Ayah 24:910 آیت نمبر 6 سے آیت نمبر 9 تک کی وضاحت کے لئے درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے :
1۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی بیوی (خوا بنت عاصم) کو شریک بن سخماء سے متہم کیا۔ آپ نے ہلال سے فرمایا : ( چار) گواہ لاؤ وفنہ تمہاری پشت پر حد قذف پڑے گی ہلال نے جواب دیا : یارسول اللہ !~ اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو کسی سے بدکاری کرتے دیکھے تو کیا وہ گواہ ڈھونڈھتا پھرے ؟ (یہ تو بہت مشکل ہے) لیکن آپ یہی فرماتے رہے کہ گواہ لاؤ ورنہ حد پڑے گی ہلال کہنے لگے : اس پروردگار کی قسم جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے، میں سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ ضرور میرے متلعق کوئی ایسا حکم نازل کرے گا۔ جس سے میری پشت کو سزا سے بچا لے گا اس کے بعد جبریل اترے اور (وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَّهُمْ شُهَدَاۗءُ اِلَّآ اَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ اَحَدِهِمْ اَرْبَعُ شَهٰدٰتٍۢ بِاللّٰهِ ۙ اِنَّهٗ لَمِنَ الصّٰدِقِيْنَ ) 24 ۔ النور :6) تک آیت نازل ہوئیں۔ بعد ازاں آپ نے ہلال کی بیوی کو بلا بھجا۔ (پہلے) ہلال نے لعان کی گواہیاں دیں۔ جبکہ آپ ساتھ ساتھ فرما رہے تھے : دیکھو تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے اور جو جھوٹا ہے وہ توبہ کرتا ہے یا نہیں ؟ ہلال کے بعد اس کی بیوی کھڑی ہوئی اس نے چار گواہیاں دے دیں جب پانچویں کا وقت آیا تو لوگوں نے اسے ٹھہرایا (اور سمجھایا) کہ یہ پانچویں گواہی تمہیں عذاب میں مبتلا کر دے گی۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ یہ بات سن کر وہ عورت ذرا جھجکی اور رکی اور ہم سمجھے کہ وہ اقرار کرلے گی مگر وہ کہنے لگی کہ میں اپنی قوم کو تمام عمر کے لئے رسوا نہیں کرسکتی، پھر پانچویں گواہی بھی دے دی آپ نے فرمایا : دیکھتے رہو، اگر اس عورت کا بچہ کالی آنکھوں، موٹے سیرین اور موٹی پنڈلیوں والا پیدا ہوا تو وہ شریک بن سحماء کا نطفہ ہوگا۔ چناچہ اس عورت کے ہاں اسی صورت کا بچہ پیدا ہوا اس وقت آپ نے فرمایا : اگر اللہ کا حکم (لعان) نازل نہ ہوا ہوتا تو میں اس عورت کو ٹھیک سزا دیتا (بخاری۔ کتاب التفسیر)
سہل بن سعد راوی ہیں کہ عویمر (بن حارث بن زید بن جد بن عجلان) عاصم بن عدی کے پاس آوے جو عویمر کے قبیلہ بنی عجلان کے سردار تھے۔ اور ان سے پوچھا کہ : اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو کسی غیر مرد کے ساتھ دیکھے تو تم اس بارے میں کیا کہتے ہو ؟ اگر وہ اسے مار ڈالے تو تم لوگ بھی اس کو (قصاص میں) مار ڈالو گے۔ پھر وہ کیا کرے ؟ عاصم رسول اللہ !~ کے پاس آئے اور یہ مسئلہ پوچھا تو آپ نے اس قسم کے سوالات کو برا سمجھا (اور خاموش رہے) پھر جب مویمر نے عاصم سے اپنے مسئلہ کا جواب پوچھا تو کہنے لگے : میں تو ایسا مسئلہ رسول اللہ !~ سے کبھی نہ پوچھوں گا۔ آخر مویمر خود رسول اللہ کے پاس آئے اور کہا : اللہ کے رسول ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو غیر مرد کے ساتھ دیکھے تو کیا کرے اس کو مار ڈالے تو آپ اس کو (قصاص میں) مار ڈالیں گے۔ پھر آخر کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے تیرے اور تیری بیوی کے باب میں قرآن (میں حکم) نازل کیا ہے۔ پھر آپ نے دونوں میاں بیوی کو لعان کرنے کا حکم دیا جب کہ قرآن میں حکم نازل ہوا تھا۔ مویمر نے اپنی بیوی سے لعان کرنے کے بعد کہا۔ یارسول اللہ ! اگر اب میں اس عورت کو رکھوں تو میں ظالم ہوں چناچہ مویمر نے بیوی کو طلاق دے دی اور بعد میں ایسے لعان کرنے والوں میں یہی طریقہ جاری ہوگیا۔ لعان کے بعد آپ نے فرمایا : دیکھتے رہو اس عورت کا جو بچہ پیدا ہو اگر وہ سانولا، کالی آنکھوں، اور بڑے سرین اور موٹی پنڈلیوں والا ہو تو میں سمجھوں گا کہ مویمر نے اپنی بیوی کے متعلق سچ کہا تھا۔ اور اگر بچہ گرگٹ کی طرح سخر رنگ کا پیدا ہو تو میں سمجھوں گا کہ عویمر نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی۔ پھر جب بچہ پیدا ہوا تو آپ کی بتلائی ہوئی علامات کے مطابق عویمر سچا نکلا۔ چناچہ اس بچہ کا نسب اسی کی مان سے ملایا گیا۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر) یہ لعان مسجد میں ہوا اور میں وہاں موجود تھا (کتاب الصلوۃ۔ باب القفط۔۔ )
3۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ جب عویمر اور اس کی بیوی میں لعان ہوچکا تو عویمر نے کہا کہ میں نے جو مہر کا روپیہ دیا تھا وہ کدھر جائے گا تو اسے یہ جواب دیا گیا کہ تمہارے لئے کوئی مال نہیں۔ اگر تم اپنے بیان میں سچے ہو تو بھی تم اپنی بیوی سے صحبت کرتے رہے اور اگر جھوٹے ہو تو پر تو کسی صورت تم اس کے حقدار نہیں۔ (بخاری۔ کتاب الطلاق۔ باب صداق الملاعنیہ)
ان احادیث سے اور بعض دوسری احادیث سے مندرجہ ذیل امور معلوم ہوتے ہیں۔
1۔ اگر کوئی شخص کسی غیر عورت پر تہمت لگائے تو اس کا فیصلہ شہادات کی بنا پر ہوگا۔ اور اگر اپنی ہی بیوی پر الزام تو اس کا فیصلہ لعان کی صورت میں ہوگا جیسے ان آیات میں مذکور ہے۔
2۔ قسم کھانے کے دوران قاضی فریقین کو اللہ سے ڈر کر صحیح بات کہنے کی تلقین کرتا رہے۔ اور اگر فریق اپنے دعویٰ سے رک جائے تو اس پر حد قذف لگے گی اور مرد کے قسمیں کھانے کے بعد عورت رک جائے تو ظاہر ہے کہ اس نے اپنے سنا کے جرم کا اعتراف کرلیا (حدیث نمبر 1) اس صورت میں اسے رجم کیا جائے گا۔ اور آیت نمبر 8 میں لفظ عذاب سے یہی سزا مراد ہے۔
3۔ لعان تفریق زوجین سب سے سخت قسم ہے۔ جس کے بعد فریقین میں کبھی دوبارہ نکاح نہیں ہوسکتا۔
4۔ لعان کے بعد مرد طلاق دے یا نہ دے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمیشہ کے لئے جدائی از خود واقعہ ہوجاتی ہے۔
5۔ لعان کے بعد مرد عورت سے حق مہر یا دیگر اخراجات کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ (حدیث نمبر 3)
6۔ لعان کے بعد عدت کے دوران عورت کا نان و نفقہ یا سکنیٰ مرد کے ذمہ نہ ہوگا۔
7۔ پیدا ہونے والا بچہ ماں کی طرف منسوب ہوگا۔ اسے متہم زانی کی طرف منسوب نہیں کیا جائے گا۔
8۔ بچہ ماں کا وارث ہوگا۔ اور ماں بچہ کی۔ اور وضع حمل کے بعد اگر عورت مجرم ثابت ہوجائے تو بھی اسے سنگسار نہیں کیا جائے گا۔
