Ayahs 29:51–52سورة العنکبوت 91
یعنی امی ہونے کے باوجود تم پر قرآن جیسی کتاب کا نازل ہونا کیا یہ بجائے خود اتنا بڑا معجزہ نہیں ہے کہ تمہاری رسالت پر یقین لانے کے لیے یہ کافی ہو ؟ اس کے بعد بھی کسی اور معجزے کی ضرورت باقی رہ جاتی ہے ؟ دوسرے معجزے تو جنہوں نے دیکھے ان کے لیے وہ معجزے تھے۔ مگر یہ معجزہ تو ہر وقت تمہارے سامنے ہے تمہیں آئے دن پڑھ کر سنایا جاتا ہے، تم ہر وقت اسے دیکھ سکتے ہو۔
قرآن مجید کے اس بیان و استدلال کے بعد ان لوگوں کی جسارت حیرت انگیز ہے جو نبی ﷺ کو خواندہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ یہاں قرآن صاف الفاظ میں حضور کے ناخواندہ ہونے کو آپ کی نبوت کے حق میں ایک طاقت ور ثبوت کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ جن روایات کا سہارا لے کر یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ حضور لکھے پڑھے تھے، یا بعد میں آپ نے لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا وہ اول تو پہلی ہی نظر میں رد کردینے کے لائق ہیں کیونکہ قرآن کے خلاف کوئی روایت بھی قابل قبول نہیں ہوسکتی۔ پھر وہ بجائے خود بھی اتنی کمزور ہیں کہ ان پر کسی استدلال کی بنیاد قائم نہیں ہوسکتی۔ ان میں سے ایک بخاری کی روایت ہے کہ صلح حدیبیہ کا معاہدہ جب لکھا جارہا تھا تو کفار مکہ کے نمائندے نے رسول اللہ ﷺ کے نام کے ساتھ رسول اللہ لکھے جانے پر اعتراض کیا۔ اس پر حضور نے کاتب (یعنی حضرت علی) کو حکم دیا کہ اچھا رسول اللہ کا لفظ کاٹ کر محمد بن عبداللہ لکھ دو۔ حضرت علی نے لفظ رسول اللہ کاٹنے سے انکار کردیا۔ اس پر حضور نے ان کے ہاتھ سے قلم لے کر وہ الفاظ خود کاٹ دیے اور محمد بن عبداللہ لکھ دیا۔
لیکن یہ روایت براء بن عازب سے بخاری میں چار جگہ اور مسلم میں دو جگہ وارد ہوئی ہے اور ہر جگہ الفاظ مختلف ہیں
(1) بخاری کتاب الصلح میں ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں قال لعلی امحہ فقال علی ما انا بالذی امحاہ فمحاہ رسول اللہ بیدہ۔ حضور نے حضرت علی سے فرمایا یہ الفاظ کاٹ دو ، انہوں نے عرض کیا میں تو نہیں کاٹ سکتا۔ آخر کار حضور نے اپنے ہاتھ سے انہیں کاٹ دیا۔
(2) اسی کتاب میں دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں ثم قال لعلی امح رسول اللہ قال لا واللہ لا امحوک ابدا فاخذ رسول اللہ الکتاب فکتب ھذا ما قاضی علیہ محمد بن عبداللہ۔ پھر علی سے کہا " رسول اللہ " کاٹ دو۔ انہوں نے کہا خدا کی قسم میں آپ کا نام کبھی نہ کاٹوں گا۔ آخر حضور نے تحریر لے کر لکھا یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد بن عبداللہ نے طے کیا۔
