Ayah 17:3136 مفلسی کے ڈر سے قتل اولاد اور منصوبہ بندی :۔ مفلسی کے ڈر سے اولاد کو قتل کرنا دراصل اللہ تعالیٰ کی صفت رزاقیت پر عدم توکل یا براہ راست حملہ کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ تمہیں بھی تو ہم رزق دے ہی رہے ہیں اور جیسے تمہیں دے رہے ہیں ویسے تمہاری اولاد کو بھی ضرور دیں گے اور اگر تمہیں مفلسی کا اتنا ہی ڈر ہے تو پہلے تمہیں خود مرجانا چاہیے۔ اولاد کو کیوں مارتے ہو ؟ تاکہ تمہاری یہ فکر ہی ختم ہوجائے اور آخر میں یہ فرما دیا کہ تمہارا یہ کام بہت بڑا گناہ کا کام ہے۔
عرب میں تو قتل اولاد کا سلسلہ انفرادی طور پر ہوتا تھا مگر آج کل ایسے ہی کام اجتماعی طور پر اور حکومتوں کی طرف سے ہو رہے ہیں اور حکومت کے ان محکموں کے لیے بڑے اچھے اچھے نام تجویز کیے جاتے ہیں جیسے محکمہ خاندانی منصوبہ بندی یا محکمہ بہبود آبادی۔ اور اس کام کا جذبہ محرکہ وہی مفلسی کا ڈر ہے۔ نیز اس سلسلہ میں سورة انعام آیت 137 اور 151 کے حواشی بھی ملاحظہ فرما لیجئے۔
Ayah 17:3237 زنا کے راستے اور ان کے قریب جانے سے ممانعت :۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ زنا نہ کرو بلکہ یوں فرمایا کہ زنا کے قریب بھی نہ جاؤ یعنی وہ تمام راستے اور طور طریقے جو زنا کا سبب بن سکتے ہیں۔ ان سب سے اجتناب کرو۔ ایسے راستوں کا مفصل بیان تو سورة نور اور سورة احزاب میں آئے گا۔ مختصراً یہ کہ ہر وہ چیز جو انسان کی شہوت کی انگیخت کا سبب بن سکتی ہے۔ وہ زنا کا راستہ ہے مثلاً عورتوں سے آزادانہ اختلاط، عورتوں کا بےپردہ ہو کر بازاروں میں نکلنا، اجنبی مرد و عورت کی گفتگو بالخصوص اس صورت میں کہ وہ اکیلے ہوں۔ نظر بازی، عریاں تصویر، فلمیں، فحش لٹریچر، گندی گالیاں، ٹیوی اور ریڈیو پر فحش افسانے اور ڈرامے اور مردوں اور عورتوں کی بےحجابانہ گفتگو وغیرہ سب شہوت کو ابھارنے والی باتیں ہیں اور یہی زنا کے راستے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے زنا کو جو برا راستہ فرمایا تو اس کی قباحتیں درج ذیل ہیں :
1۔ زنا کی صورت میں پیدا ہونے والے بچے کا نسب مشکوک رہتا ہے۔
2۔ ایسے ولدالزنا بچے کے لیے میراث کے جھگڑے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔
3۔ زانیہ عورت اگر منکوحہ ہے تو بچے کے اخراجات بلاوجہ اس کے خاوند کے ذمہ پڑجاتے ہیں اسی طرح وہ میراث میں بھی بلاوجہ حصہ دار قرار پاتا ہے۔
4۔ غیر منکوحہ عورت جس کے پاس کئی مرد آتے ہوں ان مردوں میں باہمی رقابت اور دشمنی پیدا ہوجاتی ہے۔ حتیٰ کہ بسا اوقات نوبت قتل تک پہنچ جاتی ہے۔
5۔ نکاح کی صورت میں میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کے ہمدرد اور غمگسار ہوتے ہیں۔ پھر ان کی یہی باہمی محبت بچوں کی تربیت میں ممدو معاون ثابت ہوتی ہے جس سے خاندانی نظام تشکیل پاتا ہے اور یہی نظام کسی معاشرہ کی سب سے ابتدائی اور اہم اکائی ہے۔ زنا کی صورت میں یہ نظام برقرار رہنا تو درکنار اس کے انجر پنجر ہل جاتے ہیں جیسا کہ آج کل یورپین ممالک میں صورت حال پیدا ہوچکی ہے۔ انھیں چند در چند خرابیوں کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زنا کے قریب بھی نہ پھٹکو۔ اور زنا کی طرف لے جانے والے تمام راستوں پر پابندیاں لگا دیں۔
Ayah 17:3338 قتل بالحق اور بغیر الحق کی صورتیں :۔ قتل کے سلسلے میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ انفرادی طور پر کسی شخص کو کبھی بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اٹھ کر کسی کو قتل کر دے۔ الا یہ کہ کوئی ڈاکو وغیرہ اس پر حملہ آور ہو اور وہ اپنی مدافعت کرے جس میں ڈاکو مارا جائے۔ حتیٰ کہ انسان خود کشی بھی نہیں کرسکتا۔ کیونکہ اس کی اپنی جان کا بھی وہ خود مالک نہیں ہے کہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کرے بلکہ خود کشی بھی ایسا ہی جرم ہے جیسے کسی دوسرے شخص کو قتل کرنا۔ اسی طرح اپنی اولاد کو قتل کرنا بھی، خواہ اس کی وجہ کوئی بھی ہو، جرم عظیم ہے۔ قصاص لینا حکومت کے واسطہ ہی سے ہوتا ہے خواہ یہ قصاص جان کا ہو یا جوارح کا۔ بہر صورت یہ مقدمہ عدالت میں پیش کیا جائے گا اور قتل بالحق ہمیشہ بالواسطہ یا بلاواسطہ اسلامی حکومت سے متعلق ہوتا ہے اور اس کی پانچ صورتیں ہیں۔ (1) اسلام کی راہ میں مزاحمت کرنے والوں سے جہاد کی صورت میں ہوتا ہے، (2) اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والوں کا قتل، (3) قصاص کی صورت میں، (4) شادی شدہ مرد یا عورت اگر زنا کریں تو رجم کی صورت میں ان کو مار دیا جائے گا، (5) مرتد کا قتل، اور سب قسم کے قتل حکومت سے متعلق ہیں۔ انفرادی طور پر کوئی شخص دوسرے کو قتل کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
39 مقتول کے ورثاء کے اختیارات :۔ یہ اختیار بھی اسے ذاتی طور پر نہیں بلکہ حکومت کی وساطت سے ہوگا کہ چاہے تو قصاص لے لے، چاہے تو خون بہا قبول کرلے اور چاہے تو بالکل ہی معاف کر دے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مقدمہ قتل کا اصل مدعی مقتول کا ولی ہوتا ہے نہ کہ خود حکومت یا سرکار۔ ہمارے ہاں مروجہ قانون تعزیرات کے مطابق قتل کا مقدمہ قابل راضی نامہ یا مصالحت نہیں ہے جبکہ اسلامی نقطہ ئنظر سے اصل مدعی مقتول کا ولی ہوتا ہے اور اسے یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی وقت بھی مصالحت یا راضی نامہ کرسکے۔
40 قصاص میں زیادتی کی صورتیں :۔ زیادتی کی کئی شکلیں ممکن ہیں۔ جیسے اصل قاتل کے بجائے کسی دوسرے کو پھنسا دے یا اصل قاتل مل نہیں رہا تو اس کے کسی رشتہ دار سے قصاص کی کوشش کرے یا دیدہ دانستہ کسی دوسرے کو بھی قتل کا ذمہ دار قرار دے۔ یا اگر حکومت مجرم کو قصاص کے لیے اس کے حوالہ کردے تو قصاص میں بہت زیادہ اذیتیں دے یا اگر غصہ کم نہ ہو تو بعد میں مثلہ وغیرہ کرے۔ وغیرہ وغیرہ۔
