5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفہیم القرآن

Ayah 5:26

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:26 in the Quran reader

اللہ نے جواب دیا ”اچھا تو وہ مُلک چالیس (۴۰) سال تک ان پر حرام ہے، یہ زمین میں مارے مارے پھریں گے، 46 ان نافرمانوں کی حالت پر ہرگز ترس نہ کھاوٴ“۔47

سورة الْمَآىِٕدَة 46 اس قصے کی تفصیلات بائیبل کی کتاب گنتی، استثناء اور یشوع میں ملیں گی۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے دشت فاران سے بنی اسرائیل کے 12 سرداروں کو فلسطین کا دورہ کرنے کے لیے بھیجا تاکہ وہاں کے حالات معلوم کر کے آئیں۔ یہ لوگ چالیس دن دورہ کرکے وہاں سے واپس آئے اور انہوں نے قوم کے مجمع عام میں بیان کیا کہ واقعی وہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں، لیکن جو لوگ وہاں بسے ہوئے ہیں وہ زو آور ہیں۔۔۔ ہم اس لائق نہیں ہیں کہ ان لوگوں پر حملہ کریں۔۔۔۔ وہاں جتنے آدمی ہم نے دیکھے وہ سب بڑے قد آور ہیں اور ہم نے وہاں بنی عناق کو بھی دیکھا جو جبار ہیں اور جباروں کی نسل سے ہیں، اور ہم تو اپنی ہی نگاہ میں ایسے تھے جیسے ٹڈے ہوتے ہیں اور ایسے ہی ان کی نگاہ میں تھے، یہ بیان سن کر سارا مجمع چیخ اٹھا کہ " اے کاش ہم مصر ہی میں مر جاتے ! یا کاش اس بیابان ہی میں مرتے ! خداوند کیوں ہم کو اس ملک میں لے جاکر تلوار سے قتل کرانا چاہتا ہے ؟ پھر تو ہماری بیویاں اور بال بچے لوٹ کا مال ٹھیریں گے۔ کیا ہمارے لیے بہتر نہ ہوگا کہ ہم مصر کو واپس چلے جائیں " پھر وہ آپس میں کہنے لگے کہ آؤ ہم کسی کو اپنا سردار بنالیں اور مصر کو لوٹ چلیں۔ اس پر ان بارہ سرداروں میں سے جو فلسطین کے دورے پر بھیجے گئے تھے، دوسردار، یوشع اور کالب اٹھے اور انہوں اس بزدلی پر قوم کو ملامت کی۔ کالب نے کہا " چلو ہم ایک دم جاکر اس ملک پر قبضہ کرلیں، کیونکہ ہم اس قابل ہیں کہ اس پر تصرف کریں " پھر دونوں نے یک زبان ہو کر کہا " اگر خدا ہم سے راضی رہے تو وہ ہم کو اس ملک میں پہنچائے گا۔۔۔۔ فقط اتنا ہو کہ تم خداوند سے بغاوت نہ کرو اور نہ اس ملک کے لوگوں سے ڈرو۔۔۔ اور ہمارے ساتھ خداوند ہے سو ان کا خوف نہ کرو " مگر قوم نے اس کا جواب یہ دیا کہ انہیں سنگسار کردو " آخر کار اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکا اور اس نے فیصلہ فرمایا کہ اچھا اب یوشع اور کالب کے سوا اس قوم کے بالغ مردوں میں سے کوئی بھی اس سرزمین میں داخل نہ ہونے پائے گا۔ یہ قوم چالیس برس تک بےخانماں پھرتی رہے گی یہاں تک کہ جب ان میں سے 20 برس سے لے کر اوپر کی عمر تک کے سب مرد مرجائیں گے اور نئی نسل جوان ہو کر اٹھے تب انہیں فلسطین فتح کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ چناچہ اس فیصلہ خداوندی کے مطابق بنی اسرائیل کو دشت فاران سے شرقی اردن تک پہنچتے پہنچتے پورے 38 برس لگ گئے۔ اس دوران میں وہ سب لوگ مر کھپ گئے جو جوانی کی عمر میں مصر چلے تھے۔ شرق اردن فتح کرنے کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کا بھی انتقال ہوگیا۔ اس کے بعد حضرت یوشع بن نون کے عہد خلاف میں بنی اسرائیل اس قابل ہوئے کہ فلسطین فتح کرسکیں۔ سورة الْمَآىِٕدَة 47 یہاں اس واقعہ کا حوالہ دینے کی غرض سلسلہ بیان پر غور کرنے سے صاف سمجھ میں آجاتی ہے۔ قصہ کے پیرایہ میں دراصل بنی اسرائیل کو یہ جتانا مقصود ہے کہ موسیٰ ؑ کے زمانہ میں نافرمانی، انحراف اور پست ہمتی سے کام لے کر جو سزا تم نے پائی تھی، اب اس سے بہت زیادہ سزا محمد ﷺ کے مقابلہ میں باغیانہ روش اختیار کر کے پاؤ گے۔
Ayah 5:27

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ١ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 5:27 in the Quran reader

اور ذرا انہیں آدم کے دو بیٹوں کا قصّہ بھی بے کم و کاست سُنادو۔ جب اُن دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہ کی گئی۔ اُس نے کہا ”میں تجھے مار ڈالوں گا“۔ اس نے جواب دیا ”اللہ تو متقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے۔48

سورة الْمَآىِٕدَة 48 یعنی تیری قربانی اگر قبول نہیں ہوئی تو یہ میرے کسی قصور کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ تجھ میں تقویٰ نہیں ہے، لہٰذا میری جان لینے کے بجائے تجھ کو اپنے اندر تقویٰ پیدا کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔
Ayah 5:28

لَئِنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:28 in the Quran reader

اگرتُو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اُٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہ اُٹھاوٴں گا،49 میں اللہ ربّ العا لمین سے ڈرتا ہوں

سورة الْمَآىِٕدَة 49 اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے آئے گا تو میں ہاتھ باندھ کر تیرے سامنے قتل ہونے کے لیے بیٹھ جاؤں گا اور مدافعت نہ کروں گا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تو میرے قتل کے درپے ہوتا ہے تو ہو، میں تیرے قتل کے درپے نہ ہوں گا۔ تو میرے قتل کی تدبیر میں لگنا چاہے تو تجھے اختیار ہے، لیکن میں یہ جاننے کے بعد بھی کہ تو میرے قتل کی تیاریاں کر رہا ہے، یہ کوشش نہ کروں گا کہ پہلے میں ہی تجھے مار ڈالوں۔ یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ کسی شخص کا اپنے آپ کو خود قاتل کے آگے پیش کردینا اور ظالمانہ حملہ کی مدافعت نہ کرنا کوئی نیکی نہیں ہے۔ البتہ نیکی یہ ہے کہ اگر کوئی شخص میرے قتل کے درپے ہو اور میں جانتا ہوں کہ وہ میری گھات میں لگا ہوا ہے، تب بھی میں اس کے قتل کی فکر نہ کروں اور اسی بات کو ترجیح دوں کہ ظالمانہ اقدام اس کی طرف سے ہو نہ کہ میری طرف سے۔ یہی مطلب تھا اس بات کا جو آدم ؑ کے اس نیک بیٹے نے کی۔
Ayahs 5:29–30

اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۚ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 5:29 in the Quran reader

میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تُو ہی سمیٹ لے50 اور دوزخی بن کررہے۔ ظالموں کے ظلم کا یہی ٹھیک بدلہ ہے“

فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 5:30 in the Quran reader

آخر کار اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل اس کے لیے آسان کر دیا اور وہ اسے مار کر اُن لوگوں میں شامل ہو گیا جو نقصان اٹھانے والے ہیں

سورة المائدہ 50 یعنی بجائے اس کے کہ ایک دُوسرے کے قتل کی سعی میں ہم دونوں گناہ گار ہوں ، میں اس کو زیادہ بہتر سمجھتا ہوں کہ دونوں کا گناہ تنہا تیرے ہی حصّہ میں آجائے ، تیرے اپنے قاتلانہ اقدام کا گناہ بھی، اور اس نقصان کا گناہ بھی جو اپنی جان بچانے کی کوشش کرتے ہوئے میرے ہاتھ سے تجھے پہنچ جائے۔
Ayah 5:31

فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِ١ؕ قَالَ یٰوَیْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَةَ اَخِیْ١ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ٤ۚۛۙ Open ayah 5:31 in the Quran reader

پھر اللہ نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اُسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چُھپائے۔ یہ دیکھ کر وہ بولا افسوس مجھ پر ! میں اس کوّے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چُھپانے کی تدبیر نکال لیتا۔51 اس کے بعد وہ اپنے کیے پر بہت پچھتایا۔52

