59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 59:20

لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 59:20 in the Quran reader

{ اَصْحٰبُ النَّارِ } اور { اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ } برابر نہیں ہو سکتے ، اہل جنت ہی تو بامراد (کامیاب لوگ) ہیں

اہل النار اور اہل الجنۃ دونوں برابر نہیں ہو سکتے ، اہل جنت ہی کامیاب ہیں 20 ؎ ایک چیز فوز و فلاح ہے اور ایک چیز لعنت و عذاب ۔ اگر ان دونوں کا کوئی فرق نہ سمجھ سکے تو یہ اس کی سمجھ کا قصور ہے اس کے نہ سمجھنے سے دونوں ایک چیز نہیں ہو سکتے۔ فوز و فلاح ہی کا دوسرا نام جنت ہے اور لعنت و عذاب کا دوسرا نام دوزخ اور دونوں ہی اس دنیوی زندگی کا نتیجہ ہیں ۔ جو شخص سچے دل سے ایمان لایا اور اور اچھے اعمال کیے وہ کامیاب و کامران ہوا اور اس کے حصہ میں فوز و فلاح آگئی اور جو شخص سچے دل سے ایمان نہ لانا یا کفر کی روش اختیار کی وہ اللہ تعالیٰ کی لعنت و عذاب کا مستحق ٹھہرا اور دوسرے لفظوں میں وہ اس دنیوی زندگی میں کیے گئے اعمال ہی کے باعث فیل (Fail) ہوگیا اور ظاہر ہے کہ فیل ہونے والا اور پاس ہونے والا دونوں کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ پھر جو شخص فیل ہونے اور پاس ہونے کو ایک ہی طرح سے خیال کرتا ہے کیا اس کی عقل و فکر کا جنازہ نکل نہیں گیا ۔ جس طرح اندھیرا اور روشنی ، سردی اور گرمی ، خوشی اور غمی ، رات اور دن آپس میں متضاد ہیں اسی طرح جنت اور دوزخ بھی متضاد مخالف ہیں ، اسی طرح ناکامی اور کامیاب بھی متضاد ہیں ، ان کو ایک نہیں کہا جاسکتا ۔
Ayah 59:21

لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 59:21 in the Quran reader

اور اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو آپ دیکھتے کہ وہ اللہ کے ڈر سے دب جاتا ، پاش پاش ہوجاتا اور یہ مثالیں تو ہم (ان) لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سوچیں ، سمجھیں

اگر اس قرآن کریم کو پہاڑوں پر نازل کیا جاتا تو وہ لرزہ براندام ہو جاتے 21 ؎ ( الامثال) امثال جمع مثل اور مثل وہ چیز ہے جو دوسرے کے مشابہ ہو اور ایک سے دوسرے کی حالت کھل جائے گویا دوسرے کی تصویر دل کے ذریعہ سے نظر کے سامنے آجائے۔ مثل ، مثل ، مثیل سب کے معنی نظیر اور شیشہ کے ہیں ۔ یہ اصل معنی ہیں ۔ بعض اہل بلاغت نے مثل اور نظیر میں فرق کیا ہے اور کہا ہے کہ مثل کا ممثل لہ ٗ کے افراد میں سے ہونا ضروری ہے اور نظیر کے لیے یہ شرط نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ نظیر منظر لہٗ کے افراد میں سے نہیں ہوتی جیسا کہ علامہ تفتازانی نے مطول میں بیان کیا ہے لیکن علامہ صاحب کی یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی ، کم از کم ہمیں اس سے اتفاق نہیں بلکہ اس کے مقابلہ میں بعض نے کہا ہے کہ صحیح بات وہ ہے جو علامہ بیضاوی نے بیان کی ہے کہ مثل اس مشہور کلام کو کہتے ہیں جو بلیغ بھی ہو اور اس کا محل استعمال محل وضع کے مشابہ ہو لیکن ہمارے خیال میں یہ بات بھی حقیقت کو واضح نہیں کرتی اور اس پر اعتراض بھی وارد ہوتے ہیں ۔ ہمارے خیال میں اس کو یوں کہنا چاہئے کہ مثل کا استعمال اس مشہور بلیغ کلام میں ہوتا ہے جو کسی حسن کا حامل ہو اور اس کے اندر کوئی گہری مشابہت پائی جائے ، کوئی اشارہ یا نادر کنایہ اس سے بھی آگے بڑھ کر مثل کا اطلاق اس مال یا صفت پر یا قصہ پر ہوتا ہے جس میں کوئی عجیب ندرت اور پر شکوہ عظمت ہو یا جلالت شان ہو ۔ عظمت کی شان کے لیے ( للہ مثل الاعلی) اللہ تعالیٰ کی عجیب عالی شان ہے اور ندرت کی مثال ( مثلھم کمثل الکلب) (7 : 176) (کمثل الحمار) (64 : 5) سے دی جاسکتی ہے۔ زیر نظر آیت میں اس طرح کی ندرت کے لیے اس کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ تعجب کی بات ہے کہ جہاں تک دلائل ، تعلیم اور تذکیر کا تعلق ہے ان میں تم انسانوں کو ( مراد ان انسانوں سے کافر ، مشرک اور منافقین ہیں) سمجھانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی اور قرآن کریم میں تصریف آیات کے ذریعہ ایک ایک بات کو بیسیوں رنگوں سے سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے لیکن عجیب انسان ہو تم کو تم پر کوئی اثر ہی نہیں ہو رہا حالانکہ یہ قرآن کریم اگر پہاڑ جیسی کسی سخت اور جامد و بےحس چیز پر اتارا جاتا تو وہ اللہ تعالیٰ کے ڈر سے پاش پاش ہوجاتا لیکن تم ایسے انسان ہو کہ تم پر اس کا کوئی اثر ہی نہیں ہو رہا تم گویا ایسے ہی ہو جیسے بھینس کے سامنے بین بجانا ہے اور پھر اس کی وضاحت خود ہی ارشاد فرما دی کہ اس طرح کی مثالیں ہم لوگوں کے لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ غور و فکر سے کام لیں ۔ قرآن کریم کی امثال پر غور و فکر کرنے والوں کو معلوم ہوجائے گا کہ قرآن کریم نے جہاں جہاں بھی مثالیں پیش کی ہیں وہ انہی مقاصد کے لیے پیش کی ہیں تاکہ لوگوں کی تفہیم ہوجائے اور ایک نہ سمجھ آنے والی یا مشکل سے سمجھ آنے والی بات آسانی کے ساتھ سمجھ آجائے لیکن افسوس کہ ہمارے مفسرین کی اکثریت اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات کا مفہوم بیان کرتے کرتے کہاں سے کہاں نکل گئے لیکن اصل حقیقت کی طرف بہت کم توجہ دی کہ امثال بیان کرنے کا مقصد کیا ہوتا ہے ؟ تمثیلیں محض اس مقصد کے لیے بیان کی جاتی ہیں کہ لوگ غور و فکر سے کام لیں اگر کوئی مؤثر سے مؤثر چزا بھی ان پر اثر انداز نہیں ہو رہی ہے تو اس میں قصور اس چیز کا نہیں قصور اس کا ہے جس پر کوئی اثر نہیں ہو رہا ہے۔ بیج ڈالنے والے نے اپنی طرف سے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ، زمین کے ساتھ وہ ساری محنت کرتا ہے جو بیج ڈالنے سے پہلے کرنی ضروری تھی لیکن بیج ہے کہ اس نے اگنے سے صاف انکار کردیا تو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ زمین کاشت کے قابل ہی نہیں تھی اور ظاہر ہے کہ کیج بھی بیج کے اگنے کے لیے جس قدر دوسری چیزوں کی ضرورت ہے اسی قدر اس کی بھی ضرورت ہے کہ زمین قابل کاشت ہو بلکہ زمین قابل کاشت نہیں ہوگی تو باقی ساری کار آمد چیزیں بھی بیکار ہو کر رہ جائیں گی۔ زیر نظر آیت میں اس چیز کا بیان ہے اگرچہ مفسرین نے اس میں بہت تکلفات کیے ہیں مثلاً نقل ہے کہ ” پہاڑ کو عقل و فکر عطا کیا جاتا اور پھر قرآن کریم اس پر نازل کیا جاتا تو وہ اس کی ہیبت و جلال سے سر تسلیم خم کردیتا اور ریزہ ریزہ ہوجاتا ۔ انسان جو ایک مشت خاک ہے اسے یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ ایسے کلام کے مواعظ میں غور نہ کرے اور اس چشمہ ٔ فیض سے سیراب نہ ہو “۔ یہ الفاظ خواہ کتنے ہی خوبصورت ہیں لیکن وہ بات جو تفہیم کرانا مقصود ہے وہ اس سے نہیں ہوتی ۔ اس کی مزید وضاحت چاہتے ہوں تو عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة البقرہ کی آیت 74 ، جلد چہارم سورة الرعد کی آیت 31 ، جلد ششم سورة الاحزاب کی آیت 72 کی تفسیر دیکھیں۔
Ayah 59:22

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ Open ayah 59:22 in the Quran reader

