29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsتفہیم القرآن

Ayah 29:25

وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا١ۙ مَّوَدَّةَ بَیْنِكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ ثُمَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ یَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ یَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا١٘ وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَۗۙ Open ayah 29:25 in the Quran reader

اور اُس نے کہا41 ”تم نے دنیا کی زندگی میں تو اللہ کو چھوڑ کر بُتوں کو اپنے درمیان محبّت کا ذریعہ بنالیا ہے42 مگر قیامت کے روز تم ایک دُوسرے کا انکار اور ایک دُوسرے پر لعنت کرو گے43 اور آگ تمہارا ٹھکانا ہوگی اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا۔“

سورة العنکبوت 41 سلسلہ کلام سے مترشح ہوتا ہے کہ یہ بات آگ سے بسلامت نکل آنے کے بعد حضرت ابراہیم نے لوگوں سے فرمائی ہوگی۔ سورة العنکبوت 42 یعنی تم نے خدا پرستی کے بجائے بت پرستی کی بناید پر اپنی اجتماعی زندگی کی تعمیر کرلی ہے جو دنیوی زندگی کی حد تک تمہارا قومی شیرازہ باندھ سکتی ہے۔ اس لیے کہ یہاں کسی عقیدے پر بھی لوگ جمع ہوسکتے ہیں خواہ حق ہو یا باطل۔ اور ہر اتفاق و اجتماع چاہے وہ کیسے ہی غلط عقیدے پر ہو، باہم دوستیوں، رشتہ داریوں، برادریوں اور دوسرے تمام مذہبی، معاشرتی و تمدنی اور معاشی و سیاسی تعلقات کے قیام کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ سورة العنکبوت 43 یعنی عقیدہ باطلہ پر تمہاری یہ ہیئت اجتماعی آخرت میں بنی نہیں رہ سکتی۔ وہاں آپس کی محبت، دوستی، تعاون، رشتہ داری اور عقیدت و ارادت کے صرف وہی تعلقات برقرار رہ سکتے ہیں جو دنیا میں خدائے واحد کی بندگی اور نیکی وتقوی پر قائم ہوئے ہوں۔ کفر و شرک اور گمراہی و بدراہی پر جڑے ہوئے سارے رشتے وہاں کٹ جائیں گے۔ ساری محبتیں دشمنی میں تبدیل ہوجائیں گی، ساری عقیدتیں نفرت میں بدل جائیں گی، بیٹے اور باپ، شوہر اور بیوی، پیر اور مرید تک ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور ہر ایک اپنی گمراہی کی ذمہ داری دوسرے پر ڈال کر پکارے گا کہ اس ظالم نے مجھے خراب کیا اس لیے اسے دوہرا عذاب دیا جائے۔ یہ بات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر فرمائی گئی ہے۔ مثلا سورة زخرف میں فرمایا اَلْاَخِلَّاۗءُ يَوْمَىِٕذٍۢ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ ، (آیت 67) " دوست اس روز ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے، سوائے متقین کے "۔ سورة اعراف میں فرمایا ۭكُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا ۭ حَتّٰى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰٓؤُلَاۗءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ، (آیت 38) " ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے پاس والے گروہ پر لعنت کرتا ہوا داخل ہوگا حتی کہ جب سب وہاں جمع ہوجائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے ہمارے رب یہ لوگ تھے جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا، لہذا انہیں آگ کا دوہرا عذاب دے "۔ اور سورة احزاب میں فرمایا وَقَالُوْا رَبَّنَآ اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاۗءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِيْلَا۔ رَبَّنَآ اٰتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيْرًا (آیات 67۔ 68) " اور وہ کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہم کو راہ سے بےراہ کردیا، اے ہمارے رب تو انہیں دوہری سزا دے اور ان پر سخت لعنت فرما "
Ayah 29:26

فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ١ۘ وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:26 in the Quran reader

اُس وقت لُوطؑ نے اُس کو مانا۔44 اور ابراہیمؑ نے کہا میں اپنے ربّ کی طرف ہجرت کرتا ہوں،45 وہ زبردست ہے اور حکیم ہے۔46

سورة العنکبوت 44 ترتیب کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم آگ سے نکل آئے اور انہوں نے اوپر کے فقرے ارشاد فرمائے اس وقت سارے مجمع میں صرف ایک حضرت لوط تھے جنہوں نے آگے بڑھ کر ان کو ماننے اور ان کی پیروی اختیار کرنے کا اعلان کیا۔ ہوسکتا ہے کہ اس موقع پر دوسرے بہت سے لوگ بھی اپنے دل میں حضرت ابراہیم کی صداقت کے قائل ہوگئے ہوں۔ لیکن پوری قوم اور سلطنت کی طرف سے دین ابراہیم کے خلاف جس غضب ناک جذبے کا اظہار اس وقت سب کی آنکھوں کے سامنے ہوا تھا اسے دیکھتے ہوئے کوئی دوسرا شخص ایسے خطرناک حق کو ماننے اور اس کا ساتھ دینے کی جرات نہ کرسکا۔ یہ سعادت صرف ایک آدمی کے حصے میں آئی اور وہ حضرت ابراہیم کے بھتیجے حضرت لوط تھے جنہوں نے آخر کار ہجرت میں بھی اپنے چچا اور چچی (حضرت سارہ) کا ساتھ دیا۔ یہاں ایک شبہ پیدا ہوتا ہے جسے رفع کردینا ضروری ہے۔ ایک شخص سوال کرسکتا ہے کہ کیا اس واقعہ سے پہلے حضرت لوط کافر و مشرک تھے اور آگ سے حضرت ابراہیم کے بسلامت نکل آنے کا معجزہ دیکھنے کے بعد انہیں نعمت ایمان میسر آئی ؟ اگر یہ بات ہے تو کیا نبوت کے منصب پر کوئی ایسا شخص بھی سرفراز ہوسکتا ہے جو پہلے مشرک رہ چکا ہو ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن نے یہاں فَاٰمَنَ لَهٗ لُوْطٌ کے الفاظ استعمال کیے ہیں جن سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس سے پہلے حضرت لوط خداوند عالم کو نہ مانتے ہوں، یا اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو شریک کرتے ہوں، بلکہ ان سے صرف یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس واقعہ کے بعد انہوں نے حضرت ابراہیم کی رسالت کی تصدیق کی اور ان کی پیروی اختیار کرلی۔ ایمان کے ساتھ جب لام کا صلہ آتا ہے تو اس کے معنی کسی شخص کی بات ماننے اور اس کی اطاعت کرنے کے ہوتے ہیں، ممکن ہے کہ حضرت لوط اس وقت ایک نو عمر لڑکے ہی ہوں اور اپنے ہوش میں ان کو پہلی مرتبہ اس موقع پر ہی اپنے چچا کی تعلیم سے واقف ہونے اور ان کی شان رسالت سے آگاہ ہونے کا موقع ملا ہو۔ سورة العنکبوت 45 یعنی اپنے رب کی خاطر ملک چھوڑ کر نکلتا ہوں، اب جہاں میرا رب لے جائے گا وہاں چلا جاؤں گا۔ سورة العنکبوت 46 یعنی وہ میری حمایت و حفاظت پر قادر ہے اور میرے حق میں اس کا جو فیصلہ بھی ہوگا حکمت پر مبنی ہوگا۔
Ayah 29:27

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ وَ اٰتَیْنٰهُ اَجْرَهٗ فِی الدُّنْیَا١ۚ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 29:27 in the Quran reader

اور ہم نے اُسے اسحاقؑ اور یعقوبؑ (جیسی اولاد)عنایت فرمائی47 اور اُس کی نسل میں نبوّت اور کتاب رکھ دی،48 اور اسے دنیا میں اُس کا اجر عطا کیا اور آخرت میں وہ یقیناً صالحین میں سے ہوگا۔49

سورة العنکبوت 47 حضرت اسحاق بیٹے تھے اور حضرت یعقوب پوتے۔ یہاں حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹوں کا ذکر اس لیے نہیں کیا گیا ہے کہ اولاد ابراہیم کی مدیانی شاخ میں صرف حضرت شعیب مبعوث ہوئے اور اسماعیلی شاخ میں سرکار رسالت مآب محمد ﷺ تک ڈھائی ہزار سال کی مدت میں کوئی نبی نہیں آیا۔ اس کے برعکس نبوت اور کتاب کی نعمت حضرت عیسیٰ ؑ تک مسلسل اس شاخ کو عطا ہوتی رہی جو حضرت اسحاق ؑ سے چلی تھی۔ سورة العنکبوت 48 اس میں وہ تمام انبیاء آگئے جو نسل ابراہیمی کی سب شاخوں میں مبعوث ہوئے ہیں۔ سورة العنکبوت 49 مقصود بیان یہ ہے کہ بابل کے وہ حکمراں اور پنڈت اور پروہت جنہوں نے ابراہیم ؑ کی دعوت کو نیچا دکھانا چاہا تھا اور اس کے وہ مشرک باشندے جنہوں نے آنکھیں بند کر کے ان ظالموں کی پیروی کی تھی، وہ تو دنیا سے مٹ گئے اور ایسے مٹے کہ آج دنیا میں کہیں ان کا نام و نشان تک باقی نہیں۔ مگر وہ شخص جسے اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے جرم میں ان لوگوں نے جلا کر خاک کردینا چاہا تھا اور جسے آخر کار بےسروسامانی کے عالم میں وطن سے نکل جانا پڑا تھا، اس کو اللہ تعالیٰ نے یہ سرفرازی عطا فرمائی کہ چار ہزار برس سے دنیا میں اس کا نام روشن ہے اور قیامت تک رہے گا۔ دنیا کے تمام مسلمان، عیسائی اور یہودی اس خلیل رب العالمین کو بالاتفاق اپنا پیشوا مانتے ہیں۔ دنیا کو ان چالیس صدیوں میں جو کچھ بھی ہدایت کی روشنی میسر آئی ہے اسی ایک انسان اور اس کی پاکیزہ اولاد کی بدولت میسر آئی ہے۔ آخرت میں جو اجر عظیم اس کو ملے گا وہ تو ملے گا ہی، مگر اس دنیا میں بھی اس نے وہ عزت پائی جو حصول دنیا کے پیچھے جان کھپانے والوں میں سے کسی کو آج تک نصیب نہیں ہوئی۔
Ayah 29:28