41 یعنی حکومت اور افراد معاشرہ سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مقتول کے ولی کی حمایت کریں۔ نہ یہ کہ الٹا قاتل کی حمایت یا اس کی ہمدردی کرنے لگیں اور اس پر ترس کھانے لگیں اس طرح ظلم کا کبھی خاتمہ نہیں ہوسکتا۔
Ayah 17:3442 یتیم کے مال کی نگہداشت اور اس کے حقوق کے لیے سورة نساء آیت نمبر 1 تا 6 اور سورة انعام کی آیت نمبر 152 کے حواشی ملاحظہ کرلیے جائیں۔
43 ایفائے عہد کے سلسلہ میں سورة اعراف آیت نمبر 102 اور نحل آیت نمبر 91، 92 کے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔
Ayah 17:3544 ماپ تول پورا کرنے سے انجام بہتر ہوگا :۔ ناپ اور تول میں کمی بیشی کرنا یعنی خود زیادہ لینا اور دوسرے کو کم دینا، ڈنڈی مار جانا اور کاروباری بددیانتی کرنا اتنا بڑا جرم ہے جس کی وجہ سے شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب نازل ہوا تھا اور جو شخص ایسے کام کرتا ہے اس کے رزق سے برکت اٹھا لی جاتی ہے۔
45 ناپ اور تول پورا پورا دینے سے دنیا میں تو انجام اس لحاظ سے بہتر ہوتا ہے کہ ایسے شخص کی ساکھ قائم ہوجاتی ہے۔ اور اس کی تجارت کو فروغ حاصل ہوتا ہے اور اس کے رزق میں برکت ہوتی ہے۔ اور ایسے شخص کا اخروی انجام بہتر ہونے میں تو کوئی شک ہی نہیں۔
Ayah 17:366 4 ہر قول اور فعل کی تحقیق ضروری ہے بدظنی سے پرہیز :۔ شریعت کی ایک بہت بڑی اصل یہ ہے کہ ہر شخص سے حسن ظن رکھنا چاہیے تاآنکہ اس کی کوئی بددیانتی یا غلط حرکت کھل کر سامنے نہ آجائے۔ اسی مضمون کو ایک دوسرے مقام پر فرمایا : (اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّلَا تَجَسَّسُوْا وَلَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا ۭ اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ ۭ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِيْمٌ 12) 49 ۔ الحجرات :12) (یعنی بسا اوقات محض گمان سے بات کہہ دینا گناہ ہوتا ہے) اور صحیح حدیث میں ہے کہ کفی بالمرء کذبا ان یحدث بماسمع (یعنی کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنی ہی بات کافی ہے کہ جو کچھ سنے اسے تحقیق کیے بغیر آگے بیان کردے) (مسلم) لہذا ہر شخص کو چاہیے کہ بلاتحقیق کوئی بات نہ کرے۔ نہ ہی بلاوجہ کسی سے بدظنی رکھے جب تک پوری تحقیق نہ کرلے۔ بلاسوچے سمجھے کسی پر نہ الزام لگائے اور نہ تہمت تراشی کرے۔ نہ کوئی افواہ پھیلائے نہ کسی سے بغض و عداوت رکھے۔ اسی طرح عدالت کے لیے بھی ضروری ہے کہ جب تک مجرم کا جرم ثابت نہ ہو اسے کسی قسم کی کوئی سزا نہ دی جائے۔ پھر یہ تحقیق کا سلسلہ انھیں باتوں میں منحصر نہیں بلکہ وہ رسم و رواج بھی اسی ذیل میں آتی ہیں جو آباء واجداد سے چلی آرہی ہیں ان کے متعلق یہ تحقیق کرنا ضروری ہے کہ ان کی اصل شریعت میں موجود بھی ہے یا نہیں۔
آنکھ اور کان کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ ہمیں بیشتر معلومات انھیں ذرائع سے حاصل ہوتی ہیں اور دل کا کام ان میں غور و فکر کرکے کسی صحیح نتیجہ پر پہنچنا ہے۔ گویا ایسے بدظنی رکھنے والوں، بےبنیاد افواہیں پھیلانے والوں اور تحقیق کیے بغیر ہی کسی بات کو قبول کرلینے والوں کے اعضاء سے بھی باز پرس ہوگی۔
Ayah 17:3747 متکبرانہ چال سخت مذموم ہے اور اس اصل میں استثناء :۔ متکبرانہ چال اللہ تعالیٰ کو سخت ناگوار ہے اور جو انسان، اکڑ اکڑ کر، گال پھلا کر اور اور اپنے تہبند کو زمین پر گھسٹتے ہوئے چلتا ہے۔ اللہ ایسے انسان کو دنیا میں ضرور سزا دیتا ہے مثل مشہور ہے کہ غرور کا سر نیچا تو اس کا سر نیچا ہو ہی جاتا ہے۔ متکبر ہونا صرف اللہ کو سزاوار ہے اور کسی کو یہ صفت زیبا نہیں۔ انسان کی چال میں انکساری اور وقار ہونا چاہیے لیکن ایسی بھی نہ ہو کہ انسان حقیر اور ذلیل معلوم ہو بلکہ چال میں میانہ روی کی روش اختیار کرنا چاہیے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر فرمایا : ( وَاقْصِدْ فِيْ مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ ۭ اِنَّ اَنْكَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيْرِ 19 ) 31 ۔ لقمان :19) یعنی اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اور فرمایا : ( وَعِبَاد الرَّحْمٰنِ الَّذِيْنَ يَمْشُوْنَ عَلَي الْاَرْضِ هَوْنًا وَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا 63) 25 ۔ الفرقان :63) (جو لوگ زمین پر انکساری کے ساتھ چلتے ہیں) یہاں ھَوْن کا لفظ فرمایا جس میں انکساری اور وقار دونوں شامل ہوتے ہیں۔ ھُوْن نہیں فرمایا جس کا معنی ذلت اور حقارت ہوتا ہے۔
اس کلیہ میں بھی ایک استثناء کا مقام ہے اگر کفار کے سامنے مظاہرہ مقصود ہو تو اس وقت اکڑ کر چلنا ہی اللہ کو پسند ہے۔ جنگ احد میں سب صحابہ کے مقابلہ میں آپ نے اپنی تلوار ابو دجانہ کو عنایت فرمائی تو وہ کافروں کے سامنے اکڑ اکڑ کر چلنے لگے۔ یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا کہ یہ چال اللہ کو پسند نہیں مگر اس وقت پسند ہے۔ عمرہ قضاء کے وقت آپ نے صحابہ کرام ؓ کو رمل کا حکم دیا۔ اس سے بھی یہی مقصود تھا۔ فتح مکہ کے وقت آپ نے اور سب صحابہ نے کافروں کے سامنے ایسا ہی پر شکوہ مظاہرہ فرمایا۔
Ayah 17:3848 یعنی مندرجہ بالا چودہ احکام میں اکثر تو ایسے ہیں جن سے منع کیا گیا ہے۔ ان کا ارتکاب کرنا اللہ کو سخت ناپسند ہے اور جن باتوں کا حکم دیا گیا ہے ان کو بجا نہ لانا بھی اسی طرح ناپسند ہے۔
Ayah 17:3949 یہ سب باتیں بیش بہا نصیحتیں اور حکمت کے موتی ہیں۔ جن پر تمہارے تہذیب و تمدن اور عقائد و اخلاق کی عمارت استوار ہوگی۔ ان تمام باتوں میں سے پہلی بات توحید سے متعلق تھی اسی پر ان نصائح کا اختتام ہو رہا ہے۔ کیونکہ ان سب کا اصل الاصول توحید ہی ہے لہذا آخر میں اس کی پھر تاکید کی گئی۔ کیونکہ توحید کے بغیر تو کوئی نیکی بھی کام نہ آسکے گی۔