اللہ وہی تو ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں (وہی) چھپے اور کھلے کو جاننے والا ہے وہ بیحد مہربان بہت ہی پیار کرنے والا ہے

اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے وہ غیب و حاضر کو جاننے والا ہے 22 ؎ یہ سورة مبارکہ کی آخری تین آیات ہیں جن میں صفات الٰہی کا بیان ہے اور واضح الفاظ میں بتا دیا گیا ہے کہ انسانوں کے حق پر ہونا یا نہ ہونے کی یہی کسوٹی ہے کہ خوف ورجاء میں جو شخص اپنے الٰہ حقیقی سے رجوع کرتا ہے وہ حق پر نہیں ہے خواہ وہ کون ہے ، کہاں ہے اور کیسا ہے ؟ اس لیے رب کریم ہی اس بات کا مستحق ہے کہ اپنا حاجت روا اور مشکل کشا صرف اور صرف اسی کو سمجھے اور اس کے سوا دوسروں کی نفی کرے۔ جو شخص بھی اپنی حاجات و ضروریات کو پکارتا ہے وہ باطل پر ہے کسی نبی ، ولی اور رسول کو پکارے یا کسی ولی ، پیر اور بزرگ کو کیونکہ یہ سب کے سب مخلوق ہیں اور ان میں کوئی بھی نہیں جس کو خالق سمجھا جاسکے۔ وہی اللہ کی ذات ہے جو غائب و حاضر کو جاننے والا ہے ، دراصل یہ غیب محض ہماری وجہ سے غائب ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کے لیے غیب و حاضر کی بحث ہی صحیح نہیں ہے اس لیے کہ اس کے لیے سب کا سب حاضر ہے۔ انسان جو کچھ بھی کرتا ہے اور جہاں بھی کرتا ہے اور جس حالت میں بھی کرتا ہے وہ اس کی حالت ، کیف اور کیفیت سب سے واقف ہے اور پھر یہ بھی کہ وہ اپنی مخلوق کے لیے منبہ رحمت ہے اور رحمت خداوندی ہر وقت انسان کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لیے بےقرار ہے۔ انسان ذرا رجوع کرے تو اس کو حاصل کرسکتا ہے۔ غور کرو کہ رحمت بھی ہو اور جوش رحمت بھی تو اس سے انسان محروم رہ جائے اس سے کوئی بڑی بد بختی اور بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے رحمن ہونے ہی کے باعث تو دنیا کا سارا نظام چل رہا ہے کہ بڑے بڑے ظالم ظلم کرتے ہیں اور کرتے ہی چلے جاتے ہیں اور وہ ان کو ڈھیل پر ڈھیل دیئے چلے جا رہا ہے اگر وہ رحمن نہ ہوتا تو ان کو ظلم کرنے اور ظلم کر کے بھاگ جانے کی توفیق ہی کیونکر ملتی لنک حقیقت یہ ہے کہ وہ سارے انسانوں ، حیوانوں ، نباتات اور جمادات کا یکساں رب اور یکساں رحمت عام کرنے والا ہے اس لیے ان کو وقت مقرر تک جو اس نے ڈھیل دے رکھی ہے اس لیے وہ ناجائز اور بےجا فائدہ اٹھائے چلے جا رہے ہیں اور اس کے لیے ایک اس نے خاص دن مقرر کردیا ہے کہ ہر ظالم کو اس کے ظلم کا وہ بدلہ چکا دے گا اور اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں گی پھر کھلی کی کھلی رہ جائیں گی ( اللہ) لفظ اللہ میں وصفی معنی موجود ہیں اور اس اعتبار سے اس کو بھی صفاتی ناموں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ مگر اس کو اسم ذات تسلیم کرلیا گیا تاکہ اس کو پہچان کے لیے اس کو استعمال کیا جائے۔ اس لیے اس کو اسم ذات کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ( الرحمن) اور (الرحیم) دونوں مبالغے کے وزن ہیں لیکن اس کے باوجود ( رحمن) ابلغ ہے کیونکہ دنیا اور آخرت دونوں کی رحمت کو شامل اور صرف اللہ رب کریم کی مقدس ذات ہی کے لیے مخصوص ہے گویا ( رحمن) کسی دوسرے پر استعمال نہیں ہوتا۔
Ayah 59:23

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 59:23 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ (سب کا) بادشاہ ہے ، وہ پاک ہے ، سلامتی دینے والا ہے ، امن دینے والا ہے ، نگہبانی کرنے والا ہے ، زبردست ہے (شکستہ دلوں کو) جوڑنے والا ہے ، صاحب عظمت ہے ، اللہ لوگوں کے شرک سے پاک ہے

