Ayah 61:8وہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ اس کو پورا کرنے والا ہے
8 ؎ مخالفین و معاندین میں یہود ہوں یا نصاریٰ ، مشرکین مکہ ہوں یا اسلام میں داخل ہونے والے منافقین سب کے سب اس معاملہ میں متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اس روشنی کو بجھا دیں لیکن یہ سب لوگ اپنی کثرت پر نازاں ہیں لیکن وہ کان کھول کر سن لیں کہ ان کی سب کوششیں رائاگیں جائیں گی اور یہ روشنی اپنے شباب کو پہنچے گی اور ضروری ہے کہ اس کی تجلیات سے بجر و بر اور دشت و جبل چمک اٹھیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ آخری پیغام دنیا کے گوشہ گوشہ میں پہنچے ۔ وہ سب مل کر بھی اس اللہ تعالیٰ کی روشنی کو ماند نہیں کرسکتے۔ لاریب دین اسلام کے خلاف ساری قوتیں اکٹھی ہو کر بھی اس کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں لیکن آج یہ بات کہتے ہوئے بھی ہم کو شرم آرہی ہے کہ ہم نے خود اس روشنی سے فائدہ اٹھانا چھوڑ دیا اور دوسروں کے جلائے ہوئے دیوں پر ہم نے انحصار کر کے وہ قومی نقصان کیا جو شاید ہم سے پہلے کوئی قوم بھی نہ کرسکی اس لیے کہ یہ روشنی کسی دوسری قوم کے پاس کب تھی ؟ یہ تو فقط ہماری اس امت وسطی ہی کے لیے رکھی گئی تھی اور ہم ہی کو عطا کی گئی لیکن ہم نے اس کو اس طرح پست ڈال دیا اور اندھیرے میں رہنا پسند کرلیا ، چونکہ یہ آیت پیچھے عروۃ الوثقیٰ ، جلد چہارم سورة التوبہ کی آیت 32 کے طور پر بھی گزر چکی ہے اورو اس کی تفسیر جو اس کی کی گئی ہے اس پر ایک نگاہ ڈال لیں ۔
Ayah 61:9رسول اللہ ﷺ کی آمد کا منشاء الٰہی اور اس کی تکمیل
9 ؎ آدم (علیہ السلام) اپنی جنس کے جو ان کے ساتھ پیدا ہوئی اور اپنی نسل کے جو ان سے اس وقت پیدا ہوئی نبی و رسول تھے لیکن ان کے بعد جب سلسلہ نسل انسانی دنیا میں پھیل گیا تو نوح (علیہ السلام) سے لے کر سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) تک سارے کے سارے نبی اپنے مخصوص علاقہ ، قوم ، خاندان اور بستی کے لیے آتے رہے اور اپنی مخصوص اقوام ، علاقوں اور بستیوں ہی میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا درس دیتے رہے لیکن نبی اعظم و آخر ﷺ کی یہ خصوصیت ہے کہ آپ ﷺ کی پوری دنیا کے لوگوں کے لیے نبی و رسول بنا کر بھیجا گیا اور اس طرح گویا ساری ملتیں مٹ گئیں اور ایک ہی ملت باقی رہ گئی جو ملت اسلامیہ کے نام سے جانی اور پہچانی جاتی ہے۔ زیر نظر آیت میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرما کر آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کو سارے ادیان پر غالب کرنے کی ذمہ داری کا اعلان کردیا اور لاریب دین اسلام دنیا کے سارے ادیان پر بحیثیت دین غالب ہے اور اس سے کوئی ملت بھی انکار نہیں کرسکتی ۔ افسوس کہ دین اسلام کی ذمہ داری کو قبول کرنے والوں نے اس میں سستی کی اور وہ خود پست ہمت ٹھہرے اور مسلمانوں کے پست ہمت ہونے سے آج دین کا وہ غلبہ لوگوں کو دکھائی نہیں دیتا حالانکہ من حیث الدین آج بھی دین اسلام ہی وہ دین ہے جو ہر لحاظ سے کامل و مکمل ہے اور وہ صرف چند رسوم کا نام نہیں بلکہ اس کے اپنے اصول و ضوابط ہیں اور انہیں اصولوں کا نام اسلام ہے اور ظاہر ہے کہ جب تک قوم مسلم دنیا کی زندہ وجاوید قوم تھی اس بات کو ساری دنیا تسلیم کرتی تھی لیکن اس دور میں مسلمانوں نے من حیث القوم قومیت اسلام کی حقیقت کو بھلا دیا اور دوسرے ادیان والوں نے ان کی نقابی میں بہت سے اصول اپنا لیے اور آج بدقسمتی سے کس کو یہ شناخت ہی نہ رہی کہ یہ اصول اسلام کے تھے یا اسلام کے سوا اور دوسرے ادیان کے ؟ ہم پورے وثوق سے یہ بات کہتے ہیں کہ جب تک اسلام نہ آیا اسوقت تک یہ سارے ادیان اس دنیا میں موجود ہونے کے باوجود ان کے کوئی اصول و ضوابط نہیں تھے۔ اس بات کو ثابت کرنے کے لیے آج سے ساڑھے چودہ پندرہ سو سال قبل جانا ہوگا ۔ آپ کسی تاریخ کی کتاب کو اٹھائیں تو آپ پر یہ حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہوجائے گی کہ فی الحقیقت یہ بات صحیح اور درست ہے کہ اس وقت جتنے ادیان دنیا میں موجود ہیں وہ اس طرح منظم اور ضابط نہیں تھے ۔ اسلام نے آ کر ان اصولوں اور ضابطوں کا اعلان کیا اور اپنے ماننے والوں کے لیے ان کو لازم و ضروری ٹھہرایا لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا اور دوسری قوموں نے قوم مسلم کو ان اصولوں اور ضابطوں کو دیکھا اور ان کو پسند کیا تو انہوں نے ان حقیقتوں کو قبول کرلیا اور ان سے استفادہ کرنا شروع کردیا ۔ مرور زمانہ کے ساتھ ہوتے ہوتے آج وہ وقت آگیا کہ وہ اصول و ضوابط تو دوسری قوموں نے اختیار کرلیے اور خالی نام اور کاغذی کارروائی ہمارے حصے میں رہ گئی ، وہ بھی محض اس لیے کہ ان مکاروں نے اس نام کو چھوڑ دیا اور دین اسلام کی وہ رسومات جو ان اصول و ضوابط کو تقویت دینے کے لیے مقرر کی گئی تھیں ان کو بھی انہوں نے نہ چھیڑا لہٰذا آج نام کے ساتھ وہ رسومات بھی ہمارے پاس بطور رسم باقی ہیں اور ہوتے ہوتے ان کا بھی صرف نام ہی باقی رہ گیا ہے ۔ ہماری اکثریت نے ان کو ادا کرنا بھی ترک کردیا ہے اور ان کی جگہ اپنی شناخت کے لیے مرنے اور پیدا ہونے کے لیے چند مخصوص رسومات کو باقی رکھا ہے اگرچہ ان کی بھی ظاہری شکل و صورت بدل دی گئی ہے۔ آج اس بات پر جتنا افسوس کیا جائے وہ کم ہے تا ہم اس میں تعلیمات اسلام کا کوئی قصور نہیں ہے وہ اپنی جگہ اسی طرح زندہ وجاوید ہیں اور قیامت تک ان کا اسی طرح زندہ وجاوید رہنا لازم و ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سچا مسلمان بننے اور اپنی تعلیمات اسلامی کو اپنی جانوں پر لا گو کرنے کی توفیق دے تاکہ وہ سب کو زندہ وجاوید نظر آنے لگیں ۔ زیر نظر آیت بھی گزشتہ آیت کے ساتھ محولہ بالا حوالہ کے اندر موجود ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سورة التوبہ کی آیت 32 کے ساتھ آیت 33 کو بھی شامل کرلیا جائے اور اگر پھر بھی تشیگ باقی رہے تو عروۃ الوثقیٰ جلد ہشتم سورة الفتح کی آیت 28 کی تفسیر کو بھی ساتھ ملا کر مطالعہ کریں مزید وضاحت مل جائے گی اور حقیقت اس وقت اجاگر ہوگی جب اس کو اپنی بساط کے مطابق عمل میں لائیں گے۔ اللہ رب ذوالجلال والاکرام توفیق عطا فرمائے آپ کو بھی اور ہم کو بھی رب اشرح لی صدری و یسرلی امری ۔
Ayah 61:10اے ایمان والو ! آئو تم کو ایسی تجارت بتائیں جو عذاب الیم سے تم کو بچا لے
10 ؎ دنیا جہان کے لوگ تجارت کرتے آتے ہیں ، کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ اس تجارت میں لوگوں کو نفع بھی ہوتا رہا ہے ، ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا اور تجارت میں بعض اوقات نقصان بھی ہوتا رہا ہے ، ہوتا ہے اور ہونے کا احتمال ہے اور کبھی کبھی ایسا بھی ہوجاتا ہے کہ پورا سرمایہ ہی ضائع ہوجاتا ہے۔ پھر غور کرو کہ اگر نفع ہوگا تو کیسا ہوگا ؟ یہی کہ دولت کی فراوانی اور اسباب عیش و آرام مہیا ہوجائے گا لیکن زیر نظر آیت میں اس تجارت کا ذکر کیا جا رہا ہے جس میں سراسر نفع ہی نفع ہے اور نقصان کا نہ کبھی احتمال تھا ، نہ ہے اور نہ ہوگا اور پھر یہ بھی کہ یہ نفع عارضی اور فانی نہیں بلکہ ابدی اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے اور ہر تاجر اس تجارت سے صرف اس دنیا میں بہرہ مند نہیں ہوتا بلکہ آخرت میں بھی بہرہ مند ہوگا اور پھر یہ وہ تجارت ہے جس میں کوئی ڈاکہ اور چوری کا خطرہ بھی نہیں اور اس پر یہ بات بھی زائد ہے کہ وہ جہاں جائے گا تنہا نہیں ہوگا بلکہ خود رب کریم کی معیت اس کو حاصل ہوتی ہے اور ہر طرح کے عذاب سے اس کو محفوظ کردینے کی ضمانت بھی دی جاتی ہے۔ بلا شبہ یہ شرائط سن کر انسان کا دل للچاتا ہے لیکن جب اس پر سے پردہ ہٹا دیا جائے تو شیطان اس کو طرح طرح کے خطرات سے دو چار کردیتا ہے اور اس کی رال ٹپکتی ٹپکتی پھر رہ جاتی ہے اور شیطان اس پر حاوی ہوجاتا ہے ۔ اگر یہ مرحلہ بھی کوئی خوش قسمت طے کر جائے تو اس کی زندگی فی الحقیقت سنور جاتی ہے ، اللہ اس کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کی توفیق عطا فرمائے ، آپ کو بھی اور ہم کو بھی ۔
Ayah 61:11تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو یہی وہ تجارت ہے
11 ؎ زیر نظر آیت میں اس تجارت کی وضاحت کی جا رہی ہے۔ وہ تجارت یہ ہے کہ تم سچے دل سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائو اور وہ اموال اور جانیں جو تم کو عارضی زندگی میں عارضی طور پر دیئے گئے ہیں تاکہ تمہاری آزمائش کی جائے اس آزمائش میں پورے اترو اور اندر کے شیطان کے سارے پھندوں سے بچتے ہوئے ان کو اپنے رب کریم کے لیے قربان کر دو جہاں قربان کردینے کا وہ تم کو حکم دیتا ہے۔ شاید تم سمجھو گے کہ اس مال کو بچا بچا کر رکھنے میں تمہارا فائدہ ہے۔ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ اس مال اور جان کو بچا بچا کر اس کی راہ میں صرف کردینے ہی میں تمہارے لیے نفع اور فائدہ ہے۔ اس مال کو صرف بچا بچا کر اور جان کی حفاظت کر کر کے تم تھک جائو گے لیکن پھر تم اس کو بچا نہیں سکو گے کیونکہ یہ دونوں ہی چیزیں تمہارے پاس کسی کی امانت ہیں اور امانت اس لیے تم کو دی گئی ہے کہ تمہارے ایمان کو اور تمہاری دیانت کو چیک (Check) کیا جاسکے یہی تمہارا امتحان ہے جس میں تمہارے اندر کا شیطان چاہتا ہے کہ تم فیل ہو جائو لیکن اگر تم نے اس حقیقت کو سمجھ لیا اور اس اندر کے چور کو باندھ کر اپنا ارادہ پورا کرلیا اور اس امانت کو امانت والے کے حکم کے مطابق صرف کرلیا تو بلا شبہ تم بازی جیت گئے اور تم نے وہ تجارت کرلی جو تمہارے لیے کبھی نقصان کا باعث نہیں ہوگی اور وہ مال جس کو بہر حال تم سے جدا ہونا ہے تم اس سے جدا ہوگئے یا وہ تم سے جدا ہوگیا بہر حال ان دونوں باتوں کا ظاہر ایک ہی جیسا ہے۔ سن لو اور کان کھول کر سن لو اور اس بات کو سن لے عبد الکریم بھی کہ اس جان کو بحفاظت رکھنے میں سلامتی نہیں ، سلامتی اسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام کو زندہ رکھنے کے لیے اپنے خون کا آخری قطرہ بھی بےدریغ بہا دیا جائے اور اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کردیا جائے تاکہ یہ تجارت کامیابی سے ہمکنار ہو اور موت ہمارا بال بھی بیکا نہ کر پائے اور زندگی کا اصل مقصد ہم کو حاصل ہوجائے ؎
برقرار از سود و زیاں ہے زندگی ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی (اقبال (رح)
لاریب ساری بھلائی تو اسی میں ہے کہ اگر تم ، ہم اور سارے مسلمان اس کو سمجھ سکیں ۔ جو قوم اس حقیقت کو سمجھ جاتی ہے وہ دنیوی زندگی میں کبھی محتاج نہیں ہو سکتی اور آخرت کی محتاجی تو اس کے حصے کی چیز ہی نہیں رہ جاتی ؎
کس نہ گرد و در جہاں محتاج کس شرع دین مبین ایں است و بس ( اقبال (رح)
اگر تم چاہو اور طاقت و قوت کے ساتھ دے تو نبی اعظم و آخر ﷺ کے زمانہ کے حالات پر ایک نگاہ دوڑائو اور اس کے ساتھ ہی ثم الدین یلونھم ثم الذین یلونھم کی قید کو یاد رکھتے ہوئے اس سے سبق حاصل کرو ، اگر کرسکتے ہو۔ وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب۔
Ayah 61:12اللہ تمہارے گناہوں سے در گزر کرتے ہوئے ہمیشگی کے باغات میں داخل کر دے گا
