59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 59:7

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ Open ayah 59:7 in the Quran reader

جو مال (بلا جنگ کیے) اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو (مخالفین کی) بستیوں سے دلوا دیا وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی کا حق ہے اور (اس لیے یہ مال اللہ کی راہ میں رسول اللہ ﷺ کے حکم سے خرچ ہوگا) عزیزوں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں (سارا مال) انہیں میں نہ پھرتا رہے اور جو کچھ رسول ﷺ تم کو دے وہ لے لو اور جس سے منع کرے اس سے رک جاؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو ، بلاشبہ اللہ کا عذاب سخت ہے

اللہ تعالیٰ کے رسول کے مال ہونے سے اصل مراد بھی واضح کردی 7 ؎ جیسا کہ ہم نے پیچھے اشارہ کیا ہے کہ مال فے اور مال غنیمت میں فرق ہے اور یہ بھی عرض کیا ہے کہ وہ فرق کیا ہے ؟ زیرنظر آیت میں اس کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا مال کہنے اور اللہ کے رسول کا مال کہنے کا مطلب کیا ہے ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ تو بےناتز ہے اس کو کسی چیز کی حاجت نہیں ہے جو اموال اس طرح اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی طرف لوٹاتا ہے وہ رسول اللہ ﷺ کی ذات کے لیے بحیثیت سربراہ مملکت اسلامی ہے اور ان کے قریبی رشتہ داروں کے لیے ہے ، یتیموں کے لیے ہے ، مسکینوں کے لیے اور مسافروں کے لیے ہے ۔ ان اموال کے متعلق جو نبی اعظم و آخر ﷺ کی وفات کے بعد بحث پیدا ہوئی اور پھر اس بحث نے بڑھتے بڑھتے ایک فتنہ کی شکل اختیار کرلی یہ سب کچھ صحابہ کرام ؓ کے دور کے بعد کے لوگوں کی موشگافیوں کے نتیجہ میں فرضی طور پر پیدا ہوتی ہیں ۔ صحابہ کرام ؓ کے زمانہ میں اس طرح کی قطعا ً کوئی بحث پیدا ہی نہیں ہوئی تھی ۔ صحابہ کرام ؓ کے دور کے بعد جب بعض منافقین نے اس طرح کے فرضی سوال پیدا کیے تو ان فرضی سوالوں کے فرضی جواب دیئے گئے اور جب احادیث کے مدون ہونے کا وقت آیا تو اس وقت اس طرح کی بحثیں لوگوں میں پیدا ہوچکی تھیں ، سوال کرنے والے بھی موجود تھے اور ان سوالوں کے جواب دینے والے بھی جس وجہ سے بعض احادیث میں بھی اس بحث نے جگہ حاصل کرلی اور پھر جوں جوں وقت گزرتا گیا تو یہ بحث بھی دوسری بہت سی بحثوں کی طرح بہت پھیل گئی اور منافقین زمانہ نے اس کو ایسی ہوا دی کہ اس پر شیعہ سنی کی شکل میں دو مکاتب فکر پیدا کردیئے اور آہستہ آہستہ ان کے بعد کو خاص سازش کے تحت بڑھایا گیا اور اس طرح جو اسلام کو نقصان وہ پہنچانا چاہتے تھے اس میں بلا شبہ وہ بہت حد تک کامیاب ہوگئے جس کے اثرات آج تک موجود ہیں اور اب ان کے ختم ہونے کی کوئی صورت بھی بظاہر نظر نہیں آتی ۔ ہم اس جگہ اس بحث کو اٹھا کر اسکو مزید بڑھانا نہیں چاہتے ، ہم نے محض چلتے چلتے اس کا تذکرہ کیا ہے تاکہ صورت حال کا قارئین کو پتہ چل جائے ۔ ہم اس جگہ اختصار کے ساتھ صرف اور صرف یہ عرض کریں گے کہ قرآن کریم نے ان اموال کے متعلق جو اشارات دیئے ہیں وہ آج بھی من و عن موجود ہیں اور ہم سب کا حق ہے کہ ہم ان اشارات پر غورو فکر کریں ، فرضی باتوں پر کان نہ دھریں اور ایک دوسرے سے الجھتے ہیں نہ رہیں بلکہ اس الجھائو کے ختم ہونے کی امانت و دیانت کے ساتھ فکر کریں اگر کرسکتے ہیں۔ غور کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے جہاں جہاں بھی اللہ کی راہ میں یا اللہ کے لیے مال خرچ کرنے کا ذکر کیا ہے وہاں اس کی وضاحت کردی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے مالوں کی حاجت نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کو دینے کا مطلب فقط اس کے حکم کے مطابق اموال کو خرچ کرنے کا نام ہے اور جو مال اللہ تعالیٰ کے لیے کہے جاتے ہیں ، کہے جا رہے ہیں اور کہے جاتے رہیں گے وہ اس معاشرہ میں موجودہ غریبوں ، مسکینوں ، یتیموں اور دوسرے ضرورت مندوں ہی کے لیے ہیں اور جہاں تک اللہ کے رسول ﷺ کے اموال کا ذکر ہے تو اس میں اللہ کا رسول بحیثیت سربراہ مملکت اور اس کے رشتہ دار جو اس کی کفالت میں ہیں اور ان کی ضروریات زندگی رسول اللہ ﷺ کے ذمہ میں آتی ہیں ان کو بقدر ضرورت پورا کیا جائے گا اور باقی اموال کو بیت المال میں جمع کر کے سارے انسانوں کی فلاح و بہود کے لیے خرچ کیا جائے گا اور ان اموال میں سے ہر صاحب ضرورت کی ضرورت کو پورا کیا جائے گا اور صاحب ضرورت کی وضاحت بھی کردی کہ وہ آپ ﷺ کے رشتہ دار ہیں جن کی کفالت آپ ﷺ کے ذمہ ہے پھر اس طرح یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کے لیے حسب ضرورت خواہ وہ کون ہوں اور کیسے ہوں کیونکہ یہ حق انسانیت ہے جس کو ادا کرنا بہت ضروری ہے اور اس کے حصے بیان نہیں کیے گئے کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے یا آپ ﷺ کے رشتہ داروں کے لیے یا دوسرے یتیموں ، مسکینوں اور مسافروں کے لیے یا اس طرح کے دوسرے حاجت مندوں کے لیے ان میں سے کتنا کتنا حصہ ضروری ہے اور اس کی وضاحت کیوں نہ فرمائی گئی ؟ اس لیے کہ اللہ کا رسول ﷺ خود اس کی وضاحت کر دے گا اور وقت ضرورت کے مطابق جس مد میں زیادہ ضرورت ہوگی اس میں کمی بیشی کرلی جائے گی اور یہ کام اللہ کا رسول ﷺ محض سربراہ مملکت کی حیثیت سے انجام دے گا ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا آپ ﷺ نے اس حکم کے مطابق عمل بھی فرمایا ہے یا نہیں ؟ اگر فرمایا اور یقینا فرمایا تو اس بات کی وضاحت جو آپ ﷺ کا حکم کرے گا وہی اسلام کا قانون متصورہو گا ۔ آپ ﷺ کی موجودگی میں آپ ﷺ نے جو جائیدادیں ، زمینیں اور دوسرے اموال اپنے رشتہ داروں کے کنٹرول میں دے دیئے وہ ان کے جو دوسرے لوگوں میں تقسیم کیے جن کا ذکر آیت میں کیا گیا وہ ان کے بنو نضیر کے اموال کے بعد آپ ﷺ نے کم و بیش 6 ، 7 سال مدینہ میں گزارے کیا اتنے عرصہ میں جو ان کا انتظام کیا گیا وہ ہمارے فیصلہ کے لیے کافی نہیں ہے ؟ یقینا کافی ہے تو اس کو دیکھ لیا جائے تو سارا جھگڑا ختم ہو سکتا ہے بشرطیکہ جھگڑا ختم کرنے کا ارادہ بھی ہو اور اگر ارادہ جھگڑتے ہی رہنے کا ہو تو اس کو ظاہر ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت بھی ختم نہیں کرسکتی ۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک یہ جھگڑا نہ ختم ہوا اور نہ ہی اس کے ختم ہونے کی کوئی صورت موجود ہے ، کیوں ؟ اس لیے کہ ہم اس کو ختم نہیں کرنا چاہتے بلکہ اس کو مزید بڑھانا چاہتے ہیں ، بڑھا رہے ہیں اور بڑھاتے رہیں گے۔ ہمارے ہاں بد قسمتی سے جب بھی یہ بحث چھڑتی ہے جہاں بھی چھڑتی ہے تو سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت سے اس کو شروع کردیا جاتا ہے حالانکہ یہ بحث یہاں سے شروع کرنا ہی جھگڑے میں پڑنے کے مترادف ہے کیونکہ اس بحث کا تعلق سیدنا ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت سے مطلق نہیں ہے اور جو شخص بھی اس بحث کو یہاں سے شروع کرتا ہے خواہ وہ کسی گروہ سے تعلق رکھتا ہے وہ اس بحث کو نہ ختم کرسکتا ہے اور نہ ہی کبھی کرسکے گا کیونکہ اس بحث کو اس جگہ سے شروع کرنا ہی غیر فطری چیز ہے لکنط افسوس کہ ان باتوں کو بہت کم سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ وہی بات ہے کہ مرزاجی نے نبوت کا دعویٰ کیا سو کیا لیکن کسی نے پوچھا کہ مرزا جی کی نبوت کا نبوت کیا ہے ؟ تو جھٹ اس کو جواب دیا گیا کہ اس کا ثبوت یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) وفات پا گئے۔ کوئی پوچھے کہ کہاں عیسیٰ (علیہ السلام) اور کہاں مرزا جی اور کہاں عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات ۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے ساتھ مرزا جی کی نبوت کا کیا تعلق ہے ؟ ہمیں تعجب ہوتا ہے کہ بات مرزا جی کی نبوت کی اور بحث عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات یا زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کی۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مرزا جی کی چالاکی تھی کہ انہوں نے لوگوں کو اس گورکھ دھندے میں ڈال دیا اور عوام تو عوام خواص بھی ان کے اس جال کو بہت کم سمجھ سکے اور ساری زندگی یہی لڑائی لڑی جاتی رہی تا آنکہ حکومت نے ان کے ماننے والوں کو کافر قراردے دیا ۔ اس کا نتیجہ کیا نکلا کہ جب بھی کوئی عیسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کا ذکر کرتا ہے تو جھٹ اس پر مرزائی ہونے کا فتویٰ داغ دیا جاتا ہے گویا اس کے لیے یہی غوری میزائل ہے جو اس کو فوراً لے جالے گا خواہ وہ کون ہو اور کہاں بھی ہو ۔ ہمیں افسوس ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) وفات پا گئے ایک بہت پرانا مسئلہ تھا اور جن لوگوں نے اس کے لیے دلائل جمع کیے اور قوم کو سمجھانے کی کوشش کی مرزا صاحب نے ان ہی لوگوں سے اس کو ہتھیا لیا اور اس پر اپنی دکانداری چمکا دی لیکن جب تک وہ خودزندہ ہے انہوں نے جس طرح اس کو گوکھ دھندا بنائے رکھا اسی طرح اپنی نبوت کے جال کو بھی گورکھ دھندا بنانے کی کوشش کی اور وقتی حکومت کا آلہ کار بن کر اپنا وقت گزارتے رہے جوں ہی وہ مرے تو امت مرزائیہ دو حصوں میں تقسیم ہوگئی اور بالکل تھوڑے عرصے کے بعد مرزا بشیر الدین نے نبوت کے کھیل کو پکارکر اپنے مخالفین کو غیر مبایعین کا نام دیا اور آپس میں دونوں گروہ متحارب ہوگئے پھر اس کا جو انجام ہوا وہ آپ کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ یہ بات ہم نے ضمناً کہہ دی ہے مطلب صرف یہ ہے کہ ہمارے ہاں بحث کچھ ہوتی ہے اور اس کو کچھ بتا دیا جاتا ہے جس سے حقیقت پر دہ میں مستورہو جاتی ہے اور بحث ایک ایسا رخ اختیار کرلیتی ہے کہ اس کا اصل مبحث سے کچھ تعلق ہی قائم نہیں ہوتا اور اس طرح ایک ایسی لڑائی لڑی جاتی ہے جس کا کوئی سر اور پیر نہیں ہوتا ۔ آج بھی اگر اس بات کا تجزیہ کیا جائے کہ قرآن کریم اللہ نے جس دل پر نازل کیا ہے اور جس کو اللہ نے آخر الزمان نبی و رسول بنا کر مبعوث کیا انہوں نے اس آیت پر کس طرح عمل کیا تو بات بالکل واضح اور صاف ہوجاتی ہے اور حقیقت کا کھول بھی نکل آتا ہے لیکن چونکہ اس طرح بات ختم ہو سکتی ہے لہٰذا ہم اس کی طرف قطعاً توجہ دینے کے لیے تیار نہیں ۔ ہم اس بات کو آپ ﷺ کی وفات کے ساتھ لازم کرتے ہیں اور ابوبکر صدیق ؓ کی خلافت سے اس کو شروع کرتے ہیں اور جو طریقہ آپ ﷺ نے شروع کر رکھا تھا جب وہی ابوبکر صدیق ؓ نے جاری رکھا ہے تو پھر اعتراض کرنے کا حق ابوبکر صدیق ؓ پر آخر کیوں ہوا ؟ اگر اعتراض کرنا ہی تھا تو براہ راست رسول اللہ ﷺ پر کیا جاتا تاکہ معترضین کے اعتراض کی حقیقت کھل جاتی اور ان کے ایمان کا جنازہ نکلتا ، سب دیکھ لیتے اور بات واضح ہوجاتی اور بحث بھی اختتام کو پہنچ جاتی لیکن اس طرح سیدھی بات کرنا اتنا مشکل کردیا گیا کہ اب اس طرح کی سیدھی اور صاف بات کرنا ایمان سے خارج ہونا قرار دیا جانے لگا ۔ خیر یہ تو ہمارے مفسرین کی بحث ہے جو نہ ختم ہونے والی ہے نہ آج تک ہوئی اور نہ ہی قیامت تک ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہم ایسے اموال کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ ﷺ کے متعلق کیوں کردیتے ؟ فرمایا اس لیے کہ دولت پر صرف دولت مندوں ہی کا حق لازم نہ کردیا جائے جیسا کہ زمانہ میں ہوتا آیا ہے کہ جن ہاتھوں میں دولت ایک دفعہ جائز و ناجائز طریقوں سے اکٹھی ہوجاتی ہے پھر ہوتی ہی چلی جاتی ہے اور لوگ بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھاتی ہے کی مثال دے کر مطمئن ہوجاتے ہیں اور اسلام اس بات کا حامی نہیں ہے اس لیے اسلام نے جو معاشی نظام پیش کیا اس میں ان لوگوں کی ضروریات زندگی کا خیال رکھا جو ان زمروں میں داخل ہیں جن میں مال کما کر حاجات و ضروریات کو پورا نہیں کیا جاسکتا اور ان سارے کمزور انسانوں کو معاشرہ میں برابر لانے کے لیے ایسے اقدام کیے جن سے ان کے برابر برابر لانے میں مدد دی جاسکے اور پھر صرف یہ اموال غنیمت اور فے ہی میں نہیں بلکہ اسلامی نظام حیات میں ایسے طریقوں کو لازم اور ضروری قرار دیا جن سے ایسے نتائج برآمد ہوں اور ملکی وسائل سکڑ کر ایک مخصوص طبقہ میں اکٹھے نہ ہوجائیں بلکہ وہ چاہتا ہے کہ ان کا پھیلائو زیادہ سے زیادہ وسیع ہو ۔ اس نے تمام ایسی پیش بندیاں کردی ہیں جن سے سرمایہ سکڑ نے کے عمل کو روکا جاسکے اور اس کے دائرہ اثر کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جاسکے۔ موضوع کے پیش نظر زیر نظر آیت میں اگرچہ محض اموال فے ہی کا ذکر کیا گیا ہے لیکن اس کے لیے جو اصولی بات سمجھائی گئی ہے اس میں بہت وسعت ہے اور اسلام نے جو اس معاملہ میں پیش بندیاں کی ہیں ، جو سرمایہ کو مخصوص ہاتھوں ہی میں سکڑتے چلے جانے سے روکتی ہیں ان پر ایک مختصر نظر ڈال لیں تاکہ اس کی بھی وضاحت ہوجائے۔ چناچہ اسلام نے کتب معاش کے وسائل کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے اور پھر ایک کا نام حلال اور دوسرے کا نام حرام رکھا ہے اور حرام میں تمام ایسے وسائل ذکر کردیئے ہیں جن کے ذریعہ محنت کے بغیر بڑی آسانی کے ساتھ دولت امڈتی چلی آتی ہے۔ اس میں اول نمبر پر سود کو رکھا ہے پھر اس کی دوسری شاخوں پر توجہ دی ہے یعنی جوا ، سٹہ بازی ، زخیرہ اندوزی ، سمگلنگ (Bribery) چور بازاری اور رشوت ستانی جیسے بیسیوں نہیں بلکہ سینکڑوں طریقے اس میں شامل ہیں جن کی حرمت اسلام میں واضح الفاظ میں موجود ہے اور مالی مساوات کے لیے سب سے پہلے اس نے وراثت کے اصول مقرر کیے ہیں جس سے جائیدادیں ، زمینیں ، فیکٹریاں ، کو ٹھیاں اور دوسرے سارے اموال فطری طور پر ادلتے بدلتے لازم ہوجاتے ہیں اور اس کے بعد نظام زکوٰۃ جس کو اگر اسلامی خطوط کے مطابق چلایا جائے تو حکومت سے کوئی شخص دولت کو پوشیدہ رکھ ہی نہیں سکتا خواہ وہ کون ہو اور پھر صدقات و خیرات کو لازم قرار دیا اور ان کا تعلق آخرت کے ساتھ جوڑ کر اپنی دولت اور مال کو دوسروں کے لیے خرچ کرنے کا جذبہ پیدا کیا ۔ یہ دوسری بات ہے کہ مسلمان کہلانے والوں نے اپنا نام مسلمان ہی رکھا اور کام سارے کفر کے سنبھال لیے۔ تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے اگر آپ ذرا ایمانداری اور دیانتداری سے تجزیہ کریں گے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ آج بھی جہاں اور جس جگہ جس خاندان اور جس فرد کے پاس دولت کے بےپناہ ریل پیل دیکھیں گے یا سنیں گے وہاں ان ممنوع وسائل معاش میں سے کوئی نہ کوئی صورت ضرور پائیں گے خواہ وہ کون ہو ، کہاں ہو اور کیسا ہو اور کسی مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والا ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ اپنے ملک میں اتنے بڑے سرمایہ دار پاتے ہیں کہ اگر آپ اس ملک کو فروخت کرنا چاہیں تو ان میں سے ایک ایک خاندان اور ایک ایک فرد اس کو خرید سکتا ہے لیکن دولت خداداد پاکستان کا قومی خزانہ ہے تو اس کا فقط نام خزانہ رکھا ہوا ہے ۔ جس طرح ہمارے ملک میں خدا کے خانوں میں بیٹھنے والے پروہتوں اور مہتوں کا کردار ادا کر رہے ہیں اور قومی خزانے پر بیٹھنے والے بھی بڑے بڑے مہاجن و سرمایہ دار اور جاگیردار ہیں اور مثل ہے کہ پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے ، پھر طاقتور کمزور کو اپنی طرف کسی نہ کسی طرح بہر حال کھینچ ہی لیتا ہے اور جب یہ بات حقیقت ہے کہ قومی خزانے کے مقابلے میں ان پروہتوں ، مہتوں ، مہاجن ، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے خزانوں کی طاقت زیادہ ہے لہٰذا قومی خزانے میں جو مانگے کا مال لایا جاتا ہے وہ بھی طاقتور خزانے اپنی طرف کھینچ کرلے جاتے ہیں پھر اس کا نتیجہ کیا نکلنا چاہیے ؟ یہی کہ طاقت ور مزید طاقت ور ہوتا جائے اور کمزور مزید کمزور تر اور یہ سلسلہ بہر حال جاری ہے جس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا ۔ مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ ” اے مسلمانو ! جو کچھ بھی تم کو اللہ تعالیٰ کا رسول دے اس کو لے لو اور جس سے باز رکھے اس سے رک جائو “۔ آج ہم آیت کے اس حصے کو ہر سٹیج کی زینب بناتے ہیں لیکن اس کے مفہوم کو خاص مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں مثلاً ہمارا سواد اعظم اس کو پڑھتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ نمازوں میں رفع الیدین ، آمین بالجہر اور فاتحہ خلف الامام کو منع کیا گیا ہے اور آیت مطالبہ کر رہی ہے کہ جن لوگوں نے نماز کے اندر یہ کام کیے انہوں نے نماز کا سارا مفہوم ضائع کردیا اور اس کو نماز کوئی نہیں ہوگی اور اسی طرح جو اصل مسئلہ اموال کا تھا اس کو بالکل صاف کردیا اور بھول کر بھی کبھی کسی نے اس کا نام نہ لیا کہ اصول معیشت اسلامی میں جس چیز سے اللہ کے رسول نے تم کو منع کیا اس کے قریب بھی نہ جائو اور جس کی اجازت دی ہے اس کی پوری طاقت اور قوت سے نافذ کرو تاکہ تمہاری معیشت اسلامی معیشت کہلاسکے اور دنیوی معاشروں میں تم بحیثیت مسلمان پہچانے جاسکو۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ، بد اعتدالیاں نہ کرو کیونکہ اگر تم بد اعتدالیاں کرو گے تو بلا شبہ تم کو سخت عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ پیچھا کرنے میں بہت سخت ہے کہ جب وہ کسی کا پیچھا کرے تو کوئی شخص بھی اس کی گرفت سے بچ نہیں سکتا اور یہ اسی کا فضل و کرم ہی ہے کہ وہ کسی کا پیچھا ہی نہ کرے۔
Ayah 59:8

لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ Open ayah 59:8 in the Quran reader

(یہ مال) ان مفلس مہاجروں کے لیے ہے جو اپنے وطن اور مال سے جدا کردیئے گئے ہیں (یعنی ہجرت پر مجبور کردیئے گئے ہیں اس لیے انہوں نے ہجرت کی ہے) جو اللہ کے فضل اور اس کی رضا کی تلاش میں ہیں اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی مدد کرتے ہیں یہی لوگ سچے (مسلمان) ہیں

جن لوگوں پر اموال فے خرچ ہوں گے ان کا مزید ذکر 8 ؎ گزشتہ آیت میں جن لوگوں کا ذکر کیا گیا تھا ( الفقر او المھاجرین) بھی ان میں داخل ہیں یا یہ لوگ ان سے زائد ہیں ؟ اس پر ہمارے مفسرین نے بہت بحث کی ہے اور اس سلسلہ میں بہت لمبا اور مفصل بیان دیا ہے۔ ہم ان لوگوں کو گزشتہ لوگوں سے زائد لوگ سمجھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ان کی اہمیت کے پیش نظر ان کو الگ کر کے بیان کیا گیا ہے تا ہم یہ اس وقت کی وقتی ضرورت تھی جس کو ہمیشہ باقی نہیں رہتا تھا کیونکہ مہاجرین جب نئے نئے آباد ہوئے اس وقت تو ان کی اہمیت سب دوسرے لوگوں سے اولیت رکھتی تھی لیکن وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ ضروری نہیں تھا کہ مہاجرین فقرا ہی رہیں بلکہ یہ لوگ انصار سے بھی زیادہ مالدار ہو سکتے تھے اور ہوئے۔ فے کا قانون تو ابدی قانون تھا نہ کہ وقتی پھر چونکہ مہاجرین و انصار کی تقسیم ایک طرح کی قدرتی تقسیم بھی تھی جس کو بطور نام باقی رہتا تھا اس لیے مہاجرین کے ساتھ ( الفقراء) کی قید بھی بڑھا دی گئی تاکہ اس تقسیم کے بعد جو قدرتی اور فطرتی ہے ان لوگوں کی پہچان ( الفقراء) کے نام سے یاد رہے جو عام غریبوں ، مسکینوں اور یتیموں سے بھی زائد ہے کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنا گھر بار اور زمینیں اور باغات بلکہ سب کچھ ہی چھوڑ چھاڑ کر نکل آئے تھے اور ان کو اس نئے ماحول میں فٹ (Fit) ہونے کے لیے زیادہ وقت درکار تھا اس لیے ان کی ضروریات کا زیادہ خیال رکھنا ایک فطری امر تھا پھر یہ لوگ نبی کریم ﷺ کے قریبیوں میں بھی داخل تھے اگرچہ ان میں بھی الا قرب فالاقرب کا قانون جاری وساری تھا۔ اس طرح گویا ان لوگوں کا آپ ﷺ پر دوہرا حق تھا ایک فقیر ہونے کا اور دوسرا مہاجر ہونے کا ۔ اوپر ہم نے ذکر کیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی رضا کے لیے اپنے گھر بار چھوڑے تھے اور ظاہر ہے کہ ان کے گھر بار چھوڑنے کی صورت کیا تھی ؟ وہ یہی تھی کہ ان کو گھروں سے نکل جانے پر مکہ کے لوگوں نے مجبور کردیا تھا لیکن کس پاداش میں ؟ اس عوض میں کہ وہ محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کی تعریف میں جگہ جگہ ارشاد فرمایا ہے اور زیر نظر آیت میں بھی ان کی تعریف میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رضا کی تلاش میں اپنے گھروں اور مال و منال سے جدا کرا دیئے گئے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول محمد رسول ﷺ کی مدد کرتے ہیں اور لاریب یہ لوگ سچے اور پکے مسلمان ہیں “۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ غور کیجئے اور پھر سوچنے کہ کیا یہ وہی لوگ نہیں ہیں جنہوں نے نبی اعظم و آخر ﷺ سے قبل مکہ سے ہجرت کی اور آپ ﷺ کے ساتھ مہاجر ہوئے اور آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی خاطر اپنی ہرچیز کو چھوٹ کر آپ ﷺ سے آ ملے ، کون ہے جو اس کی تردید کرے ؟ پھر ان سب کو باقی مسلمانوں سے الگ کر کے ان کی تعریف اللہ تعالیٰ خود بیان کرے اور قرآن کریم جیسی ابدی تعلیم کے اندر ان کے کردار اور اخلاق کا سرٹیفکیٹ (Certificate) عطا فرما دے اور آج کچھ لوگ ان کے ایمان کی جانچ پڑتال شروع کردیں اور اس کے باوجود وہ مسلمان بھی کہلائیں ۔ کیا ان کو ایمان والے کہنا ہی ایمان کی توہین نہیں تو اور کیا ہے ؟ ہمیں افسوس ہے کہ جن لوگوں کے ایمان کی شہادت خود اللہ رب ذوالجلال والاکرام دے ان کے ایمان کی جانچ کرنے والوں کو مسلمان کہا جائے تو اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے ؟ لیکن افسوس کے مسلمان کہلانے والوں نے اتنے بڑے ظلم کو بھی جائز اور روا رکھا اور ایمان والوں پر کفر کے فتوے صادر کیے لیکن ہمارے ایمان کا تقاضا بالکل اس کے برعکس ہے۔ ہم ایسے لوگوں کو قطعا ً مسلمان نہیں سمجھتے اور نہ ہی سمجھ سکتے ہیں کوئی ہم کو خواہ کچھ کہے اور کچھ سمجھے ہماری ایمانی غیرت کا تقاضا ہے کہ ہم ایسے لوگوں کو اسلام سے خارج سمجھیں اس لیے ہم نے اس کی وضاحت ان سخت الفاظ میں کردی ہے۔ زیر نظر آیت میں مہاجرین کی تعریف میں بیان تھا اور آنے والی آیت میں انصار کے مناقب بیان کیے جا رہے ہیں اور دونوں گروہوں کی ایمانی طاقت و قوت کا واضح بیان ہے۔ اللھم زدفزد۔
Ayah 59:9

وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 59:9 in the Quran reader

اور (یہ مال) ان لوگوں کا بھی ہے جو (مدینہ میں) پہلے سے موجود ہیں اور ایمان میں ثابت قدم ہیں جو شخص ان کے پاس ہجرت کر کے آتا ہے اس سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ مہاجرین کو ملتا ہے اس سے ان کے دل میں کوئی خلش نہیں ہوتی اور ان کو اپنی ذات پر مقدم رکھتے ہیں اور اگرچہ خود ان کو شدید ضروت ہو اور جس کو اس کے نفس کی حرص سے محفوظ رکھا گیا تو وہی لوگ مراد پانے والے ہیں