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ١٘ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 29:28 in the Quran reader

50اور ہم نے لُوطؑ کو بھیجا جبکہ اُس نے اپنی قوم سے کہا”تم تو وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کیا ہے

سورة العنکبوت 50 تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف رکوع 10، ہود 7۔ الحجر 4۔ 5۔ الانبیاء 5۔ الشعراء 9۔ النمل 4۔ الصافات 4۔ القمر 2۔
Ayahs 29:29–30

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ وَ تَقْطَعُوْنَ السَّبِیْلَ١ۙ۬ وَ تَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْكُمُ الْمُنْكَرَ١ؕ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 29:29 in the Quran reader

کیا تمہارا حال یہ ہے کہ مَردوں کے پاس جاتے ہو،51 اور رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں بُرے کام کرتے ہو؟“52 پھر کوئی جواب اُس کی قوم کے پاس اس کے سوا نہ تھا کہ انہوں نے کہا”لے آ اللہ کا عذاب اگر تُو سچا ہے۔“

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 29:30 in the Quran reader

لوطؑ نے کہا "اے میرے رب، اِن مفسد لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما"

سورة العنکبوت 51 یعنی ان سے شہوت رانی کرتے ہو، جیسا کہ سورة اعراف میں ہے اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَاۗءِ۔ (آیت 81) " تم خواہش نفس پوری کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس جاتے ہو "۔ سورة العنکبوت 52 یعنی یہ فحش کام چھپ کر بھی نہیں کرتے بلکہ علانیہ اپنی مجلسوں میں ایک دوسرے کے سامنے اس کا ارتکاب کرتے ہو۔ یہی بات سورة نمل میں فرمائی ہے اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ۔ (آیت 54) " کیا تم ایسے بگڑ گئے ہو کہ دیکھنے والی آنکھوں کے سامنے فحش کاری کرتے ہو "۔
Ayah 29:31

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى١ۙ قَالُوْۤا اِنَّا مُهْلِكُوْۤا اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ١ۚ اِنَّ اَهْلَهَا كَانُوْا ظٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 29:31 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرستادے ابراہیمؑ کے پاس بشارت لے کر پہنچے53 تو انہوں نے اُس سے کہا”ہم اِس بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے والے ہیں،54 اس کے لوگ سخت ظالم ہو چکے ہیں۔“

سورة العنکبوت 53 سورة ہود اور سورة حجر میں اس کی تفصیل یہ بیان ہوئی ہے کہ جو فرشتے قوم لوط پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجے گئے تھے وہ پہلے حجرت ابراہیم کے پاس حاضر ہوئے اور انہوں نے آنجناب کو حضرت اسحاق اور ان کے بعد حضرت یعقوب کی پیدائش کی بشارت دی، پھر یہ بتایا کہ ہمیں قوم لوط کو تباہ کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ سورة العنکبوت 54 " اس بستی " کا اشارہ قوم لوط کے علاقے کی طرف ہے۔ حضرت ابراہیم اس وقت فلسطین کے شہر حبرون (موجودہ الخلیل) میں رہتے تھے۔ اس شہر کے جنوب مشرق میں چند میل کے فاصلے پر بحیرہ مردار (Dead Sea) کا وہ حصہ واقع ہے جہاں پہلے قوم لوط آباد تھی اور اب جس پر بحیرہ کا پانی پھیلا ہوا ہے۔ یہ علاقہ نشیب میں واقع ہے اور حبرون کی بلند پہاڑیوں پر سے صاف نظر آتا ہے۔ اسی لیے فرشتوں نے اس کی طرف اشارہ کر کے حضرت ابراہیم سے عرض کیا کہ " ہم اس بستی کو ہلاک کرنے والے ہیں " (ملاحظہ ہو سورة شعراء حاشیہ 114)
Ayah 29:32

قَالَ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا١ؕ قَالُوْا نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَنْ فِیْهَا١٘ٙ لَنُنَجِّیَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:32 in the Quran reader

ابراہیمؑ نے کہا”وہاں تو لُوطؑ موجود ہے۔“55 انہوں نے کہا”ہم خوب جانتے ہیں کہ وہاں کون کون ہے۔ ہم اُسے ، اور اُس کی بیوی کے سوا اس کے باقی گھر والوں کو بچا لیں گے۔“ اس کی بیوی پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔56

سورة العنکبوت 55 سورة ہود میں اس قصے کا ابتدائی حصہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ سب سے پہلے تو حضرت ابراہیم فرشتوں کو انسانی شکل میں دیکھ کر ہی گھبرا گئے، کیونکہ اس شکل میں فرشتوں کا آنا کسی خطرناک مہم کا پیش خیمہ ہوا کرتا ہے۔ پھر جب انہوں نے آپ کو بشارت دی اور آپ کی گھبراہٹ دور ہوگئی اور آپ کو معلوم ہوا کہ یہ مہم قوم لوط کی طرف جارہی ہے تو آپ اس قوم کے لیے بڑے اصرار کے ساتھ رحم کی درخواست کرنے لگے فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِيْمَ الرَّوْعُ وَجَاۗءَتْهُ الْبُشْرٰي يُجَادِلُنَا فِيْ قَوْمِ لُوْطٍ۔ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَحَلِيْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِيْبٌ۔ مگر یہ درخواست قبول نہ ہوئی اور فرمایا گیا کہ اس معاملہ میں اب کچھ نہ کہو، تمہارے رب کا فیصلہ ہوچکا ہے اور یہ عذاب اب ٹلنے والا نہیں ہے۔ يٰٓـــاِبْرٰهِيْمُ اَعْرِضْ عَنْ ھٰذَا ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَاۗءَ اَمْرُ رَبِّكَ ۚ وَاِنَّهُمْ اٰتِيْهِمْ عَذَابٌ غَيْرُ مَرْدُوْدٍ۔ اس جواب سے جب حضرت ابراہیم کو یہ امید باقی نہ رہی کہ قوم لوط کی مہلت میں کوئی اضافہ ہوسکے گا، تب انہیں حضرت لوط کی فکر لاحق ہوئی اور انہوں نے وہ بات عرض کی جو یہاں نقل کی گئی ہے کہ " وہاں تو لوط موجود ہے "۔ یعنی یہ عذاب اگر لوط کی موجودگی میں نازل ہوا تو وہ اور ان کے اہل و عیال اس سے کیسے محفوظ رہیں گے۔ سورة العنکبوت 56 اس عورت کے متعلق سورة تحریم (آیت 10، میں بتایا گیا ہے کہ یہ حضرت لوط کی وفادار نہ تھی، اسی وجہ سے اس کے حق میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ وہ بھی ایک نبی کی بیوی ہونے کے باوجود عذاب میں مبتلا کردی جائے۔ اغلب یہ ہے کہ حضرت لوط ہجرت کے بعد جب اردن کے علاقے میں آکر آباد ہوئے ہوں گے تو انہوں نے اسی قوم میں شادی کرلی ہوگی۔ لیکن ان کی صحبت میں ایک عمر گزار دینے کے بعد بھی یہ عورت ایمان نہ لائی اور اس کی ہمدردیاں اور دلچسپیاں اپنی قوم ہی کے ساتھ وابستہ رہیں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں رشتہ داریاں اور برادریاں کوئی چیز نہیں ہیں، ہر شخص کے ساتھ معاملہ اس کے اپنے ایمان و اخلاق کی بنیاد پر ہوتا ہے، اس لیے پیغمبر کی بیوی ہونا اس کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہوسکا اور اس کا انجام اپنے شوہر کے ساتھ ہونے کے بجائے اپنی اس قوم کے ساتھ ہوا جس کے ساتھ اس نے اپنا دین و اخلاق وابستہ کر رکھا تھا۔
Ayahs 29:33–34

وَ لَمَّاۤ اَنْ جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالُوْا لَا تَخَفْ وَ لَا تَحْزَنْ١۫ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَ اَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 29:33 in the Quran reader

پھر جب ہمارے فرستادے لُوطؑ کے پاس پہنچے تو ان کی آمد پر وہ سخت پریشان اور دل تنگ ہوا۔57 اُنہوں نے کہا”نہ ڈرو اور نہ رنج کرو۔58 ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو بچا لیں گے ، سوائے تمہاری بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے

اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 29:34 in the Quran reader

ہم اس بستی کے لوگوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں اُس فسق کی بدولت جو یہ کرتے رہے ہیں"

