24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتیسیر القرآن

Ayahs 24:41–42

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الطَّیْرُ صٰٓفّٰتٍ١ؕ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَ تَسْبِیْحَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِمَا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 24:41 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے (اور فضا میں) پر پھیلائے ہوئے 68 پرندے بھی، یہ سب اللہ ہی کی تسبیح کر رہے ہیں۔ ہر مخلوق کو اپنی 69 نماز اور تسبیح کا طریقہ معلوم ہے اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ سب کچھ جانتا ہے۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ اِلَى اللّٰهِ الْمَصِیْرُ Open ayah 24:42 in the Quran reader

نیز آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے اور اسی کی طرف سب کی بازگشت ہے۔

68 کافروں کی دو مثالیں بیان کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے کائنات سے کچھ اپنی ایسی نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔ جن میں غور کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی معرفت یا نور ہدایت حاصل کرسکتا ہے۔ ان نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پرندوں کو فطری طور پر ایسا طریقہ سکھلا دیا کہ وہ زمین اور آسمان کے درمیان فضا میں اپنے پر کھولے ہوئے اور قافلہ کی صورت میں قطار در قطار اڑتے پھرتے ہیں۔ اور وہ زمین پر گر نہیں پڑتے۔ پھر بعض دفعہ وہ اڑتے اڑتے اپنے پروں کو سمیٹ بھی لیتے ہیں۔ مگر گرتے پھر بھی نہیں۔ آکر ان پرندوں کو یہ طریقہ کس نے سکھلایا ؟ زمین کی کشش ثقل جو کاغذ کے ایک ہلکے سے پرزے کو اپنی طرح کھینچ لیتی ہے انھیں کیوں نہیں کھینچتی ؟ 69 کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کے قانون کے سامنے سر تسلیم خم کئے ہوئے ہے۔ جس کام پر اسے اللہ نے لگا دیا ہے بلاچون و چرا اس کو سرانجام دے رہی ہے۔ اور فطری قانون ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے بنائے ہیں۔ ان سے سرمو تجاوز نہیں کرتی۔ ایسی اطاعت کو بھی ان کی نماز اور تسبیح کہا جاسکتا ہے۔ تاہم ان اشیاء کی نماز اور تسبیح اس کے علاوہ کچھ اور ہی چیز ہے۔ جسے ہم انسان یا جن جو مکلف مخلوق ہیں، جان نہیں سکتے۔ اور تسبیح کرنے والی اشیاء اپنی نماز اور تسبیح اور اس کے طریق کار کو خوب جانتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہی سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر 44 میں بتلا دیا کہ تم ان کی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے۔
Ayah 24:43

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یُزْجِیْ سَحَابًا ثُمَّ یُؤَلِّفُ بَیْنَهٗ ثُمَّ یَجْعَلُهٗ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ وَ یُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ جِبَالٍ فِیْهَا مِنْۢ بَرَدٍ فَیُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَصْرِفُهٗ عَنْ مَّنْ یَّشَآءُ١ؕ یَكَادُ سَنَا بَرْقِهٖ یَذْهَبُ بِالْاَبْصَارِؕ Open ayah 24:43 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ 70 چلاتا ہے پھر بادل (کے اجرائ) کو آپس میں ملا دیتا ہے پھر اسے تہ بہ تہ بنا دیتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ اس کے درمیان سے بارش کے قطرے ٹپکتے ہیں اور وہ آسمان سے ان پہاڑوں کی بدولت جو اس میں بلند ہیں، اولے برساتا ہے پھر جسے چاہتا ہے ان سے نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان سے بچا لیتا ہے۔ اس کی بھی چمک آنکھوں کو خیرہ 71 کردیتی ہے

70 مشکل یہ پیش آتی ہے کہ ہمارے علمائے ہیئت نے اللہ کی ہر نشانی میں کچھ ایسے طبعی قوانین دریافت فرما رکھے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا دست قدرت کہیں کام کرتا نظر نہ آئے اور یہی قوانین سکولوں اور کالوں میں بچوں کو پڑھائے جاتے ہیں۔ مثلاً بارش کے لئے دریافت کردہ طبعی قوانین یہ ہیں کہ سمندر پر سورج کی گرمی سے بخارات بن کر اوپر اٹھتے ہیں۔ پھر ہواؤں کا رخ ان بخارات کو کسی مخصوص سمت کی طرف اڑا لے جاتا ہے۔ تاآنکہ یہ بخارات کسی سرد منطقہ فضائی میں پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر یہ بخارات پھر پانی کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ اور بارش ہونے لگتی ہے اور اگر شدید سرد منطقہ میں پہنچ جائیں تو پھوارے برسنے لگتے ہیں انہی اصولوں کے مطابق ہمارے ہاں پاکستان میں بارش یوں ہوتی ہے کہ جون جولائی کے گرم مہینوں میں بحیرہ عرب سے بخارات اٹھتے ہیں جو کوہ ہمایہ سے آکر ٹکراتے ہیں یہاں ہوائیں پھر ان کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیتی ہیں اور وہ اس پہاڑ کے سرد حصوں میں پہنچ کر پانی بن جاتے ہیں اور اس طرح موسم برسات یا جولائی یا اگست میں ہمارے ہاں بارشیں ہوتی ہیں۔ اس لحاظ سے کسی خاص مقام پر بارش ہونے کے عوامل یہ ہیں۔ سمندر سے اس مقام کا فاصلہ سطح سمندر سے بلندی، ہواؤں کا رخ، پہاڑوں کا رخ اور بلندی، ان اصولوں کے تحت ضروری ہے کہ ایک خاص مقام پر اور ایک خاص موسم میں ہر سال یکساں بارش ہو۔ کیونکہ نہ سمندر کے پھیلاؤ میں فرق آتا ہے نہ سورج کی گرمی میں، نہ پہاڑوں کی بلندی اور رخ میں سرد ہوائیں بھی طبعی قانون کے تحت ایک خاص رخ ہی اختیار کرتی ہیں۔ مگر ہمارا مشاہد یہ ہے کہ ہر سال یکساں بارش نہیں ہوتی۔ ایک سال تو بارشوں کی کثرت سے اس خاص مقام پر سیلاب آجاتا ہے اور کوئی سال بالکل خشک گزر جاتا ہے سرے سے بارش ہوتی ہی نہیں پھر ان طبعی قوانین کے نتائج میں یہ کمی بیشی اور تبدیلی کیوں واقع ہوتی ہے ؟ آخر ان باتوں سے یہ نتیجہ کیوں نہیں نکالا جاسکتا کہ کوئی ایسی زبردست اور بالاتر ہستی بھی موجود ہے جو ان بےجان قوانین کے نتائج میں تبدیلی کا پورا پورا اختیار رکھتی ہے۔ دوسری قابل غور بات یہ ہے کہ بادل جو کروڑوں ٹن پانی کے بخارات سے لدے ہوتے ہیں وہ کسی سرد منطقہ میں پہنچ کر پانی بن جاتے ہیں۔ تو یہ پانی برستے وقت آخر قطروں کی شکل کیوں اختیار کرتا ہے۔ پانی کے بخارات کی مقدار قلیل ہو تو اس کے متعلق تو کہہ سکتے ہیں۔ لیکن کروڑوں ٹن پانی آخر کس مقام پر یک دم کیوں نہیں گرپڑتا۔ اس پانی کی کثیر مقدار کو اس انداز میں نازل کرنا وہ خلق خدا، درختوں اور نباتات ارضی کے لئے نقصان دہ ہونے کے بجائے فائدہ مند ثابت ہو یہ آخر کون سے بےجان طبعی قانون کا نتیجہ ہے۔ پھر یہی بخارات جب شدید سرد منطقہ میں پہنچتے ہیں تو پانی جم جاتا ہے اسی کیفیت کے متعلق قرآن کریم نے ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ بلندی میں اولوں کے پہاڑ ہوتے ہیں جن کا فائدہ بہت کم اور نقصان بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یعنی وہی چیز جو اللہ کی رحمت تھی۔ اللہ کا عذاب بن کر گرنے لگتی ہے۔ اور فصلوں کو فائدہ پہنچانے کی بجائے انھیں تباہ کردیتی ہے۔ اور یہ اولے بھی گرتے اسی مقام پر ہیں جہاں اللہ کو منظور ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی مرضی کے مطابق ہواؤں کے رخ کو فوراً پھیر دیتا ہے اور جن لوگوں کو چاہتا ہے اولوں کے اس عذاب سے بچا بھی لیتا ہے اور جس قوم پر چاہتا ہے یہ عذاب اسی پر نازل ہوتا ہے۔ 71 یعنی آبی بخارات یا منجمد بادلوں کے ٹکراؤ سے بجلی بھی پیدا ہوتی ہے جو گر کر ہر چیز کو جلا دیتی ہے اور اسے تباہ کرکے رکھ دیتی ہے اور اس کی روشنی اس قدر تیز اور نگاہوں کو خیرہ کرنے والی ہوتی ہے کہ اگر انسان کچھ دیر اس کی طرف دیکھے تو وہ اس کی بینائی کے نور کو بھی تباہ کرکے رکھ دے۔ یعنی بارش جو تمام اہل زمین کے لئے خیر کا پہلو رکھتی ہے اس میں اہل زمین کے لئے شر کے کئی پہلو موجود ہیں۔ یعنی اس بارش کے پانی میں بجلی اور آگ بھی موجود ہے۔ اس میں اتنی تیز روشنی بھی ہے جو آنکھوں کو بےنور کرسکتی ہے پھر یہی پانی اولے بن کر نقصان دہ چیز بھی بن جاتا ہے۔ لہذا انسان کو خوشی کے عالم میں کبھی اترانا نہ چاہئے بلکہ اللہ کی گرفت سے ڈرتے رہنا چاہئے۔
Ayah 24:44

یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 24:44 in the Quran reader

اللہ ہی رات اور دن کا ادل بدل کرتا رہتا ہے۔ بلاشبہ اہل نظر کے لئے ان نشانیوں میں 72 عبرت کا سامان ہے۔

72 رات اور دن کا باری باری آنا بھی اللہ کی معرفت کی نشانیوں میں سے ایک بہت بڑی نشانی ہے۔ جسے اللہ نے قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سیاروں کی گردش کا ایسا مربوط نظام بنادیا ہے جس سے دن اور رات باری باری آتے رہتے ہیں۔ کسی مقام پر ایک ہی وقت راتیں بڑھ رہی ہیں تو دوسرے مقام پر اسی وقت چھوٹی ہو رہی ہیں۔ پھر اسی نظام سے ہر مقام پر موسموں میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ جو مختلف قسم کی اجناس اور نباتات کے پکنے میں ممدو ثابت ہوتی ہے۔ فصلوں کے پکنے اور موسم میں ایک گہرا تعلق ہے غرضیکہ اللہ تعالیٰ کا یہ نظام اس قدر محیرالعقول اور کثیر الفوائد ہے کہ جتنا بھی اس میں غور کیا جائے اتنا ہی اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کا سکہ انسان کے دل میں بیٹھتا جاتا ہے۔ موجودہ نظریہ کے مطابق یہ سب نتائج زمین کی محودی گردش اور سورج کے گرد سالانہ گردش سے حاصل ہوتے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ آخر زمین جیسے عظیم الجثہ کرے کو آخر کس ہستی نے مجبور کیا ہے کہ وہ سورج کے گرد اپنے محور پر ساڑھے چھ ڈگری کا زاویہ بناتے ہوئے چھیاسٹھ ہزار چھ سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھومتی رہے اور ہمیشہ گھومتی رہے اور اس گردش میں سرمو بھی فرق نہ آنے دے ؟ پھر بروقت اس کڑی نگرانی بھی رکھے ہوئے ہے (فَاعْتَبِرُوْا يٰٓاُولِي الْاَبْصَارِ ۝) 59 ۔ الحشر :2)
Ayah 24:45

وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى بَطْنِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰى رِجْلَیْنِ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ١ؕ یَخْلُقُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 24:45 in the Quran reader

اللہ نے ہر چلنے والے جاندار کو پانی سے 73 پیدا کیا۔ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو اپنے پیٹ کے بل چلتے ہیں، کچھ دو پاؤں پر اور کچھ چار پاؤں پر، اور کچھ وہ چاہتا ہے پیدا کردیتا ہے اور یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

73 سورة ہود کی آیت نمبر 7 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ ایام میں پیدا کیا اور (اس وقت) اس کا عرش پانی تھا (11: 7) اسی آیت کے مطابق درج ذیل حدیث کا مضمون ہے : عمران بن حصین کہتے ہیں کہ یمن کے کچھ لوگ آپ کے پاس عالم کی پیدائش کا حال پوچھنے آئے۔ آپ نے فرمایا : (پہلے صرف) اللہ کی ذات تھی اور اس کے سوا کوئی چیز نہ تھی۔ اس کا پانی عرش پر تھا۔ اس نے ہر چیز کو لوح محفوظ میں لکھ لیا اور آسمان اور زمین پیدا کئے (بخاری۔ کتاب بدوالخلق۔ باب ھوالذی یبدالخلق۔۔ ) اس آیت اور اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مخلوقات میں سے سب سے پہلے اللہ نے پانی کو پیدا کیا تھا۔ اور عرش کی کیفیت ہمیں معلوم نہیں نہ ہم یہ جاننے کے مکلف ہیں۔ پھر سورة انبیاء کی آیت نمبر 30 میں فرمایا : (وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاۗءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ ۭ اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ 30؀) 21 ۔ الأنبیاء :30) (21: 30) یعنی جس چیز میں بھی زندگی کی رمق ہے اسے ہم نے پانی سے بنایا ہے۔ جس کا دوسرا مطلب یہ بھی نکلتا ہے کہ کوئی جاندار چیز پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ اور اس آیت میں جانداروں کا ذکر فرمایا کہ وہ پانی سے پیدا ہوئے ہیں۔ خواہ وہ کس نوعیت کے ہوں۔ کیڑے مکوڑے ہوں، پیٹ کے بل چلنے یا رینگنے والے ہوں، جیسے سانپ، گرگٹ اور مچھلی وغیرہ یا دو پاؤں پر چلنے والے ہوں۔ جیسے انسان اور پرندے یا چار پاؤں پر جیسے جیسے تمام مویشی اور درندے وغیرہ۔ پھر کچھ ایسی بھی مخلوق ہے جس کے پاؤں چار سے بہت زیادہ ہوتے ہیں جیسے کنکھجورا وغیرہ۔ تو ایسی سب مخلوق کی ابتداء پانی سے ہوئی تھی اور پانی کے سہارے ہی یہ مخلوق زندہ رہ سکتی ہے۔ پانی سے روئے زمین کی تمام اشیاء کو اور بالخصوص جاندار اشیاء کو وجود میں لانا بھی اللہ تعالیٰ کا ایسا کارنامہ ہے جس سے اس کی ہر چیز پر قدرت ہونے کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ ڈارون کے نظریہ کے مطابق زندگی کا آغاز سمندر کے کنارے کائی سے ہوا تھا۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ کائی بھی پانی ہی کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی اور حقیقتاً ہر شے کی زندگی کا آغاز کائی سے نہیں بلکہ پانی سے ہوا تھا۔ علاوہ ازیں اسلامی نظریہ حیات ڈارون کے پیش کردہ نظریہ حیات سے کئی باتوں میں متصادم ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے میری تصنیف آئینہ پرویزیت حصہ دوم میں نظریہ ارتقائ)
Ayah 24:46

لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 24:46 in the Quran reader

ہم نے صاف صاف حقیقت بتلانے والی آیات اتاری ہیں اور سیدھی 74 راہ کی طرف رہنمائی تو اللہ ہی جسے چاہے کرتا ہے۔

74 یعنی یہ جتنی نشانیاں اوپر مذکور ہوئیں، غور و فکر کرنے والوں کو ان سے اللہ تعالیٰ کی بخوبی معرفت حاصل ہوسکتی ہے اور جو ان باتوں کی طرف توجہ ہی نہ کرے اسے ہدایت کیسے نصیب ہوسکتی ہے ؟
Ayah 24:47

وَ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالرَّسُوْلِ وَ اَطَعْنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰى فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 24:47 in the Quran reader

یہ (منافق) کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے اطاعت قبول کی۔ پھر اس کے بعد ان میں سے ایک فریق (اطاعت سے) منہ پھیر 75 لیتا ہے حقیقتاً یہ لوگ ایماندار نہیں۔

75 یعنی اپنے عمل سے اپنے قول کی خود ہی تردید کردیتے ہیں۔ ان کے دعوی کے دو جز تھے ایک اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، دوسرے اطاعت کرنا۔ اب چونکہ انہوں نے منہ پھیر کر اطاعت سے انکار کردیا ہے لہذا تو یہ اپنے دعویٰ کے پہلے جز یعنی ایمان لانے کے سلسلہ میں جھوٹے ہوئے۔ اگر سچے دل سے ایمان لائے ہوتے تو کبھی اطاعت سے منہ نہ پھیرتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس شخص کا بھی عمل اس کے قول یا زبانی دعویٰ کے خلاف ہو۔ حقیقتاً وہ اپنے دعوی میں جھوٹا ہوتا ہے۔
Ayah 24:48

وَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 24:48 in the Quran reader

اور جب انھیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ رسول ان کے درمیان 76 فیصلہ کرے تو کچھ لوگ اعراض کرنے لگتے ہیں

76 اس آیت سے کئی باتیں معلوم ہوئیں ایک یہ کہ اللہ کے رسول کی طرف بلانا دراصل اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلانا ہے۔ رسول کی دعوت اور رسول کی طرف دعوت دراصل اللہ کی دعوت اور اللہ کی طرف دعوت ہے۔ دوسرے یہ کہ رسول کا فیصلہ حقیقتاً اللہ ہی کا فیصلہ ہوتا ہے۔ تیسرے یہ کہ جو شخص رسول کی طرف جانے یا اس کا فیصلہ کروانے یا اس کا فیصلہ تسلیم کرنے سے اغراض کرے وہ مومن نہیں بلکہ منافق ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ اس آیت کا حکم آپ کی زندگی تک ہی محدود نہیں۔ بلکہ آپ کے بعد کوئی بھی اسلامی حکومت جس میں عدالتیں کتاب اللہ اور سنت رسول کے مطابق فیصلے کرتی ہیں اور ایسی عدالت کی طرف سے اگر کسی شخص کو بلاوا یا سمن آئے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ہی بلاوا سمجھا جائے گا۔ اور اس سے اعراض کرنے والا مومن نہیں بلکہ منافق ہوگا۔ علاوہ ازیں ہمارے اختلافی مسائل میں بھی اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت حکم کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور کتاب و سنت میں ہمارے اکثر اختلافی مسائل کا حل بھی موجود ہے۔ اگر کوئی شخص کتاب و سنت کی طرف جانے یا اس کا فیصلہ ماننے سے اعراض کرے تو وہ بھی حقیقتاً مومن نہیں بلکہ منافق ہیں۔ مقلد حضرات کے لئے بھی یہ آیت لمحہ فکریہ ہے جن میں سے بعض کا تو یہ حال ہے کہ جب ان سے کتاب و سنت کے مطابق فیصلہ کرنے کو کہا جائے تو چیں بہ جبین ہوجاتے ہیں اور چل دیتے ہیں اور بعض یوں کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے امام صاحب کو بھی یہ آیت اور یہ حدیث معلوم تھی۔ آخر انہوں نے بھی کسی دلیل سے یوں کہا ہوگا اور وہ دلیل ہمیں جاننے یا سمجھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم مقلد ہیں۔
Ayah 24:49

