Ayah 45:21کیا برائیاں کرنے والوں کو ہم نیکیاں کرنے والوں کے برابر کردیں گے ؟
12 ؎ وہ لوگ جو قیامت پر ایمان نہیں رکھتے یا زبان سے اقرار کرنے کے بارجود عملاً اس سے انکاری ہیں او ہر طرح کی بازپرس سے بےغم اور بےفکر ہیں اور ان کی اس زندگی کا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ لوگ ان کو خوب داد دیں اور پورے معاشرہ میں وہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جائیں اور معاشرہ کے سارے لوگ ان کا احترام کریں ۔ اسلام جب ان کو اس کی اس اختراعی اور من گھڑت سرداری او اپنے منہ میاں مٹھو بننے سے روکتا ہے اور ان کو برائیوں سے باز آنے کی تلقین کرتا ہے جن برائیوں میں وہ لتھڑے پڑے ہیں تو وہ ان باتوں سے بگڑ کر بحث و تکرار پر اتر آتے ہیں اور اس سلسلہ میں کہی ہوئی باتوں کو خلاف عقل اور محال ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہوجاتے ہیں اور باتوں کو ہیر پھیر کر وہ اس جگہ پہنچ جاتے ہیں کہ اچھا فرض کرلیا کہ یہی خدا وہاں بھی ہوگا جو یہاں ہے تو پھر جب اس نے ہم کو یہاں وہ سب کچھ دے رکھا ہے اور نعمتوں اور آسائشوں سے بہرہ ور کیا ہے تو بلا شبہ وہ ہم کو وہاں بھی محروم نہیں رکھے گا اور ہم گناہگاروں کو وہاں بھی اپنی مہربانیوں اور رحمتوں سے نوازے گا ، ان کی اس غلط فہمی کو و کیا جا رہا ہے کہ کیا وہ بھی تم سمجھتے ہو کہ ہم بدکاروں اور نیکو کاروں کو ایک ہی جیسے انعام و اکرام سے نواز دیں گے ؟ نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا اور ان کا ایمان اور کفر دونوں کو کبھی ایک نگاہ سے نہیں دیکھا جاسکتا۔ دارالعمل اور دارالجزا کے فیصلے یکساں نہیں ہو سکتے۔ عمل کے وقت میں جو عمل ہوتا ہے جزا کے وقت میں اس کے عمل کے طابقجز دی جاتی ہے کتنا غلط فیصلہ ہے جو ان لوگوں نے اپنے دل میں جما رکھا ہے۔ { اجترحوا } کا اصل مادہ ح ر ح ہے اور { اجتراح } کے معنی ہیں اس نے گناہ کمایا اور { اجتراح } کی جمع اجتر حوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب یعنی انہوں نے گناہ کمایا اور پھر { سیاتِ } کا لفظ ساتھ لگا کر مزید اس کی وضاحت کردی گئی کہ کیا برائیاں کمانے والے ایسا خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو اور نیکیاں کرنے والوں دونوں کو برابر برابر قرار دے دیں اور ان کے ایمان اور کفر کی قیمت ایک ہی جیسی لگا دیں حالانکہ ان میں سے ایک گروہ کی زندگی اور موت سب اللہ کے حکم کے طابع گزری اور دوسرے کی اللہ تعالیٰ کے حکم کے سراسر خلاف اور پھر نتیجہ دونوں کا برابر ؟ کتنا برا فیصلہ ہے جو تم لوگوں نے بزعم خویش کرلیا ہے۔ اس کی وضاحت مزید چاہتے ہیں تو عروۃ الوثقی جلد چہام سورة یونس کی آیت 4 ، 5 سورة النحل کی آیت 83 ، 93 سورة حج کی آیت 7 ، 8 جلد ششم سورة النمل آیت 92 ، جلد ہفتم سورة الرعد آیت 8 ، سورة ص آیت 82 وغیرہ کا مطالعہ کیجئے۔
Ayah 45:22ہر متنفس کو اس کی کمائی کا بدلہ اس کی کمائی کے مطابق دینا جاتے گا ، کسی پر ظلم نہیں ہو گا
22 ؎ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ان آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے ساتھ انسانوں کی جزاو سزا کا کیا تعلق ہے ؟ اس میں انسان کو تفہیم کرائی گئی ہے کہ انسان ہی خلاصہ کائنات ہے کیونکہ اسی کی خاطر ان آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کچھ انسانوں ہی کے لئے ہے محض کھیل اور تماشا کے لئے ان کو نہیں پیدا کردیا گیا بامقصد پیدا کیا گیا ہے جب یہ سب کچھ انسانوں کی خاطر ہے تو آخر انسان کیوں ؟ فرمایا اس لئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ان ساری چیزوں سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے اختیار سے جو اللہ نے اس کو دیا ہے یہ فیصلہ کرے کہ اس کو زندگی اللہ کے احکام کے مطابق گزارنا ہے یا اللہ کے احکام کے خلاف ؟ پھر جب وہ اللہ کے احکام کے خلاف زندگی بسر کرے گا تو اللہ تعالیٰ کو حق ہے کہ اس کو عذاب میں مبتلا کرے اور اگر ان احکام کی پابندی کرے گا تو اللہ تعالیٰ کو حق ہے کہ وہ اس کو انعام و اکرام سے نوازے گویا اس طرح جو کچھ اس کائنات میں پیدا کیا گیا ہے وہ انسانکیآزمائش کے لئے ہے کہ آیا انسان اللہ کے دیئے ہوئے اختیارات او ذرائع و وسائل کو صحیح طریقہ سے استعمال کرنا ہے یا غلط طریقہ سے۔ پھر جن لوگوں نے ان اختیارات اور ذرائع و وسائل کو صححا طریقہ سے استعمال کر کے اچھاکارنامہ سرانجام دیا ہو ان کو اور ان کے جنہوں نے اختیارات او ذرائع کو غلط طریقہ سے استعمال کیا ہے دونوں کو برابر قرار دیا جائے تو یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے اور ظاہر ہے کہ ظلم اللہ رب کریم سے محال ہے لہذا ان دونوں فریقوں کو ان کے اعمال کی جزا و سزا دینے کے لئے اس دن کا ہونا لازم و ضروری قرار پایا جس کو روز قیامت یا فیصلے کا دن یا عدل و انصاف کا دن کہا جاتا ہے اور یہی مقصد اس سارے نظام کائنات کا ہے خواہ وہ آسمان ہوں یا زمین ہو۔
خلاصہ کی بات کیا ہوئی ؟ یہی کہ اگر ایک نیک انسان کو اس کی نیک اور ایک بڑے انسان کو اس کی برائی کا پورا بدلہ نہ ملے تو یہ ظلم ہے اور پھر چونکہ ظلم اللہ تعالیٰ کی ذات سے محال ہے اس لئے اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک دن مقرر کردیا ہے جس دن ہر ایک انسان کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے دیا جائے گا جو نیکی کا بدلہ ہو گا وہ اچھا اور جو برائی کا نتیجہ ہوگا وہ بہرحال برا ہوگا اور کسی پر ایک ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا اور کسی کو اس کے لئے کئے سے زائد سزا نہیں دی جائے گیا و جزا سے زیادہ دینے کو ظلم بہترحال نہیں کہا جاسکتا بلکہ اس کو احسان اور رحمت ہی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 45:23لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو اپنے نفس ہی کو اپنا خدا بنائے بیٹھے ہیں اور ان کی پہچان ؟
