Ayah 32:17اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے جو کچھ تیار کر رکھا ہے اس کی اصل حقیقت کوئی نہیں جانتا :
17۔ قرآن کریم میں جو کچھ اہل جنت کو دیا جانے والا ہے اس کا ذکر بار بار کیا گیا ہے ۔ اہل جنت کی اقسام بتائی گئی ہیں ۔ ان کے درجات کی بحث ہے ان کو وہاں جو کچھ پیش آئے گا اس کی ایک ایک چیز واضح کی گئی ہے ۔ اہل جنت اور اہل دوزخ کا مکالمہ کرکے ایک دوسرے کو پہچاننے اور ایک دوسرے سے بات چیت کرنے کا ذکر ہے اور ظاہر ہے کہ قرآن کریم سے زیادہ سچی خبر اور کون دے سکتا ہے اور کہاں سے دے سکتا ہے لیکن ساری باتوں کے باوجود زیر نظر آیت میں کہا جا رہا ہے کہ ” پھر جیسا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان ان کے اعمال کی جزا میں ان کے لئے چھپا کر رکھا گیا ہے اس کی کسی متنفس کو خبر نہیں ہے ۔ “ قرآن کریم کے خبر دینے کے بعد اور ہر آدمی کے سن لینے کے بعد پھر یہ بات کہ اس کی کسی کو خبر نہیں ‘ چہ معنی دارد ؟ (فلا تعلم نفس ما اخفی لھم) پھر قرآن کریم کا ارشاد ہے اور جو اوپر مذکور ہو کہ اہل جنت کو کیا کچھ ملے گا اس کی خبر بھی قرآن کریم ہی نے دی ہے اور قرآن کریم ہی کا یہ ارشاد بھی ہے کہ ” میری کسی بات میں تضاد نہیں ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا مطلب ہے ۔ “ اس لئے اس جاننے سے مراد صرف جاننا یا معلوم ہونا نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب ومفہوم یہ ہے کہ جو کچھ ہم نے اہل جنت کے لئے تیار کر رکھا ہے اس کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں اور نہ ہی کسی نے اس کو کھا کر اس کا مزہ معلوم کیا ہے اس لئے چونکہ ایک چیز مشاہدہ میں نہیں لائی گئی اور نہ ہی وہ لائی جاسکتی تھی اس لئے علمی طور پر کسی کے بتانے سے جان لینا کبھی اس طرح کا جاننا نہیں ہوتا جو مشاہدہ اور چیز کو استعمال کرنے کے بعد ماننا اور جاننا ہوتا ہے ۔ لہذا قرآن کریم میں اہل جنت کو جو کچھ پیش کی جانے کی خبر دی گئی ہے وہ حقیقت کے طور پر نہیں بلکہ مثال کے طور پر ہے تاکہ ایک بات کی تفہیم کرائی جاسکے اور ظاہر ہے کہ مثال میں تو وہی چیز پیش کی جاسکتی تھی جس کو انسان کی آنکھوں نے دیکھا اور کانوں نے سنا ہے ورنہ مثال دینے کا مقصد ومطلب ہی فوت ہوجاتا ہے ۔ ان دیکھی چیز کی مثال کو صحیح مثال کہا جاسکتا ہے ، مختصر یہ کہ اس سے یہ وضاحت تو لازما ہوگئی کہ جس چیز سے مثال دی جائے وہ دراصل وہ چیز نہیں ہوتی بلکہ اس چیز سے تشبیہہ ہوتی ہے جو پہلے دیکھی گئی ہو ۔ اگر یہ بات آپ کو باور رہی تو قرآن کریم میں کتنی ہی ایسی باتیں ہیں جو تمہاری خود بخود حل ہوجائیں گی جو آج تک لایخل سمجھی گئی ہیں ۔ آپ نے پیچھے ملکہ بلقیس کے تخت کی بات پڑھی ‘ ملکہ سے پوچھا گیا تھا کہ (اھکذا عرشک) ” کیا تیرا عرش ایسا ہی ہے ۔ “ اس نے جواب بھی واضح الفاظ میں دیا کہ (کانہ ھو) ” یہ تو ہو بہو وہی ہے ۔ “ یعنی گویا کہ یہ وہی ہے ۔ ملکہ کے عرش سے اس موجودہ عرش کو تشبیہہ دی گئی ہے اور جس سے تشبیہہ دی جائے وہ چیز فی الواقع وہ نہیں ہوتی یہ آپ کو معلوم ہی ہے پھر ملاؤں نے اس عرش کو جو ملکہ کے لئے تیار کروایا گیا تھا تاکہ ملکہ کو معلوم ہو کہ جس چیز پر مجھ کو ناز ہے اس جیسی چیزیں یہاں وقتی طور پر بھی تیار کروائی جاسکتی ہیں گویا کہ سلیمان (علیہ السلام) کی حکومت ہماری حکومت سے بہت زیادہ طاقتور ہے ملکہ کو یہی باور کرانا مقصود تھا اور ملکہ نے بلاشبہ یہی باور کیا لیکن ملاؤں میں کسی کے لئے کسی چیز کو خرچ کرنے کی عادت ہی نہیں تھی بلکہ ان کی نظر تو ہر آنے جانے والے پر اسی طرح پڑتی تھی کہ وہ آتے وقت ہم کو کیا دیتا ہے اور جاتے وقت کیا ؟ اس لئے انہوں نے اس سے جواز نکال لیا اور اب ان کے وارے نیارے ہیں۔ ہم نے یہ اشارہ کیا ہے اس کو کھول کر تمہارے سامنے نہیں رکھا کہ اس کے کیا کیا جواز نکالے گئے اور کس طرح اپنی اغراض کو پورا کیا گیا اور آج ان لوگوں پر یہ مثل فٹ ہوگئی کہ بڑے میاں سو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ !
بات ہو رہی تھی کہ اہل جنت کے لئے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تیار کر رکھا ہے جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی وہ کسی نے جانا نہیں یعنی دیکھا نہیں کیونکہ جنت کی کسی چیز کو دنیوی زندگی میں نہیں دیکھا جاسکتا ‘ نہ جانا جاسکتا ہے اور جو جانا گیا اور دیکھا گیا وہ بلاشبہ تشبیہہ تھا اور آج بھی ہے اور رہتی دنیا تک رہے گا اور تشبیہہ حقیقت نہیں ہوتی ۔ پھر یہ بات ہم ہی نہیں کہہ رہے بلکہ ہمارے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمائی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا قال اللہ تعالیٰ اعدت لعبادی الصالحین مالا عین رات ولا اذن سمعت ولا خطر علی قلب بشر (بخاری ‘ مسلم ‘ ترمذی ‘ احمد ‘ عن ابی ہریرہ ؓ ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ کچھ فراہم کر رکھا ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ‘ نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کوئی انسان کبھی اس کا تصور کرسکتا ہے ۔ “ لیکن تعجب ہے کہ اس کے باوجود ہمارے مفسرین بیسیوں چیزوں کو جنت سے آئی ہوئی بتاتے ہیں اور اس پر اس قدر دلائل دیتے ہیں کہ گویا وہ خود ان کو جنت سے وصول کرکے لائے ہیں جیسے حجر اسود ‘ ابراہیم (علیہ السلام) کا مینڈھا جو اسماعیل (علیہ السلام) کے عوض میں ذبح کیا گیا ۔ صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی ‘ ہاروت وماروت وغیرہ وغیرہ ۔
Ayah 32:18کیا مومن بھی کبھی فاسق کی طرح ہوتا ہے کہ دونوں برابر ہوجائیں ؟ :
18۔ گزشتہ آیت میں آنکھوں کی ٹھنڈک کا ذکر کیا گیا ہے اور آنکھوں کی ٹھنڈک کن لوگوں کے لئے ہوگی ؟ ظاہر ہے کہ انہی لوگوں کے لئے جو مومن ہیں اور دنیا میں نیک اعمال کرتے رہتے ہیں اور آج ان کے نیک اعمال کی جزا حاصل کرنے کا دن ہے اور یہ بدلہ یقینا ہر نیک عمل اور بدعمل کا ہوگا اس لئے زیر نظر آیت میں وضاحت فرما دی کہ کیا مومن اور فاسق دونوں برابر ہو سکتے ہیں ؟ ظاہر ہے کہ دونوں کے اعمال برابر نہیں ہو سکتے مومن کے اعمال اچھے ہوں گے اور فاسق کے برے ‘ اس لئے دونوں کو ایک جیسی جزا بھی نہیں دی جاسکتی ظاہر ہے کہ فاسق سے اس جگہ مراد وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری کا پٹہ اتار چکے ہیں ان کو یا تو خود مختاری کا دعوی ہے یا غیر اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کا اور بلاشبہ یہ دونوں باتیں فسق کی ہیں ۔ یاد رہے کہ ہر وہ عمل جو رسول اللہ ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے خلاف ہے وہ فسق کا عمل ہے خواہ اس کو دین کے نام سے کیا جائے کیونکہ دین کی تکمیل محمد رسول اللہ ﷺ پر کردی گئی ظاہر ہے کہ جس عمل پر آپ ﷺ کی مہر ثبت نہ ہوگی وہ جاہل ہوگا اور یہ بھی واضح ہے کہ جاہل اعمال نہ صرف یہ کہ رد کردیئے جائیں گے بلکہ ان پر سزا بھی دی جائے گی اور پھر سزا بھی معمولی نہیں ہوگی جب کہ وہ دنیا میں اعمال کر کے تھک چکے ہوں گے اور جب دیکھیں گے کہ انہوں نے جو کچھ کیا تھا وہ تو سب بیکار اور فضول تھا اس لئے اب ان کو جھلس دینے والی آگ میں پھینکا جانے والا ہے اسی وقت ان پر اپنے زعم میں نیک کام کئے جانے کا راز کھل جائے گا لیکن اس سے کچھ حاصل نہ ہوگا ۔ ارشاد الہی ہے کہ (آیت) ” وجوہ یومئذ خاشعۃ عاملۃ ناصبۃ ، تصلی نارا حامیۃ “۔ (الغاشیہ 88 : 2 تا 4) ” کتنے چہرے اس روز خوفزدہ ہوں گے حالانکہ وہ سخت مشقت کرکے تھک چکے ہوں گے ان کو جلتی ہوئی آگ میں ڈال دیا جائے گا ۔ “ یاد رہے کہ عمل کرنے سے پہلے عامل کے لئے لازم ہے کہ وہ اس بات کی اچھی طرح تحقیق کرے کہ وہ جو عمل کرنے والا ہے اس کے کرنے سے اس کو آخرت میں فائدہ حاصل ہوگا یا اس کی سزا دی جائے گی ‘ عمل فاسق بھی کرتا ہے اور مومن بھی لیکن دونوں کا عمل برابر نہیں ہو سکتا اور دونوں کی جزا بھی یکساں نہیں ہو سکتی ۔
Ayah 32:19ایمان والوں کے اعمال کا بدلہ جنت ہے جہاں ان کی خوب مہمانی ہوگی :
