Ayah 25:70سورة الْفُرْقَان 86
یہ بشارت ہے ان لوگوں کے لیے جن کی زندگی پہلے طرح طرح کے جرائم سے آلودہ رہی ہو اور اب وہ اپنے اصلاح پر آمادہ ہوں۔ یہی عام معافی (General Amnesty) کا اعلان تھا جس نے اس بگڑے ہوئے معاشرے کے لاکھوں افراد کو سہارا دے کر مستقل بگاڑ سے بچا لیا۔ اسی نے ان کو امید کی روشنی دکھائی اور اصلاح حال پر آمادہ کیا۔ ورنہ اگر ان سے یہ کہا جاتا کہ جو گناہ تم کرچکے ہو ان کی سزا سے اب تم کسی طرح نہیں بچ سکتے، تو یہ انہیں مایوس کر کے ہمیشہ کے لیے بدی کے بھنور میں پھسا دیتا اور کبھی ان کی اصلاح نہ ہو سکتی۔ مجرم انسان کو صرف معافی امید ہی جرم کے چکر سے نکال سکتی ہے۔ مایوس ہو کر وہ ابلیس بن جاتا ہے۔
توبہ کی اس نعمت نے عرب کے بگڑے ہوئے لوگوں کو کس طرح سنبھالا، اس کا اندازہ ان بہت سے واقعات سے ہوتا ہے جو نبی ﷺ کے زمانے میں پیش آئے۔ مثال کے طور پر ایک واقعہ ملاحظہ ہو جسے ابن جریر اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ ایک روز میں مسجد نبوی سے عشا کی نماز پڑھ کر پلٹا تو دیکھا کہ ایک عورت میرے دروازے پر کھڑی ہے۔ میں اس کو سلام کر کے اپنے حجرے میں چلا گیا اور دروازہ بند کر کے نوافل پڑھنے لگا۔ کچھ دیر کے بعد اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا اور پوچھا کیا چاہتی ہے ؟ وہ کہنے لگی میں آپ سے ایک سوال کرنے آئی ہوں۔ مجھ سے زنا کا ارتکاب ہوا۔ ناجائز حمل ہوا۔ بچہ پیدا ہوا تو میں نے اسے مار ڈالا۔ اب میں یہ معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ میرا گناہ معاف ہونے کی بھی کوئی صورت ہے ؟ میں نے کہا ہرگز نہیں۔ وہ بڑی حسرت کے ساتھ آہیں بھرتی ہوئی واپس چلی گئی، اور کہنے لگی " افسوس، یہ حسن آگ کے لیے پیدا ہوا تھا "۔ صبح نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھ کر جب میں فارغ ہوا تو میں نے حضور ﷺ کو رات کا قصہ سنایا۔ آپ نے فرمایا، بڑا غلط جواب دیا ابوہریرہ تم نے، کیا یہ آیت قرآن میں تم نے نہیں پڑھی وَالَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللہِ اِلٰھاً اٰخَرَ .......... اِلّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلاً صَالِحاً ؟ حضور کا یہ جواب سن کر میں نکلا اور اس عورت کو تلاش کرنا شروع کیا۔ رات کو عشا ہی کے وقت وہ ملی۔ میں نے اسے بشارت دی اور بتایا کہ سرکار رسالت مآب ﷺ نے تیرے سوال کا یہ جواب دیا ہے۔ وہ سنتے ہی سجدے میں گر گئی اور کہنے لگی شکر ہے اس خدائے پاک کا جس نے میرے لیے معافی کا دروازہ کھولا۔ پھر اس نے گناہ سے توبہ کی اور اپنی لونڈی کو اس کے بیٹے سمیت آزاد کردیا۔ اس سے ملتا جلتا واقعہ احادیث میں ایک بڈھے کا آیا ہے جس نے آ کر حضور ﷺ سے عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہ، ساری زندگی گناہوں میں گزری ہے۔ کوئی گناہ ایسا نہیں جس کا ارتکاب نہ کرچکا ہوں۔ اپنے گناہ تمام روئے زمین کے باشندوں پر بھی تقسیم کر دوں تو سب کو لے ڈوبیں۔ کیا اب بھی میری معافی کی کوئی صورت ہے ؟ فرمایا کیا تو نے اسلام قبول کرلیا ہے ؟ اس نے عرض کیا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ فرمایا جا، اللہ معاف کرنے والا اور تیری برائیوں کو بھلائی سے بدل دینے والا ہے۔ اس نے عرض کیا میرے سارے جرم اور قصور ؟ فرمایا ہاں، تیرے سارے جرم اور قصور (ابن کثیر، بحوالہ ابن ابی حاتم)۔
سورة الْفُرْقَان 87
اس کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ جب وہ توبہ کرلیں گے تو کفر کی زندگی میں جو برے افعال وہ پہلے کیا کرتے تھے ان کی جگہ اب طاعت اور ایمان کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے نیک افعال کرنے لگیں گے اور تمام برائیوں کی جگہ بھلائیاں لے لیں گی۔ دوسرے یہ کہ توبہ کے نتیجہ میں صرف اتنا ہی نہ ہوگا کہ ان کے ماہ اعمال سے وہ تمام قصور کاٹ دیے جائیں گے جو انہوں نے کفر و گناہ کی زندگی میں کیے تھے، بلکہ ان کی جگہ ہر ایک کے نامہ اعمال میں یہ نیکی لکھ دی جائے گی کیونکہ یہ وہ بندہ ہے جس نے بغاوت اور نافرمانی کو چھوڑ کر طاعت و فرمانبرداری اختیار کرلی۔ پھر جتنی بار بھی وہ اپنی سابقہ زندگی کے برے اعمال کو یاد کر کے نادم ہوگا اور اس نے اپنے خدا سے استغفار کیا ہوگا۔ اس کے حساب میں اتنی ہی نیکیاں لکھ دی جائیں گی، کیونکہ خطا پر شرمسار ہونا اور معافی مانگنا بجائے خود ایک نیکی ہے۔ اس طرح اس کے نامہ اعمال میں تمام پچھلی برائیوں کی جگہ بھلائیاں لے لیں گی اور اس کا انجام صرف سزا سے بچ جانے تک ہی محدود نہ رہے گا بلکہ وہ الٹا انعامات سے سرفراز ہوگا۔
Ayah 25:71سورة الْفُرْقَان 88
یعنی فطرت کے اعتبار سے بھی بندے کا اصلی مرجع اسی کی بارگاہ ہے، اور اخلاقی حیثیت سے بھی وہی ایک بارگاہ ہے جس کی طرف اسے پلٹنا چاہیے، اور نتیجے کے اعتبار سے بھی اس بارگاہ کی طرف پلٹنا مفید ہے، ورنہ کوئی دوسری جگہ ایسی نہیں ہے جدھر رجوع کر کے وہ سزا سے بچ سکتے یا ثواب پا سکے۔ علاوہ بریں اس کا مطلب یہ بھی کہ وہ پلٹ کر ایک ایسی بارگاہ کی طرف جاتا ہے جو واقعی ہے ہی پلٹنے کے قابل جگہ، بہترین بارگاہ، جہاں سے تمام بھلائیاں ملتی ہیں، جہاں سے قصوروں پر شرمسار ہونے والے دھتکارے نہیں جاتے بلکہ معافی اور انعام سے نوازے جاتے ہیں، جہاں معافی مانگنے والے کے جرم نہیں گنے جاتے بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس نے توبہ کر کے اپنی اصلاح کتنی کرلی، جہاں بندے کو وہ آقا ملتا ہے جو انتقام پر خار کھائے نہیں بیٹھا ہے بلکہ اپنے ہر شرمسار غلام کے لیے دامن رحمت کھولے ہوئے ہے۔