وَ اِنْ یَّكُنْ لَّهُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْۤا اِلَیْهِ مُذْعِنِیْنَؕ Open ayah 24:49 in the Quran reader

اور حق ان کی موافقت میں ہو تو بڑے 77 مطیع و منقاء ہو کر چلے آتے ہیں۔

77 ذھن کے معنی نہایت فرمانبردار بن کر ساتھ ہو لینا یا اشاروں پر چلنا ہے۔ اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ منافق لوگ اللہ اور اس کے بلانے یا اس کے ہاں جانے سے اعراض صرف اس وقت کرتے ہیں جب انھیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے کا حق دبا رہے ہیں اور اگر رسول کے پاس گئے تو وہ یقیناً حق کے مطابق فیصلہ کرے گا۔ لہذا ہمیں اس کے پاس جانے سے نقصان پہنچ جائے گا لیکن جب انھیں معلوم ہوا کہ ہم حق پر ہیں یا دوسرے کی طرف سے ان کا حق نکلتا ہے تو بلا چون و چرا نہایت فرمانبردار بن کر ساتھ ہو لیتے ہیں اس کی وجہ بھی وہی ہے ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ یہ رسول حق کے مطابق ہی فیصلہ کرے گا۔ ایسے لوگ دراصل رسول کی نہیں اپنے فائدے کی اتباع کرتے ہیں۔ پہلے سورة مائدہ کی آیت نمبر 43 کے حاشیہ میں گزر چکا ہے کہ ایک منافق اور ایک یہودی کے درمیان کچھ جھگڑا ہوگیا تھا۔ جس میں یہودی حق پر تھا۔ اور یہ چاہتا تھا کہ اپنا مقدمہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لے چلیں۔ جبکہ منافق یہ چاہتا تھا کہ یہ مقدمہ یہود کے سردار کعب بن اشرف کے پاس لے جائیں۔ اس مقدمہ کی تفصیل مذکورہ حاشیہ میں دیکھ لی جائے۔ کہتے ہیں کہ یہ آیت بھی اسی سلسلہ میں نازل ہوئی تھی۔ اس آیت سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص شریعت کی مفید مطلب باتیں تو بہ خوشی کرے مگر جو باتیں اس کی اغراض و خواہشات یا مفاد کے خلاف پڑتی ہوں ان سے اعراض کرے۔ وہ مومن نہیں۔ بلکہ منافق ہوتا ہے اور اپنے ایمان کے دعوے میں جھوٹا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ دراصل اپنی خواہشات کا پیروکار ہوتا ہے۔ شریعت کا نہیں ہوتا۔
Ayah 24:50

اَفِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَمِ ارْتَابُوْۤا اَمْ یَخَافُوْنَ اَنْ یَّحِیْفَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ بَلْ اُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 24:50 in the Quran reader

کیا ان کے دلوں میں (نفاق کا) روگ ہے یا وہ شک میں پڑے ہوئے ہیں یا وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اللہ اور اس کا رسول ان کی حق تلفی 78 کر جائیں گے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ خود ہی ظالم ہیں۔

78 یعنی ان منافقوں کے رسول کے فیصلہ سے اعراض کی تین ہی وجہیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ سچے دل سے ایمان نہ لایا ہو بلکہ اپنے ذاتی مفادات کے حصول کی خاطر مسلمان ہوگیا ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ ایمان کا دعوے کرنے کے باوجود اس شک و شبہ میں مبتلا ہو کر پتہ نہیں یہ شخص واقعی اللہ کا رسول ہے بھی یا نہیں ؟ یا یہ قرآن اللہ کا کلام ہے بھی یا نہیں ؟ یا آخرت کے دن کے قیام اور اس دن جز و سزا کا عقیدہ کچھ حقیقت بھی رکھتا ہے یا نہیں یا یہ سب باتیں محض افسانے اور من گھڑت باتیں ہیں۔ تیسرے یہ کہ وہ اللہ اور رسول کو مان لینے کے بعد یہ اندیشہ رکھتا ہو کہ قرآن کے فلاں حکم نے تو ہمیں ذلیل کرکے رکھ دیا ہے اور مصیبت میں ڈال دیا ہے یارسول کا فلاں طریقہ یا حکم ہمارے لئے سخت نقصان دہ ہے ان تینوں صورتوں میں سے جو بھی صورت ہو ان کے ظالم ہونے میں کوئی شک نہیں۔ ایسا شخص خود بھی فریب میں مبتلا ہے اور فی الحقیقت بڑا دغاباز اور خائن ہے۔ جو ذاتی مفادات کی خاطر مسلمان بنا ہوا ہے۔ اور مسلمانوں کو بھی فریب دے رہا ہے۔ وہ اپنے آپ پر بھی ظلم کر رہا ہے اور دوسرے مسلمانوں پر بھی۔ جو اس کے زبانی دعوے پر اعتماد کرکے اسے اپنی ملت میں شامل کرلیتے ہیں۔ ان کے ظالم ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ اپنا حق تو پورا پورا وصول کریں۔ خواہ اس میں دوسروں کی کتنی زیادہ حق تلفی ہو رہی ہو۔ اور اسی غرض کے تحت وہ اپنا فیصلہ وہاں لے جانا چاہتے ہیں جہاں انھیں اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ کی توقع ہو۔ اور یہ دونوں باتیں ان کے ظالم ہونے پر صریح دلیل ہیں۔
Ayahs 24:51–52

اِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذَا دُعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ لِیَحْكُمَ بَیْنَهُمْ اَنْ یَّقُوْلُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:51 in the Quran reader

مومنوں کی تو بات ہی یہ ہوتی ہے کہ جب انھیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جائے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور اطاعت 79 کی ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَخْشَ اللّٰهَ وَ یَتَّقْهِ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 24:52 in the Quran reader

اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے، اللہ سے ڈرے، اور اس کی نافرمانی سے بچتا رہے تو ایسے ہی لوگ بامراد ہیں۔

79 یعنی مومنوں کی نظر منافقوں کی طرح اپنے ذاتی مفادات پر نہیں ہوتی۔ بلکہ اپنا تمام تر مفاد اس بات میں سمجھتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کی دل و جان سے اطاعت کی جائے وہ اس بات کے منتظر رہتے ہیں کہ اللہ کا رسول انھیں کوئی حکم دے جسے وہ بجا لائیں۔ ان کی خوشی بھی اسی بات میں ہوتی ہے اور اطمینان بھی اسی بات میں۔ اور جن لوگوں نے اپنی تمام تر اغراض، خواہشات اور مفادات کو اللہ اور اس کے رسول کی رضا مندی کے تابع بنادیا۔ تو اللہ بھی ایسے لوگوں کی حمایت و نصرت فرماتا ہے وہ دنیا میں بھی انھیں کامیاب بنائے گا اور آخرت میں بھی ایسے ہی لوگ کامیاب ہوں گے۔
Ayah 24:53

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ اَمَرْتَهُمْ لَیَخْرُجُنَّ١ؕ قُلْ لَّا تُقْسِمُوْا١ۚ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 24:53 in the Quran reader

(منافقین) اللہ کی پختہ قسمیں کھا کر (رسول سے) کہتے ہیں کہ اگر آپ انھیں حکم دیں تو وہ ضرور (جہاد پر) نکلیں گے آپ ان سے کہئے کہ قسمیں نہ کھاؤ۔ مطلوب (قسمیں نہیں بلکہ) دستور کے مطابق 80 اطاعت ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر 81 ہے۔

80 طاعہ معروفہ کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جن لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا سچے دل سے عبد کیا ہو۔ وہ اطاعت کرکے دکھا دیتے ہیں اور انھیں قسمیں کھانے کی کبھی ضرورت پیش ہی نہیں آتی۔ قسمیں کھانے اور قسمیں کھا کر یقین دلانے اور اپنا اعتماد بحال کرنے کی تو ضرورت ہی تب پیش آتی ہے جب کسی کا اعتماد مجروح ہوچکا ہو۔ اور آئندہ بھی اس کی صحیح صورت یہ نہیں کہ بس پکی قسمیں کھا کر اعتماد بحال کرنے کی کوشش کریں۔ بلکہ یہ ہے کہ وہ عملی طور پر اطاعت کرکے دکھا دیں۔ اس طرح قسمیں کھانے کے بغیر ہی ان کا اعتماد بحال ہوجائے گا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جتنی اور جیسی وہ اطاعت کر رہے ہیں تو وہ پہلے ہی سب کو معلوم ہے۔ پہلے بھی لوگ ایسے بڑھ بڑھ کر باتیں بناتے تھے اور یقین دہانیاں کراتے تھے۔ قسمیں کھانے کے بعد ویسی اطاعت کی ان سے کیا توقع ہوسکتی ہے ؟ 81 یعنی تم لوگف اگر قسمیں کھا کر لوگوں کو اپنی بات کا یقین دلا بھی دو تو اللہ کے سامنے تو تمہاری ایسی چالاکیاں اور فریب کاریاں کسی کام نہیں آسکتیں۔ جو تمہاری تمام ظاہری اور باطن خباثتوں سے پوری طرح باخبر ہے اور وہ کسی وقت بھی تمہاری عیاری اور نفاق کا پردہ چاک کرسکتا ہے۔
Ayah 24:54

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ١ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْهِ مَا حُمِّلَ وَ عَلَیْكُمْ مَّا حُمِّلْتُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوْهُ تَهْتَدُوْا١ؕ وَ مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 24:54 in the Quran reader

