نہیں آتی کہ ایسا کریں گے تو ہم کو یہاں اتنی بچت آئے گی اور ہمیں یہ فائدہ پہنچے گا وہ اپنا نفع و نقصان اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ سمجھتے ہوئے پورے وثوق کے ساتھ کام کیے جاتے ہیں اور نتیجہ اس کے سپرد کرتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ خسیس ، شوم اور بخیل لوگ ایک ایک پیسے اور روٹی کے ایک ایک ٹکڑے کی بچت کرتے ہیں اور معمولی معمولی باتوں کے لیے بڑے بڑے غلط کام کر جاتے ہیں اگر ان کو کہیں سے کوئی پائی پیسہ مل جاتا ہے تو اس کو اس طرح اپنے پلے باندھ دیتے ہیں کہ کبھی کھولنے کا نام تک نہیں لیتے۔ ان کے سامنے انسانیت بلبلا بلبلا کر مر جائے تو ان کے دل میں کبھی ترس نہیں آتا کہ یہ پیسہ خرچنے سے شاید اس کی جان بچ جائے ۔ گرمی میں جسم استعمال کرتے ہیں اور کپڑا سنبھال کر رکھ دیتے ہیں کہ کہیں میلا نہ ہوجائے۔ ایسے لوگوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ ایک عورت کے ساتھ آپ نے وقت گزارا ، نہ معلوم کتنا عرصہ تم یک جان دو قالب بنے رہے اگر اب کوئی اختلاف پیدا ہوگیا جس کے نتیجہ میں تم دونوں کا الگ الگ ہونا نا جاگزیر ہوگیا تو تم کو آخراتنی جلدی بھی کیوں ہے کہ یہ میرے گلے سے اترے میں اس کو کہاں تین مہینے تک کھلاتا پلاتارہوں جب کہ وہ مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ چلو اگر وہ تم ایک آنکھ نہیں بھاتی تو اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف دھیان کرو جب وہ تم کو حکم دے رہا ہے کہ اس کا کھانا پینا تمہارے ذمہ ہے اور نان و نفقہ کے تم ذمہ دار ہو تو اس کو خوشی سے قبول و منظور کرو اور اتنی کنجوی اور بخل سے کام نہ لو اگر تم اللہ پر بھروسہ رکھو گے تو تم کو وہ کسی طرح کی کمی نہیں آنے دے گا جب تمہاری روزی کا اس نے ذمہ لیا ہے تو پھر تم اس کے متعلق گھبراتے کیوں ہو اور یہ بھی کہ جن نامساعدحالات سے تم گزر رہے ہو ان حالات کو ساز گار بناتے اس کو زیادہ دیر نہیں لگے گی ۔ ” جو شخص نیک دلی کے ساتھ اللہ پر بھرو وسہ کرتا ہے تو بلا شبہ اللہ تعالیٰ اسکے لیے کفایت کرتا ہے “ جو شخص اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اور اپنے کام اللہ کے سپرد کردیتا ہے بلا شبہ اللہ اس کا ذمہ دار ہوجاتا ہے پھر وہ جو کام کرتا ہے اس میں وہ کبھی رزق نہیں سمجھتا بلکہ وہ اللہ کا حکم سمجھ کر محنت کرتا رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی محنت کا صلہ اس کو اسی طرح پہنچاتا ہے کہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ کس طرح وافر روزی اس کو ملتی رہتی ہے۔ تو کل کے معنی کوڑھی اور اندھے ہو کر بیٹھنے اور ہر ایک سے سوال کرنے کے نہیں بلکہ یہ وہ مقام ہے کہ اس کی اپنی سمجھ میں کچھ نہیں ہوتا کہ یہ روزی کیسے اور کہاں سے اس کو مل گئی ۔ خیال رہے کہ یہ چیزیں تجربہ کی نہیں اور نہ ہی یہ تجربہ سے حاصل ہوتی ہیں ان کا تعلق اس ایمان و یقین سے ہے جس ایمان و یقین کا تعلق محض دل سے ہوتا ہے اور بلا شبہ یہ چیز کسبی نہیں کہ اس کو حاصل کیا جاسکے بلکہ اس کا تعلق عطاء الٰہی سے ہے اور اس کو وہبی کہتے ہیں جو رب ذوالجلال والاکرام سے ہبہ کی جات ہے اور یہ وہی جانتا ہے کہ اس نے اس کو کہاں ہبہ کرنا ہے۔ ایسا آدمی اسباب بھی لاتا ہے لیکن نتائج کے ظہور کے لیے اسباب پر اعتماد نہیں کرتا بلکہ اس کی نظر مسبب پر ہوتی ہے اور یہی رب پر بھروسہ کرنا ہے۔ بےعمل اور جدوجہد سے بیزاری کا اسلام کے نظریہ توکل کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے ؎ گر توکل می کنی در کارکن کشت کن پس تکیہ بر جبار کن رمز الکاسب حبیب اللہ شنو گر تو کل در سبب کاہل مشو (رومی) اگر توکل کا دعویٰ کرتا ہے تو کام میں مشغول ہوجا ۔ پہلے تختم ریزی کر پھر اللہ پر بھروسہ کر ۔ اس حدیث میں جو رمز ہے اس کو سن ! کہ کسب کرنے والا اللہ کا دوست ہے۔ توکل کی وجہ سے اسباب کے فراہم کرنے میں سستی مت کرو۔ ” بلا شبہ اللہ اپنا کام ہر حال میں پورا کردیتا ہے “ اللہ تعالیٰ کا ارادہ ایسا نہیں ہے کہ پورا ہوا ہو اور نہ ہوا تو نہ ہوا ۔ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ وہ ذات تو وہ ہے کہ ادھر ارادہ ہوا اور ادھر وہ پورا ہوگیا لیکن یہ ” ادھر “ اور ” ادھر “ ہماری زبان کا نہیں ہے جو ہتھیلی پر سرسوں جمانے والے ہیں یہ اس ذات کی طرف سے ہے جس کے ہاں ایک دن پچاس ہزار سال کا ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ جس کام کے کرنے کا وہ ارادہ کرتا ہے ایسا ممکن نہیں کہ وہ ہو کر نہ رہے اگرچہ اس ہونے کا اس نے کسی کو علم نہیں دیا ۔ غور کرو کہ ذکریا (علیہ السلام) دعا کرتے ہیں اور نہ معلوم یہ دعا کا سلسلہ کب تک جاری رہا آخر کار اللہ کی رضا پر راضی ہو کر خاموش ہوگئے اور جب اس کا ” ادھر “ آیا تو اس نے زکریا (علیہ السلام) کو نماز میں کھڑے مخاطب کرلیا اور فرشتہ کو بھیج دیا کہ جائو ۔ میرے بندے ذکر یا کو خوشخبری سنائو کہ آپ کو اللہ بیٹے کی نعمت سے نوازے گا ۔ ذکریا (علیہ السلام) نے جب فرشتہ کی بشارت سنی تو متعجب ہو کر کہنے لگا کہ میرے ہاں بیٹا ! اب کیسے ؟ اب تو میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بھی بانجھ ہوچکی ہے ۔ فرمایا تعجب کیوں کرتے ہو اس نے تم کو پیدا نہیں کیا حالانکہ تم اپنی پیدائش سے پہلے کچھ بھی نہیں تھے۔ زیر نظر آیت کے اس ٹکڑے میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ ( ان اللہ بالغ امرہ) ” اللہ اپنا کام ہر حال میں پورا کردیتا ہے “ کوئی چیز اس کے سامنے رکاوٹ نہیں بنتی۔ ” بلا شبہ اللہ نے ہرچیز کا ایک اندازہ مقرر کررکھا ہے “ اور پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ باقی سارے کاموں کے لیے تو اس نے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے لیکن اپنے بندوں کی نصرت کے لیے کوئی وقت ہی اس کے ہاں مقرر نہ کیا گیا ہو ۔ نہیں اور ہرگز نہیں بلا شبہ اس کی نصرت کے لیے ایک وقت مقرر ہے اور توکل یہی ہے کہ انسان اپنی طرف سے جلدی نہ کرے بلکہ اس وقت کا انتظار کرے اگر انسان نے جلدی سے کام لیا تو وہ متوکل کیونکر ہوا جب کہ توکل نام ہی اس بات کا ہے کہ جو شخص اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے وہ کبھی جلد بازی سے کام نہیں لیتا اور نہ اس میں تاخیر ہونے سے مایوس ہوتا ہے بلکہ وہ مہر یہ لب رہتا ہے کہ اللہ کی مدد اس کو دستک سے چونکا دیتی ہے اور وہ جو چاہتا ہے وہ پورا ہوجاتا ہے اور یہ مہلت اتنی ہی ہوتی ہے جتنی کہ اس کے امتحان کے لیے علم الٰہی میں ضروری ہوتی ہے۔ طلاق کا ذکر ہو رہا ہے تو اس جگہ اتنا مزید عرض کردینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عورت کی طرف سے اگر طلاق کا مطالبہ ہوجائے تو اس صورت حال کو خلع کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس کے احکام وہی قرآن کریم میں بیان کیے گئے ہیں ۔ ہم اس جگہ اس کی وضاحت درج کر رہے ہیں اور اس کے بعد طلاق کی مدت کا ذکر شروع ہوگا۔ خلع کیا ہے ؟ کیوں ہے ؟ اور اس کے احکام کی تفصیل اصطلاح شرع میں خلع اس طلاق کو کہا جاتا ہے جس کی خواہش عورت کی طرف سے ہو کہ کسی طریقہ سے اس مرد سے گلو خلاصی ہو جس کے ساتھ اس کا شرعی نکاح ہوا ۔ گویا جس طرح مرد یہ خواہش کرے تو اس کا نام طلاق ہے اور عورت کی طرف سے ابتداء ہو تو اس کا نام خلع ہے اور نتیجہ دونوں کا ایک ہے کہ دونوں میں جو عہد نکاح ہوا تھا وہ اسلامی حکم کے مطابق ممنوع ہوگیا اور وہ بندھن ٹوٹ گیا جس میں ان دونوں کو شریعت نے باندھ دیا تھا۔ اس باب میں ان احکام شریعت کے دو پہلو ہیں ۔ ایک پہلو اخلاقی ہے اور دوسرا قانونی ۔ اخلاقی پہلو یہ ہے کہ خواہ مراد ہو یا عورت ہر ایک کو طلاق یا خلع کا اختیار صرف ایک آخری چارہ کار کے طور پر استعمال کرنا چاہئے نہ یہ کہ محض خواہشات کی تسکین کے لئے طلاق اور خلع کو کھیل بنا لیاجائے اور اس کا دوسرا پہلو جو قانونی پہلو ہے چونکہ اس کا کام اشخاص کے حقوق متعین کرنا ہے وہ اس پہلو سے بحث نہیں کرتا بلکہ وہ جس طرح مرد کو شوہر ہونے کی حیثیت سے طلاق کا حق دیتا ہے اسی طرح عورت کو بھی بیوی ہونے کی حیثیت سے خلع کا حق دیتا ہے تاکہ دونوں کے لیے بوقت ضرورت عقد نکاح سے آزادی حاصل کرنا ممکن ہو اور کوئی فریق بھی ایسی حالت میں مبتلا نہ کردیا جائے کہ دل میں نفرت ہے ، مقاصد نکاح پورے نہیں ہوتے ، رشتہ ازدواج ایک مصیبت بن گیا ہے ، مگر جبراً ایک دوسرے کے ساتھ محض اس لیے بندھے ہوئے ہیں کہ اس گرفت سے آزاد ہونے کی کوئی صورت نہیں ۔ رہا یہ سوال کہ دونوں میں سے کوئی فریق اپنے حق کو بےجا طور پر استعمال کرے گا تو اس بارے میں قانون جہاں تک ممکن اور معقول ہے پابندیاں عائد کردیتا ہے مگر حق کو بجا یا بےجا استعمال کرنے کا انحصار بڑی حد تک خود استعمال کرنے والے کے اختیار تمیزی اور اس کی دیانت اور خدا ترسی پر ہے۔ اس کے اور خدا کے سوا کوئی بھی یہ فیصلہ نہیں کرسکتا کہ وہ محض طالب لذت ہے یا فی الواقع اس حق کے استعمال کی جائزحاجت رکھتا ہے۔ قانون اس کا فطری حق اسے دینے کے بعد اس کو بیجا استعمال سے روکنے کے لیے صرف ضروری پابندیاں اس پر عائد کرسکتا ہے۔ چناچہ طلاق کی بحث میں آپ دیکھ چکے ہیں کہ مرد کو عورت سے علیحدگی اختیار کرنے کا حق دینے کے ساتھ اس پر متعدد قیود لگا دی گئی ہیں ۔ مثلاً یہ کہ جو مہر اس نے عورت کو دیا تھا اس کا نقصان گوارا کرے ، زمانہ ٔ حیض میں طلاق نہ دے ، تین طہروں میں ایک ایک طلاق دے ، عورت کو زمانہ ٔ عدت میں اپنے ساتھ رکھے اور جب تین طلاق دے چکے تو پھر وہ عورت تحلیل کے بغیر دوبارہ اس کے نکاح میں نہ آسکے۔ اسی طرح عورت کو بھی خلع کا حق دینے کے ساتھ چند قیود عائد کردی گئی ہیں جن کو قرآن کریم کی ان مختصر سی آیات میں تمام و کمال بیان کردیا گیا ہے : خلع کی شرائط : وَلاَ یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّآ اٰتَیْتُمُوْہُنَّ شَیْئًا اِلآَّ اَنْ یَّخَافَآ اَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللہ ِط فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللہ ِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ (البقرۃ : 229) ” تمہارے لیے جائز نہیں کہ جو کچھ تم ان کو دے چکے ہو وہ واپس لے لو ۔ الایہ کہ میاں بیوی کو یہ خوف ہو کہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے ، تو ایسی صورت میں جب کہ تم کو خوف ہو کہ میاں بیوی اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے کچھ مضائقہ نہیں اگر عورت کچھ معاوضہ دے کر (عقد نکاح سے) آزادی حاصل کرلے “۔ اس آیت سے حسب ذیل احکام مستنبط ہوتے ہیں : (1) خلع ایسی حالت میں ہونا چاہئے جبکہ حدود اللہ کے ٹوٹ جانے کا خوف ہو۔ ( فلا جناح علیھما) کے الفاظ دلالت کرے ہیں کہ اگرچہ خلع ایک بری چیز ہے جس طرح کہ طلاق بری ہے لیکن جب یہ خوف ہو کہ حدود اللہ ٹوٹ جائیں تو خلع لینے میں کوئی برائی نہیں۔ (2) جب عورت عقدہ نکاح سے آزاد ہونا چاہے تو وہ بھی اسی طرح مال کی قربانی گوارا کرے جس طرح مرد کو اپنی خواہش سے طلاق دینے کی صورت میں گوارا کرنی پڑتی ہے۔ مرد اگر خود طلاق دے تو وہ اس مال میں سے کچھ واپس نہیں لے سکتا جو اس نے عورت کو دیا تھا اور اگر عورت جدائی کی خواہش کرے تو وہ اس مال کا ایک حصہ یا پورا مال واپس کر کے جدا ہو سکتی ہے جو اس نے شوہر سے لیا تھا۔ (3) افتراء ( یعنی معاوضہ دے کر رہائی حاصل کرنے) کیلئے محض فدیہ دینے والی کی خواہش کافی نہیں ، بلکہ اس معاملہ کا تمام اس وقت ہوتا ہے جب کہ فدیہ لینے والا بھی راضی ہو ۔ مقصد یہ ہے کہ عورت محض ایک مقدار مال پیش کر کے آپ سے علیحدہ نہیں ہو سکتی بلکہ علیحدگی کے لئ ضروری ہے کہ جو مال وہ پیش کر رہی ہے اس کو شوہر قبول کرے لے۔ (4) خلع کے لئے صرف اس قدر کافی ہے کہ عورت اپنا پورا مہر یا اس کا ایک حصہ پیش کر کے علیحدگی کا مطالبہ کرے اور مرد اس کو قبول کر کے طلاق دے دے ( فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ) کے الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں کہ خلع کا فعل تراضی طرفین سے مکمل ہوجاتا ہے ۔ اس سے ان لوگوں کے خیال کی تردید ہوتی ہے جو خلع کیلئے قضائے قاضی کو شرط قرار دیتے ہیں۔ (5) اگر عورت فدیہ پیش کرے اور مرد قبول نہ کرے تو اس صورت میں انکی طرف رجوع کیا جائے گا جو ( خلفھم) کے مخاطب ہیں ، یعنی مسلمانوں کے اولیٰ الامر اور چونکہ اولی الامر کا اولین فرض حدود اللہ کی حفاظت ہے اس لیے ان پر لازم ہوگا کہ جب حدود اللہ کے ٹوٹنے کا خوف متحقق ہوجائے تو عورت کو اس کا وہ حق دلوا دیں جو انہی حدود کے تحفظ کیلئے اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کیا ہے۔ یہ مجمل احکام ہیں جن میں اس امر کی تصریح نہیں کہ ’ ’ حدود اللہ کے ٹوٹ جانے کا خوف “ کن صورتوں میں متحقق ہوگا ۔ فدیہ کی مقدار متعین کرنے میں انصاف کیا ہے ؟ اور اگر عورت افتدلہ پر آمادہ ہو ، لیکن مرد قبول نہ کرے تو ایسی صورت میں قاضی کو کیا طریقہ اختیار کرنا چاہئے ؟ ان مسائل کی تفصیلات ہم کو خلع کے ان مقدمات کی رودادوں میں ملتی ہیں جو نبی ﷺ اور خلفائے راشدین ؓ کے سامنے پیش ہوئے تھے۔ ے صدر اول کے نظائر : خلع کا سب سے زیادہ مشہور مقدمہ وہ ہے جس میں ثابت بن قیس ؓ سے ان کی بیویوں نے خلع حاصل کیا ہے۔ اس مقدمہ کی رودادا کے مختلف ٹکڑے احادیث میں وارد ہوئے ہیں جن کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ثابت ؓ سے ان کی دو بیویوں نے خلع حاصل کیا تھا۔ ایک بیوی جمیلہ بنت ابی سلول ( عبد اللہ بن ابی کی بہن) کا قصہ یہ ہے کہ انہیں ثابت کی صورت ناپسند تھی ۔ انہوں نے نبی ﷺ کے پاس خلع کے لیے مرافعہ کیا اور ان الفاظ میں اپنی شکایت بیان کی : ( یا رسول اللہ ﷺ یحمع راسی وراسہ شی ابدًا ۔ انی رفعت جانب الخباء فرایتہ اقبل فی عدۃ فاذا ھو اشدھم سوادًاواقصر ھم قامۃ واقبحھم وجھا) ابن جریر) ” یا رسول اللہ ﷺ میرے اور اس کے سر کو کوئی چیز کبھی جمع نہیں کرسکتی ۔ میں نے اپنا گھونگھٹ جو اٹھایا تو دیکھا کہ وہ چند آدمیوں کے ساتھ آ رہا تھا تو میں نے دیکھا کہ وہ ان میں سب سے زیادہ کالا اور سب سے پستہ قد اور سب سے زیادہ بد شکل تھا “۔ ( واللہ ما کرھت منہ دینا ً ولا خلقا ً الانی کرھت دمامتہ ) (ابن جریر) ” اللہ کی قسم میں دین یا اخلاق کی کسی خرابی کے سبب سے اس کو ناپسند نہیں کرتی بلکہ مجھے اس کی بدصورتی ناپسند ہے “ ( واللہ لولا مخافۃ اللہ اذادخل علی لبصت فی وجھہ) ابن جریر) ” خدا کی قسم اگر خوف خدا نہ ہوتا تو جب وہ میرے پاس آیا تھا اس وقت میں اس کے منہ پر تھوک دیتی “۔ (یا رسول اللہ ﷺ بی من الجمال ما تری و ثابت رجل رمیم) عبد الرزاق بحوالہ فتح الباری) ” یا رسول اللہ ﷺ ! میں جیسی خوبصورت ہوں آپ ﷺ دیکھتے ہیں اور ثابت ایک بد صورت شخص ہے “۔ ( وما اعتب علیہ فی خلق ولا دین ولکنی اکرہ الکفر فی الاسلام) ( بخاری) ” میں اس کے دین اور اخلاق پر کوئی حرف نہیں رکھتی مگر مجھے اسلام میں کفر کا خوف ہے “۔ نبی ﷺ نے یہ شکایت سنی اور فرمایا کہ ( اتر دین علیہ حدیقتہ التی اعطاک) جو باغ تجھ کو اس نے دیا تھا وہ تو واپس کر دے گی ؟ انہوں نے عرض کیا ہاں ! یا رسول اللہ ﷺ بلکہ وہ زیادہ چاہے تو زیادہ بھی دوں گی ۔ حضور ﷺ نے فرمایا : ( ما الزیادۃ فلاولکن حدیقتہ) زیادہ تو نہیں مگر تو اس کا باغ واپس کر دے۔ پھر ثابت ؓ کو حکم دیا کہ : (اقبل الحدیقۃ وطلقھا تطلیقۃ) باغ قبول کرلے اور اس کو ایک طلاق دے دے۔ ثابت کی ایک اور بیوی حبیبہ بنت سہل الانصاریہ تھیں جن کا واقعہ امام مالک اور ابو دائود (علیہ السلام) نے اس طرح نقل کیا ہے کہ ایک روز صبح سویرے حضور ﷺ کا شانہ نبوی ﷺ سے برآمد ہوئے تو حبیبہ کو کھڑے پایا۔ دریافت فرمایا کہ کیا معاملہ ہے ؟ نہوں نے عرض کیا کہ : (لا اناولا ثابت بن قیس) میری اور ثابت کی نہیں نبھ سکتی ۔ جب ثابت ؓ حاضر ہوئے تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ حبیبہ بنت سہل ہے ۔ اس نے بیان کیا جو کچھ اللہ نے چاہا کہ بیان کرے۔ حبیبہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ جو کچھ مجھے ثابت نے دیا ہے وہ سب میرے پاس ہے۔ حضور ﷺ نے ثابت کو حکم دیا کہ وہ لے لے اور اس کو چھوڑ دے۔ بعض روایتوں میں ( خل سبیلھا) کے الفاظ ہیں اور بعض میں ( فارقھا) دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔ ابو دائود اور ابن جریر (رح) نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے اس واقعہ کو اس طرح روایت کیا ہے کہ : ثابت نے حبیبہ کو اتنا مارا تھا کہ ان کی ہڈی ٹوٹ گئی تھی ۔ حبیبہ نے آ کر حضور ﷺ سے شکایت کی کہ تو آپ ﷺ نے ثابت کو حکم دیا کہ : ( خذبعض ما لھا و فارقھا) اس کے مالک کا ایک حصہ لے لے اور جدا ہوجا ۔ مگر ابن ماجہ نے جو الفاظ نقل کیے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ حبیبہ کو ثابت کے خلاف جو شکایت تھی وہ مار پیٹ کی نہ تھی بلکہ بدصورتی کی تھی ۔ چناچہ انہوں نے وہی الفاظ کہے جو دوسری احادیث میں جمیلہ سے منقول ہیں ۔ یعنی اگر مجھے خدا کا خوف نہ ہوتا تو میں ثابت کے منہ پر تھوک دیتی۔ حضرت عمر ؓ کے سامنے ایک عورت اور مرد کا مقدمہ پیش ہوا ۔ آپ ؓ نے عورت کو نصیحت کی اور شوہر کے ساتھ رہنے کا مشورہ دیا ۔ عورت نے قبول نہ کیا ۔ اس پر آپ ؓ نے اسے ایک کو ٹھڑی میں بند کردیا جس میں کوڑا کرکٹ بھرا ہوا تھا۔ تین دن قید رکھنے کے بعد آپ ؓ نے اسے نکالا اور پوچھا کہ تیرا کیا حال ہے ؟ اس نے کہا خدا کی قسم مجھ کو انہی تین راتوں میں راحت نصیب ہوئی ۔ یہ سن کر حضرت عمر ؓ نے اس کے شوہر کو حکم دیا کہ : اخعلھا ویحک ولو من قرطھا “ اس کو خلع دے دے خواہ وہ اس کے کان کی بالیوں کے عوض ہی میں ہو “۔ ( کشف الغمہ ج 2) ربیع بنت معوذ بن عفراء نے اپنے شوہر سے اپنی تمام املاک کے معاوضہ میں خلع حاصل کیا ۔ شوہر نے نہ مانا ۔ حضرت عثمان ؓ کے پاس مقدمہ پیش ہوا ۔ حضرت عثمان ؓ نے اس کو حکم دیا کہ اس کی موباف تک لے لے اور اس کو خلع دے دے۔ فاجازہ وامرہ باخذ عقاص راسھا۔ (عبد الرزاق) احکام خلع ان روایات سے حسب ذیل امور پر روشنی پڑتی ہے : (1) (فان جعفتم الا یقیما حدود اللہ) کی تفسیر وہ شکایات ہیں جو ثابت بن قیس ؓ کی بیویوں سے منقول ہیں ۔ نبی ﷺ نے ان عورتوں کی اس شکایت کو خلع کیلئے کافی سمجھا کہ وہ بد صورت ہے اور وہ ان کو پسند نہیں ۔ آپ ﷺ نے ان کو خوبصورتی اور بد صورتی کے فلسفہ پر کوئی لیکچر (Lecture) نہیں دیا کیونکہ آپ ﷺ کی نظر شریعت کے مقاصد پر تھی ۔ جب یہ امر متحقق ہوگیا کہ ان عورتوں کے دل میں شوہر کی طرف سے نفرت و کر اہٹ بیٹھ چکی ہے تو آپ ﷺ نے ان کی درخواست کو قبول فرما لیا کیونکہ نفرت و کراہت کے ساتھ ایک عورت اور مرد کو جبراً ایک دوسرے سے باندھ رکھنے کے نتائج دین ، اخلاق اور تمدن کیلئے طلاق و خلع سے زیادہ خراب ہیں اور ان سے مقاصد شریعت فوت ہونے کا خوف ہے۔ پس نبی کریم ﷺ کے عمل سے یہ قاعدبہ نکلتا ہے کہ خلع کا حکم نافذ کرنے کے لئے محض اس بات کا محق ہوجانا کافی ہے کہ عورت اپنے شوہر کو ناپسند کرتی ہے اور اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی ۔ (2) ۔ حضرت عمر ؓ کے فعل سے معلوم ہوتا ہے کہ نفرت و کراہت کی تحقیق کیلئے قاضی شرع کوئی مناسب تدبیر اختیار کرسکتا ہے تاکہ کسی شبہ کی گنجائش نہ رہے اور بالیقین معلوم ہوجائے کہ ان زن و شو میں اب نباہ ہونا متوقع نہیں ہے۔ (3) حضرت عمر ؓ کے فعل سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نفرت و کراہت کے اسباب کا کھوج لگانا ضروری نہیں اور یہ ایک معقول بات ہے۔ عورت کو اپنے شوہر سے بہت سے ایسے اسباب کی بناء پر نفرت ہو سکتی ہے جن کو کسی کے سامنے بیان نہیں کیا جاسکتا ۔ ایسے اسباب بھی نفرت کے ہو سکتے ہیں جن کو اگر بیان کیا جائے تو سننے والا نفرت کیلئے کافی نہ سمجھے لیکن جس کو ان اسباب سے دن رات سابقہ پیش آتا ہے اس کے دل میں نفرت پیدا کرنے کے لیے وہ کافی ہوتے ہوں ۔ لہٰذا قاضی کا کام صرف اس واقعہ کی تحقیق کرنا ہے کہ عورت کے دل میں شوہر سے نفرت پیدا ہوچکی ہے۔ قاضی عورت کو وعظ و پند کر کے شوہر کے ساتھ رہنے کے لیے راضی کرنے کے لیے کوشش ضرور کرسکتا ہے مگر اس کی خواہش کے خلاف اسے مجبور نہیں کرسکتا ، کیونکہ خلع اس کا حق ہے جو خدا نے اس کو دیا ہے اگر وہ اس امر کا اندیشہ ظاہر کرتی ہے کہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنے میں وہ حدود اللہ پر قائم نہ رہ سکے گی تو کسی کو اس سے یہ کہنے کا حق نہیں کہ تو چاہے حدود اللہ کو توڑ دے مگر اس خاص مرد کے ساتھ بہر حال مجھ کو رہنا پڑے گا ۔ (5) خلع کے مسئلہ میں دراصل یہ سوال قاضی شروع کیلئے تنقیح طلب ہی نہیں ہے کہ عورت جائز ضرورت کی بناء پر طالب خلع ہے یا محض نفسانی خواہشات کیلئے علیحدگی چاہتی ہے ۔ اس لیے نبی ﷺ اور خلفاء راشدین ؓ نے قاضی کی حیثیت سے جب مقدمات خلع کی سماعت کی تو سوال کو بالکل نظر انداز کردیا کیونکہ اول تو اس سوال کی کما حقہ تحقیق کرنا قاضی کے بس کی بات نہیں ، دوسرے خلع کا حق عورت کے لئے اس حق کے مقابلہ میں ہے جو مرد کو طلاق کی صورت میں دیا گیا ہے اور اس کا احتمال دونوں صورتوں میں یکساں ہے مگر مرد کے حق طلاق کو قانون میں اس قید کے ساتھ مقید نہیں کیا گیا کہ وہ ذواقیت کیلئے استعمال نہ کیا جائے ۔ پس جہاں تک قانونی حق کا تعلق ہے عورت کے حق خلع کو بھی کسی اخلاقی قید سے مقید نہ ہونا چاہئے۔ تیسری بات یہ ہے کہ کوئی بھی عورت دو حال سے خالی نہ ہوگی یا وہ فی الحقیقت خلع کی جائز ضرور رکھتی ہوگی یا محض ذواقہ ہوگی ۔ اگر پہلی صورت ہے تو اس کے مطالبہ کو رد کرنا ظلم ہوگا اور اگر دوسری صورت ہے تو اس کو خلع کے بازرکھنے سے شریعت کے اہم مقاصد فوت ہوجائیں گے۔ اس لیے کہ جو عورت طبعا ً ذواقہ ہے تو وہ تسکین کے لیے کوئی نہ کوئی تدبیر کر کے رہے گی ۔ اگر آپ اس کو جائز طریقے سے ایسا نہ کرنے دیں گے تو ناجائز طریقوں سے اپنی فطرت کے داعیات کو پورا کرے گی اور یہ زیادہ برا ہوگا ۔ ایک عورت کا پچاس شوہروں کو یکے بعد دیگر بدلنا اس سے بدرجہا بہتر ہے کہ وہ کسی شخص کے قید نکاح میں رہتے ہوئے ایک مرتبہ بھی زنا کاری کا اتکارب کرے۔ (6) اگر عورت خلع مانگ اور شوہراس پر راضی نہ ہو تو قاضی اس کو حکم دے گا کہ اسے چھوڑ دے ۔ روایات میں یہی آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور خلفائے راشدین ؓ نے ایسی صورتوں میں مہر قبول کر کے عورت کو چھوڑ دینے کا حکم دیا ہے اور قاضی کا حکم بہر حال یہی مصلحت رکھتا ہے کہ محکوم علیہ جو امتشال کا پابند ہے حتیٰ کہ اگر وہ امتشال نہ کرے تو قاضی اس کو مجبور کرسکتا ہے ۔ شریعت کی حیثیت صرف ایک مشیر (Consultant) کی نہیں ہے کہ اس کا حکم محض مشورہ کے درجہ میں ہو اور محکوم علیہ کو اس کے ماننے یا نہ ماننے کا اختیار ہو۔ (7) خلع کا حکم نبی ﷺ کی تصریح کے مطابق ایک طلاق بائن کا ہے یعنی اس کے بعد زمانہ ٔ عدت میں شوہر کو رجوع کا حق نہ ہوگا کیونکہ حق رجوع باقی رہنے سے خلع کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے۔ نیز چونکہ عورت نے جو مال اس کو دیا ہے وہ عقد نکاح سے رہائی کے معاوضہ میں دیا ہے اس لیے اگر شوہر معاوضہ لے لے اور اس کو رہائی نہ دے تو یہ فریب اور دغا بازی ہوگی جس کو شریعت جائز نہیں رکھ سکتی ۔ ہاں ! اگر عورت دوبارہ اس کے ساتھ نکاح چاہے تو کرسکتی ہے کیونکہ یہ اس قسم کی طلاق ہے جس کے بعد دوبارہ نکاح کرنے کے لیے تحلیل شرط نہیں ہے۔ (8) خلع کے معاوضہ کے تعیین میں اللہ تعالیٰ نے کوئی قید نہیں لگائی ہے ۔ جتنے معاوضہ پر بھی زوجین راضی ہوجائیں اس پر خلع ہو سکتا ہے لیکن نبی ﷺ نے اس کو پسندنہ فرمایا کہ شوہر خلع کے معاوضہ میں اپنے دیئے ہوئے مہر سے زیادہ مال لے ۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے : ( لا یاخذالرجل من المختلفعۃ اکثر ھما اعطاھا) حضرت علی ؓ نے بھی بالفاظ صریح اس کو مکروہ فرمایا ہے۔ ایمہ مجتہدین کا بھی اس پر اتفاق ہے بلکہ اگر عورت اپنے شوہر کے ظلم کیوجہ سے خلع کا مطالبہ کرے تو شوہر کے لیے سرے سے مال لیتا ہی مکروہ ہے۔ جیسا کہ ہدایہ میں ہے : وان کان انلشوز من قبلہ بکرہ لہ ان یاخذ منھا عوضا ً اس باب میں اصول شرع کے ماتحت یہ ضابطہ بنایا جاسکتا ہے کہ اگر خلع مانگنے والی عورت اپنے شوہر کا نشوز ثابت کر دے یا خلع کیلئے ایسے وجود ظاہر کرے جو قاضی کے نزدیک معقول ہوں تو اس کو مہر کے ایک قلیل جز یا نصف کی واپسی پر خلع دلایا جائے اور اگر وہ نہ شوہر کو نشوز ثابت کرے ، نہ کوئی معقول وجہ ظاہر کرے تو اس کیلئے پورا مہر یا اس کا ایک بڑا حصہ واپس کرنا ضروری قرار دیا جائے ۔ اگر اس کے رویئے میں قاضی کو ذواقیت کے آثار نظر آئیں تو قاضی سزا کے طور پر اس کو مہر سے بھی کچھ زیادہ دینے پر مجبور کرسکتا ہے۔ مسئلہ خلع میں ایک بنیادی غلطی خلع کی اس بحث سے یہ حقیقت عیاں ہوجاتی ہے کہ قانون اسلامی میں عورت اور مرد کے حقوق کے درمیان کس قدر صحیح توازن قائم کیا گیا تھا۔ اب یہ ہماری اپنی غلطی ہے کہ ہم نے اپنی عورتوں سے خلع کے حق کو عملاً سلب کرلیا اور اصول شرعی کے خلاف عقدہ نکاح کو کلیتاً مرد کی خواہش پر منحصر ٹھہرا دیا اس سے عورتوں کی جو حق تلفیاں ہوئیں اور ہو رہی ہیں ان کی ذمہ داری خدا اور رسول ﷺ کے قانون پر قطعاً نہیں ہے بلکہ ان لوگوں پر ہے جنہوں نے اس قانون کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ اگر اب بھی عورتوں کے اس حق کا استقرار ہوجائے تو بہت سی گتھیاں سلجھ جائیں گی جو ہمارے ازدواجی معاملات میں پیدا ہوگئی ہیں بلکہ گتھیوں کا پیدا ہونا بند ہوجائے گا ۔ عورت سے خلع کے حق کو جس چیز نے عملاً بالکل سلب کرلیا ہے وہ یہ غلط خیال ہے کہ شایدخلع کا معاملہ کلیتاً زن و شوہر کے درمیان رکھا ہے اور اس میں مداخلت کرنا قاضی کے حدود اختیارات سے باہر ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ خلع دینا یا نہ دینا بالکل مرد کی مرضی پر موقوف ہوگیا ہے۔ اگر عورت خلع حاصل کرنا چاہے اور مرد اپنی شرارت یا خود غرضی سے نہ دینا چاہئے تو عورت کیلئے کوئی چارہ کار نہیں لیکن یہ بات شارع کے منشاء کے بالکل خلاف ہے۔ شارع کا یہ منشاء ہرگز نہ تھا کہ معاملہ انکار سے ایک فریق کو بالکل بےبس کر کے دوسرے فریق کے ہاتھ میں دے دے ۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ بلند اخلاق مقاصد فوت ہوجاتے جو اس نے مناکحت کے ساتھ وابستہ کیے ہیں ۔ جیسا کہ اس سے پہلے بیان کیا کہ اسلامی شریعت میں قانون ازدواج کی بنا ہی اس اصل پر رکھی گئی ہے کہ عورت مرد کا ازدواجی تعلق پاکیزگی ، اخلاق اور مؤدت و رحمت کے ساتھ قائم رہ سکتا ہو۔ اس کا استحکام مستحسن اور ضروری ہے ، اس کو توڑنا تڑوانے کی کوشش کرنا سخت نا محمود ہے اور جب یہ تعلق دونوں کیلئے یا دونوں میں سے ایک کیلئے اخلاق کی خرابی کا سبب بن جائے یا اس میں مؤدت و رحمت کی جگہ نفرت و کراہت داخل ہوجائے تو پھر اس کا توڑ دینا ضروری ہے اور اس کا باقی رہنا اغراض شریعت کے خلاف ہے۔ اس اصل کے ماتحت شریعت نے معاملہ نکاح کے دونوں فریقوں کو ایک قانونی آلہ ایسا دیا ہے جس سے وہ عقائد نکاح کے ناقابل برداشت ہوجانے کی صورت میں حل عقد کا کام لے سکتے ہیں ۔ مرد کے قانونی آلہ کا نام طلاق ہے جس کے استعمال میں اسے آزادانہ اختیار دیا گیا ہے اور اس کے بالمقابل عورت کے قانونی آلہ کا نام خلع ہے جس کے استعمال کی صورت یہ رکھی گئی ہے کہ جب وہ عقد نکاح کو توڑنا چاہے تو پہلے مرد سے اس کا مطالبہ کرے اور اگر مرد اس کی خواہش پور کرنے سے انکار کر دے تو پھر قاضی سے مدد لے۔ زوجین کے حقوق میں توازن اسی طرح قائم رہ سکتا تھا اور خدا اور رسول ﷺ نے در حقیقت یہی توازن قائم کیا تھا مگر قاضی کے اختیار سماعت کو درمیان سے خارج کر کے یہ توازن بگاڑ دیا گیا کیونکہ اس طرح وہ قانونی آلہ جو عورت و دیا گیا تھا قطعاً بیکار ہوگیا اور عملاً قانون کی صورت بگڑکر یہ ہوگئی کہ اگر مرد کو ازدواجی تعلق میں حدود اللہ کے ٹوٹنے کا خوف ہو یا یہ تعلق اس کیلئے ناقابل برداشت ہوجائے تو وہ اسے قطع کرسکتا ہے لیکن اگر یہی خوف عورت کو ہو یا ازدواجی تعلق اس کیلئے ناقابل برداشت ہوجائے تو اس کے پاس اس تعلق کو قطع کرانے کا کوئی ذریعہ نہیں ۔ تاوقتیکہ مرد ہی اس کو آ زاد نہ کر دے ، وہ مجبور ہے کہ ہر حال میں اس تعلق میں بندھی رہے خواہ حدود اللہ پر قائم رہنا اس کیلئے محال ہی کیوں نہ ہوجائے اور مناکحت کے شرعی مقاصد بالکل ہی کیوں نہ فوت ہوجائیں ۔ کیا کسی میں اتنی جسارت ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی شریعت پر اتنی کھلی ہوئی بےانصافی کا الزام عائد کرسکے ؟ مسئلہ خلع میں قاضی کے اختیارات قرآن مجید کی جس آیت میں خلع کا قانون بیان کیا گیا ہے ، اس کو پھر پڑھیئے۔ ( فان خفتم الا یقیما حدود اللہ فلا جناح علیھا فیما افتدت بہ) ” اگر تم کو خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو ان دونوں پر اس میں کوئی مضائقہ نہیں کہ وہ عورت کچھ فدیہ دے کر علیحدگی حاصل کرے “۔ اس آیت میں زوجین کا ذکر تو غائب کے صیغوں سے کیا گیا ہے ، لہٰذا وہ لفظ ( خفتم) کے مخاطب نہیں ہو سکتے۔ اب لا محالہ یہ ماننا پڑے گا کہ اس کے مخاطب مسلمانوں کے اولی الامر ہیں اور حکم الٰہی کا منشاء یہ ہے کہ اگر خلع زوجین میں تراضی حاصل نہ ہو تو اولی الامر کی طرف رجوع کیا جائے پھر اس کی تصدیق ان احادیث سے ہوتی ہے جو ہم اوپر نقل کرچکے ہیں ۔ نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین کے پاس خلع کے دعوے لے کر عورتوں کا آنا اور آپ ﷺ کا ان کی سماعت کرنا خود اس بات کی دلیل ہے کہ جب زوجین میں تراضی حاصل نہ ہو تو عورت کو قاضی کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ فی الواقع قاضی کا فیصلہ اس معاملہ میں بےاثر ہو اور مرد کے راضی نہ ہونے کی صورت میں قاضی سے اپنا فیصلہ منوانے کا اقتدار نہ رکھتا ہو تو قاضی کو مرجع قرار دینا سرے سے فضول ہے۔ اس کے پاس جانے کا نتیجہ بھی وہی ہے جو نہ جانے کا ہے۔ لیکن کیا احادیث سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے کہ قاضی اس معاملہ میں بےاختیار ہے ؟ نبی ﷺ اور خلفائے راشدین ؓ کے جتنے فیصلے اوپر بیان ہوئے ہیں ان سب میں یا تو صیغہ امر آیا ہے جیسے ( طلقھا) اور ( فارقھا) اور ( خل سبیلھا) یا یہ بیان کہ آپ ﷺ نے مرد کو حکم دیا کہ ایسے کرے۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے جو روایت نقل کی ہے اس میں تو الفاظ یہ ہیں کہ ( ففرق بینھما) پھر آپ ﷺ نے ان کو جدا کردیا اور یہی الفاظ اس روایت میں بھی ہیں جو جمیلہ بنت ابی سلول سے منقول ہے۔ اس کے بعد یہ شبہ کرنے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ قاضی خلع کے معاملہ میں حکم دینے کا مجاز نہیں ۔ رہا یہ سوال کہ اگر شوہر اس حکم کو محض مشورہ سمجھ کر ماننے سے انکار کر دے تو کیا قاضی اس سے جبراً اپنا حکم منوا سکتا ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ نبی ﷺ اور خلفائے راشدین ؓ کے عہد میں ایسی تو کوئی مثال ہم کو نہیں ملتی کہ آپ ﷺ نے کوئی فیصلہ صادر فرمادیا ہو اور کسی نے اس سے سرتابی کی جرأت کی ہو لیکن سیدنا علی ؓ کے اس فیصلہ پر ہم قیاس کرسکتے ہیں جس میں آپ ؓ نے ایک ہیکڑ شوہر سے فرمایا تھا کہ : لست ببارح حتی ترضی بمثل ما رضیت بہ یعنی تجھے نہ چھوڑا جائے گا جب تک تو بھی اسی طرح حکمین کا فیصلہ قبول کرنے پر راضی نہ ہو ۔ جس طرح عورت راضی ہوئی ہے۔ اگر قاضی ایک شوہر کو حکمین کے فیصلہ پر سر تسلیم خم کرنے سے انکار کرنے سے حراست میں رکھتا ہے تو وہ خود اپنا فیصلہ منوانے کیلئے بدرجہ اولیٰ قوت استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ دنیا کے تمام معاملات میں سے صرف خلع ہی کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہو جسے قاضی کے اس حق سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ فقہ کی کتابوں میں متعدد جزئیات ایسے ملتے ہیں جن میں قاضی کو اختیار دیا گیا ہے کہ اگر شوہر اس کے حکم سے طلاق نہ دے تو قاضی خود تفریق کرا دے۔ پھر کیوں نہ خلع کے مسئلہ میں بھی قاضی کو یہ اختیار حاصل ہو ؟
Ayah 65:4

وَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا Open ayah 65:4 in the Quran reader

اور (تمہاری) وہ (مطلقہ) عورتیں جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں اگر تم کو شبہ ہو تو ان کی (مدت) عدت تین مہینے ہے اور اس طرح جن عورتوں کو ابھی حیض نہیں آیا (ان کی مدت عدت بھی تین مہینے ہے) اور حاملہ عورتوں کی (مدت) عدت وضع حمل ہے اور جو کوئی اللہ سے ڈرتا ہے تو وہ (اللہ تعالیٰ یقینا) اس کے کام میں آسانیاں پیدا کردیتا ہے

حیض سے مایوس عورتوں کی عدت تین ماہ ہے اور ان کی بھی جن کو حیض نہیں آتا 4 ؎ زیر نظر آیت میں ہمارے مفسرین نے بہت لمبا کلام کیا ہے اور وہ بحث کرتے کرتے دور سے دور نکل گئے ہیں ۔ آئسہ کیا ہے ؟ یاس کس مدت عمر سے شروع ہوتا ہے۔ آئسہ مدخولہ کا کیا حکم ہے ؟ آئسہ غیر مدخولہ کی کیا صورت ہے اگر کسی عورت کو حیض آنا بند ہوچکا ہو لیکن وہ کسی عارضی یعنی بیماری کے باعث ہو اگر حیض رک گیا ہو لیکن وہ مستحائضہ ہو کبھی حیض آئے اور کبھی نہ آئے یعنی ان کے دن متعین نہ رہے ہوں اس طرح کے بیسیوں سوال انہوں نے اٹھائے اور ان کے فرضی جواب دیئے۔ اس کے درمیان فقہاء کو کیا کیا پریشانیاں لا حق ہوئیں اور انہوں نے کیا کیا اختلافات بیان کیے۔ ان کا نتیجہ کیا نکلا کہ کسی کے نزدیک ایک بات صحیح اور کسی کے نزدیک دوسری لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ان ساری بحثوں کے اٹھانے اور بیان کرنے کی چنداں ضرورت نہیں تھی اور نہ ہے اور اس کا سہل اور آسان مطلب ہمارے نزدیک یہ ہے کہ طلاق کی مدت تو شروع ہوگی طلاق دینے کے بعد اور طلاق دینے کے لیے زیر نظر سورت میں جو طریقہ بیان کیا گیا ہے وہ حیض سے پاک ہونے کے بعد اور اس طہر میں صحبت کرنے سے پہلے ہے لیکن جس عورت کو حیض ہی نہ آتا ہو خواہ وہ کسی عارضہ کی وجہ سے نہ آئے خواہ وہ اس مدت عمر کو پہنح چکی ہو اور خواہ اس کی کوئی صورت بھی ہو سوال تو یہ ہے کہ طلاق کی عدت شمار کرنے سے پہلے طلاق دینے کی کیا صورت ہے کہ وہ شریعت کے مطابق کہی جائے ؟ زیر نظر آیت میں اس طرح کی ساری وضاحت بیان کردی ہے وہ اس طرح کہ آئسہ ہر وہ عورت ہے جس کا بغیر حمل کے ماہانہ کورس بند ہے خواہ مدت عمر کے باعث خواہ کسی بیماری کے باعث اور بیماریوں کی اقسام میں ہے خواہ کسی بیماری کے باعث یا وہ ابھی اس عمر ہی کو نہیں پینچ کہ اس کو کورس شروع ہوتا اور خواہ عمر کو پہنچنے کے بعد ابھی تک وہ مایوس ہے۔ بہر حال اس کی کوئی صورت بھی ہو اور آپ اس معاملہ میں متردد ہوں تو تم کو متردد ہونے کی کوئی ضرورت نہیں اگر نباہ ممکن نہیں تو تم طلاق دے دو اور جس روز سے تم نے طلاق دی ہے اس روز سے تین مہینے پورے کرلو ۔ عورت کی عدت گزر گئی اور اب وہ تمہارے حبالہ عقد سے آزاد ہے جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے۔ رہی یہ بات کہ تمہارے طلاق دینے کے بعد اگر اس کو دو مہینے کے بعد ایک مہینے کے بعد یا کم و بیش مدت میں حیض شروع ہوگیا اور اب وہ آئسہ نہ رہی تو تم کو ان بحثوں میں مبتلا ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ طلاق دینے اور اس کی عدت کے شمار کرنے کی ایک صورت وہ تھی جس کا اوپر ذکر ہوا جس کہ عورت آئسہ نہیں تھی اور دوسری صورت آئسہ ہونے کی ہے اور ان دونوں صورتوں میں طلاق واقع ہو جائیگی لیکن اگر یہ ثابت ہوجائے کہ جس عورت کو تم نے آئسہ سمجھا اور طلاق دے دی پھر اس مدت کے اندر بات واضح ہوگئی کہ وہ تو حاملہ تھی تو اس کی مدت عدت بدل جائے گی یعنی تین ماہ نہیں رہے گی بلکہ وضع حمل ہی ہوگی ۔ طلاق اس کی جائز ہے ۔ جب اس کا حمل وضع ہوجائے تو وہ جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے ۔ بلا شبہ اس طرح بھی ضمنی سوال پیدا ہوتے ہیں اور ہو سکتے ہیں لیکن جب کوئی سوال پیدا ہوگا تو ان شاء اللہ العزیز اس کا جواب بھی ان کو مل جائے گا اس لیے کہ اس قانون کے جاننے والے اور استنباط کرنے والے ضمنی قانون بنانے والے اور منسوخ کرنے والے آتے رہیں گے جس معاملہ میں وسعت ہے اس معاملہ میں حالات کے پیش نظر جواب بھی ہوتے رہیں گے اور ان کو کتاب و سنت سے استنباط کرلیا جائے گا ۔ قرآن کریم اصولوں کو بیان کرتا ہے تو پھر اس کی بحث بھی اصولوں تک محدود رہنی چاہئے۔ اس میں حکم یہ ہے کہ حمل والیوں کی عدت واضع حمل ہے۔ یہ عدت طلاق کی عدت ہو یا خاوند کی وفات پانے کی عدت دونوں کے لیے یہی حکم ہے۔ یہ بھی کہ یہ حمل طلاق دینے والے کا شمار ہو کر اولاد کی نسبت طلاق دینے والے کی طرف ہوگی اور وہی اس کا باپ متصور ہوگا ۔ اس کے متعلق دوسرے احکام آگے آ رہے ہیں ۔ ” اور جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے تو وہ اس کے کام میں آسانیاں پیدا کردیتا ہے “۔ یہ وہی بات ہے جو قبل ازیں گزشتہ آیت کے آخر میں بیان کی گئی تھی ۔ اس جگہ اس حکم کے بعد دوبارہ تنبیہ فرما دی کہ ان احکام میں اگر تم حدود اللہ کا خیال رکھو گے تو تمہارے لیے کتنی آسانیاں پیدا ہوتی چلی جائیں گی صرف ایک ہی بات پر غور کرلو تو باقی ساری باتیں اس میں شامل ہوجائیں گی وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اگر میاں بیوی کے درمیان سکون کی کوئی صورت پیدا نہ ہو رہی ہو تو میاں عین اسلامی حکومت کے مطابق بیوی کو ایک طلاق دے دے اور پھر اس کی عدت کے دنوں تک خاموش رہے۔ یہ دورانیہ جس کی مدت کم ازکم تین ماہ ہے فریقین کی سوچ و بچار کے لیے کفایت کرتا ہے اگر اس مدت میں کوئی بات بنتی نظر آگئی تو فیہا کہ رجوع کیا جاسکتا ہے لیکن اگر کوئی فہم و تفہیم کی بات نہ نکلی تو طلاق نافذ ہوجائے گی۔ اب عورت آزاد ہے چاہے نکاح کرے لیکن اس میں ابھی یہ سہولت بھی موجود ہے کہ اگر دوبارہ ان دونوں کی اصلاح کی کوئی صورت نکل آئے گی اور جس طرح عورت آزادی سے کسی بھی جگہ نکاح کرنے کی مجاز ہوگی اس پہلے مرد کے ساتھ جس سے اس کو طلاق ملی تھی نکاح کرنے کی مجاز ہوگی اور اس طرح یہ مرد جس طرح کسی بھی جگہ کسی بھی عورت کے ساتھ نکاح کرسکتا ہے جس کے ساتھ اس کا نکاح جائز ہے تو اس طرح اس مطلقہ عورت سے بھی نکاح کرسکتا ہے اور یہ سہولت کتنی بڑی سہولت ہے اور یہ آسانی کتنی مشکلات کا حل ہے لیکن افسوس کہ اس آسانی پر مذہبی رہنمائوں اور سیاسی لیڈروں نے اپنی اپنی رہنمائی اور لیڈری کو محفوظ رکھنے کے لیے پردہ ڈال دیا کہ اگر ایسی بات ہوئی تو ہم کو کون پوچھے گا اور ہم لوگ جو ان بداعتدالیوں کے باعث گچھرے اڑاتے ہیں وہ کیسے اڑا سکیں گے اور اس لیے اس پر پردہ ہی پڑا رہنے دیا اور اب وہ ٹس سے مس نہیں ۔ ہم مذہبی رہنمائوں اور سیاسی لیڈروں کے سامنے عاجزانہ عرض کرتے ہیں کہ خدا کے لیے ان ناخواندہ ، جاہل اور ناسمجھ عوام پر رحم کرو اور اپنے اللہ سے ڈرتے ہوئے جہاں اللہ نے آسانیاں پیدا کی ہیں وہاں مشکلات پیدا نہ کرو ۔ ان عوام کو باور کر ائو اور اس طرح کے قانون بنائو جس سے اللہ اور اس کے رسول کی بنائی ہوئی حدود کے مطابق زندگی گزاری جاسکے۔ اس طرح تم اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی سرخرو ہو گے اور اپنی دین و دنیا میں تمہیں بھلائیاں نصیب ہوں گی اور عوام کی حالت بھی درست ہوگی اور وہ پیروں اور مولویوں کے چنگل سے آزاد ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے دین کے ساتھ مذاق بھی نہیں ہوگا ، جو اس وقت روا رکھا گیا ہے۔
Ayah 65:5

ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا Open ayah 65:5 in the Quran reader

یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے اور جو اللہ سے ڈرے گا تو وہ اس کے گناہ اس سے دور کر دے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا

یہ اللہ کا حکم نازل کیا گیا ہے کہ اللہ سے ڈرنے والوں کے گناہ معاف کیے جاتے ہیں 5 ؎ گزشتہ آیات کے مضمون کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے اور حدود اللہ کی حفاظت کی تاکید کی جا رہی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے احکام ہیں جو اس نے تمہاری آسانی کے لیے نازل کیے ہیں اور خصوصاً عورتوں پر جو زیادتیاں روا رکھی گئی تھیں ان کی وضاحت کی جا رہی ہے کہ ان اللہ کی بندیوں پر رحم کرتے ہوئے ان کو ظلم و زیادتی کا نشانہ نہ بنائو اور جو سہولتیں اللہ نے فریقین کے لیے رکھی ہیں ان کو مشکلات میں مت بدلو اور اچھی طرح یاد رکھو کہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی غلطیوں سے در گزر کرتا ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ آسانیاں پیدا کرنے والوں کے لیے اس نے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے ۔ انسان جب اپنی انسانیت کا مظاہرہ کرتا ہے اور حیوانیت سے احتراز کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا قانون اس کے استقبال کے لیے آگے بڑھ کر اس کی پذیرائی کرتا ہے اور اس کی انسانیت کی قدر کی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا اجر محفوظ ہوجاتا ہے۔
Ayah 65:6

اَسْكِنُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ سَكَنْتُمْ مِّنْ وُّجْدِكُمْ وَ لَا تُضَآرُّوْهُنَّ لِتُضَیِّقُوْا عَلَیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ كُنَّ اُولَاتِ حَمْلٍ فَاَنْفِقُوْا عَلَیْهِنَّ حَتّٰى یَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ۚ فَاِنْ اَرْضَعْنَ لَكُمْ فَاٰتُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ۚ وَ اْتَمِرُوْا بَیْنَكُمْ بِمَعْرُوْفٍ١ۚ وَ اِنْ تَعَاسَرْتُمْ فَسَتُرْضِعُ لَهٗۤ اُخْرٰىؕ Open ayah 65:6 in the Quran reader

(جن عورتوں کو تم نے طلاق دی ہے) ان کو اپنی حیثیت کے مطابق رہنے کا گھر دو جہاں تم خود رہتے ہو اور انہیں تنگ کرنے کے لیے تکلیف نہ دو اور اگر وہ حاملہ ہوں تو بچہ پیدا ہونے تک ان پر خرچ کرتے رہو اگر وہ تمہاری خاطر دودھ پلائیں تو ان کو ان کا حق (دودھ پلائی) ادا کرو اور آپس میں دستور کے مطابق مشورہ کرلو اور اگر تمہاری باہم کشمکش ہے تو کوئی اور (عورت) دودھ پلانے کے لیے مقرر کر لو