Ayah 24:1011 یعنی اگر اللہ تعالیٰ لعان کا حکم نازل نہ فرماتا تو تم پر کئی قسم کی مشکلات پڑ سکتی تھیں۔ مثلاً اگر کوئی شخص خود اپنی بیوی کو بدکاری میں مبتلا دیکھ لے تو کیا کرے ؟ گواہ ڈھونڈنے جائے تو گواہوں کے آنے تک معاملہ ختم ہوجاتا ہے۔ اور اگر گواہوں کے بغیر بات کرے تو اس پر حد قذف پڑتی ہے۔ اگر خاموش ہو رہے تو خاموشی دوسروں کے حق میں تو اختیار کی جاسکتی ہے مگر اپنی بیوی کے حق میں یہ کڑوا گھونٹ کیسے پی سکتی ہے ؟ اگر بیوی کو غصہ میں آکر قتل کردے تو خود قصاص میں مارا جاتا ہے۔ اور اگر طلاق دے دے تو اس میں اس کا اپنا نقصان بھی ہے اور بیوی کو یا اس کے آشنا کو کوئی بدنی یا اخلاقی سزا بھی نہیں ملتی۔ بلکہ یہ طلاق شائد ان دونوں زانی اور زانیہ کے حق میں خوش کا باعث ثابت ہو۔ اور اگر بالفرض محال کڑوا گھونٹ پی کر صبر کر ہی جاتا ہے تو ایک ناجائز کی پرورش کا بار اس کے گلے میں آپڑتا ہے۔ جو بعد اس کا وارث بھی ہوگا۔ یہ اور ایسی ہی اور کئی مشکلات تھیں جن کا تمہارے پاس کوئی حل نہ تھا۔ اللہ نے لعان کا حکم نازل فرما کر ان تمام پیچیدگیوں کو حل کردیا۔ پھر لعان کے اس قانون میں فریقین کو یکساں سطح پر رکھا ہے۔ اس لئے یہ حقیقت ہے کہ قسمیں کھانے کے باوجود ان دونوں میں سے ایک نہ ایک ضرور سچا اور دوسرا جھوٹا ہوتا ہے۔ اور یہی باتیں اللہ تعالیٰ کے حکیم ہونے کی زبردست دلیل ہیں۔
Ayah 24:1112 یہاں آیت نمبر 11 سے لے کر آیت نمبر 20 تک افک کے واقعہ سے متعلق دس آیات مذکور ہیں۔ جو اس سورت کا شان نزول بنیں۔ ابتدا میں تہمت، قذف زنا کے احکام اور سزا بتلانے کے بعد اس واقعہ کا آغاز اور اس پر تبصرہ ہے۔ اس کی ابتداء ہی ان الفاظ سے کی گئی (اِنَّ الَّذِيْنَ جَاۗءُوْ بالْاِفْكِ 11) 24 ۔ النور :11) یعنی یہ جو کچھ افواہیں،۔۔ اور قصے گھڑے گئے۔ سراسر جھوٹ اور بہتان ہے۔ جس میں حقیقت کا شائبہ تک نہیں۔
13 یہ ٹولہ کون لوگ تھے۔ یہ حضرت عائشہ ؓ ہی کی زبانی سنئے :
1۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اس آیت میں (وَالَّذِيْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيْمٌ 11) 24 ۔ النور :11) سے مراد عبداللہ بن ابی ابن سلول ہے (رئیس المنافقین) ہے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
2۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اس طوفان کا چرچا (مسلمانوں میں سے) دو مرد کرنے والے تھے۔ مسطح بن اثاثہ، اور حسان بن ثابت اور تیسرا عبداللہ بن ابی بن سلول منافق تھا جو کھود کھود کر پوچھا پھر اس پر حاشیے چڑھاتا۔ وہ اس طوفان کا بانی مبانی تھا اور (وَالَّذِيْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيْمٌ 11) 24 ۔ النور :11) سے وہ اور حمنہ بنت جحش مراد ہیں (عبداللہ بن ابی منافق کے علاوہ تینوں پر حد قذف لگی تھی) (بخاری۔ کتاب التفسیر)
3۔ مسروق سے روایت ہے کہ حسان بن ثابت (مشہور شاعر) حضرت عائشہ ؓ کے ہاں گئے اور یہ شعر سنایا
حصان رزان ماتزن بریبہ۔۔ و نصبح غرثی من الحوم الغوافل
(حضرت عائشہ ؓ پاکدامن، عقلمند اور ہر شک و شبہ سے بالا ہیں۔ وہ بھولی بھالی معصوم عورتوں کا گوشت کھانے (ان پر تہمت لگانے یا ان کا گلہ کرنے) سے بھوکی ہی رہتی ہیں۔ یہ شعر سن کر حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : مگر (حسان) تم تو ایسے نہیں۔ میں (مسروق) نے حضرت عائشہ ؓ نے کہا۔ آپ ایسے شخص کو کیوں آنے دیتی ہیں جس کے حق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری (وَالَّذِيْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيْمٌ 11) 24 ۔ النور :11) حضرت عائشہ ؓ نے کہا : اسے اندھے پن سے زیادہ اور کیا عذاب ہوگا (حضرت حسان آخری عمر میں اندھے ہوگئے تھے) پھر یہ بھی کہا : کہ حسان رسول اللہ کی طرف سے (کافروں کو ان کی ہجو کا) جواب دیتے تھے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
نیز عبدالرحمن بن عوف فرماتے ہیں کہ حضرت حسان بن ثابت حضرت ابوہریرہ ؓ سے گواہی چاہتے تھے۔ کہتے تھے : ابوہریرہ ؓ ! تمہیں اللہ کی قسم ! کیا تم نے رسول اللہ یہ فرماتے نہیں سنا : حسان ! تو اللہ کی طرف سے کافروں کو جواب دے۔ یا اللہ ! روح القدس سے حسان کی مدد کر ابوہریرہ ؓ نے کہا : ہاں (بخاری۔ کتاب الصلوہ باب التعر فی المسجد)
14 مندرجہ بالا حضرت عائشہ ؓ سے منقول احادیث سے بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ اس فتنہ کا بانی مبانی عبداللہ بن ابی منافق تھا۔ اتفاق کی بات کہ اس غزوہ بن مصطلق میں جتنے زیادہ منافق شامل ہوئے تھے۔ دوسرے کسی غزوہ میں شامل نہ ہوئے تھے۔ انہی لوگوں نے ہی اس بہتان کا بھرپور پروپیگنڈہ کیا تھا۔ جس سے کئی سادہ لوح مخلص مسلمان بی متاثر ہوگئے تھے۔ مثاتر ہونے والے مسلمانوں کے نام تو کتب احادیث و سیر میں سے ہیں اور وہ تھے حضرت حسان بن ثابت، مسطح بن اثاثہ اور ام المومنین زینب بنت جحش کی بہن حمنہ بنت جحش یعنی روایت کے مطابق ان تینوں کو قذف کی حد بھی لگی تھی۔ لیکن منافقوں میں سے عبداللہ بن ابی کے سوا کسی کا نام کتب تاریخ و سیر میں نہیں ملتا۔ نہ ہی منافقوں میں سے کسی کو حد لگی تھی۔ ان کا معاملہ بس اللہ کے سپرد تھا۔
جب یہ فتنہ گھڑ گیا تو منافق خوش ہو کر اور خوب مزے لے کر ان واہیات باتوں کا تذکرہ تھے بعض اظہار افسوس کے طور پر، بعض بات چھیڑ دیتے اور خود چپکے سے سنا کرتے، اور مسلمان یہ باتیں سن کر باعض تردد میں پڑجاتے، بعض خاموش رہتے اور بہت سے یہ باتیں سن کر جھٹلا دیتے۔ اور اس قصہ کا بڑا بوجھ اٹھانے والے اور بانی عبداللہ کا یہ حال تھا کہ لوگوں کو جمع کرتا اور ابھارتا اور نہایت چالاکی سے اپنا دامن بچا کر دوسروں سے اس کی اشاعت کرایا کرتا تھا۔ اس آیت میں بتلایا یہ جارہا ہے کہ اس قصہ میں کسی نے جتنا حصہ لیا اسی کے مطابق اسے عذاب عظیم ہوگا۔
ان حالات میں عام انسانی سوچ کے مطابق چاہئے تو تھا اللہ تعالیٰ منافقوں کو اس اخلاقی گراوٹ پر غضب ناک گرفت فرماتا یا مسلمانوں کو جوابی حملے سے اکساتا مگر اللہ تعالیٰ جو سب سے بڑھ کر علیم اور حکیم ہے۔ نے یہ انداز اختیار فرمایا کہ تمام تر توجہ مسلمانوں کو یہ تعلیم دینے پر صرف فرمائی کہ تمہارے اخلاقی محاذ میں جہاں رخنے موجود ہیں۔ ان کو بھر کر اس اخلاقی محاذ کو اور بھی زیادہ مضبوط بنانا چاہئے۔ اسی لئے اس سورة میں بہت سے ستر و حجاب کے احکام نازل ہوئے جو آگے آرہے ہیں۔
Ayah 24:1215 اس واقعہ افک کی پوری روئیداد خود حضرت عائشہ ؓ کی زبانی سنئے۔
