24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 24:28

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ Open ayah 24:28 in the Quran reader

پھر اگر ان میں کسی کو نہ پاؤ تو جب تک تمہیں اجازت 35 نہ ہے اس میں داخل نہ ہونا۔ اور اگر تمہیں کہا جائے کہ لوٹ جاؤ تو لوٹ آؤ 36 ۔ یہ تمہارے لئے زیاد پاکیزہ طریقہ ہے اور جو کام تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔

35 یعنی جب گھر والوں میں سے کوئی شخص بھی گھر میں موجود نہ ہو اس وقت ہرگز کسی دوسرے کے گھر میں داخل نہ ہونا چاہئے۔ کیونکہ اس طرح ایک دوسرے کے متعلق کئی طرح کے شکوک و شبہات پیدا ہوسکتے ہیں اور وہ الزام تراشی سے بڑھ کر معاملہ تنازعہ شکل اختیار کرسکتا ہے اس سے استثناء کی صورت بہ صورت ہے کہ صاحب خانہ خود ہی کسی ملاقاتی کو اپنے کمرہ وغیرہ میں یہ کہہ کر بٹھلا جائے کہ تھوڑی دیر انتظار کرو۔ میں ابھی واپس آتا ہوں۔ اور اس طرح کی اجازت کی بھی کئی صورتیں ممکن ہیں۔ 36 ایسی اجازت لینے کی حد تین بار ہے۔ ممکن ہے پہلی بار اور دوسری بار اجازت کی بات کو صاحب خانہ سن ہی نہ پائے۔ یا وہ اپنے کسی کام میں سخت مشغول ہو اور اتنی جلدی دروازہ تک آ ہی نہ سکتا ہو۔ لہذا تین بار اجازت کا حکم دیا گیا ہے۔ اور یہ اجازت تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد طلب کرنا چاہئے اور اگر تین بار اجازت طلب کرنے پر بھی اندر سے کوئی جواب نہ ملے تو ملاقات یا داخلہ کے لئے مزید اصرار نہ کرنا چاہئے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے : ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ میں انصار کی ایک مجلس میں بیٹھا تھا کہ ابو موسیٰ اشعری آئے۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ دوڑے ہوئے اور گھبرائے ہوئے ہیں۔ وہ کہنے لگے : میں حضرت عمر ؓ کے ہاں گیا تھا میں نے تین بار اذن مانگا مگر مجھے اذن نہیں ملا آخر میں لوٹ گیا۔ پھر مجھے حضرت عمر ؓ نے پوچھا : تم کھڑے کیوں نہ رہے ؟ (انتظار کیوں نہ کیا ؟ ) ابو موسیٰ اشعری کہنے لگے : میں نے تین بار اذن مانگا اور مجھے اذن نہ ملا تو میں لوٹ آیا۔ اور آپ نے فرمایا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص تین بار اذن مانگنے پر اسے اذن نہ دیا جائے۔ تو لوٹ آئے۔ حضرت عمر ؓ نے کہا کہ : اللہ کی قسم ! تجھے اس حدیث پر کوئی گواہ لانا ہوگا اب بتلاؤ کیا تم سے کسی نے نبی ﷺ سے یہ حدیث سنی ہے ؟ حضرت ابی بن کعب کہنے لگے : اللہ کی قسم ! تمہارے ساتھ وہ آدمی شہادت دے گا جو ہم سب میں جھوٹا ہو اور ان سب میں جھوٹا میں ہی تھا۔ چناچہ میں ابو موسیٰ اشعری کے ساتھ گیا اور حضرت عمر ؓ کو بتلایا کہ نبی ﷺ نے واقعی ایسا فرمایا ہے امام بخاری کہتے ہیں کہ اس سے حضرت عمر ؓ کا ارادہ محض حدیث کا توثیق تھا۔ یہ نہیں کہ وہ خبر راہ کو درست نہ سمجھتے تھے۔ (بخاری۔ کتاب الا ستیعان۔ باب التعلیم والاستیذان ثلثاً ) اور اگر صاحب خانہ دروازہ وغیرہ کھٹکھٹانے پر پوچھے کہ کون ہے ؟ تو ایسے واضح الفاظ میں اپنا تعارف کرانا یا نام بتلانا چاہئے جس سے صاحب خانہ کو علم ہوجائے کہ فلاں شخص داخلہ کی اجازت چاہتا ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث میں واضح ہے۔ 1۔ حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں آپ کے پاس اس قرضہ کے سلسلسہ میں بات کرنے کے لئے حاضر ہوا جو میرے والد پر تھا۔ میں نے دروازے کھٹکھٹایا۔ آپ نے (اندر سے) پوچھا کون ہے ؟ میں نے کہا : میں ہوں، آپ نے فرمایا : میں تو میں بھی ہوں گویا آپ نے (نام بتلانے کے بجائے) میں ہوں کہنے کو برا سمجھا۔ (بخاری۔ حوالہ ایضاً ) 2۔ اور اجازت حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ بیرونی دروازہ کے بالکل سامنے نہ کھڑا ہو۔ جبکہ دائیں یا بائیں جانب کھڑا ہو تاکہ جب صاحب خانہ یا اس کا ملازم یا کوئی اور گھر کا فرد دروازہ کھولے تو اجازت ملنے سے پہلے ہی ملاقاتی کی نظر اندر تک نہ چلی جائے۔ چناچہ اس سلسلہ میں آپ نے فرمایا کہ : جب نگاہ اندر چلی گئی تو پھر اذن کا مقصد ہی فوت ہوگیا۔ (ابوداؤد۔ کتاب الادب۔ باب فی الاستیعذان) 3۔ نیز آپ نے فرمایا کہ : نظر بازی کی وجہ سے ہی تو اذن کا حکم دیا گیا ہے۔ (مسلم۔ کتاب الاستیعذان باب تحریم النظر فی بیت غیرہ) 4۔ اور نظر بازی یا کسی کے گھر میں جھانکنا بہت بڑا گناہ ہے۔ چناچہ آپ نے فرمایا : اگر کوئی شخص تمہارے مکان میں جھانکے اور تم کنکر مار کر اس کی آنکھ پھوڑ دو تو تم پر کوئی گناہ نہیں۔ (بخاری۔ کتاب الایات باب من اطلع فی بیت قوم) یعنی اگر کوئی شخص ایسے بدنظر شخص کی آنکھ پھوڑ بھی دے تو اس کا قصاص وغیرہ کچھ نہ ہوگا۔
Ayah 24:29

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 24:29 in the Quran reader

البتہ بےآباد گھروں میں 37 داخل ہونے سے تم پر کوئی گناہ نہیں جہاں تمہارے فائدے کی کوئی چیز ہو۔ اور اللہ خوب 38 جانتا ہے جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو۔

37 یعنی ایسے گھر جس میں کوئی خاص آدمی نہ رہتے ہوں۔ جبکہ وہ ہر خاص و عام کے لئے کھلے ہوں۔ جیسے نمازوں کی ادائیگی کے لئے مساجد، کھانے پینے اور ہائش کے لئے ہوٹل اور سرائیں وغیرہ۔ ایسے مقامات میں داخل ہونے کے لئے کسی بھی اذن لینے کی ضرورت نہیں۔ اور اس کا دوسرا مطلب ایسے گھر بھی ہوسکتے ہیں جو بےآباد، ویران اور گھرے پڑے ہوں۔ ان کے مالک انھیں چھوڑ کر چلے گئے ہوں یا نہ معلوم ہوں۔ اور وہاں مثلاً گھاس وغیرہ اگ آئی ہو۔ اور کوئی شخص وہاں سے گھاس کاٹ لے۔ یا ایسا ہی دوسرا فائدہ وہاں سے ہر شخص اٹھا سکتا ہے۔ 38 یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے لامحدود علم کی بنا پر اور تمام امور کی رعایت محفوظ رکھ کر یہ احکام دیئے ہیں جو تمارے تمام ظاہری اور باطنی اعمال و موال سے خوب واقف ہے۔ اور ان سے مقصود فحاشی اور فتنہ و فساد کے راستوں کو بند کرنا ہے۔ لہذا ہر شخص کو چاہئے کہ اسی غرض کو مدنظر رکھ کر ان پر عمل پیرا ہو۔
Ayah 24:30

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 24:30 in the Quran reader

(اے نبی) ! مومن مردوں سے کہئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی 39 رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں 40 ۔ یہ ان کے لئے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔ اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر ہے۔