آپ ان سے کہئے کہ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو پھر اگر تم اطاعت نہیں کرو گے تو رسول کے ذمہ تو وہی کچھ ہے جس کا وہ مکلف ہے (یعنی تبلیغ کا) اور تمہارے ذمہ وہ کچھ ہے جس کے تم مکلف ہو (یعنی اطاعت کے) اور اگر تم رسول کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے اور رسول کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ صاف صاف 82 پیغام پہنچا دے۔

82 یعنی رسول اپنی ذمہ داری پوری کرنے کا پابند ہے اور تم اپنی ذمہ داری کے۔ رسول کی ذمہ داری اتنی ہے کہ وہ تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دے اور وہ اس نے پوری کردی۔ اور تمہارے ذمہ یہ بات ہے کہ تم اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو جس میں تم پس و پیش کر رہے ہو۔ اور تیری قسمیں کھا کھا کر ہی آئندہ کے لئے اطاعت کا یقین دلانا چاہ رہے ہو لیکن یاد رکھو کہ اگر اس کے احکام کی تعمیل کرو گے تو اسی میں تمہارا بھلا ہے۔ دنیا میں بھی عزت و آرام سے رہو گے اور آخرت میں کامیاب رہو گے۔ اور اگر ایسا نہ کرو گے تو ایسا نہ کرو گے تو اس میں رسول کا کچھ نقصان نہیں۔ تمہاری خباثتوں کا خمیازہ تمہیں ہی بھگتنا پڑے گا۔
Ayah 24:55

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١۪ وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا١ؕ یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِكُوْنَ بِیْ شَیْئًا١ؕ وَ مَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 24:55 in the Quran reader

تم میں سے جو مومن ہیں اور نیک کام کرتے ہیں ان سے اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ انھیں زمین میں ایسے ہی خلافت عطا کرے 83 گا جیسے تم سے پہلے کے لوگوں کو عطا کی تھی اور ان کے اس دین کو مضبوط کرے گا جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے اور ان کی حالت خود کو امن میں تبدیل کردے گا۔ پس وہ میری ہی عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گے اور جو اس کے بعد کفر کرے 84 تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں۔

83 اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو دنیا میں خلیفہ بنا کر بھیجا تھا تاکہ آدم اور اس کی اولاد دنیا میں وہ نظام حیات قائم کرے جو اللہ کی مرضی کے مطابق ہو اور سے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو بھی اور بعد میں وقتاً فوقتاً ان کی اولاد کو بذریعہوحی بتلا بھی دیا تھا۔ اور نظام خلاف کے قائم کرنے کے لئے جو اوصاف درکار تھے وہ سب آدم اور اس کی اولاد کی فطرت میں ودیعت کردیئے گئے تھے۔ ساتھ ہی انسان کو قوت ارادہ و اختیار بھی دیا گیا۔ اور اسی میں حضرت انسان کی آزمائش رکھ دی گئی کہ آیا وہ اپنے ارادہ و اختیار کے ساتھ اس مقصد خلافت کو پورا کرتا ہے یا نہیں ؟ اور چونکہک ایسے اوصاف ہر انسان کی فطرت میں رکھ دیئے گئے ہیں۔ اس لحاظ سے آدم کی تمام تر اولاد خلافت کی مستحق قرار پاتی ہے۔ التبہ ان سے وہ لوگ از خود خارج ہوجاتے ہیں جو اپنی مرضی اور اپنی خواہشات کو اللہ کی مرضی کے تحت نہ بنائیں۔ اس آیت کی رو سے منافقین کو اس خلافت ارضی کے استحقاق سے خارج کردیا گیا اور ان لوگوں کو بھی جو سرے سے ایمان ہی نہ لائیں یا ان کے اعمال صالح نہ ہوں۔ گویا یہ استحقاق صرف ان لوگوں کے لئے باقی رہ گیا جو ایمان بھی لائیں اور اعمال بھی صالح بجا لائیں۔ ایسے ہی لوگوں سے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ اگر انھیں زمین اقتدار حاصل ہو تو وہ ایسا نظام حیات قائم کریں گے جو اللہ کے ہاں پسندیدہ اور اس کی منشاء کے مطابق ہو اور یہی لوگ اپنے میں سے کسی بہترین آدمی کو اپنا امیر یا امام یا خلیفہ بنالیں گے اور جب وہ ایسا دین یا نظام حیات قائم کرلیں گے تو اللہ ان کے دین کو اور زیادہ مضبوط بنا دے گا اور ان کی نمایاں خصوصیت یہ ہوگی کہ شرک کو کسی قیمت پر بھی گوارا نہ کریں گے۔ اس آیت میں منکم سے اور اس سے پہلی آیات میں منافقین مدینے کے ذکر سے صاف طور پر معلوم ہو رہا ہے کہ یہ وعدہ صحابہ کرام ؓ کی جماعت سے کیا جارہا ہے اور جب یہ سورت نازل ہوئی اس وقت تک مسلمان تنگدستی کی زندگی بسر کر رہے تھے فتح خیبر کے بعد مسلمانوں کی معیشت میں صرف اس حد تک آسودگی آوی تھی کہ مہاجرین نے جو باع اور کھجوروں کے درخت معاہدہ مواخات کے تحت انصار سے مزارعت پر لئے تھے وہ انہوں نے واپس کردیئے تھے۔ اور جنگ احزاب سے پہلے تک ملمانوں کی نوخیز ریاست مدینہ کی یہ حالت تھی کہ وہاں ہر وقت کفار کے حملہ سے خوف و ہراس کی فضا چھائی رہتی تھی۔ جنگ احزاب کے خاتمہ پر البتہ رسول اللہ ﷺ نے یہ ضرور فرمایا تھا کہ آج کے بعد کفار ہم پر چڑھائی کرنے کے لئے نہیں آئیں گے بلکہ اب ہم ان پر چڑھائیں کریں گے۔ مگر مدینہ سے باہر عرب میں لوٹ مار کا بازار گرم رہتا تھا اور کوئی شخص یا کوئی قافلہ خیر خیریت سے سفر نہ کرسکتا تھا۔ اس آیت میں تو اللہ تعالیٰ نے۔۔ سے خوف اور پھر اس کے خاتمہ کی خوشخبری دی اور رسول اللہ ﷺ نے خوف کے علاوہ تنگ دستی کے خاتمہ کی بھی خوشخبری دی۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ عدی بن حاتم کہتے ہیں کہ ایک دن میں آپ کے پاس بیٹھا تھا کہ دو آدمی آئے۔ ایک تنگی معیشت کی شکایت کرتا تھا اور دوسرا رہزنی کی۔ آپ نے فرمایا : عنقریب ایسا امن ہوگا کہ یہاں سے جانے والا قافلہ بغیر کسی محافظ کے جائے گا اور اے عدی بن حاتم ! کیا تم نے حیرہ دیکھا ہے ؟ میں نے کہا نہ البتہ اس کی خبر ملی ہے فرمایا : اگر تمہاری عمر زیادہ ہوئی تو تم دیکھو گے کہ ایک عورت حیرہ سے چل کر کعبہ کا طواف کرے گی لیکن اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا میں نے دل میں سوچا : قبیلہ بن طے کے لٹیرے جنہوں نے تہلکہ مچا رکھا ہے اس وقت کہاں جائیں گے۔ اور قیامت نہیں آئے گا کہ ایک شخص اپنا صدقہ لے کر چکر لگائے کہ اسے کوئی لینے والا مل جائے لیکن اسے کوئی صدقہ لینے والا نہیں ملے گا۔ اور تم لوگ کسریٰ کے خزانے فتح کرو گے۔ میں نے کہا : کسریٰ بن ہرمز ؟ آپ نے کہا اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا اور اے عدی ! اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو ضرور تم ایسے شخص کو دیکھو گے جو مٹھی بھر سونا یا چاندی لے کر ایسے آدمی کی تلاش میں نکلے گا جو اسے قبول کرے لیکن اسے ایسا کوئی آدمی نہ ملے گا۔ (بخاری۔ کتاب الزکوۃ باب الصدقہ قبل۔۔ کتاب بدء الخلق۔ باب علامات النبوۃ فی الاسلام) حضرت عدی کہتے ہیں پھر میں نے حیرہ سے چل کر کعبہ کا طواف کرنے والی عورت کو دیکھا جو اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتی تھی اور میں خود ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کئے۔ (بخاری۔ کتاب بدء الخلق۔ باب علامات النبوۃ) ان حالات میں ایسی پیشین گوئی مسلمانوں کے لئے ایک عظیم خوشخبری تھی چناچہ اس خوشخبری کا کچھ حصہ تو رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں ہی پورا ہوگیا۔ فتح مکہ اور بالخصوص اعلان برات کے بعد عرب بھر سے لوٹ مار کی وارداتیں ختم ہوگئیں۔ اور صحابہ کرام ؓ کو آسودگی بھی میسر آگئی مگر عرب سے باہر ابھی تک خوف و ہراس، لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کی فضا قائم تھی۔ جو خلفائے راشدین کے زمانہ میں پوری ہوئی۔ اور حضرت عثمان ؓ کے زمانہ میں فی الواقعہ اتنی آسودگی ہوگئی کہ ایک شخص اپنی زکوٰۃ ادا کرنے کے لئے نکلتا تو اسے کوئی مستحق زکوٰۃ شخص نہیں ملتا تھا۔ ضمناً اس آیت سے درج ذیل نتائج بھی سامنے آتے ہیں : 1۔ صحابہ کرام ؓ نے جو نظام خلاف قائم کیا۔ وہی اللہ کے ہاں پسندیدہ دین ہے۔ اور اللہ نے اسی دین کو ان کے لئے پسند فرمایا تھا اور اس نظام خلافت کی خصوصیات سورة حج کی آیت نمبر 41 میں یہ بیان فرمائیں کہ ایسے مومنوں کو جب ہم اقتدار بخشتے ہیں تو نماز اور زکوٰۃ کا نظام قائم کرتے ہیں۔ بھلے کاموں کا حکم دیتے ہیں اور برے کاموں سے روکتے ہیں اس وضاحت سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اعمال صالح کس قسم کے اعمال ہوتے ہیں اور اس اصطلاح سے شرعاً کون سے اعمال مراد لئے جاسکتے ہیں۔ یہ وضاحت ہیں اس لئے کرنا پڑی ہے کہ بعض کج فہم حضرات اعمال صالح سے مراد صلاحیت رکھنے والے کام لیتے ہیں جیسے وہ اعمال جن سے اقتدار حاصل کیا جاسکتا ہو۔ اس لحاظ سے ان کے نزدیک ہر وہ قوم جو اس وقت اقتدار حاصل کئے ہوئے ہے وہی ایماندار ہے اور اسی کے اعمال صالح ہیں۔ خواہ وہ قوم کافر، مشرک یا دہریہ ہی کیوں نہ ہو۔ ظاہر ہے یہ کج فکری کتاب و سنت کی تمام تر تعلیمات پر پانی پھیر دیتی ہے۔ 2۔ یہ نظام خلافت اس قدر مضبوط ہوگیا تھا جس کی تمام روئے زمین پر دھاک بیٹھ گئی تھی۔ اور یہ دور حضرت عثمان ؓ کی شہادت تک مسلسل ترقی پذیر رہا۔ اگرچہ بعد میں مسلمانوں کے باہمی تنازعات کی بنا پر ان میں انحطاط آنا شروع ہوگیا۔ تاہم یہ نظام بعد میں مدتوں چلتا رہا۔ 3۔ اس نظام میں شرک کا شائبہ تک نہ تھا، لوگوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی ہر قسم کے شرک سے پاک و صاف تھی۔ ان تمام باتوں سے صحابہ کرام ؓ کی کمال فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ آیا اللہ کا یہ وعدہ صرف صحابہ کرام ؓ کے لئے ہی مخصوص تھا یا بعد کے مومنوں کے لئے بھی ہے ؟ تو اس کا جواب اسی آیت میں مذکور ہے یعنی یہ وعدہ جب صحابہ کرام ؓ سے پہلے کے مومنوں کے لئے بھی تھا تو بعد میں آنے والے مومنوں کے لئے کیوں نہ ہوگا ؟ بشرطیکہ ان میں مندرجہ اوصاف پائے جائیں یعنی وہ سچے مومن ہوں، اعمال صالح بجا لائیں۔ نظام، نماز اور زکوٰۃ قائم کریں۔ اچھے کاموں کا حکم دیں۔ برے کاموں سے روکیں ان کا مقصد محض اللہ کے دین یا نظام خلافت کا قیام ہو۔ اور اس کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔ ان کی زندگیاں شرک سے کلیتہ پاک صاف ہوں۔ صرف اللہ سے ڈرنے والے اور اسی پر توکل کرنے والے ہوں اور باہم متحد ہو کر اور باہمی مشورہ سے کام کریں۔ اور تفرقہ بازی سے بچ رہیں۔ کیونکہ قرآن کریم تفرقہ بازی کو بھی اقسام شرک میں شمار کیا ہے۔ اگر مومن ان اوصاف کو اپنا لیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اللہ ان سے کیا ہوا وعدہ پورا نہ کرے۔ 84 یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کے مومنوں یا صحابہ کرام ؓ سے ایسے وعدہ اور پکی خوشخبری کے بعد بھی ان کا ساتھ نہ دے اور کفر و نفاق کی راہ اختیار کرے تو ایسے لوگ یقیناً بدکردار ہیں اور بعض علماء نے اس فقرہ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ خلفائے راشدین کی خلافت قائم ہونے اور دین کے مضبطو ہونے کے بعد بھی جو شخص اس بات کا انکار کرے کہ خلفائے راشدین اور صحابہ کرام ؓ کا اختیار کردہ دین اللہ کا پسندیدہ دین نہیں تھا وہ ایسے لوگ فاسق ہیں۔
Ayah 24:56