حضرت عائشہ ؓ نے (خود اپنا واقعہ افک یوں) بیان کیا کہ آپ کی عادت تھی کہ جب آپ سفر پر جاتے تو اپنی بیویوں کے نام قرعہ ڈالتے۔ قرعہ میں جس بی بی کے نام قرعہ نکلتا اسے آپ ساتھ لے جاتے۔ چناچہ آپ نے ایک غزوہ (بنی مصطلق) میں قرعہ ڈالا جو میرے نام نکلا۔ پس میں آپ کے ساتھ روانہ ہوگئی اور یہ واقعہ حجاب کا حکم نازل ہونے کے بعد کا ہے۔ میں ایک ہودے سوار رہتی اور جب اترتی تو ہودہ سمیت اتاری جاتی۔ ہم اس طرح سفر کرتے رہے جب آپ اس غزوہ سے فارع ہوئے اور سفر سے لوٹے تو ہم لوگ مدینہ کے نزدیک آن پہنچے۔ ایک رات کوچ کا حکم ہوا یہ حکم سن کر اٹھی اور پیدل چل کر لشکر سے پار نکل گئی۔ جب حاجت سے فارغ ہوئی تو لشکر کی طرف آنے لگی تو مجھے معلوم ہوا کہ ظفار کے نگینوں کا ہار (جو میرے گلے میں تھا) ٹوٹ کر گرگیا ۔ میں اسے ڈھونڈنے لگی اور اسے ڈھونڈنے میں دیر لگ گئی۔ اتنے میں وہ لوگ جو میرے ہودہ اٹھا کر اونٹ پر لادا کرتے تھے۔ انہوں نے ہودہ اٹھایا اور میرے اونٹ پر لاد دیا۔ وہ یہ سمجھے رہے کہ میں ہودہ میں موجود ہوں۔ کیونکہ اس زمانہ میں عورتیں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں۔ پر گوشت اور بھاری بھر کم نہ ہوتی تھیں۔ اور تھوڑا سا کھانا کھایا کرتی تھیں۔ لہذا ان لوگوں نے جب ہودہ اٹھایا تو اس کے ہلکے پن کا کوئی خیال نہ آیا۔ علاوہ ازیں میں ان دنوں ایک کمسن لڑکی تھی۔ خیر وہ ہودہ اونٹ پر لاد کر چل دیئے۔
لشکر کے روانہ ہونے کے بعد میرا ہار (جو اونٹ کے نیچے آگیا تھا) مجھے مل گیا میں اسی ٹھکانے کی طرف چلی گوی۔ جہاں رات کو اترے تھے۔ دیکھا تو وہاں نہ کوئی پکارنے والا ہے اور نہ جواب دینے والا (سب جاچکے ہیں) میں نے ارادہ کیا کہ اپنے ٹھکانے پر چلی جاؤں۔ کیونکہ میرا خیال تھا کہ جب وہ لوگ مجھے نہ پائیں گے تو اسی جگہ تلاش کرنے آئیں گے۔ میں وہاں بیٹھی رہی۔ نیند نے غلبہ کیا اور میں سوگئی۔ لشکر کے پیچھے پیچھے (گرے پڑے کی خبر رکھنے کے لئے) ھفوان بن معطل سلمی مقرر تھے۔ وہ پچھلی رات چلے اور صبح میرے ٹھکانے کے قریب پہنچے اور دور سے کسی انسان کو سوتے ہوئے دیکھا پھر میرے قریب آئے تو مجھے پہچان لیا۔ کیونکہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے انہوں نے مجھے دیکھا تھا۔ جب انہوں نے مجھے پہچان کر انا للؤہ وانا الیہ راجعون پڑھا تو میں بیدار ہوگئی اور اپنی چادر سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا۔ اللہ کی قسم انہوں نے نہ مجھ سے کوئی بات کی اور نہ ہی میں نے انا للؤہ وانا الیہ راجعون کے سوا کوئی بات سنی۔ انہوں نے اپنی سواری بیٹھائی اور اس کا پاؤں اپنے ہاتھ سے دبائے رکھا تو میں اس پر سوار ہوگئی۔ وہ پیدل چلتے رہے اور اونٹنی کو چلاتے رہے تاآنکہ ہم لشکر سے سو اس وقت جاملے جب وہ عین دوپہر کو گرمی کی شدت کی وجہ سے اترے ہوئے تھے۔ اور جن لوگوں نے قسمت میں تباہی لکھی تھی وہ تباہ ہوئے اس تہمت کو سب زیادہ پھیلانے والا عبداللہ بن ابی سلول (رئیس المنافقین) تھا۔ خیر ہم لوگ مدینہ پہنچے وہاں پہنچ کر میں بیمار ہوگئی اور ایک مہینہ بھر بیمار رہی۔ لوگ تہمت لگانے والوں کی باتوں کا چرچا کرتے رہے اور مجھے خبر تک نہ ہوئی۔ البتہ ایک بات سے مجھے وہم سا پیدا ہوا۔ وہ یہ تھی کہ آپ کی وہ مہربانی جو بیماری کی حالت میں مجھ پر ہوا کرتی تھی وہ اس بیماری میں نہیں پائی تھی۔ آپ تشریف لاتے، سلام علیک کہتے پھر یہ پوچھ کر کہ (اب طبیعت) کیسی ہے چل دیتے۔ اس بات سے مجھے کچھ شک تو پڑتا مگر کسی بات کی خبر نہ تھی۔
بیماری سے کچھ افاقہ ہوا اور ابھی کمزور ہی تھی کہ مناصع کی طرف گئی۔ مسطح کی ماں (سلمیٰ ) میرے ساتھ تھی۔ ہم لوگ ہر رات کو وہاں رفع حاجت کو جایا کرتے تھے۔ یہ اس زمانہ کی بات ہے جب اپنے گھروں کے نزدیک ہم پاخانے نہیں بناتے تھے بلکہ اگلے زمانہ کے عربوں کی طرح رفع حاجت کے لئے جنگل جایا کرتے۔ کیونکہ گھروں کے قریب پاخانہ بنانے سے ان کی بدبو ہمیں تکلیف دیتی۔ خیر میں اور مسطع کی ماں جو ابو رہم بن عبدمناف کی بیٹی اور اس کی ماں صخر بن عامر کی بیٹی، ابوبکر صدیق ؓ کی خالہ تھی۔ اسی کا بیٹا مسلح تھا۔ رفع حاجت سے فراغت کے بعد ہم دونوں گھر کو آرہی تھیں کہ مسطح کی ماں کا پاؤں چادر میں الجھ کر پھسلا تو کہنے لگی : مسطح ہلاک ہوگا، میں نے اسے کہا : کیا بکتی ہو، کہا تم ایسے شخص کو کو ستی ہو جو بدر میں شریک تھا ؟ وہ کہنے لگی : اے بھولی لڑکی، کیا تم نے وہ کچھ بھی سنا جو وہ کہتا ہے ؟ پوچھا کیا کہتا ہے ؟ تب اس نے تہمت لگانے والوں کی باتیں مجھ سے بیان کیں تو میری بیماری میں مزید اضافہ ہوگیا۔ جب میں گھر پہنچی۔ تو رسول اللہ تشریف لائے اور سلام کرکے پوچھا، اب کیسی ہے ؟ میں کہا : آپ مجھے اجازت دیجئے میں اپنے والدین کے ہاں جانا چاہتی ہوں۔ میرا مطلب یہ تھا کہ ان سے اس خبر کی تحقیق کروں۔ رسول اللہ ! نے مجھے اجازت دے دی تو میں اپنے والدین کے ہاں آگئی۔ میں نے اپنی ماں سے کہا۔ امی ! یہ لوگ (میری نسبت) کیا بک رہے ہیں ؟ اس نے کہا : بیٹی اتنا رنج نہ کرو۔ اللہ کی قسم ! اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی مرد کے پاس کوئی خوبصورت عورت ہوتی ہے اور وہ اس سے محبت کرتا ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں تو سوکنیں بہت کچھ کرتی رہتی ہیں میں نے کہا : سبحان اللہ ! لوگوں نے اس کا چرچا بھی کردیا۔ چناچہ میں یہ ساری رات روتی رہی۔ صبح ہوگئی۔ مگر نہ میرے آنسو تھمتے تھے اور نہ مجھے نیند آتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ اور اسامہ بن زید کو بلایا کیونکہ وحی اترنے میں دیر ہو رہی تھی اور آپ اس سلسلہ میں ان سے مشورہ چاہتے تھے۔ چناچہ اسامہ بن زید نے آپ کو وہی مشورہ دیا جو وہ جانتے تھے کہ عائشہ ؓ ایسی ناپاک باتوں سے پاک ہے اور اسامہ کو آپ کی بیویوں سے محبت تھی انہوں نے صاف کہہ دیا کہ عائشہ ؓ پاکدامن اور بےقصور ہیں۔ اور حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے کها : یارسول اللہ !~ اللہ تعالیٰ آپ پر تنگی نہیں کرے گا۔ عائشہ ؓ کے علاوہ اور بھی بہت عورتیں ہیں اور اگر آپ بریرہ سے پوچھیں تو وہ آپ ٹھیک ٹھیک بتلا دے گی چناچہ آپ نے بریرہ کو بلایا اور اس سے پوچھا : کیا تم نے کوئی ایسی بات بھی دیکھی ہے کہ عائشہ ؓ کے متعلق تمہیں کچھ شک ہو ؟ بریرہ کہنے لگیں : اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا میں نے ایسی کوئی بات نہیں دیکھی۔ ہاں میں اس میں ایک بات دیکھتی ہوں اور اس سے چشم پوشتی کر جاتی ہوں اور وہ یہ کہ وہ ابھی کم سن بچی ہے۔ آٹا گندھا پڑا چھوڑ کر سو جاتی ہے اور بکری آکر آٹا کھا جاتی ہے