39 نگاہیں پست رکھنے کا حکم جیسے مومن مردوں کو ہے ویسے ہی مومن عورتوں کو بھی ہے۔ جیسا کہ اس سے اگلی آیت مذکور ہے نگاہیں نیچی رکھنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ چلتے وقت راستہ بھی پوری نظر نہ آئے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مرد کی کسی غیر عورت پر اور عورت کی کسی غیر مرد پر نگاہ نہ پڑنی چاہئے اور اگر اتفاق سے نظر پڑجائے تو فوراً نظر ہٹا لینی چاہئے۔ جیسا کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا تھا کہ : پہلی بار کی نظر تجھے معاف ہے (یعنی اتفاقاً پڑجائے) لیکن بعد کی معاف نہیں (ترمذی۔ ابو اب الادب۔ باب نظر الفحائۃ) یعنی اتفقاً نظر پڑجانے کے بعد پھر دیکھتے نہیں رہنا چاہئے بلکہ فوراً نظر ہٹا لینی چاہئے اور ایک بار آپ ﷺ نے یوں فرمایا کہ نظر بازی آنکھوں کا زنا ہے یا آنکھوں کا زنا نظر بازی ہے (بخاری۔ کتاب الاستیعذان۔ باب زنا الجوارح دون الفرج) 40 نظر بازی سے اجتناب کے ساتھ ہی متصلاً اللہ تعالیٰ نے فروچ کی حفاظت کا ذکر فرمایا جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ فروج کی حفاظت کے لئے نظربازی سے اجتناب انتہائی ضروری ہے۔ بالفاظ دیگر زنا کے عوامل میں سے نظربازی ایک بہت بڑا عامل یا اس کا میں گیٹ ہے۔ اسی نظر باز کے نتیجہ میں بعد میں انسان کے دوسرے اعضاء بھی اس فتنہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ مندرجہ بالا پوری حدیث اس طرح ہے آنکھ کا زنا نظر بازی ہے۔ زبان کا کا زنا فحش کلامی ہے اور آدمی کا نفس زنا کی خواہش کرنا ہے۔ پھر شرمگاہ تو ان سب قسموں کے زنا کی تصدیق کردیتی ہے یا تکذیب۔ (بخاری۔ کتاب الاستیعذان۔ باب زنا الجوارح دون الفرج) 2۔ نیز سہل بن سعد کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دروازہ کے سوراخ میں سے آپ کے حجرے میں جھانکا اس وقت آپ کے ہاتھ میں ایک فارپشت تھا جس سے آپ اپنا سر کھجلا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوجاتا کہ تو جھانگ رہا تو میں تیری آنکھ پر مار کر اسے پھوڑ دیتا۔ استیعذان کا حک کو تو نظر بازی کے فتنہ کے وجہ سے ہی ہوا ہے (بخاری۔ کتاب الاستیعذان) 3۔ اور طبرانی میں ایک روایت یوں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ : نظر بازی، ابلیس کے زہریلے تیروں میں سے ایک تیر ہے (بحوالہ تفہیم القرآن ج 3 ص 380) التبہ اس میں استثناء کی صرف ایک صورت ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی کو اپنی ہونے والی بیوی یعنی مخطوبہ کو دیکھنے کی اجازت ہے۔ مغیرہ بن شعبہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک عورت سے منگنی کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس عور کی طرف دیکھ لو، کیونکہ تم دونوں میں موانست کا یہ بہتر طریقہ ہے (ترمذی۔ ابو اب النکاح۔ باب النظر الی المخطوبت) اسی طرح آپ کے پاس ایک آدمی جو کسی انصاری عورت سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ آپ نے اسے فرمایا : کیا تو نے اس مخوطبہ کی طرف دیکھ لیا ؟ اس نے کہا نہیں آپ نے فرمایا : جا اور اس کے طرف دیکھ لے کیونکہ انصاری کی عورتوں میں کچھ عیب ہوتا ہے (مسلم۔ کتاب النکاح۔ باب مذب من ارادالنکاح۔۔ )
Ayah 24:31

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ١۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ١۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:31 in the Quran reader

اور مومن عورتوں سے بھی کہئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو از خود ظاہر ہو 41 جائے۔ اور اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈال لیا کریں اور اپنے بناؤ سنگھار کو ظاہر 42 نہ کریں مگر ان لوگوں کے سامنے : خاوند، باپ، خاوند کے باپ (سسر) بیٹے، اپنے شوہروں کے بیٹے (سوتیلے بیٹے) بھائی، بھتیجے، بھانجے 43 ، اپنے میل جول 44 والی عورتیں، کنیزیں جن کی وہ مالک ہوں 45 ۔ اپنے خادم مرد 46 جو عورتوں کی حاجت نہ رکھتے ہوں اور ایسے لڑکے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے 47 ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔ اور اپنے پاؤں زمین پر مارتے ہوئے 48 نہ چلیں کہ جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہے اس کا لوگوں کو علم ہوجائے اور اے ایمان والو ! تم سب مل کر اللہ کے حضور 49 توبہ کرو توقع ہے کہ تم کامیاب ہوجاؤ گے۔

