5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsتفہیم القرآن

Ayahs 5:64–65

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 5:64 in the Quran reader

یہُودی کہتے ہیں اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔۔۔۔92 باندھے گئے ان کے ہاتھ،93 اور لعنت پڑی اِن پر اُس بکواس کی بدولت جو یہ کرتے ہیں۔۔۔۔94 اللہ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں، جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کلام تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی و باطل پرستی میں اُلٹے اضافہ کا موجب بن گیا ہے،95 اور (اس کی پاداش میں) ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے عداوت اور دُشمنی ڈال دی ہے۔ جب کبھی یہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اُس کو ٹھنڈا کردیتا ہے۔ یہ زمین میں فساد پَھیلانے کی سعی کررہے ہیں مگر اللہ فساد برپا کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 5:65 in the Quran reader

اگر (اِس سرکشی کے بجائے) یہ اہل کتاب ایمان لے آتے اور خدا ترسی کی روش اختیار کرتے تو ہم اِن کی برائیاں اِن سے دور کر دیتے اور ان کو نعمت بھری جنتوں میں پہنچاتے

سورة الْمَآىِٕدَة 92 عربی محاورے کے مطابق کسی کے ہاتھ بندھے ہوئے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بخیل ہے، عطا اور بخشش سے اس کا ہاتھ رکا ہوا ہے۔ پس یہودیوں کے اس قول کا مطلب یہ نہیں ہے کہ واقعی اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اللہ بخیل ہے۔ چونکہ صدیوں سے یہودی قوم ذلت و نکبت کی حالت میں مبتلا تھی اور اس کی گزشتہ عظمت محض ایک افسانہ پارینہ بن کر رہ گئی تھی جس کے پھر واپس آنے کا کوئی امکان انہیں نظر نہ آتا تھا، اس لیے بالعموم اپنے قومی مصائب پر ماتم کرتے ہوئے اس قوم کے نادان لوگ یہ بیہودہ فقرہ کہا کرتے تھے کہ معاذ اللہ خدا تو بخیل ہوگیا ہے، اس کے خزانے کا منہ بند ہے، ہمیں دینے کے لیے اس کے پاس آفات اور مصائب کے سوا اور کچھ نہیں رہا۔ یہ بات کچھ یہودیوں تک ہی محدود نہیں، دوسری قوموں کے جہلاء کا بھی یہی حال ہے کہ جب ان پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو خدا کی طرف رجوع کرنے کے بجائے وہ جل جل کر اس قسم کی گستاخانہ باتیں کیا کرتے ہیں۔ سورة الْمَآىِٕدَة 93 یعنی بخل میں یہ خود مبتلا ہیں۔ دنیا میں اپنے بخل اور اپنی تنگ دلی کے لیے ضرب المثل بن چکے ہیں۔ سورة الْمَآىِٕدَة 94 یعنی اس قسم کی گستاخیاں اور طعن آمیز باتیں کر کے یہ چاہیں کہ خدا ان پر مہربان ہوجائے اور عنایات کی بارش کرنے لگے تو یہ کسی طرح ممکن نہیں۔ بلکہ ان باتوں کا الٹا نتیجہ یہ ہے کہ یہ لوگ خدا کی نظر عنایت سے اور زیادہ محروم اور اس کی رحمت سے اور زیادہ دور ہوتے جاتے ہیں۔ سورة الْمَآىِٕدَة 95 یعنی بجائے اس کے کہ اس کلام کو سن کر وہ کوئی مفید سبق لیتے، اپنی غلطیوں اور غلط کاریوں پر متنبہ ہو کر ان کی تلافی کرتے، اور اپنی گری ہوئی حالت کے اسباب معلوم کر کے اصلاح کی طرف متوجہ ہوتے، ان پر اس کا الٹا اثر یہ ہوا ہے کہ ضد میں آکر انہوں نے حق و صداقت کی مخالفت شروع کردی ہے۔ خیر و صلاح کے بھولے ہوئے سبق کو سن کر خود راہ راست پر آنا تو درکنار، ان کی الٹی کوشش یہ ہے کہ جو آواز اس سبق کو یاد دلا رہی ہے اسے دبا دیں تاکہ کوئی دوسرا بھی اسے نہ سننے پائے۔
Ayahs 5:66–67

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 5:66 in the Quran reader

کاش انہوں نے توراة اور انجیل اور اُن دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو اِن کے رب کی طرف سے اِن کے پاس بھیجی گئی تھیں۔ ایسا کرتے تو اِن کے لیے اُوپر سے رزق برستا اور نیچے سے اُبلتا۔96 اگرچہ ان میں کچھ لوگ راست رَو بھی ہیں لیکن ان کی اکثریت سخت بد عمل ہے

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:67 in the Quran reader

اے پیغمبرؐ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے یقین رکھو کہ وہ کافروں کو (تمہارے مقابلہ میں) کامیابی کی راہ ہرگز نہ دکھائے گا

سورة الْمَآىِٕدَة 96 بائیبل کی کتاب احبار (باب 26) اور استثناء (باب 28) ”میں حضرت موسیٰ ؑ کی ایک تقریر نقل کی گئی ہے جس میں انہوں نے بنی اسرائیل کو بڑی تفصیل کے ساتھ بتایا ہے کہ اگر تم احکام الٰہی کی ٹھیک ٹھیک پیروی کرو گے تو کس کس طرح اللہ کی رحمتوں اور برکتوں سے نوازے جاؤ گے، اور اگر کتاب اللہ کو پس پشت ڈال کر نافرمانیاں کرو گے تو کس طرح بلائیں اور مصیبتیں اور تباہیاں ہر طرف سے تم پر ہجوم کریں گی۔ حضرت موسیٰ ؑ کی وہ تقریر قرآن کے اس مختصر فقرے کی بہترین تفسیر ہے۔
Ayah 5:68

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:68 in the Quran reader

صاف کہہ دو کہ ”اے اہلِ کتاب ! تم ہرگز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ توراة اور انجیل اور اُن دُوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں“۔97 ضرور ہے کہ یہ فرمان جو تم پر نازل کیا گیا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور انکار کو اور زیادہ بڑھادے گا۔ 98مگر انکار کرنے والوں کے حال پر کچھ افسوس نہ کرو

سورة الْمَآىِٕدَة 97 توراۃ اور انجیل کو قائم کرنے سے مراد راست بازی کے ساتھ ان کی پیروی کرنا اور انہیں اپنا دستور زندگی بنانا ہے۔ اس موقع پر یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ بائیبل کے مجموعہ کتب مقدسہ میں ایک قسم کی عبارات تو وہ ہیں جو یہودی اور عیسائی مصنفین نے بطور خود لکھی ہیں۔ اور دوسری قسم کی عبارات وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشادات یا حضرت موسیٰ ؑ ، عیسیٰ ؑ اور دوسرے پیغمبروں کے اقوال ہونے کی حیثیت سے منقول ہیں اور جن میں اس بات کی تصریح ہے کہ اللہ نے ایسا فرمایا یا فلاں نبی نے ایسا کہا۔ ان میں سے پہلی قسم کی عبارات کو الگ کر کے اگر کوئی شخص صرف دوسری قسم کی عبارات کا تَتَبُّع کرے تو بآسانی یہ دیکھ سکتا ہے کہ ان کی تعلیم اور قرآن کی تعلیم میں کوئی نمایاں فرق نہیں ہے۔ اگرچہ مترجموں اور ناسخوں اور شارحوں کی دراندازی سے، اور بعض جگہ زبانی راویوں کی غلطی سے، یہ دوسری قسم کی عبارات بھی پوری طرح محفوظ نہیں رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود کوئی شخص یہ محسوس کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ان میں بعینہ اسی خالص توحید کی دعوت دی گئی ہے جس کی طرف قرآن بلا رہا ہے، وہی عقائد پیش کیے گئے ہیں جو قرآن پیش کرتا ہے اور اسی طریق زندگی کی طرف رہنمائی کی گئی ہے جس کی ہدایت قرآن دیتا ہے۔ پس حقیقت یہ ہے کہ اگر یہودی اور عیسائی اسی تعلیم پر قائم رہتے جو ان کتابوں میں خدا اور پیغمبروں کی طرف سے منقول ہے تو یقینا نبی ﷺ کی بعثت کے وقت وہ ایک حق پرست اور راست رو گروہ پائے جاتے اور انہیں قرآن کے اندر وہی روشنی نظر آتی جو پچھلی کتابوں میں پائی جاتی تھی۔ اس صورت میں ان کے لیے نبی ﷺ کی پیروی اختیار کرنے میں تبدیل مذہب کا سرے سے کوئی سوال پیدا ہی نہ ہوتا بلکہ وہ اسی راستہ کے تسلسل میں، جس پر وہ پہلے سے چلے آرہے تھے، آپ کے متبع بن کر آگے چل سکتے تھے۔ سورة الْمَآىِٕدَة 98 یعنی یہ بات سن کر ٹھنڈے دل سے غور کرنے اور حقیقت کو سمجھنے کے بجائے وہ ضد میں آکر اور زیادہ شدید مخالفت شروع کردیں گے۔
Ayahs 5:69–74

