25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفہیم القرآن

Ayah 25:32

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

منکرین کہتے ہیں”اِس شخص پر سارا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اُتار دیا گیا؟“ 44۔۔۔۔ ہاں، ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کو اچھی طرح ہم تمہارے ذہن نشین کرتے رہیں 45 اور (اسی غرض کے لیے)ہم نے اس کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی ہے

سورة الْفُرْقَان 44 یہ کفار مکہ کا بڑا دل پسند اعتراض تھا جسے وہ اپنے نزدیک نہایت زور دار اعتراض سمجھ کر بار بار دہراتے تھے، اور قرآن میں بھی اس کو متعدد مقامات پر نقل کر کے اس کا جواب دیا گیا ہے (تفہیم القرآن، جلد دوم، النحل حواشی 101 تا 106 بنی اسرائیل، حاشیہ 119) ان کے سوال کا مطلب یہ تھا کہ اگر یہ شخص خود سوچ سوچ کر، یا کسی سے پوچھ پوچھ کر اور کتابوں میں سے نقل کر کر کے یہ مضامین نہیں لا رہا ہے، بلکہ یہ واقعی خدا کی کتاب ہے تو پوری کتاب اکٹھی ایک وقت میں کیوں نہیں آجاتی۔ خدا تو جانتا ہے کہ پوری بات کیا ہے جو وہ فرمانا چاہتا ہے۔ وہ نازل کرنے والا ہوتا تو سب کچھ بیک وقت فرما دیتا۔ یہ جو سوچ سوچ کر کبھی کچھ مضمون لایا جاتا ہے اور کبھی کچھ، یہ اس بات کی صریح علامت ہے کہ وحی اوپر سے نہیں آتی، یہیں کہیں سے حاصل کی جاتی ہے، یا خود گھڑ گھڑ کر لائی جاتی ہے۔ سورة الْفُرْقَان 45 دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ " اس کے ذریعہ سے ہم تمہارا دل مضبوط کرتے رہیں " یا " تمہاری ہمت بندھاتے رہیں "۔ الفاظ دونوں مفہوموں پر حاوی ہیں اور دونوں ہی مراد بھی ہیں۔ اس طرح ایک ہی فقرے میں قرآن کو بتدریج نازل کرنے کی بہت سی حکمتیں بیان کردی گئی ہیں 1 وہ لفظ بلفظ حافظہ میں محفوظ ہو سکے، کیونکہ اس کی تبلیغ و اشاعت تحریری صورت میں نہیں بلکہ ایک اَن پڑھ نبی کے ذریعہ سے ان پڑھ قوم میں زبانی تقریر کی شکل میں ہو رہی ہے۔ 2 اس کی تعلیمات اچھی طرح ذہن نشین ہو سکیں۔ اس کے لیے ٹھہر ٹھہر کر تھوڑی تھوڑی بات کہنا اور ایک ہی بات کو مختلف اوقات میں مختلف طریقوں سے بیان کرنا زیادہ مفید ہے۔ 3 اس کے بتائے ہوئے طریق زندگی پر دل جمتا جائے۔ اس کے لیے احکام و ہدایات کا بتدریج نازل کرنا زیادہ مبنی بر حکمت ہے، ورنہ اگر سارا قانون اور پورا نظام حیات بیک وقت بیان کر کے اس قائم کرنے کا حکم دے دیا جائے تو ہوش پراگندہ ہوجائیں۔ علاوہ بریں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر حکم اگر مناسب موقع پر دیا جائے تو اس کی حکمت اور روح زیادہ اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے، بہ نسبت اس کے کہ تمام احکام دفعہ وار مرتب کر کے بیک وقت دے دیے گئے ہوں۔ 4 تحریک اسلامی کے دوران میں جبکہ حق اور باطل کی مسلسل کشمکش چل رہی ہو، نبی اور اس کے پیروؤں کی ہمت بندھائی جاتی رہے اس کے لیے خدا کی طرف سے بار بار، وقتاً فوقتاً ، موقع بموقع پیغام آنا زیادہ کار گر ہے بہ نسبت اس کے کہ بس ایک دفعہ ایک لمبا چوڑا ہدایت نامہ دے کر عمر بھر کے لیے دنیا بھر کی مزاحمتوں کا مقابلہ کرنے کو یونہی چھوڑ دیا جائے۔ پہلی صورت میں آدمی محسوس کرتا ہے کہ جس خدا نے اس کام پر مامور کیا ہے، وہ اس کی طرف متوجہ ہے، اس کے کام سے دلچسپی لے رہا ہے، اس کے حالات پر نگاہ رکھتا ہے، اس کی مشکلات میں رہنمائی کر رہا ہے، اور ہر ضرورت کے موقع پر اسے شرف باریابی و مخاطبت عطا فرما کر اس کے ساتھ اپنے تعلق کا تازہ کرتا رہتا ہے۔ یہ چیز حوصلہ بڑھانے والی اور عزم کو مضبوط رکھنے والی ہے دوسری صورت میں آدمی کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ بس وہ ہے اور طوفان کی موجیں۔
Ayah 25:33

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور (اس میں یہ مصلحت بھی ہے)کہ جب کبھی وہ تمہارے سامنے کوئی نرالی بات (یا عجیب سوال)لے کر آئے، اُس کا ٹھیک جواب بر وقت ہم نے تمہیں دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کھول دی 46

سورة الْفُرْقَان 46 یہ نزول قرآن میں تدریج کا طریقہ اختیار کرنے کی ایک اور حکمت ہے۔ قرآن مجید کی شان نزول یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ " ہدایت " کے موضوع پر ایک کتاب تصنیف کرنا چاہتا ہے اور اس کی اشاعت کے لیے اس نے نبی کو ایجنٹ بنایا ہے۔ بات اگر یہی ہوتی تو یہ مطالبہ بجا ہوتا کہ پوری کتاب تصنیف کر کے بیک وقت ایجنٹ کے حوالے کردی جائے۔ لیکن دراصل اس کی شان نزول یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کفر اور جاہلیت اور فسق کے مقابلہ میں ایمان و اسلام اور اطاعت وتقویٰ کی ایک تحریک برپا کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے اس نے ایک نبی کو داعی و قائد بنا کر اٹھایا ہے۔ اس تحریک کے دوران میں اگر ایک طرف قائد اور اس کے پیروؤں کو حسب ضرورت تعلیم اور ہدایت دینا اس نے اپنے ذمہ لیا ہے تو دوسری طرف یہ کام بھی اپنے ہی ذمہ رکھا ہے کہ مخالفین جب کبھی کوئی اعتراض یا شبہہ یا الجھن پیش کریں اسے وہ صاف کر دے۔ اور جب بھی وہ کسی بات کو غلط معنی پہنائیں وہ اس کی صحیح تشریح و تفسیر کر دے۔ ان مختلف ضروریات کے لیے جو تقریریں اللہ کی طرف سے نازل ہو رہی ہیں ان کے مجموعے کا نام قرآن ہے، اور یہ ایک کتاب آئین یا کتاب اخلاق و فلسفہ نہیں بلکہ کتاب تحریک ہے جس کے معرض وجود میں آنے کی صحیح فطری صورت یہی ہے کہ تحریک کے اول لمحہ آغاز کے ساتھ شروع ہو اور آخری لمحات تک جیسے جیسے تحریک چلتی رہے یہ بھی ساتھ ساتھ حسب موقع و ضرورت نازل ہوتی رہے۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد اول، صفحہ 13 تا 25)۔
Ayah 25:34

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

جو لوگ اوندھے منہ جہنّم کی طرف دھکیلے جانے والے ہیں ان کا موقف بہت بُرا اور ان کی راہ حد درجہ غلط ہے۔ 47

سورة الْفُرْقَان 47 یعنی جو لوگ سیدھی بات کو الٹی طرح سوچتے ہیں اور الٹے نتائج نکالتے ہیں ان کی عقل اوندھی ہے۔ اسی وجہ سے وہ قرآن کی حقانیت پر دلالت کرنے والی حقیقتوں کو اس کے بطلان پر دلیل قرار دے رہے ہیں، اور اسی وجہ سے وہ اوندھے منہ جہنم کی طرف گھسیٹے جائیں گے۔
Ayah 25:35

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

ہم نے موسیٰؑ کو کتاب 48 دی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارونؑ کو مددگار کے طور پر لگایا

سورة الْفُرْقَان 48 یہاں کتاب سے مراد غالباً وہ کتاب نہیں جو توراۃ کے نام سے معروف ہے اور مصر سے نکلنے کے بعد حضرت موسیٰ ؑ کو دی گئی تھی، بلکہ اس سے مراد وہ ہدایات ہیں جو نبوت کے منصب پر مامور ہونے کے وقت سے لے کر خروج تک حضرت موسیٰ ؑ کو دی جاتی رہیں۔ ان میں وہ خطبے بھی شامل ہیں جو حضرت موسیٰ نے فرعون کے دربار میں دیے، اور وہ ہدایات بھی شامل ہیں جو فرعون کے خلاف جدوجہد کے دوران میں آپ کو دی جاتی رہیں۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ ان چیزوں کا ذکر ہے، مگر اغلب یہ ہے کہ یہ چیزیں توراۃ میں شامل نہیں کی گئیں۔ توراۃ کا آغاز ان احکام عشر سے ہوتا ہے جو خروج کے بعد طور سینا پر سنگین کتبوں کی شکل میں آپ کو دیے گئے تھے۔
Ayah 25:36

