52. Surah At-Tur

الطورThe Mount · 49 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 52:30

اَمْ یَقُوْلُوْنَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ Open ayah 52:30 in the Quran reader

کیا یہ کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے ؟ ہم اس کے لیے گردش زمانہ کے منتظر ہیں

کیا وہ آپ کو شاعر کہتے ہیں اور آپ کے لیے گردش زمانہ کی انتظار میں ہیں ؟ 30: شاعر کیا ہے ؟ اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے جس کے معنی ہیں شعر کہنے والا۔ شعارۃ ، سے جس کے معنی شاعر ہونے کے ہیں اور شعر کے معنی معروف ہیں اور سب جانتے ہیں کہ بال کو کہتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں ہے ومن اصوافھا و اوبارھا و اشعارھا ، اور بھیڑوں کی اون سے اور اونٹوں کی بیریوں سے اور بکریوں کے بالوں سے اور ، کذا ، یعنی میں نے علم حاصل کیا جو باریکی میں ایسا ہے جیسے بال کا پتہ چلانا اور شاعر کو شاعر اس کی فطانت اور معرفت کی پہچان کی بنا پر کہا گیا ہے۔ پس شعر اصل میں علم دقیق کا نام ہے۔ عرب کا محاورہ ہے کہ لیت شعری ، کاش مجھے اس کا گہرا پتہ ہوتا ، اور عرف میں جو کلام موزوں اور مقفی ہو اس کا نام شعر ہے اور جو صفت شعر گوئی سے مخصوص ہو اس کا نام شاعر ہوگیا۔ قرآن کریم میں کفار کی زبانی مذکور ہے ، بل افتراہ بل ھو شاعر۔ نہیں جھوٹ باندھتا ہے ، نہیں شعر کہتا ہے ، اور ۔ لشاعر مجنون۔ ایک شاعر دیوانہ کے لیے۔ شاعر نتربص بہ ریب المنون۔ یہ شاعر ہے ہم منتظر ہیں اس پر گردش زمانہ کے ، بہت سے مفسرین نے تو اسے اس پر محمول کیا ہے کہ کفار نے نبی اعظم و آخر ﷺ پر الزام لگایا تھا کہ آپ نعوذ باللہ منظوم و مقفی شعر پیش کرتے ہیں حتی کہ انہوں نے قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی ایسے الفاظ آئے ہیں جن میں وزن کا شبہ ہوتا ہے جیسے ، وجفان کالجواب و قدور راسیت ، اور تبت یدا ابی لھب و تب۔ میں ان سب کی تاویل کی ہے اور بعض حقیقت شناسوں نے کہا ہے کہ اس الزام سے کافروں کا یہ مقصد تھا ہی نہیں کیونکہ کلام اللہ ظاہر ہے کہ وہ اسالیب شعر پر نہیں ہے اور یہ بات ایسی ہے کہ عجم کے غیر فصیح لوگوں پر بھی مخفی نہیں فضلا $ عرب کا تو ذکر ہی کیا بلکہ انہوں نے نعوذ باللہ آپ کو کذب سے منسوب کیا تھا کیونکہ شعر کی تعبیر کذب سے کی جاتی ہے اور شاعر بمعنی کاذب ہے حتی کہ ایک قوم نے تو ادلہ کاذبہ کا نام ہی ادلہ شعریہ رکھا ہے اور اس لیے حق تعالیٰ شانہ نے عام شعراء کا یہ وصف بیان فرمایا ہے : والشعراء یتبعہم الغاون۔ الم تر انھم فی کل واد یھیمون۔ وانھم یقولون ما لا یفعلون۔ اور شعراء کی پیروہ گمراہ لوگ ہی کرتے ہیں۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر میدان میں سر مارتے پھرتے ہیں اور وہ ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔ (اس کی تفسیر محولہ بالا آیت اور سورت سے دیکھیں جو عروۃ الوثقی کی چھٹی جلد میں ملے گی) اور اسی وجہ سے شعر کو جھوٹ کا ٹھکانا کہا گیا ہے۔ احسن الشعر اکذبہ لا احسن اومت کہ اکذب او۔ اور بعض حکماء کا کا بیان ہے کہ کوئی متدین اللھجہ شاعری میں نادرہ کار نہیں دیکھا گیا۔ بہرحال یہ بات امر واقع ہے کہ نبی اعظم و آخر ﷺ ترجمان حقیقت تھے شاعر نہ تھے ، نہ ہی شاعری آپ کے لیے زیبا تھی۔ پیغمبرانہ صداقت اور شاعرانہ تخیلات میں زمین و آسمان کا فرق ہے البتہ کسی موقع پر کسی شاعر کا شعر پڑھ دینا یا رجز کے وقت بےساختہ مقفی عبارت زبان مبارک سے نکل جان یہ ایک الگ بات ہے اسے شاعری نہیں کہتے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں تحریر کیا ہے کہ اس امر میں اختلاف کیا گیا ہے کہ نبی اعظم و آخر کے لیے کسی شعر کا بطور مثال بیان کرنا یا کسی دوسرے کا شعر بطور حکایت نقل کرنا روا تھا تو صحیح یہ ہے کہ ایسا کرنا آپ کے لیے جائز تھا۔ (ج اول ص 445 طبع مصر 348) علامہ احمد قسطلانی (رح) مواہب اللدنیہ میں رقم طراز ہیں کہ آیا شعر کی ممانعت صرف نبی اعظم و آخر کے لیے خاص تھی یا نوع انبیاء (علیہم السلام) کے لیے تھی۔ بعض علماء کا بیان ہے کہ یہ ممانعت عام تھی کیونکہ ارشاد ہے وما علمناہ الشعر وما ینبغی لہ۔ اور ہم نے اس کو شعر نہیں سکھایا اور نہ ہی شعر اس کے لائق تھا اور اس میں خصوصیت کی کوئی وجہ ظاہر نہیں ہے۔ (اس کی تفسیر سورة یس سے ملاحظہ کریں اور سورة یس عروۃ الوثقی جلد ہفتم میں ملے گی) مختصراً یہ کہ زیر نظر آیت میں بیان یہ کیا گیا ہے کہ کفار خود ہی الزام لگاتے اور پھر سوچتے کہ ہم کیسے بےسروپا الزام لگا رہے ہیں کوئی سنے گا تو آخر کیا کہے گا پھر پہلو بدلتے اور کہتے کہ یہ تو شاعر ہے حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے اور سمجھتے تھے اور ان سے بڑھ کر اس حقیقت سے اور کون واقف ہے کہ جو کلام بلاغت پر پیش کرتے ہیں اس کو شاعری کے ساتھ کوئی دور کا بھی واسطہ نہیں ہے بہرحال وہ اپنے دل کو تسلی دینے کے لیے یہ کہا کرتے کہ یہ شاعر ہے بہت جلد اس کی زندگی کا پیمانہ لبریز ہوجائے گا اور اس کے بعد دنیا اس کو بھول جائے گی جس طرح دوسرے نامی گرامی شاعروں کا حال ہوا اسلیے تم کو پریشان ہونے کی ضرور نہیں اور اپنے دل کو اس طرح تسلی دیتے تھے۔ ان کو کیا معلوم تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا نام رہتی دنیا تک باقی رہے گا اور ان کافروں کی باتوں کو جھوٹ کا پلندہ سمجھا جائے گا۔ زیر نظر آیت میں ایک لفظ آیا ہے المنون ، اور یہ اسم ہے جس کے معنی مدت اور زمانہ کے ہیں اور ریب المنون کے معنی ہیں حوادث زمانہ جیسا کہ تحریر ہے کہ حوادث الدھر فیھلک کفیرہ من الشعراءۃ (جلالین) حوادث الدھر فیھلک کما ھلک الشعراء قبلہ ففستریح والمنون الدھر او الموت (جامع البیان) اور ریب راب کا مصدر ہے جس کے معنی ہیں قلق و اضطراب میں مبتلا کردینا۔ ریب المنون ، کا معنی و مطلب یہ ہوا کہ اس کو زمانے کے حوادث اور لیل و نہار کی گردش خود ہی پریشان کرکے رکھ دے گی۔
Ayah 52:31

قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَؕ Open ayah 52:31 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ تم انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں

آپ کہہ دیجئے کہ تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ 31: اے پیغمبر اسلام ! ان شامت کے ماروں کو سیدھی راہ چلنا نہیں آتی یا یہ لوگ ٹیڑھی ہی راہ چلنا چاہتے ہیں تو آپ پریشان نہ ہوں کیونکہ آپ کی ذمہ داری ان کو راہ راست پر لانے کی نہیں بلکہ آپ ان کو برملا کہہ دیں کہ تم جو جو سوچیں سوچ کر بیٹھے ہو تم کو مبارک اب تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں اگر اس وقت میری بات تمہاری سمجھ میں نہیں آرہی تو نہ سہی عنقریب پتہ چل جائے گا۔ جب نتیجہ تمہارے سامنے آئے گا اور میرے سامنے بھی۔ اس لیے تم اپنے منہ دھیان کرتے جاؤ جو کر رہے ہو اور میں اپنے منہ دھیان کرتا ہوں جو کر رہا ہوں۔ زیادہ دیر نہیں لگے گی کہ دنیا پر یہ بات روشن ہوجائے گی کہ کامیابی کس کے قدم چومتی ہے اور عذاب الہی کا مستحق کون قرار پاتا ہے۔
Ayah 52:32