41 بعض علماء نے قرآن کریم کے الفاظ (اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا 31؀) 24 ۔ النور :31) سے یہ مراد لی ہے کہ حجاب سے چہرہ اور ہاتھ مستثنیٰ ہیں۔ یعنی عورتوں کو غیر مردوں سے بھی چہرہ اور ہاتھ چھپانے کی ضرورت نہں۔ یہ توجیہہ درج ذیل وجوہ کی بنا پر غلط ہے : 1۔ اس آیت میں احکام حجاب کی رخصتوں کا ذکر ہے نہ کہ احکام حجاب کی پابندیوں کی۔ یعنی ذکر تو یہ چل رہا ہے کہ فلاں فلاں ابدی محرم رشتہ داروں سے بھی حجاب کی ضرورت نہیں، اپنی عورتوں سے بھی لونڈیوں سے بھی، خدام اور نابالغ بچوں سے بھی اظہار زینت اور حجاب پر کوئی پابندی نہیں۔ اب دیکھئے اس آیت میں کہیں عام لوگوں یا غیر مردوں کا ذکر آیا ہے کہ ان سے بھی اظہار زینت پر کوئی پابندی نہیں ؟ لہذا اگر ان حضرات کے مصداق ماظہر مہنا سے مراد چہرہ اور ہاتھ ہی لے لئے جائیں تو بھی چنداں فرق نہیں پڑتا کیونکہ اس آیت میں مذکور اشخاص کے سامنے ہاتھ اور چہرہ کھلا رکھنے کی اجازت ہی کا تو ذکر ہے۔ 2۔ اس بات کے باوجود بھی یہ توجیہہ غلط ہے کیونکہ ماظَھَرَ مِنْھَا سدھا کی ضمیر زِیْنَتَھُنَّ کی طرف راجع ہے جو کہ قریب ہی مذکور ہے، نہ کہ اعصائے بدن کی طرف جن کا یہاں ذکر ہی موجود نہیں۔ اور اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو اس زینت سے از خود ظاہر ہوجائے۔ گویا اللہ تعالیٰ عورتوں کو تکلیف مالا بطاق نہیں دینا چاہتے۔ یعنی اگر جلباب یا بڑی چادر یا برقعہ کسی وقت ہوا سے اٹھ جائے یا غفلت یا کسی دوسرے اتفاق کی بنا پر عورت کا زیور یا زینت یا اس کا کچھ حصہ ظاہر ہوجائے تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں۔ اکثر صحابہ اور تابعین نے ماظَھَرَ مِنْھَا سے یہی مفہوم مراد لیا ہے۔ 3۔ پیچھے واقعہ افک میں ایک طویل حدیث، جو حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے، گزر چکی ہے۔ اس میں وہ خود فرماتی ہیں کہ میں نے صفوان بن معطل سلمی کو جب بیدار ہو کر اپنے پاس کھڑا دیکھ تو میں نے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔ کیونکہ اس سے پہلے ( سورة احزاب میں) پردہ کا حکم نازل ہوچکا تھا۔ پھر بعد میں کیا یہ حکم منسوخ ہوگیا تھا ؟ کیا کچھ شواہد و آثار ایسے ملتے ہیں جن سے یہ ثابت ہوسکے کہ یہ حکم منسوخ ہوگیا تھا ؟ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہو اور یقیناً نفی میں ہے تو پھر اس جملہ کا یہ مطلب کیسے لیا جاسکتا ہے کہ چہرہ اور ہاتھ پردہ کے حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ 4۔ تمام بدن میں چہرہ ہی ایسا عضو ہے جس میں غیروں کے لئے دلکشی کا سب سے زیادہ سامان ہوتا ہے۔ پھر اگر اسے ہی پردہ سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے تو باقی احکام حجاب کی کیا اہمیت باقی رہ جاتی ہے ؟ اب اس مسئلہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ تمام تر صحابہ کرام ؓ میں سے حضرت ابن عباس نے، پھر ان کے شاگردوں نے، پھر بعض فقہائے حنفیہ نے (اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا 31؀) 24 ۔ النور :31) سے یہ مراد لیا ہے کہ ہاتھ اور چہرہ حکم حجاب سے خارج ہیں اور یہی وہ اصل بنیاد ہے جس پر منکرین حجاب اپنی عمارت کھڑی کرتے ہیں۔ حالانکہ ان اصحاب کا یہ موقف بھی منکرین حجاب کے کام کی چیز نہیں وجہ یہ ہے کہ ابن عباس ؓ (يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ 59؀) 33 ۔ الأحزاب :59) مفہوم یوں بیان فرماتے ہیں۔ ابن عباس ؓ اور ابو عبیدہ نے فرمایا مومنوں کی عورتوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ چادروں سے اپنے سر اور چہروں کو ڈھانپ کر رکھیں مگر ایک آنکھ کھلی رکھ سکتی ہیں تاکہ معلوم ہوسکتے کہ وہ آزاد عورتیں ہیں (معالم التنزیل بحوالہ تفہیم القرآن ج 3 ص 129) اسی طرح کی ایک دوسری روایت یہ ہے کہ علی بن ابی طلحہ ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ نے مومنوں کی عورتوں کو حکم دیا ہے کہ جب وہ اپنے گھروں سے کسی ضرورت کے تحت نکلیں تو چادروں سے اپنے سروں کے اوپر سے چہروں کو ڈھانپ لیں اور (صرف) ایک آنکھ ظاہر کریں (تفسیر ابن کثیر ج 3 ص 318، جامع البیان للطہری ص 33 مطبوعہ مصر) اور یہ تو ظاہر ہے کہ جلباب کا تعلق گھر کے باہر کی دنیا سے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ گھر سے باہر مکمل پردہ (یعنی چہرہ سمیت کے قائل تھے، ان کے موقف میں اگر کچھ لچک ہے تو وہ گھر کے اندر کی دنیا سے ہے یعنی اگر گھر کے اندر ایسے رشتہ دار آجائیں جو محرم نہیں تو ان سے ہاتھ اور چہرہ چھپانے کی ضرورت نہیں لہذا آج کے مذہب اور پردہ کے مخالف طبقہ کے لئے ابن عباس ؓ کا یہ موقف بھی کچھ زیادہ سود مند نہیں۔ 42 بدن کی قدرتی زیبائش میں سب سے زیادہ نمایاں چیز عورت کے سینہ کا ابھار یا اس کے پستان ہیں۔ جو مرد کے لئے خاصی کشش رکھتے ہیں۔ لہذا سینہ کو ڈھانپنے کی بطور خاص تاکید فرمائی۔ اور جاہلیت کی رسم کو ختم کرنے کی صورت بھی بتلا دی۔ جاہلیت میں عورتیں اپنے خماد (دوپٹے) سر پر ڈال کر اس کے دونوں پلے پشت پر لٹا لیتی تھیں۔ اس طرح سینہ پر کوئی چیز نہ ہوتی تھی اور یہ بھی گویا حسن کا مظاہرہ یا نمائش تھی۔ اور آج کی مہذب سوسائٹی میں اول تو ہماری یہ مذہب عورتیں دوپٹہ لینا گوارا ہی نہیں کرتیں اور اگر لیں تو دوپٹہ کو گلے میں ڈال کر اس کے پہول پیچھے پشت پر ڈال دیتی ہیں۔ اس طرح سر اور سینہ دونوں ننگے رہتے ہیں۔ التبہ دوپٹہ کا نام ضرور بدنام کیا جاتا ہے۔ اور مقصود اس سے بھی سینہ کے ابھار کی نمائش اور مردوں کے لئے پرکشش بنے رہنا ہوتا ہے۔ گویا آج اس نئی روشنی اور ترقی میں پرانے دور جاہلیت سے بھی زیادہ جاہلیت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے یہ طریقہ بتلایا کہ دوپٹہ کو سر پر سے لا کر گریبان پر ڈالنا چاہئے اس طرح سر، کان، گردن، سینہ سب اعضاء چھپے رہتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مدینہ کی عورتوں نے اپنے تہبند (یعنی موٹا کپڑا) پھاڑ کر اس کی اوڑھنیاں بنالیں (بخاری۔ کتاب التفسیر) گویا اس حکم پر انہوں نے فوراً سرتسلیم خم کردیا۔ 43 قرآن کریم میں اس مقام اور بعض دوسرے مقامات پر بارہ قسم کے لوگوں یا رشتہ داروں کا ذکر آیا ہے۔ جن سے حجاب کی ضرورت نہیں۔ البتہ سزا کے احکام بدستور برقرار رہیں گے۔ بالفاظ دیگر ان مذکورہ بارہ قسم کے لوگوں یا رشتہ داروں کے سامنے عورتیں اپنی زیب وزینت کا اظہار کرسکتی ہیں۔ ان میں آٹھ یہاں مذکور ہیں۔ اور یہ رشتہ دار ایسے ہیں جو ابدی طور پر محرم ہیں ہیں یعنی خاوند، باپ، سسر، حقیقی بیٹے، سوتیلے بیٹے، بھائی، بھتیجے اور بھانجے۔ پھر ان میں وہ رشتہ دار بھی شامل ہوجاتے ہیں جو رضاعت کی بنا پر حرام ہوں مثلاً رضاعی باپ، رضاعی بھائی یا رضاعی بیٹے اور چچے وغیرہ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے سورة نساء کی آیت نمبر 23 سے استسہاء کرکے نسب اور رضاعت کو ایک ہی سطح پر رکھ کر فرمایا کہ جو رشتے نسب کے لحاظ سے حرام ہیں وہی رضاعت کے لحاظ سے بھی حرام ہیں (بخاری۔ کتاب الشہادات۔ باب الشہادت علی الانساب والرضاعت) 44 قرآن کریم کے الفاظ میں اَوْنِسَا ئِھِنَّ (یا اپنی عورتوں سے بھی اظہار زیب وزینت میں بھی کوئی حرج نہیں) یہ نویں قسم ہوئی اور اپنی عورتوں سے مراد آپس میں میل ملاقات رکھنے والی مسلمان عورتیں ہیں جو ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتی پہچانتی اور ایک دوسرے پر اعتبار رکھتی ہوں۔ وہی دوسری غیر مسلم، مشتبہ اور ان حالی عورتیں تو ایسی عورتوں سے اپنی زیب وزینت چھپانے اور حجاب کا ایسا ہی حکم ہے۔ جیسے غیر مردوں سے ہے۔ وجہ یہ ہے کہ عورتیں ہی ہوتی ہیں جو قحبہ گری کی دلالی بھی کرتی ہیں۔ نوخیز اور نوجوان لڑکیوں کو اپنے دام تیز دیر میں پھنسا کر غلط راہوں پر ڈال کر شیطان کی پوری نمائندگی کرتی ہیں۔ اور ایک گھر کے بھید کی باتیں دوسرے گھر میں بیان کرکے فحاشی پھیلاتی اور اس کی راہوں ہموار کرتی ہیں۔ ایسی بدمعاشی قسم کی عورتوں سے پرہیز کی سخت ضرورت ہوتی ہے۔ لہذا تمام ان جانی اور غیر مسلم عورتوں یا غیر عورتوں سے بھی حجاب کا حکم دیا گیا۔ بلکہ ایسی عورتوں کو گھروں میں داخلہ پر بھی ایسے ہی پابندی لگانا ضروری ہے جیسے غیر مردوں کے لئے ضروری ہے۔ علاوہ ازیں رسول اللہ ﷺ نے ہیجڑوں، مخنث، یا زنانہ وضع قطع رکھنے والے مردوں سے بھی حجاب کا حکم دیا ہے۔ دور نبوی کا ایک واقعہ ہے کہ آپ حضرت ام سلمہ کے ہاں تشریف فرما تھے۔ گھر میں ایک ہیجڑا تھا۔ وہ حضرت سلمہ کے بھائی عبداللہ بن ابی ربیعہ سے کہنے لگا : اگر اللہ نے کل طائف فتح کرا دیا تو میں تمہیں عیلان کی بیٹی کی نشاندہی کروں گا وہ اگر سامنے آتی ہے تو چار بٹیں لے کر اور پیٹھ موڑتی ہے تو آٹھ بٹیں لے کر (یعنی اس کا بدن خوب گتھا ہوا ہے) رسول اللہ ﷺ نے یہ بات سن لی تو فرمایا : یہ ہیجڑا آئندہ کبھی تمہارے ہاں نہ آیا کرے (بخاری۔ کتاب النکاح۔ باب مانیہئی من الدخول) یہ مخنث (خسرا) ہیجڑا یا زنانہ) چونکہ عورتوں کے امور سے دلچسپی رکھتا تھا۔ لہذا آپ نے اس سے حجاب کا حکم دیا اور داخلہ پر پابندی لگا دی۔ 45 دسویں قسم جن میں اپنی زیب وزینت چھپانے میں کوئی حرج نہیں وہ عورتوں کی اپنی کنیزیں ہیں۔ جن کی وہ خود یا ان کے خاوند مالک ہوں۔ 46 تابعین سے مراد مطیع و عنقاء۔ نوکر چاکر اور شاگرد قسم کے لوگ ہیں۔ یہ گیارہویں قسم ہوئی۔ مگر ایسے لوگوں سے زیب وزینت کے اظہار کی رخصت صرف اس صورت میں ہے۔ کہ انھیں ہمبستری کی خواہش ہی نہ ہو۔ اور خواہش کا نہ ہونا یا شہوانی جذبات کا بیدار ہونا بچپن کا وجہ سے بھی ہوسکتا ہے۔ زیادہ بڑھاپے کی وجہ سے بھی۔ بیماری یا نامردی کی وجہ سے بھی اور مالک کی عزت اور وقار کی وجہ سے بھی یعنی یہ خدام اپنی مالکہ سے ایسی بات کا تصور تک بھی نہ کرسکتے ہوں اور اپنے کام سے ہی غرض رکھیں اور اگر یہ خطرہ ہو کہ ایسے لوگوں کے شہوانی جذبات کسی وقت بھی بیدار ہوسکتے ہیں تو پھر ان سے یہ رخصت ختم ہوجاتی ہے۔ ان پر حجاب کے احکام لاگو ہوجاتے ہیں اور ان کے سامنے اظہار زیب وزینت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ لہذا ایسے جوان ڈرائیور، خانسامے، اور بیرے وغیرہ سے حجاب کی رخصت کی کوئی گنجائش نہیں، بالخصوص اس صورت میں کہ ان کی شادی بھی ابھی نہ ہوئی ہو۔ 47 یعنی عورتیں اس انداز سے اپنے پاؤں زمین پر نہ ماریں یا رکھ کر نہ چلیں کہ ان کے زیوروں کی جھنکار سنائی دینے لگے اور یہ معلوم ہوجائے کہ اس نے کیا کچھ زیور پہن رکھے ہیں۔ اگر وہ ایسے ہی چھن چھن کرتے ہوئے چلے گی تو کیا معلوم اس کا پاؤں زمین پر پڑنے کے ساتھ ساتھ کسی عاشق مزاج کے دل پر بھی جاپڑے۔ اس قسم کی آواز بسا اوقات صورت دیکھنے سے بھی زیادہ شہوانی جذبات کو بھڑکانے کا سبب بن جاتی ہے۔ 49 یعنی دور جاہلیت میں اور بالخصوص ان کے مشہور میلوں کے موقع پر جس قدر فحش حرکات تم سے سرزد ہوچکی ہیں۔ ان سے اللہ کے حضور توبہ کرو۔ مرد ہوں یا عورتیں سب کے سب لوگ ساتھ اطوار چھوڑ کر آئندہ ان باتوں اور ایسی حرکتوں سے کل اجتناب کرنا چاہئے اسی طرح تمہاری معاشرہ فواحش سے پاک ہوسکتا ہے اور تمہاری دین و دنیا میں کامیابی کا انحصار ان باتوں پر پوری طرح عمل پیرا ہوجانے پر ہے۔
Ayah 24:32