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

اور اُن سے کہا کہ جاوٴ اُس قوم کی طرف جس نے ہماری آیات کو جھُٹلا دیا 49 ہے۔ آخر کار اُن لوگوں کو ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا

سورة الْفُرْقَان 49 یعنی ان آیات کو جو حضرت یعقوب اور یوسف (علیہم السلام) کے ذریعے سے ان کو پہنچی تھیں، اور جن کی تبلیغ بعد میں ایک مدت تک بنی اسرائیل کے صلحاء کرتے رہے۔
Ayah 25:37

وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ Open ayah 25:37 in the Quran reader

یہی حال قومِ نوح ؑ کا ہوا جب انہوں نے رسُولوں کی تکذیب 50 کی۔ ہم نے اُن کو غرق کر دیا اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ایک نشانِ عبرت بنا دیا اور ان ظالموں کے لیے ایک دردناک عذاب ہم نے مہیّا کر رکھا 51 ہے

سورة الْفُرْقَان 50 چونکہ انہوں نے سرے سے یہی بات ماننے سے انکار کردیا تھا کہ بشر کبھی رسول بن کر آسکتا ہے، اس لیے ان کی تکذیب تنہا حضرت نوح کی تکذیب ہی نہ تھی بلکہ بجائے خود منصب نبوت کی تکذیب تھی۔ سورة الْفُرْقَان 51 یعنی آخرت کا عذاب۔
Ayahs 25:38–39

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا Open ayah 25:38 in the Quran reader

اِسی طرح عاد اور ثمود اور اصحابُ الرس 52 اور بیچ کی صدیوں کے بہت سے لوگ تباہ کیے گئے

وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا Open ayah 25:39 in the Quran reader

اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے (پہلے تباہ ہونے والوں کی) مثالیں دے دے کر سمجھایا اور آخرکار ہر ایک کو غارت کر دیا

سورة الْفُرْقَان 52 اصحاب الرس کے متعلق تحقیق نہ ہوسکا کہ یہ کون لوگ تھے۔ مفسرین نے مختلف روایات بیان کی ہیں مگر ان میں کوئی چیز قابل اطمینان نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ جو کچھ کہا جاسکتا ہے وہ یہی ہے کہ یہ ایک ایسی قوم تھی جس نے اپنے پیغمبر کو کنوئیں میں پھینک کر یا لٹکا کر مارا تھا۔ رَس عربی زبان میں پرانے کنوئیں یا اندھے کو کہتے ہیں۔
Ayahs 25:40–41

وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا Open ayah 25:40 in the Quran reader

اور اُس بستی پر تو اِن کا گزر ہو چکا ہے جس پر بد ترین بارش برسائی گئی 53 تھی۔ کیا اِنہوں نے اس کا حال دیکھا نہ ہوگا؟ مگر یہ موت کے بعد دوسری زندگی کی توقع ہی نہیں رکھتے۔ 54

وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا Open ayah 25:41 in the Quran reader

یہ لوگ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں (کہتے ہیں) "کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسول بنا کر بھیجا ہے؟

سورة الْفُرْقَان 53 یعنی قوم لوط کی بستی۔ بدترین بارش سے مراد پتھروں کی بارش ہے جس کا ذکر کئی جگہ قرآن مجید میں آیا ہے۔ اہل حجاز کے قافلے فلسطین و شام جاتے ہوئے اس علاقے سے گزرتے تھے اور نہ صرف تباہی کے آثار دیکھتے تھے بلکہ آس پاس کے باشندوں سے قوم لوط کی عبرت ناک داستانیں بھی سنتے رہتے تھے۔ سورة الْفُرْقَان 54 یعنی چونکہ یہ آخرت کے قائل نہیں ہیں اس لیے ان آثار قدیمہ کا مشاہدہ انہوں نے محض ایک تماشائی کی حیثیت سے کیا، ان سے کوئی عبرت حاصل نہ کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ آخرت کے قائل کی نگاہ اور اس کے منکر کی نگاہ میں کتنا بڑا فرق ہوتا ہے۔ ایک تماشا دیکھتا ہے، یا زیادہ سے زیادہ یہ کہ تاریخ مرتب کرتا ہے۔ دوسرا انہی چیزوں سے اخلاقی سبق لیتا ہے اور زندگی سے ماوراء حقیقتوں تک رسائی حاصل کرتا ہے۔
Ayah 25:42

اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَا١ؕ وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 25:42 in the Quran reader

اِس نے تو ہمیں گمراہ کر کے اپنے معبُودوں سے برگشتہ ہی کر دیا ہوتا اگر ہم اُن کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے 55۔“ اچھا، وہ وقت دُور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر اِنہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ کون گمراہی میں دُور نکل گیا تھا

سورة الْفُرْقَان 55 کفار کی یہ دونوں باتیں ایک دوسرے سے متضاد ہیں۔ پہلی بات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آپ کو حقیر سمجھ رہے ہیں ور مذاق اڑا کر آپ کی قدر گرنا چاہتے ہیں، گویا ان کے نزدیک آنحضرت نے اپنی حیثیت سے بہت اونچا دعویٰ کردیا تھا۔ دوسری بات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آپ کے دلائل کی قوت اور آپ کی شخصیت کا لوہا مان رہے ہیں اور بےساختہ اعتراف کرتے ہیں کہ اگر ہم تعصب اور ہٹ دھرمی سے کام لے کر اپنے خداؤں کی بندگی پر جم نہ گئے ہوتے تو یہ شخص ہمارے قدم اکھاڑ چکا ہوتا۔ یہ متضاد باتیں خود بتارہی ہیں کہ اسلامی تحریک نے ان لوگوں کو کس قدر بوکھلا دیا تھا۔ کھسیانے ہو کر مذاق بھی اڑاتے تھے تو احساس کمتری بلا ارادہ ان کی زبان سے وہ باتیں نکلوا دیتا تھا جن سے صاف ظاہر ہوجاتا تھا کہ دلوں میں وہ اس طاقت سے کس قدر مرعوب ہیں۔
Ayah 25:43

اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ Open ayah 25:43 in the Quran reader

کبھی تم نے اُس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش ِ نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟ 56 کیا تم ایسے شخص کو راہِ راست پر لانے کا ذمّہ لے سکتے ہو؟

سورة الْفُرْقَان 56 خواہش نفس کا خدا بنا لینے سے مراد اس کی بندگی کرنا ہے، اور یہ بھی حقیقت کے اعتبار سے ویسا ہی شرک ہے جیسا بت کو پوجنا یا کسی مخلوق کو معبود بنانا۔ حضرت ابو امامہ کی روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ماتحت ظل السمآء من الٰہ یعبد من دون اللہ تعالیٰ اعظم عند اللہ عزوجل من ھوی یتبع، " اس آسمان کے نیچے اللہ تعالیٰ کے سوا جتنے معبود بھی پوجے جا رہے ہیں ان میں اللہ کے نزدیک بد ترین معبود وہ خواہش نفس ہے جس کی پیروی کی جا رہی ہو "۔ (طبرانی)۔ مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو الکہف، حاشیہ 50۔ جو شخص اپنی خواہش کو عقل کے تابع رکھتا ہو اور عقل سے کام لے کر فیصلہ کرتا ہو کہ اس کے لیے صحیح راہ کون سی ہے اور غلط کونسی، وہ اگر کسی قسم کے شرک یا کفر میں مبتلا بھی ہو تو اس کو سمجھا کر سیدھی راہ پر لایا جاسکتا ہے، اور یہ اعتماد بھی کیا جاسکتا ہے کہ جب وہ راہ راست اختیار کرنے کا فیصلہ کرلے گا تو اس پر ثابت قدم رہے گا۔ لیکن نفس کا بندہ اور خواہشات کا غلام ایک شتر بےمہار ہے۔ اسے تو اس کی خواہشات جدھر جدھر لے جائیں گی وہ ان کے ساتھ ساتھ بھٹکتا پھرے گا۔ اس کو سرے سے یہ فکر ہی نہیں ہے کہ صحیح و غلط اور حق و باطل میں تمیز کرے اور ایک کو چھوڑ کر دوسرے کو اختیار کرے۔ پھر بھلا کون اسے سمجھا کر راستی کا قائل کرسکتا ہے۔ اور بالفرض اگر وہ بات مان بھی لے تو اسے کسی ضابطہ اخلاق کا پابند بنادینا تو کسی انسان کے بس میں نہیں ہے۔
Ayah 25:44

اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:44 in the Quran reader

کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سُنتے اور سمجھتے ہیں؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ اُن سے بھی گئے گُزرے۔ 57