سورة العنکبوت 57 اس پریشانی اور دل تنگی کی وجہ یہ تھی کہ فرشتے بہت خوبصورت نوخیز لڑکوں کی شکل میں آئے تھے۔ حضرت لوط اپنی قوم کے اخلاق سے واقف تھے، اس لیے ان کے آتے ہی وہ پریشان ہوگئے کہ میں اپنے ان مہمانوں کو ٹھہراؤں تو اس بدکردار قوم سے ان کو بچانا مشکل ہے اور نہ ٹھہراؤں تو یہ بڑی بےمروتی ہے جسے شرافت گوارا نہیں کرتی۔ مزید برآں یہ اندیشہ بھی ہے کہ اگر میں ان مسافروں کو اپنی پناہ میں نہ لوں گا تو رات انہیں کہیں اور گزارنی پڑے گی اور اس کے معنی یہ ہوں گے کہ گویا میں نے خود انہیں بھیڑیوں کے حوالہ کیا۔ اس کے بعد کا قصہ یہاں بیان نہیں کیا گیا ہے۔ اس کی تفصیلات سورة ہود، الحجر اور القمر میں بیان ہوئی ہیں کہ ان لڑکوں کی آمد کی خبر سن کر شہر کے بہت سے لوگ حضرت لوط کے مکان پر ہجوم کر کے آگئے اور اصرار کرنے کہ وہ اپنے ان مہمانوں کو بدکاری کے لیے ان کے حوالے کردیں۔ سورة العنکبوت 58 یعنی ہمارے معاملہ میں نہ اس بات سے ڈرو کہ یہ لوگ ہمارا کچھ بگاڑ سکیں گے اور نہ اس بات کے لیے فکر مند ہو کہ ہمیں ان سے کیسے بچایا جائے۔ یہی موقع تھا جب فرشتوں نے حضرت لوط پر یہ راز فاش کیا کہ وہ انسان نہیں بلکہ فرشتے ہیں جنہیں اس قوم پر عذاب نازل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے۔ سورة ہود میں اس کی تصریح ہے کہ جب لوگ حضرت لوط کے گھر میں گھسے چلے آرہے تھے اور آپ نے محسوس کیا کہ اب آپ کسی طرح بھی اپنے مہمانوں کو ان سے نہیں بچا سکتے تو آپ پریشان ہو کر چیخ اٹھے کہ لَوْ اَنَّ لِيْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِيْٓ اِلٰي رُكْنٍ شَدِيْدٍ۔ " کاش میرے پاس تمہیں ٹھیک کردینے کی طاقت ہوتی یا کسی زور آور کی حمایت میں پاسکتا "۔ اس وقت فرشتوں نے کہا يٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَّصِلُوْٓا اِلَيْكَ۔ " اے لوط ہم تمہارے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں، یہ تم تک ہرگز نہیں پہنچ سکتے "۔
Ayah 29:35

وَ لَقَدْ تَّرَكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 29:35 in the Quran reader

اور ہم نے اُس بستی کی ایک کھُلی نشانی چھوڑ دی ہے59 اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔60

سورة العنکبوت 59 اس کھلی نشانی سے مراد ہے بحیرہ مردار جسے بحر لوط بھی کہا جاتا ہے، قرآن مجید میں متعدد مقامات پر کفار مکہ کو خطاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ اس ظالم قوم پر اس کے کرتوتوں کی بدولت جو عذاب آیا تھا اس کی ایک نشانی آج بھی شاہراہ عام پر موجود ہے جسے تم شام کی طرف اپنے تجارتی سفروں میں جاتے ہوئے شب و روز دیکھتے ہو۔ وَاِنَّهَا لَبِسَبِيْلٍ مُّقِيْمٍ (الحجر) اور وَاِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِيْنَ۔ وَبِالَّيْلِ۔ (الصافات) موجودہ زمانے میں یہ بات قریب قریب یقین کے ساتھ تسلیم کی جارہی ہے کہ بحیرہ مردار کا جنوبی حصہ ایک ہولناک زلزلہ کی وجہ سے زمین میں دھنس جانے کی بدولت وجود میں آیا ہے اور اسی دھنسے ہوئے حصے میں قوم لوط کا مرکزی شہر سدوم (Sodom) واقع تھا۔ اس حصے میں پانی کے نیچے کچھ ڈوبی ہوئی بستیوں کے آثار بھی پائے جاتے ہیں۔ حال میں جدید آلات غوطہ زنی کی مدد سے یہ کوشش شروع ہوئی ہے کہ کچھ لوگ نیچے جاکر ان آثار کی جستجو کریں۔ لیکن ابھی تک ان کوششوں کے نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو سورة شعراء حاشیہ 114) سورة العنکبوت 60 عمل قوم لوط کی شرعی سزا کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلدو دوم الاعراف، حاشیہ 68۔
Ayah 29:36

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ۙ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ ارْجُوا الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 29:36 in the Quran reader

اور مَدیَن کی طرف ہم نے اُن کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا۔61 اُس نے کہا”اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو اور روزِ آخر کے اُمیدوار رہو62 اور زمین میں مفسد بن کر زیادتیاں نہ کرتے پھرو۔“

سورة العنکبوت 61 تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الاعراف، رکوع 11۔ ہود 8۔ الشعراء 10۔ سورة العنکبوت 62 اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ آخرت کے آنے کی توقع رکھو، یہ نہ سمجھو کہ جو کچھ ہے بس یہی دنیوی زندگی ہے اور کوئی دوسری زندگی نہیں ہے جس میں تمہیں اپنے اعمال کا حساب دینا اور جزا و سزا پانا ہو۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ کام کرو جس سے تم آخرت میں انجام بہتر ہونے کی امید کرسکو۔
Ayah 29:37

فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ٘ Open ayah 29:37 in the Quran reader

مگر انہوں نے اسے جھُٹلا دیا۔63 آخر کار ایک سخت زلزلے نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں64 پڑے کے پڑے رہ گئے

سورة العنکبوت 63 یعنی اس بات کو تسلیم نہ کیا کہ حضرت شعیب اللہ کے رسول ہیں، اور یہ تعلیم جو وہ دے رہے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اور اس کو نہ ماننے کا نتیجہ انہیں عذاب الہی کی شکل میں بھگتنا ہوگا۔ سورة العنکبوت 64 گھر سے مراد وہ پورا علاقہ ہے جس میں یہ قوم رہتی تھی۔ ظاہر ہے کہ جب ایک پوری قوم کا ذکر ہورہا ہو تو اس کا گھر اس کا ملک ہی ہوسکتا ہے۔
Ayah 29:38

وَ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ قَدْ تَّبَیَّنَ لَكُمْ مِّنْ مَّسٰكِنِهِمْ١۫ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ وَ كَانُوْا مُسْتَبْصِرِیْنَۙ Open ayah 29:38 in the Quran reader

اور عاد و ثمود کو ہم نے ہلاک کیا، تم وہ مقامات دیکھ چکے ہو جہاں وہ رہتے تھے۔65 اُن کے اعمال کو شیطان نے اُن کے لیے خوشنما بنا دیا اور انہیں راہِ راست سے برگشتہ کر دیا حالانکہ وہ ہوش گوش رکھتے تھے۔66

سورة العنکبوت 65 عرب کے جن علاقوں میں یہ دونوں قومیں آباد تھیں ان سے عرب کا بچہ بچہ واقف تھا۔ جنوبی عرب کا پورا علاقہ جو اب احقاف، یمن اور حضرت موت کے نام سے معروف ہے، قدیم زمانہ میں عاد کا مسکن تھا اور اہل عرب اس کو جانتے تھے۔ حجاز کے شمالی حصہ میں رابغ سے عقبہ تک اور مدینہ و خیبر سے تیما اور تبوک تک کا سارا علاقہ آج بھی ثمود کے آثار سے بھرا ہوا ہے اور نزول قرآن کے زمانہ میں یہ آثار موجودہ حالت سے کچھ زیادہ ہی نمایاں ہوں گے۔ سورة العنکبوت 66 یعنی جاہل و نادان نہ تھے۔ اپنے اپنے وقت کے بڑے ترقی یافتہ لوگ تھے۔ اور اپنی دنیا کے معاملات انجام دینے میں پوری ہوشیاری اور دانائی کا ثبوت دیتے تھے۔ اس لیے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ شیطان ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اور ان کی عقل سلب کر کے انہیں اپنے راستے پر کھینچ لے گیا۔ نہیں، انہوں نے خوب سوچ سمجھ کر آنکھوں دیکھتے شیطان کے پیش کیے ہوئے اس راستے کو اختیار کیا جس میں انہیں بڑی لذتیں اور منفعتیں نظر آتی تھیں اور انبیاء کے پیش کیے ہوئے اس راستے کو چھوڑ دیا جو انہیں خشک اور بدمزہ اور اخلاقی پابندیوں کی وجہ سے تکلیف دہ نظر آتا تھا۔
Ayah 29:39

وَ قَارُوْنَ وَ فِرْعَوْنَ وَ هَامٰنَ١۫ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِالْبَیِّنٰتِ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانُوْا سٰبِقِیْنَۚۖ Open ayah 29:39 in the Quran reader