سورة الْمَآىِٕدَة 51 اس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک کوے کے ذریعہ سے آدم کے اس غلط کار بیٹے کو اس کی جہالت و نادانی پر متنبہ کیا، اور جب ایک مرتبہ اس کو اپنے نفس کی طرف توجہ کرنے کا موقع مل گیا تو اس کی ندامت صرف اسی بات تک محدود نہ رہی کہ وہ لاش چھپانے کی تدبیر نکالنے میں کوے سے پیچھے کیوں رہ گیا، بلکہ اس کو یہ بھی احساس ہونے لگا کہ اس نے اپنے بھائی کو قتل کر کے کتنی بڑی جہالت کا ثبوت دیا ہے۔ بعد کا فقرہ کہ وہ اپنے کیے پر پچھتایا، اسی مطلب پر دلالت کرتا ہے۔ سورة الْمَآىِٕدَة 52 یہاں اس واقعہ کا ذکر کرنے سے مقصد یہودیوں کو ان کی اس سازش پر لطیف طریقہ سے ملامت کرنا ہے جو انہوں نے نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے جلیل القدر صحابہ کو قتل کرنے کے لیے کی تھی (ملاحظہ ہو اسی سورة کا 30)۔ دونوں واقعات میں مماثلت بالکل واضح ہے۔ یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے عرب کے ان امیوں کو قبولیت کا درجہ عطا فرمایا اور ان پرانے اہل کتاب کو رد کردیا، سراسر اس بنیاد پر تھی کہ ایک طرف تقویٰ تھا اور دوسری طرف تقویٰ نہ تھا۔ لیکن بجائے اس کے کہ وہ لوگ جنہیں رد کردیا گیا تھا، اپنے مردود ہونے کی وجہ پر غور کرتے اور اس قصور کی تلافی کرنے پر مائل ہوتے جس کی وجہ سے وہ رد کیے گئے تھے، ان پر ٹھیک اسی جاہلیت کا دورہ پڑگیا جس میں آدم ؑ کا وہ غلط کار بیٹا مبتلا ہوا تھا، اور اسی کی طرح وہ ان لوگوں کے قتل پر آمادہ ہوگئے جنہیں خدا نے قبولیت عطا فرمائی تھی۔ حالانکہ ظاہر تھا کہ ایسی جاہلانہ حرکتوں سے وہ خدا کے مقبول نہ ہو سکتے تھے، بلکہ یہ کرتوت انہیں اور زیادہ مردود بنا دینے والے تھے۔
Ayah 5:32

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ١ؔۛۚ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ١٘ ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ Open ayah 5:32 in the Quran reader

اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا 53کہ ”جس نے کسی انسان کو خُون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانون کو قتل کردیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی“۔54 مگر اُن کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسُول پے درپے ان کے پاس کُھلی کُھلی ہدایات لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں

سورة الْمَآىِٕدَة 53 یعنی چونکہ بنی اسرائیل کے اندر انہی صفات کے آثار پائے جاتے تھے جن کا اظہار آدم کے اس ظالم بیٹے نے لیا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو قتل نفس سے باز رہنے کی سخت تاکید کی تھی اور اپنے فرمان میں یہ الفاظ لکھے تھے۔ افسوس ہے کہ آج جو بائیبل پائی جاتی ہے وہ فرمان خداوندی کے ان قیمتی الفاظ سے خالی ہے۔ البتہ تلمود میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے ”جس نے اسرائیل کی ایک جان کو ہلاک کیا، کتاب اللہ کی نگاہ میں اس نے گویا ساری دنیا کو ہلاک کیا، اور جس نے اسرائیل کی ایک جان کو محفوظ رکھا، کتاب اللہ کے نزدیک اس نے گویا ساری دنیا کی حفاظت کی“۔ اسی طرح تلمود میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ قتل کے مقدمات میں بنی اسرائیل کے قاضی گواہوں کو خطاب کر کے کہا کرتے تھے کہ ”جو شخص ایک انسان کی جان ہلاک کرتا ہے وہ ایسی باز پرس کا مستحق ہے کہ گویا اس نے دنیا بھر کے انسانوں کو قتل کیا ہے“۔ سورة الْمَآىِٕدَة 54 مطلب یہ ہے کہ دنیا میں نوع انسانی کی زندگی کا بقا منحصر ہے اس پر کہ ہر انسان کے دل میں دوسرے انسانوں کی جان کا احترام موجود ہو اور ہر ایک دوسرے کی زندگی کے بقاء و تحفظ میں مددگار بننے کا جذبہ رکھتا ہو۔ جو شخص ناحق کسی کی جان لیتا ہے وہ صرف ایک ہی فرد پر ظلم نہیں کرتا بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ اس کا دل حیات انسانی کے احترام سے اور ہمدردی نوع کے جذبہ سے خالی ہے، لہٰذا وہ پوری انسانیت کا دشمن ہے، کیونکہ اس کے اندر وہ صفت پائی جاتی ہے جو اگر تمام افراد انسانی میں پائی جائے تو پوری نوع کا خاتمہ ہوجائے۔ اس کے برعکس جو شخص انسان کی زندگی کے قیام میں مدد کرتا ہے وہ درحقیقت انسانیت کا حامی ہے، کیونکہ اس میں وہ صفت پائی جاتی ہے جس پر انسانیت کے بقاء کا انحصار ہے۔
Ayah 5:33

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ١ؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 5:33 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسُول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں 55اُن کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں، یا سُولی پر چڑھائے جائیں، یا اُن کے ہاتھ اور پاوٴں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں، یا وہ جلا وطن کردیے جائیں۔56 یہ ذلّت و رسوائی تو اُن کے لیے دُنیا میں ہے اور آخرت میں اُن کے لیے اس سے بڑی سزا ہے

سورة الْمَآىِٕدَة 55 زمین سے مراد یہاں وہ ملک یا وہ علاقہ ہے جس میں امن و انتظام قائم کرنے کی ذمہ داری اسلامی حکومت نے لے رکھی ہو۔ اور خدا و رسول سے لڑنے کا مطلب اس نظام صالح کے خلاف جنگ کرنا ہے جو اسلام کی حکومت نے ملک میں قائم کر رکھا ہو۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی یہ ہے اور اسی کے لیے اس نے اپنا رسول بھیجا تھا کہ زمین میں ایک ایسا صالح نظام قائم ہو جو انسان اور حیوان اور درخت اور ہر اس چیز کو جو زمین پر ہے، امن بخشے، جس کے تحت انسانیت اپنی فطرت کے کمال مطلوب کو پہنچ سکے، جس کے تحت زمین کے وسائل اس طرح استعمال کیے جائیں کہ وہ انسان کی ترقی میں مددگار ہوں نہ کہ اس کی تباہی و بربادی میں۔ ایسا نظام جب کسی سر زمین میں قائم ہوجائے تو اس کو خراب کرنے کی سعی کرنا، قطع نظر اس سے کہ وہ چھوٹے پیمانے پر قتل و غارت اور رہزنی و ڈکیتی کی حد تک ہو یا بڑے پیمانے پر اس صالح نظام کو الٹنے اور اس کی جگہ کوئی فاسد نظام قائم کردینے کے لیے، دراصل وہ خدا اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف جنگ ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے تعزیرات ہند میں ہر اس شخص کو جو ہندوستان کی برطانوی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرے ”بادشاہ کے خلاف لڑائی“ (Waging war against theKing) کا مجرم قرار دیا گیا، چاہے اس کی کاروائی ملک کے کسی دور دراز گوشے میں ایک معمولی سپاہی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو اور بادشاہ اس کی دسترس سے کتنا ہی دور ہو۔ سورة الْمَآىِٕدَة 56 یہ مختلف سزائیں بر سبیل اجمال بیان کردی گئی ہیں تاکہ قاضی یا امام وقت اپنے اجتہاد سے ہر مجرم کو اس کے جرم کی نوعیت کے مطابق سزا دے۔ اصل مقصود یہ ظاہر کرنا ہے کہ کسی شخص کا اسلامی حکومت کے اندر رہتے ہوئے اسلامی نظام کو الٹنے کی کوشش کرنا بدترین جرم ہے اور اسے ان انتہائی سزاؤں میں سے کوئی سزا دی جاسکتی ہے۔
Ayah 5:34

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْ١ۚ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 5:34 in the Quran reader

مگر جو لوگ توبہ کرلیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پاوٴ۔۔۔۔تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔57

سورة الْمَآىِٕدَة 57 یعنی اگر وہ سعی فساد سے باز آگئے ہوں اور صالح نظام کو درہم برہم کرنے یا الٹنے کی کوشش چھوڑ چکے ہوں اور ان کا بعد کا طرز عمل ثابت کر رہا ہو کہ وہ امن پسند مطیع قانون اور نیک چلن انسان بن چکے ہیں اور اس کے بعد ان کے سابق جرائم کا پتہ چلے تو ان سزاؤں میں سے کوئی سزا ان کو نہ دی جائے گی جو اوپر بیان ہوئی ہیں البتہ دو آدمیوں کے حقوق پر اگر کوئی دست درازی انہوں نے کی تھی تو اس کی ذمہ داری ان پر سے ساقط نہ ہوگی مثلا اگر کسی انسان کو انہوں نے قتل کیا تھا یا کسی کا مال لیا تھا یا کوئی اور جرم انسانی جان ومال کے خلاف کیا تھا تو اسی جرم کے بارے میں فوجداری مقدمہ ان پر قائم کیا جائے گا۔ لیکن بغاوت اور غداری اور خدا و رسول کے خلاف محاربہ کا کوئی مقدمہ نہ چلایا جائے گا۔
Ayahs 5:35–37

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:35 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور اُس کی جناب میں بار یابی کا ذریعہ تلاش کرو58 اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو،59 شاید کہ تمہیں کامیابی نصیب ہوجائے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لِیَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:36 in the Quran reader