32 ؎ اللہ رب ذوالجلال والاکرام بھی اس بات کا حقیقت میں مستحق ہے کہ انسان جو کام بھی کرے صرف اور صرف اسی کی رضا کے لئے کرے کیونکہ وہی ہر کام کی جزا مرتب کرنے والا ہے لیکن بہت سے انسان ایسے بھی ہیں جو جو کام بھی کرتے ہیں ان کا مطمع نظر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی نہیں بلکہ اپنی خواہش کی پیروی ہوتی ہے اور خواہش ہی کا بندہ بنکر رہ جاتے ہیں جس کام کو انکا جی چاہے وہ کیا اور جس کو جی نہ چاہا نہ کیا گویا اصل مطلوب ان کا اللہ کی مرضی اور رضا نہیں ہوتا بلکہ اپنی خواہشات یا اپنے دل کی رضا اور مرضی ہوتی ہے اور اس طرح وہ حلال و حرام کی تمیز کئے بغیر ، حق اور ناحق دیکھے بغیرجس کام کو ان کا دل چاہے اس کو کرتے ہیں اور جس کام کو انکا دل نہ چاہے اس کے قریب نہیں جاتے۔ جن چیزوں کو اللہ نے فرض ٹھہرایا ہے اور اللہ کے رسول ﷺ نے خود بھی اسے کیا ہے اور دوسروں کو بھی حکم دیا ہے کہ وہ کریں لیکن اگر ان کے دل میں وہ نہیں جمتا تو وہ بطیب خاطر اس کو ترک کردیتے ہیں اور کبھی اس کی طرف ان کا دھیان بھی نہیں کیا کہ یہ کوئی کام ہے اس طرح بہت سے ایسے کام وہ بصد شوق کر گزرتی ہیں جن سے اللہ نے بہت سختی کے ساتھ منع کیا ہے اور محض اس لئے کرتے ہیں کہ انکا جی چاہتا ہے کہ وہ اس کو کریں۔ ان لوگوں کو کہا جارہا ہے کہ یہ لوگ بتوں ، قبروں ، نبیوں ، رسولوں ، ولیوں ، پیروں ، مرشدوں ، مذہبی یا سیاسی لیڈروں کی پر شست تو نہیں کرتے لیکن اپنے نفس کی ضرور پرستش کرتے ہیں اور ظاہر ہے کہ نفس کسی انسان کا بھی ہو وہ اللہ تو نہیں ہو سکتا لیکن اس کے باوجود جو شخص محض اپنے نفس ہی کی خوشنودگی کا طالب ہے اس کو نفس کا بندہ نیں کہا جائے گا تو تو اور کیا کہا جائے ؟ لاریت جس شخص پر اس کی خواہشات کا اس طرح قابوہو جائے تو وہ گویا اپنی خواہش کا بندہ بن گیا اور اس نے گویا اپنی خواہش کا خدا بنا لیا۔ قرآن کریم نے ہوائے نفس کی پیروی اور اتباع سے منع فرمایا ہے اور اسی سے زیر نظر آیت میں بھی دراصلروکنا مقصود اصل ہے اور یہ بات واضح ہے کہ آج بھی ان غرض کے بندوں کی کوئی کمیموجود نہیں ہے لیکن ہم گزشتہ لوگوں کی داستانیں سننے اور سنانے کے عادی ہوچکے ہیں اس لئے ہم اپنی تسکین کے لئے انہیں کے قصے سناتے رہتے ہیں نہ تو کبھی اپنے نفس کا تجزیہ کر کے دکھایا ہے کہ وہ ہم سے کیا کر ارہا ہے اور نہ ہی اپنے نفس کی کسی دوسرے کو بات کرنے دیتے ہیں اور یہی حال ہمارے مذہبی پیشوائوں کا ہے کہ وہ کبھی اپنے نفس کی یا اپنے ور کے دوسرے خناس لوگوں کی اس بیماری کا ذکر نہیں کریں گے جب بولیں گے تو گزشتہ لوگوں کے واقعات سیمثالیں لا کر انکے دل کو خوشک رنے کے لئے ایسی باتیں بنائیں گے جو نہ زمین میں سما سکیں اور نہ آسمان میں اور یہ محض اس لئے کرتے ہیں کہ گزشتہ لوگ وہاں موجود نہیں ہیں اور نہہی انکی اولادیں اس وقت موجود ہیں جن سے وہ خائف ہوں لیکن اس زمرہ کے لوگوں کی اس وقت بھی کوئی کمی موجود نہیں ہے اور خصوصاً موحد کہلانے والوں میں انکی کثرت پائی جاتی ہے کیونکہ وہ قبروں ، نبیوں ، ولیوں اور اسی طرح کے سارے معبود بنائے جانے والوں کا ساتھ نہ دینے کے باعث اپنے آپ کو موحد کہتے لیکن اس شرک میں وہ بھی مبتلا ہیں کیونکہ وہ اس کو شرک خیال نہیں کرتے حالانکہ یہ شرک بھی بعینہ ایسا شرک ہے جیسے دوسرے غیر اللہ کو اللہ اور الہ یا حاجت روا اور مشکل کشاکہنا شرک ہے بلکہ بعض صورتوں میں یہ دوسرے شرکوں سیبھی برا ہے۔ اگر مزید وضاحت چاہتے ہو تو عزوۃ الوثقی جلد ششم سورة الفرقان کی آیت 34 کا مطالعہ کریں۔
یہ جو فرمایا ہے کہ اضلہ اللہ علی علیم تو ایک معنی و مفہوم تو وہ ہے جو اوپر ترجمہ میں واضح کیا ہے کہ اللہ اس کو اپنے علم کی بنا پر کہ وہ خواہش نفس کا بندہ
ہے اسے گمراہی میں پھینک دیا اور وسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو شخص عالم ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی طرف سے گمراہی میں پھینکا گیا کیونکہ وہ خواہش نفس کا بندہ بن گیا اور یہ پہلے مفہوم سے بھی زیادہ واضح ہے اور حالات کے تقاضے کے زیادہ قریب ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے کسی شخص کو گمراہ کردینے ، اس کے کانوں ، آنکھوں اور دل پر مہر لگا دینے کا مفہوم ہم اس سے پہلے متعدد مقامات پر عرض کرچکے ہیں۔ ملاحظہ ہو عروۃ الوثقی جلد اول سورة البقرہ کی آیت 7 جلد سوم سورة الانعام آیت 39` 25 سورة الاعراف آیت 100 ، جلد چہارم سورة التوبہ آیت 93` 87 سورة یونس آیت 74 سورة ابراہیم آیت 27 جلد پنجم سورة النحل آیت 107 ، سورة بنی اسرائیل آیت 46 جلد ششم سورة الروم آیت 59 جلد ہفتم سورة فاطر آیت 8 سورة ال مومن آیت 35 کی تفسیر ملاحصہ کریں۔
جس طرح زیر نظر آیت میں خواہش کے بندوں کا ذکر کیا گیا ہے اسی طرح اس آیت میں آخرت سے انکار کرنے والوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے اس سے خود بخود وضاحت ہوگئی کہ جو خواہش کے بندے ہیں وہ حقیقت میں قیامت کے بھی منکر ہیں اگرچہ وہ زبان سے نہ تو خواہش کا بندہ ہونے کا اقرار کریں اور نہ ہی قیامت کا انکار کریں کیونکہ اس طرح انہوں نے عملی طور پر انکار کردیا اور عملی انکارہی اصل انکار ہے اور پھر جب شرک کا ارتکاب بھی ہوگیا اور قیامت سے انکار نے بھی تو آخر پیچھے رہ ہی کیا گیا جس کا وہ اقرار کریں گے اور اس طرح یہ کہ اگر وہ اقرار کریں گے بھی تو اس کی اللہ کے ہاں کیا وقعت ہوگی ؟ اور اس طرح ذرا مزید غور کرو جب اللہ کی طرف سے ہدایت نہ دی جائے تو آخر کون ہے جو اللہ پر سبقت لے جا کر ان کو ہدایت دے دے گا ؟ بلا ریب نہ کسی کے پاس طاقت ہے اور نہ ہی کوئی ایسا کرسکتا ہے کہ جس کو قانون الٰہی نے اندھا ، بہرا قرار دے دیا ہو کوئی اور آ کر ان کو بینا اور سننے والا بنا دے۔ نصیحت کے لئے تو اتنی بات ہی پر غور کرلیا جائے تو انسان کو کفایت کردیتی ہے اور اس کے سارے شکوک شبہات ختم ہو کر رہ جاتے ہیں۔
Ayah 45:24وہ لوگ جو آخرت کی زندگی سے انکاری ہیں کیا ان کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے ؟