19۔ غور کرو کہ دعوت کرنے والے دعوت کرتے رہتے ہیں اور جن کی دعوت کی جائے وہ دعوت کو قبول کرتے رہتے ہیں لیکن ہر دعوت کرنے والا وقتی طور پر دعوت پر مدعو کرتا ہے اور دعوت کھلا کر رخصت کردیتا ہے لیکن اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی دعوت کا منظر بڑا عجیب ہے جو اس جگہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کی مہمانی کرے گا تو وہ ان کو جنت میں دعوت دے گا اور مہمانوں کی طرح ان کی ضیافت کا خوب انتظام ہوگا ، ضیافت کا انتظام بلاشبہ ضیافت کرنے والے کے اپنے معیار پر منحصر ہوتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ سے کون بڑا ہے جس کی ضیافت کا انتظام بڑا ہو سکتا ہے فرمایا ایمان والوں کو ان کی مہمانی کے لئے جنت میں مدعو کیا جائے گا اور ان کی اشتہا کے مطابق ان کو ہر وہ چیز وہاں مہیا کی جائے گی جس کی وہ خواہش رکھیں گے اور ان کی اس وقت کی اشتہا کا اس وقت کچھ بیان نہیں دیا جاسکتا اور جو کچھ بھی اس وقت ان کے لئے کہا جائے گا وہ تمثیل ہی بیان ہوگی بہرحال اس آیت میں اعلان کیا جا رہا ہے کہ جہاں ان کی مہمانی ہوگی وہ جنت بھی ان کی میراث بنا دی جائے گی ، مطلب یہ ہے کہ ان کی میزبانی کے فرائض ادا کرنے کے بعد وہاں سے ان کو نکل جانے کا حکم نہیں ہوگا بلکہ وہ مقام ہی ان کو الاٹ کردیا جائے گا جس کو ” جنت الماوی “ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے کیا ہی شان ہے اس میزبان کی اور کیا ہی حال ہوگا اس مہمان کا جس کی خوشیوں کی انتہاہی نہ ہوگی ۔ ” رب یسر ولا تعسر وتمم بالخیر “۔
Ayah 32:20رہے فاسق تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہوگا ‘ وہ نکلنا چاہیں گے لیکن ان کو نکلنے نہیں دیا جائے گا :
20۔ جس طرح قرآن کریم نے اہل جنت کے لئے جنت کے انعامات اور جنت میں پیش کی جانے والی چیزوں کا ذکر کیا ہے بالکل اسی طرح دوزخ کے عذاب اور دوزخ میں پیش کی جانے والی چیزوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور جس طرح جنت میں پیش کی جانے والی چیزیں تشبیہہ بیان کی گئی ہیں بالکل اسی طرح دوزخ میں پیش کی جانے والی چیزیں بھی تشبیہہ بیان ہوئی ہیں ان کی حقیقت اور اصلیت کو بھی اللہ ہی جانتا ہے ۔ بلاشبہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جن چیزوں سے انسان کو کھانے میں نفرت ہے ‘ پہننے میں نفرت ہے ‘ رہنے سہنے میں نفرت ہے ان کے دیئے جانے کا ذکر کیا گیا ہے اور اس وقت کے حالات کے مطابق جن چیزوں سے انسان کو نفرت ہوگی بلاشبہ وہی اس کو پیش کی جائیں گی ، نہیں بلکہ انہیں کے کھانے پر اس کو مجبور کیا جائے گا اور وہ چار وناچار ان کو کھائے گا کیونکہ ان کی الاٹ منٹ دوزخ ہی میں ہوگی اور اسی کے وہ مستحق ہیں اور جب وہ گھبرا کر اس سے نکلنے کی کوشش بھی کریں گے تو ان کو نکلنے نہیں دیا جائے گا اور ان کے لوٹانے کا منظر بھی دوسری جگہ اس طرح بیان فرمایا گیا ہے کہ لوہے کے گرز یا ہتھوڑے دوزخ کے دربانوں کے ہاتھوں میں دیئے جائیں گے اور وہ ان کے سروں پر ان کو استعمال کریں گے جس سے ان کو واپس ہونے پر مجبور کردیا جائے گا اور دوزخ کے دربان ان کو اس زبان میں جو زبان ان کو آتی ہوگی کہیں گے کہ تم کو اسی جگہ رہنا ہے اس سے نکلنے نہیں دیا جائے گا کیونکہ یہ تمہارے اعمال ہی کا نتیجہ ہے جو تم سے جدا نہیں کیا جاسکتا اور یہ وہی دن ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے اب تم سے یہی کہا جاسکتا ہے کہ اب ” تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو “۔
Ayah 32:21ہم ان کو دنیا میں چھوٹے عذاب میں مبتلا کرتے رہتے ہیں تاکہ بڑے عذاب سے بچ جائیں :
21۔ آخرت کا عذاب اگر ہلکا بھی ہو تو دنیا کے عذاب سے بلاشبہ بھاری اور سخت ہی ہوگا کیونکہ دنیا کے مقابلہ میں وہ بہت لمبی مدت کے لئے ہوگا ، دنیوی زندگی آخر کتنی ہے اور خصوصا آخرت کے مقابلہ میں اور پھر وہ آخرت کا عذاب جو کفر وفسق کی پاداش میں دیا جائے گا ۔ فرمایا اس دنیوی زندگی میں ہم ان کو چھوٹی چھوٹی تکلیفوں میں مبتلا کرتے رہتے ہیں اگرچہ یہ بھی ان ہی لوگوں کی کمائی کا حصہ ہے تاہم اگر یہ لوگ اس سے فائدہ حاصل کرنا چاہتے تو کرسکتے تھے کہ فطرت انسانی یہ بھی ہے کہ جب وہ کسی تکلیف اور مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کا ذہن بھلائی کی طرف آمادہ ہوتا ہے اور پھر جس طرح یہ تکلیفیں اور مصیبتیں افراد کی زندگی میں آتی رہتی ہیں بالکل اسی طرح کی تکلیفیں اور مصیبتیں قومی زندگی پر آتی رہتی ہیں جس میں ہزاروں ‘ لاکھوں بلکہ کروڑوں انسان بیک وقت مبتلا کردیئے جاتے ہیں جیسے طوفان برق وباد ‘ زلزلے ‘ سیلاب ‘ وبائیں ‘ قحط سالیاں ‘ فسادات اور لڑائیاں اور اسی طرح کی بیسیوں آفات وبلیات ۔ اب غور کرو گے تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ اس وقت قوم مسلم من حیث القوم اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس دنیوی عذاب میں بری طرح مبتلا ہے یا وہ قومیں جو کبھی اونچی سانس بھی نہیں لے سکتیں تھیں اور اسلامی ترقیوں کے مقابلہ میں قعر مذلت میں گری پڑی تھیں آج وہ مسلمانوں کو ناکوں چنے چبوا رہی ہیں ۔ یہود جو دنیا کی قوموں میں ذلیل ترین قوم سمجھے جاتے تھے اور اسلام ومسلم کے نام سے بھی وہ خوف کھاتے تھے آج وہ قوم مسلم کو انگلیوں کے اشاروں پر نچا رہے ہیں باوجود اس کے کہ قوم مسلم اپنی گنتی کے لحاظ سے آج بھی کسی قوم سے پیچھے نہیں بلکہ یقینا اس کا نمبر پہلا ہی ہوگا اگرچہ یہ نمبر صرف کاغذوں ہی سے حاصل کیا جاسکتا ہے تاہم مردم شماری کے لحاظ سے تو وہ مسلم ہی کہلاتے ہیں اور دوسری قومیں ایک ایک کرکے تو مسلمانوں کے مقابلہ میں آٹے میں نمک کے برابر ہیں لیکن اس وقت بھی اقوام عالم مسلمانوں کے مقابلہ میں متحد نظر آتی ہیں اور مسلمانوں کو آپس میں اس طرح متفرق اور پاش پاش کردیا ہے کہ اسلامی ممالک میں سے کسی ایک کی سوچ بھی دوسرے اسلامی ملک سے نہیں ملتی بجائے اس کے قوم مسلم کے حکمران اپنی قومی یکجہتی کے باوجود ایک دوسرے کو ہڑپ کرنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں اور جس ملک میں جتنا سرحدی قرب ہے اسی قدر اس ملک سے فکری بعد پایا جاتا ہے ۔ جس اسلام نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی اور ایک دوسرے کے لئے شفیق ومہربان بنایا تھا آج اس کے ماننے والے اتنے ہی ایک دوسرے سے دور چلے گئے ہیں ۔ ہر اسلامی ملک کے سیاسی اور مذہبی راہنما خود غرض اور انفرادی بڑائی کے چاہنے والے ہیں ‘ قومی بھلائی کی سوچ کسی ایک حکمران کے اندر بھی موجود نہیں رہی ۔ سارے اسلامی ممالک میں بظاہر اس وقت تک اگر کچھ ساکھ قائم ہوتی نظر آئی ہے تو وہ صرف اور صرف سعودیہ ہے لیکن اندر سے وہ اس قدر کھوکھلا ہوچکا ہے کہ قومی یکجہتی کا وہ نام تک نہیں لے سکتا اس کی ساری ساکھ کا اصل راز امریکی سرکار کی خوشی پر ہے کہ اس نے ان لوگوں کی ہاں میں ہاں ملائی ہے اور کوئی ایسا کام اور پروگرام نہیں بنایا جو ان کی پالیسیوں کے خلاف ہو حالانکہ امریکیوں کی یہ چال اسلام کے حق میں بہت ہی حد تک خطرناک ہے اور اس کے انجام سے کسی وقت بھی مسلمان دوچار ہو سکتے ہیں ہاں ! اگر اللہ تعالیٰ ہی اس سے بچنے کی کوئی صورت پیدا فرما دے تو بلاشبہ وہ قادر مطلق ہے اور اس کی لاٹھی بھی بےآواز ہے لیکن اس کا اعلان بھی ہے کہ وہ یقینا مدد کرتا ہے لیکن ان لوگوں کی جو خود کو اس کے سپرد کردیتے ہیں لیکن اس کے برعکس جو اپنے آپ کو غیروں کے سپرد کرتے ہیں ان کو غیروں کے سپرد کردیتا ہے اللہ تعالیٰ ہی سے دست بدعا ہیں کہ وہ ہم مسلمانوں کو صحیح معنوں میں مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے صرف مسلم کہلوانے سے انسان مسلم نہیں بن جاتا لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں سارا جھگڑا ناموں کا چلتا ہے حقیقت پر کسی کی نظر نہیں جاتی ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ وہ غیر مسلموں کے رعب وداب کے باعث خیرہ ہوچکی ہے بہرحال زندوں کے لئے اب بھی موقع ہے کہ وہ اس عذاب پر اپنے آخرت کے عذاب کو قیاس کرکے اس سے بچنے کی کوشش کریں اور بلاشبہ یہ کوشش ان کو دنیا میں بھی سرفراز کردے گی اور آخرت میں بھی وہ عذاب الہی سے بچا لئے جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ سے اپیل ہے کہ وہ ہماری اس امید کو پورا فرما دے کہ ہماری اس خیالی پتنگ کی ڈور بھی اس کے ہاتھ میں ہے ۔
Ayah 32:22اس سے زیادہ کون ظالم ہو سکتا ہے جس کو آیات دلائی جائیں تو وہ منہ پھیر جائے :
22۔ اس ایک سورت کو مدنظر رکھو اور دیکھو کہ اس میں کتنے نشانات توحید ہیں جو بیان کئے گئے ، کتاب اللہ کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ‘ ان کے لگائے گئے الزامات میں سے ایک ایک کا دندان شکن جواب ان کو دیا گیا ۔ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کی طرف ان کو رغبت دلائی گئی کہ غور کرکے دیکھو کہ ان سب کا پیدا کرنے والا کون ہے اور ان کی تفہیم کے لئے چھ ادوار کا ذکر کرکے اس کی تفصیل بتائی گئی انسانوں کے حساب اور گنتی کی کیا حیثیت ہے اللہ کے اس دن کے مقابلہ میں جو ہزار یا پچاس ہزار سال کا ایک دن ہے پھر ان پر واضح کیا گیا کہ اللہ کے سوا تمہارا کوئی دوست اور حمایتی نہیں ہو سکتا ‘ وہی ہے جو کاموں کی تدبیریں کرتا ہے اور اس کی تدبیر کے سامنے کسی کی تدبیر بھی نہیں چلتی ۔ وہی غیب و حاضر کا جاننے والا ہے اور وہی ہے جو سب سے بڑھ کر غالب آنے والا اور پیار کرنے والا ہے پھر اس نے انسان کے نفس کی نشانیاں بیان کرکے ان سے توحید پر استدلال کیا ۔ انسان کی پیدائش کی پوری تفصیل بیان کردی کہ اول پیدائش کی صورت کیا ہے اور پیدائشی نسل کی صورت حال کیا ؟ پھر پوچھا کہ جن لوگوں کو تم اللہ کے شریک ٹھہراتے ہو کیا ان میں سے کوئی ایک بھی اس یا ہے جو ان کاموں میں سے کوئی ایک کام بھی سرانجام دے سکے ، زندگی اور موت سے استدلال کیا گیا ۔ انسان کی فطری صلاحیتوں سے اس کو سبق دینے کی کوشش کی گئی ‘ اس کی دنیوی زندگی اور اخروی زندگی کی ساری نشانیوں کی طرف اس کو توجہ دلائی گئی لیکن جن کو ماننا نہیں تھا کیا وہ مان گئے ؟ نہیں اور یقینا نہیں تو اب انہی کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے کہ تم ہی بتاؤ جس کے سامنے ہر طرح کی اور ہر قسم کی نشانیاں بیان کی جائیں اور پھر وہ ان نشانیوں سے منہ پھیرے تو اس سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے ؟ ظاہر ہے کہ وہی لوگ جو مجرم ہیں اتنا کچھ بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا ‘ خیال رہے کہ ایسے مجرموں سے ہم ضرور انتقام لیں گے کیونکہ ان سے انتقام لینا ہی ان کے جرم کو جرم ثابت کرنا ہے ۔
Ayah 32:23موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب بھی ہم نے دی اور آپ ﷺ کو بھی کتاب ہم ہی دینے والے ہیں :
23۔ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ دنیا میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آنے والے نبی ورسول کو لوگوں نے بڑھ چڑھ کر قبول کیا ہو بلکہ ہر ایک کو نبی ورسول ماننے والے کم اور انکار کرنے والے زیادہ تھے ؟ اور یہ بھی کہ جس طرح ہم نے آپ ﷺ کو اچانک نبوت کے لئے منتخب کرلیا حالانکہ آپ ﷺ کے علم میں ایسی کوئی چیز موجود نہیں تھی لیکن ہم تو روز اول ہی سے جانتے تھے کہ آپ ﷺ کو رسول بنایا جائے گا بالکل اسی طرح ہر رسول کو حالات پیش آئے اور خصوصا آپ ﷺ سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اسی طرح رسالت کے لئے ہم نے کوہ طور پر طلب کرلیا جیسا کہ آپ موسیٰ (علیہ السلام) کے ذکر میں پڑھ چکے نہ تو موسیٰ (علیہ السلام) ہی کو کچھ علم تھا کہ میں نے جہاں آگ دیکھی وہ آگ نہیں بلکہ مجھے نبوت دیئے جانے کے مقام کی طرف لے جایا جا رہا ہے لیکن علم الہی میں موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت و رسالت دیا جانا موجود تھا ۔ اس لئے آپ ﷺ بھی کسی شک وشبہ میں مبتلا نہ ہوں کہ لوگ آپ ﷺ کے متعلق کیا کہیں گے ؟ لوگ تو کہتے آئے ہیں اور کہتے رہیں گے آپ ﷺ اس کتاب اور نبوت و رسالت اور ملاقات اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے شک میں نہ رہیں یہ سب کام ہوں گے جوں جوں ان کا وقت ہوتا جائے گا ۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے بھیجا تھا اور آپ ﷺ کو پوری دنیا کی ہدایت و راہنمائی کے لئے مبعوث کیا گیا ہے جب تک موسیٰ (علیہ السلام) رہے اپنا کام انہوں نے جاری رکھا اور جب تک آپ ﷺ زندہ ہیں اپنے کام کو جاری وساری رکھیں۔
Ayah 32:24نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کو بتایا جا رہا ہے کہ ان میں بھی پیشوا اور راہنما تھے اور تم میں بھی ہوں گے :
24۔ نبی ورسول تو ہر حال میں نبی ورسول ہی ہوتا ہے جو براہ راست اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے ہدایت پاتا ہے لیکن وہ لوگ جنہوں نے رسول اللہ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) سے براہ راست کلام الہی سنا اور وہ ایمان لائے ان کے درجات بھی بہت بلند ہیں کیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ نے قوم کا امام و پیشوا بنایا پھر جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام الہی سن کر ایمان لانے والوں کے درجات بلند ہوئے اسی طرح جن لوگوں نے محمد رسول اللہ ﷺ سے سنا اور ہدایت اختیار کی وہ صحابہ کرام کہلائے اور اسلام میں انہوں نے بہت بڑا نام پایا ۔ زیر نظر آیت میں فرمایا گیا کہ ان کو پیشوائی کا جو درجہ عطا ہوا اس کے دو سبب تھے اول صبر کرنا اور دوسرے آیات الہی پر یقین لانا ۔ صبر سے مراد اس جگہ احکام الہی کی پابندی پر ثابت قدم رہنا اور جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام یا مکروہ قرار دیا ہے ان سے اپنے نفس کو روکنا ہے جس میں تمام احکام شریعت کی پابندی آجاتی ہے اور یہ بہت بڑا عملی کمال ہے اور دوسرا سبب ان کا جیسا کہ اوپر بیان ہوا آیات الہیہ پر یقین رکھنا ہے اس میں آیات کے مفہوم کو سمجھنا ‘ پھر سمجھ کر اس پر یقین کرنا دونوں داخل ہیں اور بلاشبہ یہ بہت بڑا علمی کمال ہے معلوم ہوا کہ امامت و پیشوائی کے لائق اللہ تعالیٰ کے نزدیک صرف وہ لوگ ہیں جو عمل میں بھی کامل ہوں اور علم میں بھی اور اس جگہ جیسا کہ آیت سے ظاہر ہے عملی کمال کو علمی کمال سے مقدم بیان کیا گیا ہے حالانکہ ترتیب طبعی کے مطابق علم عمل سے مقدم ہے اس طرح بیان کرنے میں اشارہ اس طرف ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ علم قابل اعتبار ہی نہیں جس کے ساتھ عمل نہ ہو ۔ قرآن کریم کی آیت کا مفہوم آپ نے سن لیا اب اپنے حالات کو تجزیہ بھی ذرا کرکے دیکھو کہ وہ لوگ جن کو ہم اس وقت امام اور پیشوا کے نام سے مخاطب کرتے ہیں کیا ان میں یہ دونوں وصف موجود ہیں یا دونوں ہی مفقود ہیں ‘ اپنی ایمانداری سے فیصلہ خود کرلو ہمارا فیصلہ تو تم کو معلوم ہے کہ وہ کیا ہے ؟ اگر آپ یہ کہیں کہ موجودہ دور کے یہ امام جن کو پیش امام یا امام مسجد کے نام سے یاد کیا جاتا ہے زیر نظر آیت سے یہ مراد نہیں اس لئے ہم اس فیصلہ کو صحیح نہیں سمجھتے تو ہم درخواست کریں گے کہ کیا وہ امام و پیشوا کہیں موجود ہیں تاکہ ان کو ایک نگاہ دیکھ لیا جائے اگر نہیں تو کیا یہ ہماری خوبی کی بات ہے کہ ہم میں تلاش کرنے سے بھی ایک آدمی ایسا نہ مل سکے اور جو لوگ ان ناموں سے موجود ہوں وہ قوم کا کوڑا کرکٹ کے سوا کچھ بھی نہ ہوں ۔ افسوس ہے ہم پر اور ہمارے اس اسلام پر جس کا نام ہم استعمال کر رہے ہیں اس کو خوبیوں میں سے کوئی ایک خوبی بھی ہم میں موجود نہیں ہے ۔
Ayah 32:25بلاشبہ اللہ تعالیٰ ان کے اختلاف کا قیامت کے روز فیصلہ کردے گا :
25۔ کن لوگوں کے درمیان قیامت کے روز فیصلہ کردینے کے بارے میں بیان دیا گیا ہے ؟ کہا گیا ہے کہ اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے دین میں اختلاف کیا اور فرقہ بندیوں اور گروہ بندیوں میں تقسیم ہوگئے اور اس طرح وہ ایمان ویقین کی دولت سے محروم ہوئے اور اپنے راست وآئمہ کی پیروی انہوں نے چھوڑ دی اور دنیا پرستی میں مبتلا ہوئے اس لئے ان کی اس حالت کا ایک نتیجہ اگرچہ دنیا نہیں جانتی کیونکہ وہ قیامت کے روز سامنے آئے گا اور اس نتیجہ کے عوض میں وہ دوزخ رسید کردیئے جائیں گے ۔ بلاشبہ بنی اسرائیل کی یہ حالت ہوئی جو اوپر بیان کی گئی لیکن جو حالت اس وقت بنی اسرائیل کی تھی جس وقت قرآن کریم نازل ہوا اور ان کی اس حالت کی طرف اشارہ کی دیکھنا یہ ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ آج یہی حالت ہم مسلمانوں کی وہ رہی ہے بلکہ ہم ان سے بھی آگے نکل گئے ہوں اگر آج ہماری حالت بھی ویسی ہی ہے تو ہمارا حق نہیں کہ آج بھی ہم انہیں کا نام لیتے رہیں اور اپنی حالت کی طرف دھیان ہی نہ دیں حالانکہ دیکھنے کی چیز تو یہی ہے کہ جن کو یہ بیماری لگی اور وہ اس بیماری کے سبب سسکیاں لے رہے تھے جہاں تک ہو سکتا ہم اپنے آپ کو اس بیماری سے بچاتے ‘ یہ دیانت وامانت کی بات تو نہیں ہے جب کہ ہم خود اس بیماری کا شکار ہوچکے ہوں پھر بھی ان ہی کے مرض کا ذکر کریں جو پہلے ہی لاعلاج ہوچکے ہیں سمجھداری اور عقلمندی کی بات تو یہ ہے کہ ہم اس وقت اپنی فکر کریں اور اپنے آپ کو اس مہلک بیماری سے بچانے کی سرتوڑ کوشش کریں ۔ اللہ ہمیں سمجھ کی توفیق عطا فرمائے اور جن اختلافات میں الجھ کر ہم اسلام سے خارج ہوئے چلے جا رہے ہیں اس حالت سے نکلنے کی کوشش کریں اور اس اسلام کی تلاش میں لگ جائیں جو اسلام محمد رسول اللہ ﷺ لے کر آئے تھے اور جس اسلام نے ہمارے سارے اختلافات ختم کر کے صرف ایک اسلام کی راہ پر گامزن کردیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم کو اس اسلام کی طرف پھیر دے اور اس اسلام کی راہ چلائے ۔
Ayah 32:26جن لوگوں کو ہم نے ان سے پہلے ہلاک کیا کیا وہ بھی ان کی ہدایت کا باعث نہ ہوئے :