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:32 in the Quran reader

اور تم میں سے جو لوگ مجرد 50 ہیں ان کے نکاح کردو۔ اور اپنے لونڈی، غلاموں کے بھی جو نکاح کے قابل 51 ہوں۔ اگر وہ محتاج ہیں تو اللہ اپنی مہربانی 52 سے انھیں غنی کردے گا۔ اور اللہ بڑی وسعت والا اور جاننے والا ہے۔

50 معاشرہ کے فواحش سے طہارت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ تم میں سے کوئی فرد خواہ وہ مرد ہو یا عورت بےزوج نہ رہے۔ ایسے سب افراد کے نکاح کردو۔ ایامیالم کی جمع ہے اور یہ بڑے وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس سے مراد وہ مرد بھی ہیں جن کی بیوی یا بیویاں فوت ہوچکی ہوں یا طلاق دے چکے ہوں اور مجرد رہتے ہوں اور وہ عورتیں بھی جو بیوہ ہوں یا مطلقہ ہوں اور مجرد رہتی ہوں۔ نیز ان میں وہ کنوارے مرد اور کنواری عورتیں بھی شامل ہیں جن کی بلوغت کے بعد تادیر شادی نہ ہوئی ہو۔ لہذا اس لفظ کا معنی مجرد رہنی ہی قریب الفہم ہے۔ ایسے ہی مجرد افراد کے اولیاء کو یہ حکم دیا جارہا ہے۔ چناچہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : علی ! تین کاموں میں دیر نہ کرنا، فرض نماز، جب اس کا وقت ہوجائے۔ جناچہ جب موجود تو اسے دفن کرنے میں اور رنڈی عورت کے نکاح میں جب کہ اس کا کفو (۔۔ ہمسر) مل جائے (ترمذی۔ ابو اب الصلوۃ۔ باب ماجاء فی الوقت الاول من الفض) ہمارے معاشرے میں عام طور رنڈے مردوں یا رنڈی عورتوں کے نکاح کو معیوب سمجھا جانے لگا ہے۔ اور کوئی فرد ہمت کرکے نکاح کر بھی کرلے تو اسے طعن وتشنیع کی جاتی ہے یا کم از کم اس کے اس کام پر ناک بھون ضرور چڑھاتے ہیں۔ کہ اس کے ہاں اولاد موجود ہے تو اسے نکاح کی کیا ضرورت تھی ؟ انھیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ان کا یہ رویہ آیات اللہ کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ اس رواج کی کئی وجہ ہیں۔ سب سے بڑی وجہ تو مغربی تہذیب سے مرعوبیت ہے۔ جہاں یک زوجگی کا قانون رائج ہے۔ یا پھر خوشی اور حرام کی سب راہیں کھلی ہیں اور یہ لوگ یہاں بھی یہی کچھ چاہتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بعض دفعہ اولاد اپنے رنڈے باپ یا بیوہ ماں کے نکاح میں آڑے آتی ہے۔ اور اس کا بڑا سبب عموماً یہ ہوتا ہے کہ اگر اولاد پیدا ہوئی تو وہ وراثت میں شریک بن جائے گی۔ یا پھر جھوٹی قسم کی غیرت ہوتی ہے اس کی تیسری وجہ خاندانی منصوبہ بندی والوں کا پروپیگنڈہ ہے۔ اور اسی وجہ سے بلوغت کے بعد تادیر مجرد رہنے کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ یہ سب وجوہ مل کر ایک ایسا ماحول بن گیا ہے۔ جس میں حرام کاموں کے لئے تو سب سہولتیں میسر ہیں۔ مگر حلال کاموں پر عمل پیرا ہونا بہت مشکل بنادیا گیا ہے۔ ضمناً اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عورت خواہ کسی عمر کی ہو اس کا ولی کے بغیر نکاح درست نہیں ہوتا۔ اور یہ بات احادیث میں پوری وضاحت سے مذکور ہے۔ چناچہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ کوئی بھی عورت جو ولی کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے۔ تو اس کا نکاح باطل ہے تو اس کا نکاح باطل ہے۔ (ترمذی۔ ابو اب النکاح۔ باب لانکاح الی بولی) لہذا اولیاء کو یہی حکم دیا جارہا ہے کہ وہ مجرد لوگوں کے نکاح کریں۔ اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہاں امر کا صیغہ وجوب کے لئے نہیں ہے یعنی معاشرہ یا اسلامی حکومت یا اولیاء پر یہ واجب نہیں جو معاشرہ کا جو فرد بھی مجرد ہو اس کو پکڑ کر اس کا نکاح کرادے۔ بلکہ یہ امر استحیاب کے لوے ہے۔ کیونکہ نکاح میں کچھ رکاوٹیں بھی ہوسکتی ہیں مثلاً جوڑ کا رشتہ نہ ملنا یا تنگدستی وغیرہ۔ التبہ معاشرہ کے افراد کے لئے بہتر بات یہی ہے کہ وہ مجرد لوگوں کے نکاح کے سلسلہ میں حتی الامکان تعاون کریں۔ اور جن لوگوں کے حالات نکاح کے لئے سازگار نہ ہوں انھیں آپ نے روزے رکھنے کا حکم دیا ہے۔ چناچہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ ہم کچھ جوان رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں رہتے تھے اور (نکاح کے لئے) ہمارے پاس کچھ نہ تھا۔ تو آپ نے ہمیں ارشاد فرمایا کہ اے نوجوانو ! تم میں سے جو کچھ خانہ داری کی استطاعت رکھتا ہے۔ اس چاہئے کہ نکاح کرلے کیونکہ نکاح نگاہ نیچے رکھنے اور شرمگاہ کی حفاظت کے لئے خوب چیز ہے اور جو اس کی طاعت نہ رکھتا ہو وہ روزے رکھا کرے۔ روزے اس کی شہوت کو ٹھنڈا کردیں گے (بخاری۔ کتاب النکاح۔ باب من لم یستطع البارۃ فلیصم) نیز سعد بن ابی وقاص فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عثمان بن مظعون ؓ کو تبتل (مجرد یا عورت سے الگ تھلگ رہنے) کی اجازت نہ دی۔ اگر آپ اسے اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہوجاتے۔ (بخاری۔ کتاب النکاح۔ باب مایکرہ من القبتل والحصائ) 51 لونڈی اور غلاموں کے ذکر میں صالحین کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جو یہاں دو مطلب یہ ادا کر رہا ہے۔ ایک یہ کہ ان میں ازدواجی زندگی کو نباہنے کی صلاحیت موجود ہو۔ ایسا نہ ہو کہ نکاح کے بعد وہ ڈھیلے پڑجائیں اور ان کا سارا بوجھ مالک پر پڑجائے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ نیک ہوں اور پاک سیرت رہنا چاہتے ہوں اور فحاشی اور بدکاری سے بچنا چاہتے ہوں۔ جو بھی صورت ہو ان کے مالکوں کو چاہئے کہ ان کے نکاح کے لئے ممکن حد تک کوشش کریں۔ 52 اس کا یہ مطلب نہیں کہ جو بھی محتاج شادی کرے گا شادی کے بعد وہ مالدار اور غنی ہوجائے گا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی نظر ظاہری اسباب تک محدود رہتی ہے۔ اور وہ انھیں ظاہری اسباب کو سامنے رکھ کر حساب لگاتا ہے۔ جبکہ اس کائنات میں ظاہری اسباب کے علاوہ بیشمار باطنی اسباب بھی موجود ہیں۔ جن پر انسان مطلع نہیں ہوسکتا اور وہ اسباب خالصتؤہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ لہذا جو لوگ اس وجہ سے نکاح میں پس و پیش کرتے ہیں کہ نکاح کے بعد بیوی بچوں کا بوجھ کیسے برداشت کریں گے۔ انھیں سجھا دیا گیا کہ ایسے موہوم خطرات کی بنا پر نکاح سے مت رکو۔ تمہارا اور تمہارے بال بچوں کا رزق اللہ کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ تم مجرد رہ کر غنی بن جاؤ گے یا نکاح کے بعد مفلس و قلاش ہوجاؤ گے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ انسان نکاح کے بعد احساس ذمہ داری کی وجہ سے پوری طرح محنت کرنے لگتا ہے جو پہلے نہیں کرتا۔ کبھی بیوی اس کے کسب معاش کے سلسلہ میں اس کی ممد و معاون بن جاتی ہے۔ کبھی بیوی کے کنبہ والے اس سلسلہ میں اس کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ کبھی مرد کے کئے کمائی اور آمدنی کی ایسی راہیں کھل جاتی ہیں۔ جس کا اسے پہلے وہم و گمان بھی نہیں ہوتا گویا پیدا ہونے والے بچے اپنا رزق اپنے ساتھ لاتے ہیں جس کا ذریعہ ان کا والد بنتا ہے۔ لہذا نہیں یقین رکھو کہ رزق کی تنگی اور فراخی کا انحصار نہ نکاح کرنے پر ہے اور نہ مجرد رہنے پر۔ لہذا اس بنا پر نکاح سے گریز نہ کرنا چاہئے۔
Ayah 24:33

وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:33 in the Quran reader

اور جو لوگ نکاح (کا سامان) نہیں پاتے انھیں (زنا وغیرہ) سے بچے رہنا چاہیئے تاآنکہ اللہ انھیں اپنے فضل سے 53 غنی کردے اور تمہارے غلاموں میں سے جو لوگ مکاتبت 54 کرنا چاہیں تو اگر تم ان میں بھلائی دیکھو تو ان سے مکاتبت کرلو۔ اور اس مال میں سے جو اللہ تمہیں دیا 55 ہے انھیں بھی دے دو ۔ اور تمہاری لونڈیاں اگر پاکدامن رہنا چاہیں تو انہیں 56 اپنے دنیوی فائدوں کی خاطر بدکاری پر مجبور نہ کرو۔ اور جو کوئی انھیں مجبور کرے 57 تو ان پر جبر کے بعد اللہ تعالیٰ انھیں بخش دینے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

53 اس آیت سے پہلی آیت کے حاشیہ میں ذکر ہوچکا ہے کہ جو جوان مرد نکاح اور خانہ داری کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے روزے رکھنے کی تلقین فرمائی اور واضح فرما دیا کہ روزے رکھنا تمہارے عفیف اور پاکیزہ رہنے میں بہت مددگار ثابت ہوگا۔ کچھ بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسی فیط نفس اور عفت کی برکت سے انھیں نکاح کا بہترین موقع مہیا فرما دے اور انھیں غنی بھی کردے۔ کہ معاشرہ میں بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خود تو غنی ہوتے ہیں۔ لیکن وہ اپنی بیٹیوں کے رشتہ کے سلسلہ میں ایسا جوڑ چاہتے ہیں۔ جو شریف، نیک اور پاکیزہ سیرت انسان ہو۔ اور وہ اپنی بیٹی کی غربت کا خیال اس لئے نہیں کرتے کہ اس جوڑے کی غربت کا علاج ان کے پاس موجود ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اللہ کے فضل کی بیشمار راہیں ہیں۔ انسان کو بس اس کا فرمانبردار بن کر رہنا چاہئے۔ 54 واضح رہے کہ عہ نبوی میں معاشرہ کا ایک کثیر حصہ غلاموں اور لونڈیوں پر مشتمل تھا۔ اور یہ معاشرہ کا جزولاینفک بن چکا تھا۔ کسی شخص کی دولت کا معیار ہی یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس کے پاس کتنے غلام ہیں۔ گویا یہ غلام ان آزاد لوگوں کی آمدنی کا ذریعہ بنتے تھے۔ منڈیوں میں غلاموں کا آزادانہ خریدو فروخت ہوتی تھی۔ جیسے ہمارے ہاں بھیڑوں اور گائے بھینسوں کی ہوتی ہے۔ اسلام نے اس اس غلام کے رواج کو سخت ناپسندیدہ سمجھا۔ غلاموں کی آزادی کے لئے ہر ممکن صورت اختیار کی لیکن شراب اور سود کی طرح اس کا کلی استیصال نہیں کیا۔ وجہ یہ ہے کہ تاقیامت جنگیں ہوتی رہیں گی اور قیدی بنتے رہیں گے۔ ایسے مواقع پر ایک غیر مسلم حکومت کے فوجی مفتوح قوم کی عورتیں پر جس طرح کی دست درازیاں کرتے اور ظلم و ستم ڈھاتے ہیں وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ اسلام ایسی فحاشی اور ایسے مظالم کو حرام قرار دیتا ہے اور اس کے بجائے ملک یمین کی حلال راہیں کھولتا ہے۔ اسی اعلیٰ اخلاقی قدر کی بنا پر اسلام نے جنگی قدیوں اور ملک یمین کا مکمل طور پر استیصال نہیں کیا۔ اسلام نے غلام کے رواج کی حوصلہ شکنی کے لئے بہت سے گناہوں کا کفارہ غلام کی آزادی قرار دیا۔ زکوٰۃ کے معارف میں سے ایک مصرف یہ بھی فرمایا۔ مسلمانوں کو بہت بڑے اجر کا وعدہ فرما کر غلاموں کو آزاد کرنے اور کرانے کی ترغیب دی۔ غرض یہ باب بھی بڑا طویل ہے۔ ایسے ہی ذرائع میں سے مکاتبت بھی غلاموں کی آزادی کا ایک ذریعہ ہے۔ مکاتیب کا لغوی معنی تو باہمی تحریر یا لکھا پڑھی ہے۔ اور اصطلاحاً اس سے مراد وہ (تحریری یا زبانی) معاہدہ ہے جو غلاموں کی آزادی کے سلسلہ میں مالک اور غلاموں کے درمیان باہمی رضا مندی سے طے ہوجائے۔ مثلاً یہ کہ غلام یہ وعدہ کرکے کہ میں اتنی رقم اتنی مدت کے بعد یا مدت کے اندر یکمشت یا بالاقساط ادا کروں گا اگر کوئی غلام اپنے مالک سے ایسی درخواست کرے تو مالک کو ایسی درخواست قبول کرلینا چاہئے۔ اس معاہدہ پر مزید کسی شرط کے اضافہ کی مالک کے لئے گنجائش نہیں ہوتی جیسا کہ درج ذیل حدیث سے ظاہر ہے : عمر بن عبدالرحمن کہتی ہیں کہ : بریرہ لونڈی حضرت عائشہ ؓ کے پاس آئی وہ اپنی کتابت کے سلسلہ میں حضرت عائشہ ؓ سے مدد چاہتی تھی۔ انہوں نے کہا : اگر تو چاہے تو میں تیرے مالکوں کو رقم ادا کردیتی ہوں مگر ولاء (تیرا ترکہ) میرا ہوگا اور اس کے مالکوں نے اسے کہا : اگر تو چاہے کتابت کی بقایا رقم دے دے پھر خواہ وہ مجھے آزاد کردیں۔ مگر۔۔ ترکہ ہم ہی لیں گے۔ حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جب آپ تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا : تم بریرہ کو خرید کر آزاد کردو۔ اور ترکہ تو اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرے پھر آپ منبر پر چڑھے اور فرمایا : لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہیں۔ اور ایسی شرطیں جو اللہ کی کتاب میں نہ ہوں۔ خواہ کوئی سو شرطیں لگائے اسے کچھ بھی نہ ملے گا (بخاری۔ کتاب الصلوۃ۔ باب ذکر البیع والشراء فی المسجد) اور مالک کے لئے یہ امر وجوب کے لئے ہے۔ یعنی یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ مالک اگر چاہے تو غلام کی مکاتبت کی درخواست کو قبول کرے اور چاہے تو نہ کرے اور مالک مکاتبت رضا مند نہ ہو تو اسے اسلام حکومت کی طرف سے ایسے معاہدہ کے لئے مجبور کیا جائے۔ البتہ ایسی مکاتبت کے لئے ایک شرط اللہ تعالیٰ نے خود ہی بتلا دی ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر مالک اپنی دیانتداری کے ساتھ اپنے لالچ کے بغیر یہ سمجھے کہ یہ آزادی فی الواقع غلام یا لونڈی کے حق میں بہتر نہ ہوگی۔ قید غلامی سے رہا ہو کر وہ چوری، بدکاری یا اور طرح طرح کی بدمعاشیاں نہ کرتا پھرے۔ اگر یہ اطمینان ہو تو اسے ضرور آزاد کردینا چاہئے۔ کہ وہ آزاد ہو کر معاشرہ میں اپنا مقام پیدا کرسکے اور اگر نکاح کرنا چاہے تو اپنے اختیار سے کرسکے۔ نیز کسی بھی میدان میں غلامی کی وجہ سے اس کے لئے میدان تنگ نہ ہو۔ یا پھر خیر کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ آیا وہ اپنے اس عہد کو نباہ بھی سکتا ہے یا نہیں یعنی اپنے معاوضہ کی رقم ادا کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔ 55 اس جملہ کے مخاطب عام افراد معاشرہ بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ مکاتبت کرنے والے غلام کی رقم کی ادائیگی کے سلسلہ میں اس کی مالی امداد کریں۔ غلاموں کے مالک بھی ہوسکتے ہیں کہ وہ طے شدہ رقم کا کچھ حصہ چھوڑ دیں اور اسلامی حکومت بھی ہوسکتی ہے کہ وہ ایسے شخص سے زکوٰۃ فنڈ میں سے مالی تعاون کرے۔ 56 غلام اور لونڈیوں کو اہل عرب اپنی آمدنی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ جتنے کسی کے پاس زیادہ غلام ہوتے اتنا ہی وہ زیادہ مالدار ہوتا جاتا تھا۔ اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے آج کل ایک کارخانہ میں دس مزدور کام کرتے ہیں اور دوسرے میں پچاس۔ تو پچاس مزدوروں والے کارخانہ کا مالک یقیناً پہلے سے بہت زیادہ مالدار ہوجائے گا۔ اس سلسلہ میں بعض بدباطن اپنی آمدنی بڑھانے کے لئے اپنی لونڈیوں سے پیشہ بھی کرواتے تھے۔ اور عبداللہ بن ابی منافق رئیس المنافقین اس سلسلہ میں بہت مشہور تھا۔ اس کی بعض لونڈیاں مسلمان ہوگئیں تو انہوں نے پیشہ کرنے سے انکار کردیا جس پر وہ ملعون انھیں زدوکوب کرتا تھا۔ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی۔ (مسلم۔ کتاب التفسیر عن جابر) زنا بذات خود ہی ایک حرام اور مذموم فعل ہے۔ اس میں دو جملوں نے زنا کی قباحت میں مزید اضافہ کرکے ایسی حرکت کو شدید ترین جرم بنادیا ہے۔ یعنی اگر رنڈیاں پاک دامن نہ رہنا چاہیں تو بھی زنا حرام اور مذموم ہے اور اگر وہ پاک دامن بھی رہنا چاہتی ہوں پھر۔۔ ان سے یہ کام کروایا جائے تو یہ شدید جرم بن جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی فرد کسی لالچ کے بغیر زنا کرتا ہے یا کرواتا ہے تو بھی اس کی حرمت اور مذمت بدستور قائم ہے۔ پھر یہ کام جب محض دنیا کے حقیر فائدے کے خاطر کرایا جائے تو اس جرم کی شدت اور۔۔ مزید بڑھ جاتی ہے۔ 57 یعنی جس کو بدکاری پر مجبور کردیا گیا ہو۔ اللہ اسے اس کا یہ گناہ معاف فرمائے گا۔ جبکہ اس کا یہ گناہ جبر کرنے والے کے گناہ میں شامل کردیا جائے گا۔ اور ترمذی کے حوالہ سے یہ حدیث پہلے گزر چکا ہے کہ جس عورت سے بالجبر زنا کیا گیا تھا اس سے حد زنا ساقط کردی گئی تھی۔
Ayah 24:34