42 ؎ آخرت سے انکار کرنے والے بڑے عزم و جزم کے ساتھ آخرت کا انکار کرتے ہیں اور واضح الفاط میں دو ٹوک یہ کہتے ہیں کہ ہمارے لئے کوئی دوسری زندگی نہیں ہے اور یہ بات کہنے والے محض ایک بےدلیل بات کرتے ہیں۔ کسی طرح وہ دوسروں پر بےدلیل ہونے کا الزام دے رہے ہیں یہ وہی بات ہوئی کہ چور بھی اور چتر بھی۔ ان لوگوں نے جو یہ بات کہی ہے کہ ہم خود ہی زندہ ہوتے ہیں اور مرتے ہیں تو انہوں نے یہ بات کس دلیل سے کی ہے کیا یہ سارا نظام جو اس کائنات کا چل رہا ہے جس میں اس قدر نظم و ضبط ہے کہ اس پر سارے حسابوں کا دارومدار رکھا گیا ہے یہ بغیر کسی کے بنائے بن گیا اور بغیر کسی چلانے والے کے چل رہا ہے اگر یہ بات کہنے میں سچے ہیں تو آخر ان کو کوئی دلیل تو پیش کرنی چاہئے اگر آخرت سے انکار کرنے والے اس معاملہ میں کچھ کہہ سکتے ہیں تو وہ زیندہ سے زیادہ یہ ہو سکتی تھی کہ ہم نہیں جانتے کہ مرنے کے بعد کوئی زندگی ہوگی یا نہیں ؟ لیکن انہوں نے تو اس عزم و جزم سے کہا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ ” اس دینیوی زندگی کے بعد کوئی اور زندگی نہیں ہے “ اور ظاہر ہے کہ یہ اس دعویٰ کے مقابلہ میں کہ اس دنیوی زندگی کے بعد آخرت کی زندگی بھی ہوگی اور ایک دعویٰ ہے جو انہوں نے کیا ہے نہ کہ عدم علم کا اظہار ہے پھر دعویٰ کرنے الے کے لئے تو لازم ہے کہ وہ کسی دلیل کی بنا پر دعویٰ کرے بغیر دلیل دعویٰ تو نہیں کیا جاسکتا ۔ رہے وہ وگ جنہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ آخرت میں ہم سب انسانوں کو دوبارہ پیدا ہونا ہے تو انہوں نے اس
دعویٰ کی دلیل بھی پیش کی ہے جو نہایت واضح ہے کہ ہمارا پہلی بار پیدا ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ آخرت میں بھی ضرور پیدا کئے جائیں گے اور وہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ دنیا میں کوئی شخص یہ ثابت نہیں کرسکتا کہ عم ہو او عمل کا نتیجہ نہ ہو اور اس طرح یہ بھی کہ عمل کا نتیجہ عمل کے مطابق ہوگا یعنی اگر عمل اچھا ہی تو نتیجہ بھی اچھا ہوناضروری ہے اور اگر عمل برا ہے تو نتیجہ بھی برا نکلنا چاہئے اور اس طرح یہ بھی کہ یہ دنیا دارالعمل ہے اس میں ضروری نہیں کہ ہر عمل کا نتیجہ اسی وقت عمل کرنے والے کے سامنے آجائے اور یہ ساری باتیں اس بات کی دلیل ہیں کہ اس دنیوی زندگی کے خاتمہ کے بعد اس دن کا ہونا ضروری ہے تاکہ اس زندگی میں کئے گئے اعمال کا نتیجہ اس روز پیش کیا جاسکے پھر ان کی یہ دلیل ہے کہ دنیا میں کوئی کام ایسا نہیں ہے جو کسی کے سر انجام دیئے بغیر خود ہی ہوتا چلا جا رہا ہو اور اسی طرح یہ کہ کوئی چیز خود بخود ہی بنتی چلی جا رہی ہوا کوئی بھی اس کا بنانے والا نہ ہو یہ سب کی سب دلیلیں تو عقلی دلیلیں ہیں جن سے کوئی شخص بھی انکار نہیں کرسکتا اور اس پر نقلی دلیل یہ ہے کہ جتنے انبیاء کرام اور رسل عظام اس دنیا میں تشریف لائے سب نے اس بات کی تصدیق کی اور جتنی کتابیں اللہ تعالیٰ نے نبیوں اور رسولوں پر نازل کیں سب میں اس آخری زندگی کا اثبات موجود ہے اور اس طرح کے بیسیوں دلائل موجود ہیں جو واضح کرتے ہیں کہ آخری زندگی یقینی ہے اور انکار کرنے والے ایک دلیل بھی اپنے دعویٰ پر پیش نہیں کرتے بلکہ صرف اور صرف یہ کہتے ہیں کہ ہم خود ہی زندہ ہوتے اور خود ہی مرتے ہیں اور یہ کہ ہم کو نہیں ہلاک کرتا مگر زمانہ اور اس طرح ہٹ دھرمی اور ضد سے ایک فری اور موہوم بات کو بار بار دہراتے چلے گئے ہیں اور چاہے کہ وہ اپنے اس دعویٰ پر کوئی دلیل پیش کریں ورنہ ضد اور ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر حقیقت کی طرف آئیں اور اس کو تسلیم کرلیں۔ ہاں ! سارے منکرین اسے نہیں ہیں جو بغیر دلیل کے صرف یہ کہتے ہوں کہ ہم خود ہی مرتے ہیں او زندہ ہوتے ہیں بلکہ بعض منکرین دلیل بھی دیتے ہیں لیکن ایسی کہ اس کو دلیل کہتے بھی شرم آتی ہے اور اس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
Ayah 45:25آخرت کا انکار کرنے والوں کی حماقت کہیں یا دلیل بہر حال وہ درج ذیل ہے۔
52 ؎ آخرت کا اثبات پیش کرنے والوں کا دعویٰ کیا ہے ؟ یہ کہ جو شخص اس دنیا میں پیدا ہوا اور اس نے اچھے برے اعمال کئے اور نیا کے اندر اس کو موت دیدی گئی وہ ایک بار مرنے کے بعد دوبارہ اس دنیا میں کسی صورت بھیجا نہیں جاسکتا کہ یہ رب کریم کا فیصلہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ گویا وعدہ ہے اور وعدہ کا خلاف اللہ تعالیٰ نہیں کرتا اور نہ ہی ہونے دیتا ہے اس لئے اگر کوئی شخص دوبارہ زندہ ہو کر دنیا میں آنے کا اقرار کرتا ہے تو وہ بےدلیل بات کرتا ہے جو محض ایک مفروضہ اور وہم ہے اس کے سوا اس کی کوئی حقیقت نہیں اور اس طرح یہ بات ہے کہ جو شخص اس دنیا میں پیدا ہو کر آیا اور اچھے برے اعمال کرنے کے بعد مر گیا وہ قیامت کے روز جب یہ سارا نظام درہم برہم کر کے دوبارہ ایک نظام قائم کیا جائے گا اس روز سارے ان انسانوں کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا تاکہ ان کے اعمال کی جزا ان کو دی جائے اور یہ بات اسی طرح یقینی ہے جس طرح اس وقت زندہ ہونے والوں کی زندگی یقینی چیز ہے۔ جس کا کوئی انکار نہیں کرسکتا اور اس پر محضل دلائل پیچھے گزر چکے جن لوگوں نے اس نظریہ کا انکار کیا ان میں بعض وہ ہیں جنہوں نے کوئی دلیل پیش نہ کی بلکہ محض انکار کیا اور بعض نے بجائے دلیل دینے کے آخرت کا اقرار کرنے الوں سے سوال کردیا کہ اگر تم اپنے اس دعویٰ سچے ہو تو ہمارے باپ دادا میں سے کسی کو ہماری آنکھوں کے سامنے لا کر پیش کرو ان کا یہ سوال ہی گویا ان کے انکار کی دلیل بھی ہے اگر تم ہمارے آبائو اجداد میں سے کسی کو ہمارے پاس زندہ کر کے نہ لے آئو تو ہم تمہارے اس دعویٰ کو سچا نہیں سمجھتے ۔ حالانکہ اس کو سوال یا دلیل سراسر حماقت اور بیوقوفی ہے کیونکہ آخرت کا تصور پیش کرنے والوں نے اس دنیا کے ختم ہونے کے بعد آخرت کا نظام قائم ہونے کے وقت ان کو زندہ ہونے کا کہا تھا نہ کہ اس دنیا میں زندہ کر کے لانے کا بلکہ اس کی تو انہوں نیپہلے ہی نفی کی تھی کہ اس دنیا میں ایک دفعہ مرنے والا دوبارہ زندہ کر کے نہیں بھیجا جائے گا تو اس طرح ان کی دلیل یا سوال کا مطلب یہ ہوا کہ پہلے اپنے دعویٰ کو خود ہی غلط دعویٰ ثابت کر دو تاکہ تمہارے دعویٰ کے غلط ہونے کی دلیل ہم کو مل جائے اس لئے ان کے اس دعویٰ یا ان کے اس سوال کو بغیر جواب دیئے چھوڑ دیا کہ جن لوگوں نے نہ ماننے کی قسم کھائی ہو ان کو منایا نہیں جاسکتا اور یہ بھی کہ منانے کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کے ذمہ لازم نہیں ٹھہرائی کہ یہ کسی کے لئے اختیاری چیز نہیں ہے بلکہ ان کے الٹے سوال یا الٹی دلیل کا سیدھا جواب دیا گیا ہے اور ان پر تنقید کئے بغیر اپنا موقف دوبارہ واضح کردیا ہے تاکہ سامعین اور قارئین اس سے سبق حاصل کریں کہ الٹی باتوں کا جواب نہیں دیا جاتا بلکہ اپنی بات کی صرف تصدیق یا تائید کی جاتی ہے اور جہالت کو سات سلام کہنے کے ساتھ سلامتی کی راہ صرف اور صرف یہی ہے نہ کہ بحث و تمحیص ، کیونکہ پانی بلونے سے کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس کی مزید وضاحت دیکھنا چاہیں تو سورة الدخان جو اسی جلد میں زیر نظر سورة سے پہلے 42 پر گزر چکی ہے اس کی آیت نمبر 23 کی تفسیم بھی ملاحظہ کرلیں ج یہی مضمون اس جگہ بھی بیان ہوا ہے۔
Ayah 45:26آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا وہ دوسری بار بھی پیدا کرے گا :
62 ؎ فرمایا یہ لو بےدلیل باتیں کر کے اپنا سراسر نقصان کر رہے ہیں اور الٹی سیدھی باتیں بنا بنا کر موہوم عمارتیں کھڑی کر رہے ہیں ان کی الٹی بات کا سیدھا جواب ان کو آپ ﷺ دے دیں اور اپنی بات کو زور دے کر واضح طور پر ان کو سنا دیں کہ بھائیو ! سیدھای اور صاف بات یہ ہے کہ تم کو یہ پہلی زندگی دینے والا اللہ ہے نہ کہ اتفاقی زندگی تم کو مل گئی ہے تم سمجھو یا نہ سمجھو تمہارا خالق بہر حال اللہ تعالیٰ ہے اور جس طرح وہ تمہارا پیدا کرنے والا ہے بالکل اسی طرح تم کو موت اور وفات دینے والا بھی وہی ہے اور اور ایک بار پھر کان کھول کر سن لو کہ جس طرح اس نے تم کو پہلی بار پیدا کردیا اور پھر موت بھی دے دی اسی طرح وہ اللہ تم سب کو یا مت کے روز جمع بھی کر دے گا اور اگر تم اس کو اتفاق سمجھتے ہو تو بہر حال سمجھتے رہو ہم تم کو واضح کردیتے ہیں کہ جس طرح تم کو پہلی بار پیدا کرنا اور پھر موت دینا اتفاقاً ہوگیا اسی طرح آخر اپنی زندگی اور موت سے تو انکار نہیں کرسکتے پھر سمجھ لو کہ جس طرح وہ اتفاق ہوا تھا اسی طرح ایک بار دوبارہ جمع کردینے کا اتفاق بھی ہو کر رہے گا اور یہ بات اسی طرح یقینی ہے جس طرح تمہاری اس دنیا کی زندگی ایک یقینی بات ہے جس سے تم بھی کسی سورت انکار نہیں کرسکتے اگر تم اب بھی نہیں سمجھتے تو بہت سے لوگ ایسے ہیں جو فی الواقع ایسا نہیں سمجھتے بلکہ اس معاملہ میں ہم اتنی بات تسلیم کرتے ہیں کہ اکثریت ایسے { لایعلمون } اور { لایعقلون } ہی کی ہے تاہم حق حق کوئی مانے یا نہ مانے۔
Ayahs 45:27–28ہر چیز کا اصل مالک اللہ تعالیٰ ہے ، قیامت قائم ہوگی ، جھٹلانے والے خسارے میں رہیں گے :
72 ؎ { جاثیۃ } کا اصل مادہ ج ث و ہے { جثایجٹر جٹرا “ جلس علی رکبتیہ “ } دو زانو بیٹھنا اور اگر اس کو ج ث ی سے تسلیم کیا جائے تو اس کے معنی ہوں گے گھٹنوں کے بل گرنا یا اوندھے گرنا ۔ دراصل بیٹھنا اور اوندھے گرنا میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ دو زانو بیٹھنا نہایت آرام اور سکون سے بیٹھنا ہے اور مؤدب بیٹھنا ہے لیکن اونھے گرنا یا گھٹنوں کے بل گرے پڑے ہونا شدت عذاب کے خوف سے ہوتا ہے۔ { جثیا } کا لفظ قرآن کریم میں دو بار استعمال ہوا ہے اور دونوں بار سورة مریم میں آیا ہے ایک بار آیت 86 میں اور دوسری بار آیت 27 میں اور { جائیۃ } کا لفظ صرف ایک بار اس جگہ سورة الجاثیہ میں بیان ہوا ہے اس لیء جہاں جہاں یہ لفظ استعمال پر غور کرنا چاہئے ۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ ” تیرے رب کی قسم ! ہم ضرور ان سب کو اور ان کے ساتھ شیاطین کو بھی گھیر لائیں گے پھر جہنم کے گرد لا کر انہیں گھٹنوں کے بل گرا دیں گے۔ “ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ ” پھر ہم ان لوگوں کو بچا لیں گے جو متقی تھے اور ظالموں اور اس میں (دوزخ میں) گھٹنوں کے بل گرا ہوا چھوڑ دیں گے۔ “ دونوں جگہ ہم نے گھٹنوں کے بل گرے ہونے کا ترجمہ کیا ہے اور بہت سے مترجمین نے اس جگہ دو زانو بیٹھنے کی حالت پر بولا جاتا ہے اور دوزخ میں پہنچ کر یا دونوں میں پہنچائے جانے کی غرض سے دوزخ کے ارد گرد بیٹھنے پر دو زانو بیٹھنے کے الفاظ صادق نہیں آتے ہاں ! گھٹنوں کے بل گرائے جانے کا مفہوم سمجھیں آتا ہے اور تقریباً یہی حالت نتیجہ یا رزلٹ سننے کے وقت انسان کی ہوتی ہے کہ وہاں اضطرار و اضطراب کی کوئی کمی نہیں ہوتی خواہ کون ہو اور کیسا ہو کیونکہ جس چیز کا نام نتیجہ وہ چیز ہی ایسی ہے کہ ہر طبیعت میں کھٹکا بہرحال موجود ہوتا ہے ، کسی کو فیل ہونے کا اور کسی کو نبمروں کے شمار کا کہ دیکھتے ہیں کتنے نمبر آتے ہیں اور کیا پوزیشن آتی ہے۔ اس لئے وہاں آدمی آرام و سکون سے نہیں بیٹھ سکتا اور اسی حالت کا اس جگہ بیان ہے۔ فرمایا ہر ایک گروہ خواہ وہ کتنا ہی صالح اور نیک لوگوں کا کیونہ ہو بہزحال حالت اضطراب میں ہوگا اور ہر ایک گروہکو اس کتاب یعنی اعمال نامہ کی طرف دعوت دی جائے گی اور ان کو نتجہن سے پہلے ایک بار متنبہہ کیا جائے گا کہ آج کے دن کسی شخص پر کوئی زیادتی نہیں ہوگی بلکہ اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائیگا۔ یعنی جو رزلٹ آئے گا وہ بالکل صحیح اور درست ہوگا کسی کے ساتھ کوئی کمی بیٹی نہیں کی جائے گی خواہ وہ کون ہے کہاں ہے اور کیسا ہے۔ یعنی مومن ہے ، کافر ہے ، منافق ہے ، نیک و بد جیسا بھی ہے اور یہ بھی کہ اس حاضری کے موقع پر کوئی نہیں جو وہاں حاضر نہ ہو کیونکہ یہ حاضری اختیاری حاضری نہیں ہوگی بلکہ اضطراری حاضری ہوگی اور چار و ناچار وہاں حاضر ہونا ہی ہوگا۔ اور پھر اس طرح { کل امۃ جاثیۃ } ہر گروہ کے لوگ گھٹنوں کے بل پڑے ہوں گے اور ان میں ایک بھی ایسا نہیں ہوگا جو حالت اضطراب میں نہ ہو کیونکہ یہ فطری چیز ہے جس سے کسی کو بھی مستثنیٰ نہیں کیا گیا ہاں ! اضطراب میں کمی بیشی ایک دوسری بات ہے۔ نتیجہ بولنے کی حالت کو مختلف الفاظ و استعمارات میں اور الگ الگ اشارات میں بیان کیا گیا ہے لیکن مفہوم و مطلب سب کا ایک ہی ہے کہ کسی شخص پر کوئی چیز مبہم نہ رہے گی بلکہ جتنا واضح رزلٹ انسان چاہتا ہے اس سے بھی زیادہ واضح اور صاف کر کے اس کو سنایا جائے گا اگرچہ کبھی ان کو وزن کرنے اور تولنے سے تعبیر کیا ہے۔ کبھی دائیں اور بائیں ہاتھ میں دے دیئے جانے کا استعارہ استعمال کیا ہے اور کبھی { اقرا کتابک } اپنی کتاب پڑھ کا اشارہ کیا گیا ہے اور اس طرح مختف مقامات کے لئے مختلف استعارات و اشارات لائے گئے ہیں جس کی تفصیل ان شاء اللہ العزیز سورة التطفیف میں آئے گی جو قرآن کریم میں 38 نمبر پر دی گئی ہے۔ بہر حال وہ دن ہے کہ جس دن ہر ایک انسان کو اس کے عمل کے مطابق گا جو کچھ ملے گا ، کسی کو شک و شبہ نہیں ہوگا اور اگر کوئی شک و شبہ ہوا تو اس کو بھی بہرحال نکال دیا جائے گا اندھا نہیں رکھا جائے گا۔
Ayah 45:29یہ ہماری کتاب ہے جو حق کے ساتھ بولتی اور سب لکھا ہوا واضح کردیتی ہے :
92 ؎ یہ ہمارا تیار کردہ صحیفہ اعمال ہے جو تیرے ریکارڈ کی پوری (Floppy) ہے اور من و عن اس میں سب کچھ آپ کا محفوظ کردیا گیا ہے
تمہارے اعمال میں سے کسی چیز کو کم و بیش نہیں کیا گیا اس کی اس جگہ پر ہاتھ رکھو اور پنے کئے کو سنتے چلے جائو اور اس جگہ ہاتھ رکھو تو اپنے اعمال کرن کا پورا نقشہ دیکھ لو کیونکہ اس میں تمہاری ہر حرکت بھی ساتھ ساتھ نوٹ کی گئی ہے اور یہ بالکل اسی وقت کی آپ کو نظر آئے گی جس وقت تم نے یہ سب کیا اور کہا تھا غور کرو کہ کون ہے جو اس کا انکار کرسکے ؟ کبھی یہ ساری باتیں ایمان بالغیب تعلق رکھتی تھیں لیکن آج کتنی چیزیں ہیں جن کو ہم اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہ ہیں کہ جن لوگوں کو مرے ہوئے بیسیوں سال گزر چکے ہیں ان کو اپن مجلسوں میں اور جلسے جلوسوں میں ہم آج بھی دیکھ رہے ہیں او ان کی شکل و صورت اور لباس و حرکات تک سب کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ہمارے وزیراعظموں ، ملک کے صدر اور دوسرے وزیروں ، مشیروں کو دستخط کرتے ہوئے اور حلف اٹھاتے دکھایا جا رہا ہے حالانکہ ان کو برسوں گزر چکے ہیں اور اب تک شاید زمین ان کے جسموں کو بھ ہضم کرچکی ہے اور روز بروز اس میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے عین ممکن ہے کہ یہ ساری چیزیں ان فضائوں میں ان لوگوں کی محفوظ ہوں کہ آنے والے لوگ ان کو دیکھنے اور دکھانے میں کامیاب ہوجائیں اور اس طرح قرآن کریم کے ایک ایک لفظ کی وضاحت اور تشریح خود بخود ہوتی چلی جائے اور یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ کتاب کا بولنا کتنا صحیح اور کتنا صادق آ رہا ہے کہ جن لوگوں کو مرے ہوئے سینکڑوں سے بھی زیادہ سال گزر چکے ہیں ان کی کتابیں آج بھی ان کے بولنے کو ثابت کر رہی ہیں اور اس طرح وہ کتاب جو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ہاں تحریر ہوتی چلی جا رہی ہے وہ بھی سب انسان کے سامنے پیش کردی جائے گی اور اس کا کسی کو گھورنا ، دیکھنا اور ہاتھ بڑھانا سب کا ریکارڈ محفوظ رکھا جا رہا ہے۔
وہ کتاب جس سے نقل کیا جائے نسخ مصدر (فتح) زائل کرنا بدل دینا ، کار کردینا ، ایک چیز کو دوسری کی جگہ قائم کرنا صورت بدل دینا استنساخ ایک تحریر سے دوسری تحریر نقل کرنا تناسخ (تفاعل) زمانہ کا قرن در قرن اور نوبت بہ نوبت گزرنا انساخ (افعال) لکھوانا انتساخ لکھنا ، زائل کردینا ، آیت میں نہ لکھنا اور نقل کرنا مراد ہے نہ ایک چیز کو زائل کرنا اور باطل کر کے دوسری چیز کو اس کی جگہ قائم کرنا بلکہ اعمال کو ثابت اور محفوظ رکھنے کا حکم دینا مراد ہے۔ (کرخی ) امام راغب (رح) نے المفردات میں لکھا ہے کہ حقیقت میں مفہوم نسخ کے دو جز ہیں ایک چیز کو زائل کرنا اور دوسرا اس کی جگہ دوسری چعیز کو لانا خواہ کسی حکم ساب کو حکم لاحق سے زائل کیا جائے یا ایک صورت کو بدل کر دوسری صورت لائی جائے لیکن کبھی صرف جز ثانی پر ہی نسخ کا اطلاق ہوتا ہے یعنی دوسری چیز لائی جاتی ہے اور پہلیچیز بھی باقی رہتی ہے اور دوسری تحریریں اس کی نقل ہوجاتی ہیں کبھی باوجود اصل شے کے زائل ہوجانے کے دوسری چیز کے محفوظ رہنے کو نسخ کہتے ہیں۔ اول چیز کے زوال سے کوئی تعلق نہیں ہوتا جیسے اعمال انسانی کا اعمال ناموں میں اندراج اور بقاء آیت میں استنساخ سے یہی نسخ مراد ہے کہ اعمال انسانی باوجود بظاہر فنا ہوجانے کے اعمال ناموں میں باقی رہتے ہیں۔ اور آج اس کی مزید وضاحت ہوچکی ہے کہ آٹھ ہزار صفحات کا مضمون دو تولے وزن کی ایک فلاپی (Floppy) میں محفوظ رکھا گیا ہے کہ جب چاہو اس کو تحریر میں منتقل کر کے دیکھ لو اور آج بحمد اللہ کمپیوٹر سسٹم نے اس کی وضاحت ایک حد تک پیش کردی ہے اور عین ممکن ہے کہ اس میں ابھی مزید ترقیاں ہوں اور قرآن کریم کے ان الفاظ کا مفہوم مزید واضح ہوجائے کیونکہ کائنات وہ کھلی کتاب ہے جو قرآن کریم کی مشاہدہ میں آنے والی تفسیم ہے کہ لاریب جو کچھ اس میں موجود ہے ، ہورہا ہے اور ہوگا وہ وہی ہے جو سب قرآن کریم میں محفوظ کردیا گیا ہے اور ہمارا فرض ہے کہ جس طرح ہم گزشتہ تفاسیر کا مطالعہ کرتے ہیں اس کائنات کا مطالعہ بھی کریں اور جو کچھ اس سے پڑھیں وہ قرآن کریم کی تفسیر میں بیان کریں اور درج کریں بلا شبہ اس طرح ہمارے ایمان کو جلا ملے گی اور اس سے ایمان تازہ ہوگا۔
Ayah 45:30ایمان لانے والوں اور نیکیاں کمانے والوں کو کامیاب قرار دیا جائے گا :
