17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتیسیر القرآن

Ayah 17:106

وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِیْلًا Open ayah 17:106 in the Quran reader

اور ہم نے قرآن کو موقع بہ موقع الگ الگ کرکے نازل 125 کیا ہے تاکہ آپ اسے وقفہ وقفہ سے لوگوں کو پڑھ کر سنائیں اور اسے بتدریج تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے۔

125 قرآن کو بتدریج نازل کرنے کے فوائد :۔ مشرکین مکہ کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اگر قرآن اللہ کا کلام ہوتا تو یکبارگی نازل ہوجاتا۔ ہو نہ ہو یہ نبی ساتھ ساتھ اسے تصنیف کرتا جاتا ہے اور جیسے حالات ہوں اس کے مطابق لوگوں کو سناتا رہتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ اس قرآن کو موقع بہ موقع اور بتدریج ہم ہی نے اتارا ہے اور اس طرح وقفہ وقفہ پر اتارنے میں کئی مصلحتیں اور فوائد ہیں۔ مثلاً یہ کہ لوگوں کو اس کے حفظ کرنے میں آسانی رہے نیز ہر ایک کو معلوم ہوجائے کہ فلاں آیت کس موقع پر نازل ہوئی تھی اور اس کا صحیح مفہوم کیا ہے نیز یہ کہ لوگوں کو اس کے اوامر پر عمل کرنے اور نواہی سے اجتناب کرنے میں آسانی رہے اور اگر یکدم ہی ان پر سب اوامرو نواہی نازل کردیتے تو سب انکار کردیتے اور کوئی ان کو اپنے آپ پر نافذ کرنے کی ہمت نہ پاتا۔ نیز یہ کہ اس طرح مختلف اوقات پر آیات نازل کرنے سے مومنوں کا ایمان زیادہ ہوتا رہتا ہے اور پختہ تر بنتا جاتا ہے ان میں مصائب کو برداشت کرنے کی قوت اور استقلال پیدا ہوتا ہے اور یہ سب فوائد اسی صورت میں حاصل ہوسکتے تھے کہ قرآن وقفہ وقفہ سے نازل ہوتا اور اوامرو نواہی میں تدریج کو ملحوظ رکھا جاتا۔
Ayahs 17:107–108

قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ Open ayah 17:107 in the Quran reader

آپ ان سے کہئے : تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ، اس 126 سے پہلے جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے جب انھیں یہ قرآن پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ تھوڑیوں کے بل سجدہ میں گرپڑتے ہیں۔

وَّ یَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا Open ayah 17:108 in the Quran reader

اور پکار اٹھتے ہیں کہ پاک ہے ہمارا پروردگار۔ یقینا ہمارے پروردگار کا وعدہ تو پورا ہو کے رہنا ہی تھا۔

126 منصف مزاج اہل کتاب کا قرآن اور نبی کی تصدیق کرنا :۔ اے قریش مکہ ! تم قرآن کو منزل من اللہ تسلیم کرو یا نہ کرو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ سابقہ امتوں میں سے بھی جو لوگ اہل علم اور منصف مزاج ہیں وہ قرآن کے انداز بیان سے ہی یہ سمجھ جاتے ہیں کہ یہ واقعی کلام الٰہی ہے کیونکہ اس میں سابقہ آسمانی کتابوں کے طرز بیان سے بہت حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔ لہذا اس کی آیات سنتے ہیں تو ان پر رقت طاری ہوجاتی ہے اور وہ سجدہ ریز ہوجاتے ہیں اور انھیں یہ یقین ہوجاتا ہے اور پکار اٹھتے ہیں کہ یہ تو وہی نبی ہے جس کے متعلق تورات و انجیل میں بشارتیں مذکور ہیں اور یہ نبی اللہ کا وہی وعدہ ہے جو اب پورا ہو کے رہا۔
Ayah 17:109

وَ یَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ یَبْكُوْنَ وَ یَزِیْدُهُمْ خُشُوْعًا۩ Open ayah 17:109 in the Quran reader

اور وہ ٹھوڑیوں کے بل روتے ہوئے گرپڑتے 127 ہیں اور یہ قرآن ان کے خشوع کو اور بڑھا دیتا ہے