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 5:69 in the Quran reader

یقین جانو کہ یہاں اجارہ کسی کا بھی نہیں ہے) مسلمان ہوں یا یہودی، صابی ہوں یا عیسائی، جو بھی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا بے شک اس کے لیے نہ کسی خوف کا مقام ہے نہ رنج کا۔99

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ Open ayah 5:70 in the Quran reader

ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور اُن کی طرف بہت سے رسول بھیجے، مگر جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول اُن کی خواہشات نفس کے خلاف کچھ لے کر آیا تو کسی کو انہوں نے جھٹلایا اور کسی کو قتل کر دیا

وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:71 in the Quran reader

اور اپنے نزدیک یہ سمجھے کہ کوئی فتنہ رونما نہ ہوگا، اس لیے اندھے اور بہرے بن گئے پھر اللہ نے اُنہیں معاف کیا تو اُن میں سے اکثر لوگ اور زیادہ اندھے اور بہرے بنتے چلے گئے اللہ اُن کی یہ سب حرکات دیکھتا رہا ہے

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 5:72 in the Quran reader

یقیناً کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے حالانکہ مسیح نے کہا تھا کہ "اے بنی اسرائیل! اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی" جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا اُس پر اللہ نے جنت حرام کر دی اور اُس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:73 in the Quran reader

یقیناً کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے، حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اگر یہ لوگ اپنی اِن باتوں سے باز نہ آئے تو ان میں سے جس جس نے کفر کیا ہے اُس کو درد ناک سزا دی جائے گی

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:74 in the Quran reader

پھر کیا یہ اللہ سے توبہ نہ کریں گے اور اس سے معافی نہ مانگیں گے؟ اللہ بہت درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے

سورة الْمَآىِٕدَة 99 دیکھئے سورة بقرہ آیت 62 و 80
Ayahs 5:75–76

مَا الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ وَ اُمُّهٗ صِدِّیْقَةٌ١ؕ كَانَا یَاْكُلٰنِ الطَّعَامَ١ؕ اُنْظُرْ كَیْفَ نُبَیِّنُ لَهُمُ الْاٰیٰتِ ثُمَّ انْظُرْ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 5:75 in the Quran reader

مسیح ؑ ابنِ مریم ؑ اِس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسُول تھا، اُس سے پہلے اور بھی بہت سے رسُول گزر چکے تھے، اس کی ماں ایک راستباز عورت تھی، اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے حقیقت کی نشانیاں واضح کرتے ہیں، پھر دیکھو یہ کدھر اُلٹے پھرے جاتے ہیں۔100

قُلْ اَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا١ؕ وَ اللّٰهُ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 5:76 in the Quran reader

اِن سے کہو، کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اُس کی پرستش کرتے ہو جو نہ تمہارے لیے نقصان کا اختیار رکھتا ہے نہ نفع کا؟ حالانکہ سب کی سننے والا اور سب کچھ جاننے والا تو اللہ ہی ہے

سورة الْمَآىِٕدَة 100 ان چند لفظوں میں عیسائیوں کے عقیدہ الوہیت مسیح کی ایسی صاف تردید کی گئی ہے کہ اس سے زیادہ صفائی ممکن نہیں ہے۔ مسیح کے بارے میں اگر کوئی یہ معلوم کرنا چاہے کہ فی الحقیقت وہ کیا تھا تو ان علامات سے بالکل غیر مشتبہ طور پر معلوم کرسکتا ہے کہ وہ محض ایک انسان تھا۔ ظاہر ہے کہ جو ایک عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا، جس کا شجرہ نسب تک موجود ہے، جو انسانی جسم رکھتا تھا، جو ان تمام حدود سے محدود اور ان تمام قیود سے مقید اور ان تمام صفات سے متصف تھا جو انسان کے لیے مخصوص ہیں، جو سوتا تھا، کھاتا تھا، گرمی اور سردی محسوس کرتا تھا، حتٰی کہ جسے شیطان کے ذریعہ سے آزمائش میں بھی ڈالا گیا، اس کے متعلق کون معقول انسان یہ تصور کرسکتا ہے کہ وہ خود خدا ہے یا خدائی میں خدا کا شریک وسہیم ہے۔ لیکن یہ انسانی ذہن کی ضلالت پذیری کا ایک عجیب کرشمہ ہے کہ عیسائی خود اپنی مذہبی کتابوں میں مسیح کی زندگی کو صریحاً ایک انسانی زندگی پاتے ہیں اور پھر بھی اسے خدائی سے متصف قرار دینے پر اصرار کیے چلے جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اس تاریخی مسیح کے قائل ہی نہیں ہیں جو عالم واقعہ میں ظاہر ہوا تھا، بلکہ انہوں نے خود اپنے وہم و گمان سے ایک خیالی مسیح تصنیف کر کے اسے خدا بنا لیا ہے۔
Ayahs 5:77–78

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعُوْۤا اَهْوَآءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَ اَضَلُّوْا كَثِیْرًا وَّ ضَلُّوْا عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ۠ Open ayah 5:77 in the Quran reader

کہو، اے اہلِ کتاب ! اپنے دین میں ناحق غلُو نہ کرو اور اُن لوگوں کے تخیّلات کی پیروی نہ کرو جو تم سے پہلے خود گمراہ ہوئے اور بہتوں کو گمراہ کیا اور ”سَوَاءُالسّبیل“ سے بھٹک گئے۔101

لُعِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَ عِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ Open ayah 5:78 in the Quran reader

بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی اُن پر داؤدؑ اور عیسیٰ ابن مریمؑ کی زبان سے لعنت کی گئی کیونکہ وہ سرکش ہوگئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے

سورة الْمَآىِٕدَة 101 اشارہ ہے ان گمراہ قوموں کی طرف جن سے عیسائیوں نے غلط عقیدہ اور باطل طریقے اخذ کیے۔ خصوصاً فلاسفہ یونان کی طرف، جن کے تخیلات سے متاثر ہو کر عیسائی اس صراط مستقیم سے ہٹ گئے جس کی طرف ابتداءً ان کی رہنمائی کی گئی تھی۔ مسیح کے ابتدائی پیرو جو عقائد رکھتے تھے وہ بڑی حد تک اس حقیقت کے مطابق تھے جس کا مشاہدہ انہوں نے خود کیا تھا اور جس کی تعلیم ان کے ہادی و رہنما نے ان کو دی تھی۔ مگر بعد کے عیسائیوں نے ایک طرف مسیح کی عقیدت اور تعظیم میں غلو کر کے، اور دوسری طرف ہمسایہ قوموں کے اوہام اور فلسفوں سے متاثر ہو کر، اپنے عقائد کی مبالغہ آمیز فلسفیانہ تعبیریں شروع کردیں اور ایک بالکل ہی نیا مذہب تیار کرلیا جس کو مسیح کی اصل تعلیمات سے دور کا واسطہ بھی نہ رہا۔ اس باب میں خود ایک مسیحی عالم دینیات (ریورینڈ چارلس اینڈرسن اسکاٹ) کا بیان قابل ملاحظہ ہے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے چودھویں ایڈیشن میں ”یسوع مسیح“ (Jesus Christ) کے عنوان پر اس نے جو طویل مضمون لکھا ہے اس میں وہ کہتا ہے ”پہلی تین انجیلوں (متی، مرقس، لوقا) میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس سے یہ گمان کیا جاسکتا ہو کہ ان انجیلوں کے لکھنے والے یسوع کو انسان کے سوا کچھ اور سمجھتے تھے۔ ان کی نگاہ میں وہ ایک انسان تھا، ایسا انسان جو خاص طور پر خدا کی روح سے فیض یاب ہوا تھا اور خدا کے ساتھ ایک ایسا غیر منقطع تعلق رکھتا تھا جس کی وجہ سے اگر اس کو خدا کا بیٹا کہا جائے تو حق بجانب ہے۔ خود متی اس کا ذکر بڑھئی کے بیٹے کی حیثیت سے کرتا ہے اور ایک جگہ بیان کرتا ہے کہ پطرس نے اس کو ”مسیح“ تسلیم کرنے کے بعد ”الگ ایک طرف لے جا کر اسے ملامت کی“ (متی 22، 16)۔ لوقا میں ہم دیکھتے ہیں کہ واقعہ صلیب کے بعد یسوع کے دو شاگرد اماؤس کی طرف جاتے ہوئے اس کا ذکر اس حیثیت میں کرتے ہیں کہ ”وہ خدا اور ساری امت کے نزدیک کام اور کلام میں قدرت والا نبی تھا“ (لوقا 19، 24)۔ یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ اگرچہ ”مرقس“ کی تصنیف سے پہلے مسیحیوں میں یسوع کے لیے لفظ ”خداوند“ کا استعمال عام طور پر چل پڑا تھا، لیکن نہ مرقس کی انجیل میں یسوع کو کہیں اس لفظ سے یاد کیا گیا ہے اور نہ متی کی انجیل میں۔ بخلاف اس کے دونوں کتابوں میں یہ لفظ اللہ کے لیے بکثرت استعمال کیا گیا ہے۔ یسوع کے ابتلاء کا ذکر تینوں انجیلیں پورے زور کے ساتھ کرتی ہیں جیسا کہ اس واقعہ کے شایان شان ہے، مگر مرقس کی ”فدیہ“ والی عبارت (مرقس 45، 10) اور آخری فسح کے موقع پر چند الفاظ کو مستثنیٰ کر کے ان کتابوں میں کہیں اس واقعہ کو وہ معنی نہیں پہنائے گئے ہیں جو بعد میں پہنائے گئے۔ حتٰی کہ اس بات کی طرف کہیں اشارہ تک نہیں کیا گیا کہ یسوع کی موت کا انسان کے گناہ اور اس کے کفارہ سے کوئی تعلق تھا“۔ آگے چل کر وہ پھر لکھتا ہے ”یہ بات کہ یسوع خود اپنے آپ کو ایک نبی کی حیثیت سے پیش کرتا تھا اناجیل کی متعدد عبارتوں سے ظاہر ہوتی ہے۔ مثلاً یہ کہ ”مجھے آج اور کل اور پرسوں اپنی راہ پر چلنا ضرور ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ نبی یروشلم سے باہر ہلاک ہو“ (لوقا 23، 13)۔ وہ اکثر اپنا ذکر ”ابن آدم“ کے نام سے کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ یسوع کہیں اپنے آپ کو ”ابن اللہ“ نہیں کہتا۔ اس کے دوسرے ہم عصر جب اس کے متعلق یہ لفظ استعمال کرتے ہیں تو غالباً ان کا مطلب بھی اس کے سوا کچھ نہیں ہوتا کہ وہ اس کو خدا کا ممسوع سمجھتے ہیں۔ البتہ وہ اپنے آپ کو مطلقاً ”بیٹے“ کے لفظ سے تعبیر کرتا ہے۔۔ مزید برآں وہ خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو بیان کرنے کے لیے بھی ”باپ“ کا لفظ اسی اطلاقی شان میں استعمال کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ اس تعلق کے بارے میں وہ اپنے آپ کو منفرد نہیں سمجھتا تھا، بلکہ ابتدائی دور میں دوسرے انسانوں کو بھی خدا کے ساتھ اس خاص گہرے تعلق میں اپنا ساتھی سمجھتا تھا۔ البتہ بعد کے تجربے اور انسانی طبائع کے عمیق مطالعہ نے اسے یہ سمجھنے پر مجبور کردیا کہ اس معاملہ میں وہ اکیلا ہے۔“ پھر یہی مصنف لکھتا ہے ”عید پُنْتِکُسْت کے موقع پر پطرس کے یہ الفاظ کہ ”ایک انسان جو خدا کی طرف سے تھا“ یسوع کو اس حیثیت میں پیش کرتے ہیں جس میں اس کے ہم عصر اس کو جانتے اور سمجھتے تھے۔۔۔۔۔۔ انجیلوں سے ہم کو معلوم ہوتا ہے کہ یسوع بچپن سے جوانی تک بالکل فطری طور پر جسمانی و ذہنی نشو و نما کے مدارج سے گزرا۔ اس کو بھوک پیاس لگتی تھی، وہ تھکتا اور سوتا تھا، وہ حیرت میں مبتلا ہوسکتا تھا اور دریافت احوال کا محتاج تھا، اس نے دکھ اٹھایا اور مرا۔ اس نے صرف یہی نہیں کہ سمیع وبصیر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا بلکہ صریحاً اس سے انکار کیا ہے۔۔۔۔۔۔ درحقیقت اس کے حاضر و ناظر ہونے کا اگر دعویٰ کیا جائے تو یہ اس پورے تصور کے بالکل خلاف ہوگا جو ہمیں انجیلوں سے حاصل ہوتا ہے۔ بلکہ اس دعوے کے ساتھ آزمائش کے واقعہ کو اور گِتَسمْنی اور کھوپڑی کے مقام پر جو واردات گزریں ان میں سے کسی کو بھی مطابقت نہیں دی جاسکتی۔ تاوقتیکہ ان واقعات کو بالکل غیر حقیقی قرار نہ دے دیا جائے، یہ ماننا پڑے گا کہ مسیح جب ان سارے حالات سے گزرا تو وہ انسانی علم کی عام محدودیت اپنے ساتھ لیے ہوئے تھا اور اس محدودیت میں اگر کوئی استثناء تھا تو وہ صرف اسی حد تک جس حد تک پیغمبرانہ بصیرت اور خدا کے یقینی شہود کی بنا پر ہوسکتا ہے۔ پھر مسیح کو قادر مطلق سمجھنے کی گنجائش تو انجیلوں میں اور بھی کم ہے۔ کہیں اس بات کا اشارہ تک نہیں ملتا کہ وہ خدا سے بےنیاز ہو کر خود مختارانہ کام کرتا تھا۔ اس کے برعکس وہ بار بار دعا مانگنے کی عادت سے اور اس قسم کے الفاظ سے کہ ”یہ چیز دعا کے سوا کسی اور ذریعہ سے نہیں ٹل سکتی“ ، اس بات کا صاف اقرار کرتا ہے کہ اس کی ذات بالکل خدا پر منحصر ہے۔ فی الواقع یہ بات ان انجیلوں کے تاریخی حیثیت سے معتبر ہونے کی ایک اہم شہادت ہے کہ اگرچہ ان کی تصنیف و ترتیب اس زمانہ سے پہلے مکمل نہ ہوئی تھی کہ مسیحی کلیسا نے مسیح کو الٰہ سمجھنا شروع کردیا تھا، پھر بھی ان دستاویزوں میں ایک طرف مسیح کے فی الحقیقت انسان ہونے کی شہادت محفوظ ہے اور دوسری طرف ان کے اندر کوئی شہادت اس امر کی موجود نہیں ہے کہ مسیح اپنے آپ کو خدا سمجھتا تھا“۔ اس کے بعد یہ مصنف پھر لکھتا ہے ”وہ سینٹ پال تھا جس نے اعلان کیا کہ واقعہ رفع کے وقت اسی فعل رفع کے ذریعہ سے یسوع پورے اختیارات کے ساتھ ”ابن اللہ“ کے مرتبہ پر علانیہ فائز کیا گیا۔۔۔۔۔۔ یہ ”ابن اللہ“ کا لفظ یقینی طور پر ذانی ابنیت کی طرف ایک اشارہ اپنے اندر رکھتا ہے جسے پال نے دوسری جگہ یسوع کو ”خدا کا اپنا بیٹا“ کہہ کر صاف کردیا ہے۔ اس امر کا فیصلہ اب نہیں کیا جاسکتا کہ آیا وہ ابتدائی عیسائیوں کا گروہ تھا یا پال جس نے مسیح کے لیے ”خداوند“ کا خطاب اصل مذہبی معنی میں استعمال کیا۔ شاید یہ فعل مقدم الذکر گروہ ہی کا ہو۔ لیکن بلاشبہ وہ پال تھا جس نے اس خطاب کو پورے معنی میں بولنا شروع کیا، پھر اپنے مدعا کو اس طرح اور بھی زیادہ واضح کردیا کہ ”خداوند یسوع مسیح“ کی طرف بہت سے وہ تصورات اور اصطلاحی الفاظ منتقل کردیے جو قدیم کتب مقدسہ میں خداوند یَہُوَہ (اللہ تعالیٰ) کے لیے مخصوص تھے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے مسیح کو خدا کی دانش اور خدا کی عظمت کے مساوی قرار دیا اور اسے مطلق معنی میں خدا کا بیٹا ٹھیرایا۔ تاہم متعدد حیثیات اور پہلوؤں سے مسیح کو خدا کے برابر کردینے کے باوجود پال اس کو قطعی طور پر اللہ کہنے سے بار رہا“۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے ایک دوسرے مضمون ”میسحیت (Christianity) میں رورنڈ جارج ولیم ناکس مسیحی کلیسا کے بنیادی عقیدے پر بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے ”عقیدہ تثلیث کا فکری سانچہ یونانی ہے اور یہودی تعلیمات اس میں ڈھالی گئی ہیں۔ اس لحاظ سے یہ ہمارے لیے ایک عجیب قسم کا مرکب ہے، مذہبی خیالات بائیبل کے اور ڈھلے ہوئے ایک اجنبی فلسفے کی صورتوں میں۔ باپ، بیٹا اور روح القدس کی اصطلاحیں یہودی ذرائع کی بہم پہنچائی ہوئی ہیں۔ آخری اصطلاح اگرچہ خود یسوع نے شاذ و نادر ہی کبھی استعمال کی تھی، اور پال نے بھی جو اس کو استعمال کیا اس کا مفہوم بالکل غیر واضح تھا، تاہم یہودی لٹریچر میں یہ لفظ شخصیت اختیار کرنے کے قریب پہنچ چکا تھا۔ پس اس عقیدہ کا مواد یہودی ہے (اگرچہ اس مرکب میں شامل ہونے سے پہلے وہ بھی یونانی اثرات سے مغلوب ہوچکا تھا) اور مسئلہ خالص یونانی۔ اصل سوال جس پر یہ عقیدہ بنا، وہ نہ کوئی اخلاقی سوال تھا نہ مذہبی، بلکہ وہ سراسر ایک فلسفیانہ سوال تھا، یعنی یہ کہ ان تینوں اقانیم (باپ، بیٹے اور روح) کے درمیان تعلق کی حیثیت کیا ہے ؟ کلیسا نے اس کا جو جواب دیا وہ اس عقیدے میں درج ہے جو نیقیا کی کونسل میں مقرر کیا گیا تھا، اور اسے دیکھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی تمام خصوصیات میں بالکل یونانی فکر کا نمونہ ہے“۔ اسی سلسلہ میں انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے ایک اور مضمون تاریخ کلیسا (Church History) کی یہ عبارت بھی قابل ملاحظہ ہے ”تیسری صدی عیسوی کے خاتمہ سے پہلے مسیح کو عام طور پر ”کلام“ کا جسدی ظہور تو مان لیا گیا تھا تاہم بکثرت عیسائی ایسے تھے جو مسیح کی الوہیت کے قائل نہ تھے۔ چوتھی صدی میں اس مسئلہ پر سخت بحثیں چھڑی ہوئی تھیں جن سے کلیسا کی بنیادیں ہل گئی تھیں۔ آخر کار سن 325 میں نیقیا کی کونسل نے الوہیت مسیح کو باضابطہ سرکاری طور پر اصل مسیحی عقیدہ قرار دیا اور مخصوص الفاظ میں اسے مرتب کردیا۔ اگرچہ اس کے بعد بھی کچھ مدت تک جھگڑا چلتا رہا لیکن آخری فتح نیقیا ہی کے فیصلے کی ہوئی جسے مشرق اور مغرب میں اس حیثیت سے تسلیم کرلیا گیا کہ صحیح العقیدہ عیسائیوں کا ایمان اسی پر ہونا چاہیے۔ بیٹے کی الوہیت کے ساتھ روح کی الوہیت بھی تسلیم کی گئی اور اسے اصطباغ کے کلمہ اور رائج الوقت شعائر میں باپ اور بیٹے کے ساتھ جگہ دی گئی۔ اس طرح نیقیا میں مسیح کا جو تصور قائم کیا گیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عقیدہ تثلیث اصل مسیحی مذہب کا ایک جزء لاینفک قرار پا گیا۔ پھر اس دعوے پر کہ ”بیٹے کی الوہیت مسیح کی ذات میں مجسم ہوئی تھی“ ایک دوسرا مسئلہ پیدا ہوا جس پر چوتھی صدی میں اور اس کے بعد بھی مدتوں تک بحث و مناظرہ کا سلسلہ جاری رہا۔ مسئلہ یہ تھا کہ مسیح کی شخصیت میں الوہیت اور انسانیت کے درمیان کیا تعلق ہے ؟ سن 451 میں کالسیڈن کی کونسل نے اس کا یہ تصفیہ کیا کہ مسیح کی ذات میں دو مکمل طبیعتیں مجتمع ہیں، ایک الہٰی طبیعت، دوسری انسانی طبیعت، اور دونوں متحد ہوجانے کے بعد بھی اپنی جداگانہ خصوصیات بلا کسی تغیر و تبدل کے برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ تیسری کونسل میں جو سن 680 میں بمقام قسطنطنیہ منعقد ہوئی، اس پر اتنا اضافہ اور کیا گیا کہ یہ دونوں طبیعتیں اپنی الگ الگ مشیتیں بھی رکھتی ہیں، یعنی مسیح بیک وقت دو مختلف مشیتوں کا حامل ہے۔۔۔۔۔ اس دوران میں مغربی کلیسا نے گناہ اور فضل کے مسئلہ پر بھی خاص توجہ کی اور یہ سوال مدتوں زیر بحث رہا کہ نجات کے معاملہ میں خدا کا کام کیا ہے اور بندے کا کام کیا۔ آخر کار سن 529 میں اور ینج کی دوسری کونسل میں۔۔۔۔۔۔ یہ نظریہ اختیار کیا گیا کہ ہبوط آدم کی وجہ سے ہر انسان اس حالت میں مبتلا ہے کہ وہ نجات کی طرف کوئی قدم نہیں بڑھا سکتا جب تک وہ اس فضل خداوندی سے، جو اصطباغ میں عطا کیا جاتا ہے، نئی زندگی نہ حاصل کرلے۔ اور یہ نئی زندگی شروع کرنے کے بعد بھی اسے حالت خیر میں استمرار نصیب نہیں ہوسکتا جب تک وہ فضل خداوندی دائماً اس کا مددگار نہ رہے۔ اور فضل خداوندی کی یہ دائمی اعانت اسے صرف کیتھولک کلیسا ہی کے توسط سے حاصل رہ سکتی ہے“۔ مسیحی علماء کے ان بیانات سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ ابتداءً جس چیز نے مسیحیوں کو گمراہ کیا وہ عقیدت اور محبت کا غلو تھا۔ اسی غلو کی بنا پر مسیح ؑ کے لیے خداوند اور ابن اللہ کے الفاظ استعمال کیے گئے، خدائی صفات ان کی طرف منسوب کی گئیں، اور کفارہ کا عقیدہ ایجاد کیا گیا، حالانکہ حضرت مسیح ؑ کی تعلیمات میں ان باتوں کے لیے قطعاً کوئی گنجائش موجود نہ تھی۔ پھر جب فلسفہ کی ہوا مسیحیوں کو لگی تو بجائے اس کے کہ یہ لوگ اس ابتدائی گمراہی کو سمجھ کر اس سے بچنے کی سعی کرتے، انہوں نے اپنے گزشتہ پیشواؤں کی غلطیوں کو نباہنے کے لیے ان کی توجیہات شروع کردیں اور مسیح کی اصل تعلیمات کی طرف رجوع کیے بغیر محض منطق اور فلسفہ کی مدد سے عقیدے پر عقیدہ ایجاد کرتے چلے گئے۔ یہی وہ ضلالت ہے جس پر قرآن نے ان آیات میں مسیحیوں کو متنبہ فرمایا ہے۔
Ayahs 5:79–80