(ان شہادتوں کے بعد) نبی ﷺ (خطبہ کے لئے) کھڑے ہوئے۔ عبداللہ بن ابی سلول کے خلاف آپ نے مدد چاہی۔ فرمایا۔ مسلمانوں ! اس شخص کے مقابل کوئی میری حمایت کرتا ہے۔ جس نے میرے اہل خانہ کے بارے میں مجھے دکھ پہنچایا ؟ میں نے تو اپنے اہل خانہ میں بھلائی ہی دیکھی ہے اور جس شخص سے یہ لوگ متہمم کرتے ہیں اس میں بھی میں نے بھلائی ہی دیکھی ہے۔ وہ میرے گھر کبھی اکیلا نہیں آتا بلکہ میرے ساتھ ہی آتا ہے۔ یہ سنکر سعد بن معاذ (اوس قبیلہ کے سردار) کھڑے ہوئے اور کہنے لگے : میں اس کے مقابل آپ کی مدد کرتا ہوں۔ اگر یہ اوس قبیلے کا ہے تو ابھی اس کی گردن اڑا دیتا ہوں۔ اور اگر ہمارے بھائیوں خزرج قبیلے کا ہے تو آپ جو حکم دیں گے بجا لائیں گے یہ بات سن کر حضرت سعد بن عبادہ جو خزرج قبیلے کے سردار تھے کھڑے ہوئے۔ وہ ایک نیک بخت آدمی تھے مگر قومی حمیت نے آدبوچا تو کہنے لگے : سعد بن معاذ ! اللہ کی قسم تو جھوٹ کہتا ہے تو نہ اسے مارے گا نہ مارسکے گا۔ اتنے میں اسید بن حضیر جو سعد بن معاذ کے چچا زادہ بھائی تھے۔ کھڑے ہو کر سعد بن عبادہ سے کہنے لگے : اللہ کی قسم ! تو جھوٹا ہے ہم ضرور اسے قتل کریں گے۔ کیا تو بھی منافق ہوگیا ہے جو منافقوں کی طرفداری کرتا ہے ؟ اس پر دونوں قبیلوں کے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور قریب تھا کہ آپس میں لڑ پڑیں۔ نبی اکرم ابھی منبر پر ہی تھے۔ آپ انھیں سمجھاتے اور تھماتے رہے جب وہ خاموش ہوئے تو آپ بھی خاموش ہوگئے۔
میرا وہ دن بھی رونے دھونے میں گزرا اور میں مسلسل دو دن سے رو رہی تھی۔ نہ میر آنسو تھمتے تھے اور نہ نیند آتی۔ میرے والدین سمجھے کہ رو رو کر میرا کلیجہ پھٹ جائے گا۔ پھر ایسا ہوا کہ میرے والدین پاس بیٹھے تھے اور میں رو رہی تھی کہ ایک انصاری عورت نے اندر آنے کی اجازت مانگی میں نے اجازت دی تو وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ کر رونے لگی۔ اسی حالات میں آپ تشریف لائے اسلام کیا۔ پھر بیٹھ گئے۔ اس سے پہلے جب سے مجھ پر تہمت لگی تھی آپ میرے پاس نہیں بیٹھے تھے۔ ایک مہینہ بھر آپ انتظار کرتے رہے مگر وحی نہ آئی۔ آپ نے بیٹھ کر تشہد پڑھا۔ پھر فرمایا : عائشہ ؓ ! مجھے کو تیری نسبت ایسی ایسی خبر آئی ہے۔ اگر تو پاک ہے تو اللہ تیری بریت فرمائے گا اور اگر واقعی تجھ سے کوئی قصور ہوگیا ہے تو اللہ سے اپنے قصور کی معافی مانگ اور توبہ کر۔ جب بندہ گناہ کا اقرار کرتا ہے پھر اللہ کے حضور توبہ کرتا ہے تو اللہ ان کے گناہ بخش دیتا ہے جب آپ یہ گفتگو ختم کرچکے تو یکبارگی میرے آنسو تھم گئے یہاں تک کہ ایک قطرہ بھی میری آنکھوں میں نہ رہا۔ میں نے اپنے والد سے کہا کہ آپ رسول اللہ کو جواب دیں وہ کہنے لگے ! اللہ کی قسم ! میں نہیں جانتا کہ کیا جواب دوں پھر میں نے اپنی والدہ (ام رومان) سے کہا کہ تم جواب دو اس نے کہہ دیا کہ میں نہیں جانتی کہ کیا جواب دوں آخر میں خود ہی جواب دینے لگے۔ میں ایک کمزور لڑکی تھی۔ قرآن مجھ کو زیادہ یاد نہ تھا۔ میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں جانتی ہوں کہ یہ بات جو آپ لوگوں نے سنی ہے آپ کے دل میں جم گئی ہے اور آپ اسے سچ سمجھنے لگے ہیں۔ اب اگر میں یہ کہوں کہ میں پاک ہوں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں پاک ہوں تو بھی آپ لوگ مجھے سچا نہیں سمجھیں گے۔ اور اگر میں گناہ کا اقرار کرلوں اور اللہ جانتا ہے کہ میں اس سے پاک ہوں تو آپ لوگ مجھے سچا سمجھیں گے۔ اللہ کی قسم ! میں اپنی اور تمہاری مثال ایسی ہی سمجھتیں ہوں جیسے حضرت یوسف کے والد کی تھی۔ انہوں نے جو کچھ کہا تھا میں بھی وہی کچھ کہتی ہوں کہ اب صبر کرنا ہی بہتر ہے اور تمہاری باتوں پر اللہ میری مدد کرنے والا ہے
یہ کہہ کر میں نے کرو بدلی۔ مجھے یہ یقین تھا کہ چونکہ میں پاک ہوں۔ لہذا اللہ تعالیٰ ضرور میری بریت کردے گا۔ مگر اللہ کی قسم مجھے یہ خیال تک نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے بارے میں ایسی آیات نازل کرے گا جو ہمیشہ پڑھی جائیں گی میں اپنا شان اس سے بہت کمتر سمجھتی تھی۔ مجھے یہ امید ضرور تھی کہ رسول اللہ ! کوئی خواب دیکھیں گے جس سے آپ پر میری بریت واضح ہوجائے گی۔ پھر اللہ کی قسم ! ابھی رسول اللہ !~ وہاں سے ہلے بھی نہ تھے اور نہ ہی کوئی دوسرا آدمی وہاں سے باہر گیا کہ آپ پر وحی نازل ہونا شروع ہوگئی۔ معمول کے موافق آپ پر سختی ہونے لگی اور پسینہ موتیوں کی طرح آپ کے بدن سے ٹپکنے لگا حالانکہ وہ دن سردی کا دن تھا۔ مگر وحی اترنے میں ایسی ہی سختی ہوتی تھی ! جب امی موقوف ہوئی تو آپ خوش تپے اور ہنس رہے تھے۔ پھر پہلی بات آپ~صل 3~ نے یہی کی : عائشہ ؓ ! اللہ تعالیٰ نے تمہاری بریت فرما دی میری والدہ مجھے کہنے لگی : اٹھو اور آپ کا شکریہ ادا کروں۔ میں نے کہا۔ اللہ کی قسم میں نہیں اٹھوں گی۔ میں تو صرف اللہ عزوجل کا شکریہ ادا کروں گی جو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں اتاریں۔ ( اِنَّ الَّذِيْنَ جَاۗءُوْ بالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ ۭ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ ۭ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۭ لِكُلِّ امْرِۍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ ۚ وَالَّذِيْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيْمٌ 11) 24 ۔ النور :11) پوری دس آیات۔ جب یہ آیات اتری تو ابوبکر ؓ نے، جو محتاجی اور رشتہ کی وجہ سے مسطح کی مدد کیا کرتے تھے، کہا : اللہ کی قسم ! آئندہ میں مسطح کو کچھ نہیں دیا کروں گا جبکہ اس نے عائشہ ؓ کے متعلق ایسی باتیں کیں تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ( وَلَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ اَنْ يُّؤْتُوْٓا اُولِي الْقُرْبٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ډ وَلْيَعْفُوْا وَلْيَصْفَحُوْا ۭ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 22) 24 ۔ النور :22) یہ آیت سن کر ابوبکر صدیق ؓ کہنے لگے : اللہ کی قسم ! مجھے یہ پسند ہے کہ اللہ مجھے بخش دے۔ پھر وہ مسطح سے پہلا سا سلوک کرنے لگے اور کہا : اللہ کی قسم ! جب تک مسطح زندہ تھا میں یہ معمول بند نہ کروں گا