127 اہل کتاب میں بھی کچھ منصف مزاج اور اہل علم موجود تھے جن میں بعض ایمان بھی لے آئے قرآن نے ان کا ذکر خیر کئی مقامات پر کیا ہے مثلاً سورة آل عمران کی آیت نمبر 113 تا 115 میں اور 199 میں نیز سورة مائدہ کی آیت نمبر 82 تا 85 میں۔ علاوہ ازیں مشرکین میں بھی معدودے چند ایسے افراد بعثت نبوی کے دور میں تھے جو شرک سے سخت بیزار تھے۔ علاوہ ازیں شراب اور دوسری معاشرتی برائیوں سے بھی متنفر رہتے تھے اور انبیاء سابقین کی خبروں کی وجہ سے نبی آخرالزمان کے منتظر تھے۔ مثلاً زید بن عمرو بن نفیل، ورقہ بن نوفل، سیدنا ابوبکر صدیق ؓ ، سلمان فارسی اور ابو ذرغفاری وغیرہ ایسے ہی لوگوں میں سے تھے۔ ایسے منصف مزاج لوگوں کی خواہ وہ دور جاہلیت کے مشرکانہ معاشرہ سے تعلق رکھتے ہوں یا اہل کتاب سے۔ جب ان کے سامنے قرآن کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو اس کی اثر پذیری کی وجہ سے روتے روتے سجدہ میں گرپڑتے ہیں۔ قرآن کی ایک ایک آیت ان کے ایمان میں اضافہ، پختگی اور اللہ کے حضور خشوع کا سبب بن جاتی ہے ایسے ہی لوگوں کی مطابقت میں علماء نے اس آیت پر سجدہ واجب قرار دیا ہے۔
Ayah 17:110

قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ۚ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَیْنَ ذٰلِكَ سَبِیْلًا Open ayah 17:110 in the Quran reader

آپ ان سے کہئے کہ : اللہ (کہہ کر) پکارو یا رحمن 128 (کہہ کر) جو نام بھی تم پکارو گے اس کے سب نام ہی اچھے ہیں۔ اور آپ اپنی نماز نہ زیادہ بلند آواز 129 سے پڑھئے نہ بالکل پست آواز سے بلکہ ان کے درمیان اوسط درجہ کا لہجہ اختیار کیجئے۔

128 رحمان اللہ کا ذاتی نام ہے قریش کی رحمن سے چڑ اللہ کے دوسرے صفاتی نام :۔ اللہ کے بعد رحمان بھی اللہ تعالیٰ کا دوسرے نمبر پر ذاتی نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی مخلوق کا جس طرح اللہ نام یا اس کی صفت نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح رحمان بھی کسی مخلوق کا نام یا صفت نہیں ہوتی لیکن اللہ کا یہ نام عرب میں رائج نہ تھا اور اس نام سے انھیں چڑ بھی تھی اور وہ اللہ پر اس نام کا اطلاق کرنے سے بدکتے تھے اور جب آپ کی زبان سے یہ نام سنتے تو کہتے کہ ہمیں تو اللہ کا شریک بنانے سے منع کرتے ہو۔ جبکہ تم نے خود بھی اللہ کے ساتھ رحمان کو بھی الٰہ بنا رکھا ہے۔ ان کے اسی اعتراض کا اس آیت میں جواب دیا گیا ہے کہ اللہ اور رحمن دوالٰہ نہیں بلکہ ایک ہی ذات کے دو نام ہیں۔ تم جونسا چاہو پکار سکتے ہو .۔ بلکہ اللہ کے تو اور بھی بہت سے اچھے صفاتی نام ہیں۔ تم ان سے اللہ کو پکار سکتے ہو اور صحیح احادیث کی رو سے یہ نام ننانوے ہیں۔ اور جو ننانوے نام حدیث میں مذکور ہیں۔ استقصاء سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے علاوہ اور بھی کئی نام ہیں جو کتاب و سنت میں مذکور ہیں۔ (نیز دیکھئے سورة رعد آیت نمبر 30 کا حاشیہ) 129 قرآن کی تلاوت آہستہ جہری آواز سے :۔ اس جملہ کی تفسیر کے لئے درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے : سیدنا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ آیت اس وقت اتری جب آپ مکہ میں کافروں سے چھپے رہتے جب آپ صحابہ کو نماز پڑھاتے تو بلند آواز سے قرآن پڑھتے۔ جب مشرک قرآن سنتے تو قرآن، صاحب قرآن اور قرآن لانے والے (جبرئیل) سب کو برا بھلا کہتے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ نماز میں قرآن بلند آواز سے نہ پڑھئے کہ مشرک قرآن کو برا بھلا کہیں اور نہ اتنی آہستہ پڑھئے کہ آپ کے صحابہ بھی نہ سن سکیں بلکہ درمیانی راہ اختیار کیجئے۔ (بخاری، کتاب التفسیر، ترمذی، ابو اب التفسیر) اور سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ یہ آیت دعا کے باب میں اتری۔ (حوالہ ایضاً )
Ayah 17:111