Ayah 25:72سورة الْفُرْقَان 89
اس کے بھی دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ وہ کسی جھوٹی بات کی گواہی نہیں دیتے اور کسی ایسی چیز کو واقعہ اور حقیقت قرار نہیں دیتے جس کے واقعہ اور حقیقت ہونے کا انہیں علم نہ ہو، یا جس کے خلاف واقعہ و حقیقت ہونے کا انہیں اطمینان ہو۔ دوسرے یہ کہ وہ جھوٹ کا مشاہدہ نہیں کرتے، اس کے تماشائی نہیں بنتے، اس کو دیکھنے کا قصد نہیں کرتے۔ اس دوسرے مطلب کے اعتبار سے " جھوٹ " کا لفظ باطل اور شر کا ہم معنی ہے۔ انسان جس برائی کی طرف بھی جاتا ہے، لذت یا خوشنمائی یا ظاہری فائدے کے اس جھوٹے ملمع کی وجہ سے جاتا ہے جو شیطان نے اس پر چڑھا رکھا ہے یہ ملمع اتر جائے تو ہر بدی سراسر کھوٹ ہی کھوٹ ہے جس پر انسان کبھی نہیں ریجھ سکتا۔ لہٰذا ہر باطل، ہر گناہ اور ہر بدی اس لحاظ سے جھوٹ ہے کہ وہ اپنی جھوٹی چمک دمک کی وجہ ہی سے اپنی طرف لوگوں کو کھنچتی ہے۔ مومن چونکہ حق کی معرفت حاصل کرلیتا ہے، اس لیے وہ اس جھوٹ کو ہر روپ میں پہچان جاتا ہے، خواہ وہ کیسے ہی دلفریب دلائل، یا نظر فریب آرٹ، یا سماعت فریب خوش آوازیوں کا جامہ پہن کر آئے۔
سورة الْفُرْقَان 90
" لغو " کا لفظ اس " جھوٹ " پر بھی حاوی ہے جس کی تشریح اوپر کی جاچکی ہے، اور اس کے ساتھ تمام فضول، لایعنی اور بےفائدہ باتیں اور کام بھی اس کے مفہوم میں شامل ہیں۔ اللہ کے صالح بندوں کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ جان بوجھ کر اس طرح کی چیزیں دیکھنے یا سننے یا ان میں حصہ لینے کے لیے نہیں جاتے، اور اگر کبھی ان کے راستے میں ایسی کوئی چیز آجائے تو ایک نگاہ غلط انداز تک ڈالے بغیر اس پر سے اس طرح گزر جاتے ہیں جیسے ایک نفیس مزاج آدمی گندگی کے ڈھیر سے گزر جاتا ہے۔ غلاظت اور تعفُّن سے دلچسپی ایک بد ذوق اور پلید آدمی تو لے سکتا ہے مگر ایک خوش ذوق اور مہذب انسان مجبوری کے بغیر اس کے پاس سے بھی گزرنا گوارا نہیں کرسکتا، کجا کہ وہ بدبو سے مستفید ہونے کے لیے ایک سانس بھی وہاں لے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، المومنون حاشیہ 4)۔
Ayah 25:73سورة الْفُرْقَان 91
اصل میں الفاظ ہیں لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیھَا صُمّاً وَّ عَمْیَاناً ، جن کا لفظی ترجمہ یہ ہے " وہ ان پر اندھے بہرے بن کر نہیں گرتے "۔ لیکن یہاں " گرنے " کا لفظ اپنے لغوی معنی کے لیے نہیں بلکہ محاورے کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ جیسے ہم اردو میں کہتے ہیں " جہاد کا حکم سن کر بیٹھے رہ گئے "۔ اس میں بیٹھنے کا لفظ اپنے لغوی معنی میں نہیں بلکہ جہاد کے لیے شرکت نہ کرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایسے لوگ نہیں ہیں جو اللہ کی آیات سن کر ٹس سے مس نہ ہوں، بلکہ وہ ان کا گہرا اثر قبول کرتے ہیں۔ جو ہدایت ان آیات میں آئی ہو اس کی پیروی کرتے ہیں، جس چیز کو فرض قرار دیا گیا ہو اسے بجا لاتے ہیں، جس چیز کی مذمت بیان کی گئی ہو اس سے رک جاتے ہیں، اور جس عذاب سے ڈرایا گیا ہو اس کے تصور سے کانپ اٹھتے ہیں۔