(3) تیسری روایت انہی براء بن عازب سے بخاری کتاب الجزیہ میں یہ ہے وکان لا یکتب فقال لعلی امح رسول اللہ فقال علی واللہ لا امحاہ ابدا قال فارنیہ قال فاراہ ایاہ فمحاہ النبی ﷺ بیدہ۔ حضور خود نہ لکھ سکتے تھے۔ آپ نے حضرت علی سے کہا رسول اللہ کاٹ دو۔ انہوں نے عرض کیا خدا کی قسم میں یہ الفاظ ہرگز نہ کاٹوں گا۔ اس پر حضور نے فرمایا مجھے وہ جگہ بتاؤ جہاں یہ الفاظ لکھے ہیں۔ انہوں نے آپ کو جگہ بتائی اور آپ نے اپنے ہاتھ سے وہ الفاظ کاٹ دیے۔
(4) چوتھی روایت بخاری کتاب المغازی میں یہ ہے فاخذ رسول اللہ ﷺ الکتاب و لیس یحسن یکتب فکتب ھذا ما قاضی محمد بن عبداللہ۔ پس حضور نے وہ تحریر لے لی درآنحالیکہ آپ لکھنا نہ جانتے تھے اور آپ نے لکھا یہ وہ معاہدہ ہے جو محمد بن عبداللہ نے طے کیا۔
(5) انہی براء بن عازب سے مسلم کتاب الجہاد میں ایک روایت یہ ہے کہ حضرت علی کے انکار کرنے پر حضور نے اپنے ہاتھ سے " رسول اللہ " کے الفاظ مٹا دیے۔
(6) دوسری روایت اسی کتاب میں ان سے یہ منقول ہے کہ حضور نے حضرت علی سے فرمایا مجھے بتاؤ رسول اللہ کا لفظ کہاں لکھا ہے، حضرت علی نے آپ جو جگہ بتائی اور آپ نے اسے مٹا کر ابن عبداللہ لکھ دیا۔
روایات کا یہ اضطراب صاف بتارہا ہے کہ بیچ کے راویوں نے حضرت براء بن عازب ؓ کے الفاظ جوں کے توں نقل نہیں کیے ہیں، اسی لیے ان میں سے کسی ایک کی نقل پر بھی ایسا مکمل اعتماد نہیں کیا جاسکتا کہ یقینی طور پر یہ کہا جاسکے کہ حضور نے " محمد بن عبداللہ " کے الفاظ اپنے دست مبارک ہی سے لکھے تھے، ہوسکتا ہے کہ صحیح صورت واقعہ یہ ہو کہ جب حضرت علی نے " رسول اللہ " کا لفظ مٹانے سے انکار کردیا تو آپ نے اس کی جگہ ان سے پوچھ کر یہ لفظ اپنے ہاتھ سے مٹا دیا ہو اور پھر ان سے یا کسی دوسرے کاتب سے ابن عبداللہ کے الفاظ لکھوا دیے ہوں۔ دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر صلح نامہ دو کاتب لکھ رہے تھے۔ ایک حضرت علی، دوسرے محمد بن مسلمہ (فتح الباری، جلد 5، ص 217) اس لیے یہ امر بعید نہیں ہے کہ جو کام ایک کاتب نے نہ کیا تھا وہ دوسرے کاتب سے لے لیا گیا ہو۔ تاہم اگر واقعہ یہی ہو کہ حضور نے اپنا نام اپنے ہی دست مبارک سے لکھا ہو، تو ایسی مثالیں دنیا میں بکثرت پائی جاتی ہیں کہ ان پڑھ لوگ صرف اپنا نام لکھنا سیکھ لیتے ہیں باقی کوئی چیز نہ پڑھ سکتے ہیں نہ لکھ سکتے ہیں۔
دوسری روایت جس کی بنا پر نبی ﷺ کے خواندہ ہونے کا دعوی کیا گیا ہے مجاہد سے ابن ابی شیبہ اور عمر بن شبہ نے نقل کی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں کہ ما مات رسول اللہ ﷺ حتی کتب وقرا۔ رسول اللہ ﷺ اپنی وفات سے پہلے لکھنا پڑحنا سیکھ چکے تھے۔ لیکن اول تو یہ سندا بہت ضعیف روایت ہے جیسا کہ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں فضعیف لا اصل لہ۔ دوسرے اس کی کمزوری یوں بھی واضح ہے کہ اگر حضور نے فی الواقع بعد میں لکھنا پڑھنا سیکھا ہوتا تو یہ بات مشہور ہوجاتی، بہت سے صحابہ اس کو روایت کرتے اور یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ حضور نے کس شخص یا کن اشخاص سے یہ تعلیم حاصل کی تھی۔ لیکن سوائے ایک عون بن عبداللہ کے جن سے مجاہد نے یہ بات سنی اور کوئی شخص اسے روایت نہیں کرتا۔ اور یہ عون بھی صحابی نہیں بلکہ تابعی ہیں جنہوں نے قطعا یہ نہیں بتایا کہ انہیں کس صحابی یا کن صحابیوں سے اس واقعہ کا علم حاصل ہوا۔ ظاہر ہے کہ ایسی کمزور روایتوں کی بنیاد پر کوئی ایسی بات قابل تسلیم نہیں ہوسکتی جو مشہور و معروف واقعات کی تردید کرتی ہو۔
سورة العنکبوت 92
یعنی بلا شبہ اس کتاب کا نزول اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی مہربانی ہے اور یہ بندوں کے لیے بڑی پندو نصیحت پر مشتمل ہے، مگر اس کا فائدہ صرف وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں جو اس پر ایمان لائیں۔
Ayahs 29:53–55سورة العنکبوت 93
یعنی بار بار چیلنج کے انداز میں مطالبہ کر رہے ہیں کہ اگر تم رسول ہو اور ہم واقعی حق کو جھٹلا رہے ہیں تو ہم پر وہ عذاب کیوں نہیں لے آتے جس کے ڈراوے تم ہمیں دیا کرتے ہو۔
Ayah 29:56سورة العنکبوت 94
یہ اشارہ ہے ہجرت کی طرف۔ مطلب یہ ہے کہ اگر مکہ میں خدا کی بندگی کرنی مشکل ہو رہی ہے تو ملک چھوڑ کر نکل جاؤ، خدا کی زمین تنگ نہیں ہے۔ جہاں بھی تم خدا کے بندے بن کر رہ سکتے ہو وہاں چلے جاؤ۔ تم کو قوم و وطن کی نہیں بلکہ اپنے خدا کی بندگی کرنی چاہیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصل چیز قوم، وطن اور ملک نہیں ہے بلکہ اللہ کی بندگی ہے۔ اگر کسی وقت قوم و وطن اور ملک کی محبت کے تقاضے اللہ کی بندگی کے تقاضوں سے ٹکرا جائیں تو وہی وقت مومن کے ایمان کی آزمائش کا ہوتا ہے۔ جو سچا مومن ہے وہ اللہ کی بندگی کرے گا اور قوم وطن اور ملک کو لات مار دے گا۔ جو جھوٹا مدعی ایمان ہے وہ ایمان کو چھوڑ دے گا اور اپنی قوم اور اپنے ملک و وطن سے چمٹا رہے گا۔ یہ آیت اس باب میں بالکل صریح ہے کہ ایک سچا خدا پرست انسان محب قوم و وطن تو ہوسکتا ہے مگر قوم پرست نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے خدا کی بندگی ہر چیز سے عزیز تر ہے جس پر دنیا کی ہر چیز کو وہ قربان کردے گا مگر اسے دنیا کی کسی چیز پر بھی قربان نہ کرے گا۔
Ayah 29:57سورة العنکبوت 95
یعنی جان کی فکر نہ کرو۔ یہ تو کبھی نہ کبھی جانی ہی ہے۔ ہمیشہ رہنے کے لیے تو کوئی بھی دنیا میں نہیں آیا ہے۔ لہذا تمہارے لیے فکر کے لائق مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اس دنیا میں جان کیسے بچائی جائے۔ بلکہ اصل لائق فکر مسئلہ یہ ہے کہ ایمان کیسے بچایا جائے اور خدا پرستی کے تقاضے کس طرح پورے کیے جائیں۔ آخر کار تمہیں پلٹ کر ہماری طرف ہی آنا ہے۔ اگر دنیا میں جان بچانے کے لیے ایمان کھو کر آئے تو اس کا نتیجہ کچھ اور ہوگا اور ایمان بچانے کے لیے جان کھو آئے تو اس کا انجام کچھ دوسرا ہوگا۔ پس فکر جو کچھ بھی کرنی ہے اس بات کی کرو کہ ہماری طرف جب پلٹو گے تو کیا لے کر پلٹو گے، جان پر قربان کیا ہوا ایمان ؟ یا ایمان پر قربان کی ہوئی جان ؟