اَمْ تَاْمُرُهُمْ اَحْلَامُهُمْ بِهٰذَاۤ اَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُوْنَۚ Open ayah 52:32 in the Quran reader

کیا ان کی عقلیں ان کو یہی سکھاتی ہیں یا یہ شریر لوگ ہیں (کہ عقل سے کام ہی نہیں لیتے)

کیا ان کی عقلیں ان کو یہی سکھا رہی ہیں یا عقل سے کام لینا یہ لوگ حرام سمجھتے ہیں۔ 32: چونکہ نبی اعظم و آخر ﷺ کے متعلق یہ لوگ کسی بھی حتمی فیصلہ پر نہیں پہنچتے تھے کبھی کاہن کہتے اور کبھی شاعر ، کبھی مجنون کہتے اور کبھی مفتری پھر کبھی ساحر کہتے اور کبھی سحر زدہ اس طرح خود ہی مبہوت ہو کر رہ گئے تھے اور کسی ایک نظریہ پر وہ جمتے نہیں تھے اسی لیے کہتے ہیں کہ جھوٹ کے پاؤں کہاں وہ جمے گا تو آخر کیوں اور کیسے۔ احلامہم ان کی عقلیں یا ان کے خوابات۔ اس لیے کہ احلام حلم کی جمع بھی ہے اور حلم کی بھی اور حلم کے معنی خواب کے ہیں حلم کے معنی بربداری کے اور برباری ظاہر ہے کہ عقل و فکر ہی کی وجہ سے ہوتی ہے اس لیے حلم کے معنی عقل کے بھی لیے جاسکتے ہیں گویا مسب بول کر سبب مراد لیا جاسکتا ہے اور زیر نظر آیت میں زیادہ بہتر اور واضح مفہوم عقلیں ہی ہے اور ان کو مخاطب کرکے کہا جا رہا ہے کہ بتاؤ کیا تمہاری عقلیں اور تمہاری فکریں صلاحیتیں تم کو ایسی باتیں کہنے کا حکم دیتی ہیں یا تم ایسے سرکش ہو کہ جو تمہارے منہ میں آتا ہے کہہ دیتے ہو اور ذرا خیال نہیں کرتے کہ اس طرح کی لغو اور مہمل باتیں کرکے تم اپنی قیمت کیا ڈال رہے ہو اور سننے والے ، دیکھنے والے تمہارے بعد آنے والے تمہاری ان باتوں کو سن کر کیا کہیں گے ؟ بہرحال تم سجھو یا نہ سمجھو تم کو لوگ ہر حال میں سرکش ہی قرار دیں گے کیونکہ خود سری اور سرکشی میں مبتلا ہو کر ایک آدمی جو منہ میں آئے کہہ سکتا ہے اور اس چیز کو ہماری زبان میں منہ زوری سے تعبیر کرتے ہیں یعنی وہ لوگ جو کسی قاعدہ اور قانون کے پابند نہ ہوں صرف دفع الوقتی کرتے یا چاہتے ہوں۔
Ayah 52:33

اَمْ یَقُوْلُوْنَ تَقَوَّلَهٗ١ۚ بَلْ لَّا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 52:33 in the Quran reader

کیا کہتے ہیں کہ یہ خود بنا لایا ہے حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے قرآن گھڑ لیا ہے ، حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے : 33: تقول ، اس نے بنا لیا ہے۔ اس نے گھڑ لیا ہے۔ اس نے باندھ لیا ہے۔ تقول سے جس کے معنی اپنے جی میں گھڑ کر دوسرے کی طرف منسوب کردینے کے ہیں ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اور تقولہ ، میں " ہ " کی ضمیر واحد مذکر غائب ہے یعنی اس نے اس کو اپنے جی میں گھڑ لیا ہے۔ جس طرح مکہ والے خود نبی اعظم و آخر ﷺ کے متعلق عزم و جزم سے کچھ نہ کہہ سکتے بلکہ سرکشی کے عالم میں جو ان کے منہ میں آتا کہہ دیتے بعینہ یہی پوزیشن ان کی قرآن کریم کے متعلق تھی کہ وہ حتمی طور پر قرآن کریم کے متعلق ایک بات نہیں کہتے تھے کبھی کہ اس نے خود گھڑ لیا ہے اور کبھی یہ کہ کوئی دوسرا آ کر سکھاتا ہے کبھی یہ کہ یہ وہی گزشتہ لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے بلکہ سنی سنائی باتیں ہیں جن کو افسانوی رنگ دے لیا گیا ہے پھر ان کو یہ کہا جاتا کہ چلو تمہارا خیال ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے گھڑ لیا ہے یا کوئی دوسرا اس کو سکھاتا ہے اور اس طرح کی عبارت بنا کردیتا ہے تو ہمارا چیلنج ہے کہ تم سب چھوٹے بڑے مل جاؤ اور آپس میں اتحاد کرکے ایسا قرآن گھڑ لاؤ۔ چلو دس سورتیں ہی سہی ، اچھا نہیں تو ایک سورت ہی سہی تم بھی گھڑ کر پیش کردو تاکہ اس سے سمجھ لیا جائے کہ تم لوگ ایسا کلام گھڑ سکتے ہو تو وہ اس کا جواب نہ دیتے اور ٹالتے ہوئے کہہ دیتے کہ اس پر تو کوئی جن اترتا ہے اگر ہم پر بھی اترتا ہوتا تو شاید ہم بھی ایسا کرتے اور اس طرح کا کوئی نہ کوئی عذر پیش کردیتے اس لیے کہا جا رہا ہے کہ ان لوگوں کو اپنی بات کی صحت پر کوئی یقین نہیں اس لیے کہ وہ خود بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ ایک غلط بات کہہ رہے ہیں لیکن چونکہ انہوں نے طے کر رکھا ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے اس لیے کوئی نہ کوئی عذر و بہانہ ایمان نہ لانے کا وہ تراش لیتے ہیں اور اس طرح جو عیب ان کے اپنے اندر ہے اس عیب کو چھپانے کے لیے وہ آپ کی طرف منسوب کردیتے ہیں اور اس کو کہتے ہیں کہ فلاں چور بھی ہے اور چتر بھی یعنی چوری کرنے والا دوسرے کو چور بنانے کی کوشش کرتا ہے اور پھر اس میں کامیاب بھی ہوتا ہے اور اپنی چرب زبانی سے ناحق کو حق ثابت کردیتا ہے کہ سننے والا اس کو حق سمجھتا ہے حالانکہ وہ حق نہیں ہوتا بلکہ کھلا افترا اور جھوٹ ہوتا ہے اس کی مزید وضاحت درکار ہو تو عروۃ الوثقی جلد چہارم سورة یونس کی آیت 16 ، جلد ششم سورة الفرقان کی آیت 6 ، سورة القصص کی آیت 46 ، جلد ہفتم سورة العنکبوت 48 ، 49 ۔ سورة السجدہ 2 ، 3 ۔ سورة حم السجدہ 44 ۔ سورة الاحقاف کی آیت 7 ، 8 کی تفسیر ملاحطہ کریں۔ حقیقت آپ پر واضح ہوجائے گی۔
Ayah 52:34

فَلْیَاْتُوْا بِحَدِیْثٍ مِّثْلِهٖۤ اِنْ كَانُوْا صٰدِقِیْنَؕ Open ayah 52:34 in the Quran reader

پھر یہ لوگ ایسا ہی کلام لے کر کیوں نہیں آتے اگر یہ سچے ہیں ؟

پھر یہ لوگ ایسا ہی کلام لے کیوں نہیں آتے ؟ اگر یہ سچے ہیں ؟ 34 ؎ یہ مطالبہ مکہ ہی کے لوگوں سے نہیں تھا بلکہ ساری دنیا کے انسانوں سے ایک جیسا تھا ‘ ہے اور رہے گا۔ اس کا اعلان پہلی بار سورة یونس کی آیت 38 میں کیا گیا کیونکہ سورة یونس سورة الطور سے پہلے نازل ہوچکی تھی اور یونس کے بعد اس زیر نظر سورت میں دہرایا گیا اور اس کے بعد سورة البقرہ میں جو مدنی سورت ہے اس میں پھر پیش کیا گیا جیسا کہ سورة البقرہ کی آیت 23 میں اس کا ذکر کیا گیا ہے کہ اگر وہ لوگ جنہوں نے محمد رسول اللہ ﷺ پر قرآن کو گھڑ کر لانے کا الزام لگایا ہے وہ سچے ہیں اور ان کو اس بات کا یقین ہے کہ یہ کلام آپ ﷺ کا اپنا بنایا ہوا ہے تو پھر ایسا کیوں نہیں کرتے کہ اس جیسا کوئی کلام وہ بھی پیش کردیں اور اگر عرب و عجم کے سارے فصحا و بلغاء مل کر بھی ایسا کلام پیش کرنے سے قاصر ہیں تو پھر انہیں تسلیم کرلینا چاہئے کہ یہ کلام کسی انسان کا کلام نہیں اور اگر ان دونوں باتوں سے ایک بات بھی تسلیم نہ کریں تو ہم کیا کہہ سکتے ہیں ؟ یہی کہ یہ لوگ ضدی اور ہٹ دھرم ہیں اور ضد ہی سے اللہ کے کلام کو اللہ کا کلام ماننے اور کہنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ پھر جھوٹے کا آخر کام ہی کیا ہے ؟ یہی کہ وہ جھوٹ بولتا رہے اور اپنے جھوٹ بولنے کو بالکل تسلمی نہ کرے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں اور نہ ہی جھوٹ سے باز آئے۔
Ayah 52:35