26۔ علم تاریخ کیا ہے اور وہ کیوں بیان کیا جاتا ہے ؟ اسی وجہ سے کہ آنے والی قومیں جانے والی قوموں سے سبق حاصل کریں کہ گزشتہ قوموں کے یہ لچھن تھے اور وہ اپنے اعمال کے نتیجہ میں اس طرح تہ وبالا کردیئے گئے جس سے آنے والوں کو یہ معلوم ہو کہ ہم نے بھی وہی کام کئے جو انہوں نے کئے تھے تو ہمارا بھی حال وہی ہوگا جو ان کا ہوا لیکن افسوس کہ آنے والوں نے کوئی سبق بھی جانے والوں سے حاصل نہ کیا ، ایک رسول اور نبی کی داستان کو پڑھتے چلے جاؤ تم کو معلوم ہوگا کہ جس قوم میں بھی اللہ کا رسول آیا ہے اس کی قسمت کا فیصلہ اس رویے کا ساتھ معلق ہوگیا جو اپنے رسول کو معاملہ میں اس نے اختیار کیا ۔ رسول کو جھٹلا دینے کے بعد پھر کوئی قوم بھی بچ نہ سکی جس نے اپنے رسول کے خلاف کیا ہاں ! ان میں سے بچے تو وہی بچے جو اس پر صحیح معنوں میں ایمان لائے اور انکار کردینے والے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سامان عبرت بن کر رہ گئے اور جن کو ہلاک کیا گیا بلاشبہ وہ ہلاک ہوئے لیکن ان کے وہ مسکن اور وہ جگہیں تو بہرحال اب بھی موجود ہیں اور وہ کھنڈرات تو درس عبرت آج بھی پیش کر رہے ہیں بشرطیکہ انسان سوچ وبچار سے کام لے صرف سیروسیاحت کرتا ہوا ہی وہاں سے نہ گزر جائے بلکہ ان اسباب کو بھی پیش نظر رکھے جن اسباب کے باعث ان علاقوں ‘ ان محلوں اور قلعوں کو تباہ وبرباد کیا گیا اور پھر اپنے موجودہ حالات کے ساتھ موازانہ کرکے دیکھے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہی کچھ ہم بھی کر رہے ہوں ، ظاہر ہے کہ اگر اعمال ویسے ہی ہوئے تو نتائج بھی ویسے ہی نکلیں گے ، فرمایا بلاشبہ ان حالات وواقعات میں نشانیاں ہیں لیکن کن لوگوں کے لئے ؟ جو بات کو سننے اور سمجھنے کے لئے تیار ہوں لیکن وہ جو نہ سوچیں اور نہ سمجھیں ان کے لئے کیا ہے وہی جس کو بھینس کے سامنے بین بجانے “ سے موسوم کیا جاتا ہے ۔
Ayah 32:27زمین کی سیرابی کا وہ خاص حکیمانہ نظام جو ہم نے چلایا ہے انہوں نے اس پر کبھی غور نہیں کیا :
27۔ خشک زمین کو سیراب کرنے اور اس کو ہرا بھرا کردینے کا ذکر قرآن کریم میں بار بار کیا گیا ہے اس لئے کہ اس کو ہر آنکھ دیکھتی ہے اور یہ معاملہ ایک ہی سال میں ایک دو یا اس سے زیادہ بار دیکھنے میں آتا ہے اور ہر آنکھ خواہ وہ معمولی عقل والے انسان کی ہو یا نہایت ہی ذہین وفطین کی وہ اس کو سرسری نگاہ سے تو دیکھ سکتی ہے پھر جب کوئی اس سرسری نگاہ ڈالنے والے کی توجہ ذرا دلا دے تو وہ اس بات کو جان سکتا ہے اور سمجھ سکتا ہے کہ زمین پر بارش ہوتی ہے تو وہ تروتازہ ہو کر اس قابل ہوجاتی ہے کہ پھل اور غلہ بہم پہنچائے اور پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جہاں بارش نہیں ہوتی یا بہت ہی کم ہوتی ہے تو وہاں وہی بارش جو کسی دوسرے علاقے اور دوسری جگہ پر ہوتی ہے اس کا پانی بھی اس زمین کو سیراب کرکے تروتازہ کردیتا ہے اس طرح گویا وہ بارش براہ راست اگرچہ اس زمین پر نہیں ہوئی تاہم اس بارش نے جو دور دراز علاقوں میں ہوئی ہے اس نے اس زمین کو بھی سیراب کرکے اس قابل بنادیا ہے کہ وہ پیدائش دے اور غلہ جات اگائے ، اس مثال سے نبی اعظم وآخر محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت کو بھی سمجھ لیا جاسکتا ہے کہ وہ اگرچہ گزشتہ نبیوں اور رسولوں کی طرح کسی ایک علاقہ اور ایک بستی یا ایک قوم کی طرف رسول بنا کر نہیں معبوث کئے گئے بلکہ پوری انسانیت کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے اگرچہ آپ کا تعلق ایک علاقے اور ایک قوم قریش کے ساتھ خاص ہے لیکن یہ رحمت کی بارش پوری انسانیت کے لئے ہے جہاں براہ راست نہیں برسی یعنی اس زبان سے وہ تعلق نہیں رکھتی جو اس رسول کی تھی یا اس کتاب کو دی گئی جو اس علاقہ اور قوم کی زبان تھی تاہم یہ بارش پوری دنیا کی کھیتی کو لہلہائے گی جو اس سے استفادہ کریں گے وہاں یہ بارش اس سرزمین کو بھی یقینا سیراب کرے گی اور آج سے نہیں بلکہ ہم ایک مدت مدید سے دیکھتے چلے آرہے ہیں کہ بلاشبہ اس آسمانی وحی نے ان جگہوں کو بھی آباد کردیا جہاں اس کا وہ پانی پہنچایا گیا جس کا نزول محمد رسول اللہ ﷺ کے دل مقدس پر ہوا اور پھر اس رحمت سے صرف انسانوں ہی کو وافر حصہ نہیں ملا بلکہ حیوانوں اور جمادات ونباتات نے بھی اپنا اپنا حصہ پایا جو ان کے لئے مخصوص کردیا گیا تھا لیکن یہ ان ہی لوگوں کی آنکھیں پا سکتی ہیں جو خالی بصارت کے سوا گہری بصیرت بھی رکھتی ہیں کیونکہ بصارت صرف وقت حالت ہی کو دیکھتی ہے لیکن بصیرت سے آنے والی حالت کو بھی ایک حد تک دیکھا جاسکتا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ بصارت زمین کی اس حالت کو دیکھے گی جو اس زمین پر بصارت کے وقت طاری تھی مثلا یہ کہ وہ خشک ہے اور بنجر زمین بارش کے ایک دھارے اور سیلاب کے ایک ہی ریلے سے بھی آباد ہو سکتی ہے اور اس کا سارا بانجھ پن آسمان کے ایک بار جھانکنے سے رفع ہو سکتا ہے جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے کہ (آیت) ” والسمآء ذات الرجع ، والارض ذات الصدع ، انہ لقول فصل ، وما ھو بالھزل “۔