خوب جان لو کہ جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہے، اگر اُن کے قبضہ میں ساری زمین کی دولت ہو اور اتنی ہی اور اس کے ساتھ، اور وہ چاہیں کہ اسے فدیہ میں دے کر روز قیامت کے عذاب سے بچ جائیں، تب بھی وہ ان سے قبول نہ کی جائے گی اور انہیں درد ناک سزا مل کر رہے گی

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْهَا١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 5:37 in the Quran reader

وہ چاہیں گے کہ دوزخ کی آگ سے نکل بھاگیں مگر نہ نکل سکیں گے اور انہیں قائم رہنے والا عذاب دیا جائے گا

سورة الْمَآىِٕدَة 58 یعنی ہر اس ذریعہ کے طالب اور جویاں رہوں جس سے تم اللہ کا تقرب حاصل کرسکو اور اس کی رضا کو پہنچ سکو۔ سورة الْمَآىِٕدَة 59 اصل میں لفظ جاھِدُوْ استعمال فرمایا گیا ہے جس کا مفہوم محض ”جدوجہد“ سے پوری طرح واضح نہیں ہوتا۔ مجاہدہ کا لفظ مقابلہ کا مقتضی ہے اور اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ جو قوتیں اللہ کی راہ میں مزاحم ہیں، جو تم کو خدا کی مرضی کے مطابق چلنے سے روکتی اور اس کی راہ سے ہٹانے کی کوشش کرتی ہیں، جو تم کو پوری طرح خدا کی بندہ بن کر نہیں رہنے دیتیں اور تمہیں اپنا یا کسی غیر اللہ کا بندہ بننے پر مجبور کرتی ہیں، ان کے خلاف اپنی تمام امکانی طاقتوں سے کشمکش اور جدوجہد کرو۔ اسی جدوجہد پر تمہاری فلاح و کامیابی کا اور خدا سے تمہارے تقرب کا انحصار ہے۔ اس طرح یہ آیت بندہ مومن کو ہر محاذ پر چومکھی لڑائی لڑنے کی ہدایت کرتی ہے۔ ایک طرف ابلیس لعین اور اس کا شیطانی لشکر ہے۔ دوسری طرف آدمی کا اپنا نفس اور اس کی سرکش خواہشات ہیں۔ تیسری طرف خدا سے پھرے ہوئے بہت سے انسان ہیں جن کے ساتھ آدمی ہر قسم کے معاشرتی، تمدنی اور معاشی تعلقات میں بندھا ہوا ہے۔ چوتھی طرف وہ غلط مذہبی، تمدنی اور سیاسی نظام ہیں جو خدا سے بغاوت پر قائم ہوئے ہیں اور بندگی حق کے بجائے بندگی باطل پر انسان کو مجبور کرتے ہیں۔ ان سب کے حربے مختلف ہیں مگر سب کی ایک ہی کوشش ہے کہ آدمی کو خدا کے بجائے اپنا مطیع بنائیں۔ بخلاف اس کے آدمی کی ترقی کا اور تقرب خداوندی کے مقام تک اس کے عروج کا انحصار بالکلیہ اس پر ہے کہ وہ سراسر خدا کا مطیع اور باطن سے لے کر ظاہر تک خالصتًہ اس کا بندہ بن جائے۔ لہٰذا اپنے مقصود تک اس کا پہنچنا بغیر اس کے ممکن نہیں ہے کہ وہ ان تمام مانع و مزاحم قوتوں کے خلاف بیک وقت جنگ آزما ہو، ہر وقت ہر حال میں ان سے کشمکش کرتا رہے اور ان ساری رکاوٹوں کو پامال کرتا ہوا خدا کی راہ میں بڑھتا چلا جائے۔
Ayah 5:38

وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 5:38 in the Quran reader

اور چور، خواہ عورت ہو یا مرد، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو،60 یہ اُن کی کمائی کا بدلہ ہے اور اللہ کی طرف سے عبرت ناک سزا۔ اللہ کی قدرت سب پر غالب ہے اور وہ دانا ہ بینا ہے

سورة الْمَآىِٕدَة 60 دونوں ہاتھ نہیں بلکہ ایک ہاتھ۔ اور امت کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ پہلی چوری پر سیدھا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ نبی ﷺ نے یہ ہدایت بھی فرمائی ہے کہ لا قطع علیٰ خَائنٍ۔ اس سے معلوم ہوا کہ سرقہ کا اطلاق خیانت وغیرہ پر نہیں ہوتا بلکہ صرف اس فعل پر ہوتا ہے کہ آدمی کسی کے مال کو اس کی حفاظت سے نکال کر اپنے قبضہ میں کرلے۔ پھر نبی ﷺ نے یہ ہدایت بھی فرمائی ہے کہ ایک ڈھال کی قیمت سے کم کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ ایک ڈھال کی قیمت نبی ﷺ کے زمانہ میں بروایت عبداللہ بن عباس ؓ دس درہم، بروایت ابن عمر ؓ تین درہم، بروایت انس بن مالک ؓ پانچ درہم اور بروایت حضرت عائشہ ؓ ایک چوتھائی دینار ہوتی تھی۔ اسی اختلاف کی بنا پر فقہا کے درمیان کم سے کم نصاب سرقہ میں اختلاف ہوا ہے۔ امام ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک سرقہ کا نصاب دس درہم ہے اور امام مالک ؒ امام شافعی ؒ اور امام احمد ؒ کے نزدیک چوتھائی دینار۔ (اس زمانہ کے درہم میں تین ماشہ 1- 1/5 رتی چاندی ہوتی تھی۔ اور ایک چوتھائی دینار 3 درہم کے برابر تھا)۔ (پھر بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ جن کی چوری میں ہاتھ کاٹنے کی سزا نہ دی جائے گی۔ مثلاً نبی ﷺ کی ہدایت ہے کہ لا قطع فی ثمرۃ ولا کثر (پھل اور ترکاری کی چوری میں ہاتھ نہ کاٹا جائے)۔ لاقطع فی طعام (کھانے کی چوری میں قطع ید نہیں ہے۔)۔ اور حضرت عائشہ ؓ کی حدیث ہے کہ لم یکن قطع السارق علی عھد رسول اللہ ﷺ فی الشئ التافہ (حقیر چیزوں کی چوری میں نبی ﷺ کے زمانہ میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تھا)۔ حضرت علی ؓ اور حضرت عثمان ؓ کا فیصلہ ہے اور صحابہ کرام میں سے کسی نے اس سے اختلاف نہیں کیا کہ لا قطع فی الطیر (پرندے کی چوری میں ہاتھ کاٹنے کی سزا نہیں ہے)۔ نیز سیدنا عمر و علی ؓ نے بیت المال سے چوری کرنے والے کا ہاتھ بھی نہیں کاٹا اور اس معاملہ میں بھی صحابہ کرام میں سے کسی کا اختلاف منقول نہیں ہے۔ ان مآخذ کی بنیاد پر مختلف ائمہ فقہ نے مختلف چیزوں کو قطع ید کے حکم سے مستثنٰی قرار دیا ہے۔ امام ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک ترکاریاں، پھل، گوشت، پکا ہوا کھانا، غلہ جس کا ابھی کھلیان نہ کیا گیا ہے، کھیل اور گانے بجانے کے آلات وہ چیزیں ہیں جن کی چوری میں قطع ید کی سزا نہیں ہے۔ نیز جنگل میں چرتے ہوئے جانوروں کی چوری اور بیت المال کی چوری میں بھی وہ قطع ید کے قائل نہیں ہیں۔ اسی طرح دوسرے ائمہ نے بھی بعض چیزوں کو اس حکم سے مستثنٰی قرار دیا ہے۔ لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ان چوریوں پر سرے سے کوئی سزا ہی نہ دی جائے گی۔ مطلب یہ ہے کہ ان جرائم میں ہاتھ نہ کاٹا جائے گا۔
Ayahs 5:39–40

فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ یَتُوْبُ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:39 in the Quran reader

پھر جو ظلم کرنے کے بعد توبہ کرے اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ کی نظرِ عنایت پھر اس پر مائل ہوجائے گی،61 اللہ بہت درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:40 in the Quran reader

کیا تم جانتے نہیں ہو کہ اللہ زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک ہے؟ جسے چاہے سزا دے اور جسے چاہے معاف کر دے، وہ ہر چیز کا اختیار رکھتا ہے

سورة الْمَآىِٕدَة 61 اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کا ہاتھ نہ کاٹا جائے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ہاتھ کٹنے کے بعد جو شخص توبہ کرلے اور اپنے نفس کو چوری سے پاک کر کے اللہ کا صالح بندہ بن جائے وہ اللہ کے غضب سے بچ جائے گا، اور اللہ اس کے دامن سے اس داغ کو دھو دے گا۔ لیکن اگر کسی شخص نے ہاتھ کٹوانے کے بعد بھی اپنے آپ کو بدنیتی سے پاک نہ کیا اور وہی گندے جذبات اپنے اندر پرورش کیے جن کی بنا پر اس نے چوری کی اور اس کا ہاتھ کاٹا گیا، تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ہاتھ تو اس کے بدن سے جدا ہوگیا مگر چوری اس کے نفس میں بدستور موجود رہی، اس وجہ سے وہ خدا کے غضب کا اسی طرح مستحق رہے گا جس طرح ہاتھ کٹنے سے پہلے تھا۔ اسی لیے قرآن مجید چور کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ اللہ سے معافی مانگے اور اپنے نفس کی اصلاح کرے۔ کیونکہ ہاتھ کاٹنا تو انتظام تمدن کے لیے ہے۔ اس سزا سے نفس پاک نہیں ہو سکتا۔ نفس کی پاکی صرف توبہ اور رجوع الی اللہ سے حاصل ہوتی ہے۔ نبی ﷺ کے متعلق احادیث میں مذکور ہے کہ ایک چور کا ہاتھ جب آپ کے حکم کے مطابق کاٹا جا چکا تو آپ ﷺ نے اسے اپنے پاس بلایا اور اس سے فرمایا قل اسْتغفر اللہ واتوب الیہ۔”کہہ میں خدا سے معافی چاہتا ہوں اور اس سے توبہ کرتا ہوں“۔ اس نے آپ ﷺ کی تلقین کے مطابق یہ الفاظ کہے۔ پھر آپ ﷺ نے اس کے حق میں دعا فرمائی کہ اَلّٰھُمَّ تُبْ عَلَیْہِ۔”خدایا اسے معاف فرما دے“۔
Ayah 5:41

