5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفہیم القرآن

Ayahs 5:103–104

مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآئِبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍ١ۙ وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:103 in the Quran reader

اللہ نے نہ کوئی بَحِیرہ مقرر کیا ہے نہ سائبَہ اور نہ وَصیْلہ اور نہ حام۔118 مگر یہ کافر اللہ پر جُھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر بے عقل ہیں (کہ ایسے وہمیّات کو مان رہے ہیں)

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 5:104 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ اُس قانون کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے اور آؤ پیغمبرؐ کی طرف تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہمارے لیے تو بس وہی طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے کیا یہ باپ دادا ہی کی تقلید کیے چلے جائیں گے خواہ وہ کچھ نہ جانتے ہوں اور صحیح راستہ کی انہیں خبر ہی نہ ہو؟

سورة الْمَآىِٕدَة 118 جس طرح ہمارے ملک میں گائے، بیل اور بکرے خدا کے نام پر یا کسی بت یا قبر یا دیوتا یا پیر کے نام پر چھوڑ دیے جاتے ہیں، اور ان سے کوئی خدمت لینا یا انہیں ذبح کرنا یا کسی طور پر ان سے فائدہ اٹھانا حرام سمجھا جاتا ہے، اسی طرح زمانہ جاہلیت میں اہل عرب بھی مختلف طریقوں سے جانوروں کو ین کرکے چھوڑ دیا کرتے تھے اور ان طریقوں سے چھوڑے ہوئے جانوروں کے الگ الگ نام رکھتے تھے۔ بحیرہ اس اونٹنی کو کہتے تھے جو پانچ دفعہ بچے جن چکی ہو اور آخری بار اس کے ہاں نر بچہ ہوا ہو۔ اس کا کان چیر کر اسے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔ پھر نہ کوئی اس پر سوار ہوتا، نہ اس کا دودھ پیا جاتا، نہ اسے ذبح کیا جاتا، نہ اس کا اون اتارا جاتا۔ اسے حق تھا کہ جس کھیت اور جس چراگاہ میں چاہے چرے اور جس گھاٹ سے چاہے پانی پیے۔ سائبہ اس اونٹ یا اونٹنی کو کہتے تھے جسے کسی منت کے پورا ہونے یا کسی بیماری سے شفا پانے یا کسی خطرے سے بچ جانے پر بطور شکرانہ کے پن کردیا گیا ہو۔ نیز جس اونٹنی نے دس مرتبہ بچے دیے ہوں اور ہر بار مادہ ہی جنی ہو اسے بھی آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔ وصیلہ اگر بکری کا پہلا بچہ نر ہوتا تو وہ خداؤں کے نام پر ذبح کردیا جاتا، اور اگر وہ پہلی بار مادہ جنتی تو اسے اپنے لیے رکھ لیا جاتا تھا۔ لیکن اگر نر اور مادہ ایک ساتھ پیدا ہوتے تو نر کو ذبح کرنے کے بجائے یونہی خداؤں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا تھا اور اس کا نام وصیلہ تھا۔ حام اگر کسی اونٹ کا پوتا سواری دینے کے قابل ہوجاتا تو اس بوڑھے اونٹ کو آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔ نیز اگر کسی اونٹ کے نطفہ سے دس بچے پیدا ہوجاتے تو اسے بھی آزادی مل جاتی۔
Ayah 5:105

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ۚ لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:105 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی فکر کرو، کسی دُوسرے کی گمراہی سے تمہارا کُچھ نہیں بگڑتا اگر تم خود راہِ راست پر ہو،119 اللہ کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو

سورة الْمَآىِٕدَة 119 یعنی بجائے اس کے کہ آدمی ہر وقت یہ دیکھتا رہے کہ فلاں کیا کر رہا ہے اور فلاں کے عقیدے میں کیا خرابی ہے اور فلاں کے اعمال میں کیا برائی ہے، اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ خود کیا کر رہا ہے۔ اسے فکر اپنے خیالات کی، اپنے اخلاق اور اعمال کی ہونی چاہیے کہ وہ کہیں خراب نہ ہوں۔ اگر آدمی خود اللہ کی اطاعت کر رہا ہے، خدا اور بندوں کے جو حقوق اس پر عائد ہوتے ہیں انہیں ادا کر رہا ہے، اور راست روی و راست بازی کے مقتضیات پورے کر رہا ہے، جن میں لازماً امر بالمعروف و نہی عن المنکر بھی شامل ہے، تو یقیناً کسی شخص کی گمراہی و کج روی اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہوسکتی۔ اس آیت کا یہ منشاء ہرگز نہیں ہے کہ آدمی بس اپنی نجات کی فکر کرے، دوسروں کی اصلاح کی فکر نہ کرے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اس غلط فہمی کی تردید کرتے ہوئے اپنے ایک خطبہ میں فرماتے ہیں ”لوگو ! تم اس آیت کو پڑھتے ہو اور اس کی غلط تاویل کرتے ہو۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب لوگوں کا حال یہ ہوجائے کہ وہ برائی کو دیکھیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں، ظالم کو ظلم کرتے ہوئے پائیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں، تو بعید نہیں کہ اللہ اپنے عذاب میں سب کو لپیٹ لے۔ خدا کی قسم تم کو لازم ہے کہ بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو، ورنہ اللہ تم پر ایسے لوگوں کو مسلط کر دے گا جو تم میں سب سے بدتر ہوں گے اور وہ تم کو سخت تکلیفیں پہنچائیں گے، پھر تمہارے نیک لوگ خدا سے دعائیں مانگیں گے مگر وہ قبول نہ ہوں گی۔
Ayahs 5:106–108

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا شَهَادَةُ بَیْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِیْنَ الْوَصِیَّةِ اثْنٰنِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ اَوْ اٰخَرٰنِ مِنْ غَیْرِكُمْ اِنْ اَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَاَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةُ الْمَوْتِ١ؕ تَحْبِسُوْنَهُمَا مِنْۢ بَعْدِ الصَّلٰوةِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ اِنِ ارْتَبْتُمْ لَا نَشْتَرِیْ بِهٖ ثَمَنًا وَّ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۙ وَ لَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ١ۙ اللّٰهِ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الْاٰثِمِیْنَ Open ayah 5:106 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے اور وہ وصیّت کررہا ہو تو اس کے لیے شہادت کا نصاب یہ ہے کہ تمہاری جماعت میں سے دو صاحبِ عدل آدمی120 گواہ بنائے جائیں، یا اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور وہاں موت کی مصیبت پیش آجائے تو غیر مسلموں ہی میں سے دو گواہ لے لیے جائیں۔121 پھر اگر کوئی شک پڑجائے تو نماز کے بعد دونوں گواہوں کو مسجد میں روک لیا جائے اور وہ خدا کی قسم کھاکر کہیں کہ ”ہم کسی ذاتی فائدے کے عوض شہادت بیچنے والے نہیں ہیں، اورخواہ کوئی ہمارارشتہ دار ہی کیوں نہ ہو (ہم اس کی رعایت کرنے والے نہیں)، اور نہ خدا واسطے کی گواہی کو ہم چھپانے والے ہیں، اگر ہم نے ایسا کیا تو گناہ گاروں میں شمار ہوں گے“

فَاِنْ عُثِرَ عَلٰۤى اَنَّهُمَا اسْتَحَقَّاۤ اِثْمًا فَاٰخَرٰنِ یَقُوْمٰنِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِیْنَ اسْتَحَقَّ عَلَیْهِمُ الْاَوْلَیٰنِ فَیُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ لَشَهَادَتُنَاۤ اَحَقُّ مِنْ شَهَادَتِهِمَا وَ مَا اعْتَدَیْنَاۤ١ۖ٘ اِنَّاۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:107 in the Quran reader

لیکن اگر پتہ چل جائے کہ ان دونوں نے اپنے آپ کو گناہ میں مبتلا کیا ہے تو پھر ان کی جگہ دو اور شخص جو ان کی بہ نسبت شہادت دینے کے لیے اہل تر ہوں ان لوگوں میں سے کھڑے ہوں جن کی حق تلفی ہوئی ہو، اور وہ خدا کی قسم کھا کر کہیں کہ "ہماری شہادت اُن کی شہادت سے زیادہ بر حق ہے اور ہم نے اپنے گواہی میں کوئی زیادتی نہیں کی ہے، اگر ہم ایسا کریں تو ظالموں میں سے ہوں گے"

ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یَّاْتُوْا بِالشَّهَادَةِ عَلٰى وَجْهِهَاۤ اَوْ یَخَافُوْۤا اَنْ تُرَدَّ اَیْمَانٌۢ بَعْدَ اَیْمَانِهِمْ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اسْمَعُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:108 in the Quran reader

اس طریقہ سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت دیں گے، یا کم از کم اس بات ہی کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد ددسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہو جائے اللہ سے ڈرو اور سنو، اللہ نافرمانی کرنے والوں کو اپنی رہنمائی سے محروم کر دیتا ہے