Ayah 32:28وہ فیصلے کا دن کب آئے گا جس کی آپ ﷺ ہم کو بار بار خبر دے رہے ہیں ؟
28۔ اس فیصلے کے دن سے کیا مراد ہے ؟ آخرت کا دن بھی مراد ہو سکتا ہے اور لوگوں کی اس بات کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ آپ ﷺ جو ہم سے کہتے ہیں کہ عنقریب فتح اسلام کی ہوگی اور اسلام ہی کا بولا بالا ہوگا ‘ وہ کب ہوگا ؟ کیونکہ ظاہری حالات میں تو اس طرح کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی ‘ اگر تم سچے ہو تو آخر وہ دن آکیوں نہیں جاتا ؟ آئے گا اور یقینا آئے گا لیکن جلدی نہ کرو وہ وقت آنے دو جو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لئے مقرر کیا جا چکا ہے اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ وہ فتح کا دن بھی آیا اگر اس دنیوی فتح ہی کو مراد لیا جانا ضروری ہے تو بھی وہ دن آئے گا اور پھر لوگوں نے آنکھوں سے دیکھا کہ وہ فتح کا دن آیا اور آپ ﷺ فاتحانہ مکہ میں داخل ہوئے اور ان خداؤں سے بیت اللہ کو پاک کردیا گیا جو سینکڑوں سالوں سے وہاں رکھ کر پوجے جا رہے تھے اور اس کے بعد اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کی جانے لگی اور اگر فتح سے مراد قیامت کا دن ہے تو اس سے یہ بھی سمجھ لیجئے کہ یقینا وہ بھی آئے گا کہ اس کا وعدہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے کیا گیا ہے اور یہ بات واضح کی گئی ہے کہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا وعدہ کبھی غلط نہیں ہوسکتا اور نہ ہی خطا ہو سکتا ہے کہ بات آج کی ہو اور کل پر جا پڑے ۔
Ayah 32:29فتح کا دن آیا تو اس کے بعد کافروں کے لئے گویا جو مہلت تھی وہ ختم ہوگئی :
29۔ فتح سے مراد قیامت کا دن ہی ہے تو بھی تم لوگوں کو خیال رکھنا چاہئے کہ وہ دن آنے کے بعد اگر کافر ایمان لائیں گے بھی تو وہ ایمان ان کے کام نہیں آئے گا کیونکہ کام آنے والے ایمان کا وقت ہی نکل چکا ہوگا اور ظاہر ہے کہ جب گاڑی اسٹیشن سے چھوٹ جائے تو اس کے بعد وہاں پہنچنا کس کام کا ۔ پھر یہاں تو وہ گاڑی زیر بحث ہے جو دو تین یا چار چھ گھنٹے کے بعد اور آجائے گی لکن زندگی کی گاڑی تو ایسی گاڑی ہے کہ اس کے ایک بار چھوٹ جانے کے بعد دوبارہ اس زندگی میں آنا ناممکن ہی نہیں بلکہ محال ہے اور اب نہ تو نکلا ہوا وقت واپس آسکتا ہے اور نہ ہی ان لوگوں کے لئے کوئی مزید ڈھیل کی صورت نکالی جاسکتی ہے اس لئے گویا اب تو جو ہونا تھا وہ ہوگیا کیونکہ اس کے بعد یہاں ڈھیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا جتنی ڈھیل دی جاسکتی تھی اور جو اس قانون خداوندی میں طے تھی وہ دی جا چکی ہے اب اس پچھتاوے سے بھی کچھ نہیں ہو سکتا اس لئے یہ بحث اٹھانا ہی بےکار ہے ۔
Ayah 32:30اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اب ان سے منہ پھیر لو ‘ انتظار کرو اور وہ بھی منتظر ہیں :
30۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اب اس بحث ہی کو ختم کرو کیونکہ اب ان تلوں میں تیل باقی ہی نہیں ہے اب صرف اور صرف ایک بات ہے کہ ان سے اعراض کرلو اور جدھر کو جانا چاہتے ہیں انکو جانے دو جب ان کا مقررہ وقت آئے گا تو ان کو بھی عین وقت پر حاضر کرلیا جائے گا کیونکہ یہ جہاں بھی جائیں گے نہ تو ہمارے علم سے یہ لوگ نکل جائیں گے اور نہ ہی ہماری حکومت سے یہ بھاگ سکیں گے اس لئے جب ان کو وقت پر لاحاضر کرنا ہماری ذمہ داری ہے تو آپ اس کے پیچھے نہ پڑیں بس آپ اس وقت کا انتظار کریں اور ان کو بھی انتظار کرنے دیں کیونکہ ان کے لاعلاج مرض کا اب آپ ﷺ کے پاس کوئی علاج نہیں اور ہمارا فیصلہ ان کو آزاد چھوڑنے کا ہے اس لئے ایک مقررہ وقت تک ان کو چھوڑ دیا ہے تاکہ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں وہ آزادی کے ساتھ کرلیں تاکہ ان کی کوئی ریجھ باقی نہ رہے اور اسی مضمون پر سورة السجدہ کا مضمون ختم کیا جاتا ہے ۔
عبدالکریم اثری :
جمعرات 11۔ ربیع الاول 1418 ھ
17 ۔ جولائی 1997 بعد از نماز عصر :