انصار مدینہ کی تعریف رب ذوالجلال والاکرام کے کلام میں 9 ؎” اور یہ حال ان لوگوں کا بھی ہے جو مدینہ میں پہلے سے موجود ہیں “ ہجرت مدینہ سے پہلے وہی لوگ مدینہ میں موجود تھے جو بیعت عقبہ اولیٰ اور ثانی میں شامل تھے اور انہوں نے نبی اعظم و آخر ﷺ کو اپنے ہاں آنے کی دعوت دی تھی اور آپ ﷺ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم آپ ﷺ کی اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کی اس طرح حفاظت کریں جس طرح ہم اپنے بال بچوں اور اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہیں اور اسلام کے نام پر کٹ مرنے کے لیے ہر وقت تیار رہیں گے۔ قرآن کریم کی زبان میں ان کو انصار کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور ان کے ایمان اور ایمان میں ثابت قدمی کی شہادت دی گئی ہے اور فرمایا جا رہا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب بھی کوئی ان کے پاس ہجرت کر کے آتا ہے تو وہ اس سے محبت کرتے ہیں اور ان کے دلی لگائوں کا یہ حال ہے کہ جب مہاجرین کی مدد کی جاتی ہے تو وہ اس سے اتنے خوش ہوتے ہیں کہ شاید ان کو مال پیش کیا جائے تو وہ اس مال کو دیکھ کر اتنا خوش نہ ہوں جتنے خوش وہ اپنے بھائی مہاجرین کو دینے سے خوش ہوئے۔ سبحان اللہ کیا ایمان ہے ان لوگوں کا جب کی تعریف میں اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا کہ (ولا یجدونفی صدور ھم حاجۃ مما اوتو) ” جو کچھ مہاجرین کو ملتا ہے اس سے ان کے دلوں میں کوئی خلش نہیں ہوتی “ اور مزید ارشاد فرمایا کہ اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ ان کو مال و دولت کی کوئی حاجت ہی نہیں ہے گویا ان کے پاس مال و دولت کے ڈھیر موجود ہیں ۔ فرمایا نہیں ایسی بات نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ( ویوترون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ) ” حالانکہ ان کو مال و دولت کی شدید ضرورت بھی ہے لیکن اس کے باوجود وہ اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں “۔ تاریخ و روایات کی شہادتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بنی نضیر کے اموال نبی اعظم و آخر ﷺ کے قبضہ و تصرف میں آگئے تو آپ ﷺ نے ایک صحابی ؓ کو جن کا نام ثابت بن قیس بن شماس ؓ بتایا جاتا ہے بلایا اور فرمایا اے ثابت ! اپنی قوم کے لوگوں کو بلا لائو۔ انہوں نے عرض کی کیا اپنے قبیلہ کے لوگوں کو یعنی خزرج کو بلا لائوں یا سارے انصار کو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا سب انصار کو خواہ وہ اوس سے ہوں یا خزرج سے۔ آپ ﷺ کے حکم کے مطابق انہوں نے انصار کو پیغام پہنچایا تو سب اوس و خزرج حاضر ہوگئے تو نبی اعظم و آخر ﷺ نے ان کی موجودگی میں خطبہ ارشاد فرمایا اور حسب معمول اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنابیان کی پھر سارے انصار کی قربانیوں کا مجموعی طور پر ذکر فرمایا جو انہوں نے اسلام اور مہاجرین کے لیے دیں اور اس کے بعد فرمایا کہ اے انصار ! اگر تم چاہو تو تمہارے اموال اور یہ فے کے اموال سب اکٹھے جمع کردیئے جائیں پھر ان سب کو تم سب انصار و مہاجرین کے درمیان تقسیم کردیا جائے اور اگر تمہاری مرضی ہو تو تمہارے مکانات اور زمینیں جو تم نے بخوشی اپنے مہاجرین بھائیوں کو دی ہیں سب تم کو واپس کردی جائیں اور بنو نضیر کے اموال کو مہاجرین کے درمیان تقسیم کردیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ کی بات سن کر اس وقت اسی محفل سے سعد بن زرارہ اور سعد بن معاذ ؓ نے عرض کی یا رسول اللہ ! ﷺ ہماری خواہش تو یہ ہے کہ ہمارے مال جو ہم نے اپنے بھائیوں یعنی مہاجرین کو دیئے ہیں ان کے پاس ہی رہنے دیں اور بنی نضیر کے اموال یعنی مال فے سب کا سب مہاجرین میں تقسیم کردیں ۔ یہ دونوں صحابی اپنے اپنے قبیلوں کے سردار تھے جب انہوں نے نبی اعظم و آخر ﷺ کے سوال کا جواب دیا اور بہت خوب دیا تو ان کے قبائل کی طرف سے تائید کے طور پر آوازیں بلند ہوئیں کہ رضینا و سلمنایا رسول اللہ ﷺ جو کچھ ہمارے سرداروں نے عرض کی ہم سب کو قبول و منظور ہے۔ ہم اس پر دل و جان سے خوش ہیں ۔ اس ایثار کو دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا اور زبان اقدس سے دعا فرمائی۔ (اللھم ارحم للانصار) ” اے اللہ ! دین کے ان بےلوث خدمت گزاروں پر اپنی خصوصی رحمت فرما۔ آپ ﷺ نے انصار سے جو مہاجرین کو ملا تھا اس کو مہاجرین کی دلی خوشی و مسرت کی خاطر واپس دلا دیا اور کل اموال بنونضیر مہاجرین میں تقسم کردیئے لیکن انصار میں سے بھی تین آدمیوں کو کچھ حصہ عطا فرمایا کہ یہ لوگ انصار میں سے بہت زیادہ سفید پوش تھے۔ غور کرو کہ جس تحسین کے مستحق مہاجرین قرار دیئے گئے تھے اسی تحسین کے مستحق انصار ٹھہرے اور دونوں کے حسن اخلاق اور کردار کی شہادتوں میں قرآن کریم جیسی ابدی کتاب قلمبند کردی گئی جن کو آج تک پڑھا جاتا رہا اور قیامت تک پڑھا جاتے رہے گا ۔ آج تک ان کے ایمان کی شہادت دی جاتی رہی اور قیامت تک دی جاتی رہے گی اور اس طرح ان سب کو جو اللہ رب کریم کی طرف سے سرٹیفکیٹ (Certificate) عطا کیا گیا ہے وہ اس طرح ہے کہ ( ومن یوق شح نفسہ فاولئک ھم المفلحون) ” جس کو اس کے نفس کی حرص سے محفوظ رکھا گیا تو وہی لوگ کامیاب و کامران ہونے والے ہیں “ لا ریب ان سب لوگوں نے اپنے نفسوں کو حرص سے محفوظ رکھا جیسا کہ پیچھے آپ پڑھ چکے اور لاریب یہی وہ لوگ ہیں جن کو کامیابی و کا مرانی کا سرٹیفکیٹ (Certificate) ان کی اس دنیاوی زندگی میں عطا فرما دیا گیا ۔ رضی اللہ عنھم ورضواعنہ (شح) کے معنی نحل کے ہیں اور اس کی وضاحت دیکھنا مطلوب ہو تو عروۃ الوثقیٰ ، جلد دوم سورة النساء کی آیت 128 جلد ششم سورة الاحزاب کی آیت 19 کی تفسیر کو دیکھیں۔
Ayah 59:10

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 59:10 in the Quran reader

اور (یہ مال) ان لوگوں کے لیے بھی ہے جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے یہ ان کے لیے دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو بھی جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کی طرف سے کوئی کینہ باقی نہ رہنے دے ، اے ہمارے رب بیشک تو بڑا ہی شفیق ہے بہت ہی پیار کرنے والا ہے