طلاق اور عدت کے ضمنی سوالات اور ان کے فیصلہ کن جوابات 6 ؎ طلاق کی اقسام بہت ہیں لیکن ان میں سے بعض طلاق کو رجعی کہا جاتا ہے اور بعض مغلظہ یا قطعی ۔ طلاق کی بعض اقسام میں رجوع کیا جاسکتا ہے اور بعض میں نہیں ۔ قرآن کریم نے ان ساری طلاقوں میں سے کسی طلاق کا نام نہیں لیا اور کوئی تخصیص نہیں کی چونکہ پیچھے فی نفسہٖ طلاق کا ذکر ہوتا چلا آ رہا تھا لہٰذا زیر نظر آیت میں یہ ارشاد فرمایا گیا کہ ” جن عورتوں کو تم نے طلاق دی ہے ان کو اپنی حیثیت کے مطابق رہنے کا گھر دو جہاں تم خود رہتے ہو “ اب علمائے اسلام ، مفتیان اسلام اور مفسرین قرآن کریم نے اس میں بہت بحث کی ہے کہ وہ کون سی طلاق ہے جس میں سکنٰی اور نفقہ دونوں ہیں ؟ اور کون سی قسم ہے جس میں صرف سکنٰی ہے لیکن نفقہ نہیں اور کونسی طلاق ہے جس میں سکنٰی اور نفقہ دونوں نہیں ہیں پھر اس کی علت تلاش کی ہے کہ آخر یہ سکنٰی اور نفقہ اسلام نے کیوں دلوایا ہے اور پھر اس میں بھی اختلافات پایا جاتا ہے اور یہ بحث اتنی لمبی ہے کہ اگر وہ ساری بحث ضبط تحریر میں لائی جائے تو اس سورت کے لیے یہ جلد خاص کردی جائے۔ بہر حال اس بحث کے لیی کتب فقہ ہیں اور وہ اپنی ذمہ داری پوری کر رہی ہیں جس کو شوق ہو ان کا مطالعہ کرلے ہم صرف اتنی بات عرض کرنا چاہتے ہیں کہ جب قرآن کریم نے ایک ہی حکم بیان کیا ہے تو ظاہر ہے کہ یہ طلاق کی ساری اقسام پر لاگو ہوگا اور اس میں کسی قسم کو بھی مستثنیٰ نہیں کیا جائے گا اور اس طرح یہ بھی کہ جب سکونت دی تو نفقہ کا حق بدرجہ اتم دیا جس کی وضاحت پیچھے بھی گزر چکی ہے کہ جن عورتوں کو تم نے طلاق دی ہے ان کو گھروں سے نکال نہ دو بلکہ ان کو اسی جگہ عدت گزارنے دو بلکہ ضرروی ہے کہ وہ وہیں عدت گزاریں اور جب عدت پوری ہوجائے تو مطلقہ عورتوں کو رخصت کر دو کہ وہ جہاں چاہیں جا کر نکاح کرلیں یا جہاں چاہیں سکونت اختیار کرلیں ۔ یہ رعایت وہاں دی گئی تھی کہ اگر وہ خود نکل جائیں تو طلاق دینے والے پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی ۔ زیر نظر آیت میں مطلقہ کو سکنٰی اور نفقہ دونوں کی ادائیگی کا حکم دیا جا رہا ہے اور اس کے ساتھ یہ تلقین بھی کی گئی کہ جس طرح کی رہائش میں مرد رہتا ہے یا جس طرح کی رہائش میں آج تک یعنی طلاق سے قبل عورت رہی ہے اسی طرح کی رہائش یا بالکل وہی رہائش اس عورت کے پاس رہے گی اور اسی طرح اس کو ویسا ہی کھانا دیا جائے گا جیسا کہ طلاق سے قبل اس کو دیا جاتا تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ اگر طلاق رجعی ہے تو مرد کو رجوع کا حق رہے گا لہٰذا وہ عدت کے اندر اندر کسی وقت بھی رجوع کرسکتا ہے اور جب دونوں آپس میں میاں بیوی کی طرح مل جائیں گے تو اس کو رجوع تصور کرلیا جائے گا کیونکہ اگر خاوند رجوع نہ کرتا تو عورت کے قریب نہ جاتا ۔ ہاں ! فقط زبان سے بھی رجوع کرنے کا اس کو حق ہے کہ وہ عورت کو اطلاع کر دے کہ میں نے رجوع کیا اور دوسرے لوگ بھی یہ بات سن لیں خصوصاً طلاق کے گواہ بھی جان جائیں اور جس طلاق میں مرد کو رجوع کا حق نہیں ہے اس طلاق کی عدت گزرنے کے بعد عورت کو بہر حال وہاں سے رخصت ہونا ہوگا ۔ ہاں ! اگر عورت اس جگہ رہنا پسند کرے اور مرد ہی اس کو نکلنے پر مجبور نہ کرے تو وہ اسی مرد کو غیر محرم سمجھتے ہوئے رہ سکتی ہے اور مرد بھی اسکو غیر محرم سمجھے گا اور عورت شرعی پردہ کرے گی کیونکہ اب وہ مرد کے لیے اجنبی عورت ہے۔ اس طرح کی صورتیں بھی ہو سکتی ہیں تا ہم ان کے سونے ، بیٹھنے کے کمرے الگ الگ ہوں گے۔ فرمایا یہ رہائش اور نفقہ اسی طرح کا ہوگا جس طرح کی رہائش میں تم رہتے ہو۔ ( وجدکم) سے یہی حکم نکلتا ہے کیونکہ ( وجدکم) کے معنی تمہاری وسعت اور تمہاری طاقت کے ہیں ( وجد) اسم مجرور ، مضاف ہے اور یہ بھی کہ ان مطلقہ عورتوں کو طلاق دینے والے مردوں کی طرف سے کسی طرح کی کوئی تنگی اور ضرر بھی نہیں پہنچنا چاہئے۔ اس طرح کے ضمنی قانون بھی بنائے جاسکتے ہیں ۔ بہر حال اس سلسلہ میں بعض احادیث کا اشارہ اس طرف نکلتا ہے کہ اگر عورت کو طلاق مغلظہ یعنی آخری طلاق جس کے بعد رجوع ممکن نہیں ہوتا ہو تو اس کو سکنٰی اور نفقہ نہیں ملے گا لیکن اس حدیث سے اس طرح کا استدلال درست نہیں ہے اور پھر یہ بھی کہ اس کو سیدنا عمر فاروق ؓ نے یہ الفاظ ارشاد فرما کر رد کردیا ہے کہ : لسنا بتار کی ایۃ فی کتاب اللہ وقول رسول اللہ ﷺ لقول امراۃ لعلھا او ھمت سمعت رسول اللہ ﷺ یقول لھا السکنی والنفقہ ہم قرآن کریم کی آیت اور رسول اللہ ﷺ کے فرمان کو ایک عورت کے قول کے باعث ترک نہیں کرسکتے ۔ شاید اس کو کسی طرح کا وہم ہوا ہو میں نے خود رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مطلقہ مغلظہ کے لیے سکنٰی اور نفقہ ہے۔ بلا شبہ عقل ہی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کیونکہ ہر طلاق دی گئی عورت کے لیے ضروری نہیں ہے کہ کوئی دوسری جگہ بھی موجود ہو جہاں رہ کر وہ عدت کے دن پورے کرسکے اور قانون جب بنتا ہے تو وہ سب کے لیے یکساں ہوتا ہے۔ پھر یہ رعایت بھی رکھی گئی ہے کہ عدت اگر خود نکل جائے اور باوجود ساری سہولتوں کے حاصل ہونے کے وہ وہاں رہنا نہ چاہے تو وہ جس طرح چاہے کرے اس کو مجبور کرنے کے لیے بھی تو آخر کوئی اشارہ نہیں ہے۔ ” اگر طلاق دی گئی عورتیں حاملہ ہوں تو بچہ پیدا ہونے تک ان پر خرچ کرنا ضروری ہے “ مطلقہ غیر حاملہ کے لیے تو عدت تین ماہ تھی جیسا کہ اوپر گزر چکا لیکن اگر عورت حاملہ ہو تو پھر اس کی مدت عدت وضع حمل ہے اس لیے جب تک بچہ وضع نہ ہو اس کا نان و نفقہ جس کو سکنٰی اور نفقہ سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے ، ادا کیا جانا ضروری ہے اور اس سلسلہ کے دوسرے سارے اخراجات بھی طلاق دینے والے کو ادا کرنے ہوں گے جو وضع حمل کے سلسلہ میں ہوں گے کیونکہ اس سلسلہ میں واضح حکم اس طرح دیا گیا ہے کہ : ( فانفقوا علیھن حتی یضعن حملھن) ” بچہ پیدا ہونے تک ان پر خرچ کرتے رہو “ (فانفقوا علیھن) کے الفاظ اس سلسلہ میں بالکل واضح ہیں کہ اس سلسلہ کے سارے اخرجات مرد کو اسی طرح ادا کرنا ہوں گے جس طرح اگر اس نے طلاق نہ دی ہوتی تو وہ خرچ کرتا ۔ ہاں ! جب بچہ واضح کرنے کے بعد عورت یہاں رہنے کی پابند نہیں ہوگی اس وقت کے لیے حکم کیا ہے ؟ حکم یہ ہے کہ ” اگر وہ تمہاری خاطر دودھ پلائیں تو ان کو ان کی دودھ پلائی کا حق ادا کرنا ہوگا اور اس سلسلہ میں حالات کے موافق جو طے پا جائے گا وہ ادا کرنا پڑے گا “ شریعت کے حکم کے مطابق بچہ وضع ہوجانے کے بعد بچہ کی ماں کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ بچہ کی پرورش کرے بلکہ یہ بچے والے کا فرض ہے کہ وہ اس کی پرورش کا بندوست کرے۔ اب جب نکاح کا رشتہ باقی نہ رہا تو بچہ کا باپ اس کی ماں کو مجبور نہیں کرسکتا کہ وہ اس کی پرورش کرے ہاں ! اگر ماں اپنے بچہ کا خرچ بچہ کے باپ سے طے کرلے اور بچہ کا باپ اس خرچہ کو برداشت کرسکے تو ادا کرے اور بچہ کی ماں اس کی پرورش اپنے ذمہ لے لے ( ارضعن لکم) میں دودھ پلانا بھی آگیا اور اس کی پرورش کے دوسرے سارے لوازمات بھی اور اب خواہ وہو دودھ پلائے یا اس کی پرورش مصنوعی طرقہ سے کرے اس کو مجبور نہیں کیا جاسکتا کہ ضروری ہے کہ وہ اپنا ہی دودھ پلائے ہر حال میں اس کے اخراجات اس کے باپ ہی کے ذمہ ہوں گے۔ ہاں ! اگر دودھ پلانے کے متعلق دونوں کی آپس میں کوئی بات طے نہ ہو سکے کیونکہ ذہنوں کی مطابقت نہ ہو تو اس کے امکانات موجود ہوتے ہیں کہ فریقین کسی بات پر متفق نہ ہو سکیں ۔ اگر ایسی بات ہوجائے تو بچہ کا باپ چاہے جس سے دودھ پلوا لے یعنی پرورش کرا لے ، جہاں سے وہ چاہے ( تعاسرتم) تم نے ایک دوسرے پر تنگی کی ۔ تم نے آپس میں ضد کی ( تعاسر) سے جس کے معنی آپس کی معاملہ میں دشواری پیدا کرنے اور باہم ایک دوسرے کو تنگ کرنے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر اور یہ اس لیے ارشاد فرمایا گیا یہاں ذہنی موافقت موجود نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں مزید ہدایات جارہی ہیں جو آگے بیان کی جائیں گی۔