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 24:56 in the Quran reader

نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو اور رسول کی اطاعت کرو (اس طرح) توقع ہے کہ تم پر رحم کیا جائے 85 ۔

85 یہ خطاب صرف منافقوں کو ہی نہیں بلکہ سب کے لئے عام ہے۔ یعنی اگر تم لوگ چاہتے ہو کہ اللہ تم پر رحم فرمائے اور اس کی رحمتیں تم پر نازل ہوں تو اس کی صورت صرف یہی ہے کہ سچے دل سے اللہ کے رسول کی اطاعت کرو اور نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کا پورا اہتمام کرو۔
Ayah 24:57

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ لَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 24:57 in the Quran reader

آپ کافروں کے متعلق یہ خیال نہ کیجئے کہ وہ زمین میں 86 (اللہ کو) عاجز کردینے والے ہیں (کہ وہ انھیں عذاب نہ کرے) ان کا ٹھکانا علاج ہے اور وہ سب ہی برا ٹھکانا ہے

86 کافر سے مراد یہاں سب غیر مسلم ہیں۔ یعنی کفار مکہ، عرب کے مشرک قبائل، مدینہ کے یہود و منافقین، یہ سب لوگ مل کر اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگا لیں تب بھی یہ لوگ اسلام کی راہ روک نہیں سکتے۔ اللہ کا دین تو یقیناً بلند ہو کے رہے گا۔ رہے یہ معاندین تو اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی انھیں رسوا کرے گا اور آخرت میں بھی انھیں جہنم کا عذاب بھگتنا ہوگا۔
Ayah 24:58

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِیَسْتَاْذِنْكُمُ الَّذِیْنَ مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ وَ الَّذِیْنَ لَمْ یَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنْكُمْ ثَلٰثَ مَرّٰتٍ١ؕ مِنْ قَبْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ وَ حِیْنَ تَضَعُوْنَ ثِیَابَكُمْ مِّنَ الظَّهِیْرَةِ وَ مِنْۢ بَعْدِ صَلٰوةِ الْعِشَآءِ١ؕ۫ ثَلٰثُ عَوْرٰتٍ لَّكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ وَ لَا عَلَیْهِمْ جُنَاحٌۢ بَعْدَهُنَّ١ؕ طَوّٰفُوْنَ عَلَیْكُمْ بَعْضُكُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:58 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تمہارے غلاموں اور ان لڑکوں پر جو ابھی حد بلوغ کو نہ پہنچے ہوں، لازم ہے کہ وہ (دن میں) تین بار اجازت لے کر گھروں میں داخل ہوا کریں۔ نماز فجر سے پہلے اور ظہر کے وقت جب تم کپڑے اتارتے ہو اور عشاء کی نماز کے بعد یہ تین اوقات تہارے لئے پردہ 87 کے وقف ہیں۔ ان اوقات کے علاوہ (دوسرے وقتوں) میں ان کو بلا اجازت آنے جانے سے نہ ان پر کچھ گناہ ہے 88 اور نہ تم پر، تمہیں ایک دوسرے کے پاس بار بار آنا ہی پڑتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اپنے ارشادات کی وضاحت کرتا ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔

87 اس آیت سے پھر وہی معاشرتی احکام شروع ہو رہے ہیں جو اس سورت کا اصل موضوع ہے۔ اس آیت میں عورات کا لفظ عورت کی جمع ہے۔ یہ لفظ ان الفاظ سے ہے جو کسی دوسری زبان میں منتقل ہو کر بالکل جداگانہ مفہوم اختیار کرلیتے ہیں۔ ہماری زبان میں تو عورت مرد کی تانیث یا مادہ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے جبکہ عربی زبان میں (جس زبان کا یہ لفظ ہے) عورت ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس کو کھلا رکھنا یا اس کا کھلا رہنا انسان کے لئے باعث ننگ و عار ہو۔ اور انسان اسے چھپانا ضروری سمجھتا ہو (مفرادت امام راغب) اور مردوں کی مادہ کے لئے نساء کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اسی سورة کی آیت نمبر 31 میں یہ دونوں الفاظ اکٹھے استعمال ہوئے ہیں۔ چناچہ ارشاد باری ہے۔ (اَوِ الطِّفْلِ الَّذِيْنَ لَمْ يَظْهَرُوْا عَلٰي عَوْرٰتِ النِّسَاۗءِ 31؀) 24 ۔ النور :31) ترجمہ : یا پھر وہ (نابالغ) بچے جو ابھی عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے واقف نہ ہوئے ہوں علاوہ ازیں قرآن یہ لفظ ایسے غیر محفوظ مکان کے لئے بھی استعمال ہوا ہے جس کو محفوظ رکھنا ضروری ہو (33: 13) اور اس مقام پر پوشیدہ اوقات یا پردہ کے اوقات کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ اس آیت میں بالخصوص گھر کی خلوت) Privacy ( کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے اور حکم یہ دیا جارہا ہے کہ دن اور رات یعنی 24 گھنٹوں میں تین اوقات ایسے ہیں جن میں تمہارے غلاموں، تمہاری کنیزوں اور تمہارے نابالغ بچوں خواہ وہ لڑکے ہوں یا یا لڑکیاں، سب کا داخلہ بلا اجازت ممنوع ہے۔ اور وہ اوقات ہیں۔ طلوع فجر سے پہلے یعنی سحری کا وقت، دوسرے ظہر کے وقت نماز ظہر سے پہلے یا بعد، جب تم آرام کرنے کے لئے اپنے کپڑے اتارتے ہو۔ اور تیسرے جب عشاء کی نماز کے بعد تمہارے سونے کا وقت ہوتا ہے اور یہ تینوں اوقات ایسے ہیں کہ جن میں اکثر میاں بیوی کی ہم بستری کا امکان ہوتا ہے۔ لہذا تمہارے کسی نابالغ بچے یا تمہارے غلام کو بلا اجازت گھر میں داخل نہ ہونا چاہئے۔ 88 ان تین اوقات کے علاوہ کسی بھی وقت تمہارے نوکر چاکر اور تمہارے نابالغ بچے تمہاری عورتوں کے ہاں یا تمہارے پرائیوٹ کمروں میں بلا اجازت آجاسکتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ گھر کے کام کاج کے سلسلہ میں انھیں ہر وقت گھر سے باہر اور باہر سے گھر میں داخلہ کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ اور ان پر ہر وقت اجازت کے ساتھ داخلہ کی پابندی ان کے لئے بھی اور تمہارے لئے بھی ایک مصیبت بن جائے گی۔ ہاں اگر یہ لوگ ان خلوت کے اوقات میں بلا اجازت اندر آئیں تو یہ ان کی غلطی ہے اور اگر ان اوقات کے علاوہ کسی دوسرے وقت تم کسی نامناسب حالت میں ہو اور وہ بلا اجازت اندر آجائیں تو تمہیں ان کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے کا کوئی حق نہیں۔ کیونکہ اس صورت میں غلطی تمہاری اپنی ہوگی کہ کام کاج کے اوقات میں تم نے اپنے آپ کو ایسی نامناسب حالت میں رکھا۔
Ayah 24:59