Ayah 17:4050 توحید کے بیان کے ساتھ ہی مشرکین مکہ کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ کے شریک بھی بناتے تھے تو اناث کو۔ جنہیں اپنے لیے قطعاً ناگوار سمجھتے تھے اور اسی طرح دوہرے جرم کے مرتکب ہوتے تھے۔ (تفصیل کے لیے سورة نحل آیت نمبر 57 کا حاشیہ ملاحظہ فرمایئے)
Ayah 17:4151 کافروں کو قرآن کی نصیحتیں کیوں راس نہیں آتیں ؟:۔ کیونکہ جب طبیعت میں بگاڑ پیدا ہوجائے تو صحت بخش اور عمدہ غذائیں بھی راس نہیں آتیں۔ بلکہ جب تک مرض کا پوری طرح علاج نہ کرلیا جائے۔ عمدہ سے عمدہ غذائیں بھی مزید بدہضمی کا سبب بن جاتی ہیں۔ یہی حال ان کافروں کا ہے کہ قرآن کریم کے اعلیٰ سے اعلیٰ دلائل سن کر نصیحت قبول کرنے کے بجائے یہ بدبخت اور زیادہ بدکتے اور وحشت کھا کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔
Ayah 17:4252 زیادہ خداؤں کا لازمی نتیجہ :۔ اس آیت میں خطاب ان خاص قسم کے مشرکوں سے ہے جنہوں نے بیشمار دیوتا اور دیویاں تجویز کر رکھی ہیں اور انھیں کسی نہ کسی چیز کا مختار تسلیم کیا جاتا ہے مثلاً فلاں بارش کا دیوتا ہے، فلاں پھلوں کا دیوتا ہے۔ فلاں مال و دولت کی دیوی ہے اور فلاں محبت کی، فلاں موت کا دیوتا ہے اور فلاں زندگی کا۔ اس عقیدہ کی تردید کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ اگر یہ دیوتا اپنے اپنے اختیارات استعمال کریں تو کائنات کا سارا نظام ہی درہم برہم ہوجائے مثلاً قحط کا دیوتا بارش روکنا چاہے اور بارش کا برسانا چاہے تو ان کی ضد بازی سے کائنات کا نظام اور اس میں ہم آہنگی برقرار ہی نہیں رہ سکتی۔ لیکن یہاں جس پہلو کو اجاگر کیا جارہا ہے وہ دوسرا پہلو ہے جو یہ ہے کہ ہر صاحب اختیار کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ اس کے اختیارات میں مزید وسعت پیدا ہوجائے بلکہ ہر صاحب اختیار کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ پورا اختیار و اقتدار کسی طرح اسے ہی حاصل ہوجائے۔ اب ایسے چھوٹے صاحب اختیار بڑے اختیار والے کے خلاف متحدہ محاذ بنا لیتے ہیں تاکہ اسے اقتدار سے محروم کردیں۔ جیسا کہ آج کل کے جمہوری نظام میں یہ تماشا سرسری نگاہوں سے ہی دیکھا جاسکتا ہے۔ جو سیاسی پارٹی برسر اقتدار ہوتی ہے۔ حزب اختلاف کی سب پارٹیاں مل کر صاحب اقتدار پارٹی کی ٹانگ کھینچنا اور اسے اقتدار سے محروم کرنا چاہتی ہیں اور بسا اوقات وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوجاتی ہیں یہی مثال اللہ تعالیٰ نے یہاں بیان فرمائی ہے کہ اگر فی الواقع اللہ کے علاوہ کوئی اور بھی دیوتا یا دیویاں با اختیار موجود ہوتے تو وہ یقیناً بڑے اختیار والے اللہ یا مہادیو کو اقتدار و اختیار سے محروم کرنے کی ضرور کوشش کرتے اور چونکہ فی الواقع ایسا کبھی نہیں ہوا تو اس کا واضح نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جن معبودوں کو تم نے صاحب اختیار سمجھ رکھا ہے وہ صاحب اختیار نہیں ہیں۔ اور ان کا وجود اس کائنات میں ہونا ناممکن ہے۔
Ayah 17:4353 یعنی ان مشرکوں کی یہ خرافات بس ان لوگوں تک ہی محدود اور ان کے خطہ زمین پر ہی ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات تو ان لوگوں کے ایسے بیہودہ خیالات سے بہت بلند وبالا ہے۔
Ayahs 17:44–4554 سَبَحَ کا لغوی مفہوم :۔ سَبَحَکے لغوی معنی کسی چیز کا ہوا یا پانی میں تیرنا اور تیزی سے گزر جانا ہے (مفردات القرآن) پھر اس لفظ کا استعمال کسی کام کو سرعت کے ساتھ انجام دینے پر بھی ہونے لگا جیسے ارشاد باری ہے (اِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيْلًا ۭ ) 73 ۔ المزمل :7) (دن کے وقت تو آپ کو اور بہت سے شغل ہوتے ہیں) اور سبحان کا لفظ سبح کا مصدر ہے جیسے غفر سے غفران ہے اور اس میں مبالغہ پایا جاتا ہے۔ اس کائنات میں لاکھوں اور کروڑوں سیارے فضا میں نہایت تیزی سے گردش کر رہے ہیں جن میں نہ کبھی لغزش پیدا ہوتی ہے نہ جھول اور نہ ہی تصادم یا ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ ان پر کنٹرول کرنے والی ہستی اپنی تقدیر، تدبیر اور انتظام میں نہایت محکم اور ہر قسم کی بےتدبیری اور عیب یا نقص سے پاک ہستی ہی ہوسکتی ہے اور کائنات کی جملہ اشیاء کا یہ عمل جس کے تحت وہ مدبر ہستی کے مجوزہ قوانین کے تحت سرگرم عمل ہیں، ان کی تسبیح، فرمانبرداری یا عبادت کہلاتا ہے گویا کائنات کی جملہ اشیاء زبان حال یا اپنے عمل سے اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ ان کا انتظام کرنے والی ہستی ہر طرح کے عیوب اور نقائص سے پاک ہے۔ اور وہ صرف ایک ہی ہستی ہوسکتی ہے۔ یہ تو ہے ہر چیز کی عملی تسبیح۔
کائنات کی ہر چیز کی تسبیح کا مفہوم :۔ اور قولی یا زبانی تسبیح کی صورت یہ ہے کہ انسانوں، جنوں یا فرشتوں کی تسبیح زندگی کے تناسب کے لحاظ سے سب سے بالا و برتر، موثر اور قابل فہم ہوتی ہے۔ حیوانات کی اس سے کم اور جمادات کی اس سے کم، جن و انس کی تسبیح کی صورت چونکہ اختیاری ہے لہذا گاہے گاہے ہوتی ہے جبکہ باقی تمام اشیاء ہر وقت تسبیح میں مشغول رہتی ہیں اور جب کوئی چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے تو اس پر اللہ کی رحمت کا نزول بھی ہوتا ہے۔ جس مخلوق کی تسبیح جتنی واضح ہوگی، اتنا ہی زیادہ رحمت کا نزول ہوگا اور اس توجیہہ کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے کہ آپ نے ایک دفعہ ایک قبر پر ایک ٹہنی کی دوشاخیں بنا کر انھیں قبر میں گاڑ دیا اور فرمایا کہ جب تک یہ خشک نہ ہوجائیں امید ہے کہ ان پر عذاب کم رہے (بخاری، کتاب الوضوئ، باب من الکبائر، ان لایستتر من بولہ) یعنی ہری ٹہنی کی تسبیح سوکھی ٹہنی سے زیادہ موثر اور قابل فہم ہوتی ہے اسی لحاظ سے اس پر رحمت کا نزول سوکھی ٹہنی سے زیادہ ہوگا اور اس رحمت کے نزول کا مردہ کو یہ فائدہ ہوگا کہ عذاب قبر میں تخفیف ہوگی۔