كَانُوْا لَا یَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُّنْكَرٍ فَعَلُوْهُ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَ Open ayah 5:79 in the Quran reader

انہوں نے ایک دُوسرے کو بُرے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا، 102 بُرا طرز عمل تھا جو اُنہوں ے اختیار کیا

تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ لَبِئْسَ مَا قَدَّمَتْ لَهُمْ اَنْفُسُهُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ وَ فِی الْعَذَابِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 5:80 in the Quran reader

آج تم اُن میں بکثرت ایسے لوگ دیکھتے ہو جو (اہل ایمان کے مقابلہ میں) کفار کی حمایت و رفاقت کرتے ہیں یقیناً بہت برا انجام ہے جس کی تیاری اُن کے نفسوں نے اُن کے لیے کی ہے، اللہ اُن پر غضب ناک ہو گیا ہے اور وہ دائمی عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں

سورة الْمَآىِٕدَة 102 ہر قوم کا بگاڑ ابتداءً چند افراد سے شروع ہوتا ہے۔ اگر قوم کا اجتماعی ضمیر زندہ ہوتا ہے تو رائے عام ان بگڑے ہوئے افراد کو دبائے رکھتی ہے اور قوم بحیثیت مجموعی بگڑنے نہیں پاتی۔ لیکن اگر قوم ان افراد کے معاملہ میں تساہل شروع کردیتی ہے اور غلط کار لوگوں کو ملامت کرنے کے بجائے انہیں سوسائیٹی میں غلط کاری کے لیے آزاد چھوڑ دیتی ہے، تو پھر رفتہ رفتہ وہی خرابی جو پہلے چند افراد تک محدود تھی، پوری قوم میں پھیل کر رہتی ہے۔ یہی چیز تھی جو آخر کار بنی اسرائیل کے بگاڑ کی موجب ہوئی۔ حضرت داؤد ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کی زبان سے جو لعنت بنی اسرائیل پر کی گئی اس کے لیے ملاحظہ ہو زبور 10 و 50 اور متی 23۔
Ayahs 5:81–86

وَ لَوْ كَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ النَّبِیِّ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَا اتَّخَذُوْهُمْ اَوْلِیَآءَ وَ لٰكِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:81 in the Quran reader

اگر فی الواقع یہ لوگ اللہ اور پیغمبر ؐ اور اُس چیز کے ماننے والے ہوتے جو پیغمبر ؐ پر نازل ہوئی تھی تو کبھی (اہلِ ایمان کے مقابلہ میں) کافروں کو اپنا رفیق نہ بناتے۔ 103مگر ان میں سے تو بیشتر لوگ خدا کی اطاعت سے نکِل چکے ہیں

لَتَجِدَنَّ اَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَهُوْدَ وَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا١ۚ وَ لَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّا نَصٰرٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَ رُهْبَانًا وَّ اَنَّهُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 5:82 in the Quran reader

تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے، اور ایمان لانے والوں کے لیے دوستی میں قریب تر اُن لوگوں کو پا ؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاریٰ ہیں یہ اِس وجہ سے کہ ان میں عبادت گزار عالم اور تارک الدنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور اُن میں غرور نفس نہیں ہے