وَ اِذَا بَلَغَ الْاَطْفَالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ فَلْیَسْتَاْذِنُوْا كَمَا اسْتَاْذَنَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 24:59 in the Quran reader

اور جب لڑے سن بلوغ 89 کو پہنچ جائیں تو وہ بھی اس طرح اذن لیا کریں جیسا کہ ان سے پہلے (ان کے برے) اجازت لیتے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح تمہارے لیے اپنے احکام کھول کر بیان کرتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔

89 یعنی ان میں جنسی شعور،۔۔ میلانات بیدار ہونے لگیں اور شرعاً اس کی حد یہ ہے کہ بچے کو احتلام آنے لگے۔ بلوغت کی عمر کی سالوں سے تعیین کرنا مشکل ہے یہ بھی ممکن ہے کہ ایک لرکا گیارہ سال کا ہی بالغ ہوجائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اٹھارہ سال تک بالغ نہ ہو۔ اور اس سن بلوغت کے بھی کئی عوامل ہیں مثلاً جن ممالک کی آب و ہوا گرم مرطوب ہو وہاں بچے جلد بالغ ہوجاتے ہیں۔ اور جہاں آب و ہوا سرد ہو وہاں دیر سے بالغ ہوتے ہیں۔ اسی طرح خوشحالی گھرانوں کے بچے جلد بالغ ہوجاتے ہیں۔ اور تنگدست گھرانوں کے بچے دیر سے بالغ ہوتے ہیں۔ اسی طرح مرد و عورت کے آزادانہ اور فحاشی کے ماحول میں بچے جلد بالغ ہوجاتے ہیں اور پاکیزہ ماحول والے بچے دیر سے بالغ ہوتے ہیں۔ علاوہ ازین بچے کی بلوغت کا مدار کسی حد تک اس کی قد و قامت اور صحت پر بھی ہوتا ہے کمزور خلقت والے بچے نسبتاً دیر سے بالغ ہوتے ہیں۔ لہذا بلوغت کا اندازہ کسی بچے کی عمر سے نہیں بلکہ اس کی دوسری کیفیات سے لگانا چاہئے۔ اور جب ان کی بلوغت کا علم ہوجائے۔ تو ان پر گھروں میں داخلہ پر وہی پابندیاں عائد ہوجائیں گی جو بڑوں پر ہیں یعنی کسی وقت بھی ان کا گھروں میں بلا اجازت داخلہ ممنوع ہوگا۔
Ayah 24:60

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور جو عورتیں جوانی سے گزری 90 بیٹھی ہوں اور نکاح کی توقع نہ رکھتی ہوں وہ اگر اپنی چادریں 91 اتار کر (ننگا سر) رہا کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ زیب وزینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں۔ تاہم اگر وہ (چادر اتارنے سے) پرہیز 92 ہی کریں تو یہی بات ان کے حق میں بہتر ہے اور اللہ سب کچھ سنتا، جانتا ہے۔

90 قواعد کا لفظ قاعدہ اور قعیدہ دونوں کی جمع ہے۔۔ قاعدہ بمعنی بنیاد اور قواعد بمعنی بنیادیں بھی قرآن کریم میں استعمال ہوا ہے۔ (2: 127) اور قعد کے معنی بیٹھنا بھی، بیٹھ رہنا اور کوئی کام نہ کرنا بھی اور کسی کام کے لئے تیار ہو بیٹھنا بھی ہے۔ اور قیدہ کا دوسرے معنی سے تعلق رکھتا ہے۔ یعنی ایسی عورتیں جو ازدواجی زندگی کے کام کاج سے فارغ ہوچکی ہوں۔ یعنی سن یاس کو پہنچ چکی ہوں اور اولاد پیدا کرنے کے قابل نہ رہی ہوں اور جن کی جنسی خواہشات مرچکی ہوں اور اگر کوئی مرد انھیں دیکھے تو اس کے صنفی جذبات میں تحریک پیدا نہ ہو یعنی بوڑھی کھوسٹ عورتیں۔ 91 یہاں ثِیَابَھُنَّ کا لفظ استعمال ہوا ہے تو اس کا یہ مطلب یہ نہیں کہ اپنے بدن کے سب کپڑے اتار سکتی ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب ہے کہ ان سے حجاب کی پابندیاں اٹھ جاتی ہیں۔ لیکن ستر کی پابندیاں بدستور بحال رہتی ہیں۔ ستر اور حجاب میں فرق یہ ہے کہ ستر ان اعضاء کو ڈھانپ رکھنے کا نام ہے جن کا ڈھانپنا ہر حال میں ضروری ہے کوئی دیکھ رہا ہو یا نہ دیکھ رہا ہو۔ مرد کا مقام ستر ناف سے لے گھٹنے تک ہے۔ اور عورت کے مقام ستر اس کا سارا جسم ہے ماسوائے ہاتھوں اور چہرہ کے۔ مرد اپنے مقامات ستر اپنی بیوی کے سوا کسی کے سامنے کھول نہیں سکتا اور نہ ہی عورت اپنے ستر کے مقامات اپنے خاوند کے سوا کسی دوسرے کے سامنے کھول سکتی ہے۔ ان احکام میں اگر گنجائش ہے تو صرف یہ ہے کہ عورت اپنے محرم رشتہ داروں کے سامنے کسی ضرورت کے تحت جسم کا اتنا حصہ کھول سکتی ہے جسے گھر کا کام کاج کرتے ہوئے کھولنے کی ضرورت پیش آتی ہے جیسے فرش دھوتے وقت پائنچے اوپر چڑھا لینا یا آٹا گھوندتے وقت کف اوپر چڑھا لینا وغیرہ اور مقام ناف سے لے کر گھٹنے تک کے مقامات ستر توث ایسے ہیں جنہیں کوئی عورت کسی عورت کے بھی سامنے کھول نہیں سکتی۔ (مزید تفصیل کے لئے میری تصنیف احکام ستروحجاب) اور یہاں جو بڑھی بوڑھیوں کو کپڑے اتارنے کی اجازت ہے تو اس سے مراد کپڑے ہیں جو ستر سے متعلق نہیں بلکہ حجاب سے تعلق رکھتے ہیں۔ اور وہ دو ہیں ایک دوپٹہ جس سے عورتوں کے سر پر رکھنے اور اس سے اپنے گریبان ڈھانپے رکھنے کا حکم ہے اور اس کا تعلق گھر کے اندر کی دنیا سے ہے اور دوسرے بڑی چادریں جن سے انھیں اپنا سارا بدن اور زیب وزینت ڈھانپ کر گھر سے باہر نکلنے کا حکم ہے۔ اب بڑی بوڑھوں کی رخصت صرف یہ ہے کہ ان کے لئے یہ ضروری نہیں کہ گھر میں ہر وقت دوپٹہ یا اوڑھنی اوڑھے رکھیں یا جب کسی ضرورت سے گھر سے باہر نکلیں تو بڑی چادروں میں اپنے پورے جسم کو ڈھانپ کو نکلا کریں۔ اور یہ رخصت بھی صرف اس صورت میں ہے جب انہوں نے سنگھار اور میک اپ وغیرہ نہ کیا ہو۔ اور اگر ایسی صورت ہو اور انھیں بھی اپنی زیب وزینت کا اظہار مقصود ہو یا ان کا بھی بناؤ سنگھار کرنے یا اس کی نمود و نمائش کرنے کو جی چاہتا ہو تو انھیں یہ رخصت نہیں ملے گی۔ 92 یعنی اگر بڑی بوڑھی عورتیں بھی اس رخصت سے فائدہ نہ اٹھائیں تو یہی بات ان کے حق میں بہتر ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اسے دیکھنے والے سارے بوڑھے یا متقی لوگ تو نہیں ہوں گے۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی شہوت کا مارا اوباش اس سے بھی چھیڑ چھاڑ شروع کر دے اور اس پر بھی ہاتھ صاف کرنے سے نہ چوکے۔ لہذا بوڑھی عورتیں بھی اس رخصت کا استعمال موقع و محل کا لحاظ رکھ کر کریں۔ بصورت دیگر اس رخصت پر عمل نہ کریں۔ یہی چیز ان کے حق میں بھی بہتر ہے اور معاشرہ کے حق میں بھی۔
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

اس بات میں نہ اندھے پر، نہ لنگڑے پر، نہ مریض 93 اور نہ خود تمہارے لیے کوئی حرج ہے کہ تم اپنے گھروں سے 94 کھانا کھاؤ، اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماں (اور نانی) کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں، بہنوں، چچاؤں، پھوپھیوں، ماموؤں یا خالاؤں کے گھروں سے کھاؤ یا ان کے گھروں سے جن کے تم سرپرست 95 ہو یا اپنے دوست 96 کے ہاں سے کھالو۔ نہ ہی اس بات میں کوئی گناہ ہے کہ تم سب مل کر کھاؤ یا علیحدہ علیحدہ 97 ۔ البتہ جب تم گھروں میں 98 داخل ہوا کرو تو اپنے لوگوں (گھر والوں) کو سلام کہا کرو۔ یہ اللہ کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی آیات تمہارے لئے کھول کر بیان کرتا ہے، تاکہ تم سمجھ سے کام لو۔