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:41 in the Quran reader

اے پیغمبرؐ ! تمہارے لیے باعث رنج نہ ہوں وہ لوگ جو کفر کی راہ میں بڑی تیزگامی دکھا رہے ہیں۔62 خواہ وہ اُن میں سے ہوں جو منّہ سے کہتے ہیں، ہم ایمان لائے مگر دل اُن کے ایمان نہیں لائے، یا اُن میں سے ہوں جو یہودی بن گئے ہیں، جن کا حال یہ ہے کہ جُھوٹ کے لیے کان لگاتے ہیں،63 اور دُوسرے لوگوں کی خاطر، جو تمہارے پاس کبھی نہیں آئے، سُن گُن لیتے پھرتے ہیں،64 کتاب اللہ کے الفاظ کو اُن کا صحیح محل متعیّن ہونے کے باوجود اصل معنی سے پھیرتے ہیں،65 اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو مانو، نہیں تو نہ مانو۔66 جسے اللہ ہی نے فتنہ میں ڈالنے کا ارادہ کرلیاہو اس کو اللہ کی گرفت سے بچانے کے لیے تم کچھ نہیں کرسکتے،67یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا نہ چاہا،68 ان کے لیے دُنیا میں رُسوائی ہے اور آخرت میں سخت سزا

سورة الْمَآىِٕدَة 62 یعنی جن کی ذہانتیں اور سرگرمیاں ساری کی ساری اس کوشش میں صرف ہو رہی ہیں کہ جاہلیت کی جو حالت پہلے سے چلی آرہی ہے وہی برقرار رہے اور اسلام کی یہ اصلاحی دعوت اس بگاڑ کو درست کرنے میں کامیاب نہ ہونے پائے۔ یہ لوگ تمام اخلاقی بندشوں سے آزاد ہو کر نبی ﷺ کے خلاف ہر قسم کی رکیک سے رکیک چالیں چل رہے تھے۔ جان بوجھ کر حق نگل رہے تھے۔ نہایت بےباکی و جسارت کے ساتھ جھوٹ، فریب، دغا اور مکر کے ہتھیاروں سے اس پاک انسان کے کام کو شکست دینے کی کوشش کر رہے تھے جو کام بےغرضی کے ساتھ سراسر خیر خواہی کی بنا پر عام انسانوں کی اور خود ان کی فلاح و بہبود کے لیے شب و روز محنت کر رہا تھا۔ ان کی ان حرکات کو دیکھ دیکھ کر نبی ﷺ کا دل کڑھتا تھا، اور یہ کڑھنا بالکل فطری امر تھا۔ جب کسی پاکیزہ انسان کو پست اخلاق لوگوں سے سابقہ پیش آتا ہے اور وہ محض اپنی جہالت اور خود غرضی و تنگ نظری کی بنا پر اس کی خیر خواہانہ مساعی کو روکنے کے لیے گھٹیا درجہ کی چال بازیوں سے کام لیتے ہیں تو فطرۃً اس کا دل دکھتا ہی ہے۔ پس اللہ تعالیٰ کے ارشاد کا منشا یہ نہیں ہے کہ ان حرکات پر جو فطری رنج آپ کو ہوتا ہے وہ نہ ہونا چاہیے۔ بلکہ منشاء دراصل یہ ہے کہ اس سے آپ دل شکستہ نہ ہوں، ہمت نہ ہاریں، صبر کے ساتھ بندگان خدا کی اصلاح کے لیے کام کیے چلے جائیں۔ رہے یہ لوگ، تو جس قسم کے ذلیل اخلاق انہوں نے اپنے اندر پرورش کیے ہیں ان کی بنا پر یہ روش ان سے عین متوقع ہے، کوئی چیز ان کی اس روش میں خلاف توقع نہیں ہے۔ سورة الْمَآىِٕدَة 63 اس کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ یہ لوگ چونکہ خواہشات کے بندے بن گئے ہیں اس لیے سچائی سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ جھوٹ ہی انہیں پسند آتا ہے اور اسی کو یہ جی لگا کر سنتے ہیں، کیونکہ ان کے نفس کی پیاس اسی سے بجھتی ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ اور مسلمانوں کی مجلسوں میں یہ جھوٹ کی غرض سے آکر بیٹھتے ہیں تاکہ یہاں جو کچھ دیکھیں اور جو باتیں سنیں ان کو الٹے معنی پہنا کر یا ان کے ساتھ اپنی طرف سے غلط باتوں کی آمیزش کر کے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے لوگوں میں پھیلائیں۔ سورة الْمَآىِٕدَة 64 اس کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جاسوس بن کر آتے ہیں اور نبی ﷺ اور مسلمانوں کی مجلسوں میں اس لیے گشت لگاتے پھرتے ہیں کہ کوئی راز کی بات کان میں پڑے تو اسے آپ کے دشمنوں تک پہنچائیں۔ دوسرے یہ کہ جھوٹے الزامات عائد کرنے اور افترا پردازیاں کرنے کے لیے مواد فراہم کرتے پھرتے ہیں تاکہ ان لوگوں میں بدگمانیاں اور غلط فہمیاں پھیلائیں جن کو نبی ﷺ اور مسلمانوں سے براہ راست تعلقات پیدا کرنے کا موقع نہیں ملا ہے۔ سورة الْمَآىِٕدَة 65 یعنی توراۃ کے جو احکام ان کی خواہشات کے مطابق نہیں ہیں۔ ان کے اندر جان بوجھ کر رد و بدل کرتے ہیں اور الفاظ کے معنی بدل کر من مانے احکام ان سے نکالتے ہیں۔ سورة الْمَآىِٕدَة 66 یعنی جاہل عوام سے کہتے ہیں کہ جو حکم ہم بتا رہے ہیں، اگر محمد ﷺ بھی یہی حکم تمہیں بتائیں تو اسے قبول کرنا ورنہ رد کردینا۔ سورة الْمَآىِٕدَة 67 “ اللہ کی طرف سے کسی کے فتنہ میں ڈالے جانے کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے اندر اللہ تعالیٰ کسی قسم کے برے میلانات پرورش پاتے دیکھتا ہے اس کے سامنے پے در پے ایسے مواقع لاتا ہے جن میں اس کی سخت آزمائش ہوتی ہے۔ اگر وہ شخص ابھی برائی کی طرف پوری طرح نہیں جھکا ہے تو ان آزمائشوں سے سنبھل جاتا ہے اور اس کے اندر بدی کا مقابلہ کرنے کے لیے نیکی کی جو قوتیں موجود ہوتی ہیں وہ ابھر آتی ہیں۔ لیکن اگر وہ برائی کی طرف پوری طرح جھک چکا ہوتا ہے اور اس کی نیکی اس کی بدی سے اندر ہی شکست کھا چکی ہوتی ہے تو ہر ایسی آزمائش کے موقع پر وہ اور زیادہ بدی کے پھندے میں پھنستا چلا جاتا ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ کا وہ فتنہ ہے جس سے کسی بگڑتے ہوئے انسان کو بچا لینا اس کے کسی خیر خواہ کے بس میں نہیں ہوتا۔ اور اس فتنہ میں صرف افراد ہی نہیں ڈالے جاتے بلکہ قومیں بھی ڈالی جاتی ہیں۔ سورة الْمَآىِٕدَة 68 اس لیے کہ انہوں نے خود پاک ہونا نہ چاہا۔ جو خود پاکیزگی کا خواہش مند ہوتا ہے اور اس کے لیے کوشش کرتا ہے اسے پاکیزگی سے محروم کرنا اللہ کا دستور نہیں ہے۔ اللہ پاک کرنا اسی کو نہیں چاہتا جو خود پاک ہونا نہ چاہے۔
Ayah 5:42

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 5:42 in the Quran reader

یہ جُھوٹ سُننے والے اور حرام کے مال کھانے والے ہیں،69 لہٰذا اگر یہ تمہارے پاس (اپنے مقدمات لے کر) آئیں تو تمہیں اختیار دیا جاتا ہے کہ چاہو ان کا فیصلہ کرو ورنہ انکار کردو۔ انکار کردو تو یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے، اور فیصلہ کرو تو پھر ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔۔۔۔70