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ Open ayah 52:35 in the Quran reader

کیا وہ بغیر کسی خالق کے خود بخود پیدا ہوگئے ہیں یا انہوں نے (اپنے آپ کو) خود پیدا کیا ہے

کیا وہ بغیر کسی کے پیدا کرنے ہی کے پیدا ہوگئے ہیں یا وہ خود ہی خالق ہیں 35 ؎ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا حق بندہ پر کیا ہے ؟ یہی کہ وہ اس کی عبادت کرے اس طرح کہ اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرے لیکن وہ اس کی عبادت اسی وقت کرسکتا ہے جب اس کو یقین آئے۔ کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا خالق ومالک ہے اور مکہ والے باوجود زبانی اقرار کرنے کے عملی طور پر اس بات سے انکاری تھے جب نبی اعظم و آخر ﷺ انہیں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے تو وہ ازراہ غرور آپ ﷺ کے اس فرمان کو پس پشت ڈال دیا کرتے۔ ان کے اس طرز عمل کے بارے میں ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا وہ بغیر کسی خالق کے خود بخود ہی پیدا ہوگئے ہیں یا انہوں نے خود ہی اپنے آپ کو تخلیق کیا ہے ؟ کیا آسمانوں اور زمین کو انہوں نے پیدا کیا ہے ؟ کیا وہ ان کا سارا انتظام کر رہے ہیں ؟ اگر ان میں سے کوئی بات بھی صحیح نہیں ہے اور انہیں بھی اس بات کا اعتراف ہے کہ نہ تو وہ خود بخود پیدا ہوئے ہیں نہ انہوں نے اپنے آپ کو پیدا کیا ہے اور نہ ہی زمین و آسمان کی آفرنیش یا اس کے انتظام میں ان کا کوئی حصہ ہے تو پھر اس کے باوجود اپنے خالق کی عبادت نہ کرنا اور اس کے حضور سجدہ ریز نہ ہونا کہاں کی عقل مندی ہے۔
Ayah 52:36

اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ١ۚ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَؕ Open ayah 52:36 in the Quran reader

کیا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ؟ (حقیقت یہ ہے کہ) وہ یقین نہیں کرتے

کیا انہوں نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ یقین نہیں کرتے 36 ؎ قرآن کریم میں آپ پیچھے پڑھتے چلے آ رہے ہیں کہ کفار مکہ سے جب بھی پوچھا گیا کہ بتائو اس آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو انہوں نے کہا کہ اللہ نے۔ اس طرح جب بھی ان سے پوچھا گیا کہ تمہارا خالق کون ہے ؟ تو انہوں نے کہا اللہ ! جب ان سے پوچھا گیا کہ اس کائنات کا نظام کون چلا رہا ہے ؟ تو انہوں نے کہا اللہ۔ اس کی مکمل وضاحت غزوہ الوثقیٰ جلد ہفتم سورة العنکبوت آیت 61 ‘ 63 پھر سورة لقمان کی آیت 25 میں پھر سورة الزمر کی آیت 8 میں اور پھر سورة الزخرف کی آیت 9 میں اور 87 میں گزر چکی ہے اور ہر بار پہلے ان سے سوال کیا گیا ہے اور انہوں نے ہر سوال کا جواب اللہ ہی دیا ہے تو زیر نظر آیت میں بتایا جا رہا ہے کہ تعجب ہے ان لوگوں پر کہ اعتراف بھی کرتے ہیں اور ایمان بھی نہیں لاتے۔ اب اس کی وضاحت کی جا رہی ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے ؟ فرمایا جا رہا ہے کہ یہ محض اس لئے کہ وہ جب (لیقولن اللہ) کے الفاظ محض رسما زبان سے ادا کرتے ہیں کہ اللہ ان کا خالق ہے اور وہی زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا ہے لیکن ان کے دلوں میں کوئی ایمان اور یقین نہیں ہے اگر یقین رکھتے تو ان سے کبھی اس طرح کی حرکت سرزد نہ ہوتی۔ جب بھی کوئی شخص زبان سے کچھ کہتا ہو اور اس کا عمل کچھ بتا رہا ہو تو اس کے اندر جتنا تضاد ہوگا اتنا اس کا ایمان کچا ہوگا جو انہوں نے محض دیکھا دیکھی قبول کرلیا ہوا ہے حالانکہ ان کے دلوں میں ایمان نہیں جما اور نہ ہی پختہ ہوا ہے۔
Ayah 52:37

اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ Open ayah 52:37 in the Quran reader

کیا ان کے پاس تیرے رب کے خزانے ہیں یا وہ ان (خزانوں) کے مالک بن بیٹھے ہیں

کیا ان کے کنٹرول میں تیرے رب کے خزانے ہیں کہ وہ دان کے مالک بن بیٹھے ہیں 37 ؎ مکہ والوں کو ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ دیکھو مکہ اور طائف کی دو بڑی بستیوں میں بڑے بڑے لوگ موجود ہیں جن کے نام سے لوگ ہل جاتے ہیں اور ان کے منہ سے جب کوئی بات نکلتی ہے تو ذرا دیر نہیں لگتی کہ اس کو مانے کے لئے لوگ تیار کھڑے ہوتے ہیں اور عرب کا شاید ہی کوئی خطہ اور حصہ ایسا ہوگا جہاں ان کے ناموں کو شہرت حاصل نہ ہو۔ ان کے پاس مال و دولت کی ریل پیل بھی ہے اور ان کا تعلق بڑے بڑے خاندانوں سے ہے گویا وہی بات جو ہمارے ہاں معروف ہے کہ وہ باپ دادا والے لوگ ہیں پھر اگر اللہ عالیٰ نے کسی انسان ہی کو نبی و رسول بنانا تھا تو ان بڑے بڑے لوگوں میں سے کسی کو رسول بناتا جب کہ اس کی تفصیل سورة الزخرف کی آیت 31 میں گزر چکی ہے ۔ زیر نظر آیت میں ان کو جواب دیا جارہا ہے کہ نبوت و رسالت تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی جاتی ہے اور وہ ایک وہبی چیز ہے اس کا تعلق مال و دولت سے کیسے ہوگیا ؟ یہ تو اللہ رب کریم کی مرضی کی بات ہے کہ جب تک نبوت جاری تھی وہ جس کو چاہتا تھا اس سے سرفراز فرما دیتا تھا۔ اللہ کے خاص خاص کاموں میں بھی کیا انہوں نے مداخلت شروع کردی اور کیا نبوت ان کی اجازت سے دی جانے والی چیز تھی ؟ یہ کہاں سے آئے ہیں اللہ رب ذوالجلال والا کرام کی باتوں میں دخل دینے والے ؟ انہوں نے یہ کیسی بات کہہ دی اور کیسے کہہ رہے ہیں ؟ یہ کب کے نگران بن گئے ہیں اور کس باغ کی مولی ہیں ؟
Ayah 52:38

اَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْهِ١ۚ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍؕ Open ayah 52:38 in the Quran reader

کیا ان کے پاس کوئی (ایسی) سیڑھی [ ہے کہ جس پر چڑھ کر سب باتیں سن آتے ہیں ، تو سن لو کہ جو کوئی ان میں سے سن آتا ہے وہ صریح سند لائے ؟