سورة الْفُرْقَان 57 یعنی جس طرح بھیڑ بکریوں کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ ہانکنے والا انہیں چراگاہ کی طرف لے جا رہا ہے یا بوچڑخانے کی طرف۔ وہ بس آنکھیں بند کر کے ہانکنے والے اشاروں پر چلتی رہتی ہیں۔ اسی طرح یہ عوام الناس بھی اپنے شیطان نفس اور اپنے گمراہ کن لیڈروں کے اشاروں پر آنکھیں بند کیے چلے جار ہے ہیں، کچھ نہیں جانتے کہ وہ انہیں فلاح کی طرف ہانک رہے ہیں یا تباہی و بربادی کی طرف۔ اس حد تک تو ان کی حالت بھیڑ بکریوں کے مشابہ ہے۔ لیکن بھیڑ بکریوں کو خدا نے عقل و شعور سے نہیں نوازا ہے۔ وہ اگر چرواہے اور قصائی میں امتیاز نہیں کرتیں تو کچھ عیب نہیں۔ البتہ حیف ہے ان انسانوں پر جو خدا سے عقل و شعور کی نعمتیں پاکر بھی اپنے آپ کو بھیڑ بکریوں کی سی غفلت و بےشعوری میں مبتلا کرلیں۔ کوئی شخص یہ خیال نہ کرے کہ اس تقریر کا منشا تبلیغ کو لا حاصل قرار دینا ہے، اور نبی ﷺ کو خطاب کر کے یہ باتیں اس لیے فرمائی جا رہی ہیں کہ لوگوں کو سمجھانے کی فضول کوشش چھوڑ دیں۔ نہیں، اس تقریر کے اصل مخاطب سامعین ہی ہیں، اگرچہ روئے سخن بظاہر نبی ﷺ کی طرف ہے۔ دراصل سنانا ان کو مقصود ہے کہ غافلو، یہ کس حال میں پڑے ہوئے ہو۔ کیا خدا نے تمہیں سمجھ بوجھ اس لیے دی تھی کہ دنیا میں جانوروں کی طرح زندگی بسر کرو ؟
Ayah 25:45

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ Open ayah 25:45 in the Quran reader

تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارا ربّ کس طرح سایہ پھیلا دیتا ہے؟ اگر وہ چاہتا تو اسے دائمی سایہ بنا دیتا۔ ہم نے سُورج کو اُس پر دلیل 58 بنایا

سورة الْفُرْقَان 58 یہاں لفظ دلیل ٹھیک اسی معنی میں استعمال ہوا ہے جس میں انگریزی لفظ (Pilot) استعمال ہوتا ہے۔ ملاحوں کی اصطلاح میں دلیل اس شخص کو کہتے ہیں جو کشتیوں کو راست بتاتا ہوا چلے۔ سائے پر سورج کو دلیل بنانے کا مطلب یہ ہے کہ سائے کا پھیلنا اور سکڑنا سورج کے عروج وزوال اور طلوع و غروب کا تابع ہے۔ سائے سے مراد روشنی اور تاریکی کے بین بین وہ درمیانی حالت ہے جو صبح کے وقت طلوع آفتاب سے پہلے ہوتی ہے اور دن بھر مکانوں میں، دیواروں کی اوٹ میں اور درختوں کے نیچے رہتی ہے۔
Ayah 25:46

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا Open ayah 25:46 in the Quran reader

پھر (جیسے جیسے سُورج اُٹھتا جاتا ہے)ہم اس سائے کو رفتہ رفتہ اپنی طرف سمیٹتے چلے جاتے ہیں۔ 59

سورة الْفُرْقَان 59 اپنی طرف سمیٹنے سے مراد غائب اور فنا کرنا ہے، کیونکہ ہر چیز جو فنا ہوتی ہے وہ اللہ ہی کی طرف پلٹتی ہے۔ ہر شے اسی کی طرف سے آتی ہے اور اسی کی طرف جاتی ہے۔ اس آیت کے دو رخ ہیں۔ ایک ظاہری، دوسرا باطنی۔ ظاہر کے اعتبار سے یہ غفلت میں پڑے ہوئے مشرکین کو بتارہی ہے کہ اگر تم دنیا میں جانوروں کی طرح نہ جیتے اور کچھ عقل و ہوش کی آنکھوں سے کام لیتے تو یہی سایہ جس کا تم ہر وقت مشاہدہ کرتے ہو، تمہیں یہ سبق دینے کے لیے کافی تھا کہ نبی جس میں توحید کی تعلیم تمہیں دے رہا ہے وہ بالکل بر حق ہے۔ تمہاری ساری زندگی اسی سائے کے مد و جزر سے وابستہ ہے۔ ابدی سایہ ہوجائے تو زمین پر کوئی جاندار مخلوق، بلکہ نباتات تک باقی نہ رہ سکے، کیونکہ سورج کی روشنی و حرارت ہی پر ان سب کی زندگی موقوف ہے۔ سایہ بالکل نہ رہے تب بھی زندگی محال ہے، کیونکہ ہر وقت سورج کے سامنے رہنے اور اس کی شعاعوں سے کوئی پناہ نہ پا سکنے کی صورت میں نہ جاندار زیادہ دیر تک باقی رہ سکتے ہیں نہ نباتات، بلکہ پانی تک کی خیر نہیں۔ دھوپ اور سائے میں یک لخت تغیرات ہوتے رہیں تب بھی زمین کی مخلوقات ان جھٹکوں کو زیادہ دیر تک نہیں سہار سکتی۔ مگر ایک صانع حکیم اور قادر مطلق ہے جس نے زمین اور سورج کے درمیان ایسی مناسبت قائم کر رکھی ہے جو دائماً ایک لگے بندھے طریقے سے آہستہ آہستہ سایہ ڈالتی اور بڑھاتی گھٹاتی ہے اور بتدریج دھوپ نکالتی اور چڑھاتی اتارتی رہتی ہے۔ یہ حکیمانہ نظام نہ اندھی فطرت کے ہاتھوں خود بخود قائم ہوسکتا تھا اور نہ بہت سے با اختیار خدا اسے قائم کر کے یوں ایک مسلسل با قاعدگی کے ساتھ چلا سکتے تھے۔ مگر ان ظاہری الفاظ کے بین السطور سے ایک اور لطیف اشارہ بھی جھلک رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ کفر و شرک کی جہالت کا یہ جو اس وقت چھایا ہوا ہے، کوئی مستقل چیز نہیں ہے۔ آفتاب ہدایت، قرآن اور محمد ﷺ کی صورت میں طلوع ہوچکا ہے۔ بظاہر سایہ دور دور تک پھیلا نظر آتا ہے، مگر جوں جوں یہ آفتاب چڑھے گا، سایہ سمٹتا چلا جائے گا۔ البتہ ذرا صبر کی ضرورت ہے۔ خدا کا قانون کبھی یک لخت تغیرات نہیں لاتا۔ مادی دنیا میں جس طرح سورج آہستہ آہستہ ہی چڑھتا اور سایہ آہستہ آہستہ ہی سکڑتا ہے۔ اسی طرح فکر و اخلاق کی دنیا میں بھی آفتاب ہدایت کا عروج اور سایہ ضلالت کا زوال آہستہ آہستہ ہی ہوگا۔
Ayah 25:47

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا Open ayah 25:47 in the Quran reader

اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے لباس 60 ، اور نیند کو سکونِ موت، اور دن کو جی اُٹھنے کا وقت بنایا۔ 61

سورة الْفُرْقَان 60 یعنی ڈھانکنے اور چھپانے والی چیز۔ سورة الْفُرْقَان 61 اس آیت کے تین رخ ہیں۔ ایک رخ سے یہ توحید پر استدلال کر رہی ہے۔ دوسرے رخ سے یہ روز مرہ کے انسانی تجربہ و مشاہدے سے زندگی بعد موت کے امکان کی دلیل فراہم کر رہی ہے۔ اور تیسرے رخ سے یہ ایک لطیف انداز میں بشارت دے رہی ہے کہ جاہلیت کی رات ختم ہوچکی، اب علم و شعور اور ہدایت و معرفت کا روز روشن نمودار ہوگیا ہے اور ناگزیر ہے کہ نیند کے ماتے دیر یا سویر بیدار ہوں۔ البتہ جن کے لیے رات کی نیند موت کی نیند تھی وہ نہ جاگیں گے، اور ان کا نہ جاگنا خود انہی کے لیے زندگی سے محرومی ہے، دن کا کاروبار ان کی وجہ سے بند نہ ہوجائے گا۔
Ayah 25:48

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ Open ayah 25:48 in the Quran reader

اور وہی ہے جو اپنی رحمت کے آگے آگے ہواوٴں کو بشارت بنا کر بھیجتا ہے۔ پھر آسمان سے پاک 62 پانی نازل کرتا ہے

سورة الْفُرْقَان 62 یعنی ایسا پانی جو ہر طرح کی گندگیوں سے بھی پاک ہوتا ہے اور ہر طرح کے زہریلے مادوں اور جراثیم سے بھی پاک۔ جس کی بدولت نجاستیں دھلتی ہیں اور انسان، حیوان، نباتات، سب کو زندگی بخشنے والا جوہر خالص بہم پہنچتا ہے۔
Ayah 25:49

لِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا Open ayah 25:49 in the Quran reader

تاکہ ایک مُردہ علاقے کو اس کے ذریعے زندگی بخشے اور اپنی مخلوق میں سے بہت سے جانوروں اور انسانوں کو سیراب کرے۔ 63

سورة الْفُرْقَان 63 اس آیت کے بھی وہی تین رخ ہیں جو اوپر والی آیت کے تھے۔ اس میں توحید کے دلائل بھی ہیں اور آخرت کے دلائل بھی۔ اور ان دونوں مضمونوں کے ساتھ اس میں یہ لطیف مضمون بھی پوشیدہ ہے کہ جاہلیت کا دور حقیقت میں خشک سالی اور قحط کا دور تھا جس میں انسانیت کی زمین بنجر ہو کر رہ گئی تھی۔ اب یہ اللہ کا فضل ہے کہ وہ نبوت کا ابر رحمت لے آیا جو علم وحی کا خالص آب حیات برسا رہا ہے، سب نہیں تو بہت سے بندگان خدا تو اس سے فیض یاب ہوں گے ہی۔
Ayah 25:50

وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 25:50 in the Quran reader

اس کرشمے کو ہم بار بار ان کے سامنے لاتے ہیں 64 تاکہ وہ کچھ سبق لیں، مگر اکثر لوگ کُفر اور ناشکری کے سوا کوئی دُوسرا رویّہ اختیار کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ 65

سورة الْفُرْقَان 64 اصل الفاظ ہیں لَقَدْ صَرَّفْنَاہُ۔ اس کے تین معنی ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ بارش کے اس مضمون کو ہم نے بار بار قرآن میں بیان کر کے حقیقت سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ دوسرے یہ کہ ہم بار بار گرمی و خشکی کے، موسمی ہواؤں اور گھٹاؤں کے، اور برسات اور اس سے رونما ہونے والی رونق حیات کے کرشمے ان کو دکھاتے رہتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ ہم بارش کو گردش دیتے رہتے ہیں۔ یعنی ہمیشہ ہر جگہ یکساں بارش نہیں ہوتی بلکہ کبھی کہیں بالکل خشک سالی ہوتی ہے، کبھی کہیں کم بارش ہوتی ہے، کبھی کہیں مناسب بارش ہوتی ہے، کبھی کہیں طوفان اور سیلاب کی نوبت آجاتی ہے، اور ان سب حالتوں کے بیشمار مختلف نتائج ان کے سامنے آتے رہتے ہیں۔ سورة الْفُرْقَان 65 اگر پہلے رخ (یعنی توحید کی دلیل کے نقطہ نظر) سے دیکھا جائے تو آیت کا مطلب یہ ہے کہ لوگ آنکھیں کھول کر دیکھیں تو محض بارش کے انتظام ہی میں اللہ کے وجود اور اس کی صفات اور اس کے واحد ربُّ العالمین ہونے پر دلالت کرنے والی اتنی نشانیاں موجود ہیں کہ تنہا وہی ان کو پیغمبر کی تعلیم توحید کے برحق ہونے کا اطمینان دلا سکتی ہیں۔ مگر باوجود اس کے کہ ہم بار بار اس مضمون کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور باوجود اس کے کہ دنیا میں پانی کی تقسیم کے یہ کرشمے نت نئے انداز سے پے در پے ان کمینگاہوں کے سامنے آتے رہتے ہیں، یہ ظالم کوئی سبق نہیں لیتے۔ نہ حق و صداقت کو مان کردیتے ہیں، نہ عقل و فکر کی ان نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہیں جو ہم نے ان کو دی ہیں، اور نہ اس احسان کے لیے شکر گزار ہوتے ہیں کہ جو کچھ وہ خود نہیں سمجھ رہے تھے اسے سمجھانے کے لیے قرآن میں بار بار کوشش کی جا رہی ہے۔ دوسرے رخ (یعنی آخرت کی دلیل کے نقطہ نظر) سے دیکھا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر سال ان کے سامنے گرمی و خشکی سے بیشمار مخلوقات پر موت طاری ہونے اور پھر برسات کی برکت سے مردہ نباتات و حشرات کے جی اٹھنے کا ڈراما ہوتا رہتا ہے، مگر سب کچھ دیکھ کر بھی یہ بیوقوف اس زندگی بعد موت کو ناممکن ہی کہتے چلے جاتے ہیں۔ بار بار انہیں اس صریح نشان حقیقت کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے، مگر کفر و انکار کا جمود ہے کہ کسی طرح نہیں ٹوٹتا، نعمت عقل و بینائی کا کفران ہے کہ کسی طرح ختم نہیں ہوتا، اور احسان تذکیر وتعلیم کی ناشکری ہے کہ برابر ہوئے چلی جاتی ہے۔ اگر تیسرے رخ (یعنی خشک سالی سے جاہلیت کی اور باران رحمت سے وحی و نبوت کی تشبیہ) کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسانی تاریخ کے دوران میں بار بار یہ منظر سامنے آتا رہا ہے کہ جب کبھی دنیا نبی اور کتاب الہٰی کے فیض سے محروم ہوئی انسانیت بنجر ہوگئی اور فکر و اخلاق کی زمین میں خاردار جھاڑیوں کے سوا کچھ نہ اگا۔ اور جب کبھی وحی و رسالت کا آب حیات اس سر زمین کو بہم پہنچ گیا، گلشن انسانیت لہلہا اٹھا۔ جہالت و جاہلیت کی جگہ علم نے لی۔ ظلم و طغیان کی جگہ انصاف قائم ہوا۔ فسق و فجور کی جگہ اخلاقی فضائل کے پھول کھلے۔ جس گوشے میں جتنا بھی اس کا فیض پہنچا، شر کم ہوا اور خیر میں اضافہ ہوا۔ انبیاء کی آمد ہمیشہ ایک خوشگوار اور فائدہ بخش فکری و اخلاقی انقلاب ہی کی موجب ہوئی ہے، کبھی اس سے برے نتائج رو نما نہیں ہوئے۔ اور انبیاء کی ہدایت سے محروم یا منحرف ہو کر ہمیشہ انسانیت نے نقصان ہی اٹھایا ہے، کبھی اس سے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ یہ منظر تاریخ بھی بار بار دکھاتی ہے اور قرآن بھی اس کی طرف بار بار توجہ دلاتا ہے، مگر لوگ پھر بھی سبق نہیں لیتے۔ ایک مجرب حقیقت ہے جس کی صداقت پر ہزارہا برس کے انسانی تجربے کی مہر ثبت ہوچکی ہے، مگر اس کا انکار کیا جا رہا ہے۔ اور آج خدا نے نبی اور کتاب کی نعمت سے جس بستی کو نوازا ہے وہ اس کا شکر ادا کرنے کے بجائے الٹی ناشکری کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
Ayah 25:51

وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ Open ayah 25:51 in the Quran reader

اگر ہم چاہتے تو ایک ایک بستی میں ایک ایک نذیر اُٹھا کھڑا کرتے 66

سورة الْفُرْقَان 66 یعنی ایسا کرنا ہماری قدرت سے باہر نہ تھا، چاہتے تو جگہ جگہ نبی پیدا کرسکتے تھے، مگر ہم نے ایسا نہیں کیا اور دنیا بھر کے لیے ایک ہی نبی مبعوث کردیا۔ جس طرح ایک سورج سارے جہان کے لیے کافی ہو رہا ہے اسی طرح یہ اکیلا آفتاب ہدایت ہی سب جہان والوں کے لیے کافی ہے۔
Ayah 25:52

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا Open ayah 25:52 in the Quran reader

پس اے نبیؐ ، کافروں کی بات ہر گز نہ مانو اور اس قرآن کو لے کر ان کے ساتھ جہاد کبیر 67 کرو

سورة الْفُرْقَان 67 جہاد کبیر کے تین معنی ہیں۔ ایک، انتہائی کوشش جس میں آدمی سعی و جاں فشانی کا کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھے۔ دوسرے، بڑے پیمانے پر جد و جہد جس میں آدمی اپنے تمام ذرائع لاکر ڈال دے۔ تیسرے، جامع جدوجہد جس میں آدمی کوشش کا کوئی پہلو اور مقابلے کا کوئی محاذ نہ چھوڑے، جس جس محاذ پر غنیم کی طاقتیں کام کر رہی ہوں اس پر اپنی طاقت بھی لگا دے، اور جس جس پہلو سے بھی حق کی سر بلندی کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہو کرے۔ اس میں زبان و قلم کا جہاد بھی شامل ہے اور جان و مال کا بھی اور توپ و تفنگ کا بھی۔
Ayah 25:53

وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:53 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے دوسمندروں کو ملا رکھا ہے۔ ایک لذیذ و شیریں، دُوسرا تلخ و شور۔ اور دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔ ایک رکاوٹ ہے جو انہیں گڈ مڈ ہونے سے روکے ہوئے ہے۔ 68

سورة الْفُرْقَان 68 یہ کیفیت ہر اس جگہ رونما ہوتی ہے جہاں کوئی بڑا دریا سمندر میں آ کر گرتا ہے۔ اس کے علاوہ خود سمندر میں بھی مختلف مقامات پر میٹھے پانی کے چشمے پائے جاتے ہیں جن کا پانی سمندر کے نہایت تلخ پانی کے درمیان بھی اپنی مٹھاس پر قائم رہتا ہے۔ ترکی امیر البحر سیدی علی رئیس (کاتب رومی) اپنی کتاب مرآۃ الممالک میں، جو سولہویں صدی عیسوی کی تصنیف ہے خلیج فارس کے اندر ایسے ہی ایک مقام کی نشان دہی کرتا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ وہاں آب شور کے نیچے آب شیریں کے چشمے ہیں، جن سے میں خود اپنے بیڑے کے لیے پینے کا پانی حاصل کرتا رہا ہوں۔ موجودہ زمانے میں جب امریکن کمپنی نے سعودی عرب میں تیل نکالنے کا کام شروع کیا تو ابتداءً وہ بھی خلیج فارس کے ان ہی چشموں سے پانی حاصل کرتی تھی۔ بعد میں ظہران کے پاس کنوئیں کھود لیے گئے اور ان سے پانی لیا جانے لگا۔ بحرین کے قریب بھی سمندر کی تہ میں آب شیریں کے چشمے ہیں جن سے لوگ کچھ مدت پہلے تک پینے کا پانی حاصل کرتے رہے ہیں۔ یہ تو ہے آیت کا ظاہری مضمون، جو اللہ کی قدرت کے ایک کرشمے سے اس کے الٰہ واحد اور رب واحد ہونے پر استدلال کر رہا ہے۔ مگر اس کے بین السطور سے بھی ایک لطیف اشارہ ایک دوسرے مضمون کی طرف نکلتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ انسانی معاشرے کا سمندر خواہ کتنا ہی تلخ و شور ہوجائے، اللہ جب چاہے اس کی تہ سے ایک جماعت صالحہ کا چشمہ شیریں نکال سکتا ہے، اور سمندر کے آب تلخ کی موجیں خواہ کتنا ہی زور مار لیں وہ اس چشمے کو ہڑپ کر جانے میں کامیاب نہیں ہو سکتیں۔
Ayah 25:54