سورة الْمَآىِٕدَة 69 یہاں خاص طور پر ان کے مفتیوں اور قاضیوں کی طرف اشارہ ہے جو جھوٹی شہادتیں لے کر اور جھوٹی رودادیں سن کر ان لوگوں کے حق میں انصاف کے خلاف فیصلے کیا کرتے تھے جن سے انہیں رشوت پہنچ جاتی تھی یا جن کے ساتھ ان کے ناجائز مفاد وابستہ ہوتے تھے۔ سورة الْمَآىِٕدَة 70 یہودی اس وقت تک اسلامی حکومت کی باقاعدہ رعایا نہیں بنے تھے بلکہ اسلامی حکوت کے ساتھ ان کے تعلقات معاہدات پر مبنی تھے۔ ان معاہدات کی رو سے یہودیوں کو اپنے اندرونی معاملات میں آزادی حاصل تھی اور ان کے مقدمات کے فیصلے انہی کے قوانین کے مطابق ان کے اپنے جج کرتے تھے۔ نبی ﷺ کے پاس یا آپ کے مقرر کردہ قاضیوں کے پاس اپنے مقدمات لانے کے لیے وہ ازروئے قانون مجبور نہ تھے۔ لیکن یہ لوگ جن معاملات میں خود اپنے مذہبی قانون کے مطابق فیصلہ کرنا نہ چاہتے تھے ان کا فیصلہ کرانے کے لیے نبی ﷺ کے پاس اس امید پر آجاتے تھے کہ شاید آپ کی شریعت میں ان کے لیے کوئی دوسرا حکم ہو اور اس طرح وہ اپنے مذہبی قانون کی پیروی سے بچ جائیں۔ یہاں خاص طور پر جس مقدمہ کی طرف اشارہ ہے وہ یہ تھا کہ خیبر کے معزز یہودی خاندانوں میں سے ایک عورت اور ایک مرد کے درمیان ناجائز تعلق پایا گیا۔ توراۃ کی رو سے ان کی سزا رجم تھی، یعنی یہ کہ دونوں کو سنگسار کیا جائے (استثناء۔ باب 22۔ آیت 23۔ 24) لیکن یہودی اس سزا کو نافذ کرنا نہیں چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ اس مقدمہ میں محمد ﷺ کو پنچ بنایا جائے۔ اگر وہ رجم کے سوا کوئی اور حکم دیں تو قبول کرلیا جائے اور رجم ہی کا حکم دیں تو نہ قبول کیا جائے۔ چناچہ مقدمہ آپ کے سامنے لایا گیا۔ آپ نے رجم کا حکم دیا۔ انہوں نے اس حکم کو ماننے سے انکار کیا۔ اس پر آپ نے پوچھا تمہارے مذہب میں اس کی کیا سزا ہے ؟ انہوں نے کہا کوڑے مارنا اور منہ کالا کر کے گدھے پر سوار کرنا۔ آپ نے ان کے علماء کو قسم دے کر ان سے پوچھا، کیا توراۃ میں شادی شدہ زانی اور زانیہ کی یہی سزا ہے ؟ انہوں نے پھر وہ جھوٹا جواب دیا۔ لیکن ان میں سے ایک شخص ابن صوریا، جو خود یہودیوں کے بیان کے مطابق اپنے وقت میں توارۃ کا سب سے بڑا عالم تھا، خاموش رہا۔ آپ نے اس سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ میں تجھے اس خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس نے تم لوگوں کو فرعون سے بچایا اور طور پر تمہیں شریعت عطا کی، کیا واقعی توراۃ میں زنا کی یہی سزا لکھی ہے ؟ اس نے جواب دیا کہ ”اگر آپ مجھے ایسی بھاری قسم نہ دیتے تو میں نہ بتاتا۔ واقعہ یہ ہے کہ زنا کی سزا تو رجم ہی ہے مگر ہمارے ہاں جب زنا کی کثرت ہوئی تو ہمارے حکام نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ بڑے لوگ زنا کرتے تو انہیں چھوڑ دیا جاتا اور چھوٹے لوگوں سے یہی حرکت سرزد ہوتی تو انہیں رجم کردیا جاتا۔ پھر جب اس سے عوام میں ناراضی پیدا ہونے لگی تو ہم نے توراۃ کے قانون کو بدل کر یہ قاعدہ بنا لیا کہ زانی اور زانیہ کو کوڑے لگائے جائیں اور انہیں منہ کالا کر کے گدھے پر الٹے منہ سوار کیا جائے۔“ اس کے بعد یہودیوں کے لیے کچھ بولنے کی گنجائش نہ رہی اور نبی ﷺ کے حکم سے زانی اور زانیہ کو سنگسار کردیا گیا۔
Ayah 5:43

وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 5:43 in the Quran reader

اور یہ تمہیں کیسے حَکم بناتے ہیں جبکہ ان کے پاس توراة موجود ہے جس میں اللہ کا حکم لکھا ہوٴا ہے اور پھر یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں؟71 اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے

سورة الْمَآىِٕدَة 71 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی بددیانتی کو بالکل بےنقاب کردیا ہے۔ یہ ”مذہبی لوگ“ جنہوں نے تمام عرب پر اپنی دینداری اور اپنے علم کتاب کا سکہ جما رکھا تھا، ان کی حالت یہ تھی کہ جس کتاب کو خود کتاب اللہ مانتے تھے اور جس پر ایمان رکھنے کے مدعی تھے اس کے حکم کو چھوڑ کر نبی ﷺ کے پاس اپنا مقدمہ لائے تھے جن کے پیغمبر ہونے سے ان کو بشدت انکار تھا۔ اس سے یہ راز بالکل فاش ہوگیا کہ یہ کسی چیز پر بھی صداقت کے ساتھ ایمان نہیں رکھتے، دراصل ان کا ایمان اپنے نفس اور اس کی خواہشات پر ہے، جسے کتاب اللہ مانتے ہیں اس سے صرف اس لیے منہ موڑتے ہیں کہ اس کا حکم ان کے نفس کو ناگوار ہے، اور جسے معاذاللہ جھوٹا مدعی نبوت کہتے ہیں اس کے پاس صرف اس امید پر جاتے ہیں کہ شاید وہاں سے کوئی ایسا فیصلہ حاصل ہوجائے جو ان کے منشاء کے مطابق ہو۔
Ayah 5:44

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 5:44 in the Quran reader

ہم نے توراة نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی۔ سارے نبی، جو مُسلِم تھے، اُسی کے مطابق ان یہودی بن جانے والوں کے معاملات72 کا فیصلہ کرتے تھے، اور اِسی طرح ربّانی اور اَحبار بھی 73(اسی پر فیصلہ کا مدار رکھتے تھے) کیونکہ انہیں کتاب اللہ کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے۔ پس (اے گروہِ یہود !) تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے لے کر بیچنا چھوڑ دو۔ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں

سورة الْمَآىِٕدَة 72 یہاں ضمناً اس حقیقت پر بھی متنبہ کردیا گیا کہ انبیاء سب کے سب ”مسلم“ تھے، بخلاف اس کے یہ یہودی ”اسلام“ سے ہٹ کر اور فرقہ بندی میں مبتلا ہو کر صرف ”یہودی“ بن کر رہ گئے تھے۔ سورة الْمَآىِٕدَة 73 ربانی = علماء۔ احبار = فقہاء
Ayah 5:45

وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 5:45 in the Quran reader

توراة میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت، اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ۔74 پھر جو قصاص کا صدقہ کردے تو وہ اس کے لیے کَفّارہ ہے،75 اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں

سورة الْمَآىِٕدَة 74 تقابل کے لیے ملاحظہ ہو توراۃ کی کتاب خروج، باب 21۔ آیت 23-25۔ سورة الْمَآىِٕدَة 75 یعنی جو شخص صدقہ کی نیت سے قصاص معاف کر دے اس کے حق میں یہ نیکی اس کے بہت سے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔ اسی معنی میں نبی ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ من جرح فی جسدہ جراحۃ فتصدق بھا کفر عنہ ذنوبہ بمثل ما تصدق بہ۔ یعنی جس کے جسم میں کوئی زخم لگایا گیا اور اس نے معاف کردیا تو جس درجہ کی یہ معافی ہوگی اسی کے بقدر اس کے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔
Ayah 5:46

وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 5:46 in the Quran reader

پھر ہم نے ان پیغمبروں کے بعد مریم ؑ کے بیٹے عیسٰی ؑ کو بھیجا۔ توراة میں سے جو کچھ اس کے سامنے موجود تھا وہ اس کی تصدیق کرنے والا تھا۔ اور ہم نے اس کو انجیل عطا کی جس میں رہنمائی اور روشنی تھی اور وہ بھی توراة میں سے جو کچھ اُس وقت موجود تھا اُس کی تصدیق کرنے والی تھی76 اور خداترس لوگوں کے لیے سراسر ہدایت اور نصیحت تھی