اور قارون و فرعون و ہامان کو ہم نے ہلاک کیا۔ موسیٰؑ اُن کے پاس بیّنات لے کر آیا مگر انہوں نے زمین میں اپنی بڑا ئی کا زعم کیا حالانکہ وہ سبقت لے جانے والے نہ تھے۔67

سورة العنکبوت 67 یعنی بھاگ کر اللہ کی گرفت سے بچ نکلنے والے نہ تھے۔ اللہ کی تدبیروں کو ناکام کردینے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔
Ayah 29:40

فَكُلًّا اَخَذْنَا بِذَنْۢبِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ اَرْسَلْنَا عَلَیْهِ حَاصِبًا١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَخَذَتْهُ الصَّیْحَةُ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْاَرْضَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اَغْرَقْنَا١ۚ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 29:40 in the Quran reader

آخر کار ہر ایک کو ہم نے اُس کے گناہ میں پکڑا، پھر اُن میں سے کسی پر ہم نے پتھراوٴ کرنے والی ہوا بھیجی،68 اور کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آلیا،69 اور کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا،70 اور کسی کو غرق کر دیا۔71 اللہ ان پر ظلم کر نے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اُوپر ظلم کر رہے تھے۔72

سورة العنکبوت 68 یعنی عاد، جن پر مسلسل سات رات اور آٹھ دن تک سخت ہوا کا طوفان برپا رہا۔ (سورة الحاقہ آیت 7) سورة العنکبوت 69 یعنی ثمود۔ سورة العنکبوت 70 یعنی قارون۔ سورة العنکبوت 71 یعنی فرعون اور ہامان۔ سورة العنکبوت 72 یہ تمام قصے جو یہاں تک سنائے گئے ہیں، ان کا روئے سخن دو طرف ہے۔ ایک طرف یہ اہل ایمان کو سنائے گئے ہیں تاکہ وہ پست ہمت اور دل شکستہ و مایوس نہ ہوں اور مشکلات و مصائب کے سخت سے سخت طوفان میں بھی صبر و استقلال کے ساتھ حق و صداقت کا علم بلند کیے رکھیں، اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں کہ آخرکار اس کی مدد ضرور آئے گی اور وہ ظالموں کو نیچا دکھائے گا اور کلمہ حق کو سر بلند کردے گا، دوسری طرف یہ ان ظالموں کو بھی سنائے گئے ہیں جو اپنے نزدیک تحریک اسلامی کا بالکل قلع قمع کردینے پر تلے ہوئے تھے۔ ان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ تم خدا کے حلم اور اس کی بردباری کا غلط مطلب لے رہے ہو۔ تم نے خدا کی خدائی کو اندھیر نگری سمجھ لیا ہے۔ تمہیں اگر بغاوت و سرکشی اور ظلم و ستم اور بد اعمالیوں پر ابھی تک نہیں پکڑا گیا ہے اور سنبھلنے کے لیے محض از راہ عنایت لمبی مہلت دی گئی ہے تو تم اپنی جگہ یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ یہاں کوئی انصاف کرنے والی طاقت سرے سے ہے ہی نہیں اور اس زمین پر جس کا جو کچھ جی چاہے بلا نہایت کیے جاسکتا ہے۔ یہ غلط فہمی آخر کار تمہیں جس انجام سے دوچار کر کے رہے گی وہ وہی انجام ہے جو تم سے پہلے قوم نوح اور قوم لوط اور قوم شعیب دیکھ چکی ہے جس سے عاد وثمود دوچار ہوچکے ہیں، اور جسے قارون و فرعون نے دیکھا ہے۔
Ayah 29:41

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:41 in the Quran reader

جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنا لیے ہیں اُن کی مثال مکڑی جیسی ہے جو اپنا ایک گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزور گھر مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے۔ کاش یہ لوگ علم رکھتے۔73

سورة العنکبوت 73 اوپر جتنی قوموں کا ذکر کیا گیا ہے وہ سب شرک میں مبتلا تھیں اور اپنے معبودوں کے متعلق ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ ہمارے حامی و مددگار اور سرپرست (Guardians) ہیں، ہماری قسمتیں بنانے اور بگاڑنے کی قدرت رکھتے ہیں، ان کی پوجاپاٹ کر کے اور انہیں نذر و نیاز دے کر جب ہم ان کی سرپرستی حاصل کرلیں گے تو یہ ہمارے کام بنائیں گے اور ہم کو ہر طرح کی آفات سے محفوظ رکھیں گے۔ لیکن جیسا کہ اوپر کے تاریخی واقعات میں دکھایا گیا ہے، ان کے یہ تمام عقائد و اوہام اس وقت بالکل بےبنیاد ثابت ہوئے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی بربادی کا فیصلہ کردیا گیا۔ اس وقت کوئی دیوتا، کوئی اوتار، کوئی ولی، کوئی روح اور کون جن یا فرشتہ، جسے وہ پوچتے تھے، ان کی مدد کو نہ آیا اور اپنی باطل توقعات کی ناکامی پر کف افسوس ملتے ہوئے وہ سب پیوند خاک ہوگئے۔ ان واقعات کو بیان کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ مشرکین کو متنبہ کر رہا ہے کہ کائنات کے حقیقی مالک و فرمانروا کو چھوڑ کر بالکل بےاختیار بندوں اور سراسر خیالی معبودوں کے اعتماد پر جو توقعات کا گھروندا تم نے بنا رکھا ہے اس کی حقیقت مکڑی کے جالے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ جس طرح مکڑی کا جالا ایک انگلی کی چوٹ بھی برداشت نہیں کرسکتا اسی طرح تمہاری توقعات کا یہ گھروندا بھی خدائی تدبیر سے پہلا تصادم ہوتے ہی پاش پاش ہو کر رہ جائے گا۔ یہ محض جہالت کا کرشمہ ہے کہ تم اوہام کے اس چکر میں پڑے ہوئے ہو۔ حقیقت کا کچھ بھی علم تمہیں ہوتا تو تم ان بےبنیاد سہاروں پر اپنا نظام حیات کبھی تعمیر نہ کرتے۔ حقیقت بس یہ ہے کہ اختیارات کا مالک اس کائنات میں ایک رب العالمین کے سوا کوئی نہیں ہے اور اسی کا سہارا وہ سہارا ہے جس پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ فَمَنْ يَّكْفُرْ بالطَّاغُوْتِ وَيُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰى ۤ لَا انْفِصَامَ لَهَا ۭ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔ (البقرہ۔ آیت 256) " جو طاغوت سے کفر کرے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے وہ مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے "۔
Ayahs 29:42–43

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:42 in the Quran reader

یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جس چیز کو بھی پکارتے ہیں اللہ اُسے خوب جانتا ہے اور وہی زبردست اور حکیم ہے۔74

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ Open ayah 29:43 in the Quran reader

یہ مثالیں ہم لوگوں کی فہمائش کے لیے دیتے ہیں، مگر ان کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں

سورة العنکبوت 74 یعنی اللہ کو ان سب چیزوں کی حقیقت خوب معلوم ہے جنہیں یہ لوگ معبود بنائے بیٹھے ہیں اور مدد کے لیے پکارتے ہیں۔ ان کے اختیار میں کچھ بھی نہیں ہے۔ طاقت کا مالک صرف اللہ ہی ہے اور اسی کی تدبیر و حکمت اس کائنات کا نظام چلا رہی ہے۔ ایک دوسرا ترجمہ اس آیت کا یہ بھی ہوسکتا ہے " اللہ خوب جانتا ہے کہ اسے چھوڑ کر جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ کچھ بھی نہیں ہیں (یعنی بےحقیقت ہیں) اور عزیز و حکیم بس وہی ہے "۔
Ayah 29:44

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 29:44 in the Quran reader

اللہ نے آسمانوں اور زمین کو بر حق پیدا کیا ہے،75 در حقیقت اس میں ایک نشانی ہے اہلِ ایمان کے لیے۔76

سورة العنکبوت 75 یعنی کائنات کا یہ نظام حق پر قائم ہے نہ کہ باطل پر۔ اس نظام پر جو شخص بھی صاف ذہن کے ساتھ غور کرے گا اس پر یہ بات کھل جائے گی کہ یہ زمین و آسمان اوہام و تخیلات پر نہیں بلکہ حقیقت و واقعیت پر کھڑے ہیں۔ یہاں اس امر کا کوئی امکان نہیں ہے کہ ہر شخص اپنی جگہ جو کچھ بھی سمجھ بیٹھے اور اپنے وہم و گمان سے جو فلسفہ بھی گھڑے وہ ٹھیک بیٹھ جائے۔ یہاں تو صرف وہی چیز کامیاب ہوسکتی ہے اور قرار و ثبات پاسکتی ہے جو حقیقت اور واقعہ کے مطابق ہے۔ خلاف واقعہ قیاسات اور مفروضات پر جو عمارت بھی کھڑی کی جائے گی وہ آخر کار حقیقت سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجائے گی۔ یہ نظام کائنات صاف شہادت دے رہا ہے کہ ایک خدا اس کا خالق ہے اور ایک ہی خدا اس کا مالک و مدبر ہے۔ اس امر واقعی کے خلاف اگر کوئی شخص اس مفروضے پر کام کرتا ہے کہ اس دنیا کا کوئی خدا نہیں ہے، یا یہ فرض کر کے چلتا ہے کہ اس کے بہت سے خدا ہیں جو نذر و نیاز کا مال کھا کر اپنے عقیدت مندوں کو یہاں سب کچھ کرنے کی آزادی اور بخیریت رہنے کی ضمانت دے دیتے ہیں، تو حقیقت اس کے ان مفروضات کی بدولت ذرہ برابر بھی تبدیل نہ ہوگی بلکہ وہ خود ہی کسی وقت ایک صدمہ عظیم سے دو چار ہوگا۔ سورة العنکبوت 76 یعنی زمین و آسمان کی تخلیق میں توحید کی صداقت اور شرک و دہریت کے بطلان پر ایک صاف شہادت موجود ہے، مگر اس شہادت کو صرف وہی لوگ پاتے ہیں جو انبیاء (علیہم السلام) کی پیش کی ہوئی تعلیمات کو مانتے ہیں۔ ان کا انکار کردینے والوں کو سب کچھ دیکھنے پر بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا۔
Ayah 29:45

اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ Open ayah 29:45 in the Quran reader

(اے نبی ؐ)تلاوت کرو اس کتاب کی جو تمہاری طرف وحی کی ذریعے سے بھیجی گئی ہے۔ اور نماز قائم کرو،77 یقیناً نماز فحش اور بُرے کاموں سے روکتی ہے78 اور اللہ کا ذکر اس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے۔79 اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرتے ہو

سورة العنکبوت 77 خطاب بظاہر نبی ﷺ سے ہے، مگر دراصل مخاطب تمام اہل ایمان ہیں۔ ان پر جو ظلم و ستم اس وقت توڑے جارہے تھے اور ایمان پر قائم رہنے میں جن شدید حوصلہ شکن مشکلات سے ان کو سابقہ پیش آرہا تھا، ان کا مقابلہ کرنے کے لیے پچھلے چار رکوعوں میں صبر وثبات اور توکل علی اللہ کی مسلسل تلقین کرنے کے بعد اب انہیں عملی تدبیر یہ بتائی جارہی ہے کہ قرآن کی تلاوت کریں اور نماز قائم کریں، کیونکہ یہی دو چیزیں ایسی ہیں جو ایک مومن میں وہ مضبوط سیرت اور وہ زبردست صلاحیت پیدا کرتی ہیں جن سے وہ باطل کی بڑی سے بڑی طغیانیوں اور بدی کے سخت سے سخت طوفانوں کے مقابلہ میں نہ صرف کھڑا رہ سکتا ہے بلکہ ان کا منہ پھیر سکتا ہے۔ لیکن تلاوت قرآن اور نماز سے یہ طاقت انسان کو اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے جبکہ وہ قرآن کے محض الفاظ پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس کی تعلیم کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر اپنی روح میں جذب کرتا چلا جائے، اور اس کی نماز صرف حرکات بدن تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے قلب کا وظیفہ اور اس کے اخلاق و کردار کی قوت محرکہ بن جائے، نماز کے وصف مطلوب کو تو آگے کے فقرے میں قرآن خود بیان کررہا ہے۔ رہی تلاوت تو اس کے متعلق یہ جان لینا چاہیے کہ جو تلاوت آدمی کے حلق سے تجاوز کر کے اس کے دل تک نہیں پہنچتی وہ اسے کفر کی طغیانیوں کے مقابلے کی طاقت تو درکنار خود ایمان پر قائم رہنے کی طاقت بھی نہیں بخش سکتی، جیسا کہ حدیث میں ایک گروہ کے متعلق آیا ہے کہ یقران القران ولا یجاوز حناجرھم یمرقون من الدین مروق السھم من الرمیۃ۔ " وہ قرآن پڑھیں گے مگر قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے "۔ (بخاری، مسلم، مؤطا) درحقیقت جس تلاوت کے بعد آدمی کے ذہن و فکر اور اخلاق و کردار میں کوئی تبدیلی نہ ہو بلکہ قرآن پڑھ کر بھی آدمی وہ سب کچھ کرتا رہے جس سے قرآن منع کرتا ہے وہ ایک مومن کی تلاوت ہے ہی نہیں۔ اس کے متعلق تو نبی ﷺ صاف فرماتے ہیں کہ ما امن بالقران من استحل محارمہ۔ " قرآن پر ایمان نہیں لایا وہ شخص جس نے اس کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کرلیا " (ترمذی بروایت صہیب رومی ؓ ایسی تلاوت آدمی کے نفس کی اصلاح کرنے اور اس کی روح کو تقویت دینے کے بجائے اس کو اپنے خدا کے مقابلہ میں اور زیادہ ڈھیٹ اور اپنے ضمیر کے آگے اور زیادہ بےحیا بنا دیتی ہے اور اس کے اندر کیر کٹر نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہنے دیتی۔ کیونکہ جو شخص قرآن کو خدا کی کتاب مانے اور اسے پڑھ کر یہ معلوم بھی کرتا رہے کہ اس کے خدا نے اسے کیا ہدایت دی ہیں اور پھر اس کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتا چلا جائے اس کا معاملہ تو اس مجرم کا سا ہے جو قانون سے ناواقفیت کی بنا پر نہیں بلکہ قانون سے خوب واقف ہونے کے بعد جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ اس پوزیشن کو سرکار رسال مآب ﷺ نے ایک مختصر سے فقرے میں بہترین طریقے پر یوں واضح فرمایا ہے کہ القران حجۃ لک او علیک، " قرآن حجت ہے تیرے حق میں یا تیرے خلاف " (مسلم) یعنی اگر تو قرآن کی ٹھیک ٹھیک پیروی کرتا ہے تو وہ تیرے حق میں حجت ہے۔ دنیا سے آخرت تک جہاں بھی تجھ سے باز پرس ہو تو اپنی صفائی میں قرآن کو پیش کرسکتا ہے کہ میں نے جو کچھ کیا ہے اس کتاب کے مطابق کیا ہے، اگر تیرا عمل واقعی اس کے مطابق ہوا تو نہ دنیا میں کوئی قاضی اسلام تجھے سزا دے سکے گا اور نہ آخرت میں اور محشر ہی کے ہاں اس پر تیری پکڑ ہوگی۔ لیکن اگر یہ کتاب تجھے پہنچ چکی ہو، اور تو نے اسے پڑھ کر یہ معلوم کرلیا ہو کہ تیرا رب تجھ سے کیا چاہتا ہے کس چیز کا تجھے حکم دیتا ہے اور کس چیز سے تجھے منع کرتا ہے، اور پھر تو اس کے خلاف رویہ اختیار کرے تو یہ کتاب تیرے خلاف حجت ہے، یہ تیرے خدا کی عدالت میں تیرے خلاف فوجداری کا مقدمہ اور زیادہ مضبوط کردے گی، اس کے بعد ناواقفیت کا عذر پیش کر کے بچ جانا یا ہلکی سزا پانا تیرے لیے ممکن نہ رہے گی۔ سورة العنکبوت 78 یہ نماز کے بہت سے اوصاف میں سے ایک اہم وصف ہے جسے موقع و محل کی مناسبت سے یہاں نمایاں کر کے پیش کیا گیا ہے۔ مکہ کے اس ماحول میں جن شدید مزاحمتوں سے مسلمانوں کو سابقہ درپیش تھا ان کا مقابلہ کرنے کے لیے انہیں مادی طاقت سے بڑھ کر اخلاقی طاقت درکار تھی۔ اس اخلاقی طاقت کی پیدائش اور اس کے نشو و نما کے لیے پہلے دو تدبیروں کی نشان دہی کی گئی۔ ایک تلاوت قرآن، دوسرے اقامت صلوۃ، اس کے بعد اب یہ بتایا جارہا ہے کہ اقامت صلوۃ وہ ذریعہ ہے جس سے تم لوگ ان برائیوں سے پاک ہوسکتے ہو جن میں اسلام قبول کرنے سے پہلے تم خود مبتلا تھے اور جن میں تمہارے گردوپیش اہل عرب کی اور عرب سے باہر کی جاہلی سوسائٹی اس وقت مبتلا ہے۔ غور کیا جائے تو یہ بات بآسانی سمجھ میں آسکتی ہے کہ اس موقع پر نماز کے اس خاص فائدے کا ذکر کیوں کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اخلاقی برائیوں سے پاک ہونا اپنے اندر صرف اتنا ہی فائدہ نہیں رکھتا کہ یہ بجائے خود ان لوگوں کے لیے دنیا و آخرت میں نافع ہے جنہیں یہ پاکیزگی حاصل ہو، بلکہ اس کا لازمی فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے ان کو ان سب لوگوں پر زبردست برتری حاصل ہوجاتی ہے جو طرح طرح کی اخلاقی برائیوں میں مبتلا ہوں اور جاہلیت کے اس ناپاک نظام کو جو ان برائیوں کی پرورش کرتا ہے، برقرار رکھنے کے لیے ان پاکیزہ انسانوں کے مقابلہ میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہوں۔ فحشاء اور منکر کا اطلاق جن برائیوں پر ہوتا ہے انہیں انسان کی فطرت برا جانتی ہے اور ہمیشہ سے ہر قوم اور ہر معاشرے کے لوگ، خواہ وہ عملا کیسے ہی بگڑے ہوئے ہوں، اصولا ان کو برا ہی سمجھتے رہے ہیں۔ نزول قرآن کے وقت عرب کا معاشرہ بھی اس عام کلیے سے مستثنی نہ تھا۔ اس معاشرے کے لوگ بھی اخلاق کی معروف خوبیوں اور برائیوں سے واقف تھے، بدی کے مقابلے میں نیکی کی قدر پہچانتے تھے، اور شاید ہی ان کے اندر کوئی ایسا شخص ہو جو برائی کو بھلائی سمجھتا ہو یا بھلائی کو بری نگاہ سے دیکھتا ہو۔ اس حالت میں اس بگڑے ہوئے معاشرے کے اندر کسی ایسی تحریک کا اٹھنا جس سے وابستہ ہوتے ہی خود اسی معاشرے کے افراد اخلاقی طور پر بدل جائیں اور اپنی سیرت و کردار میں اپنے ہم عصروں سے نمایاں طور پر بلند ہوجائیں، لامحالہ اپنا اثر کیے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔ ممکن نہ تھا کہ عرب کے عام لوگ برائیوں کو مٹانے والی اور نیک اور پاکیزہ انسان بنانے والی اس تحریک کا اخلاقی وزن محسوس نہ کرتے اور اس کے مقابلے میں محض جاہلی تعصبات کے کھوکھلے نعروں کی بنا پر ان لوگوں کا ساتھ دیے چلے جاتے جو خود اخلاقی برائیوں میں مبتلا تھے اور جاہلیت کے اس نظام کو قائم رکھنے کے لیے لڑ رہے تھے جو ان برائیوں کو صدیوں سے پرورش کررہا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اس موقع پر مسلمانوں کو مادی وسائل اور طاقتیں فراہم کرنے کے بجائے نماز قائم کرنے کی تلقین کی تاکہ یہ مٹھی بھر انسان اخلاق کی وہ طاقت اپنے اندر پیدا کرلیں جو لوگوں کے دل جیت لے اور تیر تفنگ کے بغیر دشمنوں کو شکست دیدے۔ نماز کی یہ خوبی جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک اس کا وصف لازم ہے یعنی یہ کہ وہ فحشاء اور منکر سے روکتی ہے۔ اور دوسرا اس کا وصف مطلوب ہے، یعنی یہ کہ اس کا پڑھنے والا واقعی فحشاء اور منکر سے رک جائے۔ جہاں تک روکنے کا تعلق ہے، نماز لازما یہ کام کرتی ہے، جو شخص بھی نماز کی نوعیت پر ذرا سا غور کرے گا وہ تسلیم کرے گا کہ انسان کو برائیوں سے روکنے کے لیے جتنے بریک بھی لگانے ممکن ہیں ان میں سب سے زیادہ کارگر بریک نماز ہی ہوسکتی ہے۔ آخر اس سے بڑھ کر موثر مانع اور کیا ہوسکتا ہے کہ آدمی کو ہر روز دن میں پانچ وقت خدا کی اد کے لیے بلایا جائے اور اس کے ذہن میں یہ بات رازہ کی جائے کہ تو اس دنیا میں آزاد و خود مختار نہیں ہے بلکہ ایک خدا کا بندہ ہے، اور تیرا خدا وہ ہے جو تیرے کھلے اور چھپے تمام اعمال سے حتی کہ تیرے دل کے ارادوں اور نیتوں تک سے واقف ہے، اور ایک وقت ضرور ایسا آنا ہے جب تجھے اس خدا کے سامنے پیش ہو کر اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہوگی۔ پھر اس یاد دہانی پر بھی اکتفا نہ کی جائے بلکہ آدمی کو عملا ہر نماز کے وقت اس بات کی مشق کرائی جاتی ہے کہ وہ چھپ کر بھی اپنے خدا کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ کرے۔ نماز کے لیے اٹھنے کے وقت سے لیکر نماز ختم کرنے تک مسلسل آدمی کو وہ کام کرنے پڑتے ہیں جن میں اس کے اور خدا کے سوا کوئی تیسری ہستی یہ جاننے والی نہیں ہوتی کہ اس شخص نے خدا کے قانون کی پابندی کی ہے یا اسے توڑ دیا ہے۔ مثلا اگر آدمی کا وضو ساقط ہوچکا ہو اور وہ نماز پڑھنے کھڑا ہوجائے تو اس کے اور خدا کے سوا آخر کسے معلوم ہوسکتا ہے کہ وہ وضو سے نہیں ہے۔ اگر آدمی نماز کی نیت ہی نہ کرے اور بظاہر رکوع و سجود اور قیام و قعود کرتے ہوئے اذکار نماز پڑھنے کے بجائے خاموشی کے ساتھ غزلیں پڑھتا رہے تو اس کے اور خدا کے سوا کس پر یہ راز فاش ہوسکتا ہے کہ اس نے دراصل نماز نہیں پڑھی ہے۔ اس کے باوجود جب آدمی جسم اور لباس کی طہارت سے لے کر نماز کے ارکان اور اذکار تک قانون خداوندی کی تمام شرائط کے مطابق ہر روز پانچ وقت نماز ادا کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نماز کے ذریعہ سے روزانہ کئی کئی بار اس کے ضمیر میں زندگی پیدا کی جارہی ہے، اس میں ذمہ داری کا احساس بیدار کیا جارہا ہے، اسے فرض شناس انسان بنایا جارہا ہے، اور اس کو عملا اس بات کی مشق کرائی جارہی ہے کہ وہ خود اپنے جذبہ اطاعت کے زیر اثر خفیہ اور علانیہ ہر حال میں اس قانون کی پابندی کرے جس پر وہ ایمان لایا ہے، خواہ خارج میں اس سے پابندی کرانے والی کوئی طاقت موجود ہو یا نہ ہو اور خواہ دنیا کے لوگوں کو اس کے عمل کا حال معلوم ہو یا نہ ہو۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ ماننے کے سوا چارہ نہیں ہے کہ نماز صرف یہی نہیں کہ آدمی کو فحشاء و منکر سے روکتی ہے بلکہ درحقیقت دنیا میں کوئی دوسرا طریق تربیت ایسا نہیں ہے جو انسان کو برائیوں سے روکھنے کے معاملہ میں اس درجہ موثر ہو۔ اب رہا یہ سوال کہ آدمی نماز کی پابندی اختیار کرنے کے بعد عملا بھی برائیوں سے رکتا ہے یا نہیں، تو اس کا انحصار خود اس آدمی پر ہے جو اصلاح نفس کی یہ تربیت لے رہا ہو۔ وہ اس سے فائدہ اٹھانے کی نیت رکھتا ہو اور اس کی کوشش کرے تو نماز کے اصلاحی اثرات اس پر مترتب ہوں گے، ورنہ ظاہر ہے کہ دنیا کی کوئی تدبیر اصلاح بھی اس شخص پر کارگر نہیں ہوسکتی جو اس کا اثر قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہ ہو، یا جان بوجھ کر اس کی تاثیر کو دفع کرتا رہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے غذا کی لازمی خاصیت بدن کا تغذیہ اور نشو و نما ہے، لیکن یہ فائدہ اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے جبکہ آدمی اسے جزو بدن بننے دے، اگر کوئی شخص ہر کھانے کے بعد فورا ہی قے کر کے ساری غزا باہر نکالتا چلا جائے تو اس طرح کا کھانا اس کے لیے کچھ بھی نافع نہیں ہوسکتا۔ جس طرح ایسے شخص کی نظیر سامنے لاکر آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ غذا موجب تغذیہ بدن نہیں ہے کیونکہ فلاں شخص کھانا کھانے کے باوجود سوکھتا چلا جارہا ہے، اسی طرح بدعمل نمازی کی مثال پیش کر کے آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ نماز برائیوں سے روکنے والی نہیں ہے کیونکہ فلاں شخص نماز پڑھنے کے باوجود بدعمل ہے، ایسے نمازی کے متعلق تو یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ وہ درحقیقت نماز نہیں پڑھتا جیسے کھانا کھا کر قے کردینے والے کے متعلق یہ کہنا زیادہ صحیح ہے کہ وہ درحقیقت کھانا نہیں کھاتا۔ ٹھیک یہی بات بات ہے جو متعدد احادیث میں نبی ﷺ اور بعض اکابر صحابہ وتابعین سے مروی ہوئی ہے۔ عمران بن حصین کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا من لم تنھہ صلاتہ عن الفحشاء والمنکر فلا صلاۃ لہ۔ " جسے اس کی نماز نے فحش اور برے کاموں سے نہ روکا اس کی نماز نہیں ہے "۔ (ابن ابی حاتم) ابن عباس حضور کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں من لم تنھہ صلوتہ عن الفحشاء والمنکر لم یزدد بھا من اللہ الا بعدا۔ " جس کی نماز نے اسے فحش اور برے کاموں سے نہ روکا اس کو اس کی نماز نے اللہ سے اور زیادہ دور کردیا "۔ (ابن ابی حاتم، طبرانی) یہی مضمون جناب حسن بصری نے بھی حضور سے مرسلا روایت کیا ہے۔ (ابن جریر، بیہقی) ابن مسعود سے حضور کا یہ ارشاد مروی ہے لا صلوۃ لمن لم یطع الصلوۃ و طاعۃ الصلوۃ ان تنہی عن الفحشاء والمنکر۔ " اس شخص کی کوئی نماز نہیں ہے جس نے نماز کی اطاعت نہ کی، اور نماز کی اطاعت یہ ہے کہ آدمی فحشاء و منکر سے رک جائے "۔ (ابن جریر، ابن ابی حاتم) اسی مضمون کے متعدد اقوال حضرات عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عباس، حسن بصری، قتادہ اور اعمش وغیرہم ؓ سے منقول ہیں۔ امام جعفر صادق فرماتے ہیں، جو شخص یہ معلوم کرنا چاہے کہ اس کی نماز قبول ہوئی ہے یا نہیں، اسے دیکھنا چاہیے کہ اس کی نماز نے اسے فحشاء اور منکر سے کہاں تک باز رکھا۔ اگر نماز کے روکنے سے وہ برائیاں کرنے سے رک گیا ہے تو اس کی نماز قبول ہوئی ہے۔ (روح المعانی) سورة العنکبوت 79 اس کے کئی معنی ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ اللہ کا ذکر (یعنی نماز) اس سے بزرگ تر ہے، اس کی تاثیر سرف سلبی ہی نہیں ہے کہ برائیوں سے روکے، بلکہ اس سے بڑھ کر وہ نیکیوں پر ابھارنے والی اور سبقت الی الخیرات پر آمادہ کرنے والی چیز بھی ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی یاد بجائے خود بہت بڑی چیز ہے۔ خیر الاعمال ہے، انسان کا کوئی عمل اس سے افضل نہیں ہے۔ تیسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا تمہیں یاد کرنا تمہارے اس کو یاد کرنے سے زیادہ بڑی چیز ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ (البقرہ، آیت 152) " تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا "۔ پس جب بندہ نماز میں اللہ کو یاد کرے گا تو لا محالہ اللہ بھی اس کو یاد کرے گا۔ اور یہ فضیلت کہ اللہ کسی بندے کو یاد کرے، اس سے بزرگ تر ہے کہ بندہ اللہ کو یاد کرے۔ ان تین مطالب کے علاوہ ایک اور لطیف مطلب یہ بھی ہے جسے حضرت ابو الدرداء ؓ کی اہلیہ محترمہ نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی یاد نماز تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ اس سے بہت زیادہ وسیع ہے۔ جب آدمی روزہ رکھتا ہے یا زکوٰۃ دیتا ہے یا کوئی نیک کام کرتا ہے تو لا محالہ اللہ کو یاد ہی کرتا ہے، تبھی تو اس سے وہ عمل نیک صادر ہوتا ہے، اسی طرح جب آدمی کسی برائی کے مواقع سامنے آنے پر اس سے پرہیز کرتا ہے تو یہ بھی اللہ کی یاد ہی کا نتیجہ ہوتا ہے، اس لیے یاد الہی ایک مومن کی پوری زندگی پر حاوی ہوتی ہے۔
Ayah 29:46

وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 29:46 in the Quran reader

80 اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقہ سے81۔۔۔۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں82 --۔۔۔۔ اور ان سے کہو کہ”ہم ایمان لائے ہیں اس چیز پر بھی جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور اس چیز پر بھی جو تمہاری طرف بھیجی گئی تھی، ہمارا خدا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے اور ہم اسی کے مسلم(فرمابردار)ہیں۔“83

سورة العنکبوت 80 واضح رہے کہ آگے چل کر اسی سورة میں ہجرت کی تلقین کی جارہی ہے۔ اس وقت حبش ہی ایک ایسا مامن تھا جہاں مسلمان ہجرت کر کے جاسکتے تھے۔ اور حبش پر اس زمانے میں عیسائیوں کا غلبہ تھا، اس لیے ان آیات میں مسلمانوں کو ہدایات دی جارہی ہیں کہ اہل کتاب سے جب سابقہ پیش آئے تو ان سے دین کے معاملہ میں بحث و کلام کا کیا انداز اختیار کریں۔ سورة العنکبوت 81 یعنی مباحثہ معقول دلائل کے ساتھ، مہذب و شائستہ زبان میں، اور افہام و تفہیم کی اسپرٹ میں ہونا چاہیے، تاکہ جس شخص سے بحث کی جارہی ہو اس کے خیالات کی اصلاح ہوسکے۔ مبلغ کو فکر اس بات کی ہونی چاہیے کہ وہ مخاطب کے دل کا دروازہ کھول کر حق بات اس میں اتار دے اور اسے راہ راست پر لائے۔ اس کو ایک پہلوان کی طرح نہیں لڑنا چاہیے جس کا مقصد اپنے مد مقابل کو نیچا دکھانا ہوتا ہے۔ بلکہ اس کو ایک حکیم کی طرح چارہ گری کرنی چاہیے جو مریض کا علاج کرتے ہوئے ہر وقت یہ بات ملحوظ رکھتا ہے کہ اس کی اپنی کسی غلطی سے مریض کا مرض اور زیادہ بڑھ نہ جائے، اور اس امر کی پوری کوشش کرتا ہے کہ کم سے کم تکلیف کے ساتھ مریض شفا یاب ہوجائے۔ یہ ہدایت اس مقام پر تو موقع کی مناسبت سے اہل کتاب کے ساتھ مباحثہ کرنے کے معاملہ میں دی گئی ہے، مگر یہ اہل کتاب کے لیے مخصوص نہیں ہے بلکہ تبلیغ دین کے باب میں ایک عام ہدایت ہے جو قرآن مجید میں جگہ جگہ دی گئی ہے۔ مثلا اُدْعُ اِلٰى سَبِيْلِ رَبِّكَ بالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ۔ (النحل، آیت 125) " دعوت دو اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ پندو نصیحت کے ساتھ، اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو "۔ وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۭ اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَبَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ۔ (حم السجدہ، آیت 34) " بھلائی اور برائی یکساں نہیں ہیں (مخالفین کے حملوں کی) مدافعت ایسے طریقہ سے کرو جو بہترین ہو تم دیکھو گے کہ وہی شخص جس کے اور تمہارے درمیان عداوت تھی وہ ایسا ہوگیا جیسے گرم جوش دوست ہے۔ اِدْفَعْ بالَّتِيْ هِىَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ ۭ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَصِفُوْنَ۔ (المومنون، آیت 96) (تم بدی کو اچھے ہی طریقہ سے دفع کرو ہمیں معلوم ہے جو باتیں وہ (تمہارے خلاف) بناتے ہیں۔ خُذِ الْعَفْوَ وَاْمُرْ بالْعُرْفِ وَاَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ۔ وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ باللّٰهِ۔ (الاعراف، آیت 199۔ 200) " درگزر کی روش اختیار کرو، بھلائی کی تلقین کرو، اور جاہلوں کے منہ نہ لگو، اور اگر (ترکی بہ ترکی جواب دینے کے لیے) شیطان تمہیں اکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو "۔ سورة العنکبوت 82 یعنی جو لوگ ظلم کا رویہ اختیار کریں ان کے ساتھ ان کے ظلم کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف رویہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر وقت ہر حال میں اور ہر طرح کے لوگوں کے مقابلہ میں نرم و شیریں ہی نہ بنے رہنا چاہیے کہ دنیا داعی حق کی شرافت کو کمزوری اور مسکنت سمجھ بیٹھے۔ اسلام اپنے پیرو وں کو شائستگی، شرافت اور معقولیت تو ضرور سکھاتا ہے مگر عاجزی و مسکینی نہیں سکھاتا کہ وہ ہر ظالم کے لیے نرم چارہ بن کر رہیں۔ سورة العنکبوت 83 ان فقروں میں اللہ تعالیٰ نے خود اس عمدہ طریق بحث کی طرف رہنمائی فرمائی ہے جسے تبلیغ حق کی خدمت انجام دینے والوں کو اختیار کرنا چاہیے۔ اس میں یہ سکھایا گیا ہے کہ جس شخص سے تمہیں بحث کرنی ہو اس کی گمراہی کو بحث کا نقطہ آغاز نہ بناؤ، بلکہ بات اس سے شروع کرو کہ حق و صداقت کے وہ کونے اجزاء ہیں جو تمہارے اور اس کے درمیان مشترک ہیں، یعنی آغاز کلام نکات اختلاف سے نہیں بلکہ نکات اتفاق سے ہونا چاہیے پھر انہی متفق علیہ امور سے استدلال کر کے مخاطب کو یہ سمجھانے کی کوشش کرنی چاہیے کہ جن امور میں تمہارے اور اس کے درمیان اختلاف ہے ان میں تمہارا مسلک متفق علیہ بنیادوں سے مطابقت رکھتا ہے اور اس کا مسلک ان سے متضاد ہے۔ اس سلسلے میں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اہل کتاب مشرکین عرب کی طرح وحی و رسالت اور توحید کے منکر نہ تھے بلکہ مسلمانوں کی طرح ان سب حقیقتوں کو مانتے تھے۔ ان بنیادی امور میں اتفاق کے بعد اگر کوئی بڑٰ چیز بنیاد اختلاف ہوسکتی تھی تو وہ یہ کہ مسلمان ان کے ہاں آئی ہوئی آسمانی کتابوں کو نہ مانتے اور اپنے ہاں آئی ہوئی کتاب پر ایمان لانے کی انہیں دعوت دیتے اور اس کے نہ ماننے پر انہیں کافر قرار دیتے۔ یہ جھگڑے کی بڑی مضبوط وجہ ہوتی، لیکن مسلمانوں کا موقف اس سے مختلف تھا۔ وہ تمام ان کتابوں کو برحق تسلیم کرتے تھے جو اہل کتاب کے پاس موجود تھیں، اور پھر اس وحی پر ایمان لائے تھے جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی تھی۔ اس کے بعد یہ بتانا اہل کتاب کا کام تھا کہ کس معقول وجہ سے وہ خدا ہی کی نازل کردہ ایک کتاب کو مانتے اور دوسری کتاب کا انکار کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں مسلمانوں کو تلقین فرمائی ہے کہ اہل کتاب سے جب سابقہ پیش آئے تو سب سے پہلے مثبت طور پر اپنا یہی موقف ان کے سامنے پیش کرو۔ ان سے کہو کہ جس خدا کو تم مانتے ہو اسی کو ہم مانتے ہیں اور ہم اس کے فرماں بردار ہیں۔ اس کی طرف سے جو احکام و ہدایات اور تعلیمات بھی آئی ہیں ان سب کے آگے ہمارا سر تسلیم خم ہے، خواہ وہ تمہارے ہاں آئی ہوں یا ہمارے ہاں۔ ہم تو حکم کے بندے ہیں۔ ملک اور قوم اور نسل کے بندے نہیں نہیں کہ ایک جگہ خدا کا حکم آئے تو ہم مانیں اور اسی خدا کا حکم دوسری جگہ آئے تو ہم اس کو نہ مانیں۔ قرآن مجید میں یہ بات جگہ جگہ دہرائی گئی ہے اور خصوصا اہل کتاب سے جہاں سابقہ پیش آیا ہے وہاں تو اسے زور دے کر بیان کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ملاحظہ البقرہ آیات 4۔ 136۔ 177۔ 285۔ آل عمران آیت 84۔ النساء 136۔ 150 تا 152۔ 162 تا 164۔ الشوری 13۔
Ayah 29:47