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ : (اس تہمت کے زمانہ میں) آپ زینب بن جحش (ام المومنین) سے میرا حال پوچھتے کہ تم عائشہ ؓ کو کیسی سمجھتی ہو اور تم نے کیا دیکھا ہے ؟ تو انہوں نے کہا : یارسول اللہ !~ میں اپنے کان اور آنکھ کی خوب احتیاط رکھتی ہوں، میں تو عائشہ ؓ کو اچھا ہی سمجھتی ہوں آپ کی بیویوں میں سے زینب ہی میرے برابر کی تھیں۔ بڑھ چڑھ کر رہنا چاہتی تھیں۔ اللہ نے ان کی پرہیزگاری کی وجہ سے انھیں بچا لیا اور ان کی بہن حمنہ بنت جحش اپنی بہن سے اس بارے میں جھگڑنے لگی تو جیسے دورے تہمت لگانے والے تباہ ہوئے وہ بھی تباہ ہوئی۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر)
اس مفصل حدیث کی رو سے مسلمانوں کی مضبوط اخلاقی حالت کا درج ذیل امور سے پتہ چلتا ہے :
1۔ خود رسول اللہ ﷺ اس واقعہ کو ایک بہتان ہی سمجھتے تھے۔ وہ صرف اپنی زوجہ محترمہ کو ہی نہیں، صفوان بن معطل کو بھی ایک پاکباز انسان سمجھتے تھے۔
2۔ اس قصہ کا براہ راست صدمہ آپ کی ذات کو پہنچتا تھا۔ اور آپ کے ایک ادنیٰ سے اشارے سے بہتان تراشوں کا صفایا بھی کیا جاسکتا تھا۔ مگر جب قومی اور قبائل عصبت کی بناء پر اس میں جھگڑا شروع ہوا تو آپ نے یہ صدمہ جانکاہ خود اپنی ذات پر برداشت کرلیا۔ مگر مسلمانوں میں جھگڑا نہ ہونے دیا۔
3۔ آپ اس سلسلہ میں پورا مہینہ بےتاب و بےقرار رہے اس لئے کہ یقینی علم۔۔ یا علم غیب آپ کو حاصل نہ تھا۔ ورنہ آپ دوسروں سے حضرت عائشہ ؓ کے بارے میں کوئی استفسار نہ فرماتے۔ اور شاید اس تاخیر میں یہ مصلحت بھی پوشیدہ جو کہ بعد میں آنے والے لوگوں میں کچھ لوگ آپ کو عالم الغیب نہ سمجھنے لگیں یا ثابت نہ کرنے لگیں۔
4۔ اپنے یقین کامل کے باوجود آپ) نے اس واقعہ کو حتمی تردید اس لئے نہ فرمائی کہ ایک شوہر کی اپنی بیوی کے لئے تردید مخالفین کی نظروں میں کچھ۔۔ نہیں رکھتی۔
5۔ حضرت عائشہ ؓ کے والدین بھی ذاتی طور پر حضرت عائشہ ؓ کو پاکباز سمجھتے تھے۔ جیسا کہ حضرت عائشہ ؓ کی والدہ ام رومان کے جواب سے واضح ہوتا ہے۔ تاہم وہ بھی حتمی تردید اس لئے نہ کرسکتے تھے یا پاکبازی کا بیان اس لئے نہ دے سکتے تھے کہ والدین کا اپنی بیٹی کے حق میں پاکیزگی کا بیان مخالفین کا منہ بند نہیں کرسکتا۔
6۔ آپ نے اس سلسلہ میں حضرت اسامہ بن زید، حضرت بریرہ اور ام المومنین حضرت زینب بنت حجش سے استفسار فرمایا اور یہ سب آپ کے گھر کے افراد تھے۔ سب نے پرزور الفاظ میں حضرت عائشہ ؓ کی پاکبازی کا بیان دیا۔ حضرت زینب جو حضرت عائشہ ؓ کی سوکن اور حضرت عائشہ ؓ کے بیان کے مطابق ان کے مقابلہ کی چوٹ تھیں۔ انہوں نے بھی حضرت عائشہ ؓ کا ذکر خیر ہی فرمایا۔ چوتھے گھر کے فرد حضرت علی ؓ تھے جن سے آپ نے استفسار فرمایا۔ انہوں نے اس الزام کی تردید یا حضرت عائشہ ؓ کی پاکبازی بیان کرنے کے بجائے رسول اللہ ﷺ کی کبیدگی اور خوشنودی کا لحاظ رکھ کر جواب دیا۔ تاہم ان کی زبان سے بھی ایسا کوئی لفظ نہیں نکلا جس سے اس الزام کی تائید ہوتی ہو یا حضرت عائشہ ؓ کی ذات یا پاکبازی پر کوئی حرف آتا ہو۔
7۔ عامہ~ن~ المسلمین کی بھی اخلاقی حالت اتنی مضبوط تھی کہ منافقوں کے پرزور پروپیگنڈہ کے باوجود تین افراد کے سوائے کوئی ان سے متاثر نہ ہوسکا ان میں سے بھی حمنہ بنت جحش اپنی بہن کی خاطر اور حضرت عائشہ ؓ کو نیچے دکھانے کی وجہ سے اس بہتان میں شامل ہوگئی تھیں۔
اور اس واقعہ میں مسلمانوں کے لئے خیر کے پہلو یہ تھے :
1۔ اس واقعہ مسلمانوں کے ایمان کا امتحان ہوگیا اور منافقین چھٹ کر سامنے آگئے۔ جو یہ چاہتے تھے کہ اس طرح مسلمانوں میں پھوٹ ڈال کر انھیں کمزور کردیا جائے۔ لیکن نتیجہ اس کے برعکس نکلا اور مسلمانوں کی اخلاقی توفق پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگیا۔
2۔ جو افراد اس صدمہ سے جس قدر متاثر تھے اسی قدر وحی الٰہی ان کے لئے تسلی اور خوش کا باعث ہوئی۔ جب وحی ختم ہوئی تو خود رسول اللہ ﷺ خوشی کی وجہ سے ہنس رہے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ کے والدین کی خوشی کا بھی یہ اثر تھا کہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کو آپ کا شکریہ ادا کرنے کو کہا۔ اور آئندہ کے لئے ان کا لقب ہی صدیقہ پڑگیا۔
3۔ مسلمانوں کو ایسی ہدایات و احکام دیئے گئے جن پر عمل پیرا ہونے سے وہ ایسے فتنہ پرور طوفانوں کا بخیر و بخوبی مقابلہ کرسکیں۔
16 جب اس بہتان کا عام چرچا ہونے لگا تو ایک دن حضرت ابو ایوب انصاری کی بیوی نے اپنے شوہر سے کہا : لوگ حضرت عائشہ ؓ کے متعلق ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں۔ حضرت ایوب کہنے لگے : لوگ بکواس کرتے ہیں۔ تم ہی خود ہی بتلاؤ۔ کہ تم ایسا کام کرسکتی ہو ؟ وہ کہنے لگی : ہرگز نہیں وہ کہنے لگے : پھر (صدیق کی بیٹی اور نبی کی بیوی) عائشہ ؓ صدیقہ تجھ سے بڑھ کر پاک صاف اور طہر و مطہر ہیں۔ ان کی نسبت ایسا بےحد گمان کیوں کیا جائے۔ اور میں کہتا ہوں کہ اگر صفوان کی جگہ میں خود ہوتا تو ایسا خیال تک نہ کرسکتا تھا اور صفوان تو مجھ سے بہتر مسلمان ہے اور مسلمانوں کی اکثریت کی فکر کا اندازہ یہی تھا۔
Ayah 24:1317 یہ اس واقعہ کا قانونی پہلو ہے کہ ایسی شہادتیں جو بدکاری پر دلالت کرتی ہوں وہ کبھی میسر آبھی نہ سکتیں تھی۔ کیونکہ قرائن سب کے سب خلاف تھے۔ واقعہ یہ تھا کہ پیچھے رہ جانے والی کوئی عام عورت نہ تھیں بلکہ تمام مسلمانوں کی ماں ہے اور پیچھے سے آنے والا بھی پکا مسلمان ہے جو انھیں فی الواقعہ اپنی ماں ہی سمجھتا ہے۔ ماں اس سے پردہ بھی کرلیتی ہے اور وہ آپس میں نہ اس وقت ہمکلام ہوتے ہیں اور نہ پورے دوران سفر۔ اور یہ سفر صبح سے لے کر دوپہر تک دن دیہاڑے ہو رہا ہے۔ عورت اونٹ پر سوار ہے اور مرد خاموش آگے آگے چل رہا ہے۔ تاآنکہ وہ مسلمان کے لشکر سے جاملتا ہے۔ ایسے حالات میں بدگمانی کی محرک صرف دو ہی باتیں ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ گمان کرنے والا خود بدباطن اور خبیث ہو۔ جو ایسے حالات میں خود یہی کچھ سوچتا یا کرتا ہوں اور اس طرح دوسرے سب لوگوں کو بھی اپنی ہی طرح سمجھتا ہوں۔ اور دوسری یہ کہ وہ ایسے موقع کو غیمت مان کر از راہ دشمنی ایسی بکواس کرنے لگے اور منافقوں میں یہ دونوں باتیں پائی جاتی تھیں۔
Ayah 24:1418 اللہ کا فضل اور رحمت یہ تھی کہ اس نے مسلمانوں کو بالعموم اور اپنے پیغمبر کو بالخصوص ان حالات میں صبر و استقامت کی توفیق بخشی۔ ورنہ منافقوں نے جس طرح مسلمانوں پر یہ زبردست وار کیا تھا۔ اگر مسلمان بھی جوابی کارروائی پر اٹھ کھڑے ہوتے تو حالات کوئی سنگین صورت اختیار کرسکتے تھے۔
Ayah 24:1519 یعنی محض سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق کے آگے بیان کردینا کبیرہ گناہ ہے۔ آپ نے فرمایا : کہ کسی انسان کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے اسے آگے منتقل کردے (مقدمہ صحیح مسلم)