12 ؎ انسان اور گناہ لازم و ملزوم ہیں ، اس سے مستثنیٰ ہیں تو صرف اور صرف وہ لوگ جن کو ملکوتی قوتوں کا اتنا غلبہ عطا کیا گیا ہے کہ انسان ہونے کے باوجود وہ معصوم قرار دے دیئے گئے ہیں اور بھول چوک جو اصل خاصہ انسان ہے وہ ان کے ساتھ بھی موجود ہے اگرچہ کم سہی ۔ اس لیے یہ ممکن نہیں کہ ان قدسی وجودانسانوں کو مستثنیٰ کرنے کے بعد کوئی انسان ایسا ہو جس سے صدرور گناہ ممکن ہی نہ ہو ۔ نہیں نہیں یہ بات بالکل ممکنات میں سے ہے اس لیے اس کو ایمان کے منافی نہیں قرار دیا گیا بلکہ یہ عین ایمان ہے کہ انسان گناہ کرنے کے بعد اعتراف کرے اور وہ بھی اس مالک حقیقی کے سامنے جس سے کوئی چیز مخفی نہیں ہے۔ فرمایا اگر تم سچے دل سے ایمان لائو گے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے بنو گے اور وہ تجارت کرو گے جس میں فقط نفع ہی نفع ہے اور اس سلسلہ میں اندر کے شیطان کے پھندہ میں نہیں آئو گے تو تم سے جو انسانی کمزوریاں سر زد ہوں گی اللہ تعالیٰ وہ سب کی سب معاف کر دے گا اور پھر تم کو اس دنیوی زندگی کے گزارنے کے بعد ابدی زندگی عطا کرے گا اور اس زندگی کی ساری خوشحالیاں تم کو نصیب ہوں گی اور تم کو ایسے گھروں میں داخل کردیا جائے گا جو باغات کے اندر تعمیر کیے گئے ہیں اور باغات بھی ایسے جن میں نہ پانی کی کمی ہے اور نہ پھلوں کی اور وہ گھر کیا ہیں ؟ پاکیزگی کی ایک تصویر ہیں ، جس کا تخیل بھی تم اس زندگی میں قائم نہیں کرسکتے اور پھر وہ باغات بھی ایسے ہیں کہ جو سدا بہار ہیں اور ان میں صرف موسموں میں پھل نہیں لگتے بلکہ ان کے پھل ہر وقت ترو تازہ رہتے ہیں ۔ نہ تم کو ان باغات اور گھروں میں عارضی طور پر بسایا جائے گا اور نہ ہی یہ باغات اور گھر عارضی طور پر بنائے گئے ہیں بلکہ وہ تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہیں اب تم خود ہی غور کرو کہ یہ کامیابی کیسی کامیابی ہے۔ تم کو اقرار کرنا ہوگا کہ لاریب یہ بہت ہی بڑی کامیابی ہے کہ گناہو کا عوض بھی نہ دینا پڑا کیونکہ ان میں عزم و جزم نہیں تھا اور ساری کمزوریاں بھی مٹا دی گئیں اور گھر بھی وہ ملے جن کے لیے ہمیشگی ہے پھر اس کو بڑی کامیابی نہیں کیا جائے گا تو اور کیا کہا جائے گا ؟ لیکن آج ہماری حالت کیا ہے ؟ اور کس طرح ہم ان عارضی کامیابیوں پر ریجھ گئے ہیں اور ان کے لیے کتنی ہی تگ و دو کر رہے ہیں اور اصل کامیابی کی طرف ہم نے کبھی نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا بلکہ اس کا نام سن کر ہم ناک بھوں چڑھا دیتے ہیں ۔ اللہ ہم مسلمانوں کو حقیقت حال کے سمجھنے کی توفیق دے لیکن ہم کو آج جس نیلم پری کے تصور میں گم کردیا گیا ہے اس سے چھٹکارا شاید ہی کبھی ممکن ہو ؎
دیو استبداد جمہوری قبا میں پائے کو تو سمجھتا ہے کہ ہے آزادی کی یہ نیلم پری (اقبال (رح)
Ayah 61:1313 ؎ وطن کی محبت اور کھوئی ہوئی چیز کے واپس ملنے سے انسان کو جو خوشی ہوتی ہے بلا شبہ وہ بھی دنیا کی خوشیوں میں سے ایک فطری خوشی ہے۔ وطن کی محبت اور کھوئی ہوی چیز کے واپس ملنے سے مراد ظاہر ہے کہ مکہ کا فتح ہونا ہی لیا جاسکتا ہے ۔ جن لوگوں کو ہجرت پر مجبور کردیا گیا تھا اور وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نکل گئے تھے اس وطن کو اور ان گھروں کو پھر خصوصاً بیعت اللہ کو جو آپ ﷺ کی بعثت سے قبل بھی ایک مبارک گھر خیال کیا جاتا تھا اور آپ ﷺ کی بعثت کے بعد بھی اس گھر کی برکت میں مزید کچھ اضافہ ہی ہوا تھا لیکن اس کی زیارت سے ان مسلمانوں کو محروم کردیا گیا تھا اس کی واپسی کی خبر دی جا رہی ہے اور بتایا گیا ہے کہ عنقریب تم کو یہ خوش خبری بھی دی جانے والی ہے اور جلد ہی تم لوگ ایک ایسی فتح حاصل کرو گے جس کے نتیجہ میں تم کو کھویا ہوا وطن واپس مل جائے گا ۔ اس خوش خبری نے مہاجرین کی ہمتوں کو کتنا بلند کیا ہوگا اور ان کو پہنچائے گئے مصائب کو کس حکمت سے دور کیا گیا یہ باتیں ان لوگوں سے پوچھنے والی ہیں جو کسی ایسی حالت سے دو چار ہوچکے ہیں آپ کو اور مجھے اس خوشخبری سے وہ لطف آ ہی نہیں سکتا جو ان کو آیا ہوگا جو وطن چھوڑ کر نکل آئے تھے اور اس کی یاد ان کو دن رات ستا رہی تھی ۔ اس ملک عزیز کے وہ باشندے جو دیار غیر میں روزی کمانے کے لیے نکل گئے ہیں اور ان ممالک میں وقت گزار رہے ہیں جن ممالک کی زندگیاں کم از کم دنیوی اعتیار سے ہمارے ملک سے زیادہ آسانی سے گزر رہی ہیں ۔ رزق کی بھی فراوانی ہے اور آسائش و آرام سے گزر بسر بھی ہو رہی ہے لیکن خون پسینہ سے کمایا ہوا رزق دے کر جب ان کو واپس وطن آنے کی جو خوشی ہوتی ہے وہ وہی جانتے ہیں جو ان ملکوں میں گئے ہوئے ہیں اور خصوصاً وہ لوگ جن کے بیوی ، بچے اور عزیز رشتہ دار سب اس ملک میں بس رہے ہیں ان کی محبت ان کو کس قدر ستاتی ہے اور اپنی کمائی کو وہ ملک میں واپس لا کر اور پھر اس کو خرچ کر کے کس قدر خوش ہوتے ہیں یہ باتیں ان ہی سے پوچھ لو جو تمہارے عزیز وطن واپس آتے ہیں ۔ بہر حال زیر نظر آیت میں صرف استعار تا ً بتایا گیا ہے کہ عنقریب مکہ فتح ہونے والا ہے اور پھر جوں ہی حدیبیہ کی صلح ہوئی تو اس خوشی کا راستہ صاف کھلا ہوا نظر آنے لگا یہی وجہ ہے کہ اس صلح کا نام ہی اسلام میں فتح رکھ دیا گیا اور آج تک یہ صلح اسی نام سے معروف ہے کیونکہ یہ صلح فتح مکہ کی طرف پہلی سیڑھی ثابت ہوئی اور ایک سال کی قلیل مدت کے بعد پابندی لگانے والوں نے خود مکہ میں داخل ہونے کی اجازت دے دی اور ظاہر ہے کہ یہ بات انہوں نے اپنی دلی رضا مندی سے قبول نہیں کی تھی بلکہ خاص مجبوری کے تحت تسلیم کی تھی اور یہ بات ان کو نظر آرہی تھی کہ اگر ہم نے اجازت نہ دی تو اب ان لوگوں کو اجازت لینے کی ضرورت بھی نہیں ہے جو مدینہ سے نکل کر ہماری چوکھٹوں کے قریب آ بیٹھ گئے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے لیے کام کرنے والوں کے لیے نصرت عام کی بھی بشارت جگہ جگہ قرآن کریم میں دی گئی ہے اس کی وضاحت کے لے عروۃ الوثقیٰ جلد ششم سورة الحج کی آیت 40 کی تفسیر دیکھیں۔
Ayah 61:14ایمان والو ! اللہ کے مدد گار بن جائو اللہ کی مدد کو بالکل قریب پائو گے
14 ؎ فطرت انسانی بھی بڑی عجیب چیز ہے کبھی غور کیا تم نے کسی بالکل چھوٹے بچے کو جب تم خود ہی ایک چیز دیتے ہو خواہ وہ چیز کتنی ہی حقیر کیوں نہ ہو لیکن دینے کے بعد جب تم اس سے طلب کرتے ہو اور وہ تم کو واپس دے دیتا ہے تو تم کو کتنی خوشی ہوتی ہے اور تم اس سے کتنا پیار کرتے ہو یہ ایک ادنیٰ سی مثال ہے تاکہ بات تمہاری سمجھ میں آجائے۔ جو کچھ انسان کے پاس ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کا دیا ہوا ہے لیکن اس فطری تقاضا کے مطابق تمہاری آزمائش کے لیے تم کو دے کر وہ تم سے واپس مانگتا بھی ہے اس لیے نہیں کہ اس کو دے کر واپس مانگنے کی کوئی احتیاج لا حق ہوگئی ہے۔ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ یہ تو محض تمہاری آزمائش کے لیے ہے اور اس طرح کے الفاظ قرآن کریم میں بار بار استعمال ہوئے ہیں اور یہی الفاظ زیر نظر آیت میں بھی بولے گئے ہیں کہ اے ایمان والو ! تم اللہ کے مدد گار بن جائو یعنی اللہ کے دین کی نصرت کرو اور اللہ کے دین کی نصرت کرنے کو اللہ تعالیٰ کی نصرت سے موسوم کیا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری نصرت کا ہرگز ہرگز محتاج نہیں ہے بلکہ جو لوگ دین کی سر بلندی کے لیے کوشاں رہتے ہیں وہ گونا گوں برکات سے اپنی زندگی کو مالا مال کرتے ہیں اور لاریب ایسا کرنے میں ان کا اپنا بھلا ہے اور ان کی آنے والی نسل کا بھی بھلا ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے جذبات کی قدر کرتا ہے اور ان کے اس جذبہ کو بڑھانے کے لیے وہ اس طرح کے الفاظ بیان فرماتا ہے اور یہ اسلوب قرآن کریم میں عام ہے۔ گزشتہ آیت میں یہود کی مذمت کی گئی تھی تو ان کی بد اعتدالیوں کے باعث کہ وہ من حیث القوم کثرت سے بد اعتدال ہوگئے تھے اور اتنے چھوٹ تھے کہ جن انبیاء کرام (علیہ السلام) کو وہ نبی اور رسول مانتے تھے ان کے متعلق بھی وہ ایسے ایسے واقعات منسوب کردیتے تھے جو عام انسانیت سے بھی گرے ہوئے تھے۔ معلوم ہے کہ اس کی اصل وجہ کیا تھی ؟ وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے عیوب کو چھپانے کے لیے اور ان سے لوگوں کی نگاہیں پھیرنے کے لے انبیاء (علیہ السلام) کے متعلق ایسی باتیں کردیتے جس سے ان کے عیوب پر پردہ پڑجائے اورو لوگ ان کی طرف متوجہ نہ ہوں اور بد قسمتی سے انہی کے لگائے ہوئے الزامات آج ہم مسلمانوں کے ہاں بھی من و عن نہ سہی تو بہت کچھ انبیاء کرام (علیہ السلام) کے نام پر منسوب کیا جاتا ہے چونکہ انہوں نے اس طرح کی بہت سی باتیں تورات میں داخل کردی تھیں جس کے متعلق یہ عقیدہ ہے کہ وہ آسمانی کتابوں میں سے ایک کتاب ہے اس کی تفصیل ہم پیچھے سے کرتے چلے آ رہے ہیں اس جگہ محض تقابل کے لیے یہ اشارہ کیا ہے لیکن ان کے مقابلہ میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری ہیں ان کی قرآن کریم تعریف کر رہا ہے کہ وہ ایسے لوگ تھے کہ جب اللہ کے رسول عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو بلایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دین کی نصرت کے لیے عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ مضبوط کریں اور ساتھ دیں کہ یہودیوں نے ان پر طرح طرح کے الزامات عائد کردیئے ہیں اور ان کے پے آزاد ہیں تو عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواری عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف بڑھے اور اللہ کے دین کی نصرت کے لیے انہوں نے اپنی جانیں پیش کردیں اور سچے دل کے ساتھ عیسیٰ (علیہ السلام) کا ساتھ دیا اور یہودیوں کے مقابلہ میں وہ کھڑے ہوگئے اگرچہ یہودی بھی ان کی اپنی ہی قوم کے لوگ تھے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں کو قرآن کریم میں (حواریون) کے نام سے موسوم کیا گیا ہے جو حواری کی جمع ہے اور ظاہر ہے کہ وہ لوگ زیادہ تھے اس لیے ان کو جمع کے صیغہ سے یاد کیا گیا ہے۔ ( حواریون) کیا ہیں ؟ (حواریون) حواری کی جمع ہے بحالت رفع اور حواری حرر سے مشتق ہے جس کے معنی خالص سپیدی کے ہیں ۔ یہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب کا خطاب ہے۔ صحیح بخاری میں سیدنا ابن عباس (علیہ السلام) سے منقول ہے کہ چونکہ ان کے کپڑے سپید تھے اس لیے وہ حواری کہلائے۔ ( صحیح بخاری باب مناقب الزبیربن عوام ؓ ابن ابی حاتم نے ضحاک سے روایت کی ہے کہ حواری نبطی زبان میں دھوبی کو کہتے ہیں لیکن وہ بجائے ” حاء “ کے ” ہاء “ سے تحریر ہوتا ہے اور اسی طرح بولا جاتا ہے اور قتادہ ؓ سے روایت ہے کہ حواری اس کو کہتے ہیں جس میں خلافت اور حکومت کی صلاحیت ہو نیز ان سے وزیر کے معنی بھی روایت کیے جاتے ہیں ۔ ترمذی نے ابن عینیہ سے ناصر اور مدد گار کے معنی نقل کیے ہیں اور ان اخیر کے تین معانی کا مفہوم قریب قریب ہے اور یونس بن حبیب نے خالص کے معنی بتائے ہیں اور ابن کلبی نے فیصل یعنی ولی اور دوست کے معنی نقل کیے ہیں۔ ( فتح الباری ج 7 ص 64 طبع امیریہ)