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا Open ayah 25:54 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر پیدا کیا، پھر اس نے نسب اور سُسرال کے دو الگ سلسلے چلائے۔ 69 تیرا ربّ بڑا ہی قدرت والا ہے

سورة الْفُرْقَان 69 یعنی بجائے خود یہی کرشمہ کیا کم تھا کہ وہ ایک حقیر پانی کی بوند سے انسان جیسی حیرت انگیز مخلوق بنا کھڑی کرتا ہے، مگر اس پر مزید کرشمہ یہ ہے کہ اس نے انسان کا بھی ایک نمونہ نہیں بلکہ دو الگ نمونے (عورت اور مرد) بنائے جو انسانیت میں یکساں مگر جسمانی و نفسانی خصوصیات میں نہایت مختلف ہیں، اور اس اختلاف کی وجہ سے باہم مخالف و متضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کا پورا جوڑ ہیں۔ پھر ان جوڑوں کو ملا کر وہ عجیب توازن کے ساتھ (جس میں کسی دوسرے کی تدبیر کا ادنیٰ دخل بھی نہیں ہے) دنیا میں مرد بھی پیدا کر رہا ہے اور عورتیں بھی، جن سے ایک سلسلہ تعلقات بیٹوں اور پوتوں کا چلتا ہے جو دوسرے گھروں سے بہوئیں لاتے ہیں، اور ایک دوسرا سلسلہ تعلقات بیٹیوں اور نواسیوں کا چلتا ہے جو دوسرے گھروں کی بہوئیں بن کر جاتی ہیں۔ اس طرح خاندان سے خاندان جڑ کر پورے پورے ملک ایک نسل اور ایک تمدن سے وابستہ ہوجاتے ہیں۔ یہاں بھی ایک لطیف اشارہ اس مضمون کی طرف ہے کہ اس سارے کارخانہ حیات میں جو حکمت کام کر رہی ہے اس کا انداز کار ہی کچھ ایسا ہے کہ یہاں اختلاف، اور پھر مختلفین کے جوڑ سے ہی سارے نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ لہٰذا جس اختلاف سے تم دو چار ہو اس پر گھبراؤ نہیں۔ یہ بھی ایک نتیجہ خیز چیز ہے۔
Ayah 25:55

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا Open ayah 25:55 in the Quran reader

اس خدا کو چھوڑ کر لوگ اُن کو پُوج رہے ہیں جو نہ ان کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان ، اور اوپر سے مزید یہ کہ کافر اپنے ربّ کے مقابلے میں ہر باغی کا مددگار بنا ہوا ہے۔ 70

سورة الْفُرْقَان 70 یعنی اللہ کا کلمہ بلند کرنے اور اس کے احکام و قوانین کو نافذ کرنے کے لیے جو کوشش بھی کہیں ہو رہی ہو، کافر کی ہمدردیاں اس کوشش کے ساتھ نہیں بلکہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گی جو اسے نیچا دکھانے کے در پے ہوں۔ اسی طرح اللہ کی فرماں برداری و اطاعت سے نہیں بلکہ اس کی نافرمانی ہی سے کافر کی ساری دلچسپیاں وابستہ ہوں گی۔ نافرمانی کا کام جو جہاں بھی کر رہا ہو کافر اگر عملاً اس کا شریک نہ ہو سکے گا تو کم از کم زندہ باد کا نعرہ ہی مار دے گا تاکہ خدا کے باغیوں کی ہمت افزائی ہو۔ بخلاف اس کے اگر کوئی فرماں برداری کا کام کر رہا ہو تو کافر اس کی مزاحمت میں ذرا دریغ نہ کرے گا۔ خود مزاحمت نہ کرسکتا ہو تو اس کی ہمت شکنی کے لیے جو کچھ بھی کرسکتا ہے کر گزرے گا، چاہے وہ ناک بھوں چڑھانے کی حد تک ہی سہی۔ نافرمانی کی ہر خبر اس کے لیے مژدہ جانفزا ہوگی اور فرماں برداری کی ہر اطلاع اسے تیر بن کر لگے گی۔
Ayah 25:56

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا Open ayah 25:56 in the Quran reader

اے محمد ؐ ، تم کو تو ہم نے بس ایک مبشِّر اور نذیر بنا کر بھیجا 71 ہے

سورة الْفُرْقَان 71 یعنی تمہارا کام نہ کسی ایمان لانے والے کو جزا دینا ہے، نہ کسی انکار کرنے والے کو سزا دینا۔ تم کسی کو ایمان کی طرف کھینچ لانے اور انکار سے زبردستی روک دینے پر مامور نہیں کیے گئے ہو۔ تمہاری ذمہ داری اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ جو راہ راست قبول کرے اسے انجام نیک کی بشارت دے دو ، اور جو اپنی بد راہی پر جما رہے اس کو اللہ کی پکڑ سے ڈرا دو۔ اس طرح کے ارشادات قرآن مجید میں جہاں بھی آئے ہیں ان کا اصل روئے سخن کفار کی طرف ہے، اور مقصد دراصل ان کو یہ بتانا ہے کہ نبی ایک بےغرض مصلح ہے جو خلق خدا کی بھلائی کے لیے خدا کا پیغام پہنچاتا ہے اور انہیں ان کے انجام کا نیک و بد بتادیتا ہے۔ وہ تمہیں زبردستی تو اس پیغام کے قبول کرنے پر مجور نہیں کرتا کہ تم خواہ مخواہ اس پر بگڑنے اور لڑنے پر تل جاتے ہو۔ تم مانو گے تو اپنا ہی بھلا کرو گے، اسے کچھ نہ دے دو گے۔ نہ مانو گے تو اپنا نقصان کرو گے، اس کا کچھ نہ بگاڑو گے۔ وہ پیغام پہنچا کر سبکدوش ہوچکا، اب تمہارا معاملہ ہم سے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بسا اوقات لوگ اس غلط فہمی میں پڑجاتے ہیں کہ مسلمانوں کے معاملے میں بھی نبی کا کام بس خدا کا پیغام پہنچا دینے اور انجام نیک کا مژدہ سنا دینے تک محدود ہے۔ حالانکہ قرآن جگہ جگہ اور بار بار تصریح کرتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے نبی صرف مبشر ہی نہیں ہے بلکہ معلم اور مزکی اور نمونہ عمل بھی ہے، حاکم اور قاضی اور امیر مطاع بھی ہے، اور اس کی زبان سے نکلا ہوا ہر فرمان ان کے حق میں قانون کا حکم رکھتا ہے جس کے آگے ان کو دل کی پوری رضا مندی سے سر تسلیم خم کرنا چاہیے۔ لہٰذا سخت غلطی کرتا ہے وہ شخص جو مَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلَاغ۔ اور۔ مَٓا اَرْسَلْنٰکَ اَلَّا مُبَشِّراً وَّ نَذِیْراً ، اور اسی مضمون کی دوسری آیات کو نبی اور اہل ایمان کے باہمی تعلق پر چسپاں کرتا ہے۔
Ayahs 25:57–58

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 25:57 in the Quran reader

ان سے کہہ دوکہ”میں اس کام پر تم سے کوئی اُجرت نہیں مانگتا، میری اُجرت بس یہی ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے ربّ کا راستہ اختیار کر لے۔ 711“

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ Open ayah 25:58 in the Quran reader

اور اے محمدؐ، اُس خدا پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو اپنے بندوں کے گناہوں سے بس اُسی کا باخبر ہونا کافی ہے

سورة الْفُرْقَان 71 (الف) تشریح کے لئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم المومنون، حاشیہ 70۔
Ayah 25:59

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا Open ayah 25:59 in the Quran reader

وہ جس نے چھ دنوں میں زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو بنا کر رکھ دیا جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں، پھر آپ ہی (کائنات کے تختِ سلطنت)”عرش“ پر جلوہ فرما 72 ہوا۔ رحمٰن ، اس کی شان بس کسی جاننے والے سے پوچھو

سورة الْفُرْقَان 72 اللہ تعالیٰ کے عرش پر جلوہ گر ہونے کی تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الاعراف، حواشی 41۔ 42، یونس، حاشیہ 4، ھود، حاشیہ 7۔ زمین و آسمان کو چھ دنوں میں پیدا کرنے کا مضمون متشابہات کے قبیل سے ہے جس کا مفہوم متعین کرنا مشکل ہے۔ ممکن ہے کہ ایک دن سے مراد ایک دور ہو۔ اور ممکن ہے کہ اس سے مراد وقت کی اتنی ہی مقدار ہو جس پر ہم دنیا میں لفظ دن کا اطلاق کرتے ہیں۔ (مفصل تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، حٰم السجدہ، حواشی 11 تا 15)۔
Ayah 25:60