وَ اِذَا سَمِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَى الرَّسُوْلِ تَرٰۤى اَعْیُنَهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوْا مِنَ الْحَقِّ١ۚ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:83 in the Quran reader

جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اترا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے اُن کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو جاتی ہیں وہ بول اٹھتے ہیں کہ "پروردگار! ہم ایمان لائے، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے"

وَ مَا لَنَا لَا نُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَا جَآءَنَا مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ نَطْمَعُ اَنْ یُّدْخِلَنَا رَبُّنَا مَعَ الْقَوْمِ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 5:84 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ "آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اُسے کیوں نہ مان لیں جبکہ ہم اِس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے؟"

فَاَثَابَهُمُ اللّٰهُ بِمَا قَالُوْا جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 5:85 in the Quran reader

اُن کے اِس قول کی وجہ سے اللہ نے اُن کو ایسی جنتیں عطا کیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے یہ جزا ہے نیک رویہ اختیار کرنے والوں کے لیے

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 5:86 in the Quran reader

رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا اور انہیں جھٹلایا، تو وہ جہنم کے مستحق ہیں

سورة الْمَآىِٕدَة 103 مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خدا اور نبی اور کتاب کے ماننے والے ہوتے ہیں انہیں فطرۃً مشرکین کے مقابلہ میں ان لوگوں کے ساتھ زیادہ ہمدردی ہوتی ہے جو مذہب میں خواہ ان سے اختلاف ہی رکھتے ہوں، مگر بہرحال انہی کی طرح خدا اور سلسلہ وحی و رسالت کو مانتے ہوں۔ لیکن یہ یہودی عجیب قسم کے اہل کتاب ہیں کہ توحید اور شرک کی جنگ میں کھلم کھلا مشرکین کا ساتھ دے رہے ہیں، اقرار نبوت اور انکار نبوت کی لڑائی میں علانیہ ان کی ہمدردیاں منکرین نبوت کے ساتھ ہیں، اور پھر بھی وہ بلا کسی شرم و حیا کے یہ دعویٰ رکھتے ہیں کہ ہم خدا اور پیغمبروں اور کتابوں کے ماننے والے ہیں۔
Ayahs 5:87–88

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 5:87 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو پاک چیزیں اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کرلو104 اور حد سے تجاوز نہ کرو، 105اللہ کو زیادتی کرنے والے سخت ناپسند ہیں

وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 5:88 in the Quran reader

جو کچھ حلال و طیب رزق اللہ نے تم کو دیا ہے اُسے کھا ؤ پیو اور اُس خدا کی نافرمانی سے بچتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو

سورة الْمَآىِٕدَة 104 اس آیت میں دو باتیں ارشاد ہوئی ہیں۔ ایک یہ کہ خود حلال و حرام کے مختار نہ بن جاؤ۔ حلال وہی ہے جو اللہ نے حلال کیا اور حرام وہی ہے جو اللہ نے حرام کیا۔ اپنے اختیار سے کسی حلال کو حرام کرو گے تو قانون الہٰی کے بجائے قانون نفس کے پیرو قرار پاؤ گے۔ دوسری بات یہ کہ عیسائی راہبوں، ہندو جوگیوں، بودھ مذہب کے بھکشووں اور اشراقی متصوفین کی طرح رہبانیت اور قطع لذات کا طریقہ اختیار نہ کرو۔ مذہبی ذہنیت کے نیک مزاج لوگوں میں ہمیشہ سے یہ میلان پایا جاتا رہا ہے کہ نفس و جسم کے حقوق ادا کرنے کو وہ روحانی ترقی میں مانع سمجھتے ہیں اور یہ گمان کرتے ہیں کہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالنا، اپنے نفس کو دنیوی لذتوں سے محروم کرنا، اور دنیا کے سامان زیست سے تعلق توڑنا، بجائے خود ایک نیکی ہے اور خدا کا تقرب اس کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتا۔ صحابہ کرام میں بھی بعض لوگ ایسے تھے جن کے اندر یہ ذہنیت پائی جاتی تھی۔ چناچہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کو معلوم ہوا کہ بعض صحابیوں نے عہد کیا ہے کہ ہمیشہ دن کو روزہ رکھیں گے، راتوں کو بستر پر نہ سوئیں گے بلکہ جاگ جاگ کر عبادت کرتے رہیں گے، گوشت اور چکنائی استعمال نہ کریں گے، عورتوں سے واسطہ نہ رکھیں گے۔ اس پر آپ ﷺ نے ایک خطبہ دیا اور اس میں فرمایا کہ ”مجھے ایسی باتوں کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ تمہارے نفس کے بھی تم پر حقوق ہیں۔ روزہ بھی رکھو اور کھاؤ پیو بھی۔ راتوں کو قیام بھی کرو اور سوؤ بھی۔ مجھے دیکھو، میں سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں۔ روزے رکھتا بھی ہوں اور نہیں بھی رکھتا۔ گوشت بھی کھاتا ہوں اور گھی بھی۔ پس جو میرے طریقے کو پسند نہیں کرتا وہ مجھ سے نہیں ہے“۔ پھر فرمایا ”یہ لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ انہوں نے عورتوں کو اور اچھے کھانے کو اور خوشبو اور نیند اور دنیا کی لذتوں کو اپنے اوپر حرام کرلیا ہے ؟ میں نے تو تمہیں یہ تعلیم نہیں دی ہے کہ تم راہب اور پادری بن جاؤ۔ میرے دین میں نہ عورتوں اور گوشت سے اجتناب ہے اور نہ گوشہ گیری و عزلت نشینی ہے۔ ضبط نفس کے لیے میرے ہاں روزہ ہے، رہبانیت کے سارے فائدے یہاں جہاد سے حاصل ہوتے ہیں۔ اللہ کی بندگی کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، حج وعمرہ کرو، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رمضان کے روزے رکھو۔ تم سے پہلے جو لوگ ہلاک ہوئے وہ اس لیے ہلاک ہوئے کہ انہوں نے اپنے اوپر سختی کی، اور جب انہوں نے خود اپنے اوپر سختی کی تو اللہ نے بھی ان پر سختی کی۔ یہ انہی کے بقایا ہیں جو تم کو صومعوں اور خانقاہوں میں نظر آتے ہیں“۔ اسی سلسلہ میں بعض روایات سے یہاں تک معلوم ہوتا ہے کہ ایک صحابی کے متعلق نبی ﷺ نے سنا کہ وہ ایک مدت سے اپنی بیوی کے پاس نہیں گئے ہیں اور شب و روز عبادت میں مشغول رہتے ہیں تو آپ ﷺ نے بلا کر ان کو حکم دیا کہ ابھی اپنی بیوی کے پاس جاؤ۔ انہوں نے کہا کہ میں روزے سے ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا روزہ توڑ دو اور جاؤ۔ حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں ایک خاتون نے شکایت پیش کی کہ میرے شوہر دن بھر روزہ رکھتے ہیں اور رات بھر عبادت کرتے ہیں اور مجھ سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ حضرت عمر ؓ نے مشہور تابعی بزرگ، کعب ؓ بن سور الاَزْدِی کو ان کے مقدمہ کی سماعت کے لیے مقرر کیا، اور انہوں نے فیصلہ دیا کہ اس خاتون کے شوہر کو تین راتوں کے لیے اختیار ہے کہ جتنی چاہیں عبادت کریں مگر چوتھی رات لازماً ان کی بیوی کا حق ہے۔ سورة الْمَآىِٕدَة 105 ”حد سے تجاوز کرنا“ وسیع مفہوم کا حامل ہے۔ حلال کو حرام کرنا اور خدا کی ٹھیرائی ہوئی پاک چیزوں سے اس طرح پرہیز کرنا کہ گویا کہ وہ ناپاک ہیں، یہ بجائے خود ایک زیادتی ہے۔ پھر پاک چیزوں کے استعمال میں اسراف اور افراط بھی زیادتی ہے۔ پھر حلال کی سرحد سے باہر قدم نکال کر حرام کے حدود میں داخل ہونا بھی زیادتی ہے۔ اللہ کو یہ تینوں باتیں ناپسند ہیں۔
Ayah 5:89

لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَ١ۚ فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ١ؕ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْ١ؕ وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:89 in the Quran reader

تم لوگ جو مُہمل قسمیں کھالیتے ہو اُن پر اللہ گرفت نہیں کرتا، مگر جو قسمیں تم جان بُوجھ کر کھاتے ہو اُن پر وہ ضرور تم سے مواخذہ کرے گا۔ (ایسی قسم توڑنے کا)کفّارہ یہ ہے کہ دس (1۰) مسکینوں کو وہ اَوسط درجہ کا کھانا کھلاوٴ جو تم اپنے بال بچّوں کو کھلاتے ہو، یا انہیں کپڑے پہناوٴ، یا ایک غلام آزاد کرو، اور جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفّارہ ہے جبکہ تم قسم کھاکر توڑدو۔ 106اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو۔ 107اس طرح اللہ اپنے احکام تمہارے لیے واضح کرتا ہے شاید کہ تم شکر ادا کرو