93 اس آیت میں معاشرہ کے مختلف قسم کے لوگوں کے ایک دوسرے کے ہاں کھانا کھانے کے آداب اور احکام بیان ہوئے ہیں۔ آیات کا ابتدائی حصہ معذور لوگوں سے تعلق رکھتا ہے یعنی۔۔ لنگڑے اور مریض قسم کے لوگ۔ ان کے متعلق ارشاد ہوا کہ وہ چونکہ خود کما نہیں سکتے اس لئے وہ ہر گھر سے کھانا کھا سکتے ہیں۔ انھیں اس میں عار محسوس نہ کرنا چاہئے اور معاشرہ کے لوگوں پر چونکہ ان کا حق ہے۔ لہذا انھیں بھی چاہئے کہ انھیں کھانا کھلانے کے سلسلہ میں فراخدلی سے کام لیں۔ اس کی دوسری توجیہہ یہ ہے کہ دور جاہلیت میں اس قسم کے معذور لوگ خود آسودہ حال اور تندرست لوگوں کے ساتھ مل کر کھانا کھانے میں جھجک محسوس کرتے تھے انھیں یہ خیال آتا تھا کہ شاید دوسروں کو ہمارے ساتھ کھانا کھانے سے نفرت ہو اور وہ اسے ناگوار محسوس کریں۔ اور فی الواقع بعض لوگوں کو ایسی نفرت و وحشت ہوتی بھی تھی۔ لہذا عام لوگوں کو ہدایت دی گئی کہ ایسے لوگ تو تمہاری ہمدردی کے محتاج ہیں۔ چہ جائے کہ ان سے نفرت کی جائے۔ تیسری توجیہہ یہ ہے کہ بعض متقی قسم کے لوگوں کو یہ خیال آتا تھا کہ شاید ایسے لوگوں کے ساتھ مل کر کھانے سے کھیں ان معذور لوگوں کی حق تلفی نہ ہوتی ہو۔ مثلاً اندھے کو سب کھانے نظر نہیں آتے۔ لنگڑے ممکن ہے دیر سے پہنچیں اور مریض تو کھانا کھاتے وقت اپنی تکلیف اور پرہیز ہی کو ملحوظ رکھتے ہیں لہذا یہ لوگ علیحدہ ہی کھانا کھائیں تو بہتر ہے۔ اس جملہ سے ان سب لوگوں کے نظریات کا ازالہ کردیا گیا۔ 94 جب یہ آیت نازل ہوئی ( وَلَا تَاْكُلُوْٓا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِهَآ اِلَى الْحُكَّامِ لِتَاْكُلُوْا فَرِيْقًا مِّنْ اَمْوَال النَّاس بالْاِثْمِ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 188؁ۧ) 2 ۔ البقرة :188) تو بعض مسلمان اس سلسلہ میں ضرورت سے زیادہ محتاط ہوگئے تھے اور وہ صاحب۔۔ کی دعوت یا اس کی اجازت کے بغیر اپنے کسی قریبی دار کے ہاں سے بھی کھانا کھانا تقویٰ کے خلاف سمجھنے لگے تھے۔ اس فقرہ کی رو ان کی ضرورت سے زیادہ احتیاط کے نظریہ کا ازالہ کیا گیا اور سب سے پہلے اپنے ہی گھروں سے کھ انا کھانے سے ابتدا کی گئی۔ حالانکہ اپنے گھر سے کھانا کھانے کے لئے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس آغاز سے ذہن نشین یہ کرایا گیا ہے کہ جس طرح تمہیں اپنے گھر سے کھانا کھانے کے لئے کسی اجازت اور تکلف کی ضرورت نہیں ہوتی اسی طرح تم اپنے باپ، اپنی ماں، اپنے بھائیوں، اپنی بہنوں، اپنے چچاؤں، اپنی پھوپھیوں، اپنے ماموں اور اپنی خالاؤں کے ہاں سے کھاسکتے ہو۔ اس مقام پر آٹھ بڑے قریبی رشتہ داروں کا ذکر کیا گیا ہے کہ ان گھروں سے تم بلا اجازت اور بےتکلف کھانا کھا سکتے ہو۔ خواہ صاحب خانہ موجود ہو یا نہ ہو۔ اس آیت میں اپنے بیٹوں، بیٹیوں کے گھروں کا ذکر اس لئے نہیں کیا گیا۔ یہ گھر بھی دراصل ہر شخص کے اپنے ہی گھر ہوتے ہیں۔ 95 (اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗٓ 61؀ ) 24 ۔ النور :61) کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ تمہارے کارندے اس چیز سے کہہ سکتے ہیں جس پر تم نے انھیں نگران یا کارندہ بنایا ہے۔ اس لحاظ سے تمہارے باغ کا مالی باغ کے پھل تمہاری اجازت کے بغیر کھا سکتا ہے۔ تمہارا گڈریا تمہاری اجازت کے بغیر بکریوں کا دودھ پی سکتا ہے۔ تمہارا نان بائی تمہارے ہوٹل سے تمہاری اجازت کے بغیر کھانا کھا سکتا ہے اور اس کے بیشمار مثالیں ہوسکتی ہیں اور دوسرا یہ کہ اگر تم ایسے لوگوں کے ہاں سے کچھ کھالو تو اس میں بھی کچھ حرج نہیں۔ کیونکہ ان کے کفیل تو تم خود ہو۔ 96 یہاں دوست سے مراد ایسا ولی اور ہمدرد دوست مراد ہے جو اگر تمہارے پاس آئے تو تمہیں حقیقی مسرت حاصل ہو اور اگر وہ تمہاری غیر حاضری میں تمہارے گھر سے کچھ کھالے تو تمہیں یہ بات ناگوار گذرنے کے بجائے خوشی ہو۔ 97 اہل عرب کے بعض قبیلوں کی یہ تہذیب تھی کہ وہ اکیلا اکیلا کھانا کھانے کو بہتر سمجھتے تھے اور اکٹھے مل کر کھانے کو معیوب سمجھتے تھے۔ ہندوؤں میں آج کل بھی یہی تہذیب ہے۔ اور مسلمانوں میں سے بھی کچھ لوگ اسی بات کو بہتر سمجھتے ہیں بالخصوص وہ لوگ جو جراثیم کے نظریہ کے ضرورت سے زیادہ قائل ہوتے ہیں۔ دوسری طرف کچھ ایسے لوگ تھے جو اکیلے یا اکیلے اکیلے کھانے کو معیوب سمجھتے تھے۔ بعض تو اس حد تک متشدد تھے کہ اس وقت تک کھانا نہ کھاتے تھے بلکہ فاقہ سے رہتے تھے جب تک کوئی دوسرا آدمی یا مہمان ان کے ساتھ کھانے میں شامل نہ ہو اور بعض کی تہذیب ہی یہ تھی کہ اکیلے اکیلے کھانا بری بات ہے اور مل کر کھانا ہی بہتر ہے۔ یہ آیت اس طرح کی پابندیوں کو ختم کرنے کے لئے نازل کی گئی اس آیت کی رو سے اگرچہ عام اجازت دی گوی کہ جس طرح کوئی چاہے کھا سکتا ہے۔ تاہم اسلام نے اکٹھے مل کر کھانے کو ہی ترجیح دی ہے اور اس کی دلیل درج ذیل احادیث ہیں : 1۔ عمرو بن ابی سلمہ، جو ام المومنین ام سلمہ کے (ابوسلمہ) سے بیٹے تھے، کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھانا کھایا۔ میں رکابی کے سب اطراف میں ہاتھ بڑھانے لگا تو آپ نے مجھے فرمایا : اپنے سامنے سے کھاؤ (بخاری۔ کتاب الاطعمہ۔ باب الاکل ممایلیہ) 2۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اشعری لوگ جب لڑائی میں محتاج ہوجاتے ہیں یا مدینہ میں ان کے بال بچوں کا کھانا کم ہوجاتا ہے تو جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے اس کو ایک کپڑے میں اکٹھا کرتے ہیں۔ پھر آپس میں برابر برابر بانٹ لیتے ہیں۔ یہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں (مسلم۔ کتاب الفضائل۔ باب فضائل الاشعریین) 98 اس جملہ کا تعین صرف کھانے کی دعوت سے نہیں بلکہ عام ہے۔ یعنی جب بھی تم اپنے یا کسی دوسرے کے گھر میں یا مسجد وغیرہ میں داخل ہوا کرو تو وہاں موجود لوگوں پر سلام (سلامتی کی دعا السلام علیکم) ضرور کہا کرو۔ بلکہ اگر گھر میں بھی کوئی شخص نظر نہ آئے، تب بھی السلام علیکم ضرور کہنا چاہئے اور فرشتوں کی موجودگی کا خیال کرلینا چاہئے۔ اور یہ کلمہ پاکیزہ اور مبارک اس لحاظ سے ہے کہ جواب میں تمہیں بھی سلامتی کی دعا حاصل ہوگی۔ اس طرح پورے معاشرہ میں ایک دوسرے کے لئے ہمدردی اور سلامتی چاہنے کی فضا بن جائے گی۔
Ayah 24:62