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 24:34 in the Quran reader

ہم نے تمہاری طرف واضح احکام بتلانے والی آیات بھی نازل کی ہیں اور ان لوگوں کی مثالیں 58 بھی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور پرہیزگاروں کے لئے نصیحتیں بھی نازل کردی ہیں۔

58 واضح احکام سے مراد وہ تمام احکام ہیں جو ابتدائے سورة نور سے بیان ہو رہے ہیں یعنی زنا اور قذف کی حد۔ لعان کا طریقہ۔ معاشرہ کو فحاشی سے پاک رکھنے کے لئے احکام و ہدایات وغیرہ۔ اور پہلے لوگوں کی مثالی بیان کرنے سے مراد یہ ہے کہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ تم سے پہلے جن جن لوگوں کے اللہ کے احکامات سے سرتابی کی تو ایسی قوموں کا کیا حشر ہوا۔ اور ان کا یہ حشر بھی پہلے متعدد مقامات پر مذکور ہوچکا ہے۔ لہذا اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے ان سابقہ نظائر میں بہت سے نصیحت آموز اسباب موجود ہیں۔
Ayah 24:35

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا نور 59 ہے۔ اس کے نور کی مثال ایک ایسی ہے جیسے ایک طاق ہو جس میں ایک چراغ ہو، یہ چراغ فانوس میں رکھا ہوا ہو، وہ فانوس ایسا صاف شفاف ہو جیسے ایک چمکتا ہوا ستارہ۔ اور وہ چراغ زیتون کے مبارک درخت (کے تیل) سے روشن کیا جاتا ہو جو نہ مشرق میں ہوتا ہے اور نہ مغرب میں۔ اس کے تیل کو اگر آگ نہ بھی چھوئے تو بھی وہ از خود بھرک اٹھنے کے قریب ہوتا ہے (اسی طرح) روشنی پر روشنی 60 (بڑھنے کے تمام اسباب جمع ہوگئے ہوں) اللہ اپنے ایسے ہی زر کی طرف جسے چاہتا ہے، رہنمائی 61 کردیتا ہے۔ اور اللہ مثالیں بیان کرکے لوگوں کو سمجھاتا ہے اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔

59 قرآن میں عموماً جہاں کہیں بھی آسمانوں اور زمین کا اکٹھا ذکر آیا ہے وہاں اس سے مراد پوری کائنات ہوتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا نور ہے یا پوری کائنات کو روشن کرنے والا ہے۔ نور تین قسم کا ہوتا ہے (1) روشن چیزوں کا نور مثلاً سورج، چاند، ستاروں اور چراغ یا برقی قمقموں کا نور۔ جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ روشنی کی رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے۔ ایسے نور کے بغیر انسان ظاہری چیزوں کو دیکھ نہیں سکتا۔ (2) آنکھ کا نور جس کی عدم موجودگی میں روشن چیزوں کا نور بےکار ہوتا ہے۔ سورج نکلا ہوا ہو تب بھی آنکھ کے اندھے کو کوئی چیز نہیں آتی۔ (3) وحی یا علم دین کا نور جس کی عدم موجودگی میں انسان ہدایت کے نور سے استفادہ نہیں کرسکتا جس طرح ایک اندھا سورج کی روشنی میں بھی ظاہری اشیاء کو نہیں دیکھ سکتا اسی طرح دل کے اندھے کے لئے تعلیمات الٰہیہ بےکار ثابت ہوتی ہیں۔ ان دیکھئے آنکھ کا نور بھی خالصتؤہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے۔ اس کی ماہیت کیا ہے ؟ یہ بات سمجھنا غالباً انسان کی بساط سے باہر ہے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کسی کا نور بصارت چھین لے تو کوئی طاقت اسے واپس نہیں لاسکتی۔ اور اسی آنکھ کے نور سے ہم کائنات کی اشیاء کو دیکھ سکتے ہیں۔ لہذا اصل منبع نور خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہوئی اور اسی کے نور سے کائنات کی ایک ایک چیز کی نمود ہے۔ اور دوسری طرف دل کا نور بھی خالصتؤہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے اور اسی نور سے انسان آیات انفس و آفاق میں فکر و تدبیر کرتا ہے اور وحی الٰہی سے فیض یاب ہوتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں جس شخص کو نور و ہدایت حاصل ہوا یا جس مقدار میں حاصل ہوا سب کچھ اسی منبع نور سے حاصل ہوا ہے۔ بعض علماء نے یہاں نور کے معنی منور کیا ہے۔ اس لحاظ سے پہلی توجیہہ فٹ بیٹھتی ہے لیکن نور کا لفظ منور سے زیادہ ابلغ ہے۔ پھر نور کا لفظ ہر دو توجیہات کے مطابق ہے۔ لہذا ہمارے خیال میں نور کا معنی نور یا روشنی ہی سمجھا جائے تو زیادہ بہتر ہے۔ 60 اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے نور کی جو مثال بیان فرمائی ہے۔ اس کی مندرجہ بالا دو توجیہات کے مطابق دو صورتیں ہیں۔ پہلی توجیہہ کے مطابق یہ پوری کائنات ایک اطاق کی مانند ہے۔ اور اس میں جس چراغ کی روشنی کی مثال پیش کی گئی ہے۔ وہ اللہ کا نور ہے۔ باقی جو باتیں مذکور ہیں وہ اس لحاظ سے ہیں کہ ایک انسان زیادہ سے زیادہ اور صاف شفاف روشنی کا جو تصور اس دور میں کرسکتا تھا وہ پیش کیا گیا ہے مثلاً ایک یہ ہے کہ وہ چراغ ایک اطاق میں ہے جس کا مطلب یہ ہے روشنی کے پھیلاؤ کا دائرہ وسیع نہیں بلکہ بہت محدود حصہ میں ہے تاکہ اطاق میں پڑی ہوئی ہر چیز بڑی واضح اور نمایاں نظر آسکے۔ دوسرے یہ کہ اس چراغ میں جلنے والا تیل زیتوں کا تیل ہے۔ جو دوسرے تمام قسم کے تیلوں سے زیادہ اور صاف روشنی دیتا ہے۔ مزید یہ کہ وہ زیتوں کا دخت ہر وقت دھوپ میں رہتا ہے۔ مشرقی اور مغربی رخ کے سائے اس درخت پر نہیں پڑتے اور ایسے ہمیشہ دھوپ میں رہنے والے درخت کا تیل عام درختوں کے تیل سے زیادہ لطیف ہوتا ہے نیز اس میں یہ خاصیت ہے کہ آگ لگانے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ آگ نزدیک ہونے سے ہی بھڑک اٹھتا ہے۔ جیسا کہ آج کل پٹرول میں یہ خاصیت پائی جاتی ہے۔ اور تیسرے یہ کہ اس چراغ کے گردا گرد نہایت صاف شفاف شیشہ یا فانوس ہے۔ اور ایسے فانوس سے جس قدر روشنی میں اضافہ ہوتا ہے اس کا اندازہ آپ کسی لالٹین سے اس کی شیشہ کی چمنی اتار کرسکتے ہیں۔ گویا چراغ کی روشنی کو سربالا یا نور علی نور کرنے والی تیا چیزیں ہوئیں۔ ایک تیل کی اعلیٰ کو الٹی، دوسرے صاف شفاف فانوس اور تیسرے روشنی کا دائرہ بہت محدود ہونا اور مثال کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنی ایسی روشنی سے کائنات کی ایک ایک چیز کو منور کر رہا ہے۔ اور دوسری صورت میں چراغ اور اس کے تیل سے مراد نور بصیرت یا نور ایمان ہے۔ فانوس سے مراد انسان کا دل ہے۔ جس میں یہ نور بصیرت واقع ہوتا ہے اور اطاق سے مراد اس کا جسم ہے۔ پھر جب ہدایت یا آیات الٰہی پہنچتی ہیں تو ایسے شخص کی بصیرت اس کو قبول کرنے کے لئے پہلے ہی بےتاب ہوتی ہے۔ اب اگر کسی کے دل میں نور بصیرت ہوگا۔ جس کا منبع خود اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ تو ایسے ہی شخص کو یہ آیات فوراً اپیل کرتی اور نظر آنے لگتی ہیں۔ بےبصیرت کو نظر نہیں آتیں۔ یہ دوسری توجیہہ کتاب و سنت سے زیادہ قریب معلوم ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اکثر آسمانی کتب کے لئے بھی نور کا لفظ استعمال فرمایا ہے اور علم وحی اور ہدایت کے لئے بھی۔ اور اس مثال کا مطلب یہ ہے کہ جس کسی کے دل میں نور بصیرت کا عطیہ موجود ہوتا ہے وہ احکام الٰہی اور وحی الٰہی کو قبول کرنے کے لئے اس قدر بےتاب ہوتا ہے جیسے پٹرول آگ پکڑنے کے لئے بےتاب ہوتا ہے۔ 61 جس طرح آنکھ کا نور اللہ تعالیٰ ہر شخص کو فطری طور پر عطا کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ ہر شخص کو نور بصیرت بھی عطا کرتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کا ایک دوسرا قانون یہ ہے کہ جس عضو یا قوت سے انسان کام لینا چھوڑ دے وہ قوت اس سے چھین لی جاتی ہے۔ لہذا اللہ تعالیٰ کی ہدایت نصیب انہی لوگوں کو ہوتی ہے جو خود بھی اس سے کام لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور جو شخص نور ہدایت کا طالب ہی نہ ہو اور اللہ زبردستی سے کسی کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔
Ayah 24:36