سورة الْمَآىِٕدَة 106 چونکہ بعض لوگوں نے حلال چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلینے کی قسم کھا رکھی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسی سلسہ میں قسم کا حکم بھی بیان فرما دیا کہ اگر کسی شخص کی زبان سے بلا ارادہ قسم کا لفظ نکل گیا ہے تو اس کی پابندی کرنے کی ویسے ہی ضرورت نہیں، کیونکہ ایسی قسم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے، اور اگر جان بوجھ کر کسی نے قسم کھائی ہے تو وہ اسے توڑ دے اور کفارہ ادا کر دے، کیونکہ جس نے کسی معصیت کی قسم کھائی ہو اسے اپنی قسم پر قائم نہ رہنا چاہیے (ملاحظہ ہو سورة بقرہ، 243 و 244۔ نیز کفارہ کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة نساء 125)۔ سورة الْمَآىِٕدَة 107 قسم کی حفاظت کے کئی مفہوم ہیں ایک یہ کہ قسم کو صحیح مصرف میں استعمال کیا جائے، فضول باتوں اور معصیت کے کاموں میں استعمال نہ کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ جب کسی بات پر آدمی قسم کھائے تو اسے یاد رکھے، ایسا نہ ہو کہ اپنی غفلت کی وجہ سے وہ اسے بھول جائے۔ اور پھر اس کی خلاف ورزی کرے۔ تیسرے یہ کہ جب کسی صحیح معاملہ میں بالارادہ قسم کھائی جائے تو اسے پورا کیا جائے اور اگر اس کی خلاف ورزی ہوجائے تو اس کا کفارہ ادا کیا جائے۔
Ayahs 5:90–94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَیْسِرُ وَ الْاَنْصَابُ وَ الْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:90 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، یہ شراب اور جُوا اور یہ آستانے اور پانسے، 108یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے پرہیز کرو، اُمیّد ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی۔109

اِنَّمَا یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّوْقِعَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ عَنِ الصَّلٰوةِ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّنْتَهُوْنَ Open ayah 5:91 in the Quran reader

شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہو گے؟

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ احْذَرُوْا١ۚ فَاِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 5:92 in the Quran reader

اللہ اور اُس کے رسول کی بات مانو اور باز آ جاؤ، لیکن اگر تم نے حکم عدولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسول پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی

لَیْسَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِیْمَا طَعِمُوْۤا اِذَا مَا اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّ اَحْسَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 5:93 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرنے لگے انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا تھا اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی بشرطیکہ وہ آئندہ اُن چیزوں سے بچے رہیں جو حرام کی گئی ہیں اور ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں، پھر جس جس چیز سے روکا جائے اس سے رکیں اور جو فرمان الٰہی ہو اُسے مانیں، پھر خدا ترسی کے ساتھ نیک رویہ رکھیں اللہ نیک کردار لوگوں کو پسند کرتا ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَیَبْلُوَنَّكُمُ اللّٰهُ بِشَیْءٍ مِّنَ الصَّیْدِ تَنَالُهٗۤ اَیْدِیْكُمْ وَ رِمَاحُكُمْ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّخَافُهٗ بِالْغَیْبِ١ۚ فَمَنِ اعْتَدٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:94 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ تمہیں اُس شکار کے ذریعہ سے سخت آزمائش میں ڈالے گا جو بالکل تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں ہوگا، یہ دیکھنے کے لیے کہ تم میں سے کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے، پھر جس نے اس تنبیہ کے بعد اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے تجاوز کیا اُس کے لیے درد ناک سزا ہے

سورة الْمَآىِٕدَة 108 آستانوں اور پانسوں کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة مائدہ، 12 و 14۔ اس سلسلہ میں جوئے کی تشریح بھی 14 میں مل جائے گی۔ اگرچہ پانسے (جوئے) ہی کی ایک قسم ہیں۔ لیکن ان دونوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ عربی زبان میں ازلام فال گیری اور قرعہ اندازی کی اس صورت کو کہتے ہیں کہ جو مشرکانہ عقائد اور وہمیات سے آلودہ ہو۔ اور میسر کا اطلاق ان کھیلوں اور ان کاموں پر ہوتا ہے جن میں اتفاقی امور کو کمائی اور قسمت آزمائی اور تقسیم اموال و اشیاء کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ سورة الْمَآىِٕدَة 109 اس آیت میں چار چیزیں قطعی طور پر حرام کی گئی ہیں۔ ایک شراب۔ دوسرے قمار بازی۔ تیسرے وہ مقامات جو خدا کے سوا کسی دوسرے کی عبادت کرنے یا خدا کے سوا کسی اور کے نام پر قربانی اور نذر و نیاز چڑھانے کے لیے مخصوص کیے گئے ہوں۔ چوتھے پانسے۔ مؤخر الذکر تینوں چیزوں کی ضرورت تشریح پہلے کی جا چکی ہے۔ شراب کے متعلق احکام کی تفصیل حسب ذیل ہے شراب کی حرمت کے سلسلہ میں اس سے پہلے دو حکم آچکے تھے، جو سورة بقرہ آیت 219 اور سورة نساء آیت 43 میں گزر چکے ہیں۔ اب اس آخری حکم کے آنے سے پہلے نبی ﷺ نے ایک خطبہ میں لوگوں کو متنبہ فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کو شراب سخت ناپسند ہے، بعید نہیں کہ اس کی قطعی حرمت کا حکم آجائے، لہٰذا جن جن لوگوں کے پاس شراب موجود ہو وہ اسے فروخت کردیں۔ اس کے کچھ مدت بعد یہ آیت نازل ہوئی اور آپ نے اعلان کرایا کہ اب جن کے پاس شراب ہو وہ نہ اسے پی سکتے ہیں، نہ بیچ سکتے ہیں، بلکہ وہ اسے ضائع کردیں۔ چناچہ اسی وقت مدینہ کی گلیوں میں شراب بہادی گئی۔ بعض لوگوں نے پوچھا ہم یہودیوں کو تحفۃً کیوں نہ دے دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ”جس نے یہ چیز حرام کی ہے اس نے اسے تحفۃً دینے سے بھی منع کردیا ہے“۔ بعض لوگوں نے پوچھا ہم شراب کو سرکے میں کیوں نہ تبدیل کردیں ؟ آپ ﷺ نے اس سے بھی منع فرمایا اور حکم دیا کہ ”نہیں، اسے بہا دو“۔ ایک صاحب نے باصرار دریافت کیا کہ دواء کے طور پر استعمال کی تو اجازت ہے ؟ فرمایا ”نہیں، وہ دوا نہیں ہے بلکہ بیماری ہے“۔ ایک اور صاحب نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم ایک ایسے علاقے کے رہنے والے ہیں جو نہایت سرد ہے، اور ہمیں محنت بھی بہت کرنی پڑتی ہے۔ ہم لوگ شراب سے تکان اور سردی کا مقابلہ کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے پوچھا جو چیز تم پیتے ہو وہ نشہ کرتی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا ہاں۔ فرمایا تو اس سے پرہیز کرو۔ انہوں نے عرض کیا مگر ہمارے علاقے کے لوگ تو نہیں مانیں گے۔ فرمایا ”اگر وہ نہ مانیں تو ان سے جنگ کرو“۔ ابن عمر ؓ کی روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا لعَن اللہ الخمر و شاربھا و ساقیھا و بائعھا و مبتاعھا و عاصرھا و معتصرھا و حاملھا و المحمولۃ الیہ۔”اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے شراب پر اور اس کے پینے والے پر اور پلانے والے پر اور بیچنے والے پر اور خریدنے والے پر اور کشید کرنے والے پر اور کشید کرانے والے پر اور ڈھو کرلے جانے والے پر اور اس شخص پر جس کے لیے وہ ڈھو کرلے جائی گئی ہو“۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی ﷺ نے اس دسترخوان پر کھانا کھانے سے منع فرمایا جس پر شراب پی جا رہی ہو۔ ابتداءً آپ نے ان برتنوں کے استعمال کو منع فرما دیا تھا جس میں شراب بنائی اور پی جاتی تھی۔ بعد میں جب شراب کی حرمت کا حکم پوری طرح نافذ ہوگیا تب آپ نے برتنوں پر سے یہ قید اٹھا دی۔ خمر کا لفظ عرب میں انگوری شراب کے لیے استعمال ہوتا تھا اور مجازاً گیہوں، جو، کشمش، کھجور اور شہد کی شرابوں کے لیے بھی یہ الفاظ بولتے تھے، مگر نبی ﷺ نے حرمت کے اس حکم کو تمام ان چیزوں پر عام قرار دیا جو نشہ پیدا کرنے والی ہیں۔ چناچہ حدیث میں حضور کے یہ واضح ارشادات ہمیں ملتے ہیں کہ کل مسکر خمر و کل مسکر حرام۔”ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے“۔ کل شرابٍ اسکر فھو حرام۔”ہر وہ مشروب جو نشہ پیدا کرے وہ حرام ہے“۔ وانا انھی عن کل مسکرٍ۔”اور میں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں“۔ حضرت عمر ؓ نے جمعہ کے خطبہ میں شراب کی یہ تعریف بیان کی تھی کہ الخمر ما خامر العقل۔”خمر سے مراد ہر وہ چیز ہے جو عقل کو ڈھانک لے“۔ نیز نبی ﷺ نے یہ اصول بیان فرمایا کہ ما اسکر کثیرہ فقلیْلہ حرام۔”جس چیز کی کثیر مقدار نشہ پیدا کرے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے“۔ اور ما اسکر الفرق منہ مفل الکف منہ حرام۔”جس چیز کا ایک پورا قرابہ نشہ پیدا کرتا ہو اس کا ایک چلو پینا بھی حرام ہے“۔ نبی ﷺ کے زمانہ میں شراب پینے والے کے لیے کوئی خاص سزا مقرر نہ تھی۔ جو شخص اس جرم میں گرفتار ہو کر آتا تھا اسے جوتے، لات، مکے، بل دی ہوئی چادروں کے سونٹے اور کھجور کے سنٹے مارے جاتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ 40 ضربیں آپ ﷺ کے زمانہ میں اس جرم پر لگائی گئی ہیں۔ حضرت ابوبکر ؓ کے زمانے میں 40 کوڑے مارے جاتے تھے۔ حضرت عمر ؓ کے زمانے میں بھی ابتداءً کوڑوں ہی کی سزا رہی۔ پھر جب انہوں نے دیکھا کہ لوگ اس جرم سے باز نہیں آتے تو انہوں نے صحابہ کرام کے مشورے سے 80 کوڑے سزا مقرر کی۔ اسی سزا کو امام مالک ؒ اور امام ابوحنیفہ ؒ ، اور ایک روایت کے بموجب امام شافعی ؒ بھی، شراب کی حد قرار دیتے ہیں۔ مگر امام احمد ابن حنبل ؒ اور ایک دوسری روایت کے مطابق امام شافعی ؒ 40 کوڑوں کو قائل ہیں، اور حضرت علی ؓ نے بھی اسی کو پسند فرمایا ہے۔ شریعت کی رو سے یہ بات حکومت اسلامی کے فرائض میں داخل ہے کہ وہ شراب کی بندش کے اس حکم کو بزور و قوت نافذ کرے۔ حضرت عمر ؓ کے زمانہ میں بنی ثَقِیف کے ایک شخص رُوَیشِد نامی کی دکان اس بنا پر جلوا دی گئی کہ وہ خفیہ طور پر شراب بیچتا تھا۔ ایک دوسرے موقع پر ایک پورا گاؤں حضرت عمر ؓ کے حکم سے اس قصور پر جلا ڈالا گیا کہ وہاں خفیہ طریقہ سے شراب کی کشید اور فروخت کا کاروبار ہو رہا تھا۔
Ayah 5:95