Ayah 17:4655 یہ چھپا ہوا پردہ اور دلوں پر پڑا ہوا پردہ ہونا یا ان کا ایسا محفوظ ہونا کہ کوئی بیرونی چیز ان پراثر نہ کرسکے اور کانوں کی ثقل سماعت ہونا۔ یہ سب باتیں قریش مکہ نے خود ہی بڑے فخر سے اپنے متعلق کہی تھیں۔ جیسا کہ یہی باتیں سورة حم السجدہ کی پانچویں آیت میں مذکور ہیں۔ چونکہ وہ خود بھی یہی کچھ چاہتے تھے لہذا اللہ نے انھیں ویسا ہی بنادیا۔ قریشی سرداروں نے مسلمانوں کے علاوہ اپنے آپ پر بھی پابندی لگا رکھی تھی کہ جب قرآن پڑھا جارہا ہو تو اسے کوئی بھی نہ سنے لیکن وہ خود بھی اپنی اس عائد کردہ پابندی کو نبھا نہ سکے۔ تاہم مخالفت میں پہلے سے بھی بڑھتے گئے۔
56 مشرکوں کی توحید سے نفرت کی ایک نشانی :۔ کیونکہ اکیلے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے سے ان کے معبودوں کی از خود نفی ہوجاتی تھی جسے وہ صرف اپنے معبودوں کی ہی توہین نہیں سمجھتے تھے بلکہ اپنی اور اپنے آباء و اجداد کی بھی توہین سمجھتے تھے۔ کیونکہ ان کے معبودوں کی نفی کرنے یا انھیں بالکل بےاختیار کہنے کا صاف مطلب یہ نکلتا تھا کہ یہ سرداران قریش اور ان کے آباء و اجداد سب کے سب بیوقوف ہی تھے جو ان کو بااختیار سمجھ کر ان کی پوجا پاٹ کرتے رہے۔ لہذا اکیلے اللہ کا ذکر سنتے تو غصہ اور نفرت کی بنا پر وہاں سے بھاگ اٹھتے۔ اور یہ بات کچھ دور نبوی کے مکہ سے مخصوص نہیں۔ آج کل کے مشرکوں کا بھی یہی حال ہے۔ آپ ان حضرات کے خطبات جمعہ اور تقریریں وغیرہ سنیں تو ان کا اکثر حصہ ان کے اولیاء اللہ اور بزرگان دین کی کرامات اور تصرفات کا ذکر آئے گا۔ ابتدا میں رسمی طور پر تبرکا " کوئی آیت ضرور پڑھ لی جاتی ہے۔ لیکن بعد کی تقریر بس ان بزرگوں کی مدح وثناء اور کرامات وغیرہ بیان کی جاتی ہیں اور ان کے پیرو کار پسند بھی ایسی ہی تقریر کرتے ہیں اور خوش رہتے ہیں اور درمیان میں اللہ کا ذکر آجائے تو اسے بھی گوارا ہونے کی حد تک برداشت کرلیتے ہیں لیکن اگر صرف توحید باری تعالیٰ کا بیان ہو تو اس بیکیف اور کئی بار سنی ہوئی تقریر سے ان کی طبیعت بور ہوجاتی ہے۔ اور خطبہ جمعہ کے علاوہ کسی جلسہ وغیرہ میں تقریر ہو رہی ہو تو اٹھ کر چلے جاتے ہیں۔
Ayah 17:4757 کافروں کے قرآن کو غور سے سننے کی وجہ :۔ یعنی اگر وہ آپ کی باتیں غور سے سنتے ہیں تو اس لیے نہیں کہ انھیں ہدایت نصیب ہو بلکہ اس لیے سنتے ہیں کہ کوئی ایسا نکتہ یا پوائنٹ ہاتھ آجائے جس کی بنا پر یا تو اس نبی کی تکذیب کرسکیں یا اس کا مضحکہ اڑا سکیں۔ اور ظاہر ہے کہ ایسی باتوں کی تلاش ہو تو غور سے سننا ہی پڑتا ہے۔
58 قریش مکہ نے یہ پابندی لگا رکھی تھی کہ ان کا کوئی شخص قرآن نہیں سنے گا لیکن اس کلام میں کچھ حلاوت اور دل نشینی اس قسم کی تھی کہ وہ اپنی عائد کردہ پابندی خود بھی نبھا نہ سکتے تھے اور چوری چھپے رات کے اندھیروں میں قرآن سن لیا کرتے پھر جب کسی ایک کو دوسرے پر یہ شک پڑجاتا ہے کہ اس نے قرآن سنا ہے۔ تو وہ آپس میں یہ کہتے تھے کہ کس شخص کی بات کرتے ہو جو خود سحر زدہ ہے اور عجیب طرح کی باتیں کرتا ہے۔
Ayah 17:4859 یعنی کبھی آپ کو مسحور کہتے ہیں، کبھی ساحر، کبھی کاہن اور کبھی شاعر یعنی ان کی ایسی مت ماری گئی ہے کہ وہ خود بھی کسی ایک بات پر اتفاق نہیں کرسکتے۔ ایک بات کہتے ہیں پھر خود ہی اس کی تردید کرنے لگتے ہیں۔ انھیں ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی جس پر وہ سب متفق ہو سکیں کہ آخر اسے کہیں تو کیا کہیں ؟
Ayahs 17:49–5060 یعنی آپ کے مسحور ہونے کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ جو شخص یہ کہتا ہو کہ جب ہم مر کر مٹی میں مل جائیں گے، ہماری ہڈیاں بھی ختم ہوجائیں گی۔ تب بھی ہمیں زندہ کرکے از سر نو اٹھایا جائے گا بھلا اس کے سحر زدہ ہونے میں کوئی شک باقی رہ جاتا ہے۔ ؟
Ayah 17:5161 یعنی تمہیں یہ خیال ہے کہ ہماری ہڈیاں گل سڑ کر اور ریزہ ریزہ ہو کر مٹی میں مل کر مٹی ہی بن جائیں گی تو پھر کیسے پیدا ہوں گے مگر مٹی تو پھر بھی ایک ایسی چیز ہے جو مسام دار ہے اور پانی اور ہوا اس کے اندر داخل ہوسکتے ہیں جو زندگی کے لیے ضروری عناصر ہیں اس سے ہر قسم کی نباتات بھی اگتی ہے لیکن اگر تم کوئی سخت چیز بن جاؤ جیسے پتھر کہ جس کے اندر پانی یا ہوا داخل نہیں ہوسکتے اور اس کے اجزاء اور ذرات مٹی کی نسبت آپس میں بہت زیادہ جڑے ہوئے اور پیوست ہوتے ہیں یا پتھر سے بھی سخت چیز مثلاً لوہا بن جاؤ یا اس سے بھی کوئی سخت چیز جو تمہارے دل میں آسکتی ہو، وہ بن جاؤ تب بھی اللہ تمہیں اس سخت چیز سے دوبارہ زندہ کرکے اٹھا کھڑا کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔
62 بعث بعد الموت پر کفار کے اعتراضات :۔ پھر ان مشرکوں کا دوسرا سوال یہ ہوتا ہے کہ وہ کون سی ہستی ہے جو ہمیں دوبارہ پیدا کرے گی ؟ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اور کئی دوسرے مقامات پر بھی یہ دیا ہے کہ جس ہستی نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا وہ دوسری بار بھی پیدا کرسکتی ہے اور یہ تو واضح بات ہے کہ دوسری بار پیدا کرنا پہلی بار پیدا کرنے کی نسبت آسان ہوتا ہے۔ یہ جواب سن کر وہ از راہ مذاق سر ہلاتے اور کہتے ہیں کہ اچھا یہ بات تو سمجھ آگئی مگر بتاؤ یہ ایسا واقعہ ہوگا کب ؟ یہ ان کا تیسرا سوال ہوتا ہے۔ اس سوال کا متعین وقت بتانا اللہ کی مشیئت کے خلاف ہے جیسا کہ کسی کو اس کی موت کا معین وقت بتانا یا کسی نافرمان قوم کو اس پر عذاب نازل ہونے کا متعین وقت بتانا اللہ کی مشیت کے خلاف ہے کہ اس سے انسان کی پیدائش اور ابتلاء کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے لہذا اس سوال کا جواب یہ دیا کہ جس چیز کا واقع ہونا ایک یقینی امر ہو وہ قریب ہی ہوتی ہے جیسے ہر انسان کی موت یقینی ہے مگر اس کا وقت معین نہیں اور کسی بھی وقت یا ابھی بھی آسکتی ہے لہذا اسے قریب ہی سمجھنا چاہیئے۔