38۔ (مسلم) کا مادہ س ل م ہی ہے اور سیڑھی کو (سلم) کہا جاتا ہے اس لئے کہ اس کے ذریعہ آدمی سلامتی کے ساتھ اوپر پہنچ جاتا ہے اس لئے اس کا نام (سلم) ہوا۔ سلالم اور سلالیم ؓ اس کی جمع ہے یعنی سیڑھی اور زینہ خواہ وہ لوہے کی ہو یا مٹی اور لکڑی کی۔ فرمایا جا رہا ہے کہ کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جو انہوں نے آسمان کے ساتھ لگا لی ہے اوپر چڑھ کر انہوں نے یہ باتیں سن لی ہیں اور وہاں سے نیچے آ کر یہ لوگ اپنی سنی ہوئی باتیں لوگوں کو سنا رہے ہیں۔ لاریب ایسی نہ تو کوئی سیڑھی ہو سکتی ہے جو آسمانوں تک ان لوگوں نے لگا لی ہو اور نہ ہی ان کی رسائی وہاں تک ہو سکتی ہے۔ ہاں ! اگر ان کے پاس اس بات کی کوئی دلیل ہے تو وہ لائیں اور پیش کریں۔ ہمارے پاس تو دلیل یہ ہے کہ نبوت اور رسالت کا تعلق کسی انسان سے نہیں بلکہ براہ راست اللہ رب کریم سے ہے اور وہی جانتا ہے کہ اپنے اس عہدے کو اس نے کہاں رکھنا ہے کیونکہ وہ تمام انسانوں کے دلوں کے رازوں تک کو جانتا ہے اور پھر نبوت و رسالت کا تعلق اخلاق و اعمال اور کردار سے ہے نہ کہ مال و دولت اور خاندان سے۔ ہاں ! انہوں نے یہ بات آسمان کے کسی گوشے سے سنی ہے یا اللہ میاں نے ان کے کان میں کہی ہے تو اس کی کوئی دللے تو یہ بھی پیش کریدں کیونکہ بغیر دلیل کے کوئی بات کبھی درست نہیں ہوتی۔ غور کرو کہ کفار و مشرکین کے اقوال و اعمال اور ان کے نظریات پر کس طرح سخت تنقید کی جا رہی ہے اور کس طرح ان کا محاسبہ جاری ہے جس کے بعد انہیں اپنی نوعیت اور گمراہی کے بارے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہا اور اندھے تعصب اور بےجا ہٹ دھرمی کے بغیر ان کے لئے گوشہ ٔ عافیت باقی نہیں رہا۔ وہ تمام احتمالات ‘ امکانات اور غلط یا صحیح توجیہات جن کا آسرا لے کر نبی اعظم و آخر ﷺ کی نبوت اور آپ ﷺ کی تعلیمات کا انکار کرتے تھے ان سب کا بودا پن ان پر روز روشن کی طرح عیاں کردیا گیا ہے۔ یہ چھوٹے چھوٹے فقرے ہیں لیکن کفار کے فکری اور نظری قلعوں پر بلی بن کر گر رہے ہیں اور ان کو کس طرح خاکستر بناتے چلے جا رہے ہیں۔ ان کے یہ نظریات مکی سورتوں میں مختلف مقامات پر اٹھائے گئے ہیں اور ان کو سن کر اچھی طرح یاد رکھا گیا ہے لکنف بروقت ان کو جو جواب دیا گیا ہے وہ نہایت نرم لہجے میں دیا گیا ہے اور اس میں جو حکمت مخفی ہے وہ اہل علم اچھی طرح جانتے ہیں اور اس طرح گویا ان کو سوچنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے کہ وہ خود بھی ذرا غور و فکر کریں اور جب کچھ مہلت ان کو مل گئی کہ وہ خود اپنے اعتراضات کے متعلق غور کریں کہ ان کے اعتراضات کی حیثیت کیا ہے ؟ اس طرح کچھ وقت گزرنے کے بعد ان کے ایک ایک اعتراض کا مسکت جواب دیا جا رہا ہے اور قرآن کریم کا یہ اسلوب نہایت ہی پر حکمت ہے۔ ترجمہ اور تفسیر تو آپ نے دیکھ ہی لیا ہے اب تو قرآن کریم کی اس سورت کی آیت 29 سے آخر سورت کی ایک ایک آیت کو دوبارہ نہایت آرام سے پڑھو اور ان کا مفہوم و مطلب اپنے ذہن میں رکھ کر غور کرو ان شاء اللہ العزیز براہ راست مضمون پر غور کرنے سے دل کے اندر وہ مفہوم جمتا چلا جائے گا۔ نیز آنے والی آیات کو ان ہی آیتوں میں شمار کرلو۔
Ayah 52:39

اَمْ لَهُ الْبَنٰتُ وَ لَكُمُ الْبَنُوْنَؕ Open ayah 52:39 in the Quran reader

کیا اس (اللہ) کیلئے بیٹیاں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے ؟

کیا اللہ کے لئے بیٹیاں اور تمہارے لئے بیٹے ہیں ؟ یہ بات بھی تم نے آسمان ہی سے سنی ہے۔ 39۔ اہل مکہ نے قومی نظریہ کے طور پر یہ تسلیم کر رکھا تھا کہ یہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں اور چونکہ بیٹی کی سفارش کو ان کے معاشرہ میں بھی آج کل کے معاشرہ کی طرح بہت ہی اہمیت دی جاتی تھی اس لئے ان کے اس نظریہ کا ماحصل بھی یہی تھا کہ جب اللہ تعالیٰ کی یہ بیٹیاں ہماری سفارش ٹھہریں تو پھر نجات یافتہ نہ ہونے کا کیا سوال پیدا ہو سکتا ہے جب ہم انسانوں کے ہاں بیٹی کی سفارش کی اتنی اہمیت ہے تو وہ بذاتہ رب اور الہ ہے اس کی بیٹی کی سفارش تو اور بھی متاثر ہوگی اور اس طرح ہمارا کام بن جائے گا اور ہم نے اس دنیا میں خواہ کچھ ہی کیوں نہ کیا ہوگا وہ سب کا سب ہوا ہوجائے گا۔ ان پر قرآن کریم میں بار بار اظہار تعجب کیا گیا ہے اور ان کو شرم و عار بھی دلائی گئی ہے کہ تم عجیب لوگ ہو کہ اگر تم کو بیٹی کی خبر مل جائے تو تمہارا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے اور تم لوگوں سے چھپتے پھرتے ہو کہ کہیں ہم کو دیکھ نہ لیں اور تمہاری شرمندگی کا یہ عالم ہے کہ اس حالت سے بچنے کیلئے تم اپنے ہاتھوں اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کردیتے ہو اور تب تم کو چین آتا ہے لیکن جب اللہ کے ذمہ تم نے اولاد لگائی ہے تو وہ بھی بیٹیاں ہی لگائی ہیں گویا جو چیز تم کو ناپسند ہے وہی اللہ کے لئے پسندیدہ ہے اور ان کو اس طرح مخاطب کر کے دراصل ان کو بغیر دلیل بات کنے کے باعث ملامت کی جا رہی ہے کہ کتنے ڈھیٹ ہو کہ تم کو بات کرتے وقت بھی ذرا شرم نہیں آئی۔ اس کی وضاحت غزوہ قوتی جلد پنجم سورة النحل کی آیت 57 اور جلد ششم سورة الصافات کی آیت 149 ‘ 152 میں کردی گئی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 52:40

اَمْ تَسْئَلُهُمْ اَجْرًا فَهُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَؕ Open ayah 52:40 in the Quran reader

کیا آپ ﷺ ان سے کوئی معاوضہ طلب کرتے ہیں کہ تاوان کے بوجھ سے وہ دبے ہوئے ہیں

کیا آپ ﷺ ان سے کوئی معاوضہ طلب کرتے ہیں جس کے بوجھ تلے وہ دب جاتے ہیں ؟ 40۔ اللہ تعالیٰ نے جتنے رسولوں کا تذکرہ قرآن کریم میں کیا ہے ایک ایک کا ذکر پڑھو اور نبی و رسول کی دعوت میں آپ کو یہ بات صاف اور واضح الفاظ میں ملے گی کہ نبی و رسول سے یہ اعلان کرا دیا گیا کہ میں تم کو یہ پیغام دے کر کسی معاوضہ کا طالب نہیں ہوں اور نہ ہی میری کوئی کسی طرح کی کوئی غرض اس کے ساتھ وابستہ ہے کہ چلو اور نہیں تو مجھے کوئی اقتدار ہی مل جائے گا یا کوئی اس طرح کی اور غرض ہی وابستہ ہوگی۔ ہاں ! اگر تم کو کوئی میری غرض وابستہ نظر آتی ہے تو اس کی وضاحت کر دو اور دو ٹوک کہہ دو جس طرح اور بہت طرح کے اور قسم قسم کے الزامات مجھ پر لگا رہے ہو کوئی اس طرح کی بات بھی کہہ دو جس سے یہ ثابت ہو کہ میری فلاں غرض اس کے ساتھ وابستہ ہے۔ کیا میں نے تم پر کوئی تاوان رکھا ہے کہ تمہاری توبہ تب قبول ہوگی جب تم اتنا غلہ یا اتنی رقم ہدیہ کے طور پر پیش کرو گے اور تمہارے میرے ہوئوں کی بخشش کے لئے کوئی نسخہ میں نے استعمال کیا ہے کہ اگر تم ایسا کرو گے تو تب جا کر تم کو نجات ملے گی۔ تم کو معلوم ہے کہ تمہارے اس ملک میں نجات دلانے کے لئے اور مرے ہوئوں کو بخشوانے کے لئے اور ان کے درجات بلند کرانے کیلئے تمہارے بناوٹی پیشوائوں اور رہنمائوں نے مذہبی آستانوں کے ساتھ کیا کیا رسومات لگا رکھی ہیں گویا ان کو باور کرا دیا گیا ہے کہ ایک طرف تو یہ مذہب کے ٹھیکہ دار اور تاجر ہیں جو تم سے بڑی بڑی شیرینیاں ‘ نذریں اور نیازیں حاصل کرتے ہیں اور ایک طرف میں ہوں کہ اللہ کے دین کی تعلیم دے رہا ہوں اور تم سے کسی چیز کا روادار نہیں اور میرے مقصد میں کسی طرح کا کوئی لالچ اور کسی طرح کا کوئی فائدہ اٹھانا نہیں ہے پھر تم بھی تو آخر بتائو کہ تم کو کوئی معقول بات نہیں آتی صرف سینہ زوری سے کام لینا چاہتے ہو۔
Ayah 52:41

اَمْ عِنْدَهُمُ الْغَیْبُ فَهُمْ یَكْتُبُوْنَؕ Open ayah 52:41 in the Quran reader