تابعین کرام (رح) اور قیامت تک آنے والے نیک لوگوں کے اخلاق و کردار کا ذکر 10 ؎ گزشتہ دو آیتوں میں صحابہ کرام ؓ کا ذکر خیر اور مناقب بیان کیے گئے آیت 8 میں مہاجرین کا اور آیت 9 میں انصارکا ذکر خیر تھا۔ زیر نظر آیت میں صحابہ کرام ؓ کے بعد آنے والے یعنی تابعین (رح) اور قیامت تک آنے والے نیک لوگوں کے اخلاق و کردار کو بیان کیا گیا ہے فرمایا جو ان مہاجرین و انصار صحابہ کرام ؓ کے بعد آئے اور قیامت تک آتے رہیں گے ان کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور اپنے سے پہلے گزرنے والے صحابہ کرام ؓ کے حق میں دعائے خیر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہیں اور ان کا تذکار پڑھ کر ان میں سے کسی ایک کو بھی اپنی تنقید کا نشانہ نہیں بناتے بلکہ ان کے لے اپنے اپنے دلوں کی زمین کو صاف ستھرا رکھنے کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ! ہمارے پروردگار ! ہم کو بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دلوں میں ان کے بارے میں کسی طرح کا کوئی کینہ باقی نہ رہنے دے۔ اے ہمارے رب ! لاریب تو بڑا ہی شفیق ہے اور بہت ہی پیار کرنے والا ہے۔ زیر نظر آیت کو بار بار پڑھو اور کم از کم ایک بار پڑھ کر آگے نہ نکل جائو کیونکہ اس آیت میں ہر قاری کی اپنی حالت کا ذکر بھی پایا جاتا ہے اور یہ ایمان کے لیے ایسی کسوٹی ہے کہ اس پر اپنا ایمان پیش کرتے ہی اپنے ایمان کے کھرے یا کھوٹے ہونے کا سارا راز کھل جاتا ہے خواہ وہ کوئی ہے ، کون ہے اور کیسا ہے ؟ پھر یہ آیت کتنے واضح اور کھلے الفاظ میں کہہ رہی ہے کہ جو لوگ صحابہ کرام ؓ کے متعلق خواہ ان صحابہ کا تعلق مہاجرین سے ہو خواہ انصار سے اگر وہ اپنے دلوں میں ان کے متعلق ذرا بھر بھی کینہ اور بغض رکھتے ہیں تو ان کا ایمان بالکل کھوٹا ہے جو یقینا قابل نہیں ہے اور جن کے دلوں میں صحابہ کرام ؓ کی عزت و احترام اور ان کے اچھے انجام کا پختہ یقین ہے لیکن ادھر ادھر سے کچھ سننے کے باوجود بھی وہ ان میں سے کسی ایک سے بھی الرجک نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ سے اپنے ایمان کی سلامتی طلب کرتے ہیں اور سب گزشتہ نیک لوگوں کے حق میں اپنے دلوں کی زمین کو صاف رکھنے کی دعائیں کرتے ہی بلا شبہ اللہ تعالیٰ ان کا حامی و ناصر ہے اور یقینا ان سے محبت رکھتا ہے اور اس کے فضل و کرم کی اور عنایات بےپایاں کی یقین دہانی ان کو کراتا ہے جس سے ان کے دلوں کی مزید صفائی ہوجاتی ہے ۔ اللہ کے ان بندوں کی دعائوں کی قبولیت کا ذکر عروۃ الوثقیٰ ، جلد سوم سورة الاعراف کی آیت 43 میں اور جلد پنجم اور سورة الحجر کی آیت 47 میں گزر چکا ہے۔ غور کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان گزشتہ نیک لوگوں کے حق میں دعائے خیر و برکت کا جو ذکر فرمایا ہے اس کے ساتھ کسی اہتمام اور مخصوص طریقہ کی طرف بھی کوئی اشارہ فرمایا ہے ؟ اگر نہیں اور فی الواقع نہیں تو پھر ہمارے ہاں دعائوں کے لیے یہ مخصوص طریقے جن میں اہتمام خاص کیا گیا ہو اور خصوصاً کھانے پینے کی اشیاء کو اور پہننے کے ملبوسات کو سامنے رکھ کر ان پر ختم پڑھنے اور ان ساری اشیاء کو اٹھا کر ملا جی کے گھر میں پہنچانے کا جو رواج نکل آیا ہے اس کی اصل کیا ہے ؟ مزید تفصیل کے لیے عروۃ الوثقیٰ جلد ہفتم میں سورة القمان کی آیت 33 کی تفسیر دیکھیں۔ ستیا ناس اس گروہ بندی کا کہ بڑے بڑے سمجھدار اور عقل و فکر رکھنے والے لوگ اپنے مکتب فکر کی ترجمانی کے لیے اتنے اتنے رقیق اور کمزور خیالات کا اظہار کردیتے ہیں کہ ان لوگوں کی شخصیت کے پیش نظر اس خیال کی رقاقت اور کمزوری کی طرف کسی کا خیال نہیں جاتا بلکہ اس کو بطور سند بیان کیا جاتا ہے۔ زیر نظر آیت مضمون سے اس طرح کے ایک رقیق اور کمزور خیال کا ذکر پیر کرم شاہ صاحب (رح) نے اپنی تفسیر ضیاء القرآن میں کردیا ہے اور ظاہر ہے کہ ضیاء کا قاری ان کی شخصیت سے مرعوب ہو کر اس کو اپنے لیے ایک پختہ دلیل تصور کرسکتا ہے ، چناچہ پیر صاحب (رح) رقم طراز ہیں کہ ” یہ بعد میں آنے والے جنہیں اموال فے کا حقدار بنایا گیا ہے ، ان اموال کے حصول میں ان لوگوں کا کوئی عمل دخل نہ تھا یہ مہاجرین اور انصار کی قربانیوں کا پھل کھا رہے ہیں ۔ اس لیے ان کا فرض ہے کہ ان کو اپنی نیک دعائوں میں یاد رکھیں “۔ پیر صاحب نے اس آیت سے کھانے ، کھلانے کا جواب اپنے مکتب فکر کو مہیا فرما دیا ہے اور اب ان کے وارے نیارے ہیں کہ اس کی سند ان کو قرآن کریم سے مہیا ہوگئی ہے۔ لیکن غور کرو کہ کہاں ایمان بالآخرت اور کہاں کھانے کھلانے کا یہ عمل ؟ ان دونوں کا کوئی جوڑ بھی آپس میں جڑتا نظر آتا ہے گویا بعد میں آنے والے نیک لوگوں کے ایمان بالآخرت کی جو صورت قرآن کریم نے بتائی تھی اس کو نہایت ہوشیاری کے ساتھ بزرگوں کی ماری کھانے والوں کی حمایت کے لیے سند جواز بنا دیا گیا ہے۔ ہم اس طرح کے اشارات محض اس لیے کرتے ہیں کہ ایسے مقامات کسی کی ٹھوکر کا باعث نہ بن جائیں ۔ اس کو کسی بغض و کینہ پر محمول نہ کیا جائے ، ہم تو اس بغض و کینہ سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
Ayah 59:11

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 59:11 in the Quran reader

کیا آپ نے ان منافقوں کو نہیں دیکھا جو اہل کتاب میں سے اپنے کافر بھائیوں سے کہتے ہیں کہ اگر تم کو (مدینہ سے) نکال دیا گیا تو ہم بھی تمہارے ساتھ ہی نکلیں گے اور (ہر طرح تمہارا ساتھ دیں گے) تمہارے معاملہ میں کبھی کسی کا کہنا نہ مانیں گے اور اگر تم سے لڑائی ہوئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے اور اللہ گواہ ہے کہ وہ جھوٹے ہیں

ایمان والوں کے رویے کے بعد منافقین کے رویہ کا ذکر کیا جا رہا ہے 11 ؎ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ مدینہ میں جہاں خلوص نیت کے ساتھ ایمان لانے والے صحابہ کرام ؓ موجود تھے وہاں کچھ لوگ خاص مصلحت کے تحت اسلام قبول کرنے والے بھی موجود تھے جن کے دلوں میں اسلام نے جگہ نہیں پائی تھی وہ دنیوی مصلحت کے تحت اسلام میں داخل ہوئے تھے اور اسی مصلحت کے تحت وہ داخل رہے جن کے متعلق قرآن کریم بار بار منافق کا لفظ استعمال کرتا ہے اور ان کی نشاندہی کرتارہا ، ان کے عادات و خصائل سے بحث کرتا ہے ، ان کو کافروں سے بھی برا قرار دیتا ہے ، ان کے اسلام لانے کو جھوٹ موٹ قرار دیتا ہے لیکن چونکہ وہ سچے اور پکے ایمان لانے والوں کی ایک طرح کی پرکھ تھے اس لیے ان کی ظاہری حالت کے ساتھ ان کی باطنی حالت کو بھی بیان کرتا جاتا ہے ۔ زیر نظر آیت میں بھی (نافقوا) کے لفظ سے ان کو موسوم کیا گیا ہے یعنی وہ منافقین جو خاص مصلحتوں کے تحت اسلام میں داخل ہوئے تھے انہوں نے چونکہ یہود سے دوستی کی پینگیں چڑھا رکھی تھیں اور ان کے ساتھ ان کا بیٹھنا اٹھنا بدستور جاری تھا اور ایک دوسرے سے خفیہ طور پر بات چیت کرتے تھے ، ان کو تسلی دیتے رہے کہ فکر نہ کرو اپنی جگہ پر ڈٹے رہو اگر آپ لوگوں کو یہاں سے نکلنا ہی پڑا تو ہم بھی تمہارے ساتھ ہی ہوں گے۔ ان کا تکیہ کلام دیکھو کہ وہ کس رخنہ اندازی سے بات کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام اور آپ ﷺ کے ساتھی مسلمانوں کے متعلق اہل یہود کے کافروں سے بات کرتے ہیں اور بات بھی نہایت وضاحت کے ساتھ کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان میں سے کسی کا نام تک نہیں لیتے اور ان کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہتے ہیں کہ ولا نطیع فئکم احداً ابدًا ہم تمہارے بارے میں کوئی بات ہرگز نہیں مانیں گے۔ (قوتلتم) جمع مذکر حاضر ماضی مجہول مقاتلۃ مصدر باب مفاعلہ ” تم سے لڑائی لڑی گئی “ ( وان قوتلتم) اور اگر تم سے لڑائی لڑی گئی۔ یہ بات وہ نام کے مسلمان ، اہل کتاب کے کفار یعنی یہود سے کہہ رہے ہیں کہ اگر تم سے لڑائی لڑی گئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے اور تم ہم کو اپنے ساتھ پائو گے۔ ان کی اس تسلی دلانے کے بعد ان کے کردار کی ترجمانی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا جا رہا ہے یہ ان کی زبانوں کی بڑھکیں ہیں جو وہ ایمان کے پکے اور سچے مسلمانوں کو خوفزدہ کرنے کے لیے مار رہے ہیں حالانکہ ان کی ان بڑھکوں میں کچھ بھی وزن نہیں ہے۔ یہ لوگ جس طرح طرح ایمان کے کچے ہیں اسی طرح بیان کے بھی کچے ہیں ، جب وقت آئے گا تو یہ کبھی ظاہر نہیں ہوں گے۔ یہ لوگ زیادہ سے زیادہ کچھ کریں گے تو یہی کریں گے کہ مسلمانوں کا ساتھ دینے کے لیے ساتھ نہیں چلیں گے اور خفیہ سازشیں کرتے رہیں گے اس سے زیادہ و کچھ نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ گواہ ہے کہ یہ لوگ ایمان کے دعویٰ میں بالکل جھوٹے ہیں ۔ ان کی صورت حال جب بھی واضح ہوگی تو یہ ( لا الی ھولاء ولا الیٰ ھولاء) نہ ادھر ہوں گے اور نہ ادھر کے ، کیونکہ یہ بات ان کی گھٹی میں داخل ہوچکی ہے۔
Ayah 59:12

لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 59:12 in the Quran reader

اگر وہ نکالے جائیں گے تو یہ ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور اگر ان سے لڑائی ہوئی تو یہ ان کی مدد بھی نہ کریں گے اور اگر مدد کریں بھی تو پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلیں گے پھر ان کو (کہیں سے) مدد نہ ملے گی

منافقین کے قول کی تردید اور پہلی پیش گوئی جو من و عن پوری ہوئی 12 ؎ گزشتہ آیت میں بتایا گیا ہے کہ جب نبی اعظم و آخر ﷺ نے بنو نضیر کو یہاں سے نکل جانے کا حکم صادر فرمایا تو بنو نضیر نے اپنے بھائیوں سے جو برائے نام اسلام کا دعویٰ کرتے تھے رابطہ کیا تو انہوں نے ان کو ڈھارس بندھائی کہ تم اپنی جگہ پر قائم رہو اگر تم کو وہاں سے نکلنا ہی پڑا تو ہم تمہارے ساتھ ہوں گے اور ہم ان لوگوں کی پیروی اس معاملہ میں ہرگز نہیں کریں گے اور اگر تم سے لڑائی لڑی گئی تو ہمارا ساتھ بھی تمہارے ساتھ ہی ہوگا ۔ جن منافقوں نے یہ بات کہی تھی ان کا جواب دیا جا رہا ہے اور قبل از وقت دیا جا رہا ہے تاکہ حق ثابت ہوجائے اور اس طرح نبی اعظم و آخر ﷺ اور مسلمانوں کی ڈھارس بندھائی گئی ہے کہ تم نے جو حکم دیا ہے اس پر مطمئن رہو اور منافقین کے پروپیگنڈے کی پروانہ کریں ۔ اگر بنو نضیر نکلیں گے تو یہ لوگ کبھی ان کا ساتھ نہیں دیں گے اور نہ ہی یہ اس جرأت کے مالک ہیں کہ ان کا کھلا ساتھ دے دیں اگر یہ لوگ اس جرأت و ہمت کے مالک ہوتے تو ان کو ایمان کا اعلان کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی جب کہ اسلام ان کے دلوں میں داخل نہیں ہوا تھا اور اگر بنو نضیر سے تمہاری لڑائی چھڑ گئی تو یہ لوگ کبھی بنو نضیر کا ساتھ بھی نہیں دیں گے کیونکہ کھل کر سامنے آنے کی ان کے اندر جرأت بالکل نہیں ہے اور اگر خفیہ طور پر ان کی مدد کریں گے بھی تو ان کو پیٹھیں پھیرتے ذرا دیر نہیں لگے گی۔ ہم پیچھے مختصر اشارہ کرچکے ہیں کہ جب نبی اعظم و آخر ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ آئے تھے تو یہود کے تین قبیلے مدینہ اور اس کے مضافات میں رہ رہے تھے ۔ مدینہ کے اندر رہنے والوں کو بنو قنیقاع کہا جاتا تھا اور دوسرا قبیلہ بنو نضیر کا تھا اور تیسرا قبیلہ بنو قریظہ کا اور ان تینوں قبائل کے آپس میں بھی اختلافات موجود تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی رکھتے تھے۔ آپ ﷺ نے مدینہ جاتے ہی جہاں دوسرے گروہوں سے معاہدے کیے ان تینوں گروہوں سے بھی معاہدے کیے تھے لیکن بنی قنیقاع نے تو بہت جلد ہی معاہدہ کی خلاف ورزی کی اور وہ حدیبیہ سے پہلے ہی اپنے انجام کو پہنچ گئے تھے ۔ بنی نضیر کا ذکر اس جگہ زیر نظر آیات میں کیا جا رہا ہے اور بنو قریظہ کا معاملہ احزاب کے بعد طے ہوا ۔ بہر حال اس جگہ جو ذکر کیا جا رہا ہے اس ذکر کو بعض مفسرین نے بنی قریظہ کے ساتھ جوڑا ہے حالانکہ یہ بات صحیح نہیں ہے بلکہ ان آیات میں منافقین کی جس حرکت کی نشاندہی کی جا رہی ہے یہ حرکت انہوں نے بنی نضیر کو الٹی میٹم (Ultimatum) دینے کے وقت ہی خفیہ طور پر کی تھی اور اسی دوران ان کو بطور پیش گوئی اللہ تعالیٰ نے تردید کردی کہ یہ لوگ کبھی ایسا نہیں کرسکیں گے کہ جو گرجتے ہیں وہ بہت ہی کم برستے ہیں ۔ آپ لوگ ان منافقین کی بڑھکوں میں نہ آئیں اور پورا اطمینان رکھیں ، ان لوگوں نے تین باتیں کی ہیں اور یہ لوگ ان تینوں ہی باتوں میں جھوٹے ہیں ۔ دراصل یہ لوگ محض یہود کے قبیلہ بنو نضیر کو شہ دلانا چاہتے ہیں اس کے سوا ان لوگوں میں اتنی طاقت نہیں کہ کھل کر آپ لوگوں کے سامنے آئیں اور بحمد اللہ یہ پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی ۔ بنی نضیر کے محاصرہ کے لیے جب لشکر اسلام میدان کارزار میں اترا اور چھ دنوں تک یہ لوگ کسی طرح کا کوئی رابطہ بنو نضیر سے نہ کرسکے تو انہوں نے چار و نچار آپ کے آرڈر کی توثیق کردی اور اجازت چاہی کہ آپ ﷺ ہم لوگوں کو یہاں سے نکل جانے کی اجازت دے دیں اور جتنا سامان اپنے اونٹوں پر لاد کرلے جاسکتے ہیں وہ لے جائیں اور باقی سب کچھ آپ ﷺ کے حوالہ کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ پھر وہ اس مدت کے اندر اندر نکل گئے اور منافقین کا ایک فرد بھی ان کے ساتھ نہ نکلا اور نہ ہی کوئی ان کی خبر گیری کے لیے سامنے آیا ۔ بنو نضیر نکل گئے اور پھر وہ وقت بھی آیا جب بنو قریظہ کی بدعدیوں نے زور پکڑا اور وہ بھی اپنے انجام کو پہنچائے گئے لیکن اس کی وضاحت ہم نے عروۃ الوثقیٰ جلد ہفتم میں سورة الاحزاب کی آیت 26 کی تفسیر میں کردی ہے وہاں ملاحظہ کریں۔
Ayah 59:13

لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 59:13 in the Quran reader

ان کے دلوں میں اللہ سے زیادہ تمہارا ڈر ہے یہ اس لیے کہ یہ لوگ سمجھ بوجھ نہیں رکھتے

بنو نضیر کے دلوں میں مسلمانوں کے خوف و ہراس کی وضاحت 13 ؎ گزشتہ آیت میں بنو نضیر کے معاملہ میں منافقین نے جو خفیہ سازش کی تھی اس کو بےنقاب کیا گا اور قبل از وقت اس کی نشاندہی کردی گئی تھی اور زیر نظر آیت میں براہ راست بنو نضیر کے متعلق پیش گوئی بیان فرمائی جا رہی ہے کہ بنو نضیر جنہوں نے معاہدہ کی خلاف ورزی کی اور ان کو اس کی پاداش میں یہاں سے نکل جانے کا حکم آپ ﷺ نے صادر فرمایا اس حکم کے فوراً بعد بعض لوگوں کے اندر ایک طرح کا خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگوں میں سے وہ لوگ جو کچے ایمان کے تھے اور وہ جو منافق تھے انہوں نے طرح طرح کے تبصرے شروع کردیئے کہ ابھی حالات اس کے متحمل نہیں تھے ، اس معاملہ میں بہت جلد بازی سے کام لیا گیا اور ظاہر ہے کہ پروپیگنڈا کے اثرات بہت مہلک ثابت ہو سکتے ہیں اور بڑے بڑے سمجھدار لوگ اس کے سامنے سر تسلیم خم کردیتے ہیں اس لیے فوراً ان کی تردید کی گئی اور ایمان والوں کے حوصلے بلند کردیئے گئے ۔ فرمایا تم لوگ اچھی طرح یاد رکھو کہ بنو نضیر تم سے کبھی بھی مل کر اور ایک جسم و جان ہو کر نہیں لڑ سکتے اور نہ ہی وہ اس طرح لڑیں گے۔ ( لا انتم) میں الف زائد ہے جس کا تعقل محض رسم خط سے ہے۔ فرمایا بنو نضیر یہود سے تعلق رکھتے ہیں ان کے متعلق ایک بات خوب یاد رکھو کہ ان کے دلوں میں تم مسلمانوں کا جو خوف و ڈر سمایا ہے وہ اللہ کے ڈر سے بھی زیادہ ہے۔ یہ لوگ تو مسلمانوں کا نام سنتے ہیں تو کانپ جاتے ہیں ، اللہ کے خوف سے تو ان کے دل خالی ہیں لیکن مسلمانوں کی ہیبت اور رعب ان کے دلوں پر اس طرح چھایا ہے کہ ان میں تمہارے خلاف میدان جنگ میں اترنے کی کبھی جرأت نہیں ہو سکتی ۔ ویسے بھی جو دوسروں کو لڑا کر ان کی لڑائی دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں اگر ان پر ایسا وقت آجائے تو وہ کبھی دکھائی نہیں دیتے اور مذہب و ملت کے بارے میں یہ اتنی سمجھ بوجھ نہیں رکھتے ان کا کام فقط مال و دولت کے ڈھیر اکٹھے کرنا ہے اور یہ لوگ اس میں لگے رہتے ہیں ۔ کنجری مر سکتی ہے لیکن مشقت نہیں کرسکتی۔
Ayah 59:14

لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 59:14 in the Quran reader

یہ سب مل کر بھی (اے پیغمبر اسلام ! ) تم سے نہ لڑیں گے مگر ایسی بستیوں میں جن کے گرد فصیل ہو یا دیواروں کی آڑ میں ، ان کی لڑائی تو آپس میں ہی بہت سخت ہوتی ہے تو ان کو متحد سمجھتا ہے لیکن ان کے دل الگ الگ ہیں ، یہ اس لیے کہ یہ نافہم و ناسمجھ لوگ ہیں

بنی نضیر ہوں یا دوسرے یہودی قبائل اسلام کے خلاف وہ کھل کر میدان میں نہیں آئیں گے 14 ؎ بطور پیش گوئی بیان کیا جا رہا ہے کہ یہود کی حالت کا تقاضا ہے کہ وہ تمہارے مقابلے میں کبھی میدان جنگ میں نہیں اتریں گے ۔ اگر جنگ کی صورت حال پیدا بھی ہوئی تو وہ بستیوں میں اور قلعوں میں بند ہو کر لڑیں گے یا دیواروں کے پیچھے چھپ کر جہاں سے وہ تم کو نشانہ بنانے کی کوشش کریں تو کریں کھل کر مقابلہ کی ہمت ان میں ممکن ہی نہیں اور اس طرح کی ہمت دنیا پرستوں میں آ بھی کب سکتی ہے ۔ اس طرح کی جرأت ہمیشہ حق سے پیدا ہوتی ہے حق جب باطل کے مقابلہ میں آتا ہے تو وہ کھل کر آتا ہے اور آسکتا ہے اور یہ پیش گوئی ایک بار نہیں قرآن کریم میں بار بار بیان کی گئی ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ جب یہود نے مسلمانوں کے ساتھ قسمت آزمائی کی تو براہ راست نہیں کی بلکہ ہمیشہ دوسروں کے سہارے وہ لڑے اور یہ پیش گوئی ابدل آباد زندہ جاوید ہے۔ اس سلسلہ کی دوسری پیش گوئی یہ ہے کہ دیکھنے والے ان کو دیکھتے ہیں کہ یہ آپس میں ایک جسم و جان ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی محض دوسروں کی کمزوری ہے کہ وہ ان کی ظاہری حالت کو دیکھ کر ان کو ایک سمجھ لیتے ہیں ، ان کے دل تو کبھی اکٹھے نہیں ہوتے ، قومی تفریق آج بھی ان میں دوسری اقوام کے مقابلہ میں زیادہ ہے اور ان کے دل کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے یہ ان کی ایسی کمزوری ہے جس سے مسلمانوں کو آگاہ کردیا گیا ہے۔ ان کی ظاہری حالت بھی محض اس لیے ہے کہ ان میں سے ہر ایک فرقہ اور گروہ یہ چاہتا ہے کہ اسلام کا چراغ گل ہوجائے اور مسلمان سمجھتے ہیں کہ شاید یہ لوگ اکٹھے ہی نہیں ھ اور ہرگز نہیں یہ لوگ نہ کبھی اکٹھے ہوئے اور نہ ہی اکٹھے ہوں گے۔ یہ سب نقلی شیر ہیں جنہوں نے محض شیر کی کھال پہن رکھی ہے۔ آپ ذرا قریب جا کر دیکھیں گے تو یقیناگدھے نکلیں گے۔ عقل و فکر نام کی کوئی چیز ان میں موجود ہی نہیں اور ان کی یہ حالت من حیث القوم ہے نہ کسی ایک آدھ نفس کی ۔ غور کرو کہ اگر مسلمانوں کا قرآن کریم پر کامل یقین ہو جیسا کہ یقین ہونا چاہئے تو اس سے زیادہ بڑی دلیری کی اور کیا صورت ہو سکتی ہے جو قرآن کریم نے بیان کردی ۔ ہم نے پیچھے بھی اشارہ کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں بھی یہود کے تین گروہ وہاں موجود تھے اگر ان میں قومی ہمدردی موجود ہوتی تو جب مسلمانوں کے ساتھ بنی قنیقاع کا آمنا سامنا ہوا تھا اس وقت مسلمانوں کے پاس کونسی طاقت موجود تھی اور تاریخ کی ورق گردانی کرنے والے جانتے ہیں کہ اس وقت مدینہ کے اندر باہر جتنے وسائل زندگی موجود تھے سب پر یہود چھائے ہوئے تھے اگر ان کے اندر قومی ہمدردی موجود ہوتی تو مسلمانوں کو وہ چھوڑتے ؟ لیکن ہوا یہ کہ بنی قنیقاع مدینہ سے نکل رہے تھے اور بنی نضیران پر بغلیں بجا رہے تھے اور یہی حالت بنی قریظہ کی تھی لیکن عقرب کی طرح نیش زنی چونکہ ان میں موجود تھی لہٰذا اس عادت سے وہ بھی باز نہیں آتے تھے اور نہ ہی باز آئے پھر جب بنی نضیر نے بد عہدی کی جس کی پاداش میں ان کو اپنی گڑھیاں اور باغات سارے ساز و سامان چھوڑ کر نکل جانا پڑا تو بنی قریظہ کی رگ بالکل نہ پھڑکی ۔ اس کے باوجود وہ نیش زنی سے باز نہ آئے تا آنکہ ان کے خروج کا وقت بھی آگیا۔ لا ریب یہودیوں نے اسلام کو بہت گزند پہنچائی لیکن میدان کار زار میں نہیں بلکہ منافقت کے ساتھ کہ بظاہر اسلام قبول کرلیا اور اسلام کے اندر داخل ہو کر اسلام میں فتنہ و فساد مچایا اور مسلمانوں کو گروہ بندیوں میں تقسیم کرنے کی کوشش کی اور یہی جنگ وہ جنگ ہے جس کو قرآن کریم کی پیش گوئی میں ( من وراء جدر ) اور (قری محصنۃ) کے الفاظ سے بیان کیا گیا ہے۔ اس موجودہ دور میں یہودیت کے بڈاوے نے جو صورت حال اختیار کر رکھی ہے وہ بھی محض ایک دکھاوا ہے جو عیسائیت کے بل پوتے پر قائم ہے۔ لیکن افسوس کہ مسلمان حکمرانوں نے اس حقیقت کو سمجھنے کی بہت کم کوشش کی ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے بد قسمتی سے یہودیت کا کردار سنبھال لیا ہے تو یہ مبالغہ نہیں ہوگا بلکہ حقیقت ہوگی۔
Ayah 59:15

كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ Open ayah 59:15 in the Quran reader

جیسے ان لوگوں کا حال ہوا جو ان سے پہلے اپنی بد اعمالیوں کا مزہ چکھ چکے اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

آج نہیں مدت سے یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ مخالفین رسل اپنے انجام کو پہنچے ہیں 15 ؎ یہ سنت اللہ کا بیان ہے کہ تم گزشتہ دعوتوں میں سے ایک ایک کا تجزیہ کرتے چلے جائو کہ تم کو یہ حقیقت ہر جگہ ملے گی کہ انبیاء کرام اور رسل عظام (رح) کے مخالفین کو انجام کار عذاب الٰہی نے آگھیرا اور ان کو تہس نہس کر کے رکھ دیا اور وہ اپنے کیے کے انجام کو پہنچ گئے اور آخرت میں بھی ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا عذاب تیارکھڑا ہے جو بہت ہی درد ناک عذاب ہے اور مسلمانوں نے اس وقت تک جب یہ آیات کریمات نازل ہو رہی تھیں قریش کی نخوت وتکبر کو اپنی آنکھوں سے پامال ہونے دیکھ لیا تھا اور اس کے بعد بنی قنیقاع کا جو حال ہوا وہ بھی ان سے پوشیدہ نہیں تھا اور اس وقت جو کچھ بنو نضیر کے ساتھ ہو رہا تھا اس کے وہ چشم دید گواہ تھے اور ازیں بعد بنو قریظہ کو جو پیش آیاوہ بھی انہوں نے دیکھا۔ کیا کوئی ایک بھی تاریخی مثال ایسی ملتی ہے جہاں یہود نے مسلمانوں کے مقابلہ میں آ کر میدان مبارزت جیتا ہو ؟ آپ تاریخ کو کنگھال جایئے ایک بھی مثال آپ ایسی نہیں پیش کرسکیں گے جہاں وہ بھی تم کو نظر آئیں گے۔ ان کی حالت وہی ہوگی جو اوپر دکھائی گئی اور موجودہ صورت حال میں بھی وہ بدستور اسی حالت کا مظاہرہ کر رہے ہیں ، مسلمان حکمرانوں کی آنکھیں کب کھلیں گی ؟ اس بات کو اللہ رب کریم ہی جانتا ہے لیکن ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جس کا آنا یقینی ہے۔
Ayah 59:16

كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 59:16 in the Quran reader

جیسے شیطان کا حال جو انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر پھر جب وہ کفر کرتا ہے تو کہتا ہے کہ میں تو تجھ سے بیزار ہوں میں تو اللہ سے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے ڈرتا ہوں