Ayah 29:58سورة العنکبوت 96
یعنی اگر ایمان اور نیکی کے راستہ پر چل کر بالفرض تم دنیا کی ساری نعمتوں سے محروم بھی رہ گئے اور دنیوی نقطہ نظر سے سراسر ناکام بھی مرے تو یقین رکھو کہ اس کی تلافی بہرحال ہوگی اور نری تلافی ہی نہ ہوگی بلکہ بہترین اجر نصیب ہوگا۔
Ayah 29:59سورة العنکبوت 97
یعنی جو ہر طرح کی مشکلات اور مصائب اور نقصانات اور اذیتوں کے مقابلے میں ایمان پر قائم رہے ہیں۔ جنہوں نے ایمان لانے کے خطرات کو اپنی جان پر جھیلا ہے اور منہ نہیں موڑا ہے۔ ترک ایمان کے فائدوں اور منفعتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور ان کی طرف ذرہ برابر التفات نہیں کیا ہے۔ کفار و فساق کو اپنے سامنے پھولتے دیکھا ہے اور ان کی دولت و حشمت پر ایک نگاہ غلط انداز بھی نہیں ڈالی ہے۔
سورة العنکبوت 98
یعنی جنہوں نے بھروسہ اپنی جائدادوں اور اپنے کاروبار اپنے کنبے قبیلے پر نہیں بلکہ اپنے رب پر کیا۔ جو اسباب دنیوی سے قطع نظر کر کے محض اپنے رب کے بھروسے پر ایمان کی خاطر ہر خطرہ سہنے اور ہر طاقت سے ٹکرا جانے کے لیے تیار ہوگئے، اور وقت آیا تو گھر بار چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے۔ جنہوں نے اپنے رب پر یہ اعتماد کیا کہ ایمان اور نیکی پر قائم رہنے کا اجر اس کے ہاں کبھی ضائع نہ ہوگا اور یقین رکھا کہ وہ اپنے مومن و صالح بندوں کی اس دنیا میں بھی دستگیری فرمائے گا اور آخرت میں بھی ان کے عمل کا بہترین بدلہ دے گا۔
Ayah 29:60سورة العنکبوت 99
یعنی ہجرت کرنے میں تمہیں فکر جان کی طرح فکر روزگار سے بھی پریشان نہ ہونا چاہیے۔ آخر یہ بیشمار چرند و پرند اور آبی حیوانات جو تمہاری آنکھوں کے سامنے ہو اور خشکی اور پانی میں پھر رہے ہیں، ان میں سے کون اپنا رزق اٹھائے پھرتا ہے ؟ اللہ ہی تو ان سب کو پال رہا ہے، جہاں جاتے ہیں اللہ کے فضل سے ان کو کسی نہ کسی طرح رزق مل ہی جاتا ہے۔ لہذا تم یہ سوچ سوچ کر ہمت نہ ہارو کہ اگر ایمان کی خاطر گھر بار چھوڑ کر نکل گئے تو کھائیں گے کہاں سے۔ اللہ جہاں سے اپنی بیشمار مخلوق کو رزق دے رہا ہے، تمہیں بھی دے گا۔
ٹھیک یہی بات ہے جو سیدنا مسیح ؑ نے اپنے حواریوں سے فرمائی تھی۔ انہوں نے فرمایا
" کوئی آدمی دو مالکوں کی خدمت نہیں کرسکتا، کیونکہ یا تو ایک سے عداوت رکھے گا اور دوسرے سے محب، یا ایک سے ملا رہے گا اور دوسرے کو ناچیز جانے گا۔ تم خدا اور دولت دونوں کی خدمت نہیں کرسکتے۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ اپنی جان کی فکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے اور نہ اپنے بدن کی کہ کیا پہنیں گے۔ کیا جان خوراک سے اور بدن پوشاک سے بڑھ کر نہیں ؟ ہوا کے پرندوں کو دیکھو کہ نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے ہیں، نہ کوٹھیوں میں جمع کرتے ہیں۔ پھر بھی تمہارا آسمانی باپ ان کو کھلاتا ہے۔ کیا تم ان سے زیادہ قدر نہیں رکھتے ؟ تم میں سے ایسا کون ہے جو فکر کر کے اپنی عمر میں ایک گھڑی بھی بڑھا سکے ؟ اور پوشاک کے لیے کیوں فکر کرتے ہو ؟ جنگلی سو سن کے درختوں کو غور سے دیکھو کہ وہ کس بڑھتے ہیں، وہ نہ محنت کرتے ہیں نہ کا تتے ہیں، پھر بھی میں تم سے کہتا ہوں کہ سلیمان بھی باوجود اپنی ساری شان و شوکت کے ان میں سے کسی کے مانند لمبس نہ تھا۔ پس جب خدا میدان کی گھاس کو جو آج ہے اور کل تنور میں جھونکی جائے گی ایسی پوشاک پہناتا ہے تو اسے کم اعتقادو تم کو کیوں نہ پہنائے گا۔ اس لیے فکر مند نہ ہو کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے یا کیا پہنیں گے۔ ان سب چیزوں کی تلاش میں تو غیر قومیں رہتی ہیں۔ تمہارا آسمانی باپ جانتا ہے کہ تم ان سب چیزوں کے محتاج ہو۔ تم پہلے اس کی بادشاہی اور اس کی راست بازی کی تلاش کرو۔ یہ سب چیزیں بھی تمہیں مل جائیں گی۔ کل کے لیے فکر نہ کرو۔ کل کا دن اپنی فکر آپ کرلے گا۔ آج کے لیے آج ہی کا دکھ کافی ہے "۔ (متی۔ باب 6۔ آیات 24۔ 34)
قرآن اور انجیل کے ان ارشادات کا پس منظر ایک ہی ہے۔ دعوت حق کی راہ میں ایک مرحلہ ایسا آجاتا ہے جس میں ایک حق پرست آدمی کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں رہتا کہ عالم اسباب کے تمام سہاروں سے قطع نظر کر کے محض اللہ کے بھروسے پر جان جوکھوں کی بازی لگا دے۔ ان حالات میں وہ لوگ کچھ نہیں کرسکتے جو حساب لگا لگا کر مستقبل کے امکانات کا جائزہ لیتے ہیں اور قدم اٹھانے سے پہلے جان کے تحفظ اور رزق کے حصول کی ضمانتیں تلاش کرتے ہیں، درحقیقت اس طرح کے حالات بدلتے ہی ان لوگوں کی طاقت سے ہیں جو سر ہتھیلی پر لے کر اٹھ کھڑے ہوں اور ہر خطرے کو انگیز کرنے کے لیے بےدھڑک تیار ہوجائیں۔ انہین کی قربانیاں آخر کار وہ وقت لاتی ہیں جب اللہ کا کلمہ بلند ہوتا ہے اور اس کے مقابلے میں سارے کلنے پست ہو کر رہ جاتے ہیں۔
Ayahs 29:61–62سورة العنکبوت 100
یہاں سے پھر کلام کا رخ کفار مکہ کی طرف مڑتا ہے۔
Ayah 29:63سورة العنکبوت 101
اس مقام پر اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ کا لفظ دو معنی دے رہا ہے۔ ایک یہ کہ جب یہ سارے کام اللہ کے ہیں تو پھر حمد کا مستحق بھی صرف وہی ہے۔ دوسروں کو حمد کا استحقاق کہاں سے پہنچ گیا ؟ دوسرے یہ کہ خدا کا شکر ہے، اس بات کا اعتراف تم خود بھی کرتے ہو۔
Ayahs 29:64–65سورة العنکبوت 102