Ayah 17:5263 یعنی جب قیامت آگئی اور اللہ نے تمہیں زندہ کرکے اٹھ کھڑا ہونے اور اپنے پاس حاضر ہونے کا حکم دے دیا تو تم بلا چون و چرا اس کے سامنے از خود حاضر ہوجاؤ گے اور یہ سب باتیں تمہیں بھول جائیں گی۔ پھر اس دن چونکہ سب حجابات اٹھ جائیں گے اور ہر انسان یہ دیکھ رہا ہوگا کہ قادر مطلق تو صرف ایک اللہ کی ذات ہے لہذا تم صرف اللہ کی پکار پر حاضر ہی نہ ہوگے بلکہ اس کی تعریف کے گن گاتے حاضر ہوگے اور اس دن یہ دنیا کی زندگی تمہیں بس ایک سہانا خواب ہی معلوم ہوگی۔
Ayah 17:5364 داعی کو تلخ کلامی سے پرہیز ضروری ہے :۔ ہر شخص کو چاہیے کہ خطاب کے وقت اس کے لہجہ میں نرمی اور الفاظ میں شیرینی ہونی چاہیے تند و تیز اور غصہ والے لہجہ یا تلخ الفاظ استعمال کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے خواہ یہ خطاب باہمی گفتگو کے سلسلہ میں ہو یا دعوت دین کے سلسلہ میں۔ کیونکہ لہجہ یا الفاظ میں درستی سے مخاطب کے دل میں ضد اور عداوت پیدا ہوتی ہے اور اس سے دعوت دین کا کام یا اصلاح احوال کا کام پیچھے جا پڑتا ہے۔
65 اور شیطان تو چاہتا ہی یہ ہے کہ تمہاری آپس میں منافرت، ضد اور دشمنی پیدا ہو اور دعوت و تبلیغ کا کام رک جائے۔ لہذا خطاب کے وقت خصوصی احتیاط کرو۔ اور تم غصہ میں آگئے یا تلخ لہجہ یا سخت الفاظ کہناشروع کردیئے تو سمجھ لو کہ تم شیطان کی چال میں آگئے۔ اسی لیے اللہ نے مسلمانوں کو کافروں کے بتوں یا معبودوں کو بھی برا بھلا کہنے سے منع فرما دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کافر ضد میں آکر جوابی کارروائی کے طور پر اللہ کو برا بھلا کہنے لگیں۔ (6: 108)
Ayah 17:5466 کوئی شخص کسی کو نجات اخروی کی ضمانت نہیں دے سکتا :۔ ہم یوں تو کہہ سکتے ہیں جو اللہ کے فرمانبردار ہیں وہ جنت میں اور نافرمان دوزخ میں جائیں گے مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں (معین) شخص جنت میں یا دوزخ میں جائے گا۔ نہ ہی اپنے متعلق کوئی شخص ایسا دعویٰ کرسکتا ہے اور نہ کوئی فرقہ یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ وہ ضرور جنت میں جائے گا۔ اس لیے کہ ہر ایک کی حقیقت حال اور اس کا انجام صرف اللہ ہی کو معلوم ہے حتیٰ کہ نبی آخر الزمان بھی کسی کی ہدایت اور اخروی نجات کے ضامن نہیں ہیں۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔
سیدنا خارجہ بن زید بن ثابت کہتے ہیں کہ ام العلاء ایک انصاری عورت تھی جس نے رسول اللہ سے بیعت کی تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ مہاجرین قرعہ سے ہم انصار کو بانٹ دیئے گئے۔ ہمارے حصہ میں عثمان بن مظعون ؓ آئے۔ ہم نے انھیں اپنے گھروں میں اتارا۔ پھر وہ ایسی بیماری میں مبتلا ہوئے جن میں ان کی وفات ہوگئی۔ جب انھیں غسل دیا اور کفن پہنایا گیا اس وقت رسول اللہ تشریف لائے۔ میں نے کہا اے ابو السائب (یہ عثمان بن مظعون ؓ کی کنیت تھی) اللہ تم پر رحم کرے۔ میں یہ گواہی دیتی ہوں کہ اللہ نے تم کو عزت دی۔ رسول اللہ نے اسے فرمایا (ام العلائ) تجھے کیسے معلوم ہوا کہ اللہ نے اسے عزت دی ؟ میں نے کہا یارسول اللہ ! میرا باپ آپ پر قربان ہو، پھر اللہ کس کو عزت دے گا ؟ آپ نے فرمایا عثمان فوت ہوگیا اور اللہ کی قسم ! میں اس کے حق میں بھلائی کی امید رکھتا ہوں اور اللہ کی قسم ! میں حتمی طور پر یہ نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ ہوگا حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں ام العلاء کہنے لگیں کہ اللہ کی قسم ! اس کے بعد میں کبھی کسی کی بزرگی بیان نہیں کروں گی۔ (بخاری، کتاب الجنائز، باب الدخول علی المیت بعد الموت۔۔ )
Ayah 17:5567 انبیاء کی فضیلت کے پہلو :۔ اس فضیلت کے بھی کئی پہلو ہیں مثلاً کسی نبی کی دعوت کا کام زیادہ بار آور ثابت ہوا، کسی کا کم، کسی نے صرف تبلیغ کا فریضہ سرانجام دیا، کسی نے جہاد بھی کیے کسی کو کوئی معجزہ دیا گیا تو دوسرے نبی کو کوئی دوسرا دیا گیا۔ کچھ نبیوں نے تنگدستی اور فقیری میں ہی زندگی گزار دی اور کچھ ساتھ ہی بادشاہ بھی تھے۔ وغیرہ وغیرہ۔
68 بادشاہ بھی نبی ہوسکتا ہے تو ایک عام آدمی کیوں نبی نہیں ہوسکتا ؟ اس مقام پر بالخصوص سیدنا داؤد (علیہ السلام) کا ذکر کرنے کی دو وجوہ معلوم ہوتی ہیں ایک یہ کہ داؤد (علیہ السلام) اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے، پست قد تھے اور حقیر سمجھے جاتے تھے۔ بکریاں چرایا کرتے تھے مگر جو قیمتی جوہر ان میں موجود تھے انھیں اللہ ہی جانتا تھا۔ لہذا اللہ نے انھیں صرف نبی ہی نہیں بنایا بلکہ صاحب کتاب نبی بنایا پھر بادشاہت بھی عطا فرمائی۔ یہ ہے اللہ کی دین اور اللہ کا فضل کہ جس پر اس کی نظر انتخاب پڑتی ہے اسے نوازتا ہے۔ اور جتنا چاہے نوازتا ہے۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ مشرکین مکہ کا رسول اللہ کے متعلق ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ یہ تو ہمارے ہی جیسا انسان ہے جو ہماری طرح کھاتا پیتا، چلتا پھرتا اور شادیاں کرتا ہے اور صاحب اولاد ہے۔ یہ تو طالب دنیا ہے لہذا یہ خدا رسیدہ یا اللہ کا پیغمبر کیسے ہوسکتا ہے۔ ؟ گویا ان کے نظریہ کے مطابق خدا رسیدہ یا پیغمبر ہونے کے طالب دنیا ہونے کے بجائے تارک دنیا ہونا ضروری تھا۔ جیسا کہ یہود و نصاریٰ میں رہبان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس نظریہ کی تردید کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک عام انسان یا طالب دنیا کے متعلق تمہارا یہ خیال ہے کہ وہ نبی نہیں ہوسکتا تو ایک بادشاہ کے متعلق تم کیا سوچ سکتے ہو جو عام انسانوں سے بہت زیادہ دنیا میں پھنسا ہوا، طالب دنیا اور اللہ سے نسبتاً دور ہوتا ہے ؟ پھر جب ہم نے داؤد بادشاہ کو بھی نبوت عطا کی اور صاحب کتاب نبی بنایا تھا تو پھر آخر یہ نبی آخرالزمان کیوں نبی نہیں ہوسکتا ؟