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

مومن تو وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں اور جب وہ کسی اجتماعی کام میں رسول کے ساتھ ہوتے ہیں تو اس سے 99 اجازت لئے بغیر جاتے نہیں (اے رسول) ! جو لوگ آپ سے (اجازت مانگتے ہیں وہی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والا ہے، تو جب وہ اپنے کسی کام کے لئے آپ سے اذن مانگیں تو ان میں سے جسے آپ چاہیں اجازت دیں (اور جسے چاہیے نہ دیں) اور ان کے لئے اللہ سے بخشش طلب کیجئے۔ اللہ تعالیٰ یقینا بخشنے والا ہے۔

99 یعنی ایسے امور جن کا تعلق سب مسلمانوں سے مشترک ہو۔ جیسے جہاد یا مجلس مشاورت، یا کوئی مشترکہ مفادات کے لئے اجتماع ہو۔ خواہ ایسی میٹنگ جنگ یا حالات جنگ سے تعلق رکھتی ہو یا حالت امن سے، مومنوں کا یہ کام نہیں کہ آپ سے اجازت لئے بغیر وہاں سے چل دیں۔ ہاں اگر انھیں کسی ضروری کام کی بنا پر اس مجلس و اجتماع کے اختتام سے پہلے واپس آنا ضروری ہو تو وہ اس سے رخصت ہونے کی اجازت طلب کرتے ہیں۔ اجازت لئے بغیر وہاں سے چلے نہیں آتے۔ اگر وہ اپنی کوئی ضرورت آپ سے بیان کریں۔ تو انھیں اجازت دینا آپ کی صوابدیدی پر منحصر ہے اور اگر یہ سمجھیں کہ اس کا ذاتی کام اس اجتماعی مفاد کے مقابلہ میں کچھ اہمیت نہیں رکھتا۔ تو بیشک آپ انھیں اجازت نہ دیں۔ اور اگر آپ انھیں اجازت دے دیں تو ان کے لئے دعائے مغفرت بھی کیجئے۔ کیونکہ اپنی کسی ذاتی غرض کی خاطر اجتماعی معاملات اور آپ کی صحبت سے محروم رہنما حقیقتاً دنیا کو دین پر ترجیح دینے کے مترادف ہے۔ لہذا اگر کسی مخلص مومن کو اس کی التجا کی بنا پر آپ اجازت دے بھی دیں تو اس کے حق میں آپ کے استغفار کی برکت سے اس تقصیر کا تدارک ہوسکے گا۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ کسی واقعی ضرورت کے بغیر ایسے اجتماعی مفاد کی مجلس سے اجازت طلب کرنا قطعاً ناجائز ہے۔ علاوہ ازیں یہ حکم آپ کی ذات یا آپ کی زندگی تک ہی محدود نہیں بلکہ آپ کے بعد آپ کے خلفائے راشدین یا کسی بھی اسلامی حکومت کے ایسے مشترکہ مفاد کی مجلس سے بلا اجازت چلے آنا آداب مجلس کے ہی خلاف ہے اور شرعاً ناجائز بھی ہے مجلس کو چھوڑ کرجانے کا جواز صرف اس صورت میں ہے کہ فی الحقیقت کوئی ضرورت لاحق ہو۔ جس کی بنا پر میر مجلس سے رخصت ہونے کی اجازت حاصل کی جائے۔ اور اگر میر مجلس اس کو اجازت دینے یا اس کے ذاتی کام کے مقابلہ میں اس کے شریک مجلس رہنے کو زیادہ اہم سمجھتا ہو اور وہ اجازت نہ دے تو کسی مومن کو اس سے کچھ شکایت نہیں ہونا چاہئے۔
Ayah 24:63

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

(مسلمانو) ! رسول کے بلانے کو ایسا نہ سمجھ لو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے 100 کو بلاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جانتا ہے جو تم میں سے چپکے سے 101 کھسک جاتے ہیں لہذا جو لوگ رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں 102 انھیں اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ وہ کسی مصیبت میں گرفتار نہ ہوجائیں یا انھیں کوئی دردناک عذاب پہنچ جائے۔

100 اس جملہ کی تین مطلب ہوسکتے ہیں اور تینوں ہی دوست ہیں۔ ایک یہ کہ رسول کو ایسے نہ بلایا کرو جیسے تم ایک دوسرے کو بےتکلفی سے بلاتے رہتے ہو۔ بلکہ اسے بلانا ہو تو اس کا پورا ادب و احترام ملحوظ رکھا کرو۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر رسول تمہیں بلائے تو ایسا نہ سمجھو جیسے کوئی عام آدمی بلا رہا ہے کہ جی چاہے تو جواب دے دو یا نہ دو یا اگر جی چاہے تو اس کے پاس حاضر ہوجاؤ اور چاہے تو نہ آؤ۔ بلکہ اس کے بلانے پر تم پر واجب ہوجاتا ہے کہ تم اس کے پاس حاضر ہوجاؤ اور اس کی بات سنو پھر اسے بجا لاؤ۔ اور یہ مطلب قرآن کریم کی ایک دوسری آیت ( يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ ۚ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ 24؀) 8 ۔ الانفال :24) (8: 24) سے ماخود ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : حضرت سعید بن معلی کہتے ہیں کہ : میں نماز پڑھ رہا تھا آپ میرے سامنے گزرے اور مجھے بلایا۔ میں نماز پڑھ کر حاضر ہوا تو مجھے فرمایا : تم میرے بلانے پر کیوں نہ آئے ؟ کیا تم نے اللہ کا یہ فرمان نہیں سنا ( يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيْكُمْ ۚ وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَحُوْلُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهٖ وَاَنَّهٗٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ 24؀) 8 ۔ الانفال :24) (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ زیر آیت مذکورہ) اس حدیث سے علماء نے یہ مسئلہ استباط کیا ہے کہ اگر کوئی شخص فریضہ نماز بھی ادا کر رہا ہو تو رسول کے بلانے پر اسے نماز تک چھوڑ کر فوراً حاضر ہوجانا چاہئے۔ اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ رسول کی دعا کو یوں نہ سمجھو جیسے کسی عام آدمی کی دعا ہے۔ بلکہ تمہارے حق میں رسول کی دعا تمہاری دنیا اور تمہاری آخرت سنوارنے کا موجب بن سکتی ہے اسی طرح اس کی بددعا تمہیں تباہ و برباد بھی کرسکتی ہے۔ لہذا اس کی اطاعت کرکے اسے خوش رکھنے اور اس کی دعا لینے کی کوشش کیا کرو۔ 101 دن کے پچھلے حد (اصیل ( میں تو تین نمازیں آجاتی ہیں۔ مگر پہلے حصے میں ایک بھی فریضہ نماز نہیں۔ بسا اوقات ایسا ہوتا کہ ان کے پہلے حصہ میں کوئی ایسی وحی آجاتی جس سے مسلمانوں کو فوری طور پر آگاہ کرنا ضروری ہوتا تھا۔ اس غرض سے مسجد نبوی میں اذان کہہ کر ملسمانوں کو بلا لیا جاتا۔ آپ وحی سناتے۔ خطبہ ارشاد فرماتے اور حالات حاضرہ سے متعلق بعض دفعہ مشورے بھی مقصود ہوتے تھے اور بعض دفعہ اللہ کے احکام کی فوری نشرواشاعت اسی سلسلہ میں منافق بھی ایک دفعہ آپ کے پاس حاضر ضرور ہوجاتے اور یہ بات نفاق کا شبہ دور کرنے کی خاطر ان کے لئے ضروری بھی ہوتی تھی۔ حاضری لگوالینے کے بعد وہ اس انتظار میں رہتے تھے کہ موقع ملے تو چپکے سے کھسک جائیں اور بمصداق جوئندہ یابندہ وہ کھسک بھی جایا کرتے تھے۔ اس آیت میں ایسے ہی لوگوں کو خطاب کیا جارہا ہے۔ 102 ربط مضمون کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے بلانے پر منافقوں کا آپ کی دعوت کو ناگوار محسوس کرنا، کھسک جانے کی کوشش کرنا۔ آپ کے نصائح پر توجہ نہ دینا یا آپ کی دعوت کو کچھ اہمیت نہ دینا۔ سب رسول کی مخالفت میں آتی ہیں۔ تاہم رسول کی مخالفت کا دائرہ اس سے وسیع تر ہے اور منافقوں کے لئے یہ فتنہ کیا کم ہے کہ ان کے دلوں میں کفر و نفاق جڑ پکڑ جائے اور انھیں اپنی ایسی کرتوتیں بھی اچھی نظر آنے لگیں۔ تاہم آیت کے اس حصہ کا حکم عام ہے جو منافقوں اور مسلمانوں سب کو شامل ہے اور ہمیشہ کے لئے ہے۔ رہا فتنہ کا مفہوم تو اس کی بیشمار صورتیں ہوسکتی ہیں۔ سب سے واضح صورت مسلمانوں کا داخلی انتشار اور ان کا اجتماعی قوت کا کمزور ہونا اور ان پر ظالم اور جابر حکمران کا مسلط ہوجانا ہے۔ اور یہ سب کچھ اس وقت ہوتا ہے جب احکام شرعیہ کو پس پشت ڈال دیا جائے۔
Ayah 24:64

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

یاد رکھو ! جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ تم جس روش پر بھی ہو اللہ اسے جانتا ہے۔ اور جس دن لوگ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو وہ 103 انھیں بتلا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے۔ اور اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔

103 یعنی جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی مجلس سے کھسک جاتے ہیں یا اسلام اور مسلمانوں کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ اور اس کی راہ روکنے کے لئے سازشیں تیار کرتے ہیں۔ ایسے لوگ رسول یا دوسرے مسلمانوں کی نظروں سے تو اوجھل رہ سکتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ تو ان کے اعمال و افعال تو درکنار ان کے دلوں کے خیالات تک سے واقف ہے اور انھیں سزا دینے پر قادر بھی ہے۔ لہذا قیامت کے دن وہ سب کو اپنے حضور اکٹھا کرکے انھیں ان کی کرتوتیں بتلا بھی دے گا اور ان کی سزا بھی دے گا۔