کیا ان کے پاس غیب ہے کہ اسے لکھتے جاتے ہیں ؟

کیا ان کے پاس غیب ہے کہ اس کو لکھتے جاتے ہیں ؟ 41 ؎ فطری باتیں ایسی ہوتی ہیں جن کو اگر کوئی جھٹلانا چاہے تو بھی نہیں جھٹلا سکتا جب تک کہ ان کے لئے کوئی واضح اور غیر مبہم دلیل نہ ہو۔ جو باتیں محمد رسول اللہ ﷺ نے کی ہیں ان میں سے ہر ایک بات پر ایک ایک نہیں سو سو دلیلیں موجود ہیں مثلاً رسول اللہ ﷺ نے عقدیہ ٔ توحید کا اعلان کیا تو اس پر دلائل کے انبار لگا دیئے۔ عقیدہ آخرت اسلام لانے کے لئے ضروری قرار دیا تو اس پر اتنے دلائل پیش کئے کہ اس کائنات کے ذرہ ذرہ کی شہادتیں پیش کیں۔ سورج ‘ چاند ‘ ستارے ‘ سیارے اور فضا کی ایک ایک چیز کے پیدا ہونے اور فنا ہونے کی شہادت پیش کی۔ دوبارہ جی اٹھنے کا عقیدہ بیان کیا تو تم کو معلوم ہے کہ کس قدر دلائل کا ایک سلسلہ قائم کردیا۔ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہونے کی نفی کی تو کیا اس پر دلائل نہیں دیئے ؟ تم نے فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہا تو اس نے دلائل سے تمہاری آنکھیں نیچی کردیں۔ پھر تم ہی بتائو کہ آخر جو باتیں تم کرتے ہو ان کی کوئی دلیل ہے یا تمہارے پاس کوئی اس طرح کے مخفی ذرائع (Sources) ہیں جن سے تم ان باتوں کو لکھ کر رکھتے ہو اور اگر نہیں اور یقینا نہیں تو ان آوارہ و بےسروپا باتوں کا فائدہ ؟ جب کہ وہ معقول بھی نہیں اور ان کی سطحیت کو تم بھی اچھی طرح سمجھتے ہو۔
Ayah 52:42

اَمْ یُرِیْدُوْنَ كَیْدًا١ؕ فَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا هُمُ الْمَكِیْدُوْنَؕ Open ayah 52:42 in the Quran reader

کیا وہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں ؟ تو کافر خود ہی اپنے دام فریب میں پھنس کر رہ جائیں گے

کیا وہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں ؟ اگر ایسی بات ہے تو وہ خود ہی فریب میں پھنس جائیں گے 44 ؎ (کیدا) کی اصل ک ی د ہے۔ (مکرا) کی اصل م ک ر ہے۔ دونوں لفظ معنوں کے لحاظ سے یکساں ہیں اور دونوں ہی مذموم اور محمود معنوں میں استعمال ہوتے ہیں دراصل ان دونوں ہی کے معنی ” میف تدبیر “ کے صحیح ہیں۔ اب غور کرو گے تو سمجھ جائو گے کہ ہر مخفی تدبیر نہ تو محمود ہوتی ہے اور نہ ہی مذموم۔ ہاں ! یہ صحیح ہے کہ مخفی تدبیر بھی لفظ عربی ہی کا ہے جو زیادہ تر محمود معنوں میں استعمال ہے لیکن جس طرح ” مخفی تدبیر “ زیادہ تر معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ (کید) اور (مکر) کا لفظ زیادہ تر مذموم معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں کے معنی مترجمین نے کید اور مکر ہی کے کردیئے ہیں اور کبھی کبھی اور کہیں کہیں جہاں زیادہ ہی مذموم معنی مراد ہو تو دائو ‘ فریب ‘ مکاری ‘ دھوکا ‘ دغا اور جھوٹ جیسے الفاظ سے بھی ان کے معنی کردیئے ہیں کیونکہ انہی معنوں میں یہ زیادہ تر استعمال ہوتے ہیں۔ بلکہ یہ دونوں لفظ اردو میں بھی اسی طرح استعمال ہوتے ہیں جس طرح عربی میں ‘ فرق صرف یہ ہے کہ اردو میں ان کے معنی مذموم ہی متعارف ہیں محمود معنوں میں ان کا استعمال اردو زبان میں نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب اردو زبان میں ترجمہ کرتے وقت مترجمین نے ان کو اسی طرح رہنے دیا تو آج ان دونوں الفاظ کی نسبت جب اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے تو ایک بار ترجمہ پڑھنے والا چونک جاتا ہے اور پھر اس کو جس طرح سمجھایا جاتا ہے اس کے دماغ میں وہ بات نہیں بیٹھتی۔ لیکن اگر محمود معنی مراد لیتے وقت ان کا ترجمہ ” مخفی تدبیر “ سے کردیا جائے تو آدمی کچھ مطمئن ہوجاتا ہے کیونکہ اس کی زبان ان دونوں لفظوں کو مکروہ معنوں میں زیادہ استعمال کرتی ہے۔ ان دونوں لفظوں کے ساتھ ایک لفظ ” استد راج “ کا بھی ہے جس کے دونوں معنی صحیح یعنی مذموم اور محمود ہیں کیونکہ مدارج درجات جس طرح نیکی اور خوبی میں ہیں اسی طرح برائی اور ناخوبی میں بھی لیکن چونکہ یہ لفظ زبان زد خواص و عام نہیں اس لئے اس کا استعمال جن معنوں میں کردیا جائے برا معلوم نہیں ہوتا۔ اب اس سارے مضمون کا اختصار یہ ہے کہ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ جب ان الفاظ کا استعمال اللہ رب ذوالجلال والا کرام کی طرف ہوتا ہے تو ان کے معنی ہمیشہ محمود ہی ہوتے ہیں مذموم کبھی نہیں ہوتے اور ان کو ” مخفی تدبیر “ اور ” تدبیر متعین “ ہی کے معنوں میں سمجھنا چاہئے۔ زیر نظر آیت میں چونکہ لفظ (کید) کا استعمال ہوا ہے اسی نسبت سے اس کی وضاحت کرنا پڑی چونکہ قرآن کریم میں اس مادہ کے الفاظ اللہ تعالیٰ کے لئے بھی بولے گئے ہیں۔ مثلاً (کدنا) (12 ‘ 76) (اکید) (68 ‘ 16) (کیدی) (7 ‘ 183) وغیرہ وغیرہ۔ زیر نظر آیت میں چونکہ کفار و مخالفین کے کید کا ذکر ہے لہٰذا اس جگہ یہی معنی صحیح ہیں کہ یہ لوگ یعنی مخالفین و معاندین کوئی چال چلنا چاہتے ہیں۔ کوئی مکرو فریب کرنا چاہتے ہیں ‘ کسی طرح دھوکا اور دغا کرنے کی سوچ سوچتے ہیں تو کیا ہے ؟ اس طرح کی جو چال بھی یہ لوگ چلیں گے اور جو مکر و فریب بھی کریں گے ‘ جس طرح بھی دھوکا اور فریب کرنے کی سوچ سوچیں گے اسی کے نتیجہ میں (ھم المکیدون) وہ خود ہی ہلاک ہوں گے۔ اس کا وبال انہیں پر پڑے گا۔ وہ خود ہی اس کی سزا میں گرفتار ہوں گے۔ وہ خود ہی دائو میں پھنس کر رہیں گے۔ وہ چال الٹی انہی پر پڑے گی۔ اس طرح گویا یہ بات بطور پیش گوئی بیان کی گئی ہے جو حرف بہ حرف پوری ہو کر رہی ہے حالانکہ یہ جب الفاظ کہے گئے تھے اس وقت ان کو سن کر وہ لوگ مذاق اڑاتے تھے کیونکہ ان کو کیا معلوم تھا کہ جن نظریات و عقائد کی آج ہم حفاظت کر رہے ہیں اور کفر و اسلام کا مقابلہ جس طرح آج ہر دیکھنے والے کو انتہائی نا مساویانہ دکھائی دے رہا ہے چند سال کے بعد بالکل اس کے برعکس ہوجائے گا اور یہ پوری قوم انہی نظریات و عقائد کو مان چکی ہوگی اور جو تسلیم نہیں کریں گے وہ آٹے میں نمک کے برابر ہو کر رہ جائیں گے۔ اسلام کی زبان میں اس کو تحدی اور ہماری زبان میں اس کو ” چیلنج “ کے لفظ سے ادا کیا جاتا ہے اور معجزہ کے لئے یہ بات لازم و ضروری ہے ۔ معجزات کے شیدائی جو اپنے وہمی مفروضوں اور من گھڑت باتوں کو معجزات قرار دینے کے عادی ہیں جو خود ہی ایک بات کو وہمی مفروضہ کے طور پر اچنبھا بناتے ہیں اور پھر جب اس کا کوئی جواب ان کو نہیں آتا تو اس کا نام معجزہ رکھ کر مطمئن ہوجاتے ہیں۔ قرآن کریم نے جو انبیاء و رسل کے حالات بیان کرتے وقت استعارے ‘ اشارے ‘ محاورات و ضرب المثال بیان کی ہیں اب سب کے لفظی معنوں پر بحث کرتے نظر آتے ہیں حالانکہ ان تشبیہات ‘ استعارات ‘ محاورات اور ضرب الامثال کے لفظی معنی کسی ادب و زبان میں بھی نہیں کئے جاتے بلکہ ان کا مفہوم ہی لیا جاتا ہے جو قائل کی اصل مراد ہوتا ہے۔ حالانکہ علمائے اسلام نے معجزات کی بحث میں خود یہ اصول وضاحت سے بیان کیا ہے کہ معجزہ کے لئے تحدی لازم ہے۔ ہماری کتاب میزان المعجزات میں اس کی وضاحت کردی گئی ہے اور اس جگہ بھی ہم نے اشارہ کردیا ہے اگر کوئی دیکھنا چاہے تو محولہ کتاب سے دیکھ سکتا ہے۔ بہرحال اللہ رب ذوالجلال والا کرام نے آپ ﷺ کے مکی دور ہی میں اس بات کی تحدی بیان کردی اور صاف صاف کہہ دیا کہ ہمارے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی دعوت کو نیچا دکھانے والے جو کچھ بھی چالیں چلیں گے اور جو جو بھی مخفی تدبیریں کریں گے ان سب کا وبال عنقریب انہیں لوگوں پر پڑے گا اور شکست دینے والے عنقریب شکست کھا جائیں گے۔ پھر کیا ہوا ؟ یہی کہ دنیا نے دیکھا جو کچھ کہا گیا تھا وہ حرف بہ حرف پورا ہوا اور یہ معجزہ آپ ﷺ کے ہاتھ پر دکھایا گیا جو ان سارے معجزات سے بڑا معجزہ ہے جو دوسرے انبیاء کرام اور رسل عظام ﷺ کے ہاتھوں پر ظاہر ہوئے لیکن افسوس کہ ناقدر شناسوں نے اس کو معجزہ کے طور پر کبھی بیان ہی نہیں کیا۔
Ayah 52:43