Ayah 25:74سورة الْفُرْقَان 92
یعنی ان کو ایمان اور عمل صالح کی توفیق دے اور پاکیزہ اخلاق سے آراستہ کر، کیونکہ ایک مومن کو بیوی بچوں کے حسن و جمال اور عیش و آرام سے نہیں بلکہ ان کی نیک خصالی سے ٹھنڈک حاصل ہوتی ہے۔ اس کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی چیز تکلیف دہ نہیں ہو سکتی کہ جو دنیا میں اس کو سب سے زیادہ پیارے ہیں انہیں دوزخ کا ایندھن بننے کے لیے تیار ہوتے دیکھے۔ ایسی صورت میں تو بیوی کا حسن اور بچوں کی جوانی و لیاقت اس کے لیے اور بھی زیادہ سوہان روح ہوگی، کیونکہ وہ ہر وقت اس رنج میں مبتلا رہے گا کہ یہ سب اپنی ان خوبیوں کے باوجود اللہ کے عذاب میں گرفتار ہونے والے ہیں۔
یہاں خاص طور پر یہ بات نگاہ میں رہنی چاہیے کہ جس وقت یہ آیات نازل ہوئی ہیں وہ وقت وہ تھا جبکہ مکہ کے مسلمانوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ تھا جس کے محبوب ترین رشتہ دار کفر و جاہلیت میں مبتلا نہ ہوں۔ کوئی مرد ایمان لے آیا تھا تو اس کی بیوی ابھی کافر تھی۔ کوئی عورت ایمان لے آئی تھی تو اس کا شوہر ابھی کافر تھا۔ کوئی نوجوان ایمان لے آیا تھا تو اس کے ماں باپ اور بھائی بہن، سب کے سب کفر میں مبتلا تھے۔ اور کوئی باپ ایمان لے آیا تھا تو اس کے اپنے جوان جوان بچے کفر پر قائم تھے۔ اس حالت میں ہر مسلمان ایک شدید روحانی اذیت میں مبتلا تھا اور اس کے دل سے وہ دعا نکلتی تھی جس کی بہترین ترجمانی اس آیت میں کی گئی ہے۔ " آنکھوں کی ٹھنڈک " نے اس کیفیت کی تصویر کھینچ دی ہے کہ اپنے پیاروں کو کفر و جاہلیت میں مبتلا دیکھ کر ایک آدمی کو ایسی اذیت ہو رہی ہے جیسے اس کی آنکھیں آشوب چشم سے ابل آئی ہوں اور کھٹک سے سوئیاں سی چبھ رہی ہوں۔ اس سلسلہ کلام میں ان کی اس کیفیت کو دراصل یہ بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ جس دین پر ایمان لائے ہیں پورے خلوص کے ساتھ لائے ہیں۔ ان کی حالت ان لوگوں کی سی نہیں ہے جن کے خاندان کے لوگ مختلف مذہبوں اور پارٹیوں میں شامل رہتے ہیں اور سب مطمئن رہتے ہیں کہ چلو، ہر بینک میں ہمارا کچھ نہ کچھ سرمایہ موجود ہے۔
سورة الْفُرْقَان 93