03 ؎ وہ لوگ جو اللہ پر ایمان لائے ایسا ایمان لانا جو اللہ پر ایمان لانے کا حق ہے اور اللہ کی کتابوں پر ایمان لائے جو کتابوں پر ایمان لانے کا حق ہے اور رسولوں پر ایمان لائے جو ایمان لانا حق ہے اور آخرت پر ایمان لائے جو آخرت پر ایمان لانے کا حق ہے اور ان سب پر ایمان لانے کی تصدیق ان کے عمل سے ہوجائے گی اگر اعمال اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اور رسول اللہ ﷺ کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق ہوئے اور اس طرح جن کاموں کے کرن کا حکم ہے انکو بخوشی کیا اور جن کو چھوڑنے کا حکم ہے ان کو بخوشی چھوڑ دیا تو لاریب عمل نے تصدیق کردی کہ یہ شخص ایمان لایا ہے اور ایمان لانے میں جو کچھ اس کو کہا گیا تھا اس کے مطابق عمل بھی کر رہا ہے تو ان کو کامیاب قرار دے کر جنت میں ان کے درجہ کے مطابق رکھا جائے گا اور وہاں وہ علاقہ جو اس کے حصہ کا ہوگا اس کا ان کو وارث بنا دیا جائے گا اور بلا شبہ یہی کامیابی وہ حقیقی کامیابی ہے جو ان انسانوں کو نصیب ہوئی کہ ان کو پروردگار عالم کی طرف سے یہ مژدہ جاں فزا سنایا جائے گا کہ اے میرے بندو ! یہ جنت ہے جس میں تم آرام کے ساتھ رہو گے اور تم کو کسی طرح کا کوی غم اور کوئی اضطراب و اضطرار نہیں ہوگا بلکہ اس وقت تمہارے سارے اضطراب و اضطرار گویا ختم ہوگئے جب امتحان میں کامیابی تم کو نصیب ہوگئی اور مبارک ہیں وہ جو بغیر حساب و کتاب ہی جنت میں داخل کردیئے گئے اور کیا شان ہے ان لوگوں کی جو اس کے مستحق ٹھہرے۔
Ayah 45:31منکرین و معاندین کے لئے دوزخ پہلے ہی تیارکر دی گئی ہے
13 ؎ یہ کون لوگ ہیں ؟ وہی جنہوں نے دل کے ساتھ نہ تو اللہ تعالیٰ کو مانا ، نہ اس کے رسولوں ، فرشتوں ، کتابوں اور قیامت کے دن کی تصدیق کی اور اگر زبان سے اقرار بھی کیا تو رسماً کیا اور عملً اس کی تردید کردی۔ اسلام کی زبان میں ان سب کو خواہ وہ کون ہیں ، کہاں ہیں اور کیسے ہیں کافر قراردیا ہے اور اب سب کو ان کے فیل ہونے کی اطلاع کرنے کے بعد اور انکا رزلٹ ان کو سنا دینے کے بعد پوچھا جا رہا ہے کہ کیا تمہارے سامنے ہماری آیتیں نہیں پڑھی جاتی تھیں اور یہ استفسار ان کو شرم دلانے ہی کے لئے کیا جائے گا اور دراصل ان کو بتانا مقصد ہے کہ تمہارا یہ فعل ہونا تم پر کوئی ظلم و زیادتی نہیں ہے بلکہ تمہارے کئے کا ٹھیک ٹھیک نتیجہ ہے کیونکہ تم وہی لوگ ہو کہ جب ہمارے بندے تمہارے سامنے میری آیات پڑھا کرتے تھے تو تم تکبر کرتے ہوئے ۔ ہم چوما دیگرے نیست کی ڈینگیں مارتے ہوئے ہماری آیتوں اور ہمارے بندوں کا جو ہماری آیتیں تم کو پڑھ کر سناتے تھے مذاق اڑاتے تھے۔ پھر تمہارے اس مذاق اڑانے کے باوجود میرے ان بندوں نے تم کو خواب غفلت سے بیدار کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور اس طرح تم نے جو سرکشی اور نافرمانی کی راہ پسند کی تھی اس کے ہولناک انجام سے انہوں نے تم کو بار بار آگاہ کیا اور تم نے بھی ضد اور ہٹ دھرمی میں حد کردی اور آگے بڑھ کر ان نصیحت کرنے والوں کو اذیب اور تکلیف میں مبتلا کرنے کی کوشش کی اور دست درازی کرنے سے بھی باز نہ رہے جس کے نتجہ کو آج تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا جب کہ اس نتیجہ سے تم انکار کرتے تھے او پھر جن آسروں اور سہاروں کے باعث تم نے انکار کیا آج ان میں سے بھی تم کو کوئی نظر نہیں آیا اور یہی بات وہ تم کو سمجھاتے رہے تھے لیکن تم عادی مجرم تھے اس لئے اپن جرم سے باز نہ آئے اور اب جو ہونا تھا وہ ہوگیا۔
Ayah 45:32تم کو اللہ کا وعدہ یاد دلایا گیا تو تم نے برملا کہا کہ یا مت و یا مت کچھ بھی نہیں ہے
23 ؎ گزشتہ آیت میں ان کے تکبر کا بیان تھا اور زیر بیان تھا اور زیر نظر آیت اس کی وضاحت پیش کر رہی ہے کہ ان کے تکبر کی اصلی حالت کیا تھی اور بتایا جا رہا ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ کا ذکر کیا جاتا تھا تو کہتے کہ یہ اللہ اور وعدہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کیا اللہ کا بھی کوئی وعدہ ہے یا وہ بھی کبھی وعدہ کا پابند ہو سکتا ہے کیا اللہ کو بھی تم وعدہ میں جکڑا ہوا سمجھتے ہو کیا تم کو اللہ کا وعدہ کہتے ہوئے شرم نہیں آتی ؟ یہ ڈھکوسلا تم نے کہاں سے حاصل کرلیا ، کس قیامت کی تم بات کرتے ہو ، جتنا منہ ہے اتنی بات کرو او خوب سن رکھو کہ قیامت ویامت کچھ بھی نہیں ہے یہ تو ملاں لوگوں کے وہم و اوہام کا نام ہے جن کے پاس نہ کھانے کو نہ پہننے کو اور جن کو کوئی منہ لگانے کے لئے تیار نہیں ، کوی بات سننے کے لئے تیار نہیں ، کوئی پاس بٹھانے کے لئے تیار نہیں وہ آتے ہیں ہم کو قیامت کی خبریں سنانے پھر یہ بھی کہ تمہارا یہ نظریہ فقط ایک گمان ہی گمان ہے جو ایک مدت سے تمہارے ہی جیسے لوگوں سے سنتے آ رہے ہیں کہ یہ قیامت آئی اور وہ قیامت آئی آج تک تو کچھ نہ آیا اور تم بھی آئے وہی فرسردہ باتیں دہرانے کیلئے جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے ، جائو اپنا کام کرو ہم کو تمہاری باتوں پر بالکل یقین نہیں آتا اور نہ ہی تمہاری باتیں یقین کے قابل ہیں اور اگر اس سے آگے بڑھ کر انہوں نے کچھ کہا تو وہ یہی تھا جس کا ذکر گزشتہ آیت 52 میں گزر چکا کہ ” لے آئو ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو “ جس کا جواب ان کو وہاں دے دیا گیا ہے۔
Ayah 45:33اس وقت ان کی باتوں کی حقیقت کھل جائے گی اور وہ اپنے مذاق کی زد میں ہوں گے
33 ؎ جس چیز کا ان کو یقین نہیں آرہا تھا اور جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اب حقیقت بن کر ان کے سامنے کھڑی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ ان کے بڑے اعمال کے نتائج کھل کر ان کے سامنے آگئے ہیں اور اپنے کرتوتوں کی سزا بھی ان کو سنا دی گئی ہے اور ان کو دیکھو اور پھر ذرا غور سے دیکھو کہ ان کے چہروں سے اس وقت سب کچھ عیاں ہو رہا ہے اور اس وقت وہ اپنے کئے گئے مذاق کی زد میں ہیں اور دیکھو کس طرح { رب ارجعون } کی صدائیں بلھند کرتے ہیں کہ اے اللہ ایک بار ہم کو دنیا میں دوبارہ لوٹا دے تاکہ ہم نیک عمل کریں اور ذرا مجھ کو ڈھیل دے دے تاکہ میں کچھ صدقہ خیرات کرلوں اور نیک لوگوں میں شمار ہونے لگوں لیکن ہم نے تو ان کو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم اس طرح کی اپیلیں کرو گے لیکن وہ دن اپیلیں سننے کے لئے نہیں رکھا گیا وہ تو نتیجہ آئوٹ کرنے کے لئے مقرر کیا گیا ہے اور ان لوگوں کو جزا دینے کے لئے جن کا تم نے مذاق اڑایا اور پھر مذاق اڑاتے ہی چلے گئے اور ان کو طرح طرح سے مصیبتوں اور تکلیفوں میں مبتلا کیا اور آج وہ تم کو اس طرح مصیبتوں اور تکلیفوں میں مبتلا دیکھیں گے تو حقیقی خوشی اسی وقت ان کو ملے گی جب ان کے ساتھ کی گئی زیادتی کا تم سے بدلہ لیا جائے گا اور اس لئے آج تمہاری کوئی اپیل سنی نہیں جائے گی بلکہ تمہارے کئے کی پوری پوری سزا تم کو ملے گی جو ہمارے قانون میں طے ہے اور ہمارا اعلان ہے کہ ہم نہ تو اپنے قانون کے خلاف کرتے ہیں اور نہ ہی ہونے دیتے ہیں اور اب تم کو وہ سب کچھ بھگتنا ہوگا جس کی تم کو خبر دی جا چکی ہے اور تمہارے لئے کوئی کسی طرح کی چھوٹ نہیں ہوگی۔