فِیْ بُیُوْتٍ اَذِنَ اللّٰهُ اَنْ تُرْفَعَ وَ یُذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ١ۙ یُسَبِّحُ لَهٗ فِیْهَا بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِۙ Open ayah 24:36 in the Quran reader

(یہ) ان گھروں (مساجد وغیرہ) میں ہوتے ہیں جن کے متعلق اللہ نے حکم دیا ہے کہ ان میں اللہ کا نام بلند کیا جائے اور اس کا ذکر کیا جائے 62 ان (مساجد) میں صبح و شام ایسے لوگ اللہ کی تسبیح کرتے رہتے ہیں۔

62 بعض علماء نے یہاں بیوت سے مراد مساجد لی ہیں اور ترفع سے مراد انھیں تعمیر کرنا لیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے نور بصیرت عطا کیا ہوتا ہے اور وہ ہر وقت حق کے متلاشی رہتے ہیں۔ اور جب انھیں اللہ کی آیات سنائی جائیں تو وہ انھیں تسلیم کرنے کے لئے پہلے سے ہی تیار بیٹھے ہوتے ہیں ایسے لوگ مساجد میں پائے جاتے ہیں۔ انھیں دیکھنا ہو تو اللہ کی مساجد میں دیکھو جہاں ہر وقت اللہ کا ذکر بلند ہوتا رہتا ہے۔ اور صبح و شام وہاں ایسے لوگ نمازوں اور تسبیح و تہلیل میں مصروف رہتے ہیں۔ اگرچہ یہ توجیہہ بھی درست ہے مگر یہاں ایسا کوئی قرینہ موجود نہیں جس کی بنا پر بیوت کے لفظ کو صرف مساجد تک محدود کردیا جائے لہذا اکثر علماء کے نزدیک بیوت سے مراد سب مومنوں کے گھرانے ہیں۔ اور ہر گھر میں اللہ کا ذکر بھی ہوتے رہنا چاہئے اور تسبیح و تہلیل بھی۔ حتیٰ کہ فریضہ نمازوں (یعنی جو نماز باجماعت ادا کرنا ضروری ہے جنہیں ہم اپنی زبان میں ہر نماز کی فرض رکعات کہتے ہیں) کے علاوہ نماز کا باقی حصہ سنت، نوافل وغیرہ) یا نفلی نمازیں بھی اپنے اپنے گھروں میں ادا کرنا بہتر ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی شخص مساجد میں جانے سے معذور ہو تو وہ فرض نمازیں بھی گھر پر (اکیلے یا باجماعت) ادا کرسکتا ہے۔ جب کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے : 1۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں جب سے مجھے ہوش آیا میں نے اپنے والدین کو مسلمان ہی پایا۔ اور ہم پر کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا جس دن آپ ہمارے ہاں نہ آئے ہوں۔ صبح و شام آپ دو وقت تشریف لاتے پھر ابوبکر صدیق ؓ کے جی میں آیا تو انہوں نے اپنے صحن میں ایک مسجد بنائی وہ وہاں نماز ادا کرتے اور قرآن پڑھتے۔ مشرکوں کی عورتیں کھڑی ہو کر سنا کرتیں ان کے بچے بھی سنتے اور تعجب کرتے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو دیکھتے رہتے ابوبکر صدیق ؓ ایک رونے والے آدمی تھے تو اپنی آنکھوں سے آنسو روک نہ سکتے۔ یہ صورت حال دیکھ کر مشرکین قریش سٹ پٹاگئے۔ (بخاری۔ کتاب الصلوۃ۔ باب الاستقاء فی المسجد) 2۔ محمود بن ربیع الانصاری کہتے ہیں کہ عتبان بن مالک رسول اللہ ﷺ کے اصحاب سے تھے اور بدر کی جنگ میں شریک تھے۔ وہ آپ کے پاس آئے اور عرض کیا : یارسول اللہ !~ میرے بینائی بگڑ گئی ہے اور میں اپنی قوم کے لوگوں کو نماز پڑھایا کرتا ہوں۔ جب مینہ برسے تو نالہ بہنے لگتا ہے جو میرے اور ان کے درمیان ہے۔ لہذا میں ان کی مسجد میں جا نہیں سکتا کہ ان کو نماز پڑھا سکوں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ہاں تشریف لائیں اور میرے گھر میں نماز پڑھیں تو اس جگہ کو مسجد بنا لوں آپ نے فرمایا : اچھا میں انشاء اللہ یہ کام کروں گا چ 2 نانچہ (دوسرے دن) صبح آپ اور ابوبکر صدیق ؓ دونوں دن چڑھے میرے ہاں آئے۔ آپ نے اندر آنے کی اجازت مانگی میں نے اجازت دی۔ آپ تشریف لائے اور بیٹھنے سے پہلے ہی پوچھا : اپنے گھر میں کون سی جگہ پسند کرتے ہو جہاں میں نماز پڑھوں ؟ عتبان نے آپ کو گھر کا ایک کونا بتلایا۔ آپ وہاں کھڑے ہوئے اور اللہ اکبر کہا ہم بھی کھڑے ہوئے اور صف باندھی آپ نے دو رکعت (نفل) پڑھ کر سلام پھیرا۔ پھر ہم نے حلیم تیار کرکے آپ کو روک لیا۔ محلہ کے اور آدمی بھی گھر میں جمع ہوگئے۔ ان میں ایک آدمی کہنے لگے : مالک بن دخنیشن یا دخشن کہاں ہے ؟ کسی نے (عتبان) کہا : وہ تو منافق ہے۔ اللہ اور اس کے رسول سے محنت نہیں رکھتا آپ نے فرمایا : ایسا مت کہو۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ وہ خالصتؤہ اللہ کی رضا کے لئے لا الہ الا اللہ کہتا ہے عتبان کہنے لگے : اللہ اور اس کا رسول خوب جانتے ہیں۔ بظاہر تو ہم اس کی توجہ اور ہمدردی منافقوں کی طرف ہی دیکھتے ہیں آپ نے فرمایا : اللہ عزوجل نے آگ کو اس شخص پر حرام کردیا ہے جو خالصتؤہ اللہ کی رضا مندی کے لئے لا الہ الا اللہ کہتا ہے (بخاری۔ کتاب الصلوۃ۔ باب المساجد فی البیوت)
Ayah 24:37

رِجَالٌ١ۙ لَّا تُلْهِیْهِمْ تِجَارَةٌ وَّ لَا بَیْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءِ الزَّكٰوةِ١۪ۙ یَخَافُوْنَ یَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِیْهِ الْقُلُوْبُ وَ الْاَبْصَارُۗۙ Open ayah 24:37 in the Quran reader

ہمیں اللہ کے ذکر، اقامت سے نہ تجارت غافل کرتی ہے اور نہ خریدو فروخت، وہ اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں۔ جس میں دل اور آنکھیں 63 اکڑ جائیں گی (37) (اور وہ لوگ یہ سب کچھ اس لئے کرتے ہیں کہ) جو عمل وہ کرتے رہے ہیں اللہ انھیں ان کا بہتر دلہ اور اپنے فضل سے 64 زیادہ بھی دے اور اللہ جسے چاہتا ہے بغیر حساب کے رزق عطا کرتا ہے۔

63 ان ہدایت یافتہ لوگوں کی صفت یہ ہوتی ہے کہ وہ گھروں کے اندر بھی اللہ کی یاد میں مشغول رہتے ہیں اور گھروں سے باہر بھی اللہ کی یاد سے غافل نہیں رہتے۔ اپنے کام کاج یا کاروبار کرتے وقت بھی اللہ کی یاد ان کے دلوں میں موجود رہتی ہے جو انھیں اللہ کی نافرمانی والے ہر کام سے باز رکھتی ہے۔ وہ صرف اس چند روزہ زندگی کے فائدوں کی ہی طلب گار نہیں ہوتے بلکہ ان کی نگاہ آخرت کی ابدی زندگی پر جمی رہتی ہے اور اللہ کے حضور وہ اپنے اعمال کی جواب دہی سے ڈرتے بھی رہتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ وہ دن ہی اتنا سخت اور ہولناک ہوگا۔ جس میں ہر شخص کا دل بھی بےقرار ہوگا اور آنکھیں بھی بےقرار ہوں گی۔ اور ان ہدایت یافتہ لوگوں کا بھی یہ حال ہوگا۔ کہ کبھی وہ اللہ کی رحمت کی امید لگائے ہوں گے اور اللہ کے عذاب سے اور اس کی گرفت سے ڈرنے لگیں گے۔ یہی حال آنکھوں کا ہوگا کبھی وہ دائیں طرف دیکھیں گی اور کبھی بائیں طرف تاکہ یہ دیکھیں کس جانب ان کا نامہ اعمال ان کے حوالہ کیا جاتا ہے۔ 64 وہ لوگ اس توقع پر یہ سارے کام کرتے ہیں کہ اللہ کے ہاں اپنے ان عملوں کا بہتر بدلہ ملے۔ جو یقیناً انھیں مل جائے گا۔ اللہ صرف ان کے اعمال کا بہتر بدلہ ہی نہ دے گا بلکہ اس کے علاوہ انھیں ایسی ایسی نعمتوں سے نوازے گا جو اس وقت ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں آسکتیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ جس شخص پر راضی اور خوش ہوجائے تو اللہ کے ہاں کس چیز کی کمی ہے جو اسے نہ دے گا۔
Ayah 24:38

لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَ یَزِیْدَهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 24:38 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹیل میدان میں کوئی سراب 65 ہو جسے پیاسا پانی سمجھ رہا ہو۔ حتیٰ کہ جب وہ اس سراب کے قریب آتا ہے تو وہاں کچھ بھی نہیں پاتا۔ بلکہ اس نے اللہ کو وہاں موجود پایا جس نے اس کا حساب چکا دیا اور اللہ کو حساب چکانے میں دیر نہیں لگتی۔

65 عربی زبان میں ہر مشروب یعنی پینے کی چیز کو شراب کہتے ہیں اور جو چیز بظاہر تو شراب نظر آئے مگر حقیقت اس کے برعکس ہو اسے سراب کہتے ہیں۔ پھر اس لفظ کا استعمال اس تودہ ریت پر ہونے لگا جو دور سے ایک خاص زاویہ سے سورج کی روشنی میں ٹھاٹھیں مارتا پانی نطر آتا ہے مگر حقیقتاً وہاں پانی وانی کچھ نہیں ہوتا۔ یہ مثال ایسے کافروں اور منافقوں سے تعلق رکھتی ہے جو فی الجملہ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور کچھ نیک اعمال بھی بجا لاتے ہیں۔ خواہ وہ نمودو نمائش کے لئے ہوں پھر انھیں یہ توقع بھی ہوتی ہے کہ آخرت میں انھیں ان کا اجر ملے گا۔ اور چونکہ ان کے اکثر اعمال اللہ کی مرضی نہیں بلکہ ان کی اپنی مرضی کے مطابق ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی لوگوں کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا : کہ جس طرح کسی ریگستان میں ایک پیاسا دور سے چمکتی ہوئی ریت کو پانی سمجھ کر اس کی طرف جاتا ہے تاکہ اس سے اپنی پیاس بجھائے۔ وہ پیاس کا مارا جب گرم ریت کا میدان طے کرکے دوڑتا ہوا وہاں پہنچتا ہے تو اسے وہاں کچھ نہیں ملتا۔ اور سخت مایوس اور درماندہ ہوجاتا ہے۔ یہی حال ایسے کافروں کا ہے۔ موت کا وقت ان کے لئے سراب ہے۔ اور وہ توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ انھیں ان کے نیک اعمال کا بدلہ ملے گا۔ مگر کفر نفاق اور شامت اعمال کی بنا پر انھیں وہاں کچھ بھی ان کے اعمال کا بدلہ نہ ملے گا۔ اور جس طرح پیاسے کو سراب تک پہنچنے میں تھکاوٹ اور گرمی کی شدت بھی جھیلنا پڑی تھی اس طرح ان لوگوں کو ان کے برے اعمال کا بدلہ جہنم کے عذاب کی صورت میں دیا جائے گا۔
Ayah 24:39

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍۭ بِقِیْعَةٍ یَّحْسَبُهُ الظَّمْاٰنُ مَآءً١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَهٗ لَمْ یَجِدْهُ شَیْئًا وَّ وَجَدَ اللّٰهَ عِنْدَهٗ فَوَفّٰىهُ حِسَابَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ سَرِیْعُ الْحِسَابِۙ Open ayah 24:39 in the Quran reader

اور جو کافر ہیں ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹیل میدان میں کوئی سراب ہو جسے پیاسا پانی سمجھ رہا ہو۔ حتی کہ جب وہ اس سراب کے قریب آتا ہے تو وہاں کچھ بھی نہیں پاتا۔ بلکہ اس نے اللہ کو وہاں موجود پایا جس نے اس کا حساب چکادیا اور اللہ کو حساب چکانے میں دیر نہیں لگتی۔

65 سراب اور شراب کا لغوی فرق : عربی زبان میں ہر مشروب یعنی پینے کی چیز کو شراب کہتے ہیں اور جو چیز بظاہر تو شراب نظر آئے مگر حقیقت اس کے برعکس ہو اسے سراب کہتے ہیں۔ پھر اس لفظ کا استعمال اس تودہ ریت پر ہونے لگا جو دور سے ایک خاص زاویہ سے سورج کی روشنی میں ٹھاٹھیں مارتا پانی نطر آتا ہے مگر حقیقتاً وہاں پانی وانی کچھ نہیں ہوتا۔ عام کافروں اور منافقوں کی مثال : یہ مثال ایسے کافروں اور منافقوں سے تعلق رکھتی ہے جو فی الجملہ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور کچھ نیک اعمال بھی بجا لاتے ہیں۔ خواہ وہ نمودو نمائش کے لئے ہوں پھر انھیں یہ توقع بھی ہوتی ہے کہ آخرت میں انھیں ان کا اجر ملے گا۔ اور چونکہ ان کے اکثر اعمال اللہ کی مرضی نہیں بلکہ ان کی اپنی مرضی کے مطابق ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی لوگوں کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا : کہ جس طرح کسی ریگستان میں ایک پیاسا دور سے چمکتی ہوئی ریت کو پانی سمجھ کر اس کی طرف جاتا ہے تاکہ اس سے اپنی پیاس بجھائے۔ وہ پیاس کا مارا جب گرم ریت کا میدان طے کرکے دوڑتا ہوا وہاں پہنچتا ہے تو اسے وہاں کچھ نہیں ملتا۔ اور سخت مایوس اور درماندہ ہوجاتا ہے۔ یہی حال ایسے کافروں کا ہے۔ موت کا وقت ان کے لئے سراب ہے۔ اور وہ توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ انھیں ان کے نیک اعمال کا بدلہ ملے گا۔ مگر کفر نفاق اور شامت اعمال کی بنا پر انھیں وہاں کچھ بھی ان کے اعمال کا بدلہ نہ ملے گا۔ اور جس طرح پیاسے کو سراب تک پہنچنے میں تھکاوٹ اور گرمی کی شدت بھی جھیلنا پڑی تھی اس طرح ان لوگوں کو ان کے برے اعمال کا بدلہ جہنم کے عذاب کی صورت میں دیا جائے گا۔
Ayah 24:40

اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِیْ بَحْرٍ لُّجِّیٍّ یَّغْشٰىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ١ؕ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ١ؕ اِذَاۤ اَخْرَجَ یَدَهٗ لَمْ یَكَدْ یَرٰىهَا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ۠ Open ayah 24:40 in the Quran reader

یا ( پھر کافروں کے اعمال کی مثال ایسی ہے) جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرے ہوں جسے موج نے ڈھانپ لیا ہو۔ پھر اس کے اوپر ایک اور موج ہو اور اس کے اوپر بادل ہو ایک تاریکی پر ایک تاریکی چڑھی ہو اگر کوئی شخص اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھ سکے اور جسے اللہ روشنی نہ عطا کرے اس کے لئے (کہیں سے بھی) روشنی نہیں ( مل سکتی )

66 یہ ان کافروں کی مثال ہے جو اپنے کفر میں پکے اور ہٹ دھرم ہیں۔ وہ صرف اللہ کی نافرمانی اور رسولوں کی تکذیب پر ہی اکتفا ہی نہیں کرتے۔ بلکہ رسول اور مومنوں کو ایذائیں اور دکھ بھی پہنچاتے ہیں اور اللہ کی راہ روکنے کے لئے ہر وقت سرگرم عمل رہتے ہیں۔ اس طرح ان کے کفر کا جرم شدید تر ہوتا جاتا ہے اور اس پر ان کے کفر کی کئی تہیں چڑھتی جاتی ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص گہرے سمندر میں رات کے وقت سفر کر رہا ہو۔ موجوں پر موجیں اٹھ رہی ہوں اور اوپر گہرے بادل بھی چھائے ہوں۔ اس طرح تین چار طرح کی تاریکیاں مل کر ایک ایسا گھٹا ٹوپ اندھیرا ہوجاتا ہے کہ اگر وہ شخص اپنا ہاتھ اپنی آنکھ کے سامنے لائے تو اپنے ہاتھ کو دیکھ بھی نہ سکے۔ کیا ایسے شخص سے توقع ہوسکتی ہے کہ سیدھی راہ پر اپنا سفر جاری رکھ سکے گا۔ اللہ تعالیٰ نے کفر کو ہمیشہ اندھیرے یا اندھیروں سے اور ہدایت کو روشنی سے تعبیر کیا ہے۔ اور اس معاملہ اور ہٹ دھرمی کا تو یہ حال ہے کہ اس پر ایسے اندھیروں کے کئی ردے چڑھے ہوئے ہیں پھر اسے بھلا راہ ہدایت نصیب ہوسکتی ہے۔ 67 یہ مضمون ( اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحٌ ۭ اَلْمِصْبَاحُ فِيْ زُجَاجَةٍ ۭ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَيْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَّلَا غَرْبِيَّةٍ ۙ يَّكَادُ زَيْتُهَا يُضِيْۗءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ ۭ نُوْرٌ عَلٰي نُوْرٍ ۭ يَهْدِي اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَيَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَال للنَّاسِ ۭ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ 35؀ۙ ) 24 ۔ النور :35) سے شروع ہوا تھا اور یہ اس مضمون کا اختتام ہے۔ منبع ہدایت اور نور تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ پھر جو شخص اللہ کی طرف رجوع ہی نہ کرے۔ بلکہ اللہ سے باغیانہ اور معاندانہ روش اختیار کرے۔ اسے ہدایت کی روشنی کیسے نصیب ہوسکتی ہے۔