Ayah 65:7

لِیُنْفِقْ ذُوْ سَعَةٍ مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ مَنْ قُدِرَ عَلَیْهِ رِزْقُهٗ فَلْیُنْفِقْ مِمَّاۤ اٰتٰىهُ اللّٰهُ١ؕ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَا١ؕ سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠ Open ayah 65:7 in the Quran reader

صاحب وسعت کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے اور جس کے رزق میں تنگی ہو اس کو چاہیے کہ جتنا اللہ نے دیا ہے اس میں سے (بچہ کی نگہداشت پر) خرچ کرے ، اللہ کسی پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس قدر جتنا اس کو دیا ہے اللہ عنقریب تنگی کے بعد (اس کیلئے) فراخی فرما دے گا

یہ خرچ کرنا صاحب وسعت اور صاحب تنگی دونوں کی حالت کے پیش نظر مناسب ہوگا 7 ؎ معاشرہ کے اندر تمام لوگ ایک جیسے حالات نہیں رکھتے بعض کو اللہ نے بہت مال دیا ہوتا ہے اور وہ اپنی وسعت کے مطابق خرچ بھی کرتے ہیں اور بعض تنگ دست ہوتے ہیں ان کی گھریلو گزر بسر میں اتنی وسعت نہیں ہوتی اس لیے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ ” صاحب وسعت کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہئے اور جس کے رزق میں تنگی ہو اس کو چاہیے کہ جتنا اس کو اللہ نے دیا ہے اس میں سے اپنی حیثیت کے مطابق بچہ کی نگہداشت پر خرچ کرے “ یہ بات بطور نصیحت کی جا رہی ہے اور اس نصیحت کے مطابق قاضی یا جج کو حق ہے کہ اگر فیصلہ اس کے پاس چلا جائے تو وہ اس بات کا لحاظ رکھتے ہوئے اس کی دودھ پلائی کا معاوضہ مقرر کر دے اور اس فیصلہ میں بچہ کے باپ کی حیثیت کے پیش نظر بچہ کا خرچ مقرر کرے اور کسی فریق پر ظلم و زیادتی نہ کرے۔ نہ تو اتنا کم کہ اس سے بچہ کی پرورش ممکن ہی نہ ہو اور نہ اتنا زیادہ کہ بچہ کا باپ ادا ہی نہ کرسکے۔ اس کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی یہ ہدایت ہونی چاہئے کہ ” اللہ کسی پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس قدر جتنا اس کو دیا ہے “ اور اس سے معاشرہ کے لوگوں کو سب کچھ معلوم ہی ہوتا ہے کہ اس کی حالت کیا ہے اور کیا نہیں ہے ؟ اس لیے قاضی اگر چاہے تو اس بات کی تحقیق کرسکتا ہے ۔ اس کے بعد جس کو کم دیا گیا اس کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ ” اللہ عنقریب تنگی کے بعد اس کے لیے فراخی فرما دے گا ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اس کو تنگی اور غربت کا سامنا ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوڑنے کی ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بعید نہیں ہے کہ وہ تمہیں بہت جلد خوشحال کر دے کہ یہ ان لوگوں کے درمیان پھیرتے رہتے ہیں۔
Ayah 65:8

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 65:8 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں تھیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے حکم سے اور اس کے رسولوں سے سرتابی کی تو ہم نے بھی ان کا سخت محاسبہ کیا اور ان کو ہم نے نرالی آفت (مصیبت) میں مبتلا کیا

کتنی بستیاں ہیں جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کے احکام کی نافرمانی کی اور اپنے انجام کو پہنچ گئیں 8 ؎ کسی معاشرہ کے اچھے یا برے ہونے کا تعلق اس معاشرے کے قوانین کے ساتھ ہوتا ہے اگر قوانین اچھے ہیں اور ان کی پابندی کرانے والے پابندی کرانے میں مخلص ہوں اور اس طرح پابندی کرنے والے پابندی کرنے میں بھی اخلاص اور دیانت داری سے کام لیں تو وہ معاشرہ خود بخود درست ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہی حال اللہ تعالیٰ کے بنائے اور بتائے ہوئے قوانین کا ہے جو فی نفسہٖ بہت اچھے قوانین ہیں کیونکہ وہ اسی ذات کی طرف سے نازل کیے گئے ہیں جس نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ظاہر ہے کہ جتنا اللہ تعالیٰ ہر ایک انسان اور قوم کی ضروریات کو جانتا ہے کوئی دوسرا نہیں جان سکتا ۔ اس لیے جو قوانین اس نے اتارے ہیں وہ عین نیچر (Nature) انسانی کے مطابق ہیں اب ان قوانین کے مطابق عملدرآمد کرنے اور کرانے والے اگر درست ہوں تو اس معاشرے کے عامل کبھی خراب ہو ہی نہیں سکتے لیکن اگر عمل کرنے اور کرانے والے مخلص نہ ہوں تو محض قانون کی درستی سے تو کبھی حالت نہیں بدلتی اس لیے اب مسلمانوں کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ تم سے پہلے کتنی ہی بستیاں گزر چکی ہیں جنہوں نے قوانین الٰہی سے سر پھیر اور اللہ کے احکام سے سر تاب کی اور اس کے بھیجے ہوئے رسولوں کے احکام کو ماننے سے عملی طور پر انکار کردیا اور ہم نے ان کو ان اعمال کی پاداش میں تباہ و برباد کر کے رکھ دیا اور ان کو وہ مار دی کہ ہو دوبارہ ابھرنے کے قابل ہی نہ رہیں اور اس طرح جو کچھ ان کے ساتھ ہوا ان کے اپنے اعمال ہی کے باعث ہوا ۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے تم کو بھی وہ قوانین دیئے جن کے نتائج بہت ہی اچھے اور درست ہیں لیکن کن کے لیے ؟ نہی کے لیے جو ان کی پابندی کرتے اور کراتے ہیں اور ظاہر ہے کہ پابندی کرانا احکام وقت ہی کا کام ہے اور وہ اسی وقت پابندی کرا سکتے ہیں جب خود صحیح اور درست ہوں اور ان قوانین کی پابندی کرتے ہوں لیکن افسوس کہ آج اللہ تعالیٰ کے قوانین کی بےحرمتی اور خلاف ورزی کرنے والی اگر کوئی قوم صفحہ ہستی پر ہے تو شاید وہ مسلمانوں کے سوا اور کوئی نہیں ہے اور اگر اللہ تعالٰ کے بھیجے ہوئے قوانین کی حامل کوئی جماعت ہے تو وہ بھی یہی قوم مسلم ہی ہے اور کوئی قوم دنیا میں اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین کی حامل صفحہ ہستی پر موجود نہیں ہے۔ آپ صرف انہی قوانین پر غور کریں جو اس سورت میں بیان کیے گئے ہیں اور ایک خاص موضوع (Specified Topic) پر بیان کیے گئے ہیں اور جن کی ضرورت بھی عام طور پر نہیں پیش آتی بلکہ بعض لوگوں کو بعض اوقات پیش آتی ہے لیکن اس کے باوجود ان قوانین کی جو گت ہم نے بنائی ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اور اس بات کا اعتراف کرنا ہوگا کہ اس میں جتنا قصور ہے وہ طبقہ علماء اور سیاستدانوں کا ہے اور اس کے بعد ان اداروں کا جو محض اس قانون کی صحت کیلئے تشکیل دیئے گئے ہیں ۔ ہمارے اس ملک عزیز میں جب یہ قانون طلاق اسلامی خطوط کے تحت نافذ العمل ہونے کا اعلان ہوا اس وقت سے لے کر آج تک اس کے تحت جو جو زیادتیاں کی گئیں ان سے شاید ہی کوئی پاکستانی ناواقف ہو جو کچھ بھی عقل و شعور رکھتا ہے :