Ayah 45:34ان سے کہا جائے گا کہ آج تم اسی طرح بھلا دیئے جائو گے جس طرح تم نے اس روز کو بھلا دیا تھا
43 ؎ بھلا دینا نظر انداز کردینے کے مفہوم میں بولا گیا ہے اور ہر زبان میں یہ لفظ اس مفہوم میں بولا جاتا ہے ۔ گویا ان کی چیخ و پکار ، آہ زاری اور اپیل در اپیل کے جواب میں صرف اور صرف ان کو یہ بات سنا دی جائے گی کہ آج تمہاری اس چیخ و پکار اور آہ بکا کی کوئی قیمت ہمارے ہاں نہیں ہے بلکہ آج تو تم کو اسی طرح نظر انداز کردیا گیا ہیجس طرح تم نے اس دن کو نظر انداز کردیا تھا او بار بار سمجھانے والوں کو بھی تضحیک کا نشانہ بنایا تھا اور ان کی باتوں کو سن کر الٹا ان سے مذاق کیا کرتے تھے اور جب تم کو اس روز کے متعلق یاد دلایا گیا تو تم نے ہر بار ایک ہی رٹ لگائی کہ اگر یا مت ہے تو تم ہمارے آبائو اجداد کو ہمارے سامنے لے آئو حالانکہ تم سے کہا گیا تھا کہ یہ قانون الٰہی کے خلاف ہے کہ اس دنیا میں مرنے والوں کو دوبارہ زندہ کر کے لایا جائے اس لئے جس ذات کبریا نے یہ قانون بنایا اور اس کا اعلان کیا ہے وہ تمہاری ضد کی وجہ سے ان قانون کیخلاف نہیں کرے گا تم اپنی زندگی اور موت ہی سے اس فیصلہ تک پہنچ جائو کہ جس ذات نے تم کو پہلی بار پیدا کیا ہے اس نے بغیر تمہاری اطلاع کے تم کو پیدا کردیا اور پھر جب تک اس کے قانون میں تمہارا دنیا میں رہنا تھا رہے اور بغیر تمہارے مشورہ اور صلاح کے تم کو مار دے گا جیسا کہ تمہارے پہلوں کو اس نے مارا اس سے سمجھ جائو کہ وہ دوبارہ پیدا کرتے وقت بھی تمہارے مشورے کا پابند نہیں لیکن تم نے نہ تو اس کا کوئی جواب دیا اور نہ ہی اس روز کی تہہ دل سے تصدیق کی اب وہ دن تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے اور وہ تمہارے آبائو اجداد بھی جن کے متعلق تم بضد تھے اچھی طرح ان کو پہچان لو اور اس دن کے اس عذاب کو بھی جس عذاب کو بین جس عذاب کی تم کو قبل از وقت اطلاع کردی گئی تھی اور یقین نہیں کرنا چاہتے تو بالکل نہ کرو ہم بھی تم کو نہیں کہیں گے کہ ضرور اس کی تصدیق کرو۔
Ayah 45:35ہم نے تمہاری نشانیوں کا مذاق اڑایا اور دنیا کی زندگی پر ریجھ گئے :
53 ؎ تم کو معلوم تھا اور تم اچھی طرح سجھتے کہ جس پیغام کے بھیجنے والے سے بدسلوکی کی جائے اور اس کا مذاق اڑایا جائے تو وہ پیغام پہنچانے والے سے بدسلوکی نہیں ہوتی اور نہ ہی اس سے مذاق ہوتا ہے بلکہ یہ بد سلوکی اور مذاق اس سے ہوتا ہے جس نے پیغام بھیجا۔ کیا وہ تم کو میری آیتیں پڑھ پڑھ کر نہیں سناتے رہے تھے ، کیا انہوں نے تم کو نہیں کہا تھا کہ ہم اس ذات کی طرف سے پیغام لے کر آئے ہیں جس نے تم کو پیدا کیا ، تم کو رزق دینا ، تمہارے لئے اس کائنات کا ذرہ ذرہ پیدا کیا اور ہرچیز کو تمہارے لئے فرمانبردار بنا دیا کہ جس چیز سے تم استفادہ کرنا چاہو کرو اور پھر تم نے کیا اور پھر صرف یہی نہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کہ تمہاری ہدایت کا صحیح بدوبست کیا اور تمہارے کانوں تک کھول کھول کر باتیں پہنچائی گئیں لیکن تم اس دنیا کی زندگی اور دنیا کی نعمتوں میں اس قدر مگن ہوگئے اور یہاں تک ریجھ گئے کہ اسی کو سب کچھ سمجھ لیا اور وہ انعامات جن کی تم پر رب کریم نے بارش کی تھی اور ان کی فراوانی تم کو حاصل تھی اس کو قیامت ویامت کچھ نہیں کہہ کر بہانہ بنا لیا کہ جب ہم قیامت کو نہیں مانتے اور اگر اس کا مننا ضروری ہوتا تو یہ فراوانیاں ہم کو میسر کو اں آتیں اور اس طرح جن چیزوں کا تم کو شکریہ ادا کرنا چاہئے تھا انہیں کو تم نے ناشکری کا باعث بن لیا۔ جن لوگوں نے تمہاری توجہ اس آزمائش کی طرف مبذول کرائی ان کو تم نے الٹا یہ طعنہ دیا کہ یہی تو علامت ہے اس بات کی جو کچھ ہم کر رہے ہیں وہ بالکل صحیح اور تم جو کچھ کر رہے ہو وہ بالکل ہی غلط ہے اگر ہم صحیح نہ ہوتے تو یہ انعامات ہم پر کیوں ہوتے ؟ گویا انہوں نے آزمائش کو انعامات سمجھ لیا اور ان سے کہا کہ یہ انعامات تم پر ہوتے جب یہ سب کچھ ہمارے پاس موجود ہے اور تم بھی اعتراف کرتے ہو اور ہمارے مقابلہ میں تمہارے پاس کچھ بھی نہیں تو معلوم ہوگیا کہ خرابی ہم میں نہیں بلکہ جو
خرابی ہے وہ سراسر تم میں ہے جس کی تم کو سزا دی جا رہی ہے اسی لئے تو ہم لوگوں کو پاگل اور بیوقوف کہتے ہو حالانکہ اس وقت اس طرح جو کچھ بھی انہوں نے کیا محض ان کی سبقت لسانی تھی بلکہ سراسر بیوقوفی تھی کہ انہوں نے آزمائش کو انعام سمجھ لیا۔
ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ آج سے تم کو تمہارے اعمال کی پاداش میں اس جگہ رکھا جائے گا جس جگہ کا تم کو یقین نہیں آ رہا تھا اور تم کو یہاں سے نکلنے ہی نہیں دیا جائے گا اور نہ ہی توبہ کا یہ وقت ہے کہ تم کو توبہ کی مہلت دی جائے جو ملت تھی وہ تو ساری کی ساری تم کو دنیا میں دی جا چکی اور جو جگہ عمل کی رکھی گئی تھی اب تم اس سے نکل آئے یہاں کسی کام کی مہلت نہیں یہاں تو نتیجہ ہی نتیجہ ہے وہ تمہارے سامنے ہے { ولاھم یستعتبون } اور تم کو عتاب دور کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا جائے گا یہ لفظی ترجمہ ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کے رونے چلانے کی کوئی پرواہ نہیں کی جائے ی۔ ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی ان سے نہیں کہا جائے گا کہ اپنے رب سے معافی مانگ کر اس کو راضی کرلو { یستعتبون } جمع مذکر غائب مضارع منفی { استعتاب } مصدر (استفعال) ان سے اللہ کو رضا مند کرنے کی خواہش نہیں کی جائے گی اور بعض مفسرین نے ترجمہ کیا ہے کہ ” ان کے عذاب قبول کئے جائیں گے “ بہرحال اس لفظ کی وضاحت میں لمبا کلام کیا گیا ہے چناچہ لکھا گیا ہے ” ان سے اس بات کی طلب نہیں کی جائے گی کہ وہ توبہ اور اطاعت کر کے اپنے رب کو رضا مند کرلیں کیونکہ اس روز یہ چیزیں مفید نہ ہوں “۔ ” قیامت کے روز وہ الہل کو رضا مند بنانے کے مکلف نہ ہوں گے کیونکہ دار آخرت ، دار تکلیف نہیں ہے بلکہ دارالجزا ہے۔ یعنی مقام عمل نہیں “۔ ” یعنی { ولا یستعتبون } کا معنی ہے لا سترضون یعنی ان سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ اپنے رب کو رضا مند کرلو۔ اس لفظ کا ماخذ عقبیٰ ہے اور عقبیٰ کا معنی ہے رضا مندی ، تو استعتاب کا معنی ہوا طلب رضا اس صورت بھی بظاہر یہ مطلب نکلے گا کہ ان کی رضا مندی طلب نہیں کی جائے گی گویا ان کی ناراضگی کی کوئی پرواہ نہیں کی جائے گی ۔ (زمحشری ، کشاف) { یستعتبون } کا لفظ قرآن کریم میں 3 بار آیا ہے ایک اس جگہ اور اس سے قبل سورة النحل کی آیت 48 ، سوہ الروم کی آیت 75 میں۔ اور اس مادہ کے دو لفظ اور قرآن کریم میں آئے ہیں { یستعتبوا } فصلت کی آیت 42 میں اور { المعتبین } بھی اسی صورت او اسی آیت میں آیا ہے۔
Ayahs 45:36–3763 ؎ ساری اچھی تعریفوں کا مالک اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہے جو آسمانوں کا رب ہے ، زمین کا رب ہے اور تمام جہانوں کا رب ہے ۔ کیا ہی خوب انداز بیان ہے سبحان اللہ ! کہ آنے والے وقت قیامت یعنی روز جزا کے متعلق جو کچھ پیش آنے الا ہے اور منکرین و معائدین کے ساتھ جو چھ ہونے والا ہے اس کی پوری پوری وضاحت کردی اور ایک ایک بات کو کھول کھول کر بیان کردیا اور آنے والے واقعات کو اس طرح بیان کیا گیا کہ گویا وہ ہوچکے اور سب نے اپنی آنکھوں سے گویا ان کو دیکھ لیا تو ان کو باور کرانے کے لئے کہ ابھی وقت ہے تم جو بھول رہے ہو تو سمجھ جائو کہ آنے والا وقت کیسا ہوگا اور اس کے لئے تم کو کیا تاری کرنا چاہئے اور اس بات کو باور کرانے کے لئے کیا پیارا انداز اختیار فرمایا کہ لوگو ! ٖ تم نے کہا سے رب بنا لئے ہیں اور تم نے کیسے سمجھ لیا ہے کہ اگر فلاں ناراض ہوا تو ہمارا رزق بند ہو جئے گا ، ہمارا فلاں کام رک جائے گا اور ہمارے ساتھ یہ ہوگا اور وہ ہوگا یہ بھول تم کو کہاں لگ گئی ۔ رب تو ایک اور صرف ایک ہے اور وہ ہے جو خالق کل ہے مخلوق نہیں تو تم نے اس کی مخلوق سے رب کیسے بنا لئے ؟ تم نے یہ بات کیسے باور کرلی کہ جس سے رب نظر آئے وہی رب ہوتا ہے اس طرح تو کائنات کا ذرہ ذرہ تمہارا رب ہے ، زمین کا رب ہے اور اس کائنات کے ایک ایک ذرہ کا رب ہے اور تم اس ایک اللہ رب ذوالجلال
والاکرام کو چھوڑ کر مخلوق سے رب کیسے تلاش کرنے لگے۔ سن لو اور اچھی طرح یاد رکھو تمام جہانوں کا مانع اور مختار کل ایک اور صرف ایک ہے جو اس کا انکار کرتے ہیں کرتے رہیں ” اس پر اپنے لا حاصل دلائل کا انبار لگاتے رہیں۔ شرک کرنے والے اپنا منہ کالا کرتے رہیں اور شرک کو (توحید) ثابت کرنے کے لئے وہ لاکھ جتن کرتے رہیں ان کے نکار سے حقیقت نہیں بدل جائے گی کوئی مانے یا نہ مانے ہر قسم کی (اچھی ) تعریفوں اور ثنا گستریوں کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہے جو آسمانوں کا رب ، زمین کا رب اور سب جہانوں کا رب ہے۔ سچی اور سرمدی عظمتیں اور ہر نوح کی بڑائیاں اسی ذات کو زیبا ہیں۔ “ (ضیاء) لاریب کسی کے شریک ٹھہرانے سے اس کا کوئی شریک نہیں ٹھہر جائے گا خواہ کوئی ہو ، کون ہو اور کہاں ہو۔
ہر طرح کی بڑائیاں اسی کو زیبا ہیں وہ عزت حکمت والا ہے :
73 ؎ کوئی کتنا ہی مبارک ، کتنا اچھا ، کتنا ہی نیک اور کتنا ہی صاحب اقتدار کیوں نہ ہو بہرحال وہ مخلوق ہی ہوگا ، مخلوق اور خالق کا کوئی مقابلہ نہیں ، خالق خالق ہے اور مخلوق مخلوق ۔ جب اس پوری کائنات ارضی و سماوی کا رب ایک ہے تو پھر وہی تمام کبریائیوں کا مالک ہے اور تمام شاہوں کا شاہ اور ساری مقتدر شخصیتوں پر حقیقی اقتدار رکھنے والا ہے کسی دوسرے کی بڑائی اور کبریائی اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں لاشے ہے۔ سب کو اسی کے سامنے سجدہ ریز ہونا ہے دوسرا کوئی نہیں جو کسی کے سجدہ کا مستحق ہو اور ہم سب کو اسی کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے۔
لاریب وہی اکیلا رب ہے کسی دوسرے کا ربوبیت میں کوئی حصہ نہیں اور ظاہر ہے کہ الٰہ (معبود) وہی ہو سکتا ہے جو رب (مالک و پروردگار) ہو اسی لئے الوہیت میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔
لاریب وہی تنہا کائنات کا خالق ہے ، تخلیق کے اس کام میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہی اکیلا مالک ہے نظام کعالم کا مدیر و منتظم ہے۔ اپنی مخلوقات کا رزق رساں ہے اور ہر کہ ومہ کی مدد کرنے والا ہے ، فریاد رس وہی ہے خدائی کے سارے کاموں میں اس کا کوئی سہیم و شریک نہیں۔
لاریب وہ ہمیشہ سے ہے ہمیشہ رہے گا ، نہ اس سے پہلے کچھ تھا اور نہ ہی اس کے بعد کوئی دوسرا خدا ہوگا۔ وہ اکیلا ہے کوئی اس کی جنس کا نہیں۔ اس کی ذات حض واحد نہیں بلکہ احد ہے جس میں کسی حیثیت سے بھی کثرت کا کوئی شائبہ تک نہیں۔ وہ اجزاء سے مرکب نہیں اس لئے وہ قابل تجزیہ و تقسیم نہیں۔
لاریب وہ وہی ہے جو کوئی شکل و صورت نہیں رکھتا ، وہ کسی ایک جگہ نہیں رہتا نہ وہ کسی جگہ میں مقید کیا جاسکتا ہے۔ اس کا کوئی رنگ نہیں جو اس کے لئے مخصوص ہے۔ وہ اعضاء جہت اور صحت سے پاک ہے اس میں کسی طرح کا کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوتا اور نہ ہی چیزیں اس کی طرف منسوب ہو سکتی ہیں۔
لاریب وہ غالب آنے والا ، عزت و تکریم والا اور حکمت والا ہے ، اس کی بڑائی اور کبریائی کا ہر سوڈ نکا بج رہا ہے ، وہ نہایت ہی دانا اور بینا ہے لیکن دماغ اور آنکھ سے پاک ہے۔ اس دنیا میں اس کو کوئی آنکھ دیکھ نہیں سکتی خواہ کس کی آنکھ ہو کیونکہ اس کا احاطہ ممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے۔ سبحان اللہ وبحدمہ سبحان اللہ العظیم۔
الحمد اللہ اسی مضمون پر سورة { الجاثیہ } کی تفسیر ختم کی جا رہی ہے اور اس جگہ پچیسواں پارہ ختم ہو رہا ہے۔
عبدالکریم اثری
19 / رمضان المبارک ، 18 / جنوری 1998 ء