قرآن کریم میں ان کو بحالت رفع بھی بولا گیا ہے اور بحالت نصب و جر یعنی جس طرح ( حواریون) کا لفظ آیا ہے۔ ( حواریین) کا لفظ بھی بولا گیا ہے۔ نیز یہ بھی قرآن کریم میں اس کے لیے جو مادہ بیان کیا گیا ہے وہ ح و ر ہے اور اس مادہ کے دوسرے الفاظ جو قرآن کریم میں آئے ہیں وہ ( حور ، یحور ، یحاورہ) اورو ( تحاور کما) کے الفاظ ہیں ( الحواریون) اور ( الحواریین) کے الفاظ صرف عیسیٰ (علیہ السلام) ہی کے اصحاب پر بولے گئے ہیں جیسے سورة آل عمران کی آیت 52 ، سورة المائدہ کی آیت 1 11 اور 112 میں اور اس جگہ سورة الصف میں اور ان سارے مقامات پر ان کی مدح بیان کی گئی ہے اور ان کے لبیک لبیک کہنے کا ذکر کیا گیا ہے جو ایک اچھی تعریف ہے اور اس جگہ دو جماعتوں کا ذکر ہے ایک جماعت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کی تھی جو آپ پر ایمان لائی اور آپ کے ساتھ مل کر دین کی نصرت کے لے حاضر ہوگئے اور ایک جماعت ایسی بھی تھی جس نے کفر کیا اور ظاہر ہے کہ اس سے مراد وہ یہود ہی ہیں جنہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو پریشان کرنے کی بہت کوشش کی ، آپ پر طرح طرح کے الزامات لگائے اور آپ کو اور آپ کی والدہ سیدہ مریم کو دکھ دینے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔
(فایدنا الذین امنوا علی عدوھم فاصبحوا ظاھرین) ” پھر ہم نے ایمان والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی بالآخر وہی غالب رہے “ قرآن کریم کے ان الفاظ پر غور کرو اور ان کو ایک دو بار دہرائو عربی عبارت کو بھی اور اس کے اردو ترجمہ کو بھی اور ذرا غور کرو کہ قرآن کریم کی اس آیت کا مضمون کیا ہے اور یہودیوں کے پروپیگنڈہ کا اثر کیا ؟ اور آج باقی لوگوں کو چھوڑ کر خود مسلمانوں کا کیا حال ہے اور وہ اس آیت سے کیا سمجھتے ہیں ؟ ہمیں افسوس ہوتا ہے جب ہم نئی اور پرانی تفاسیر کا مطالعہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم کا و کہتا ہے اور ہمارے مفسرین کیا بیان کرتے ہیں اور یہ بھی کہ کہاں وہ بولتے ہیں اور بولتے ہی چلے جاتے ہیں اور کہاں کہاں سے وہ نہایت خاموشی سے گزر جاتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اس جگہ پہنچ کر ان کا دھیان کسی دو طرف طرف ہوگیا یا انہوں نے جان بوجھ کر چپ سادھ لی ، کیوں ؟ اس لیے کہ اس جگہ کوئی ان سے پہلے نہیں بولا بلکہ وہ خاموشی کے ساتھ گزر گیا ہے اور پھر جب دوسرے خاموشی سے گزر گئے ہیں تو ان کو بھی بولنے کا حق نہیں ہے اور اگر وہ بولیں گے تو معلوم نہیں کیا قیامت ٹوٹ پڑے گی اور یہ بھی کہ کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ ان کا بولنا ان کے لیے وبال جان بن جائے۔ یہ بات ہم نے اس لیے کہی کہ ان الفاظ پر کسی نے بولنے کی زحمت گوارا نہیں کی حالانکہ اس جگہ خاموشی سے گزرنا ہمارے خیال میں بڑے گناہ کا مرتکب ہونا ہے کیونکہ قرآن کریم کے الفاظ بول بول کر بتا رہے ہیں کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے اس آخری دور کی تاریخ کو یہودنا مسعود نے مکمل طور پر بگاڑ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ پر ایمان لانے والوں کو ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں مدد کی اور ان کو کامیابی سے ہم کنار کیا اور تاریخ ہم کو بتاتی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے حواری بری طرح ناکام ہوئے اور مخالفین کو زبردست کامیابی حاصل ہوئی کہ انہوں نے ان پر غلبہ حاصل کرتے ہوئے عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہایت کسمپرسی کی حالت میں سولی پر لٹکا دیا اور وہ ” عیلی عیلی لما شبقتنی “ کہتے ہوئے سولی پر چڑھا دیئے گئے اور کوئی نہ ہوا جو ان کی مدد کو آتا بلکہ یہ سب کچھ آپ کے حواریوں ہی کی سازش سے طے پا گیا ۔ اگر بات ایسی ہے جیسی کہ تاریخ ہم کو بتاتی ہے تو ہم کو بر ملا تسلیم کر لیناچاہئے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے حواری بمعہ ان کے خدا کے سب ناکام و نامراد ٹھہرے اور دشمنوں کو غلبہ حاصل ہوگیا حالانکہ قرآن کریم کی یہ آیت پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ لوگویہ تو محض پروپیگنڈہ ہے ، نہ تو عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی پر چڑھایا گیا اور نہ ہی ان کی موت صلیب پر واقع ہوئی بلکہ وہ تو اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں کامیاب و کامران ہوئے اور ان کے دشمنوں کو منہ کی کھانی پڑے لیکن جب وہ قانون الٰہی کے مطابق اس دنیا فانی سے رخصت ہوگئے اور قانون الٰہی کے مطابق آپ کے حواریوں میں سے ہی بعض اٹھا لیے گئے اور ایک عرصہ گزرنے کے بعد ان میں انحطاط آیا تو مخالفین نے اپنا غصہ منانے کے لیے طرح طرح کی باتیں گھڑنا شروع کردیں اور ایساپروپیگنڈا کیا ۔ آپ کے زمانہ کی ساری تاریخ کو مسخ کرکے رکھ دیا پھر جوں جوں زمانہ گزرتا گیا ان کے پروپیگنڈا کا اثر بھی بڑھتا چلا گیا یہاں تک کہ بعد میں آنے والے ان لوگوں کو جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے ماننے والے تھے طرح طرح کی تاویلیں کرنا پڑیں اور ہوتے ہوتے بات کچھ سے کچھ ہو کر رہ گئی۔ قرآن کریم نے اپنے اسلوب کے مطابق ان کے اس سارے پروپیگنڈا کا رد کردیا اور اس طرح قطعی طور پر کیا اور اتنے مختصر الفاظ میں کیا کہ دریا کو کو زے میں بند کردیا ۔ بعد میں آنے والوں کا فرض تھا کہ وہ صرف اسی ایک آیت پر غور کرلیتے تو چیخ اٹھتے اور یہودیوں کی اس سازش کو بےنقاب کر کے رکھ دیتے جیسا کہ قرآن کریم نے اس کو بےنقاب کیا تھا لیکن صدر اول کے بعد ہی لوگوں نے قرآن کریم کے الفاظ پر غور و فکر کرنا ترک کردیا اور تاریخی حوالوں پر نگاہ رکھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس چیز کا پردہ قرآن کریم نے چاک کیا تھا اس کو اسی جگہ سی دیا گیا اور یہودیوں کی کہی ہوئی باتیں مشہور کردیں ۔ یہودی چونکہ یہ تجربہ کرچکے تھے اور کسی حد تک ان کا یہ تجربہ کامیاب بھی رہا اس لیے انہوں نے نبی اعظم و آخر ﷺ کے رحلت پاتے ہی اپنے تجربہ کی بناء پر مسلمانوں کی تاریخ کو بھی مسخ کرنا شروع کردیا اور سبائی گروہ نے جو دراصل یہودی الاصل تھے اسلام میں اس طرح آ گھسا کہ اس کے چلے جانے کے باوجود اس کی سلگائی ہوئی آگ برابر سلگتی چلی آرہی ہے جس نے اسلام کو بھی اس قدر نقصان پہنچایا کہ اس کے بعد کوئی بھی مخالفت اٹھنے والی تحریک اتنا نقصان نہ پہنچا سکی جس نے مسلمانوں کے اندر ایک یہودیوں کا گروہ جنم دے دیا ۔ آپ نے دیکھ لیا کہ ہم اس جگہ بھی خاموش نہیں رہے لیکن ہم نے جو کچھ وہ اشاروں اور استعاروں میں کہا تاکہ جن کے پاس عقل و فکر ہے وہ عقل و فکر سے کام بھی لینا چاہتے ہیں وہ خود ہی اس پر براہ راست غور کریں اور تاریخ کے طالب علم کا فرض ہے کہ وہ ان حقائق سے پردہ اٹھانے کی کوشش کرے لیکن سید مودودی (رح) کی طرح تعصب کی عینک ڈال کر نہ دیکھے بلکہ احقاق حق کی عینک کا استعمال کرے۔ ان شاء اللہ حق واضح ہوجائے گا ۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات سے بھی اور محمد رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام (علیہ السلام) کے دور کے واقعات سے بھی لیکن سنی سنائی باتوں سے خالی الذہن ہو کر ان واقعات کا تجزیہ ضروری ہے ۔ زیر نظر آیت کے ساتھ عروۃ الوثقیٰ جلد دوم میں سورة آل عمران کی آیت 52 ، 53 کی تفسیر کو بھی ملا لا جائے تو سونے پر سہاگا کا کام دے گی اور ان ہی الفاظ پر ہم اس سورت کے مضامین کو ختم کرتے ہیں ۔ اللھم صلی علی محمد و علی اٰل محمد۔