Ayah 24:1620 اس آیت میں ایک بڑا قیمتی اخلاقی ضابطہ بیان کیا گیا ہے کہ ہر ایک شخص کو دوسرے کے متعلق حسن ظن ہی رکھنا چاہئے۔ تاکہ اس کے خلاف بدظنی کی کوئی یقینی وجہ امین کے علم میں نہ آجائے۔ یہ اصول قطعاً غلط ہے کہ ہر ایک کو شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھا جائے تاآنکہ اس کی امانت و دیانت کا کوئی یقینی ثبوت ہاتھ نہ آجائے۔ اور یہاں تو معاملہ اور بھی زیادہ سخت تھا۔ رسول اللہ ﷺ کی زوجہ پر محض بدظنی کی بنا پر بہتان لگانا پھر اسے ہوا دینا کوئی معمولی بات نہ تھی۔ بلکہ اتنا سنگین جرم تھا کہ اس کی بنا پر تم پر عذاب نازل ہوسکتا تھا۔ یہ اللہ کی رحمت اور مہربانی ہی تھی کہ اس نے تمہیں ایسے عذابن سے محفوظ رکھا۔
Ayahs 24:17–1821 یعنی آئندہ منافقوں کی ایسی معاندانہ چالوں سے ہشیار اور چوکس رہنا چاہئے۔ نیز پیغمبر اسلام اور آپ کے گھر والوں کی عظمت شان کو بھی ملحوظ رکھنا چاہئے۔
Ayahs 24:19–2022 فاحشہ سے مراد ہر وہ کام جو انسان کی شہوانی خواہش میں تحریک پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہو۔ فحاشی کی اشاعت کی بہت سی صورتیں ہیں۔ پہلی اور سب سے اہم صورت وہی ہے جس کا اس صورت میں ذکر ہے۔ یعنی یہ کہ اگر کوئی شخص کسی پاک دامن عورت کو الزام لگا دے تو دوسرے لوگ بلاتحقیق اس بات کو آگے دوسرے سے بیان کرنا شروع کردیں۔ دوسری صورت یہ ہے زنا (جسے قرآن نے فاحشہ مبینہ کہا ہے) کے علاوہ شہوت رانی کی دوسری صورتیں اختیار کی جائیں۔ مثلاً مردوں کی مردوں سے خواہش پوری کرنا یا لواطت جس کی وجہ سے قوم لوط پر پتھروں کا عذاب نازل ہوا تھا اور ہماری شریعت میں لوطی کی سزا قتل ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ مرد حیوانات سے یہ غرض پوری کریں۔ اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر تم دیکھو کہ کوئی شخص حیوان پر جا پڑا ہے تو اس کو بھی اور اس حیوان کو بھی مار ڈالو (ترمذی۔ ابو اب الحدود۔ باب من وقع علی البھیمہ)
چوتھی صورت یہ ہے کہ عورتیں عورتوں سے ہمبستری کریں۔ شریعت نے عورتوں کے لئے بھی ستر کے حدود مقرر کردیئے ہیں۔ یعنی کوئی عورت کسی عورت کے سامنے بی ناف سے لے کر گھنٹوں تک کا حصہ کسی صورت میں نہیں کھول سکتی اور ہمارے ہاں جو یہ رواج ہے کہ عورتیں ایک دوسرے کے سامنے ننگے بدن ایکسا قد نپا لیتی ہیں یہ باکل خلاف شرع ہے اور عورتوں کا ننگے بدن ایک دوسرے سے چمٹنا اور بھی بری بات ہے۔ اس بات سے رسول اللہ ﷺ نے سختی سے منع کیا اور فرمایا کوئی عورت کسی دوسری عورت کے ساتھ نہ چمٹے (بخاری۔ کتاب النکاح۔ باب لاتبا شرا المراۃ المراۃ
اس حدیث کے الفاظ سے پپٹی لگانا بھی مراد لیا جاسکتا ہے (یعنی عورت کا عورت کے ساتھ لگ کر جنسی خواہش پوری کرنا) کیونکہ عربی زبان میں مجامعت کے لئے مباشرت کا لفظ بھی عام استعمال ہوتا ہے۔
پانچویں صورت یہ ہے کہ عورتیں بعض حیوانات سے اپنی جنسی خواہش پوری کریں جیسا کہ بنگلوں میں رہنے والی بعض مہذب خواتین اپنے پالتو کتوں سے بدفعلی کرواتی ہیں اس کا حکم بھی تیسری صورت پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔
چھٹی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے دوستوں سے اپنی بیوی سے ہمبستری کی باتیں دلچسپی لے لے کر بیان کرے یا کوئی عورت اپنی سہیلیوں سے ایسے ہی تذکرے کرے۔ یا کوئی عورت ننگے بدن دوسری ننگی عورت سے چمٹے پھر اس بات کا تذکرہ اپنے خاوند سے کرے اور اس عورت کے مقامات ستر سے اسے آگہ کرے تاکہ اس کے شہوانی جذبات بیدارہوں اور اس کا خاوند اس کی طرف مائل ہو۔ ایسی تمام باتوں سے بھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔ (بخاری۔ کتاب النکاح۔ باب لاتباشر المراۃ المراۃ)
پھر آج کل فحاشی کی اشاعت کی اور بھی بہت سی صورتیں ایجاد ہوچکی ہیں۔ مثلاً ٹھیٹر، سینماگھر، کلب ہاؤس، اور ہوٹلوں کے پرائیوٹ کمرے۔ ریڈیو اور ٹیوی پر شہوت انگیز پروگرام اور زہد شکن گانے۔ فحاشی پھیلانے والا لٹریچر، ناول افسانے اور ڈرانے وعیرہ اور جنسی ادب۔ اخبارات اور اشتہارات وغیرہ میں عورتوں کی عریاں تصاویر۔ ناچ گانے کی محفلیں۔ غرض فحاشی کی اشاعت کا دائرہ آج کل بہت وسیع ہوچکا ہے اور اس موجودہ دور میں فحاشی کے اس سیلاب کی ذمہ دار یا تو خود حکومت ہے یا پھر سرمایہ دار لوگ جو سینما، ٹھیٹر اور کلب گھر وغیرہ بناتے ہیں یا اپنا میک اپ کا سامان بیچنے کی خاطر انہوں نے عورتوں کی عریاں تصاویر شائع کرنے کا محبوب مشغلہ اپنا رکھا ہے یا بعض اداروں اور مکانوں میں عورتوں کو سیل میں کے طور پر ملازم رکھا جاتا ہے تاکہ مردوں کے لئے وہ باعث کشش ہوں اور ان کے کاروبار کو فروغ حاصل ہو۔ ان سب باتوں کے لئے وہی وعید ہے جو اس آیت میں مذکور ہے۔ اور اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ فحاشی کی ان تمام اقسام کو قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دے۔ تاکہ کم ازکم دنیا کے عذاب سے تو لوگ بچ سکیں۔ ورنہ انھیں دنیا میں عذاب چکھنا ہوگا اور آخرت کا عذاب تو بہرحال یقینی ہے۔
23 یعنی یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ ان فحاشی کے کاموں کا دائرہ اثر کتنا وسیع اور ان کی زد کہاں کہاں تک پہنچتی ہے۔ کس طرح چند لوگوں کی فحاشی سے یا فحاشی کی افواہیں پھیلانے سے پوری قوم کا اخلاق تباہ و برباد ہوتا ہے بدکار لوگوں کو بدکاری کے نئے نئے مراکز کیسے مہیا ہوتے ہیں۔ نیز نئی نسل کے ذہنوں میں جب ابتداًء فحاشی بھر دی جائے تو پوری قوم کس طرح اللہ اور روز آخرت سے غافل ہو کر اللہ کی نافرمان بن جاتی ہے۔ یہ باتیں تم نہیں جان سکتے۔