اَمْ لَهُمْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 52:43 in the Quran reader

کیا ان کا اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہے ؟ (یاد رہے کہ) اللہ ان کے شرک سے پاک ہے

کیا ان کا اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہے ؟ اللہ تعالیٰ تو ان کے شرک سے پاک ہے 43 ؎ ان لوگوں سے استفسار کیا جا رہا ہے کہ کیا ان کے پاس کوئی اور معبود ہے ؟ جو ان کا پیدا کرنے والا ‘ ان کو رزق دینے والا ‘ ان کا مشکل کشا اور حاجت روا ‘ ان کا نجات دہندہ ہے ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر یہ لوگ دوسروں کی عبادت کیوں کرتے ہیں اور اللہ کے ساتھ دوسروں کو کیوں اور کیسے شریک کرتے ہیں۔ کیا ان کو اپنی اس حماقت کا بھی خیال نہیں آیا کہ جن لوگوں کو ہم نے اللہ اور معبود بنا رکھا ہے اگرچہ ہم زبان سے اس کا اقرار نہیں کرتے لیکن جب مرادیں دوسروں سے مانگ رہے ہیں اور حاجت روا اور مشکل کشا دوسروں کو سمجھ رہے ہیں اور وظیفے ان کے ناموں کے کر رہے ہیں تو کیا یہ سارے کام عبادت کے نہیں ہیں ؟ کیا یہ وہی حق نہیں جو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے خاص ہے اور دوسرا کوئی شخص بھی اس کا مستحق نہیں۔ کیا ان کے شریک ٹھہرانے سے فی الواقع اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہر جائیں گے لاریب وہ تو شرک سے پاک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں پھر یہ لوگ ایسا سمجھ کر خواہ مخواہ اپنے پائوں پر خود کلہاڑی چلا رہے ہیں جس کے باعث وہ شرک کی سزا کے مستحق ٹھہریں گے۔ آپ پیچھے سے پڑھتے چلے آ رہے ہیں کہ کفار کے تمام شبہات اور احتمالات کو دلائل و شواہد سے رد کیا جا رہا ہے اور بار بار بتایا جا رہا ہے کہ باطل کے ساتھ ان کے چمٹے رہنے سے ان کا اپنا نقصان ہو رہا ہے لیکن دنیا کی مصروفیات ہی اس طرح کی ہیں کہ بہت کم ایسا ہوا کہ کسی نقصان کرنے والے کو اس بات کا احساس ہو کہ وہ اپنا نقصان خود کر رہا ہے اس لئے رحمت الٰہی کا یہ تقاضا ہے کہ اپنا نقصان کرنے والے کو یہ باور کرانا ہے کہ وہ اپنا نقصان خود نہ کرے۔ ہاں ! اگر وہ باز نہ آئے تو اس نے کہنے والے کا کوئی نقصان نہیں کیا جو نقصان کیا ہے وہ سراسر اس کا اپنا ہے وہ جانے اور اس کا خدا جس نے اس کو اس دنیا میں ہر طرح کی آسائش و آرام دیا ہے اور اس کی بداعتدالیوں کے باوجود احسان و سلوک جاری رکھا ہے۔
Ayah 52:44

وَ اِنْ یَّرَوْا كِسْفًا مِّنَ السَّمَآءِ سَاقِطًا یَّقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْكُوْمٌ Open ayah 52:44 in the Quran reader

اور اگر یہ آسمان سے کوئی ٹکڑا گرتا ہوا دیکھیں تو (مان لیں گے ، ہرگز نہیں بلکہ) یہی کہیں کہ یہ گہرا بادل ہے

اور اگر یہ آسمان سے کوئی ٹکڑا گرتا ہوا دیکھیں تو یہی کہیں گے کہ یہ بادل ہے 44۔ مخالفت برائے مخالفت کرنے والوں نے کبھی یہ نہیں دیکھا کہ ہماری مخالفت کا کوئی جواز بھی ہے یا نہیں ؟ انہوں نے مخالفت کبھی اس لئے نہیں کی کہ وہ کام جس کی وہ مخالفت کر رہے ہیں صحیح ہے یا غلط ؟ ان کو تو صرف یہ خیال ہوتا ہے کہ مثلاً ” الف “ سے ہماری مخالفت ہے لہٰذا ” الف “ جو کہے گا ہم نے اس کا خلاف کرنا ہے اور ” ب “ ہماری پارٹی اور ہماری جماعت کا ہے لہٰذا ہم کو ” ب “ کی حمایت کرنا ہے ہمیں اس سے غرض نہیں کہ ” الف “ اور ” ب “ میں سے صحیح کون ہے اور غلط کون ؟ جن لوگوں نے محمد رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی قسم کھائی تھی ان کو مخالفت کرنا غلطی تھی اور وہ کرتے رہے ۔ زیرنظر آیت میں ان کی مخالفت اور ہٹ دھرمی کی کیفیت بیان کی جا رہی ہے کہ اگر آسمان کا ٹکڑا کا کر بھی ان کی ہدایت کے لئے نیچے گرا دیا جائے اور محمد رسول اللہ ﷺ ان کو واضح الفاظ میں کہہ دیں کہ یہ آسمان کا ٹکڑا تمہاری طرف بڑھ رہا ہے اور تم کو بس دیکھتے ہی دیکھتے تباہ و برباد کر کے رکھ دے گا تو وہ کبھی تسلیم نہیں کریں گے بلکہ یہی کہیں گے کہ یہ تو بادل کا ایک ٹکڑا ہے جو نہ در تہ ہونے کی وجہ سے ہم کو ایسا نظر آ رہا ہے اور یہ بات محض فرضی طور پر نہیں کی گئی بلکہ ایک نبی و رسول جن کو ہود (علیہ السلام) کے نام سے ہم جانتے ہیں انہوں نے اپنی قوم کو ڈرایا کہ دیکھو یہ بادل جو تمہاری طرف امڈ چلا آ رہا ہے پس عنقریب تم پر تبائہی مچا دینے والا ہے لیکن قوم نے ہود (علیہ السلام) کی ایک نہ سنی بلکہ واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ (ھذا عارض ممطرنا) یہ بادل کا ٹکڑا ہم پر بارش بسائے گا اور ہماری حالت پہلے سے بھی زیادہ درست ہوجائے گی۔ ان کو کہا گیا کہ یہ تمہارا محض خیال ہے یہ تو وہی چیز ہے جس کا تم بہت جلد آنے کا مطالبہ کر رہے تھے اور اس میں سخت آندھی اور دردناک عذاب ہے جس سے تم کو صفحہ ہستی سے مٹا کر رکھ دیا جائے گا بلکہ (مرکوم) اسم مفعول واحد مذکر۔ تہ بہ تہ جما ہوا بادل یاریت کا کوئی ڈھیر اور اس جگہ بادل ہی مراد ہے۔
Ayah 52:45

فَذَرْهُمْ حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ فِیْهِ یُصْعَقُوْنَۙ Open ayah 52:45 in the Quran reader

پس آپ ﷺ ان کو چھوڑ دیجئے یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن کو دیکھ لیں جس دن ان کے ہوش اڑ جائیں گے