سورة الْمَآىِٕدَة 76 یعنی مسیح ؑ کوئی نیا مذہب لے کر نہیں آئے تھے بلکہ وہی ایک دین، جو تمام پچھلے انبیاء کا دین تھا، مسیح کا دین بھی تھا اور اسی کی طرف وہ دعوت دیتے تھے۔ توراۃ کی اصل تعلیمات میں سے جو کچھ ان کے زمانہ میں محفوظ تھا اس کو مسیح خود بھی مانتے تھے اور انجیل بھی اس کی تصدیق کرتی تھی (ملاحظہ ہو متی باب 5۔ آیت 17- 18)۔ قرآن اس حقیقت کا بار بار اعادہ کرتا ہے کہ خدا کی طرف سے جتنے انبیاء دنیا کے کسی گوشے میں آئے ہیں ان میں سے کوئی بھی پچھلے انبیاء کی تردید کے لیے اور ان کے کام کو ہٹا کر اپنا نیا مذہب چلانے کے لیے نہیں آیا تھا بلکہ ہر نبی اپنے پیشرو انبیاء کی تصدیق کرتا تھا اور اسی کام کر فروغ دینے کے لیے آتا تھا جسے اگلوں نے ایک پاک ورثہ کی حیثیت سے چھوڑا تھا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی کوئی کتاب اپنی ہی پچھلی کتابوں کی تردید کرنے کے لیے کبھی نہیں بھیجی بلکہ اس کی ہر کتاب پہلے آئی ہوئی کتابوں کی مؤید اور مصدق تھی۔
Ayah 5:47

وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:47 in the Quran reader

ہمارا حکم تھا کہ اہلِ انجیل اس قانون کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں۔77

سورة الْمَآىِٕدَة 77 ”یہاں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے حق میں جو خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں تین حکم ثابت کیے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ کافر ہیں، دوسرے یہ کہ وہ ظالم ہیں، تیسرے یہ کہ وہ فاسق ہیں۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو انسان خدا کے حکم اور اس کے نازل کردہ قانون کو چھوڑ کر اپنے یا دوسرے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین پر فیصلہ کرتا ہے، وہ دراصل تین بڑے جرائم کا ارتکاب کرتا ہے۔ اوّلاً اس کا یہ فعل حکم خداوندی کے انکار کا ہم معنی ہے اور یہ کفر ہے۔ ثانیاً اس کا یہ فعل عدل و انصاف کے خلاف ہے، کیونکہ ٹھیک ٹھیک عدل کے مطابق جو حکم ہوسکتا تھا وہ تو خدا نے دے دیا تھا، اس لیے جب خدا کے حکم سے ہٹ کر اس نے فیصلہ کیا تو ظلم کیا۔ تیسرے یہ کہ بندہ ہونے کے باوجود جب اس نے اپنے مالک کے قانون سے منحرف ہو کر اپنا یا کسی دوسرے کا قانون نافذ کیا تو درحقیقت بندگی و اطاعت کے دائرے سے باہر قدم نکالا اور یہی فسق ہے۔ یہ کفر اور ظلم اور فسق اپنی نوعیت کے اعتبار سے لازماً انحراف از حکم خداوندی کی عین حقیقت میں داخل ہیں۔ ممکن نہیں ہے کہ جہاں وہ انحراف موجود ہو وہاں تینوں چیزیں موجود نہ ہوں۔ البتہ جس طرح انحراف کے درجات و مراتب میں فرق ہے اسی طرح ان تینوں چیزوں کے مراتب میں بھی فرق ہے۔ جو شخص حکم الہٰی کے خلاف اس بنا پر فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اللہ کے حکم کو غلط اور اپنے یا کسی دوسرے انسان کے حکم کو صحیح سمجھتا ہے وہ مکمل کافر اور ظالم اور فاسق ہے۔ اور جو اعتقاداً حکم الہٰی کو برحق سمجھتا ہے مگر عملاً اس کے خلاف فیصلہ کرتا ہے وہ اگرچہ خارج از ملت تو نہیں ہے مگر اپنے ایمان کو کفر، ظلم اور فسق سے مخلوط کر رہا ہے۔ اسی طرح جس نے تمام معاملات میں حکم الہٰی سے انحراف اختیار کرلیا ہے وہ تمام معاملات میں کافر، ظالم اور فاسق ہے۔ اور جو بعض معاملات میں مطیع اور بعض میں منحرف ہے اس کی زندگی میں ایمان و اسلام اور کفر و ظلم و فسق کی آمیزش ٹھیک ٹھیک اسی تناسب کے ساتھ ہے جس تناسب کے ساتھ اس نے اطاعت اور انحراف کو ملا رکھا ہے۔ بعض اہل تفسیر نے ان آیات کے اہل کتاب کے ساتھ مخصوص قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ مگر کلام الہٰی کے الفاظ میں اس تاویل کے لیے کوئی گنجائش موجود نہیں۔ اس تاویل کا بہترین جواب وہ ہے جو حضرت حذیفہ ؓ نے دیا ہے۔ ان سے کسی نے کہا کہ یہ تینوں آیتیں تو بنی اسرائیل کے حق میں ہیں۔ کہنے والے کا مطلب یہ تھا کہ یہودیوں میں جس نے خدا کے نازل کردہ حکم کے خلاف فیصلہ کیا ہو وہی کافر، وہی ظالم اور وہی فاسق ہے۔ اس پر حضرت حذیفہ ؓ نے فرمایا نعم الاخرۃ لکم بنو اسرائیل اَن کانت لھم کل مُرّ ۃ ولکم کل حلوۃ کلّا واللہ لتسلکن طریقھم قدر الشراک۔”کتنے اچھے بھائی ہیں تمہارے لیے یہ بنی اسرائیل کہ کڑوا کڑوا سب ان کے لیے ہے اور میٹھا میٹھا سب تمہارے لیے ! ہرگز نہیں، خدا کی قسم تم انہی کے طریقہ پر قدم بقدم چلو گے۔
Ayahs 5:48–49

وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مُهَیْمِنًا عَلَیْهِ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ عَمَّا جَآءَكَ مِنَ الْحَقِّ١ؕ لِكُلٍّ جَعَلْنَا مِنْكُمْ شِرْعَةً وَّ مِنْهَاجًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَیْرٰتِ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَۙ Open ayah 5:48 in the Quran reader

پھر اے محمد ؐ ! ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اُس کی تصدیق کرنے والی 78اور اس کی محافظ و نگہبَان ہے۔79 لہٰذا تم خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اُس سے مُنّہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔۔۔۔ 80ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہِ عمل مقرر کی۔ اگرچہ تمہارا خدا چاہتا تو تم سب کو ایک اُمّت بھی بناسکتا تھا، لیکن اُس نے یہ اِس لیے کیا کہ جو کچھ اُس نے تم لوگوں کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے۔ لہٰذا بھلائیوں میں ایک دُوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ آخر کار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتادے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے 81ہو

وَ اَنِ احْكُمْ بَیْنَهُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ وَ احْذَرْهُمْ اَنْ یَّفْتِنُوْكَ عَنْۢ بَعْضِ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَیْكَ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ اَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّصِیْبَهُمْ بِبَعْضِ ذُنُوْبِهِمْ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ لَفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:49 in the Quran reader

82پس اے محمدؐ ! تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر اُس ہدایت سے ذرہ برابر منحرف نہ کرنے پائیں جو خدا نے تمہاری طرف نازل کی ہے پھر اگر یہ اس سے منہ موڑیں تو جان لو کہ اللہ نے ان کے بعض گناہوں کی پاداش میں ان کو مبتلائے مصیبت کرنے کا ارادہ ہی کرلیا ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ اِن لوگوں میں سے اکثر فاسق ہیں