Ayah 24:2124 یعنی شیطان کا تو کام ہی یہ ہے کہ تمہیں برائیوں اور بےحیائیوں کے کاموں میں مبتلا کرکے تمہارا ایمان تباہ اور تمہیں گمراہ کر دے۔ شیطان کا انسان پر سب سے پہلا وار تو یہ ہوتا ہے کہ وہ اسے شرک کی نئی راہیں سجھاتا اور انھیں بڑے خوبصورت انداز میں پیش کرتا ہے۔ جس سے کم ہی لوگ بچتے ہیں۔ اس طرح توحید سے گمراہ کرکے شرک میں مبتلا کردیتا ہے اور اس کا دوسرا وار یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو بےحیائی کے کاموں میں مبتلا کرے اور یہ کام بھی انھیں نہایت خوبصورت انداز میں پیش کرے۔ جنت میں شیطان نے یہی کارنامہ سرانجام دیا تھا۔ پہلے حضرت آدم و حوا کو خوبصورت وعدے اور سبز باغ دکھلا کر اللہ کی نافرمانی پر آمادہ کیا۔ جس کے نتیجہ میں ان دونوں کا لباس اتروا دیا تھا۔ آج بھی شیطان اور ان کے چیلے اسی کام میں لگے ہوئے ہیں جو کہتے ہیں کہ گھر کی چاردیواری عورت کے لئے قید خانہ اور اس کی آزادی پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے یا پردہ ایک دقیانوسی چیز ہے۔ کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک عورت گھر کی چاردیواری سے باہر نکل کر اور بےحجاب ہو کر مرد کے شانہ بشانہ کام نہ کرے یا عورت کے گھر میں بند رہنے سے ملکی معیشت پر ناگوار اثر پڑتا ہے۔ ایسی سب باتیں بےحیائی کی باتیں ہیں جو خوبصورت کرکے پیش کی جاتی ہیں۔ ان کا اصل مقصد عورت و مرد کا بےحجابانہ اور آزادانہ اختلاط ہے اور بدکاری کی راہیں بڑی آسانی سے کھلنے لگتی ہیں۔ نیز جن فحاشی کے کاموں کا اوپر ذکر ہوا ہے ان میں سے اکثر کام ایسے ہیں جو تہذیب کا جزو لاینفک سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے کاموں میں ہی الجھا کر شیطان انسانوں کو مزید بڑے بڑے فتنوں میں مبتلا کردیتا ہے اور یہی اس کا اصل مقصد ہوتا ہے۔
25 یعنی یہ اللہ کی خاص رحمت تھی کہ اس نے تمہیں اس فتنہ کی رو میں بہ جانے سے بچا لیا۔ ورنہ شیطان کا یہ حملہ اتنا زور دار تھا کہ اگر اللہ کا فضل تمہارے شامل حال نہ ہوتا تو شاید تم میں سے کوئی بھی اس رو میں بہ جانے سے بچ نہ سکتا۔
26 یعنی پاک سیرت بنانے کے لئے یا بنائے رکھنے کے لئے بھی اللہ کا ایک ضابطہ ہے۔ جو یہ ہے کہ جو شخص خود پاک سیرت رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسے ہی اللہ پاکیزہ رہنے کی توفیق بھی دیتا ہے۔ اور وہ خوب جانتا ہے کہ کون شخص اس پاکیزگی کا اہل ہے اور کون نہیں ؟
Ayah 24:2227 حضرت عائشہ ؓ کے مفصل بیان والی حدیث میں یہ مذکور ہے کہ مسطح بن اثاثہ ان سادہ لوح مسلمانوں میں سے تھے جو اس فتنہ کی رو میں بہہ گئے تھے۔ یہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے قریبی رشتہ دار تھے اور محتاج تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ انھیں گزر اوقات کے لئے کچھ ماہوار وظیفہ بھی دیا کرتے تھے۔ جب یہ بھی تہمت لگانے والوں میں شامل ہوگئے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو ان سے رنج پہنچ جانا ایک فطری امر تھا۔ جس نے بھلائی کا بدلہ برائی سے دیا تھا۔ چناچہ آپ نے قسم کھالی کہ آئندہ ایسے احسان فراموش کی کبھی مدد نہ کریں گے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جس سے ایسے لوگوں سے بھی عفو و درگزر کی تلقین کی گئی۔ چناچہ آپ نے فوراً اس حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردیا اور فرمایا : پروردگار ! ہم ضرور چاہتے ہیں کہ تو ہمیں معاف کر دے چناچہ آپ نے دوبارہ مدد کا سلسلہ جاری رکھنے کا عہد کیا بلکہ پہلے سے زیادہ مدد کرنے لگے۔
27۔ ا گویا اس آیت میں مسلمانوں کو ایک بڑا بلند اصول مدنظر رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے یعنی کسی کو معاف کرتے وقت انھیں یہ نہ سوچنا چاہئے کہ کس کا میرے ساتھ برتاؤ کیسا رہا ہے۔ بلکہ اس لئے معاف کرنا چاہئے کہ اللہ انھیں معاف فرمائے گا۔ اور یہ ایسی ضرورت ہے جس کی ہر شخص کو ہر حال میں ضرورت ہوتی ہے۔
دوری قابل ذکر بات یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے امداد تو جاری کردی۔ مگر کیا قسم کا کفارہ بھی ادا کیا تھا ؟ اس بات کا یہاں ذکر تک نہیں آیا۔ لہذا بعض علماء کا خیال ہے کہ اچھے کام کو اختیار کرلینا ہی قسم کا کفارہ ہے۔ جبکہ دوسرے گروہ کا خیال ہے اور سورة مائدہ میں قسموں کے کفارہ کا حکم نازل ہونے کے بعد قسم کا کفارہ ادا کرنا بھی ضروری ہے اور دلیل مزید کے طور پر درج ذیل حدیث پیش کرتے ہیں :
حضرت ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں کہ : آپ نے فرمایا : میں تو اللہ کی قسم ! جو اللہ چاہے جب کسی بات پر قسم کھا لیتا ہوں۔ پھر اس کے خلاف کرنا بہتر سمجھتا ہوں تو اپنی قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں اور جو کام بہتر معلوم ہوتا ہے وہ کرلیتا ہوں (بخاری۔ کتاب الایمان والنذور۔ باب الاستشناء فی الایمان) لہذا بہتر صورت یہی ہے کہ ایسی قسم کا کفار بھی ادا کردیا جائے۔
28 یعنی جنہیں ایسی گندی باتوں کا خیال بھی نہ ہو۔ ان کا ذہن ہی ایسی باتوں کی طرف منتقل نہ ہوتا ہو۔ کہ بدچلنی کیا چیز ہے اور یہ کیسے کی جاتی ہے یعنی وہ سیدھی سادی اور پاک فطرت عورت جو بدچلن عورتوں کے چلتروں اور ان کی باتوں تک سے ناواقف ہوتی ہیں اور صحیحین کے مطابق ایسی بھولی بھالی مومن عورتوں پر تہمت لگانا ان سات تباہ کن گناہوں میں سے ہے جو سابقہ کئے کرائے پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ اور یہاں تو معاملہ اور بھی سخت ہے کیونکہ جس پر بہتان باندھا گیا ہے وہ کوئی عام مومنہ نہیں۔ بلکہ اللہ کے رسول کی بیوی اور مومنوں کی ماں ہے۔ لہذا ایسے تہمت لگانے والے منافقین پر دنیا میں بھی لعنت برستی رہے گی اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں ان منافقوں پر جو لعنت برستی رہی اور ہر دم ذلیل و خوار ہوتے رہے وہ سب نے دیکھ لیا اور آخرت میں یہ لوگ جہنم کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔
Ayahs 24:23–2429 اس دنیا میں انسان جو کچھ زبان سے بولتا یا کلام کرتا ہے۔ وہ دل کے ارادہ کے مطابق بولتا ہے۔ دل میں جھوٹ بولنے یا ہیرا پھیری کرنے کی نیت ہو تو انسان کی زبان ہی الفاظ ادا کرے گی جو انسان کے دل میں ہوتا ہے۔ گویا زبان دل کے ارادہ کے تابع ہوتی ہے اور دوسرے اعضا وجوارح بھی وہی کام کرتے ہیں۔ جیسے انسان کا دل چاہتا ہو۔ مگر آخرت میں یہ اعضاء انسان کے ارادہ کے تابع نہیں ہوں گے بلکہ اس حقیقت کے تابع ہوں گے کہ انسان اس دنیا میں اپنے اعضاء وجوارح سے جو کام لے رہا ہے۔ تو ساتھ کے ساتھ ان اعمال و افعال و اقوال کے اثرات ان اعضا وجوارح پر بھی مترتب ہوتے جا رہے ہیں۔ آج انسان اس حقیقت کو پوری طرح سمجھ نہیں سکتا۔ تاہم بعض موجودہ سائنسی ایجادات نے اس مسئلہ کو قرب العہم ضرر بنادیا ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان اعضا وجوارح کو زبان دے دے گا۔ اور وہ وہی بات کہیں گے جو اثرات ان پر مترتب ہوئے تھے اور جو کچھ ان سے کام لیا گیا تھا۔ لہذا اگر کوئی شخص قیامت کے دن اپنے کسی جرم کا اعتراف کرنے کی بجائے غلط سلط باتیں بنانے کی کوشش کرے گا تو اللہ تعالیٰ فوراً اس کی زبان اس کے ہاتھوں اور پاؤں کو قورت گویائی دے کر صحیح باتیں بتلانے کا حکم دے گا۔ تو سب اعضاء وجوارح کی گواہی ایسے مجرموں کے خلاف قائم ہوجائے گی اور انھیں جو سزا ملے گی وہ علی۔۔ الشہادات ملے گی۔