Ayah 17:5669 اس آیت میں عموم ہے یعنی خواہ وہ پتھر کے بت ہوں یا فرشتے یا جن ہوں یا فوت شدہ نبی اور اولیاء ہوں سب اس میں شامل ہیں۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ شرک صرف بتوں کو سجدہ کرنے کا نام نہیں بلکہ انھیں مشکل کے وقت پکارنا بھی ویسا ہی شرک ہے اور اس بات کی کئی دوسری آیات اور احادیث صحیحہ سے بھی تائید ہوجاتی ہے اور تیسری یہ بات کہ معبود خواہ کسی بھی قسم سے تعلق رکھتے ہوں نہ وہ کسی کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ کسی کی بگڑی سنوار سکتے ہیں اور یہ سب مشرکانہ عقائد ہیں۔
Ayah 17:5770 اس آیت میں بالخصوص ایسے معبودوں کا ذکر ہے جو جاندار ہیں۔ پتھر کے بت اس آیت کے مضمون سے خارج ہیں۔ یعنی فرشتے یا جن یا فوت شدہ انبیاء و صالحین ہی اس سے مراد لیے جاسکتے ہیں۔ اور بتایا یہ جارہا ہے کہ تم ان ہستیوں کو اپنی حاجت روائی یا مشکل کشائی کے لیے وسیلہ بناتے ہو جو خود ساری زندگی اس جستجو میں رہے کہ اللہ کے زیادہ سے زیادہ فرمانبردار بندے بن کر اس کا قرب حاصل کریں اور وہ اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہی رہے لہذا تمہیں بھی یہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے اور اللہ کے زیادہ سے زیادہ فرمانبردار بن کر اور اعمال صالحہ بجا لا کر ان اعمال کے ذریعہ یا وسیلہ سے اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہیے۔ اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انسان اپنے نیک اعمال کو وسیلہ بنا کر آپ اپنے حق میں دعا کرسکتا ہے۔ جیسا کہ درج ذیل حدیث سے بھی واضح ہوتا ہے :
نیک اعمال کو وسیلہ بنانا اور دعا مانگنا :۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : تم سے پہلے لوگوں میں سے تین شخص کہیں جارہے تھے کہ انھیں بارش نے آلیا۔ انہوں نے ایک غار میں پناہ لی۔ اوپر سے ایک پتھر گرا اور غار کا منہ بند ہوگیا۔ وہ آپس میں کہنے لگے : اللہ کی قسم ! اب تو (اس مصیبت سے) تمہیں سچائی ہی بچا سکتی ہے لہذا ہم میں سے ہر شخص اپنے عمل کا ذکر کرکے اللہ سے دعا کرے جو اس نے صدق نیت سے کیا ہو۔ ان میں سے ایک نے کہا : اے اللہ تو خوب جانتا ہے کہ میں نے ایک فرق (تین صاع) چاول پر ایک مزدور رکھا وہ (ناراض ہو کر) چلا گیا اور اپنی مزدوری چھوڑ گیا۔ میں نے ان چاولوں کا یہ کیا کہ ان سے کھیتی باڑی کی۔ پھر اس میں اتنا فائدہ ہوا کہ میں نے گائے بیل خرید لیے (مدت کے بعد) وہ مزدور اپنی مزدوری مانگنے آیا تو میں نے اسے کہا جاؤ وہ سب بیل لے جاؤ اس نے کہا میرے تو تیرے پاس صرف ایک فرق چاول تھے میں نے کہا انہی چاولوں سے (کھیتی کرکے) میں نے یہ گائے بیل خریدے ہیں چناچہ وہ انھیں لے گیا۔ یا اللہ ! تو خوب جانتا ہے اگر میں نے یہ عمل تیرے ڈر کی وجہ سے کیا تھا تو ہماری مصیبت دور کردے۔ چناچہ وہ پتھر سرک گیا۔ دوسرے نے کہا یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ میرے والدین بوڑھے تھے اور میں ہر رات ان کے لیے بکریوں کا دودھ لاتا۔ ایک رات مجھے کافی دیر ہوگئی اور وہ دونوں سوگئے۔ میرے بیوی بچے بھوک سے چلاتے رہے۔ میری عادت تھی کہ میں اپنے والدین کو دودھ پلاتا پھر اپنے بیوی بچوں کو، میں نے انھیں جگانا مناسب نہ سمجھا اور نہ اس بات کو گوارا کیا کہ انھیں چھوڑ کر چلا جاؤں اور وہ دودھ کے انتظار میں پڑے رہیں اور میں پو پھٹنے تک ان کا انتظار کرتا رہا۔ یا اللہ تو خوب جانتا ہے اگر میں نے یہ عمل تیرے ڈر کی وجہ سے کیا تھا تو ہماری مصیبت دور کردے۔ اس وقت وہ پتھر اور سرک گیا۔ یہاں کہ انھیں آسمان دکھائی دینے لگا۔ تیسرے نے کہا : یا اللہ تو خوب جانتا ہے کہ میری ایک چچا زاد بہن تھی جسے میں سب سے زیادہ چاہتا تھا۔ میں نے ایک دفعہ اس سے صحبت کرنا چاہی تو اس نے انکار کردیا۔ اِلا یہ کہ میں اسے سو دینار دوں۔ میں کوشش کرکے سو دینار لے آیا اور اس کو دے دیئے۔ اس نے اپنے تئیں میرے حوالے کردیا اور جب میں (صحبت کے لیے) اس کی دونوں رانوں کے درمیان بیٹھ گیا تو وہ کہنے لگی اللہ سے ڈرو اور مہر کو ناحق طور سے نہ توڑو میں کھڑا ہوگیا اور سو دینار بھی چھوڑ دیئے۔ یا اللہ اگر میں نے یہ عمل تیرے ڈر سے کیا تھا تو ہماری مشکل کو دور کردے۔ چناچہ اللہ نے ان کی مصیبت کو دور کردیا اور وہ باہر نکل آئے۔ (بخاری، کتاب الانبیائ۔ باب حدیث الغار)
71 ایمان کا تقاضا اللہ سے امید بھی اور خوف بھی :۔ یعنی اعمال صالحہ بجا لانے اور ان کے اجر کی امید رکھنے کے باوجود اللہ سے ڈرتے بھی رہنا چاہیے کہ شاید ان اعمال میں کوئی تقصیر نہ ہوگئی ہو۔ اور بعض دفعہ انسان اس دنیا میں ناکردہ گناہوں کی پاداش میں بھی دھر لیا جاتا ہے جیسے کسی نے اس پر جھوٹا مقدمہ بنادیا یا کوئی تہمت لگا دی۔ اور یہ بھی اللہ کے عذاب ہی کی قسم ہے اور اس کی مشیئت سے ہی واقع ہوتی ہے۔ لہذا اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہی رہنا چاہیے۔
Ayah 17:5872 قیامت سے پہلے سب بستیوں کی تباہی :۔ یعنی کچھ بستیاں تو ایسی ہیں جو عذاب میں ماخوذ ہو کر تباہ کی جاچکی ہیں اور قیامت سے پہلے باقی موجود سب بستیوں کا بھی یہی حشر ہونے والا ہے اور چونکہ قیامت آنے سے پہلے نیک لوگوں کو اٹھا لیا جائے گا اور قیامت شرار الناس پر قائم ہوگی لہذا قیامت کو یہ نظام کائنات درہم برہم کرنے سے پیشتر ایسی شریر بستیوں کو پہلے ہی عذاب سے ہلاک کردیا جائے گا۔