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ وَلِیٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِیْرًا۠ Open ayah 17:111 in the Quran reader

اور کہہ دیجئے کہ ہر طرح کی تعریف اس اللہ کو سزاوار ہے جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا، نہ بادشاہی میں اس کا کوئی شریک ہے اور نہ ہی ناتوانی کی وجہ 130 سے اس کا کوئی مددگار ہے۔ اور اسی کی خوب خوب بڑائی بیان کیجئے۔

130 کیا اللہ کو کسی اور مددگار کی ضرورت ہے ؟ اس آیت میں مشرکین کے اس بنیادی عقیدے کی تردید کی گئی ہے جس کی بنا پر کئی قسم کا شرک رائج ہوگیا ہے۔ اور پھر عقیدہ یہ ہے کہ جس طرح ایک بادشاہ کو اپنا انتظام سلطنت چلانے کے لئے امیروں وزیروں اور کئی طرح کے مددگاران کی احتیاج ہوتی ہے۔ بالکل اسی طرح اللہ کو اتنی بڑی سلطنت کا کاروبار چلانے کے لئے کارکنوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اور ہماری یہ دیویاں اور دیوتا غوث قطب ابدال وغیرہ سب اس انتظام کے مختلف شعبے سنبھالے ہوئے ہیں۔ یہ ہے وہ بنیادی گمراہی جس نے بیشمار قسموں کے شرک کو جنم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس بےہودہ عقیدہ کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ نہ اسے اس وقت کسی شریک کی احتیاج ہے اور نہ آئندہ ہوگی کہ وہ کسی کو بیٹا بنالے جو ناتوانی میں اس کا معاون ثابت ہو۔ اسے تخلیق کائنات کے وقت بھی کسی کو مددگار بنانے کی ضرورت پیش نہیں آئی نہ ہی اس کائنات کا انتظام چلانے کے لئے ضرورت ہے اور نہ ہی ایسی ضرورت آئندہ کبھی پیش آسکتی ہے۔ وہ ہر ایک کی فریاد پکار براہ راست سنتا ہے ان کا جواب دیتا اور شرف قبولیت بخشتا ہے۔ اسے درمیانی واسطوں کی قطعا ضرورت نہیں ہے۔ اس کے پاس ہر چیز کے لاتعداد اور غیر محدود خزانے ہیں۔ جن سے وہ ہر وقت اپنی مخلوق کو نوازتا ہے اور جو کچھ بھی اس سے مانگا جائے وہ عطا کرتا ہے۔ بشرطیکہ دعا کے آداب کو ملحوظ رکھا جائے۔ گویا اس آیت میں اہل کتاب مشرکین مکہ موجودہ دور کے مشرکوں سب کا رد موجود ہے اور جس معبود میں مندرجہ بالا صفات پائی جائیں وہ معبود حقیقی ہوسکتا ہے لہذا ہر طرح کی تعریف اسی ذات کو لائق ہے۔ آپ اس کی تعریف کیا کیجئے اور اسی کی بڑائی بیان کیا کیجئے۔ اس سورة بنی اسرائیل کی ابتدا سبحان الذی سے ہوئی اور تسبیح سے مراد اللہ کی تمام عیوب اور نقائص یعنی صفات سلبیہ سے تنزیہہ بیان کرنا ہے۔ پھر اس سورة کا خاتمہ بھی اس بیان پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ اولاد شرکاء اور حمائتیوں کی کسی طرح کی بھی مدد کا محتاج نہیں۔ اور یہ فصاحت و بلاغت کے انتہائی کمال کی دلیل ہوتی ہے کہ مضمون کو جس عنوان سے شروع کیا جائے۔ درمیان میں اس کی جملہ تفصیلات بیان کرنے کے بعد اس کا خاتمہ بھی اسی بیان پر کیا جائے جس سے اس کی ابتدا کی گئی تھی۔