Ayah 24:2530 دین کا لفظ چار معنوں میں استعمال ہوتا ہے (1) اللہ کی خالصتؤہ اور مکمل حاکمیت (2) بندے کی خالصتؤہ اور مکمل عبودیت (3) قانون سزا و جزاء اور (4) قانون جزا و سزا کا عملاً نفاذ۔ اس آیت میں دین تیسرے اور چوتھے معنوں میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ اہل عرب کہتے ہیں کما تدین تدن (یعنی جیسا کرو گے ویسا بھرو گے) یعنی اس دن اللہ تعالیٰ جو ان مجرموں کو بدلہ دے گا۔ وہ ٹھیک ٹھیک جزا و سزا کے اس قانون کے مطابق ہوگا۔ جس کا ذکر قرآن میں بیشمار مقامات مذکور ہے۔ اور ہر شخص کو واضح طور پر یہ معلوم ہوجائے گا کہ اسے جو سزا دی جارہی ہے فی الواقعہ وہ اللہ کے قانون عدل کے مطابق اسی سزا کا مستحق تھا۔
Ayah 24:2631 اس آیت کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جو ترجمہ سے واضح ہے اور ربط مغمون کے لحاظ سے مناسب بھی یہی ہے۔ یعنی پاکباز مردوں اور عورتوں کی تہذیب، ماحول اور عادات ان لوگوں سے بالکل الگ ہوتی ہیں۔ جو گندے اور فحاشی کے کاموں میں مبتلا ہوں۔ ان دونوں کا آپس میں مل بیٹھنا فطرتاً بھی محال ہوتا ہے۔ نہ ان کی تہذیب آپس میں مشترک ہوسکتی ہے، نہ بول چال اور نہ عادات۔ ایک پاکباز انسان کسی گندے ماحول میں چلا جائے تو اسے وہاں ایک دن گزارنا بھی مشکل ہوجاتا ہے اسی طرح ایک فاحش مرد اور ایک فاحشہ عورت کے لئے کسی پاکیزہ ماحول میں ایک دن گزارنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ لہذا ایسے دونوں طبقات کو آپس میں ملانے یا آپس میں رشتے استوار کرنے کی ہرگز کوشش نہ کرنا چاہئے۔ اور اگر کوئی ایسی کوشش کرے گا تو ناکافی اور خرابی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ اور اس کا دوسرے مطلب یہ ہے کہ حلیبات کو اپنے وسیع مفہوم میں لیا جائے۔ اس لحاظ سے اس کے معنی میں پاکیزہ عورتیں ہی نہیں پاکیزہ باتیں بھی شامل ہیں۔ یعنی پاکباز لوگوں کی زبانوں سے پاکیزہ باتیں ہی نکلتی ہیں اور گندے خیال رکھنے والے لوگوں کو گندی باتیں سوجھتی ہیں۔ جس طرح یہ ناممکن ہے کہ پاکیزہ خیال لوگوں کو گندی باتیں سوجھیں اسی طرح گندی ذہنیت رکھنے والوں کو پاکیزہ باتیں کم ہی سوجھتی ہیں۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے یہ فحاشی پھیلائی اور پروپیگنڈہ کیا۔ حقیقتاً گندی ذہنیت کے لوگ تھے۔ پاکباز لوگوں کا یہ شیوہ نہیں کہ وہ ایسی باتوں میں حصہ لیں۔ وہ ایسی باتوں سے بچنے میں ہی اپنی عافیت سمجھتے ہیں۔
Ayah 24:2732 اس سے پہلے سورة احزاب میں بھی گھروں میں اذن لے کر داخل ہونے کا حکم آچکا تھا۔ لیکن اس حکم کا دائرہ صرف رسول اللہ ﷺ تک محدود تھا۔ مگر اس حکم کے ذریعہ اسے تمام گھروں تک پھیلا دیا گیا۔ اس سے پہلے اس سورة میں ایسے احکام بیان ہوئے ہیں۔ ان کا تعلق ایسے حالات سے تھا جب فحاشی کی بنا پر کوئی فتنہ رونما ہوچکا ہو۔ اب ایسے احکام دیئے جارہے ہیں جن پر عمل کرنے سے کسی فتنہ کے سر اٹھانے کے امکانات کم سے کم رہ جاتے ہیں۔ گویا یہ احکام فحاشی کے پھیلاؤ کے سلسلہ میں سد ذرائع کا حکم رکھتے ہیں۔ عرب معاشرہ میں یہ عام دستور تھا۔ کہ لوگ ایک دوسرے کے گھروں میں بلاجھجک داخل ہوجاتے تھے۔ اس آیت کے ذریعہ ایسی آزادانہ آمدورفت پر پابندی لگا دی گئی۔
33 اس آیت میں تستانسوا کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا مادہ انس ہے جس کا عربی میں بھی وہی مفہوم ہے جو ہمارے ہاں سمجھا جاتا ہے یعنی کسی سے مانوس ہونا یا اسے مانوس کرنا۔ اور اس کا مطلب کوئی بھی ایسا کام کرنا ہے جس سے صاحب خانہ کو علم ہوجائے کہ دروازے پر فلاں شخص کھڑا اندر آنے کی اجازت چاہ رہا ہے۔ بعض دفعہ گھنگارنے سے ہی یہ مطلب حاصل ہوجاتا ہے۔ اور بعض دفعہ بولنے یا السلام علیکم کہنے سے۔ اس طرح صاحب خانہ کو اس کی کھانسی یا آواز سے ہی یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ آواز فلاں شخص کی ہے۔ یعض دفعہ کوئی شخص برقی گھنٹی ہی اس انداز سے دباتا ہے جو اس میں اور صاحب خانہ میں متعارف ہوتی ہے۔ اور گھنٹی بجانے سے ہی صاحب خانہ کو علم ہوجاتا ہے۔ کہ فلاں شخص آکر آواز دے رہا ہے۔ ایسی تمام صورتیں تستانسا کے مفہوم میں داخل ہیں۔ اسی لئے اس کے قریبی مفہوم رضا حاصل کرنا سے اس کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ اب اگر یہ استنا میں السلام علیکم کہنے سے ہی کیا گیا ہے تو ٹھیک ہے۔ اور اگر کسی اور طریقہ سے کیا گیا ہے تو گھر میں داخل ہوتے وقت السلام علیکم کہنا بھی ضروری ہے۔
یہاں ایک اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اپنے گھروں سے کیا مراد ہے ؟ اور اس کے مفہوم میں کون کون سے گھر شامل ہیں ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اپنے گھر سے صرف وہ گھر ہے جہاں اس کی بیوی رہتی ہو۔ یہی وہ گھر ہے جس میں شوہر ہر وقت بلاجھجک اور بلا اجازت داخل ہوسکتا ہے۔ اپنی ماں اور بیٹیوں تک کے گھروں میں داخل ہونے سے پہلے استیناس ضروری ہے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے :
علاء بن سیار کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا۔ کیا میں گھر جاتے وقت اپنی ماں سے بھی اذن مانگوں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں وہ بولا : میں تو اس کے ساتھ گھر میں رہتا ہوں آپ نے فرمایا : پھر بھی اجازت لے کر داخل ہو وہ کہنے لگا : میں ہی تو اس کی خدمت کرتا ہوں آپ نے فرمایا : پھر بھی اجازت لے کر داخل ہو۔ کیا تو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ تو اپنی ماں کو ننگا دیکھے ؟ وہ کہنے لگا : نہیں آپ نے فرفایا : تو پھر اذن لے کر جاؤ (موطا امام مالک۔ کتاب الجامع۔ باب الاستیذان)
اور اپنے گھر میں بلا اجازت داخل ہونے کی اجازت ضرور ہے۔ مگر بہتر یہی ہے کہ اپنے گھر میں یکایک اور اچانک داخل نہ ہو۔
34 یعنی یہ بات صاحب خانہ اور ملاقاتی دونوں کے حق میں بہتر ہے کہ ملاقاتی صاحب خانہ سے پہلے اذن حاصل کرے۔ پھر گھر میں داخل ہو۔ اس لئے کہ اگر ملاقاتی گھر میں بلا اذن داخل ہو تو ممکن ہے اس وقت اہل خانہ اپنی کسی پرائیوٹ گفتگو میں مصروف ہوں، یا عورت بےحجاب پھر رہی ہوں۔ یا صاحب خانہ کسی اور مجبوری یا معذوری کی وجہ سے اس وقت ملاقات کرنا ہی نہ چاہتا ہو اور اس طرح ملاقاتی کو خواہ مخواہ خفت یا ندامت حاصل ہو۔ لہذا مہذبانہ طریقہ یہی ہے کہ کسی کے گھر میں داخل ہونے سے پہلے اجازت حاصل کی جائے۔