سورة الْمَآىِٕدَة 120 یعنی دیندار، راست باز اور قابل اعتماد مسلمان۔ سورة الْمَآىِٕدَة 121 اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کے معاملات میں غیر مسلم کو شاہد بنانا صرف اس حالت میں درست ہے جبکہ کوئی مسلمان گواہ بننے کے لیے میسر نہ آسکے۔
Ayah 5:109

یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰهُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اُجِبْتُمْ١ؕ قَالُوْا لَا عِلْمَ لَنَا١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:109 in the Quran reader

جس روز122 اللہ سب رسولوں کو جمع کرکے پُوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا، 123تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ علم نہیں،124 آپ ہی تمام پوشیدہ حقیقتوں کو جانتے ہیں

سورة الْمَآىِٕدَة 122 مراد ہے قیامت کا دن۔ سورة الْمَآىِٕدَة 123 یعنی اسلام کی طرف جو دعوت تم نے دنیا کو دی تھی اس کا کیا جواب دنیا نے تمہیں دیا۔ سورة الْمَآىِٕدَة 124 یعنی ہم تو صرف اس محدود ظاہری جواب کو جانتے ہیں جو ہمیں اپنی زندگی میں ملتا ہوا محسوس ہوا۔ باقی رہا یہ کہ فی الحقیقت ہماری دعوت کا رد عمل کہاں کس صورت میں کتنا ہوا، تو اس کا صحیح علم آپ کے سوا کسی کو نہیں ہوسکتا۔
Ayah 5:110

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ اذْكُرْ نِعْمَتِیْ عَلَیْكَ وَ عَلٰى وَ الِدَتِكَ١ۘ اِذْ اَیَّدْتُّكَ بِرُوْحِ الْقُدُسِ١۫ تُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا١ۚ وَ اِذْ عَلَّمْتُكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ١ۚ وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ بِاِذْنِیْ فَتَنْفُخُ فِیْهَا فَتَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِیْ وَ تُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ تُخْرِجُ الْمَوْتٰى بِاِذْنِیْ١ۚ وَ اِذْ كَفَفْتُ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَنْكَ اِذْ جِئْتَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 5:110 in the Quran reader

پھر تصوّر کرو اس موقع کا جب اللہ فرمائیگا125 کہ ”اے مریم کے بیٹے عیسٰی ؑ! یاد کر میری اس نعمت کو جو میں نے تجھے اور تیری ماں کو عطا کی تھی، میں نے رُوح پاک سے تیری مدد کی، تُو گہوارے میں بھی لوگوں سے بات کرتا تھا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی، میں نے تجھ کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل کی تعلیم دی، تُو میرے حکم سے مٹی کا پُتلا پرندے کی شکل کا بناتا اور اس میں پُھونکتا تھا، اور وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتا تھا ، تُو مادر زاد اندھے کو کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کرتا تھا، تُو مُردوں کو میرے حکم سے نکالتا تھا، 126پھر جب تُو بنی اسرائیل کے پاس صریح نشانیاں لے کر پہنچا اور جو لوگ ان میں سے منکرِ حق تھے انہوں نے کہا کہ یہ نشانیاں جادوگری کے سوا اور کچھ نہیں ہیں تو میں نے ہی تجھے اُن سے بچایا

سورة الْمَآىِٕدَة 125 ابتدائی سوال تمام رسولوں سے بحیثیت مجموعی ہوگا۔ پھر ایک ایک رسول سے الگ الگ شہادت لی جائے گی جیسا کہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بتصریح ارشاد ہوا ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت عیسیٰ ؑ سے جو سوال کیا جائے گا وہ یہاں بطور خاص نقل کیا جارہا ہے۔ سورة الْمَآىِٕدَة 126 یعنی حالت موت سے نکال کر زندگی کی حالت میں لاتا تھا۔
Ayah 5:111

وَ اِذْ اَوْحَیْتُ اِلَى الْحَوَارِیّٖنَ اَنْ اٰمِنُوْا بِیْ وَ بِرَسُوْلِیْ١ۚ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اشْهَدْ بِاَنَّنَا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 5:111 in the Quran reader

اور جب میں نے حواریوں کو اشارہ کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاوٴ تب اُنہوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے اور گواہ رہو کہ ہم مسلم ہیں“127

سورة الْمَآىِٕدَة 127 یعنی حواریوں کا تجھ پر ایمان لانا بھی ہمارے فضل اور توفیق کا نتیجہ تھا، ورنہ تجھ میں تو اتنی طاقت بھی نہ تھی کہ اس جھٹلانے والی آبادی میں ایک ہی تصدیق کرنے والا اپنے بل بوتے پر پیدا کرلیتا۔۔ ضمناً یہاں یہ بھی بتادیا کہ حواریوں کا اصل دین اسلام تھا نہ کہ عیسا ئیت۔
Ayahs 5:112–114

اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:112 in the Quran reader

(128حواریوں کے سلسلہ میں) یہ واقعہ بھی یادرہے کہ جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسٰی ؑ ابنِ مریم ؑ! کیا آپ کا رب ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار سکتا ہے؟ تو عیسٰی ؑ نے کہا اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو

قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:113 in the Quran reader

اُنہوں نے کہا ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ اس خوان سے کھانا کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوں اور ہمیں معلوم ہو جائے کہ آپ نے جو کچھ ہم سے کہا ہے وہ سچ ہے اور ہم اس پر گواہ ہوں

قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ١ۚ وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 5:114 in the Quran reader

اس پر عیسیٰ ابن مریم نے دعا کی "خدایا! ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل کر جو ہمارے لیے اور ہمارے اگلوں پچھلوں کے لیے خوشی کا موقع قرار پائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو، ہم کو رزق دے اور تو بہترین رازق ہے"

سورة الْمَآىِٕدَة 128 چونکہ حواریوں کا ذکر آگیا تھا اس لیے سلسلہ کلام کو توڑ کر جملہ معترضہ کے طور پر یہاں حواریوں ہی کے متعلق ایک اور واقعہ کی طرف بھی اشارہ کردیا گیا جس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ مسیح سے براہ راست جن شاگردوں نے تعلیم پائی تھی وہ مسیح کو ایک انسان اور محض ایک بندہ سمجھتے تھے اور ان کے وہم و گمان میں بھی اپنے مرشد کے خدا یا شریک خدا یا فرزند خدا ہونے کا تصور نہ تھا۔ نیز یہ کہ مسیح نے خود بھی اپنے آپ کو ان کے سامنے ایک بندہ بےاختیار کی حیثیت سے پیش کیا تھا۔ یہاں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ جو گفتگو قیامت کے روز ہونے والی ہے، اس کے اندر اس جملہ معترضہ کا کونسا موقع ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جملہ معترضہ اس گفتگو سے متعلق نہیں ہے جو قیامت کے روز ہوگی بلکہ اس کی اس پیشگی حکایت سے متعلق ہے جو اس دنیا میں کی جا رہی ہے۔ قیامت کی اس ہونے والی گفتگو کا ذکر یہاں کیا ہی اس لیے جا رہا ہے کہ موجودہ زندگی میں عیسائیوں کو اس سے سبق ملے اور وہ راہ راست پر آئیں۔ لہٰذا اس گفتگو کے سلسلہ میں حواریوں کے اس واقعہ کا ذکر بطور ایک جملہ معترضہ کے آنا کسی طرح غیر متعلق نہیں ہے۔
Ayah 5:115

قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 5:115 in the Quran reader

اللہ نے جواب دیا ”میں اُس کو تم پر نازل کرنے والا ہوں،129 مگر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے گا اسے میں ایسی سزا دوں گا جو دُنیا میں کسی کو نہ دی ہوگی“

سورة الْمَآىِٕدَة 129 قرآن اس باب میں خاموش ہے کہ یہ خوان فی الواقع اتارا گیا یا نہیں۔ دوسرے کسی معتبر ذریعہ سے بھی اس سوال کا جواب نہیں ملتا۔ ممکن ہے کہ یہ نازل ہوا ہو اور ممکن ہے کہ حواریوں نے بعد کی خوفناک دھمکی سن کر اپنی درخواست واپس لے لی ہو۔
Ayahs 5:116–120

وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ١ؕ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:116 in the Quran reader

غرض جب (یہ احسانات یاد دلاکر) اللہ فرمائے گا کہ ”اے عیسٰی ؑ بن مریم ؑ ! کیا تُو نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری ماں کو بھی خدا بنالو؟“130 تو وہ جواب میں عرض کرے گا ”سبحان اللہ! میرا یہ کام نہ تھا کہ وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا، اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو آپ کو ضرور علم ہوتا، آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ آپ کے دل میں ہے، آپ تو ساری پوشیدہ حقیقتوں کے عالم ہیں

مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ۚ وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْ١ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 5:117 in the Quran reader

میں نے اُن سے اُس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا آپ نے حکم دیا تھا، یہ کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی میں اُسی وقت تک ان کا نگراں تھا جب تک کہ میں ان کے درمیان تھا جب آپ نے مجھے واپس بلا لیا تو آپ ان پر نگراں تھے اور آپ تو ساری ہی چیزوں پر نگراں ہیں

اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَ١ۚ وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 5:118 in the Quran reader

اب اگر آپ انہیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کر دیں تو آپ غالب اور دانا ہیں"

قَالَ اللّٰهُ هٰذَا یَوْمُ یَنْفَعُ الصّٰدِقِیْنَ صِدْقُهُمْ١ؕ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 5:119 in the Quran reader

تب اللہ فرمائے گا "یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو اُن کی سچائی نفع دیتی ہے، ان کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، یہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے، یہی بڑی کامیابی ہے"

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا فِیْهِنَّ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 5:120 in the Quran reader

زمین اور آسمانوں اور تمام موجودات کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

سورة الْمَآىِٕدَة 130 عیسائیوں نے اللہ کے ساتھ صرف مسیح اور روح القدس ہی کو خدا بنانے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ مسیح کی والدہ ماجدہ حضرت مریم کو بھی ایک مستقل معبود بنا ڈالا۔ حضرت مریم (علیہا السلام) کو اُلُوہیّت یا قُدُّوسیّت کے متعلق کوئی اشارہ تک بائیبل میں موجود نہیں ہے۔ مسیح کے بعد ابتدائی تین سو برس تک عیسائی دنیا اس تخیل سے بالکل ناآشنا تھی۔ تیسری صدی عیسوی کے آخری دور میں اسکندریہ کے بعض علماء دینیات نے پہلی مرتبہ حضرت مریم کے لیے ”اُمّ اللہ“ یا ”مادر خدا“ کے الفاظ استعمال کیے۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ اُلُوہیّت مریم کا عقیدہ اور مریم پرستی کا طریقہ عیسائیوں میں پھیلنا شروع ہوا۔ لیکن اول اول چرچ اسے باقاعدہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھا، بلکہ مریم پرستوں کو فاسد العقیدہ قرار دیتا تھا۔ پھر جب نسطوریَس کے اس عقیدے پر کہ مسیح کی واحد ذات میں دو مستقل جداگانہ شخصیتیں جمع تھیں، مسیحی دنیا میں بحث وجدال کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا تو اس کا تصفیہ کرنے کے لیے سن 431 میں شہر افسوس میں ایک کونسل منعقد ہوئی، اور اس کونسل میں پہلی مرتبہ کلیسا کی سرکاری زبان میں حضرت مریم کے لیے ”مادر خدا“ کا لقب استعمال کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مریم پرستی کا جو مرض اب تک کلیسا کے باہر پھیل رہا تھا وہ اس کے بعد کلیسا کے اندر بھی تیزی کے ساتھ پھیلنے لگا، حتٰی کہ نزول قرآن کے زمانہ تک پہنچتے پہنچتے حضرت مریم اتنی بڑی دیوی بن گئیں کہ باپ، بیٹا اور روح القدس تینوں ان کے سامنے ہیچ ہوگئے۔ ان کے مجسمے جگہ جگہ کلیساؤں میں رکھے ہوئے تھے، ان کے آگے عبادت کے جملہ مراسم ادا کیے جاتے تھے، انہی سے دعائیں مانگی جاتی تھیں، وہی فریاد رس، حاجت روا، مشکل کشا اور بکسیوں کی پشتیبان تھیں، اور ایک مسیحی بندے کے لیے سب سے بڑا ذریعہ اعتماد اگر کوئی تھا تو وہ یہ تھا کہ ”مادر خدا“ کی حمایت و سرپرستی اسے حاصل ہو۔ قیصر جسٹِینَن اپنے ایک قانون کی تمہید میں حضرت مریم (علیہا السلام) کو اپنی سلطنت کا حامی و ناصر قرار دیتا ہے۔ اس کا مشہور جنرل نرسیس میدان جنگ میں حضرت مریم (علیہا السلام) سے ہدایت و رہنمائی طلب کرتا ہے۔ نبی ﷺ کے ہمعصر قیصر ہِرَقْل نے اپنے جھنڈے پر ”مادر خدا“ کی تصویر بنا رکھی تھی اور اسے یقین تھا کہ اس تصویر کی برکت سے یہ جھنڈا سرنگوں نہ ہوگا۔ اگرچہ بعد کی صدیوں میں تحریک اصلاح کے اثر سے پروٹسٹنٹ عیسائیوں نے مریم پرستی کے خلاف شدت سے آواز اٹھائی، لیکن رومن کیتھولک کلیسا آج تک اس مسلک پر قائم ہے۔