Ayah 17:5973 یعنی جب ضدی اور ہٹ دھرم لوگ کوئی حسی معجزہ یا اپنا فرمائشی معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے تو اس صورت میں ان پر عذاب الٰہی کا نزول لازم ہوجاتا ہے۔ مگر چونکہ ہم مکہ کے رہنے والوں کو ایسے عذاب سے ہلاک نہیں کرنا چاہتے۔ اور ان کے زندہ رہنے اور رکھنے میں بہت سی حکمتیں مضمر ہیں لہذا انھیں ان کا فرمائشی معجزہ نہ دینے میں ہی مصلحت اور ان کی عافیت ہے۔
74 معجزہ دکھانے کا مقصد محض خوف دلانا ہوتا ہے :۔ قوم ثمود کے حالات ان کے سامنے ہیں۔ انہوں نے فرمائشی اور حسی معجزہ طلب کیا تھا۔ یہ معجزہ دیکھنے کے باوجود وہ ایمان نہ لائے۔ تو اس کے نتیجہ میں انھیں تباہ کردیا گیا۔ حالانکہ فرمائشی معجزہ کو پورا کردینا اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ پر زبردست دلیل ہے۔ پھر ایسا معجزہ دیکھ کر بھی جو ایمان نہ لائے اور اس کے دل میں اللہ کا ڈر پیدا نہ ہو تو ایسے لوگوں کا علاج یہی ہے کہ انھیں کسی دردناک عذاب سے تباہ کر ڈالا جائے۔
Ayahs 17:60–6175 اس سے مراد سورة بروج کی آیت نمبر 19 اور 20 ہیں، یعنی کافر تو آپ کو اور اس دعوت قرآن کو جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں جبکہ اللہ انھیں ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے اور سورة بروج اس سورة بنی اسرائیل سے بہت پہلے نازل ہوچکی تھی۔ اور اس سے مراد یہ ہے کہ یہ کفار مکہ اپنی معاندانہ سرگرمیوں میں جتنی بھی کوشش چاہے کرلیں۔ یہ ایک حد سے آگے نہ جاسکیں گے اور ان کی ان کوششوں کے علی الرغم دعوت اسلام پھیل کر رہے گی۔
76 کافر حسی معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے :۔ واقعہ معراج ایک خرق عادت واقعہ اور معجزہ تھا۔ کفار نے اس معجزہ کا اتنا مذاق اڑایا کہ بعض ضعیف الاعتقاد مسلمان بھی شک میں پڑگئے۔ پھر کافر جنہوں نے پہلے بیت المقدس دیکھا ہوا تھا وہ آپ سے سوالات پوچھنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نے سامنے سے سب پردے ہٹادیئے اور آپ ان کافروں کے تمام سوالوں کے جوابات دیتے گئے۔ اب چاہیے تو یہ تھا کہ کسی حسی معجزہ کے طالب کفار ایمان لے آتے۔ لیکن وہ ان کے لیے آزمائش بن گیا جس میں یہ ناکام ہوئے اور پہلے سے بھی زیادہ سرکشی کی راہ اختیار کرنے لگے۔
77 ملعون درخت اور معراج دونوں سے کفار مکہ کی آزمائش :۔ اسی طرح سورة صافات میں ایک اور خرق عادت بات کی اطلاع دی گئی تھی جو یہ تھی کہ جہنم کی تہہ سے تھوہر کا درخت اگے گا۔ یہی اہل جہنم کا کھانا ہوگا جس کے علاوہ انھیں کوئی کھانے کی چیز نہ ملے گی (37: 62 تا 66) اس بات پر بھی کافروں نے بہت لے دے کی کہ آگ میں بھلا یہ درخت کیسے اگ سکتا ہے ؟ یہ بھی دراصل اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا انکار ہے کہ اپنی عقل کے پیمانے سے اسے ناپنے کی کوشش کی جاتی ہے حالانکہ آگ میں درخت یا پودے تو درکنار جاندار بھی پیدا ہوتے اور زندہ رہتے ہیں۔ آگ کا کیڑا سمندری آگ ہی سے پیدا ہوتا اور اسی میں زندہ رہتا ہے۔ پھر کئی پودے ایسے بھی ہیں جن سے آگ نکلتی ہے۔ یہ تو اس دنیا کا حال ہے اور اخروی عالم اور دوزخ کی کیفیت جب ہم پوری طرح سمجھ بھی نہیں سکتے اور نہ کوئی چیز تجربہ میں آسکتی ہے تو انکار کی کیا وجہ ہوسکتی ہے ؟ انکار تو اس صورت میں معقول ہوسکتا ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کی باقی سب قدرتوں کو پوری طرح سمجھ چکا ہو اور بس یہی ایک بات باقی رہ گئی ہو۔ انسان کا علم تو اتنا ناقص ہے کہ وہ اپنے جسم کے اندر کی چیزوں کی کیفیت بھی نہیں سمجھ سکتا تو پھر دوسرے عجائبات سے انکار کرنے یا ان کا مذاق اڑانے کا کیا حق ہے یہ دوسری بات تھی جو ان کفار کی سرکشی بڑھانے کا سبب بن گئی تھی۔ اور یہ درخت ملعون اس لحاظ سے ہے کہ اس میں غذائیت تو نام کو نہیں ہوتی۔ کانٹے بڑے سخت اور تیز ہوتے ہیں جو اہل دوزخ کی اذیت میں مزید اضافہ ہی کریں گے۔
واقعہ معراج کی طرح، تھوہر کے درخت کی آگ میں پیدائش بھی کافروں کے لیے فتنہ بن گئی تھی۔ اور واقعہ معراج کے فتنہ بننے سے بھی یہ بات از خود ثابت ہوجاتی ہے کہ یہ سفر جسمانی تھا، روحانی یا کشفی نہیں تھا کیونکہ خواب میں تو ہر انسان ایسے یا اس سے عجیب تر واقعات دیکھ سکتا ہے لیکن کبھی کسی نے اس پر اعتراض نہیں کیا۔
Ayahs 17:62–6378 قصہ آدم و ابلیس پہلے سورة بقرہ کی آیت نمبر 30 تا 39، سورة انعام آیت نمبر 11 تا 25، سورة الحجر آیت نمبر 26 تا 42 میں گذر چکا ہے۔ ان آیات کے حواشی بھی ملحوظ رکھے جائیں۔
79 ابلیس کا آدم پر قابو پانے کا دعوی :۔ احتنک الفرس بمعنی گھوڑے کے منہ میں رسی یا لگام دینا اور المحنک اس آدمی کو کہتے ہیں جسے زمانہ نے تجربہ کار بنادیا ہو (منجد) گویا احتنک کے معنی کسی پر عقل اور تجربہ سے قابو پانا ہے اور شیطان کا دعویٰ یہ تھا کہ آدم اچھی طرح میرا دیکھا بھالا ہے اور میں اس پر اور اس کی اولاد پر پوری طرح قابو پاسکتا ہوں۔
Ayah 17:6480 شیطان کی آواز سے مراد :۔ شیطان کی آواز سے مراد ہر وہ پکار ہے جو اسے اللہ کی نافرمانی پر اکساتی ہو اور یہ آواز عموماً شیطانوں کے چیلوں چانٹوں ہی سے آتی ہے پھر اس شیطانی آواز میں ہر قسم کا گالی گلوچ، لڑائی جھگڑا، گانابجانا، موسیقی، راگ رنگ اور مزامیر طرب و نشاط کی محفلیں سب کچھ آتا ہے جو اللہ کی یاد سے انسان کو غافل بنائے رکھتی ہیں اور اس کی اصل فطرت پر پردہ ڈالے رکھتی ہیں۔
81 یعنی تجھے اس بات کی بھی اجازت ہے کہ ڈاکوؤں کی طرح اپنی پوری جمعیت کے ساتھ۔ خواہ وہ انسانوں سے تعلق رکھتی ہو یا جنوں اور شیطانوں سے، اولاد آدم پر پوری شان و شوکت کے ساتھ حملہ آور ہو اور ان میں جس قدر تباہی اور گمراہی مچاسکتا ہے مچالے۔