اللہ تعالیٰ کی صفات بےپایاں اور ان گنت ہیں جن میں بعض کا ذکر کیا جا رہا ہے 23 ؎ فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ذات ہے کہ اس کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں ہے مگر وہی اور وہی ہے جو ( الملک) ہے اور ملک انص اور ابلغ ہے مالک سے یعنی دونوں میں عموم خصوص مطلق کی نسبت سے ہے یہی وجہ ہے کہ ہر ملک کو مالک کہہ سکتے ہیں مگر ہر مالک کو ملک نہیں کہہ سکتے ( القدوس) وہ تمام عیبوں اور نقائص سے پاک ہے گویا بہت ہی پاک اور بہت ہی برکت والا ہے۔ ( السلام) ” وہ تمام نقصانات سے محفوظ ہے “ یہ اصل میں مصدر ہے یعنی سلامت مگر اس جگہ سالم کے معنوں میں آیا ہے وہ جس کی ذات ہر طرح کے عیب اور نقصان سے سالم اور محفوظ ہے۔ ( المومن) وہ اپنے وعدہ میں سچا ہے یا اپنے عذاب سے امن دینے والا ہے۔ لفظ مومن کا مآخذ کیا ہے ؟ امن وامان ہے یا ایمان ہے۔ اگر امن وامان ہے تو مومن کے معنی ہوئے امن دینے والا یعنی دنیا میں اسباب امن مہیا کرنے والا عقبیٰ میں نیکو کاروں کو عذاب سے امان میں رکھنے والا اور اگر مآخذ ایمان مانا جائے تو مومن کے معنی ہوئے مصدق یعنی ایمانداروں کے ایمان کو یاد کرنے والا ( المھیمن) وہ نگہبان ہے یا گواہ ہے مادہ اس کا وہی ہے جو ( المومن) کا ہے ( المومن) باب افعال سے ہے اور المھیمن) باپ مفاعلہ سے گویا ( المھیمن) بھی اصل میں ( المومن) ہی تھا۔ دوسرے ہمزہ میں قاعدہ تلیین جاری کر کے اسے ” ی “ سے بد ل لیا اور پہلے ہمزہ کو ’ ’ ھا “ سے اور معنی کے لحاظ سے وہی رہا جو مومن ہے دونوں میں فرق کے لیے اس کے معنی نگہبان اور گواہ کر کے لیے گئے جو حقیقت میں ایک ہی ہیں۔ (العزیز) وہ غالب ، قومی اور زبردست و قاہر ہے۔ اصل میں عزیز کے معنی ہوتے ہیں وہ جس کے ہاں پہنچنا آسان نہ ہو اور بارگاہ ایزدی میں پہنچنے کے لیے لازم و ضروری ہے ظاہری اور باطنی سب ناپاکیوں سے نجات حاصل کرلی جائے تو گویا اس وقت وہ انسان اللہ رب کریم کی بارگاہ میں پہنچ گیا ۔ ظاہر ہے کہ یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ ( الجبار) وہ بڑا ہی دبائو والا ہے۔ جبار مبالغہ کا صیغہ ہے جبر سے مشتق ہے اور جبر کے معنی ہیں لوٹے ہوئے کہ جوڑنا اور کسی کے حال کی اصلاح کرنا ۔ کسی کو زورو غلبہ سے کسی کام پر آمادہ کرنا ۔ پہلی صورت میں یہ اسم جمال ہوگا اور دوسری صورت میں جلالی ہے۔ ( المتکبر) عظمت و بزرگی والا ۔ تکبر اور استکبار کہتے ہیں گردن کشی کرنے اور بزرگی ظاہر کرنے کو اور ایک لفظ ہے کبریا جس کے معنی ہیں بزرگی ۔ اس جگہ ( متکبر) کے معنی ہیں نہایت ہی بزرگی والا ، اس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے متکبر ہونا ہی اچھی صفت ہے لیکن مخلوق کے لیے مذمت کا باعث ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کبریائی میری چادر ہے اور عظمت میری ازار ہے جو ان کو اوڑھنے کی کوشش کرے گا میں انجام کار اس کی گردن توڑ دوں گا اور اس کو دوزخ میں پھینک دوں گا ۔ اس میں بہت بڑی تفہیم کرائی گئی ہے اگر ذرا عقل و فکر پر زور دو گے تو حقیقت واضح ہوجائے گی اور اوپر ذکر کیے گئے سارے نام اللہ تعالیٰ کے ہیں جو صفاتی نام کہلاتے ہیں ۔ ان صفات پر غور کرکے آدمی معلوم کرسکتا ہے کہ جو ذات ان صفات کی حامل ہے لاریب وہی اس کی مستحق ہے کہ اس کو دنیا معبود اور الٰہ تصور کیا جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے کیونکہ ان ساری خوبیوں کی بلکہ ان میں سے کسی ایک خوبی کی متحمل بھی مخلوق میں کوئی ذات اور شخصیت نہیں ہو سکتی پھر اس کے باوجود جو لوگ اس کی ذات میں مخلوق کو شریک ٹھہراتے ہیں ان سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے شریک کو سارے ظلموں سے بڑا ظلم قرار دیا ہے اور تحدی و چیلنج سے یہ بات ارشاد فرمائی ہے کہ سب کے لیے بخشش و معافی کی گنجائش اللہ کے ہاں موجود ہے لیکن مشرک کے لیے کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کی وضاحت کے لیے اختتام نام کی کوئی چیز نہیں ہے کیونکہ اس کی وسعت کو ماپا نہیں جاسکتا ۔ یہ بیان محض تفہیم کے لیے ہے اس کو وضاحت یا تشریح و تفسیر نہیں کہا جاسکتا ۔
Ayah 59:24

هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 59:24 in the Quran reader

وہی اللہ پیدا کرنے والا (جہانوں کو) بنانے والا ، صورت عطا کرنے والا ہے ، اچھے اچھے نام اس کے ہیں جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں ہے سب اس کی تسبیح کرتا ہے اور وہ زبردست حکمت والا ہے

اللہ تعالیٰ کے صفائی نام مزید اس آیت میں بیان کیے جا رہے ہیں 24 ؎ ( الخالق) وہ ہرچیز کا پیدا کرنے والا ہے ( الباری) وہ ہرچیز کا موحد ہے ( المصور) وہ مخلوقات کی طرح طرح کی صورتیں بنانے والا ہے۔ خالق ، باری اور مصور تینوں مترادف اور ہم معنی ہیں اور تینوں کے معنی میں ” پیدا کرنا “ اور ” اختراع کرنا “ ہے مگر با اعتبار استعمال ہر ایک کے ساتھ ایک خصوصیت جداگانہ ہے ۔ مثلاً خلق کا استعمال ہوتا ہے کسی چیز کے وجود میں لانے سے پیشتر اس کے اندازہ کرنے میں اور ” براء “ ایجاد اور پیدا کرنے میں اور تصور صورت بنانے اور ہیئت بخشنے میں اور اس میں کچھ شک نہیں ہے کہ جو چیز عدم سے وجود میں آتی ہے وہ محتاج ہوتی ہے۔ اول اندازہ کرنے کی ثانیاً پیدا کرنے کی ثالثا ً صورت بنانے کی ۔ کمال ہے اس کی تخلیق انسانی کا کہ لاکھوں انسان اکٹھے ہوں جو ایک جنس سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان کے چیزوں کی شناخت بالکل الگ الگ ہے اور کسی کو یہ شک و شبہ نہیں رہتا کہ ان میں ” الف “ کون ہے اور ’ ’ ب “ کون ؟ لیکن یہ کمال کسی دوسری مخلوق میں آپ نہیں دیکھ سکتے ۔ اللہ تعالیٰ کی صفات ان گنت ہیں لیکن نام کے لحاظ سے اس کی صفات کو 99 نام دیئے گئے ہیں اور یہ محض اس لیے ہے کہ انسانی ذہن اللہ تعالیٰ کی صفات کل کو مستحضر کرنے سے قاصر ہے اور ان صفات کو اگر وہ مستحضر کرلے اور ذہن نشین کرتے ہوئے ان ہی کو اپنے لیے ورد زبان رکھے تاکہ ان کا لحاظ کرتے ہوئے وہ شرک سے بچنے کی تمیز دل میں پیدا کرے تو یقینا وہ اس کے لیے کفایت کرتے ہیں اور لاریب اللہ تعالیٰ کی ساری صفات ہی ( الحسنیٰ ) ہیں جو اس کے صفاتی نام ہیں ۔ ان صفاتی ناموں میں سے کسی نام کے پیش نظر آپ اپنے مالک و خالق کو پکارو تو پکار سکتے ہو۔ ( حسنیٰ ) اچھی اور عمدہ بروزن فعل حسن سے افعل والتفضیل کا صیغہ واحد مؤنث ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے کہ اس کے لیے تسبیح خواں ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اس کی وضاحت کے لیے عروۃ الوثقیٰ ، جلد سوم میں سورة الاعراف کی آیت 180 ، جلد چہارم سورة الرعد کی آیت 13 ، جلد پنجم سورة الاسراء کی آیت 24 ، جلد ششم سورة النور کی آیت 36 ، 41 اور اسی طرح جلد ہذا میں سورة الحدید کی آیت اول میں دیکھی جاسکتی ہے۔ نیز جلد نہم سورة الرعد کی آیت 110 میں ہم نے وعدہ کیا ہے کہ اس جگہ یعنی سورة الحشر میں اللہ تعالیٰ کے نناویں ناموں کی وضاحت دی جائے گی ۔ اس وعدہ کے مطابق اس جگہ اللہ تعالیٰ کے ان صفاتی ناموں کی وضاحت پیش خدمت ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے نناوے نام ہیں اور جو شخص ان کو یاد کرے گا وہ جنت کا مستحق ٹھہرے گا ۔ ہمیں امید ہے کہ ان شاء اللہ العزیز قارئین کرام یہ انعام حاصل کرنے کے لیے یہ صفاتی نام جن کو اسمائے حسنیٰ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے یاد کریں گے اور ورد زبان بنانے کی سعی و کوشش کریں گے ۔ یہ صفاتی جن کو اسمائے حسنیٰ کہتے ہیں اکثر تو اسی طرح قرآن کریم سے لیے گئے ہیں اور بعض جو قرآن کریم میں بعینہٖ موجود نہیں ان کے مادے اور مشتقات قرآن کریم میں مذکورہ ہیں چناچہ ہم اس جگہ اس کی وضاحت بھی کریں گے تاکہ قارئین کو معلوم ہوجائے کہ کون سے اسمائے حسنیٰ من و عن قرآن کریم میں موجود ہیں اور کون سے اسمائے حسنیٰ وہ ہیں جن کے مشتقات قرآن کریم میں پائے جاتے ہیں اور من و عن نہیں پائے جاتے اور کون سے اسماء ہیں جن کو مشتقات بھی نہیں بلکہ محض مادے مذکور ہیں ۔ لیکن نام ملاحظہ کریں اور ان کو ازبر کرنے کی کوشش کرنے کے ساتھ ان کا مفہوم سمجھنے کی کوشش بھی کریں اور ان میں جن ناموں سے چاہیں ان سے اللہ تعالیٰ کو پکاریں ۔ وہ ننانوے نام درج ذیل ہیں : نمبر عربی ترجمہ ، اردو نمبر عربی ترجمہ ، اردو 1 اللہ خدا ، معبود 2 الرحمن نہایت رحم والا 3 الرحیم بہت مہربان 4 الملک بادشاہ 5 القدوس تمام عیبوں سے پاک 6 السلام تمام نقصانات سے محفوظ 7 ال مومن اپنے وعدے میں سچا یا اپنے عذاب سے امن دینے والا 8 المھین۔ نگہبان یا گواہ 9 العزیز غالب ، قومی ، قاہر 10 الجبار بڑا دبائو والا 11 المتکبر عظمت و بزرگی والا 12 الخالق ہرچیز کا پیدا کرنے والا 13 الباری ہرچیز کا موجد 14 المصور مخلوقات کی طرح طرح کی صورتیں بنانے والا 15 الغفار بہت بخشنے والا 16 القھار زبردست یا غلبہ رکھنے والا 17 الوھاب بخشش عطا کرنے والا 18 الرزاق مخلوقات کو روزی پہنچانے والا 19 الفتاح مشکل کشا یا بندوں میں حکم کرنے والا 20 العلیم بہت جاننے والا 21 القابض بندوں کی روزی محدود یعنی نپی تلی کرنے والا 22 الباسط بندوں کی روزی فراخ کرنے والا 23 الخافض نافرمانوں کو پست کرنے والا 24 الرافع فرمانبرداروں کو بلند کرنے والا 25 المعز عزت دینے والا 26 المذل ذلیل کرنے والا 27 السمیع بہت سننے والا 28 البصیر بہت دیکھنے والا 29 الحکم مخلوقات کا حاکم 30 العدل منصف یعنی فیصلے میں ظلم نہ کرنے والا 31 اللطیف باریک میں 32 الخبیر آگاہ ، دانا ، عالم ، عارف 33 الحلیم بردبار 34 العظیم بزرگ ، بڑا 35 الغفور بہت بخشنے والا 36 الشکور بڑا قدر شناس 37 العلی بہت اونچا 38 الکبیر بڑا ، بزرگ 39 الحفیظ نگہبان 40 اکمقیت مخلوق کو قوت یعنی روزی پہنچانے والا 41 الحسیب کافی 42 الجلیل بزرگ قد 43 الکریم بزرگ 44 الرقیب نگہبان 45 المجیب دعا قبول کرنے والا 46 الواسع وسیع المعلومات یا وسیع الغناء 47 الحکیم حقائق اشیاء کا عالم 48 الودود نیک بندوں کو درست رکھنے والا 49 المجید بزرگ ، شریف 50 الباعث مردوں کو مرے پیچھے اٹھا کھڑا کرنے والا 51 الشھید حاضر 52 الحق ثابت 53 الوکیل کارساز 54 القوی توانا ، تام القدرت 55 المتین استوار 56 الولی محب ، مددگار 57 الحمید مستحق حمد 58 المحصی ہرچیز کا احاطہ علم میں کرنے والا 59 المبدی ابتداء ً پیدا کرنے والا 60 المعید دوبارہ پیدا کرنے والا 61 المحیی مخلوق کو زندہ رکھنے والا 62 الممیت مارنے والا 63 الحی زندہ 64 القیوم کارخانہ عالم کا سنبھالنے والا 65 الواجد غنی 66 الماجد بزرگی والا 67 الواحد تنہا ، یگانہ 68 الصمد بےنیاز 69 القادر قدرت والا 70 المقتدر صاحب مقتدرت 71 المقدم۔ اپنے دوستوں کو بارگاہ عزت کی طرف بڑھانے والا 72 الموخر۔ دشمنوں کو اپنے لطف سے پیچھے ہٹانے والا 73 الاول سب سے پہلا 74 الاخر سب سے پچھلا 75 الظاھر آشکار ہے بلحاظ قدرت 76 الباطن پوشیدہ ہے با عتبار ذات 77 الوالی تا امور کا متولی 78 المتعالی مخلوقات کی صفات سے منزہ 79 البر اپنے لطف سے بندوں کے ساتھ نیکی کرنے والا 80 التواب گناہ گاروں کی توبہ قبول کرنے والا 81 المنتقم نافرمانوں سے بدلا لینے والا 82 العفو گناہوں کا مٹانے والا 83 الروف بہت شفقت کرنے والا 84 مالک الملک ملک کا ملک 85 ذوالجلال والاکرام بزرگی و عزت والا 86 المقسط عادل و منصب 87 الجامع تمام مخلوقات کو جمع کرنے والا 88 الغنی بےپروا 89 المغنی لوگوں کے بےپروا کرنے والا 90 المعطی عطا کرنے والا 91 المائع اپنے دوستوں سے تکلیف روکنے والا 92 الضار ضرر و شر کا خالق 93 النافع نفع و خیر کا پیدا کرنے والا 94 النور روشن کرنے والا 95 البدیع موجد 96 البافی باقی رہنے والا 97 الوارث فنائے موجودات کے بعد باقی رہنے وال 98 الرشید صاحب رشید 99 الصبور بڑا صبر کرنے والا یہ اسماء صفاتی جنہیں اسماء حسنیٰ بھی کہتے ہیں اکثر تو بحنسہٖ قرآن سے لیے گئے ہیں اور بعض جو بعینہٖ قرآن میں موجود نہیں ہیں ان کے مادے اور مشتقات قرآن میں مذکور ہیں چناچہ دونوں قسم کے اسماء کے دو نقشے دیئے جاتے ہیں جن سے صاف طور پر معلوم ہو سکے گا کہ کون اسماء بعینہٖ قرآن میں موجود ہیں اور کن کے مشتقات مذکور ہیں ۔ وہ صفاتی نام جو بعینہٖ قرآن کریم میں موجود ہیں اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم ……(2 : 255) الرحمن الرحیم…… والھکم الہ واحد الہ الا ھو الرحمن الرحیم (2 : 163) الملک القدوس السلام ال مومن المھیمن العزیز الجبار المتکبر…… ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو الملک القدوس السلام ال مومن المھیمن العزیز الجبار المتکبر (59 : 23) الخالق الباری المصور…… ھو اللہ الخالق الباری المصور (52 : 34) الغفار…… رب السموات والارض وما بینھما العزیز الغفار (38 : 66) القھار…… قال انما انا منذروما من الہ الا اللہ الواحد القھار (38 : 65) الوھاب…… ربنا لا تزع قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب (3 : 8) الرزاق…… ان اللہ ھو الرزاق ذوالقوۃ المتین (52 : 58) الفتاح العلیم…… ثم یفتح بیننا بالحق وھو الفتاح العلیم (34 : 26) السمیع…… ولہ ما سکن فی الیل النھار وھو السمیع العلیم (6 : 13) البصیر…… واللہ بصیر بالعباد ( 3 : 15) اللطیف الخبیر…… وھو یدرک الابصار وھو اللطیف الخبیر ( 6 : 103) الحلیم…… یتبعھا اذی واللہ غنی حلیم (2 : 233) العظیم…… ولا یودہٗ حفظھماوھو العلی العظیم (2 : 255) الغفور الشکور…… لیوفیھم اجورھم ویزید ھم من فضلہ انہ غفور شکور (35 : 30) العلی الکبیر…… قالوالحق وھو العلی الکبیر (34 : 23) الحفیظ…… ان ربی علی کل شی حفیظ (11 : 57) المقیت…… وکان اللہ علی کل شی مقیتا (4 : 85) الحسیب…… ان اللہ کان علی کل شی حسیباً (2 : 86) الکریم…… ومن کفرفان ربی غنی کریم (27 : 40) الرقیب…… ان اللہ کان علیکم رقیبا ً (4 : 1) المجیب…… ان ربی قریب مجیب (11 : 61) الواسع…… ان ربک واسع المغفرۃ……(53 : 32) الودود…… وھو الغفور الودود (85 : 12) المجید…… رحمۃ اللہ وبرکاتۃ علیکم اھل البیت انہ حمید مجید……(11 : 73) الشھید…… وانت علی کل شی شھیدا (5 : 117) الحق…… مردوالی اللہ مولھم الحق……(6 : 62) الوکیل…… وقالوا حسبنا اللہ ونعم الوکیل (3 : 73) القوی…… اللہ الطیف بعبادہ یرزق من یشاء وھو القوی العزیز ( 42 : 19) المتین…… ان اللہ ھو الرزاق ذوالقوۃ المتین (51 : 58) الولی الحمید…… وینشر رحمتہ وھو الولی الحمید (43 : 28) المحی…… ان ذلک لمحی الموتی وھو علی کل شی قدیر (30 : 50) الحی القیوم…… الم ۔ اللہ لا الہ الا ھو الحی القیوم ( 3 : 2) الواحد…… وما من الہ الا اللہ الواحد القھار ( 38 : 65) الصمد…… قل ھو اللہ احمد اللہ الصمد (112 : 1 ، 2) القادر…… قل ھو القادر ، علی ان یبعث علیکم عذابا ً من فوقکم ……(2 : 65) المقتدر…… فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر ( 54 : 55) الاول الاخرالظاھر الباطن…… ھو الاول والاخر والظاھر و الباطن وھو بکل شی علیم (57 : 3) المتعالی…… عالم الغیب والشھادۃ الکبری المتعال (13 : 9) البر…… انہ ھو البر الرحیم ( 52 : 28) التواب…… انک انت التواب الرحیم ( 2 : 128) العفو…… ان اللہ کان عفوا غفور (2 : 43) الروف…… ان اللہ بالناس الرئوف رحیم (3 : 43) ما لک الملک…… قل اللھم مالک الملک توتی الملک من تشاء (3 : 26) ذوالجلال والاکرام…… تبرک اسم ربک ذی الجلال والاکرام (55 : 78) الجامع…… ربنا انک جامع الناس لیوم لا ریب فیہ……(3 : 9) الغنی…… واللہ غنی حلیم ( 2 : 263) النور…… اللہ نور السموات والارض……(24 : 35) الحکیم…… یموسی انہ انا اللہ العزیز الحکیم (28 : 9) الوالی …… مالہ من دونہ من وال (13 : 11) وہ صفاتی نام جن کے مشقات قرآن کریم میں پائے جاتے ہیں القابض الباسط…… واللہ یقبض ویبسط والیہ ترجعون (2 : 245) الرافع…… یرفع اللہ الذین امنوا منکم والذین اوتوا العلم درجات ……(58 : 11) المعز المزل…… وتعزمن تشاء و تذل من تشاء……(3 : 26) الحکم…… واللہ یحکم لا معقب الحکمہ……(13 : 21) الباعث…… وان اللہ یبعث من فی القبور (22 : 7) المحصی…… واحصی کل شی عددا ( 72 : 28) المبدی المعید…… انہ ھو یبدی و یعید (85 : 13) المیت…… واللہ یحییٰ ومیت ……(3 : 156) المنقم…… فانا منھم منتقمون (43 : 41) المقسط…… قائما بالقسط ……(3 : 18) المغنی…… ان یکونوا فقراء یغنھم اللہ من فضلہ……(24 : 32) البافی…… ویبقی وجہ ربک ذی الجلال والاکرام (55 : 27) الھادی…… واللہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم (24 : 46) الصبور…… ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور (34 : 19) الوارث…… وانا لنحن نحی ونمیت ونحن الوار ثون (15 : 23) وہ صفاتی نام جن کے صرف مادے قرآن کریم میں الخافض …… خافضۃ رافعۃ……(56 : 3) العدل…… اعدلوا ھو اقرب للتقوی (5 : 8) الجلیل…… ذی الجلل والاکرام (55 : 78) الواجد…… واستغفرلھم الرسول لوجدوا اللہ تو اباً رحیما ً (4 : 64) المجد…… تجدوہ عند اللہ ھو خیرا ً (73 : 20) المقدم…… لیغفرلک اللہ ما تدم من ذنبک وما تاخر (74 : 37) الموخر…… ھو الاول والاخر والظاھر والباطن (57 : 3) المعطی…… اعطی کل شی خلقہ (20 : 50) المانع…… وظنوا انھم ما نعتھم حصونھم من اللہ (59 : 2) الضار…… ولا یضار کاتب ولا شھید (2 : 282) النافع…… لا تدرون ایھم اقرب لکم نفعا ً (4 : 11) الرشید…… انک لانت العلیم الرشد (11 : 78) الحمد للہ کہ اس وظیفہ پر اس سورت کی تفسیر کو ختم کیا جارہا ہے ( رب اشرح ل صدری و یسرلی امری واحلل عقدۃ من لسانی ویفقھوا قولی) رب یسرولا تعسرو تمم بالخبیر۔