شیطان کے روپ کی مزید وضاحت تاکہ اس کی پہچان ہو سکے 16 ؎ شیطان جو انسان کا ابدی دشمن بھی ہے اور اس کے اندر موجود بھی کہ وہ انسان کے اندر القاء کرتا ہے اور اس کو کفر وشرک اور برائی پر آمادہ کرتا ہے اور بدستور اس کو سبز باغ دکھاتا رہتا ہے اور ایک کام کو اس کے سامنے مزین کردیتا ہے حالانکہ وہ کام سراسر گناہ اور زیادتی کا کام ہوتا ہے لیکن وہ اس کی آنکھوں میں اس طرح دھول جھونکتا ہے کہ اس کو کچھ نہیں سوجھتا اور ایک ان ہونے کام کو وہ کر گزرتا ہے اور جب وہ کرلیتا ہے اس وقت اس کی عقل درست ہوتی ہے اور پردہ اس کی آنکھوں سے ہٹ جاتا ہے تو وہی اس کے سامنے کھڑا ہو کر صاف انکار کردیتا ہے کہ یہ کام جس نے کیا ہے وہ میں کب ہوں ، وہ تو وہ انسان ہے میں تو اس سے بالکل بری الذمہ ہوں میں تو یہ فعل کرنے والے سے بھی بیزار ہوں اور اس فعل سے بھی کیونکہ مجھے تو اللہ رب العالمین کا خوف دامن گیر ہے اور ظاہر ہے کہ یہ بیان ان ہی لوگوں کا ہے جو شیطان کا یہ کردار ادا کرتے ہیں گویا یہ انسان کی اپنی جنس کا کمال ہے جس کا اس جگہ ایک خاص طریقہ سے ذکر کیا جا رہا ہے اور محض اس کی تفہیم کے لیے اس کی اپنی ہی ایک قوت کا مجسمہ بنا کر اس کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے اور اس کی مثالیں پیچھے بھی بیان کی گئی ہیں اگرچہ ہمارے مفسرین فی الواقع اس کو ایک خارجی چیز ہی سمجھتے آئے ہیں اور انہوں نے اس پر دہ کو درمیان سے بالکل ہٹنے نہیں دیا اور ان استعارات کے رنگ کو انہوں نے ہمیشہ حقیقت پر مبنی تصور کیا ہے حالانکہ اس جگہ میں یہ مثال یہود و منافقین کے سرداروں ہی کی بیان کی گئی ہے اور انہی کے کردار کا یہ ذکر ہے۔ مزید وضاحت دیکھنا ہو تو عروۃ الوثقیٰ جلد چہارم سورة الانفال کی آیت 48 کی تفسیر دیکھیں۔
Ayah 59:17

فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 59:17 in the Quran reader

پس ان دونوں کا انجام یہ ہوا کہ دونوں آتش دوزخ میں پڑے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی ظالموں کی سزا ہے

شیطان اور اس کے چیلوں کا انجام جو آخر کار ہونے والا ہے 17 ؎ جرم ہر حال میں جرم ہے اور جرم کا انجام کبھی بھی اچھا نہیں ہو سکتا ۔ پھر جس طرح جرم کرنا برائی ہے جرم پر آمادہ کرنا بھی برائی ہے اور برائی کا انجام کیا ہے ؟ دوزخ ہے۔ بس یہی بات زیر نظر آیت میں بیان کی جا رہی ہے کہ جرم کرنے اور جرم کرانے کا انجام ایک ہی جیسا ہے اگر جرم کرنے والا مجرم ہے تو یاد رکھو کہ جرم پر آمادہ کرنے والا بھی مجرم ہے دونوں کا انجام آگ ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور ظالموں کی یہی سزا اور بدلہ ہے اور قانون الٰہی میں طے ہے کہ برائی کا ازالہ صرف اور صرف یہ ہے کہ برائی کرنے والا اپنی زندگی میں معافی طلب کرلے اور اس طرح وہ اپنے اس گناہ کو معاف کرا لے اس کے علاوہ اس کا کوئی اور ازالہ نہیں ہے۔ ظلم کرنے والے ہمیشہ اپنے انجام کو پہنچتے رہے ہیں ، پہنچ رہے ہیں اور پہنچتے رہیں گے۔۔
Ayah 59:18

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 59:18 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص کو چاہیے کہ دیکھ لے کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو بلاشبہ اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو

ایمان والوں کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ ہوشیار ہو جائو ، اللہ تمہارے اعمال سے با خبر ہے 18 ؎ ایمان کا دعویٰ کرنے کے بعد اعمال کا درست ہونا بھی ضروری ہے۔ صرف دعویٰ ایمان کسی کام کی چیز نہیں ہے۔ پھر دعویٰ کرنے والوں میں کمزور کردار کے لوگ بھی ہوتے ہیں ، مضبوط اور اچھے کردار کے بھی ۔ ان سب کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ گزشتہ آیتوں میں یہود کی عہد شکنی و غداری کا حال تم لوگ پڑھ چکے ہو اور ان کی سزا بھی تم کو سنا دی گئی ہے تاکہ تم اس نامراد مرض سے بچ جائو اور اس طرح منافقین کی چالوں اور حالتوں سے تم کو اچھی طرح واقفیت حاصل ہوچکی ہے اور یہ سب کچھ اس لیے کہا سنا گیا ہے تاکہ تم ان بیماریوں سے بچ جائو اور تمہارے قدم نہ ڈگمگاجائیں ۔ آخری زندگی شروع ہونے والے ہے اور اس دنیاوی زندگی کا باب عنقریب بند ہونے والا ہے۔ آج کی خوشیوں میں اس طرح مصروف نہ ہو جائو کہ کل کے لیے کچھ تیار ہی نہ کر پائو ۔ ہوشیاررہو وہ کل عنقریب آنے والا ہے ، اللہ کے لیے تقویٰ اختیار کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہارے سارے اعمال سے اچھی طرح واقف ہے اور تمہاری کوئی حرکت بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔ اس دنیاوی زندگی کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو قانون مکافات تیار کیا ہے اس کا بھی خیال رکھو اور آخرت کو بھی مت بھولو کیونکہ یہ ایک ایسا خسارہ ہے جس کو کبھی بھی پورا نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 59:19

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 59:19 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی طرح مت ہوجاؤ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا پھر اللہ نے ان کو اپنی جانوں سے بیخبر کردیا یہی نافرمان لوگ ہیں

سنت اللہ یہی ہے کہ لوگ اللہ کو بھلا دیتے ہیں ، وہ ان لوگوں کو بھلا دیتا ہے 19 ؎ یاد رہے کہ جو شخص اللہ کو بھلا دیتا ہے دراصل وہ اپنے آپ کو بھلا دیتا ہے اور یہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی کہ میں نے اپنے آپ کو کس طرح بھلا دیا ہے اور حقیقت اس کی یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان کا پیدا ہونا محض اس مقصد کے لیے ہے کہ وہ اپنی حقیقت کو سمجھ کر اپنی آخرت کو سنوارنے کی فکر کرے اور جس شخص نے آخرت کی فکر نہ کی صرف اور صرف دنیا میں گم ہو کر رہ گیا اس نے یقینا وہ گھاٹا پایا جو کبھی پورا نہیں ہو سکے گا ۔ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی بھول سے پاک ہے ، اس جگہ بھلا دینا اس معنی میں ہے کہ جس معنی میں ہم اس کو استعمال کرتے ہیں کہ ہماری آپ کو کوئی پرواہ نہیں رہی اور ہماری طرف سے تم نے توجہ ہٹا لی اور ہماری کوئی قدر و قیمت آپ کے نزدیک نہیں رہی اس طرح ارشاد الٰہی ہے کہ تم لوگوں نے اپنے آپ کو دنیا میں اس طرح مصروف کرلیا ہے جیسا کہ آخرت سے بےپرواہ ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کو پس پشت ڈال دیا ہے یاد رکھو کہ عنقریب وہ دن آنے والا ہے کہ تم کو بھی پس پشت ڈال دیا جائے گا اور تمہاری کوئی پرواہ نہیں کی جائے گی خواہ تم کون ہو ، کہاں ہو اور کیسے ہو ؟ کیونکہ اللہ کے ہاں نہ تو حسب و نسب دیکھا جاتا ہے اور نہ ہی کسی کے مال و دولت اور عہدہ کا خیال رکھا جاتا ہے ۔ وہاں تو محض فرمانبرداری اور نافرمانی کو دیکھا جاتا ہے کہ کون اللہ کا فرمانبردار ہے اور کون ہے جس نے نافرمانی کی ہے اور دنیا میں مست ہو کر آخرت کو بھلا دیا ہے۔ انسانی زندگی کا مقصد محض چند روزہ عیش دنیا نہیں ہے بلکہ اچھے اعمال کر کے آخرت کو سنوارنا ہے جو لوگ محض دنیا میں گم ہو کر رہ گئے اور آخرت کی فکر نہ کی حقیقت میں یہی لوگ ہیں جو فاسق ہیں ۔ فاسق کس کو کہتے ہیں ؟ بدکردار جو راستی سے نکل جانے والا ہو۔ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والا ، بد چلن ، فسق کے لغوی مینن کھجور کا اپنے چھلکے کے اندر سے باہر نکل آنے کے ہیں۔ (قاموس) اصطلاح شریعت میں فسق کے معنی ہیں حدود شریعت سے نکل جانا ، گناہ کرنا ، کفر کرنا ، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے اس کے احکام سے نکل جانا ۔ دراصل فاسق خیر سے باہر نکل آتا ہے اور اس کو وہ نہیں سمجھتا۔ حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو فراموش کردینا ، اس کے احکام کی پرواہ نہ کرنا ہے اور جو اس کے احکام کی پرواہ نہیں کرتا لاریب وہ اپنے آپ کو فراموش کردیتا ہے گویا خدا فراموشی خود فراموشی ہے۔ وہ خود فراموشی کیوں ہے ؟ اس لیے کہ اسے اپنے نفع و نقصان کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا ۔ وہ جس چیز کو اپنے لیے مفید سمجھتا ہے وہ اس کے لیے مفید نہیں ہوتی کیونکہ اس کا مطع نظر محض دنیا ہوتی ہے جو ایک بالکل عارضی چیز ہے اور عارضی چیز پر فریفتہ ہونا عقل مندی اور سمجھداری کب ہے ؟ اگرچہ اکثریت اسی پر فریفتہ نظر آتی ہے۔