45 ؎ (یصعلون) کی اصل صعق ہے اور صعق کے دو معنی ہیں ایک بےہوش ہونا یا کسی زور دار آواز کا سن کر مثل کا مخل ہوجانا اور دوسرے معنی ہیں ہلاک ہونا اور مر جانا یعنی وہ لوگ ہلاک ہوں گے یا وہ لوگ مر جائیں گے۔ مفسرین میں سے بعض نے پہلے معنی مراد لئے ہیں اور بعض نے دوسرے لیکن جب صعق کے دونوں معنی صحیح ہیں تو اب ہم کو معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ صعق جس روز ہوگا وہ روز کون سا روز ہوگا ؟ سو اس دن سے مراد قیامت کا دن بھی لیا گیا ہے اور ہر انسان کی موت کا مقرر دن بھی۔ اس لئے اس دن کے فیصلہ کے ساتھ اس کی حالت کا فیصلہ بھی آسانی سے ہو سکتا ہے۔ اگر اس سے مراد قیامت کا روز ہے تو ظاہر ہے کہ وہ تو وہی لوگ دیکھیں گے جو اس وقت اس اجتماعی ہلاکت کے ساتھ دوچار ہوں گے لیکن اگر ہر انسان کی موت کو اس کی قیامت کا دن ہی قرار دیا جائے گا تو یہ ہر اس شخص کے لئے ہوا جس کو پیدا ہونے کے بعد مرنا ہے اور جب ہر ایک کے لئے موت ہے تو اس سے مراد موت اور ہلاکت ہو سکتی ہے اور یہی صحیح ہے۔ اس لئے جن لوگوں نے یعنی جن مفسرین نے اس کے معنی یموتون و یھلکون کے لئے کئے ہیں وہ زیادہ صحیح ہیں کیونکہ سیاق وسباق ان کی زیادہ تاکید و تائید کرتا ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ صحن کے معنی بیہوشی اور غشی کے صحیح نہیں ہیں۔ ہرگز نہیں۔ مفہوم و معنی کے لحاظ سے دونوں ہی طرح کے معنی صحیح اور درست ہیں بلکہ قرآن کریم نے اس لفظ کو دنوں معنوں میں استعمال کیا ہے جیسا کہ (صحفا) سے موسیٰ (علیہ السلام) کی بیہوشی کا ذکر کیا گیا ہے جس کی وضاحت ہم (غزوہ الوثقی) جلد سوم سورة الاعراف کی آیت 143 میں اور قوم موسیٰ کے ذکر میں لفظ (الصاعقۃ) کا ذکر جلد اول سورة البقرہ کی آیت 55 کے تحت بیان کرچکے ہیں اور سورة البقرہ غزوہ الوثقی کی جلد اول کی دوسری سورت ہے۔ زیر نظر آیت میں بھی فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! یہ متعصب لوگ ہیں ان کے حق قبول کرنے کی امید نہیں ہے۔ آپ ﷺ ان کو نظر انداز کردیں جب ان کی موت کا وقت آئے گا تو اس دن ان کی آنکھیں کھلیں گی اور ان کی سمجھ میں آئے گا کہ ان کی حیلہ سازیوں نے ان کا کیا کچھ بگاڑا اور ان کے سارے وسیلے اور آسرے کس طرح ان کو ایک ایک کر کے چھوڑ گئے۔
Ayah 52:46

یَوْمَ لَا یُغْنِیْ عَنْهُمْ كَیْدُهُمْ شَیْئًا وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 52:46 in the Quran reader

جس روز ان کی چالبازی ان کے کچھ کام نہیں آئے گی اور نہ ہی ان کو (کسی جگہ سے) مدد پہنچے گی

جس روز ان کی چالبازی ان کے کچھ کام نہیں آئے گی اور نہ ہی ان کو مدد پہنچے گی 46 ؎ ان لوگوں نے جتنی بھی چالیں چلیں وہ سب کی سب ان کے خلاف پڑھیں اور ان کو ان کی خفیہ تدبیروں نے ہلاک کر کے رکھ دیا لیکن اس کے باوجود وہ ان چالوں سے باز نہ آئے تا آنکہ موت نے آ کر ان کا کام تمام کردیا اور کوئی ان کی مدد کو نہ پہنچا نہ تو اس وقت جب ان کو ان کے ظلم کی پاداش میں ہلاک کیا گیا اور نہ ان کی موت کے وقت اور نہ ہی قیامت کے روز ان کی مدد کو کوئی پہنچے گا گویا ان کی ساری اسکیمیں دھری کی دھری رہ گئیں۔
Ayah 52:47

وَ اِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 52:47 in the Quran reader

اور بلاشبہ ظالموں کے لیے اس کے علاوہ ایک عذاب ہے لیکن ان میں سے اکثر اس سے بیخبر ہیں

اور بلاشبہ ظالموں کے لئے اس کے علاوہ ایک عذاب ہے جس سے اکثر بیخبر ہیں 47 ؎ وہ لوگ انبیاء کرام اور رسل عظام کی مخالفت کرتے ہیں اور پھر کرتے ہی چلے جاتے ہیں جب ان کو دی گئی مہلت ختم ہوجاتی ہے اور وہ اپنے حصے کی خوشیاں پوری کرچکے ہیں تو ان کو طرح طرح کے مصائب و آلام میں گرفتار کردیا جاتا ہے حالانکہ اس عذاب کا دراصل مطلب تو یہ ہوتا ہے کہ وہ اس سے سبق حاصل کریں اور اپنی اصلاح کے لئے کوئی کوشش کرلیں۔ توبہ و استغفار کر کے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں لیکن وہ عذاب کے ان جھٹکوں سے سلجھنے کی بجائے مزید سرکشی میں بڑھ جاتے ہیں اور دراصل یہ ان کی جہالت اور بیخبر ی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ جہالت ایک تو وہ ہوتی ہے جو ناخواندگی کے باعث ہوتی ہے لیکن سب جہالتوں سے مہلک اور بڑی جہالت وہ ہے جو خواندگی کے بعد بھی قائم رہتی ہے اور دنیوی علم آجانے کے بعد بھی وہ زائل نہیں ہوتی اور یہ بات قبل ازیں بہت دفعہ کی جا چکی ہے کہ اکثر لوگ ناخواندگی ہی کو جہالت سمجھتے ہیں حالانکہ ناخواندگی اور چیز ہے اور جہالت اور چیز ہے بہت لوگ ایسے گزرے ہیں اور اب بھی موجود ہیں جو خواندہ نہیں ہیں لیکن اکو جلال بھی نہیں کہا جاسکتا اور بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ علوم کے حاصل کرنے کے لحاظ سے تو ان کے پاس بہت بڑی بڑی ڈگریاں اور بڑے بڑے عہدے ہوتے ہیں یہاں تک کہ حکومت کے ایوانوں میں ان کی کثرت ہوتی ہے اور ملک کے بڑے بڑے عہدوں پر وہ فائز ہوتے ہیں لیکن ہوتے پر لے درجہ کے جاہل اور ایسے ہی جاہلوں کا اس جگہ ذکر کیا گیا ہے کہ انکو عذاب الہٰی کے چھوٹے چھوٹے جھٹکے دیئے جاتے ہیں لیکن وہ ان سے ٹس سے مس نہیں ہوتے اور نہ ہی اپنی روش بدلنے کی ذرا پروان ان کو ہوتی ہے۔ تعجب ہے کہ یہی حال اس وقت ہمارے مذہبی علماء حضرات کا ہے کہ کہلانے کو تو وہ علامہ اور حضرت السلام جیسے خطابات سے نوازے جاتے ہیں لیکن ان کا اپنے آپ کو علامہ اور حضرت السلام سمجھنا اور اس تکبر میں رہنا کہ ہم چومادیگرے نیست ان کی جہالت پر دال ہوتا ہے اور ایسے ہی (لا یعفلون) کا ذکر زیر نظر آیت میں کیا گیا ہے اس کی وضاحت (غزوہ الوثقی) جلد ششم سورة الانبیاء کی آیت 44 میں ‘ سورة النحل کی آیت 52 اور جلد ہفتم سورة العنکبوت کی آیت 40 ‘ 41 میں گزر چکی ہے۔
Ayah 52:48

وَ اصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَاِنَّكَ بِاَعْیُنِنَا وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ Open ayah 52:48 in the Quran reader

اور آپ ﷺ اپنے رب کے حکم کا انتظار کیجئے بہرحال آپ تو ہماری نظروں میں ہیں اور آپ ﷺ اپنے رب کی تسبیح اور اس کی حمد بیان کرتے رہیے جب آپ کھڑے ہوں