یعنی ہم تقویٰ اور طاعت میں سب سے بڑھ جائیں، بھلائی اور نیکی میں سب سے آگے نکل جائیں محض نیک ہی نہ ہوں بلکہ نیکوں کے پیشوا ہوں اور ہماری بدولت دنیا بھر میں نیکی پھیلے۔ اس چیز کا ذکر بھی یہاں دراصل یہ بتانے کے لیے کیا گیا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو مال و دولت اور شوکت و حشمت میں نہیں بلکہ نیکی و پرہیزگاری میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر ہمارے زمانے میں کچھ اللہ کے بندے ایسے ہیں جنہوں نے اس آیت کو بھی امامت کی امیدواری اور ریاست کی طلب کے لیے دلیل جواز کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ان کے نزدیک آیت کا مطلب یہ ہے کہ " یا اللہ متقی لوگوں کو ہماری رعیت اور ہم کو ان کا حکمراں بنا دے "۔ اس سخن فہمی کی داد " امیدواروں " کے سوا اور کون دے سکتا ہے۔
Ayahs 25:75–76سورة الْفُرْقَان 94
صبر کا لفظ یہاں اپنے وسیع ترین مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ دشمنان حق کے مظالم کو مردانگی کے ساتھ برداشت کرنا۔ دین حق کو قائم اور سربلندی کرنے کی جدو جہد میں ہر قسم کے مصائب اور تکلیفوں کو سہہ جانا۔ ہر خوف اور لالچ کے مقابلے میں راہ راست پر ثابت قدم رہنا۔ شیطان کی تمام ترغیبات اور نفس کی ساری خواہشات کے علی الرغم فرض کو بچا لانا، حرام سے پرہیز کرنا اور حدود اللہ پر قائم رہنا۔ گناہ کی ساری لذتوں اور منفعتوں کو ٹھکرا دینا اور نیکی و راستی کے ہر نقصان اور اس کی بدولت حاصل ہونے والی ہر محرومی کو انگیز کر جانا۔ غرض اس ایک لفظ کے اندر دین اور دینی رویے اور دینی اخلاق کی ایک دنیا کی دنیا سمو کر رکھ دی گئی ہے۔
سورة الْفُرْقَان 95
اصل میں لفظ غُرْفَہ استعمال ہوا ہے جس کے معنی بلند وبالا عمارت کے ہیں۔ اس کا ترجمہ عام طور پر " بالا خانہ " کیا جاتا ہے جس سے آدمی کے ذہن میں ایک دو منزلہ کوٹھے کی سی تصویر آجاتی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں انسان جو بڑی سے بڑی اور اونچی سے اونچی عمارتیں بناتا ہے، حتّیٰ کہ ہندوستان کا روضہ تاج اور امریکہ کے ’‘ فلک شگاف " (Sky-scrapers) تک جنت کے ان محلات کی محض ایک بھونڈی سی نقل ہیں جن کا ایک دھندلا سا نقشہ اولاد آدم کے لا شعور میں محفوظ چلا آتا ہے۔
Ayah 25:77سورة الْفُرْقَان 96
یعنی اگر تم اللہ سے دعائیں نہ مانگو، اور اس کی عبادت نہ کرو، اور اپنی حاجات کے لیے اس کو مدد کے لیے نہ پکارو، تو پھر تمہارا کوئی وزن بھی اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ پرکاہ کے برابر بھی تمہاری پروا کرے۔ محض مخلوق ہونے کی حیثیت سے تم میں اور پتھروں میں کوئی فرق نہیں۔ تم سے اللہ کی کوئی حاجت اٹکی ہوئی نہیں ہے کہ تم بندگی نہ کرو گے تو اس کا کوئی کام رکا رہ جائے گا۔ اس کی نگاہ التفات کو جو چیز تمہاری طرف مائل کرتی ہے وہ تمہارا اس کی طرف ہاتھ پھیلانا اور اس سے دعائیں مانگنا ہی ہے۔ یہ کام نہ کرو گے تو کوڑے کرکٹ کی طرح پھینک دیے جاؤ گے۔