سورة الْمَآىِٕدَة 78 یہاں ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ اگرچہ اس مضمون کو یوں بھی ادا کیا جاسکتا تھا کہ ”پچھلی کتابوں“ میں سے جو کچھ اپنی اصلی اور صحیح صورت پر باقی ہے، قرآن اس کی تصدیق کرتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ”پچھلی کتابوں“ کے بجائے ”الکتاب“ کا لفظ استعمال فرمایا۔ اس سے یہ راز منکشف ہوتا ہے کہ قرآن اور تمام وہ کتابیں جو مختلف زمانوں اور مختلف زبانوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئیں، سب فی الاصل ایک ہی کتاب ہیں۔ ایک ہی ان کا مصنف ہے، ایک ہی ان کا مدعا اور مقصد ہے، ایک ہی ان کی تعلیم ہے، اور ایک ہی علم ہے جو ان کے ذریعہ سے نوع انسانی کو عطا کیا گیا۔ فرق اگر ہے تو عبارات کا ہے جو ایک ہی مقصد کے لیے مختلف مخاطبوں کے لحاظ سے مختلف طریقوں سے اختیار کی گئیں۔ پس حقیقت صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ یہ کتابیں ایک دوسرے کی مخالف نہیں، مؤ ید ہیں، تردید کرنے والی نہیں، تصدیق کرنے والی ہیں۔ بلکہ اصل حقیقت اس سے کچھ بڑھ کر ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ سب ایک ہی ”الکتاب“ کے مختلف ایڈیشن ہیں۔ سورة الْمَآىِٕدَة 79 اصل میں لفظ ”مُھَیْمِنْ“ استعمال ہوا ہے۔ عربی میں ھیمن یھمن ھیمنۃ کے معنی محافظت، نگرانی، شہادت، امانت، تائد اور حمایت کے ہیں۔ ھیمن الرجل الشئ، یعنی آدمی نے فلاں چیز کی حفاظت و نگہبانی کی۔ ھیمن الطائر علیٰ فراخہ، یعنی پرندے نے اپنے چوزے کو اپنے پروں میں لے کر محفوض کرلیا۔ حضرت عمر ؓ نے ایک مرتبہ لوگوں سے کہا انی داعٍ فھیمنوا یعنی میں دعا کرتا ہوں تم تائید میں آمین کہو۔ اسی سے لفظ ھمیان ہے جسے اردو میں ہمیانی کہتے ہیں، یعنی وہ تھیلی جس میں آدمی اپنا مال رکھ کر محفوظ کرتا ہے۔ پس قرآن کو ”الکتاب“ پر مھیمن کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ان تمام بر حق تعلیمات کو جو پچھلی کتب آسمانی میں دی گئی تھیں، اپنے اندر لے کر محفوظ کرلیا ہے۔ وہ ان پر نگہبان ہے اس معنی میں کہ اب ان کی تعلیمات برحق کا کوئی حصہ ضائع نہ ہونے پائے گا۔ وہ ان کا مؤید ہے اس معنی میں کہ ان کتابوں کے اندر خدا کا کلام جس حد تک موجود ہے قرآن سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ وہ ان پر گواہ ہے اس معنی میں کہ ان کتابوں کے اندر خدا کے کلام اور لوگوں کے کلام کی جو آمیزش ہوگئی ہے قرآن کی شہادت سے اس کو پھر چھانٹا جاسکتا ہے، جو کچھ ان میں قرآن کے مطابق ہے وہ خدا کا کلام ہے اور جو قرآن کے خلاف ہے وہ لوگوں کا کلام ہے۔ سورة الْمَآىِٕدَة 80 یہ ایک جملہ معترضہ ہے جس سے مقصود ایک سوال کی توضیح کرنا ہے جو اوپر کے سلسلہ تقریر کو سنے ہوئے مخاطب کے ذہن میں الجھن پیدا کرسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب تمام انبیاء اور تمام کتابوں کا دین ایک ہے، اور یہ سب ایک دوسرے کی تصدیق و تائید کرتے ہوئے آئے ہیں تو شریعت کی تفصیلات میں ان کے درمیان فرق کیوں ہے ؟ کیا بات ہے کہ عبادت کی صورتوں میں، حرام و حلال کی قیود میں اور قوانین تمدن و معاشرت کے فروع میں مختلف انبیاء اور کتب آسمانی کی شریعتوں کے درمیان تھوڑا بہت اختلاف پایا جاتا ہے ؟ سورة الْمَآىِٕدَة 81 یہ مذکورہ بالا سوال کا پورا جواب ہے۔ اس جواب کی تفصیل یہ ہے (1) محض اختلاف شرائع کو اس بات کی دلیل قرار دینا غلط ہے کہ یہ شریعتیں مختلف مآخذ سے ماخوذ اور مختلف سر چشموں سے نکلی ہوئی ہے۔ دراصل وہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے مختلف قوموں کے لیے مختلف زمانوں اور مختلف حالات میں مختلف ضابطے مقرر فرمائے۔ (2) بلاشبہ یہ ممکن تھا کہ شروع ہی سے تمام انسانوں کے لیے ایک ضابطہ مقرر کر کے سب کو ایک امت بنادیا جاتا۔ لیکن وہ فرق جو اللہ تعالیٰ نے مختلف انبیاء کی شریعتوں کے درمیان رکھا اس کے اندر دوسری بہت سی مصلحتوں کے ساتھ ایک بڑی مصلحت یہ بھی تھی کہ اللہ تعالیٰ اس طریقہ سے لوگوں کی آزمائش کرنا چاہتا تھا۔ جو لوگ اصل دین اور اس کی روح اور حقیقت کو سمجھتے ہیں، اور دین میں ان ضوابط کی حقیقی حیثیت کو جانتے ہیں، اور کسی تعصب میں مبتلا نہیں ہیں وہ حق کو جس صورت میں بھی وہ آئے گا پہچان لیں گے اور قبول کرلیں گے۔ ان کو اللہ کے بھیجے ہوئے سابق احکام کی جگہ بعد کے احکام تسلیم کرنے میں کوئی تامل نہ ہوگا۔ بخلاف اس کے جو لوگ روح دین سے بیگانہ ہیں اور ضوابط اور ان کی تفصیلات ہی کو اصل دین سمجھ بیٹھے ہیں، اور جنہوں نے خدا کی طرف سے آئی ہوئی چیزوں پر خود اپنے حاشیے چڑھا کر ان پر جمود اور تعصب اختیار کرلیا ہے وہ ہر اس ہدایت کو رد کرتے چلے جائیں گے جو بعد میں خدا کی طرف سے آئے۔ ان دونوں قسم کے آدمیوں کو ممیز کرنے کے لیے یہ آزمائش ضروری تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے شرائع میں اختلاف رکھا۔ (3) تمام شرائع سے اصل مقصود نیکیوں اور بھلائیوں کو پانا ہے اور وہ اسی طرح حاصل ہو سکتی ہیں کہ جس وقت جو حکم خدا ہو اس کی پیروی کی جائے۔ لہٰذا جو لوگ اصل مقصد پر نگاہ رکھتے ہیں ان کے لیے شرائع کے اختلافات اور مناہج کے فروق پر جھگڑا کرنے کے بجائے صحیح طرز عمل یہ ہے کہ مقصد کی طرف اس راہ سے پیش قدمی کریں جس کو اللہ تعالیٰ کی منظوری حاصل ہو۔ (4) جو اختلافات انسانوں نے اپنے جمود، تعصب، ہٹ دھرمی اور ذہن کی اپج سے خود پیدا کرلیے ہیں ان کا آخری فیصلہ نہ مجلس مناظرہ میں ہوسکتا ہے نہ میدان جنگ میں۔ آخری فیصلہ اللہ تعالیٰ خود کرے گا جبکہ حقیقت بےنقاب کردی جائے گی اور لوگوں پر منکشف ہوجائے گا کہ جن جھگڑوں میں وہ عمریں کھپا کر دنیا سے آئے ہیں ان کی تہ میں ”حق“ کا جوہر کتنا تھا اور باطل کے حاشیے کی قدر۔ سورة الْمَآىِٕدَة 82 یہاں سے پھر وہی سلسلہ تقریر چل پڑتا ہے جو اوپر سے چلا آرہا تھا۔
Ayahs 5:50–51

اَفَحُكْمَ الْجَاهِلِیَّةِ یَبْغُوْنَ١ؕ وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 5:50 in the Quran reader

(اگر یہ خدا کے قانون سے مُنّہ موڑتے ہیں) تو کیا پھر جاہلیّت83 کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَهُوْدَ وَ النَّصٰرٰۤى اَوْلِیَآءَ١ؔۘ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاِنَّهٗ مِنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 5:51 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ، یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہی میں ہے، یقیناً اللہ ظالموں کو اپنی رہنمائی سے محروم کر دیتا ہے

سورة الْمَآىِٕدَة 83 جاہلیت کا لفظ اسلام کے مقابلہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسلام کا طریقہ سراسر علم ہے کیونکہ اس کی طرف خدا نے رہنمائی کی ہے جو تمام حقائق کا علم رکھتا ہے۔ اور اس کے برعکس ہر وہ طریقہ جو اسلام سے مختلف ہے جاہلیت کا طریقہ ہے۔ عرب کے زمانہ قبل اسلام کو جاہلیت کا دور اسی معنی میں کہا گیا ہے کہ اس زمانہ میں علم کے بغیر محض وہم یا قیاس و گمان یا خواہشات کی بنا پر انسانوں نے اپنے لیے زندگی کے طریقے مقرر کرلیے تھے۔ یہ طرز عمل جہاں جس دور میں بھی انسان اختیار کریں اسے بہرحال جاہلیت ہی کا طرز عمل کہا جائے گا۔ مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے وہ محض ایک جزوی علم ہے اور کسی معنی میں بھی انسان کی رہنمائی کے لیے کافی نہیں ہے۔ لہٰذا خدا کے دیے ہوئے علم سے بےنیاز ہو کر جو نظام زندگی اس جزوی علم کے ساتھ ظنون و اوہام اور قیاسات و خواہشات کی آمیزش کر کے بنا لیے گئے ہیں وہ بھی اسی طرح ”جاہلیت“ کی تعریف میں آتے ہیں جس طرح قدیم زمانے کے جاہلی طریقے اس تعریف میں آتے ہیں۔
Ayah 5:52

فَتَرَى الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یُّسَارِعُوْنَ فِیْهِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰۤى اَنْ تُصِیْبَنَا دَآئِرَةٌ١ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِیْنَؕ Open ayah 5:52 in the Quran reader

تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ اُنہی میں دَوڑ دُھوپ کرتے پھرتے ہیں۔ کہتے ہیں ”ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہم کسی مصیبت کے چکّر میں نہ پھنس جائیں“۔84 مگر بعید نہیں کہ اللہ جب تمہیں فیصلہ کُن فتح بخشے گا یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کرے گا 85تو یہ لوگ اپنے اِس نفاق پر جسے یہ دلوں میں چُھپائے ہوئے ہیں نادم ہوں گے