یعنی اس کی حقیقت بس اتنی ہی ہے جیسے بچے تھوڑی دیر کے لیے کھیل کود لیں اور پھر اپنے اپنے گھر کو سدھاریں۔ یہاں جو بادشاہ بن گیا ہے وہ حقیقت میں بادشاہ نہیں بن گیا ہے بلکہ صرف بادشاہی کا ڈراما کر رہا ہے۔ ایک وقت آتا ہے جب اس کا یہ کھیل ختم ہوجاتا ہے اور اسی بےسروسامانی کے ساتھ وہ تخت شاہی سے رخصت ہوتا ہے جس کے ساتھ وہ اس دنیا میں آیا تھا۔ اسی طرح زندگی کی کوئی شکل بھی یہاں مستقل اور پائیدار نہیں ہے، جو جس حال میں بھی ہے عارضی طور پر ایک محدود مدت کے لیے ہے، اس چند روزہ زندگی کی کامرانیوں پر جو لوگ مرے مٹتے ہیں اور انہی کے لیے ضمیر و ایمان کی بازی لگا کر کچھ عیش و عشرت کا سامان اور کچھ کھلونوں سے اگر وہ دس بیس یا ساٹھ ستر سال دل بہلا لیں اور پھر موت کے دروازے سے خالی ہاتھ گزر کر اس عالم میں پہنچیں جہاں کی دائمی و ابدی زندگی میں ان کا یہی کھیل بلائے بےدر ماں ثابت ہو تو آخر اس طفل تسلی کا فائدہ کیا ہے ؟
سورة العنکبوت 103
یعنی اگر یہ لوگ اس حقیقت کو جانتے کہ دنیا کی موجودہ زندگی صرف ایک مہلت امتحان ہے، اور انسان کے لیے اصل زندگی جو ہمیشہ ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، آخرت کی زندگی ہے تو وہ یہاں امتحان کی مدت کو اس لہو و لعب میں ضائع کرنے کے بجائے اس کا ایک ایک لمحہ ان کاموں میں استعمال کرتے جو اس ابدی زندگی میں بہتر نتائج پیدا کرنے والے ہوں۔
Ayah 29:66سورة العنکبوت 104
تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، سورة انعام 29 و 41، سورة یونس حاشیہ 29 و 31۔ سورة بنی اسرائیل حاشیہ 84۔
Ayah 29:67سورة العنکبوت 105
یعنی کیا ان کے شہر مکہ کو جس کے دامن میں انہیں کمال درجے کا امن میسر ہے، کسی لات یا ہبل نے حرم بنایا ہے ؟ کیا کسی دیوی یا دیوتا کی یہ قدرت تھی کہ ڈھائی ہزار سال سے عرب کی انتہائی بد امنی کے ماحول میں اس جگہ کو تمام فتنوں اور فسادوں سے محفوظ رکھتا ؟ اس کی حرمت کو برقرار رکھنے والے ہم نہ تھے تو اور کون تھا ؟
Ayah 29:68سورة العنکبوت 106
یعنی نبی نے دعوائے رسالت کیا ہے اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے۔ اب معاملہ دو حال سے خالی نہیں۔ اگر نبی نے اللہ کا نام لے کر جھوٹا دعوی کیا ہے تو اس سے بڑا ظالم کوئی نہیں۔ اور اگر تم نے سچے نبی کی تکذیب کی ہے تو پھر تم سے بڑا ظالم کوئی نہیں۔
Ayah 29:69سورة العنکبوت 107
" مجاہدہ " کی تشریح اسی سورة عنکبوت کے 8 میں گزر چکی ہے۔ وہاں یہ فرمایا گیا تھا کہ جو شخص مجاہدہ کرے گا وہ اپنی ہی بھلائی کے لیے کرے گا (آیت 6) یہاں یہ اطمینان دلایا جارہا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں اخلاص کے ساتھ دنیا بھر سے کش مکش کا خطرہ مول لے لیتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ ان کے حال پر نہیں چھوڑ دیتا۔ بلکہ وہ ان کی دستگیری و رہنمائی فرماتا ہے اور اپنی طرف آنے کی راہیں ان کے لیے کھول دیتا ہے۔ وہ قدم قدم پر انہیں بتاتا ہے کہ ہماری خوشنودی تم کس طرح حاصل کرسکتے ہو۔ ہر ہر موڑ پر انہیں روشنی دکھاتا ہے کہ راہ راست کدھر ہے اور غلط راستے کون سے ہیں۔ جتنی نیک نیتی اور خیر طلبی ان میں ہوتی ہے اتنی ہی اللہ کی مدد اور توفیق اور ہدایت بھی ان کے ساتھ رہتی ہے۔