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 29:47 in the Quran reader

(اے نبیؐ) ہم نے اسی طرح تمہاری طرف کتاب نازل کی ہے،84 اس لیے وہ لوگ جن کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں،85 اور ان لوگوں میں سے بھی بہت سے اس پر ایمان لا رہے ہیں،86 اور ہماری آیات کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں۔87

سورة العنکبوت 84 اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ جس طرح پہلے انبیاء پر ہم نے کتابیں نازل کی تھیں اسی طرح اب یہ کتاب تم پر نازل کی ہے۔ دوسرا یہ کہ ہم نے اسی تعلیم کے ساتھ یہ کتاب نازل کی ہے کہ ہماری پچھلی کتابوں کا انکار کر کے نہیں بلکہ ان سب کا اقرار کرتے ہوئے اسے مانا جائے۔ سورة العنکبوت 85 سیاق وسباق خود بتارہا ہے کہ اس سے مراد تمام اہل کتاب نہیں ہیں بلکہ وہ اہل کتاب ہیں جن کو کتب الہیہ کا صحیح علم و فہم نصیب ہوا تھا، جو " چارپائے بروکتا بےچند " کے مصداق محض کتاب بردار قسم کے اہل کتاب نہیں تھے، بلکہ حقیقی معنی میں اہل کتاب تھے۔ ان کے سامنے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی پچھلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہوئی یہ آخری کتاب آئی تو انہوں نے کسی ضد اور ہٹ دھرمی اور تعصب سے کام نہ لیا اور اسے بھی ویسے ہی اخلاص کے ساتھ تسلیم کرلیا کہ جس طرح پچھلی کتابوں کو تسلیم کرتے تھے۔ سورة العنکبوت 86 " ان لوگوں " کا اشارہ اہل عرب کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حق پسند لوگ ہر جگہ اس پر ایمان لارہے ہیں خواہ وہ اہل کتاب میں سے ہوں یا غیر اہل کتاب میں سے۔ سورة العنکبوت 87 یہاں کافر سے مراد وہ لوگ ہیں جو اپنے تعصبات کو چھوڑ کر حق بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں، یا وہ جو اپنی خواہشات نفس اور اپنی بےلگام آزادیوں پر پابندیاں قبول کرنے سے جی چراتے ہیں اور اس بنا پر حق کا انکار کرتے ہیں۔
Ayah 29:48

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

(اے نبیؐ)تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے، اگر ایسا ہوتا تو باطل پرست لوگ شک میں پڑ سکتے تھے۔88

سورة العنکبوت 88 یہ نبی ﷺ کی نبوت کے ثبوت میں وہی استدلال ہے جو اس سے پہلے سورة یونس اور سورة قصص میں گزر چکا ہے (ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، تفسیر سورة یونس 21 و تفسیر سورة قصس 64 و 109۔ اس مضمون کی مزید تشریح کے لیے تفہیم القرآن، تفسیر سورة نحل حاشیہ 107، بنی اسرائیل حاشیہ 105، المومنون حاشیہ 66، الفرقان حاشیہ 12، اور الشوری حاشیہ 84 کا مطالعہ بھی مفید ہوگا) اس آیت میں استدلال کی بنیاد یہ ہے کہ نبی ﷺ ان پڑھ تھے۔ آپ کے اہل وطن اور رشتہ و برادری کے لوگ جن کے درمیان روز پیدائش سے سن کہلوت کو پہنچنے تک آپ کی ساری زندگی بسر ہوئی تھی، اس بات سے خوب واقف تھے کہ آپ نے عمر بھر نہ کبھی کوئی کتاب پڑھی، نہ کبھی قلم ہاتھ میں لیا۔ اس امر واقعہ کو پیش کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اس بات کا کھلا ہوا ثبوت ہے کہ کتب آسمانی کی تعلیمات، انبیاء سابقین کے حالات، مذاہب و ادیان کے عقائد، قدیم قوموں کی تاریخ اور تمدن و اخلاق و معیشت کے اہم مسائل پر جس وسیع اور گہرے علم کا اظہار اس امی کی زبان سے ہورہا ہے یہ اس کو وحی کے سوا کسی دوسرے ذریعہ سے حاصل نہیں ہوسکتا تھا۔ اگر اس کو نوشت و خواند کا علم ہوتا اور لوگوں نے کبھی اسے کتابیں پڑھتے اور مطالعہ و تحقیق کرتے دیکھا ہوتا تو باطل پرستوں کے لیے یہ شک کرنے کی کچھ بنیاد ہو بھی سکتی تھی کہ یہ علم وحی سے نہیں بلکہ اخذ و اکتساب سے حاصل کیا گیا ہے۔ لیکن اس کی امیت نے تو ایسے کسی شک کے لیے برائے نام بھی کوئی بنیاد باقی نہیں چھوڑی ہے۔ اب خالص ہٹ دھرمی کے سوا اس کی بناوٹ کا انکار کرنے کی اور کوئی وجہ نہیں ہے جسے کسی درجہ میں بھی معقول کیا جاسکتا ہو۔
Ayah 29:49

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

دراصل یہ روشن نشانیاں ہیں ان لوگوں کے دلوں میں جنہیں علم بخشا گیا ہے،89 اور ہماری آیات کا انکا ر نہیں کرتے مگر وہ جو ظالم ہیں

سورة العنکبوت 89 یعنی ایک امی کا قرآن جیسی کتاب پیش کرنا اور یکایک ان غیر معمولی کمالات کا مظاہرہ کرنا جن کے لیے کسی سابقہ تیاری کے آثار کبھی کسی کے مشاہدے میں نہیں آئے۔ یہی دانش و بینش رکھنے والوں کی نگاہ میں اس کی پیغمبری پر دلالت کرنے والی روشن ترین نشانیاں ہیں، دنیا کی تاریخی ہستیوں میں سے جس کے حالات کا بھی جائزہ لیا جائے، آدمی اس کے اپنے ماحول میں ان اسباب کا پتہ چلا سکتا ہے جو اس کی شخصیت بنانے اور اس سے ظاہر ہونے والے کمالات کے لیے اس کو تیار کرنے میں کار فرما تھے۔ اس کے ماحول اور اس کی شخصیت کے اجزائے ترکیبی میں ایک کھلی مناسبت پائی جاتی ہے۔ لیکن محمد ﷺ کی شخصیت جن حیرت انگیز کمالات کی مظہر تھی ان کا کوئی ماخذ آپ کے ماحول میں تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں نہ اس وقت کے عربی معاشرے میں اور نہ گردو پیش کے جن ممالک سے عرب کے تعلقات تھے ان کے معاشرے میں کہیں دور دراز سے مناسبت رکھتے ہوں۔ یہی حقیقت ہے جس کی بنا پر یہاں فرمایا گیا ہے کہ محمد ﷺ کی ذات ایک نشانی نہیں بلکہ بہت سی روشن نشانیوں کا مجموعہ ہے۔ جاہل آدمی کو اس میں کوئی نشانی نظر نہ آتی ہو تو نہ آئے، مگر جو لوگ علم رکھنے والے ہیں وہ ان نشانیوں کو دیکھ کر اپنے دلوں میں قائل ہوگئے ہیں کہ یہ شان ایک پیغمبر ہی کی ہوسکتی ہے۔
Ayah 29:50

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ”کیوں نہ اُتاری گئیں اس شخص پر نشانیاں90 اس کے رب کی طرف سے“؟کہو،”نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور میں صرف خبر دار کرنے والا ہوں کھول کھول کر“

سورة العنکبوت 90 یعنی معجزات جنہیں دیکھ کر یقین آئے کہ واقعی محمد ﷺ اللہ کے نبی ہیں۔