سورة الْمَآىِٕدَة 84 اس وقت تک عرب میں کفر اور اسلام کی کشمکش کا فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ اگرچہ اسلام اپنے پیرو وں کی سرفروشیوں کے سبب سے ایک طاقت بن چکا تھا لیکن مقابل کی طاقتیں بھی زبردست تھیں۔ اسلام کی فتح کا جیسا امکان تھا ویسا ہی کفر کی فتح کا بھی تھا۔ اس لیے مسلمانوں میں جو لوگ منافق تھے وہ اسلامی جماعت میں رہتے ہوئے یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ بھی ربط و ضبط رکھنا چاہتے تھے تاکہ یہ کشمکش اگر اسلام کی شکست پر ختم ہو تو ان کے لیے کوئی نہ کوئی جائے پناہ محفوظ رہے۔ علاوہ بریں اس وقت عرب میں عیسائیوں اور یہودیوں کی معاشی قوت سب سے زیادہ تھی۔ ساہوکارہ بیشتر انہی کے ہاتھ میں تھا۔ عرب کے بہترین سرسبز و شاداب خطے ان کے قبضہ میں تھے۔ ان کی سود خواری کا جال ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔ لہٰذا معاشی اسباب کی بنا پر بھی یہ منافق لوگ ان کے ساتھ اپنے سابق تعلقات برقرار رکھنے کے خواہش مند تھے۔ ان کا گمان تھا کہ اگر اسلام و کفر کی اس کشمکش میں ہمہ تن منہمک ہو کر ہم نے ان سب قوموں سے اپنے تعلقات منقطع کرلیے جن کے ساتھ اسلام اس وقت بر سرپیکار ہے تو یہ فعل سیاسی اور معاشی دونوں حیثیتوں سے ہمارے لیے خطر ناک ہوگا۔ سورة الْمَآىِٕدَة 85 یعنی فیصلہ کن فتح سے کم درجہ کی کوئی ایسی چیز جس سے عموما لوگوں کو یہ یقین ہوجائے کہ ہار جیت کا آخری فیصلہ اسلام ہی کے حق میں ہوگا۔
Ayah 5:53

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ١ۙ اِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ١ؕ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَاَصْبَحُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 5:53 in the Quran reader

اور اُس وقت اہل ایمان کہیں گے ”کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھاکر یقین دلاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں“؟۔۔۔۔ان کے سب اعمال ضائع ہوگئے اور آخر کار یہ ناکام ہ نامراد ہوکر رہے۔86

سورة الْمَآىِٕدَة 86 یعنی جو کچھ انہوں نے اسلام کی پیروی میں کیا، نمازیں پڑھیں، روزے رکھے، زکوٰۃ دی، جہاد میں شریک ہوئے، قوانین اسلام کی اطاعت کی، یہ سب کچھ اس بنا پر ضائع ہوگیا کہ ان کے دلوں میں اسلام کے لیے خلوص نہ تھا اور وہ سب سے کٹ کر صرف ایک خدا کے ہو کر نہ رہ گئے تھے بلکہ اپنی دنیا کی خاطر انہوں نے اپنے آپ کو خدا اور اس کے باغیوں کے درمیان آدھا آدھا بانٹ رکھا تھا۔
Ayahs 5:54–57

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَنْ یَّرْتَدَّ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰهُ بِقَوْمٍ یُّحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّوْنَهٗۤ١ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ١٘ یُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 5:54 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کردے گا جو اللہ کو محبُوب ہوں گے اور اللہ اُن کو محبُوب ہوگا، جو مومنوں پر نرم اور کفّار پر سخت ہوں گے،87 جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔88 یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے

اِنَّمَا وَلِیُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ رٰكِعُوْنَ Open ayah 5:55 in the Quran reader

تمہارے رفیق تو حقیقت میں صرف اللہ اور اللہ کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں

وَ مَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْغٰلِبُوْنَ۠ Open ayah 5:56 in the Quran reader

اور جو اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا رفیق بنا لے اُسے معلوم ہو کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:57 in the Quran reader

ا ے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے پیش رو اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے تمہارے دین کو مذاق اور تفریح کا سامان بنا لیا ہے، اُنہیں اور دوسرے کافروں کو اپنا دوست اور رفیق نہ بناؤ اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو

سورة الْمَآىِٕدَة 87 ”مومنوں پر نرم“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص اہل ایمان کے مقابلے میں اپنی طاقت کبھی استعمال نہ کرے۔ اس کی ذہانت، اس کی ہوشیاری، اس کی قابلیت، اس کا رسوخ و اثر، اس کا مال، اس کا جسمانی زور، کوئی چیز بھی مسلمانوں کو دبانے اور ستانے اور نقصان پہنچانے کے لیے نہ ہو۔ مسلمان اپنے درمیان اس کو ہمیشہ ایک نرم خو، رحم دل، ہمدرد اور حلیم انسان ہی پائیں۔ ”کفار پر سخت“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ایک مومن آدمی اپنے ایمان کی پختگی، دینداری کے خلوص، اصول کی مضبوطی، سیرت کی طاقت اور ایمان کی فراست کی وجہ سے مخلالفین اسلام کے مقابلہ میں پتھر کی چٹان کے مانند ہو کہ کسی طرح اپنے مقام سے ہٹایا نہ جاسکے۔ وہ اسے کبھی موم کی ناک اور نرم چارہ نہ بنائیں۔ انہیں جب بھی اس سے سابقہ پیش آئے ان پر یہ ثابت ہوجائے کہ یہ اللہ کا بندہ مر سکتا ہے مگر کسی قیمت پر بک نہیں سکتا اور کسی دباؤ سے دب نہیں سکتا۔ سورة الْمَآىِٕدَة 88 یعنی اللہ کے دین کی پیروی کرنے میں، اس کے احکام پر عمل درآمد کرنے میں، اور اس دین کی رو سے جو کچھ حق ہے اسے حق اور جو کچھ باطل ہے اسے باطل کہنے میں انہیں کوئی باک نہ ہوگا۔ کسی کی مخالفت، کسی کی طعن وتشنیع، کسی کے اعتراض اور کسی کی پھبتیوں اور آوازوں کی وہ پروا نہ کریں گے۔ اگر رائے عام اسلام کی مخالف ہو اور اسلام کے طریقے پر چلنے کے معنی اپنے آپ کو دنیا بھر میں نکو بنا لینے کے ہوں تب بھی وہ اسی راہ پر چلیں گے جسے وہ سچے دل سے حق جانتے ہیں۔
Ayahs 5:58–59

وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:58 in the Quran reader

جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو وہ اس کا مذاق اُڑاتے اور اس سے کھیلتے ہیں۔89 اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے۔90

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:59 in the Quran reader

اِن سے کہو، "اے اہل کتاب! تم جس بات پر ہم سے بگڑے ہو وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ ہم اللہ پر اور دین کی اُس تعلیم پر ایمان لے آئے ہیں جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور ہم سے پہلے بھی نازل ہوئی تھی، اور تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں؟"

سورة الْمَآىِٕدَة 89 یعنی اذان کی آواز سن کر اس کی نقلیں اتارتے ہیں، تمسخر کے لیے اس کے الفاظ بدلتے اور مسخ کرتے ہیں اور اس پر آوازے کستے ہیں۔ سورة الْمَآىِٕدَة 90 یعنی ان کی یہ حرکتیں محض بےعقلی کا نتیجہ ہیں۔ اگر وہ جہالت اور نادانی میں مبتلا نہ ہوتے تو مسلمانوں سے مذہبی اختلاف رکھنے کے باوجود ایسی خفیف حرکات ان سے سرزد نہ ہوتیں۔ آخر کون معقول آدمی یہ پسند کرسکتا ہے کہ جب کوئی گروہ خدا کی عبادت کے لیے منادی کرے تو اس کا مذاق اڑایا جائے۔
Ayahs 5:60–63

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ Open ayah 5:60 in the Quran reader

پھر کہو ”کیا میں اُن لوگوں کی نشاندہی کروں جن کا انجام خدا کے ہاں فاسقوں کے انجام سے بھی بدتر ہے؟ وہ جن پر خدا نے لعنت کی، جن پر اُس کا غضب ٹوٹا، جن میں سے بندر اور سُور بنائے گئے، جنہوں نے طاغوت کی بندگی کی۔ ان کا درجہ اور بھی زیادہ بُرا ہے اور وہ سَوَاءُ السّبیل سے بہت زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں“۔91

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:61 in the Quran reader

جب یہ تم لوگوں کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، حالانکہ کفر لیے ہوئے آئے تھے اور کفر ہی لیے ہوئے واپس گئے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:62 in the Quran reader

تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں اور حرام کے مال کھاتے ہیں بہت بری حرکات ہیں جو یہ کر رہے ہیں

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:63 in the Quran reader

کیوں اِن کے عُلما٫ اور مشائخ انہیں گناہ پر زبان کھولنے اور حرام کھانے سے نہیں روکتے؟ یقیناً بہت ہی برا کارنامہ زندگی ہے جو وہ تیار کر رہے ہیں

سوْرَةُ الْمَآىِٕدَة 91 لطیف اشارہ ہے خود یہودیوں کی طرف، جن کی اپنی تاریخ یہ کہہ رہی ہے کہ بارہا وہ خدا کے غضب اور اس کی لعنت میں مبتلا ہوئے، سَبْت کا قانون توڑنے پر ان کی قوم کے بہت سے لوگوں کی صورتیں مسخ ہوئیں، حتٰی کہ وہ تنزل کی اس انتہا کو پہنچے کہ طاغوت کی بندگی تک انہیں نصیب ہوئی۔ پس کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آخر تمہاری بےحیائی اور مجرمانہ بےباکی کی کوئی حد بھی ہے کہ خود فسق و فجور اور انتہائی اخلاقی تنزل میں مبتلا ہو اور اگر کوئی دوسرا گروہ خدا پر ایمان لا کر سچی دینداری کا طریقہ اختیار کرتا ہے تو اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑجاتے ہو۔