82 شیطان کی مال واولاد میں شرکت کی صورتیں :۔ یعنی مال کمانے کے جتنے ناجائز ذرائع انسان اختیار کرتا ہے وہ سب شیطانی انگیخت اور اس کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے کرتا ہے۔ اور حرام خور انسان شیطان کے مشورے ایسے قبول کرتا ہے جیسے شیطان بھی اس کے کام کاج میں شریک ہے۔ پھر شیطان تو انسان کو یہ راہ دکھا کر الگ ہوجاتا ہے اور سارا گناہ کا بار بنی آدم پر پڑجاتا ہے۔
اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جیسے مشرکین مکہ اپنے اموال کھیتی اور چوپایوں میں سے اللہ کا حصہ الگ نکالتے تھے اور اپنے بتوں کا الگ۔ اسی طرح جو مال بھی بتوں کے چڑھاوے، قربانی یا غیر اللہ کی نذر و نیاز کے طور پر دیا جاتا ہے وہ سب بنی آدم کے اموال میں شیطان کی شراکت ہے۔
اور اولاد میں شراکت یہ ہے کہ اولاد تو اللہ تعالیٰ عطا فرمائے اور اس کا نام پیراں دتہ، غوث بخش، عبدالنبی، میراں بخش، یا اسی قسم کے دوسرے شرکیہ نام رکھ کر اولاد کو غیر اللہ کی طرف منسوب کیا جائے یا اولاد کے لیے اللہ کے سوا دوسروں کے در پر جائے اور ان کے ہاں قربانیاں اور نذر و نیاز دے۔
83 شیطان کے وعدے :۔ شیطان کے وعدوں اور ان وعدوں کی حقیقت کے لیے سورة ابراہیم کی آیت نمبر 22 کے حواشی ملاحظہ فرمائیے۔
Ayahs 17:65–6684 شیطان کا داؤکن پر چلتا ہے ؟:۔ شیطان کا داؤ صرف ان لوگوں پر چلتا ہے جو ضعیف الاعتقاد اور پہلے ہی شیطانی عمل پر لیبک کہنے کے لیے تیار بیٹھے ہوتے ہیں اور جن کے لیے حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کے کئی دروازے کھلے ہوتے ہیں۔ ایک دروازے سے مقصد حل نہ ہو تو دوسرے دروازے پر چلے جاتے ہیں اور ان میں سے بعض ایسے ہوتے ہیں جو محض ظاہری اسباب پر تکیہ کرلیتے ہیں۔ ایسے لوگ فوراً شیطان کی چالوں میں پھنس جاتے ہیں۔ مگر جو لوگ صرف ایک اللہ پر نظر رکھتے اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں ان پر شیطان کا داؤ کارگر نہیں ہوسکتا۔
85 یعنی جو لوگ اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں تو اللہ بھی ان کے کام ایسے حیرت انگیز طریقوں سے سنوارتا اور سیدھے کردیتا ہے جن کا انسان کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ بلکہ انسان خود بھی اللہ کی ایسی غیبی امداد پر حیران رہ جاتا ہے اور از راہ تشکر اللہ سے اس کی محبت اور اس پر بھروسہ پہلے سے بڑھ جاتا ہے۔
Ayahs 17:67–6886 گرداب میں صرف اللہ کو پکارنا :۔ شیطانی اغوا کی کیفیت بیان کرنے کے بعد پھر سے توحید کے اثبات اور شرک کی تردید پر دلائل ذکر کیے جارہے ہیں۔ مشرکین مکہ کی عادت تھی کہ جب ان کی کشتی گرداب میں پھنس جاتی یا سمندر کے طوفانی تھپیڑے کشتی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے اور کشتی والوں کو سب ظاہری اسباب ختم ہوتے نظر آنے لگتے تو اس وقت وہ صرف ایک اللہ کو پکارتے اور اپنے دوسرے سب معبودوں کو بھول جاتے تھے۔ اسی فطری داعیہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اور مختار کل ہونے کے ثبوت پر پیش فرمایا ہے اور باقی معبودوں کی تردید کی ہے مگر آج کا مشرک اس دور کے مشرکوں سے اپنے شرک میں پختہ تر نظر آتا ہے وہ اس آڑے وقت میں بھی یا بہاول الحق، بیڑا بنے دھک (یعنی اے بہاول الحق ! یہ کشتی پار لگا دو ) کا نعرہ لگاتا ہے۔ (قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ 30) 9 ۔ التوبہ :30) ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سورة یونس کے حاشیہ نمبر 34 میں ملاحظہ فرمائیے۔
Ayah 17:6987 اللہ کی گرفت کی صورتیں :۔ پھر اللہ کی گرفت کا معاملہ سمندر سے ہی متعلق نہیں وہ سمندر سے باہر خشکی پر بھی تم پر عذاب نازل کرسکتا ہے وہ یہ بھی کرسکتا ہے کہ زمین شق ہوجائے اور وہ تمہیں اس میں ایسے غرق کردے کہ کسی کو پتہ تک نہ چل سکے اور یہ بھی کرسکتا ہے کہ تم پر کنکروں اور سنگریزوں والی تند و تیز آندھی کا طوفان بھیج کر تمہیں ہلاک کردے اور اس سے بچنے کے لیے تمہیں کوئی پناہ گاہ نہ مل سکے اور یہ بھی کرسکتا ہے کہ سمندری سفر کے لیے دوبارہ کوئی صورت پیدا کر دے اور تمہارے کفر و شرک کی پاداش میں تمہیں طوفانی تھپیڑوں کے حوالے کرکے تمہیں کشتی سمیت غرق کردے تو ایسی صورت میں تمہارا کوئی معبود تمہارا ایسا حمایتی ہے جو تمہاری طرف سے ہو کر ہم سے باز پرس کرسکے ؟
Ayah 17:7088 انسان اشرف المخلوقات کیسے ہے ؟ انسان کی دوسری تمام مخلوق پر فضیلت اور تکریم یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو احسن تقویم پر پیدا کیا جو سیدھا کھڑا ہو کر چلتا ہے پھر جس قدر توازن و اعتدال انسانی جسم میں ہے اور جس قدر اس کے اعضاء جسم کثیر المقاصد ہیں اتنے کسی دوسری کے نہیں۔ مخلوق میں سب سے برتر اللہ کے فرشتے تھے۔ اللہ نے ان سے بھی آدم کو سجدہ کروایا اور اس طرح سب مخلوق پر واضح کردیا کہ انسان ہی اشرف المخلوقات ہے۔ پھر انسان کا بچہ جو باقی تمام جانوروں کے بچوں سے کمزور پیدا ہوتا ہے اسے اتنی عقل عطا کی کہ وہ دنیا جہاں کی چیزوں کو اپنے کام میں لائے۔ بڑے بڑے جسیم اور طاقتور جانوروں کو رام کرکے ان پر سواری کرے۔ دریاؤں اور سمندروں میں کشتیاں اور جہاز چلا کر سمندر کی پیٹھ پر سوار ہو۔ تمام مخلوق کے مقابلہ میں کھانے کے لیے اعلیٰ سے اعلیٰ ، لذیذ سے لذیذ اور صاف ستھرے کھانے اپنی خوراک کے لیے تیار کرے۔ اعلیٰ سے اعلیٰ لباس اور رہائش کے لیے مکان تعمیر کرے۔ یعنی جتنا اقتدار و اختیار اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کیا ہے اتنا دوسری کسی مخلوق کو عطا نہیں کیا گیا اور یہ سب کچھ یقیناً اللہ ہی کی بخشش اور اس کا کرم ہے پھر اس سے بڑھ کر حماقت اور ضلالت اور کیا ہوسکتی ہے کہ انسان دوسری مخلوقات کے مقابلہ میں ایسے بلند مرتبہ پر فائز ہو کر اللہ کے سوائے اس کی دوسری مخلوق کے سامنے سرجھکانے لگے ؟ یا اپنے ہی جیسے کسی محتاج بندے کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنے لگے ؟