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ١ؕ وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ هَدْیًۢا بٰلِغَ الْكَعْبَةِ اَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسٰكِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِكَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَ بَالَ اَمْرِهٖ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَمَّا سَلَفَ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَیَنْتَقِمُ اللّٰهُ مِنْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ Open ayah 5:95 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اِحرام کی حالت میں شکار نہ مارو،110 اور اگر تم میں سے کوئی جان بوجھ کر ایسا کر گزرے تو جو جانور اس نے مارا ہو اُسی کے ہم پلّہ ایک جانور اُسے مویشیوں میں سے نذر دینا ہوگا جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے، اور یہ نذرانہ کعبہ پہنچایا جائے گا، یا نہیں تو اس گناہ کے کفارہ میں چند مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا، یا اس کے بقدر روزے رکھنے ہوں گے،111 تاکہ وہ اپنے کیے کا مزہ چکھے۔ پہلے جو کچھ ہو چکا اُسے اللہ نے معاف کردیا، لیکن اب اگر کسی نے اس حرکت کا اعادہ کیا تو اس سے اللہ بدلہ لے گا، اللہ سب پر غالب ہے اور بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے

سورة الْمَآىِٕدَة 110 شکار خواہ آدمی خود کرے، یا کسی دوسرے کو شکار میں کسی طور پر مدد دے، دونوں باتیں حالت احرام میں منع ہیں۔ نیز اگر محرم کی خاطر شکار مارا گیا ہو تب بھی اس کا کھانا محرم کے لیے جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی شخص نے اپنے لیے خود شکار کیا ہو اور پھر وہ اس میں سے محرم کو بھی تحفۃً کچھ دیدے تو اس کے کھانے میں کچھ مضائقہ نہیں۔ اس حکم عام سے موذی جانور مستثنیٰ ہیں۔ سانپ، بچھو، باؤلا کتا اور ایسے دوسرے جانور جو انسان کو نقصان پہنچانے والے ہیں، حالت احرام میں مارے جاسکتے ہیں۔ سورة الْمَآىِٕدَة 111 ان امور کا فیصلہ بھی دو عادل آدمی ہی کریں گے کہ کس جانور کے مارنے پر آدمی کتنے مسکینوں کو کھانا کھلائے، یا کتنے روزے رکھے۔
Ayah 5:96

اُحِلَّ لَكُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَ طَعَامُهٗ مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِلسَّیَّارَةِ١ۚ وَ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 5:96 in the Quran reader

تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کردیا گیا، 112جہاں تم ٹھیرو وہاں بھی اُسے کھاسکتے ہو اور قافلے کے لیے زادِراہ بھی بناسکتے ہو۔ البتّہ خشکی کا شکار جب تک تم اِحرام کی حالت میں ہو، تم پر حرام کیا گیا ہے۔ پس بچو اُس خدا کی نا فرمانی سے جس کی پیشی میں تم سب کو گھیر کر حاضر کیا جائے گا

سورة الْمَآىِٕدَة 112 چونکہ سمندر کے سفر میں بسا اوقات زاد راہ ختم ہوجاتا ہے اور غذا کی فراہمی کے لیے بجز اس کے کہ آبی جانوروں کا شکار کیا جائے اور کوئی تدبیر ممکن نہیں ہوتی اس لیے بحری شکار حلال کردیا گیا۔
Ayahs 5:97–99

جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ وَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَ الْهَدْیَ وَ الْقَلَآئِدَ١ؕ ذٰلِكَ لِتَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ اَنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 5:97 in the Quran reader

اللہ نے مکانِ مُحترم، کعبہ کو لوگوں کے لیے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہِ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قَلادوں کو بھی (اِس کام میں معاون بنادیا)113 تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اور اُسے ہر چیز کا علم ہے۔ 114

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ وَ اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌؕ Open ayah 5:98 in the Quran reader

خبردار ہو جاؤ! اللہ سزا دینے میں بھی سخت ہے اور اس کے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے

مَا عَلَى الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:99 in the Quran reader

رسول پر تو صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے، آگے تمہارے کھلے اور چھپے سب حالات کا جاننے والا اللہ ہے

سورة الْمَآىِٕدَة 113 عرب میں کعبہ کی حیثیت محض ایک مقدس عبادت گاہ ہی کی نہ تھی بلکہ اپنی مرکزیت اور اپنے تقدس کی وجہ سے وہی پورے ملک کی معاشی و تمدنی زندگی کا سہارا بنا ہوا تھا۔ حج اور عمرے کے لیے سارا ملک اس کی طرف کھنچ کر آتا تھا اور اس اجتماع کی بدولت انتشار کے مارے ہوئے عربوں میں وحدت کا ایک رشتہ پیدا ہوتا، مختلف علاقوں اور قبیلوں کے لوگ باہم تمدنی روابط قائم کرتے، شاعری کے مقابلوں سے ان کی زبان اور ادب کو ترقی نصیب ہوتی، اور تجارتی لین دین سے سارے ملک کی معاشی ضروریات پوری ہوتیں۔ حرام مہینوں کی بدولت عربوں کو سال کا پورا ایک تہائی زمانہ امن کا نصیب ہوجاتا تھا۔ بس یہی زمانہ ایسا تھا جس میں ان کے قافلے ملک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک بسہولت آتے جاتے تھے۔ قربانی کے جانوروں اور قلادوں کی موجودگی سے بھی اس نقل و حرکت میں بڑی مدد ملتی تھی، کیونکہ نذر کی علامت کے طور پر جن جانوروں کی گردن میں پٹے پڑے ہوتے انہیں دیکھ کر عربوں کی گردنیں احترام سے جھک جاتیں اور کسی غارت گر قبیلے کو ان پر ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہ ہوتی۔ سورة الْمَآىِٕدَة 114 یعنی اگر تم اس انتظام پر غور کرو تو تمہیں خود اپنے ملک کی تمدنی و معاشی زندگی ہی میں اس امر کی ایک بین شہادت مل جائے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے مصالح اور ان کی ضروریات کا کیسا مکمل اور گہرا علم رکھتا ہے اور اپنے ایک ایک حکم کے ذریعہ سے انسانی زندگی کے کتنے کتنے شعبوں کو فائدہ پہنچا دیتا ہے۔ بد امنی کے یہ سینکڑوں برس جو محمد ﷺ عربی کے ظہور سے پہلے گزرے ہیں، ان میں تم لوگ خود اپنے مفاد سے ناواقف تھے اور اپنے آپ کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے تھے، مگر اللہ تمہاری ضرورتوں کو جانتا تھا اور اس نے صرف ایک کعبہ کی مرکزیت قائم کر کے تمہارے لیے وہ انتظام کردیا تھا جس کی بدولت تمہاری قومی زندگی برقرار رہ سکی۔ دوسری بیشمار باتوں کو چھوڑ کر اگر صرف اسی بات پر دھیان کرو تو تمہیں یقین حاصل ہوجائے کہ اللہ نے جو احکام تمہیں دیے ہیں ان کی پابندی میں تمہاری اپنی بھلائی ہے اور ان میں تمہارے لیے وہ وہ مصلحتیں پوشیدہ ہیں جن کو نہ تم خود سمجھ سکتے ہو اور نہ اپنی تدبیروں سے پورا کرسکتے ہو۔
Ayah 5:100

قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 5:100 in the Quran reader

اے پیغمبر ؐ ! اِن سے کہہ دو کہ پاک اور ناپاک بہرحال یکساں نہیں ہیں خواہ ناپاک کی بہتات تمہیں کتنا ہی فریفتہ کرنے والی ہو،115 پس اے لوگو جو عقل رکھتے ہو ! اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو، اُمّید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی

سورة الْمَآىِٕدَة 115 یہ آیت قدر و قیمت کا ایک دوسرا ہی معیار پیش کرتی ہے جو ظاہر میں انسان کے معیار سے بالکل مختلف ہے۔ ظاہر بیں نظر میں سو (100) روپے بمقابلہ پانچ (5) روپے کے لازماً زیادہ قیمتی ہیں کیونکہ وہ سو ہیں اور یہ پانچ۔ لیکن یہ آیت کہتی ہے کہ سو (100) روپے اگر خدا کی نافرمانی کر کے حاصل کیے گئے ہوں تو وہ ناپاک ہیں، اور پانچ روپے اگر خدا کی فرماں برداری کرتے ہوئے کمائے گئے ہوں تو وہ پاک ہیں، اور ناپاک خواہ مقدار میں کتنا ہی زیادہ ہو، بہرحال وہ پاک کے برابر کسی طرح نہیں ہو سکتا۔ غلاظت کے ایک ڈھیر سے عطر کا ایک قطرہ زیادہ قدر رکھتا ہے اور پیشاب کی ایک لبریز ناند کے مقابلہ میں پاک پانی کا ایک چلو زیادہ وزنی ہے۔ لہٰذا ایک سچے دانش مند انسان کو لازماً حلال ہی پر قناعت کرنی چاہیے خواہ وہ ظاہر میں کتنا ہی حقیر و قلیل ہو، اور حرام کی طرف کسی حال میں بھی ہاتھ نہ بڑھانا چاہیے خواہ وہ بظاہر کتنا ہی کثیر و شاندار ہو۔
Ayah 5:101

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 5:101 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں،116 لیکن اگر تم انہیں ایسے وقت پُوچھوگے جب کہ قرآن نازل ہورہا ہو تو وہ تم پرکھول دی جائیں گی۔ اب تک جو کچھ تم نے کیا اُسے اللہ نے معاف کردیا، وہ درگزر کرنے والا اور بُردبار ہے

سورة الْمَآىِٕدَة 116 نبی ﷺ سے بعض لوگ عجیب عجیب قسم کے فضول سوالات کیا کرتے تھے جن کی نہ دین کے کسی معاملہ میں ضرورت ہوتی تھی اور نہ دنیا ہی کے کسی معاملہ میں۔ مثلاً ایک موقع پر ایک صاحب بھرے مجمع میں آپ ﷺ سے پوچھ بیٹھے کہ ”میرا اصلی باپ کون ہے ؟“ اسی طرح بعض لوگ احکام شرع میں غیر ضروری پوچھ گچھ کیا کرتے تھے، اور خواہ مخواہ پوچھ پوچھ کر ایسی چیزوں کا تعین کرانا چاہتے تھے جنہیں شارع نے مصلحتاً غیر معین رکھا ہے۔ مثلاً قرآن میں مجملاً یہ حکم دیا گیا تھا کہ حج تم پر فرض کیا گیا ہے۔ ایک صاحب نے حکم سنتے ہی نبی ﷺ سے دریافت کیا ”کیا ہر سال فرض کیا گیا ہے ؟“ آپ ﷺ نے کچھ جواب نہ دیا۔ انہوں نے پھر پوچھا۔ آپ ﷺ پھر خاموش ہوگئے۔ تیسری مرتبہ پوچھنے پر آپ ﷺ نے فرمایا ”تم پر افسوس ہے۔ اگر میری زبان سے ہاں نکل جائے تو حج ہر سال فرض قرار پائے۔ پھر تم ہی لوگ اس کی پیروی نہ کرسکو گے اور نافرمانی کرنے لگو گے“۔ ایسے ہی لایعنی اور غیر ضروری سوالات سے اس آیت میں منع کیا گیا ہے۔ نبی ﷺ خود بھی لوگوں کو کثرت سوال سے اور خواہ مخواہ ہر بات کی کھوج لگانے سے منع فرماتے رہے تھے۔ چناچہ حدیث میں ہے ان اعظم المسلمین فی المسلمین جرما من سأل عن شیٔ لم یحرم علی الناس فحرم من اجل مسألتہ۔ ”مسلمانوں کے حق میں سب سے بڑا مجرم وہ شخص ہے جس نے کسی ایسی چیز کے متعلق سوال چھیڑا جو لوگوں پر حرام نہ کی گئی تھی اور پھر محض اس کے سوال چھیڑنے کی بدولت وہ چیز حرام ٹھیرائی گئی“۔ ایک دوسری حدیث میں ہے ان اللہ فرض فرائض فلا تضیعوھا و حرم حرمات فلا تنتھکو ھا وحَدّ حُدُوْداً فلا تعتدوْھَا وسَکتَ عَنْ اشیَا من غیر نسیان فلا تبحثوا عنھا۔”اللہ نے کچھ فرائض تم پر عائد کیے ہیں، انہیں ضائع نہ کرو۔ کچھ چیزوں کو حرام کیا ہے ان کے پاس نہ پھٹکو۔ کچھ حدود مقرر کی ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو۔ اور کچھ چیزوں کے متعلق خاموشی اختیار کی ہے بغیر اس کے کہ اسے بھول لاحق ہوئی ہو، لہٰذا ان کی کھوج نہ لگاؤ“۔ ان دونوں حدیثوں میں ایک اہم حقیقت پر متنبہ کیا گیا ہے۔ جن امور کو شارع نے مجملاً بیان کیا ہے اور ان کی تفصیل نہیں بتائی، یا جو احکام برسبیل اجمال دیے ہیں اور مقدار یا تعداد یا دوسرے تعینات کا ذکر نہیں کیا ہے، ان میں اجمال اور عدم تفصیل کی وجہ یہ نہیں ہے کہ شارع سے بھول ہوگئی، تفصیلات بتانی چاہیے تھیں مگر نہ بتائیں، بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ شارع ان امور کی تفصیلات کو محدود نہیں کرنا چاہتا اور احکام میں لوگوں کے لیے وسعت رکھنا چاہتا ہے۔ اب جو شخص خواہ مخواہ سوال پر سوال نکال کر تفصیلات اور تعینات اور تقیدات بڑھانے کی کوشش کرتا ہے، اور اگر شارع کے کلام سے یہ چیزیں کسی طرح نہیں نکلتیں تو قیاس سے، استنباط سے کسی نہ کسی طرح مجمل کو مفصل، مطلق کو مقَیَّد، غیر معین کو معین بنا کر ہی چھوڑتا ہے، وہ درحقیقت مسلمانوں کو بڑے خطرے میں ڈالتا ہے۔ اس لیے کہ ما بعد الطبیعی امور میں جتنی تفصیلات زیادہ ہوں گی، ایمان لانے والے کے لیے اتنے ہی زیادہ الجھن کے مواقع بڑھیں گے، اور احکام میں جتنی قیود زیادہ ہوں گی پیروی کرنے والے کے لیے خلاف ورزی حکم کے امکانات بھی اسی قدر زیادہ ہوں گے۔
Ayah 5:102

قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ Open ayah 5:102 in the Quran reader

تم سے پہلے ایک گروہ نے اِسی قسم کے سوالات کیے تھے، پھر وہ لوگ انہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مُبتلا ہوگئے۔117

سورة الْمَآىِٕدَة 117 یعنی پہلے انہوں نے خود ہی عقائد اور احکام میں موشگافیاں کیں اور ایک ایک چیز کے متعلق سوال کر کر کے تفصیلات اور قیود کا ایک جال اپنے لیے تیار کرایا، پھر خود ہی اس میں الجھ کر اعتقادی گمراہیوں اور عملی نافرمانیوں میں مبتلا ہوگئے۔۔ اس گروہ سے مراد یہودی ہیں جن کے نقش قدم پر چلنے میں، قرآن اور محمد ﷺ کی تنبیہات کے باوجود، مسلمانوں نے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ہے۔