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩ Open ayah 25:60 in the Quran reader

اِن لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ اس رحمٰن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں”رحمٰن کیا ہوتا ہے؟ کیا بس جسے تُو کہہ دے اسی کو سجدہ کرتے پھریں؟ 73“ یہ دعوت ان کی نفرت میں اُلٹا اور اضافہ کر دیتی ہے۔ 74

سورة الْفُرْقَان 73 یہ بات دراصل وہ محض کافرانہ شوخی اور سراسر ہٹ دھرمی کی بنا پر کہتے تھے، جس طرح فرعون نے حضرت موسیٰ سے کہا تھا وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۔ " رب العالمین کیا ہوتا ہے ؟ " حالانکہ نہ کفار مکہ خدائے رحمان سے بیخبر تھے اور نہ فرعون ہی اللہ رب العالمین سے ناواقف تھا۔ بعض مفسرین نے اس کی یہ تاویل کی ہے کہ اہل عرب کے ہاں اللہ تعالیٰ کے لیے " رحمان " کا اسم مبارک شائع نہ تھا اس لیے انہوں نے یہ اعتراض کیا۔ لیکن آیت کا انداز کلام خود بتارہا ہے کہ یہ اعتراض نا واقفیت کی بنا پر نہیں بلکہ طغیان جاہلیت کی بنا پر تھا، ورنہ اس پر گرفت کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ نرمی کے ساتھ انہیں سمجھا دیتا کہ یہ بھی ہمارا ہی ایک نام ہے، اس پر کان نہ کھڑے کرو۔ علاوہ بریں یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے کہ عرب میں اللہ تعالیٰ کے لیے قدیم زمانے سے رحمان کا لفظ معروف و مستعمل تھا۔ ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد چہارم، السجدہ، حاشیہ 5۔ سباء، حاشیہ 35۔ سورة الْفُرْقَان 74 اس جگہ سجدہ تلاوت مشروع ہے اور اس پر تمام اہل علم متفق ہیں۔ ہر قاری اور سامع کو اس مقام پر سجدہ کرنا چاہیے۔ نیز یہ بھی مسنون ہے کہ آدمی جب اس کو سنے تو جواب میں کہے زَادَنا اللہُ خُضُوْعاً مَّا زَادَ لِلْاَعْدَآءِ نُفُوْراً ، " اللہ کرے ہمارا خضوع اتنا ہی بڑھے جتنا دشمنوں کا نفور بڑھتا ہے "۔
Ayah 25:61

تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا Open ayah 25:61 in the Quran reader

بڑا متبرّ ک ہے وہ جس نے آسمان میں بُرج بنائے 75 اور اس میں ایک چراغ 76 اور ایک چمکتا چاند روشن کیا

سورة الْفُرْقَان 75 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الحجر، حواشی 8 تا 12۔ سورة الْفُرْقَان 76 یعنی سورج، جیسا کہ سورة نوح میں بتصریح فرمایا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجاً (آیت 16)۔
Ayah 25:62

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا Open ayah 25:62 in the Quran reader

وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دُوسرے کا جانشین بنایا، ہر اس شخص کے لیے جو سبق لینا چاہے، یا شکر گزار ہونا چاہے۔ 77

سورة الْفُرْقَان 77 یہ دو مراتب ہیں جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے الگ اور اپنے مزاج کے اعتبار سے لازم و ملزوم ہیں۔ گردش لیل و نہار کے نظام پر غور کرنے کا پہلا نتیجہ یہ ہے کہ آدمی اس سے توحید کا درس لے اور اگر خدا سے غفلت میں پڑا ہوا تھا تو چونک جائے۔ اور دوسرا نتیجہ یہ ہے کہ خدا کی ربوبیت کا احساس کر کے سر نیاز جھکا دے اور سراپا امتنان بن جائے۔
Ayah 25:63

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا Open ayah 25:63 in the Quran reader

رحمٰن کے (اصلی)بندے 78 وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں 79 اور جاہل ان کے مُنہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام۔ 80

سورة الْفُرْقَان 78 یعنی جس رحمان کو سجدہ کرنے کے لیے تم سے کہا جا رہا ہے اور تم اس سے انحراف کر رہے ہو اس کے پیدائشی بندے تو سب ہی ہیں، مگر اس کے محبوب و پسندیدہ بندے وہ ہیں جو شعوری طور پر بندگی اختیار کر کے یہ اور یہ صفات اپنے اندر پیدا کرتے ہیں۔ نیز یہ کہ وہ سجدہ جس کی تمہیں دعوت دی جا رہی ہے اس کے نتائج یہ ہیں جو اس کی بندگی قبول کرنے والوں کی زندگی میں نظر آتے ہیں، اور اس سے انکار کے نتائج وہ ہیں جو تم لوگوں کی زندگی میں عیاں ہیں۔ اس مقام پر اصل مقصود سیرت و اخلاق کے دو نمونوں کا تقابل ہے۔ ایک وہ نمونہ جو محمد ﷺ کی پیروی قبول کرنے والوں میں پیدا ہو رہا تھا، اور دوسرا وہ جو جاہلیت پر جمے ہوئے لوگوں میں ہر طرف پایا جاتا تھا۔ لیکن اس تقابل کے لیے طریقہ یہ اختیار کیا گیا ہے کہ صرف پہلے نمونے کی نمایاں خصوصیات کو سامنے رکھ دیا، اور دوسرے نمونے کو ہر دیکھنے والی آنکھ اور سوچنے والے ذہن پر چھوڑ دیا کہ وہ آپ ہی مقابل کی تصویر کو دیکھے اور آپ ہی دونوں کا موازنہ کرلے۔ اس کے بیان کی حاجت نہ تھی، کیونکہ وہ گرد و پیش سارے معاشرے میں موجود تھا۔ سورة الْفُرْقَان 79 یعنی تکبر کے ساتھ اکڑتے اور اینٹھتے ہوئے نہیں چلتے، جباروں اور مفسدوں کی طرح اپنی رفتار سے اپنا زور جتانے کی کوشش نہیں کرتے، بلکہ ان کی چال ایک شریف اور سلیم الطبع اور نیک مزاج آدمی کی سی چال ہوتی ہے۔ " نرم چال " سے مراد ضعیفانہ اور مریضانہ چال نہیں ہے، اور نہ وہ چال ہے جو ایک ریا کار آدمی اپنے انکسار کی نمائش کرنے یا اپنی خدا ترسی کا مظاہرہ کرنے کے لیے تصنع سے اختیار کرتا ہے۔ نبی ﷺ خود اس طرح مضبوط قدم رکھتے ہوئے چلتے تھے کہ گویا نشیب کی طرف اتر رہے ہیں۔ حضرت عمر کے متعلق روایات میں آیا ہے کہ انہوں نے ایک جوان آدمی کو مریل چال چلتے دیکھا تو روک کر پوچھا کیا تم بیمار ہو ؟ اس نے عرض کیا نہیں۔ آپ نے درہ اٹھا کر اسے دھمکایا اور بولے۔ قوت کے ساتھ چلو۔ اس سے معلوم ہوا کہ نرم چال سے مراد ایک بھلے مانس کی سی فطری چال ہے نہ کہ وہ جو بناوٹ سے منکسرانہ بنائی گئی ہو یا جس سے خواہ مخواہ کی مسکنت اور ضعیفی ٹپکتی ہو۔ مگر غور طلب پہلو یہ ہے کہ آدمی کی چال میں آخر وہ کیا اہمیت ہے جس کی وجہ سے اللہ کے نیک بندوں کی خصوصیات گناتے ہوئے سب سے پہلے اس کا ذکر کیا گیا ؟ اس سوال کو ذرا تامل کی نگاہ سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آدمی کی چال محض اس کے انداز رفتار ہی کا نام نہیں ہے بلکہ درحقیقت وہ اس کے ذہن اور اس کی سیرت و کردار کی اولین ترجمان بھی ہوتی ہے۔ ایک عیار آدمی کی چال، ایک غنڈے بد معاش کی چال، ایک ظالم و جابر کی چال، ایک خود پسند متکبر کی چال، ایک باوقار مہذب آدمی کی چال، ایک غریب مسکین کی چال، اور اسی طرح مختلف اقسام کے دوسرے انسانوں کی چالیں ایک دوسرے سے اس قدر مختلف ہوتی ہیں کہ ہر ایک کو دیکھ کر بآسانی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس چال کے پیچھے کس طرح کی شخصیت جلوہ گر ہے۔ پس آیت کا مدعا یہ ہے کہ رحمان کے بندوں کو تو تم عام آدمیوں کے درمیان چلتے پھرتے دیکھ کر ہی بغیر کسی سابقہ تعارف کے الگ پہچان لو گے کہ یہ کس طرز کے لوگ ہیں۔ اس بندگی نے ان کی ذہنیت اور ان کی سیرت کو جیسا کچھ بنادیا ہے اس کا اثر ان کی چال تک میں نمایاں ہے۔ ایک آدمی انہیں دیکھ کر پہلی نظر میں جان سکتا ہے کہ یہ شریف اور حلیم اور ہمدرد لوگ ہیں، ان سے کسی شر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، بنی اسرائیل، حاشیہ 43۔ جلد چہارم، لقمان، حاشیہ 33)۔ سورة الْفُرْقَان 80 جاہل سے مراد ان پڑھ یا بےعلم آدمی نہیں، بلکہ وہ شخص ہے جو جہالت پر اتر آئے اور کسی شریف آدمی سے بد تمیزی کا برتاؤ کرنے لگے۔ رحمان کے بندوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ گالی کا جواب گالی سے اور بہتان سے اور اسی طرح کی ہر بیہودگی کا جواب ویسی ہی بیہودگی سے نہیں دیتے بلکہ جو ان کے ساتھ یہ رویہ اختیار کرتا ہے وہ اس کو سلام کر کے الگ ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا وَاِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْہُ وَقَالُوْا لَنَا اَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ ، سَلَامٌ عَلَیْکُمْ لَا نَبْتَغِی الْجَاھِلِیْنَ۔ (القصص آیت 55) " اور جب وہ کوئی بیہودہ بات سنتے ہیں تو اسے نظر انداز کردیتے ہیں، کہتے ہیں بھائی ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، سلام ہے تم کو، ہم جاہلوں کے منہ نہیں لگتے "۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد سوم، القصص، حواشی 72۔ 78)۔
Ayahs 25:64–65

وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا Open ayah 25:64 in the Quran reader

جو اپنے ربّ کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔ 81

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ Open ayah 25:65 in the Quran reader

جو دعائیں کرتے ہیں کہ "اے ہمارے رب، جہنم کے عذاب سے ہم کو بچا لے، اُس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے

سورة الْفُرْقَان 81 یعنی وہ ان کے دن کی زندگی تھی اور یہ ان کی راتوں کی زندگی ہے۔ ان کی راتیں نہ عیاشی میں گزرتی ہیں نہ ناچ گانے میں، نہ لہو و لعب میں، نہ گپوں اور افسانہ گوئیوں میں، اور نہ ڈاکے مارنے اور چوریاں کرنے میں۔ جاہلیت کے ان معروف مشاغل کے برعکس یہ اس معاشرے کے وہ لوگ ہیں جن کی راتیں خدا کے حضور کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے دعا و عبادت کرتے گزرتی ہیں۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ ان کی زندگی کے اس پہلو کو نمایاں کر کے پیش کیا گیا ہے۔ مثلاً سورة سجدہ میں فرمایا تَتَجَافٰی جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفاً وَّ طَمَعاً ، " ان کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے رہتے ہیں " (آیت 16)۔ اور سورة ذاریات میں فرمایا کانُوْا قَلِیْلاً مِّنَ الَّیْلِ مَایَھْجَعُوْنَ ہ وَ بالْاَسْحَارِ ھُمْ یَسْتَغْفِرُون، " یہ اہل جنت وہ لوگ تھے جو راتوں کو کم ہی سوتے تھے اور سحر کے اوقات میں مغفرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے " (آیات 17۔ 18)۔ اور سورة زمر میں ارشاد ہوا اَمَّنْ ھُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِداً وَّقَآئِماً یَّحْذَرُ الْاٰخِرَۃَ وَیَرْجُوْا رَحْمَۃ رَبِّہ، " کیا اس شخص کا انجام کسی مشرک جیسا ہوسکتا ہے جو اللہ کا فرماں بردار ہو، رات کے اوقات میں سجدے کرتا اور کھڑا رہتا ہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کی آس لگائے ہوئے ہو ؟ " (آیت 9)
Ayah 25:66

اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:66 in the Quran reader

وہ تو بڑا ہی بُرا مستقر اور مقام ہے۔ 82

سورة الْفُرْقَان 82 یعنی یہ عبادت ان میں کوئی غرور پیدا نہیں کرتی۔ انہیں اس بات کا کوئی زعم نہیں ہوتا کہ ہم تو اللہ کے پیارے اور اس کے چہیتے ہیں، بھلا آگ ہمیں کہاں چھو سکتی ہے۔ بلکہ اپنی ساری نیکیوں اور عبادتوں کے باوجود وہ اس خوف سے کانپتے رہتے ہیں کہ کہیں ہمارے عمل کی کو تاہیاں ہم کو مبتلائے عذاب نہ کردیں۔ وہ اپنے تقویٰ کے زور سے جنت جیت لینے کا پندار نہیں رکھتے، بلکہ اپنی انسانی کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہوئے عذاب سے بچ نکلنے ہی کو غنیمت سمجھتے ہیں، اور اس کے لیے بھی ان کا اعتماد اپنے عمل پر نہیں بلکہ اللہ کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔
Ayah 25:67

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا Open ayah 25:67 in the Quran reader

جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضُول خرچی کرتے ہیں نہ بُخل، بلکہ اُن کا خرچ دونوں انتہاوٴں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا 83 ہے

سورة الْفُرْقَان 83 یعنی نہ تو ان کا حال یہ ہے کہ عیاشی، اور قمار بازی، اور شراب نوشی، اور یار باشی، اور میلوں ٹھیلوں، اور شادی بیاہ میں بےدریغ روپیہ خرچ کریں اور اپنی حیثیت سے بڑھ کر اپنی شان دکھانے کے لیے غذا مکان، لباس اور تزئین و آرائش پر دولت لٹائیں۔ اور نہ ان کی کیفیت یہ ہے کہ ایک زر پرست آدمی کی طرح پیسہ جوڑ جوڑ کر رکھیں، نہ خود کھائیں، نہ بال بچوں کی ضروریات اپنی استطاعت کے مطابق پوری کریں، اور نہ کسی راہ خیر میں خوش دلی کے ساتھ کچھ دیں۔ عرب میں یہ دونوں قسم کے نمونے کثرت سے پائے جاتے تھے۔ ایک طرف وہ لوگ تھے جو خوب دل کھول کر خرچ کرتے تھے، مگر ان کے ہر خرچ کا مقصود یا تو ذاتی عیش و تَنَعُّم تھا، یا برادری میں ناک اونچی رکھنا اور اپنی فیاضی و دولت مندی کے ڈنکے بجوانا۔ دوسری طرف وہ بخیل تھے جن کی کنجوسی مشہور تھی۔ اعتدال کی روش بہت ہی کم لوگوں میں پائی جاتی تھی اور ان کم لوگوں میں اس وقت سب سے زیادہ نمایاں نبی ﷺ اور آپ کے اصحاب تھے۔ اس موقع پر یہ جان لینا چاہیے کہ اسراف کیا چیز ہے اور بخل کیا چیز۔ اسلامی نقطۂ نظر سے اسراف تین چیزوں کا نام ہے۔ ایک، ناجائز کاموں میں دولت صرف کرنا، خواہ وہ ایک پیسہ ہی کیوں نہ ہو۔ دوسرے، جائز کاموں میں خرچ کرتے ہوئے حد سے تجاوز کر جانا، خواہ اس لحاظ سے کہ آدمی اپنی استطاعت سے زیادہ خرچ کرے، یا اس لحاظ سے کہ آدمی کو جو دولت اس کی ضرورت سے بہت زیادہ مل گئی ہو اسے وہ اپنے ہی عیش اور ٹھاٹ باٹ میں صرف کرتا چلا جائے۔ تیسرے، نیکی کے کاموں میں خرچ کرنا، مگر اللہ کے لیے نہیں بلکہ ریا اور نمائش کے لیے اس کے برعکس بخل کا اطلاق دو چیزوں پر ہوتا ہے۔ ایک یہ کہ آدمی اپنی اور اپنے بال بچوں کی ضروریات پر اپنی مقدرت اور حیثیت کے مطابق خرچ نہ کرے۔ دوسرے یہ کہ نیکی اور بھلائی کے کاموں میں اس کے ہاتھ سے پیسہ نہ نکلے۔ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال کی راہ اسلام کی راہ ہے جس کے متعلق نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ من فقہ الرجل قصدہ فی معیشتہ، " اپنی معیشت میں توسط اختیار کرنا آدمی کے فقیہ (دانا) ہونے کی علامتوں میں سے ہے " (احمد و طبرنی، بروایت ابی الدرداء)۔
Ayah 25:68

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ Open ayah 25:68 in the Quran reader

جو اللہ کے سوا کسی اور معبُود کو نہیں پُکارتے ، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے، اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں 84۔۔۔۔ یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا

سورة الْفُرْقَان 84 یعنی وہ ان تین بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں جن میں اہل عرب کثرت سے مبتلا ہیں۔ ایک شرک باللہ، دوسرے قتل ناحق، تیسرے زنا۔ اسی مضمون کو نبی ﷺ نے بکثرت احادیث میں بیان فرمایا ہے۔ مثلاً عبداللہ بن مسعود کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپ سے پوچھا گیا، سب سے بڑا گناہ کیا ہے۔ فرمایا اَنْ تَجْعَلَ للہِ نِدًّا وَّھُوَ خَلَقَکَ " یہ کہ تو کسی کو اللہ کا مد مقابل اور ہمسر ٹھہرائے، حالانکہ تجھے پیدا اللہ نے کیا ہے "۔ پوچھا گیا اس کے بعد فرمایا ان تقتل ولدک خشیۃ ان یطعَمَ معک، " یہ کہ تو اپنے بچے کو اس خوف سے قتل کر ڈالے کہ وہ تیرے ساتھ کھانے میں شریک ہوجائے گا "۔ پوچھا گیا پھر۔ فرمایا اَنْ تزانی حلیلۃ جارک، " یہ کہ تو اپنے ہمسائے کی بیوی سے زنا کرے " (بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی، احمد)۔ اگرچہ کبیرہ گناہ اور بھی بہت سے ہیں، لیکن عرب کی سوسائیٹی پر اس وقت سب سے زیادہ تسلط انہی تین گناہوں کا تھا، اس لیے مسلمانوں کی اس خصوصیت کو نمایاں کیا گیا کہ پورے معاشرے میں یہ چند لوگ ہیں جو ان برائیوں سے بچ گئے ہیں۔ یہاں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ مشرکین کے نزدیک تو شرک سے پرہیز کرنا ایک بہت بڑا عیب تھا، پھر اسے مسلمانوں کی ایک خوبی کی حیثیت سے ان کے سامنے پیش کرنے کی کونسی معقول وجہ ہو سکتی تھی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اہل عرب اگرچہ شرک میں مبتلا تھے اور سخت تعصب کی حد تک مبتلا تھے، مگر درحقیقت اس کی جڑیں اوپری سطح ہی تک محدود تھیں، کچھ گہری اتری ہوئی نہ تھیں، اور دنیا میں کبھی کہیں بھی شرک کی جڑیں انسانی فطرت میں گہری اتری ہوئی نہیں ہوتیں۔ اس کے برعکس خالص خدا پرستی کی عظمت ان کے ذہن کی گہرائیوں میں رچی ہوئی موجود تھی جس کو ابھارنے کے لیے اوپر کی سطح کو بس ذرا زور سے کھرچ دینے کی ضرورت تھی۔ جاہلیت کی تاریخ کے متعدد واقعات ان دونوں باتوں کی شہادت دیتے ہیں۔ مثلاً اَبرہہ کے حملے کے موقع پر قریش کا بچہ بچہ یہ جانتا تھا کہ اس بلا کو وہ بت نہیں ٹال سکتے جو خانۂ کعبہ میں رکھے ہوئے ہیں بلکہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ٹال سکتا ہے جس کا یہ گھر ہے۔ آج تک وہ اشعار اور قصائد محفوظ ہیں جو اصحاب الفیل کی تباہی پر ہم عصر شعراء نے کہے تھے۔ ان کا لفظ لفظ گواہی دیتا ہے کہ وہ لوگ اس واقعہ کو محض اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ سمجھتے تھے اور اس امر کا ادنیٰ سا گمان بھی نہ رکھتے تھے کہ اس میں ان کے معبودوں کا کوئی دخل ہے۔ اسی موقع پر شرک کا یہ بد ترین کرشمہ بھی قریش اور تمام مشرکین عرب کے سامنے آیا تھا کہ ابرہہ جب مکہ کی طرف جاتے ہوئے طائف کے قریب پہنچا تو اہل طائف نے اس اندیشے سے کہ یہ کہیں ان کے معبود " لات " کے مندر کو بھی نہ گرا دے، اپنی خدمات کعبے کو منہدم کرنے کے لیے اس کے آگے پیش کردیں اور اپنے بدرقے کا سردار تھا۔ علاوہ بریں قریش اور دوسرے اس کے ساتھ کردیے تاکہ وہ پہاڑی راستوں سے اس کے لشکر کو بخیریت مکہ تک پہنچا دیں۔ اس واقعہ کی تلخ یاد مدتوں تک قریش کو ستاتی رہی اور سالہا سال تک وہ اس شخص کی قبر پر سنگ باری کرتے رہے جو طائف کے بدرقے کا سردار تھا۔ علاوہ بریں قریش اور دوسرے اہل عرب اپنے دین کو حضرت ابراہیم کی طرف منسوب کرتے تھے، اپنے بہت سے مذہبی اور معاشرتی مراسم اور خصوصاً مناسک حج کو دین ابراہیمی ہی کے اجزا قرار دیتے تھے، اور یہ بھی مانتے تھے کہ حضرت ابراہیم خالص خدا پرست تھے، بتوں کی پرستش انہوں نے کبھی نہیں کی۔ ان کے ہاں کی روایات میں یہ تفصیلات بھی محفوظ تھیں کہ بت پرستی ان کے ہاں کب سے رائج ہوئی اور کون سا بت کب، کہاں سے، کون لایا۔ اپنے معبودوں کی جیسی کچھ عزت ایک عام عرب کے دل میں تھی اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ جب کبھی اس کی دعاؤں اور تمناؤں کے خلاف کوئی واقعہ ظہور میں آجاتا تو بسا اوقات وہ معبود صاحب کی توہین بھی کر ڈالتا تھا اور اس کی نذر و نیاز سے ہاتھ کھینچ لیتا تھا۔ ایک عرب اپنے باپ کے قاتل سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔ ذوالْخَلَصَہ نامی بت کے آستانے پر جا کر اس نے فال کھلوائی۔ جواب نکلا یہ کام نہ کیا جائے۔ اس پر عرب طیش میں آگیا۔ کہنے لگا لو کنت یا ذالخلص الموتورا مثلی وکان شیخک المقبورا لم تنہ عن قتل العداۃ زورا یعنی اے ذوالخلصہ ! اگر میری جگہ تو ہوتا اور تیرا باپ مارا گیا ہوتا تو ہرگز تو یہ جھوٹی بات نہ کہتا کہ ظالموں سے بدلہ نہ لیا جائے۔ ایک اور عرب صاحب اپنے اونٹوں کا گلہ اپنے معبود سعد نامی کے آستانے پر لے گئے تاکہ ان کے لیے برکت حاصل کریں۔ یہ ایک لمبا تڑنگا بت تھا جس پر قربانیوں کا خون لتھڑا ہوا تھا۔ اونٹ اسے دیکھ کر بھڑک گئے اور ہر طرف بھاگ نکلے۔ عرب اپنے اونٹوں کو اس طرح تتر بتر ہوتے دیکھ کر غصے میں آگیا۔ بت پر پتھر مارتا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا کہ " خدا تیرا ستیاناس کرے۔ میں آیا تھا برکت لینے کے لیے اور تو نے میرے رہے سہے اونٹ بھی بھگا دیے "۔ متعدد بت ایسے تھے جن کی اصلیت کے متعلق نہایت گندے قصے مشہور تھے۔ مثلاً اَسف اور نائلہ جن کے مجسمے صفا اور مروہ پر رکھے ہوئے تھے، ان کے بارے میں مشہور تھا کہ یہ دونوں دراصل ایک عورت اور ایک مرد تھے جنہوں نے خانہ کعبہ میں زنا کا ارتکاب کیا تھا اور خدا نے ان کو پتھر بنادیا۔ یہ حقیقت جن معبودوں کی ہو، ظاہر ہے کہ ان کی کوئی حقیقی عزت تو عابدوں کے دلوں میں نہیں ہو سکتی۔ ان مختلف پہلوؤں کو نگاہ میں رکھا جائے تو یہ بات بآسانی سمجھ میں آجاتی ہے کہ خالص خدا پرستی کی ایک گہری قدر و منزلت تو دلوں میں موجود تھی، مگر ایک طرف جاہلانہ قدامت پرستی نے اس کو دبا رکھا تھا، اور دوسری طرف قریش کے پروہت اس کے خلاف تعصبات بھڑکاتے رہتے تھے، کیونکہ بتوں کی عقیدت ختم ہوجانے سے ان کو اندیشہ تھا کہ عرب میں ان کو جو مرکزیت حاصل ہے وہ ختم ہوجائے گی اور ان کی آمدنی میں بھی فرق آجائے گا۔ ان سہاروں پر جو مذہب شرک قائم تھا وہ توحید کی دعوت کے مقابلے میں کسی وقار کے ساتھ کھڑا نہیں ہوسکتا تھا۔ اسی لیے قرآن نے خود مشرکین کو خطاب کر کے بےتکلف کہا کہ تمہارے معاشرے میں محمد ﷺ کے پیروؤں کو جن وجوہ سے برتری حاصل ہے ان میں سے ایک اہم ترین وجہ ان کا شرک سے پاک ہونا اور خالص خدا پرستی پر قائم ہوجانا ہے۔ اس پہلو سے مسلمانوں کی برتری کو زبان سے ماننے کے لیے چاہے مشرکین تیار نہ ہوں، مگر دلوں میں وہ اس کا وزن محسوس کرتے تھے۔
Ayah 25:69

یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ Open ayah 25:69 in the Quran reader

قیامت کے روز اُس کو مکرّرعذاب دیا جائے 85 گا اور اسی میں وہ ہمیشہ ذلّت کے ساتھ پڑا رہے گا

سورة الْفُرْقَان 85 اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ عذاب کا سلسلہ ٹوٹنے نہ پائے گا، بلکہ پے در پے جاری رہے گا۔ دوسرے یہ کہ جو شخص کفر یا شرک یا دہریت و الحاد کے ساتھ قتل اور زنا اور دوسری معصیتوں کا بوجھ لیے ہوئے جائے گا اس کو بغاوت کی سزا الگ ملے گی اور ایک ایک جرم کی سزا الگ الگ۔ اس کا ہر چھوٹا بڑا قصور حساب میں آئے گا۔ کوئی ایک خطا بھی معاف نہ ہوگی۔ قتل کی سزا ایک نہیں ہوگی بلکہ ہر فعل قتل کی الگ سزا اس کو بھگتنی ہوگی۔ زنا کی سزا بھی ایک نہیں ہوگی بلکہ جتنی بار وہ اس جرم کا مرتکب ہوا اس کی جداگانہ سزا پائے گا۔ اور یہی حال دوسرے تمام جرائم اور معاصی کے معاملے میں بھی ہوگا۔