آپ ﷺ اے پیغمبر اسلام ! صبر کیجئے اور اپنے رب کی حمد اور تسبیح بیان کرتے رہئے 48 ؎ اب سورت کا اختتام ہونے کو ہے اور نبی اعظم ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ جس قوم کی طرف آپ ﷺ کو مبعوث کیا گیا ہے وہ قوم نہایت اکھڑ اور اجڈ ہے اور عقل و فکر اور سمجھو سوچ ان کے قریب سے بھی نہیں گزری اس لئے وہ آپ ﷺ کے خلاف ہر وقت طرح طرح کی سازشوں میں مصروف ہیں اور ان کی ہر دوسری چال پہلی چال سے خطرناک ہوتی چلی جا رہی ہے ان کا معاملہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اور وہ جو کچھ کر رہے ہیں ہماری ہی دی گئی مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کر رہے ہیں اور وہ یہ بات نہیں سمجھ رہے کہ وہ اس طرح کی حرکتوں سے نقصان کس کا کر رہے ہیں۔ ہم نے آپ ﷺ کو بھیجا ہے کہ آپ ﷺ ان تک ہمارا پیغام پہنچا دیں ‘ ہمارے علم میں ہے کہ کون ان میں سے سیدھی راہ چلے گا اور کون الٹی راہ پر چلتا جائے گا لیکن اگر کوئی اس ہدایت کو قبول کرتا ہے تو آپ ﷺ کا کچھ فائدہ نہیں کرتا اور اسی طرح اگر کوئی الٹی راہ چلتا ہے تو بھی آپ ﷺ کا کچھ نہیں بگاڑتا۔ وہ لوگ جو جو تکلیف آپ ﷺ کو دے رہے ہیں وہ بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہیں اور جس طرح آپ ﷺ ان کے ان دکھوں کو برداشت کر رہے ہیں وہ بھی ہم سے کوئی پوشیدہ نہیں ہیں۔ آپ ﷺ کی مخالفت کا ہم نے ذمہ لیا ہے اور آپ ﷺ کو کامیاب کرنے کا ہم نے اعلان کردیا ہے اور یہ بات آپ ﷺ دیکھتے اور پڑھتے چلے جا رہے ہیں کہ ہم نے ہمیشہ اپنے نبیوں اور رسولوں کو کامیاب و کامران کیا ہے۔ آپ ﷺ اپنا کام جاری رکھیں اور اپنے رب کی حمد و تسبیح کرتے رہیں جب بھی آپ ﷺ کھڑے ہوتے ہیں گویا تمہاری مجلسوں کی ابتدا بھی اسی سے ہے اور انتہا بھی اسی سے اور آپ ﷺ جہاں بھی جائیں اور جس حال میں بھی ہوں آپ ﷺ کی کوئی حالت بھی ہم سے پوشیدہ نہیں ہے اور بلاشبہ آپ ﷺ کی حفاظت کے لئے ہمارے پاس بہت سے اسباب ہیں کیونکہ جتنے اسباب بھی ہیں اب سب کا سبب ہم خود ہیں اور پھر ہم سے بڑھ کر کون ہے جو کسی کو کوئی فزند پہنچا سکتا ہے۔ یہ بات ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ تسبیح و تہلیل اور حمد و تعریف کیا چیز ہے اور اس سے کیا مراد ہے اور بلاشبہ وظائف و اور راد بھی زبان سے پڑھے جاتے ہیں لیکن سب سے بڑا اور بہتر وظیفہ کیا ہے ؟ یہی کہ انسان کے فعل و عمل اور قول میں یکسانیت آجائے۔ زبان جو کچھ کہہ رہی ہو ہاتھ اس کو کر رہا ہو۔ لیکن ان اور راد و وظائف سے کیا حاصل جو زبان سے تو بصورت الفاظ جاری ہوں اور ہاتھ بالکل ان کے خلاف عمل کر رہے ہوں گویا حالت یہ ہو کہ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام۔ اور راد و اذکار اور وظائف کا پڑھنا اور ورد کرنا بالکل صحیح اور درست لیکن وہی بات جو قبل ازیں ہم نے اوپر ذکر کردی ہے کہ جب زبان اور عمل آپس میں مطالبات کر رہے ہوں اٹھنے بیٹھتے ‘ چلتے پھرتے ‘ مجلس میں اکٹھے ہوتے ‘ مجلس کو برخاست کرتے ‘ نماز کو جاتے اور نماز سے فارغ ہو کر اور بعد از فراغت سب مقامات کے الگ الگ اذکار کتب احادیث میں کثرت سے پائے جاتے ہیں اور ایک ایک رکن و حرکت کے لئے کئی کئی وظائف و اور راد بھی مذکور ہیں ان کو یاد کرنا اور ان کا پڑھنا لاریب باعث برکت ہے لیکن انہی لوگوں کے لئے جو قوبل و فعل میں یکسانیت رکھتے ہیں۔ زیر نظر آیت کے تحت ہمارے اکثر مفسرین نے ان اذکار میں سے بعض کا ذکر بھی کیا ہے لیکن چونکہ ان اذکار کی کتب عام پائی جاتی ہیں اس لئے ہم نے وظائف کو اس جگہ درج کرنے کی بجائے بار بار یہ تلقین کی ہے جس کی طرف بہت کم دھیان دیا جاتا ہے۔
Ayah 52:49

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اِدْبَارَ النُّجُوْمِ۠ Open ayah 52:49 in the Quran reader

اور رات میں اس کی پاکیزگی بیان کیا کریں اور تاروں کے غروب ہونے کے بعد بھی

رات کو بھی اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کریں اور تاروں کو غروب ہونے کے بعد بھی 49۔ دنیا کی کامیابیاں حاصل کرنے کے لئے کیا گیا مصیبتیں اٹھانا پڑتی ہیں اگر اس بات کا پتہ چلان ہو تو دنیا کے کسی بادشاہ کا تذکرہ پڑھ کر دیکھ لو لیکن اس میں چونکہ صرف ناموری مقصود ہوتی ہے اس لئے اس راہ میں شکست دینا اور شکست کھانا دونوں کا احتمال موجود ہوتا ہے تاہم اس کے لئے سارا انحصار مادی دنیا پر ہوتا ہے کہ فوج اکٹھی کرو اور دنیا کے سرو سامان ایک دوسرے سے بڑھ کر کرو۔ چالیں چلنے اور دھوکہ و فریب کرنے میں مہارت حاصل کرو لیکن نبوت و رسالت کا تعلق خالصتاً باللہ ہوتا ہے اور یہاں اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب ہوتی ہے۔ ملک حاصل کرنا اور حکومت کرنا اصل مقصود نہیں ہوتا اس لئے یہاں کوئی کام بھی ایسا نہیں کیا جاتا جس کا نتیجہ صرف اور صرف ملک گیری ہو یہی وجہ ہے کہ تم جب بھی کسی نبی و رسول کا تذکرہ پڑھو گے تو تم کو معلوم ہوگا کہ نبوت و رسالت میں اصل چیز توحید الٰہی اور یوم آخرت کے عقیدہ کو ماننا اور تسلیم کرنا ‘ برائیوں سے اجتناب اور نیکیوں کی تلقین کا ذکر آتا ہے اور پھر نبی و رسول کام کام صرف پیغام پہنچانے کی حد تک محدود ہوتا ہے۔ ہاں ! اس پیغام پہنچانے میں جو مزاحمت ہوتی ہے اس کو دور کرنا اور اس کا دفاع اخلاق و کردار کے ہتھیار سے کرنا لازم ہوتا ہے لیکن جب مخالفین حلقہ تنگ کرتے چلے جائیں تو آخرکار جہاد کرنا ہوتا ہے گویا ساری منزلیں طے کرنے کے بعد جنگ ناگزیر ہوجائے تو جان حاضر کرنا ضروری و لازم ہوجاتا ہے۔ زیر نظر آیت اور گزشتہ آیت دونوں کا مضمون ایک ہے اس پر غور کرو کہ ظالموں کے ظلم کا دفاع کس طریقہ سے کیا جا رہا ہے۔ فرمایا : ظالم ظلم کر رہے ہیں اور آپ ﷺ کو اے پیغمبر اسلام ! اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو سوئی کے ناکے سے گزارنے کی اسکیمیں کر رہے ہیں ہم ان کو بھی دیکھ رہے ہیں اور آپ ﷺ کو بھی لیکن اس کے باوجود ان کے ظلم و زیادتی کو برداشت کرنے کی تلقین کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ اس غم اور دکھ کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید کا ہتھیار استعمال کریں اور اللہ تعالیٰ کی یاد میں کھڑے ہوں اور جب بھی کھڑے ہوں تو اپنے رب کی حمد اور اس کی پاکیزگی بیان کریں اس طرح ذکر الٰہی سے جو قوت پیدا ہوتی ہے اس وقت کو جمع کرنے میں لگے رہیں اور ان مخالفین کی زیادتیوں کو برداشت کرتے چلے جائیں۔ حالات ہماری نظر میں ہیں اور سب کچھ ہم دیکھ رہے ہیں آپ ﷺ کی اس تسبیح وتحمید سے جو قوت آپ ﷺ کے اندر پیدا ہوگی وہی قوت آپ ﷺ کے مخالفین و معاندین پر اس طرح گرے گی جس طرح آسمانی بجلی گرا کرتی ہے۔ بس آپ ﷺ جب لوگ سوئے ہوں رات کو اٹھ کر اللہ کی حمد و تسبیح کے گیت گائیں اور خصوصاً اس وقت بھی جب ستارے ڈوب رہے ہوں۔ اس سے ان شاء اللہ اسلام کی فجر طلوع ہوجائے گی کفر کی رات گا سارا اندھیرا غائب ہوجائے گا گویا کفر کی رات ختم ہوجائے گی اور اسلام کا سورج طلوع ہوجائے گا۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ جو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا وہی ہوا۔ یہ سورت مکی سورتوں کے آخری دور کی سورت ہے اس کے بعد جلد ہی ہجرت کا حکم آپ کو مل گیا اور ہجرت کے ساتھ کفر کی رات چھٹ گئی اور اسلام کی فجر طلوع ہوگئی اور فجر ہونے کے بعد کتنی دیر لگتی ہے کہ سورج نظر آنے لگتا ہے۔ (ادبار) کی اصل دب رہے جس کے معنی پیٹھ پھیرنے کے ہیں اور یہ بات مشاہدہ میں ہے کہ فجر طلوع ہوتے ہی ستارے پیٹھ پھیرنا شروع کردیتے ہیں جوں جوں صبح صادق کی روشنی بڑھتی جاتی ہے ستاروں کے غروب کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور ہجرت کے بعد صبح صادق ہوتے ہی صبح کی با جماعت نماز کا آپ ﷺ نے حکم دیا جو تا قیامت اسی طرح بدستور قائم و دائم رہے گا اور مزید وضاحت کے لئے سورة (ق) کی آیت 39 ‘ 40 کی تفسیر بھی دیکھ لیں کہ یہی مضمون وہاں بھی بیان ہوا ہے۔ اور اسی مضمون پر ہم سورة (الطور) کی تفسیر کو ختم کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ہم کو صلوٰۃ تہجد اور صبح صادق کے ہوتے ہی فجر نماز با جماعت ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ سبحانک اللھم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالیٰ جدک ولا الہ غیرک۔ عبدالکریم اثری 23۔ فروری 1288