19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsتفہیم القرآن

Ayah 19:81

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّیَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ Open ayah 19:81 in the Quran reader

اِن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ خدا بنا رکھے ہیں تاکہ وہ اِن کے پُشتیبان ہوں۔ 49

سورة مَرْیَم 49 اصل میں لفظ عزا استعمال ہوا ہے، یعنی وہ ان کے لیئے سبب عزت ہوں۔ مگر عزت سے مراد عربی زبان میں یہ معنی رکھتا ہے کہ وہ اس کی حمایت پر ہو جس کی وجہ سے اس کا کوئی مخالف اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ سکے۔
Ayahs 19:82–83

كَلَّا١ؕ سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِمْ ضِدًّا۠ Open ayah 19:82 in the Quran reader

وہ سب ان کی عبادت کا انکار کریں گے 50 اور اُلٹے اِن کے مخالف بن جائیں گے

اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّاۙ Open ayah 19:83 in the Quran reader

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ ہم نے اِن منکرین حق پر شیاطین چھوڑ رکھے ہیں جو اِنہیں خُوب خُوب (مخالفتِ حق پر) اکسا رہے ہیں؟

سورة مَرْیَم 50 یعنی وہ کہیں گے کہ نہ ہم نے کبھی ان سے کہا تھا ہماری عبادت کرو، اور نہ ہمیں یہ خبر تھی کہ یہ احمق لوگ ہماری عبادت کر رہے ہیں۔
Ayahs 19:84–86

فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ Open ayah 19:84 in the Quran reader

اچھا، تو اب اِن نُزوُلِ عذاب کے لیے بےتاب نہ ہو۔ ہم اِن کے دن گِن رہے ہیں۔ 51

یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ Open ayah 19:85 in the Quran reader

وہ دن آنے والا ہے جب متقی لوگوں کو ہم مہمانوں کی طرح رحمان کے حضور پیش کریں گے

وَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًاۘ Open ayah 19:86 in the Quran reader

اور مجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے

سورة مَرْیَم 51 مطلب یہ ہے کہ ان کی زیادتیوں پر تم بےصبر نہ ہو۔ ان کی شامت قریب آلگی ہے۔ پیمانہ بھرا چاہتا ہے۔ اللہ کی دی ہوئی مہلت کے کچھ دن باقی ہیں، انہیں پورا ہو لینے دو۔
Ayahs 19:87–95

لَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۘ Open ayah 19:87 in the Quran reader

اُس وقت لوگ کوئی سفارش لانے پر قادر نہ ہوں گے بجز اُس کے جس نے رحمٰن کے حضور سے پروانہ حاصل کر لیا ہو۔ 52

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًاؕ Open ayah 19:88 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں کہ رحمان نے کسی کو بیٹا بنایا ہے

لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّاۙ Open ayah 19:89 in the Quran reader

سخت بیہودہ بات ہے جوتم لوگ گھڑ لائے ہو

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ Open ayah 19:90 in the Quran reader

قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گر جائیں

اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًاۚ Open ayah 19:91 in the Quran reader

اس بات پر کہ لوگوں نے رحمان کے لیے اولاد ہونے کا دعویٰ کیا!

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًاؕ Open ayah 19:92 in the Quran reader

رحمان کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے

اِنْ كُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًاؕ Open ayah 19:93 in the Quran reader

زمین اور آسمان کے اندر جو بھی ہیں سب اس کے حضور بندوں کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں

لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّاؕ Open ayah 19:94 in the Quran reader

سب پر وہ محیط ہے اور اس نے اُن کو شمار کر رکھا ہے

وَ كُلُّهُمْ اٰتِیْهِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَرْدًا Open ayah 19:95 in the Quran reader

سب قیامت کے روز فرداً فرداً اس کے سامنے حاضر ہوں گے

سورة مَرْیَم 52 یعنی سفارش اسی کے حق میں ہوگی جس نے پروانہ حاصل کیا ہو، اور وہی سفارش کرسکے گا جسے پروانہ ملا ہو۔ آیت کے الفاظ ایسے ہیں جو دونوں پہلوؤں پر یکساں روشنی ڈالتے ہیں۔ یہ بات کہ سفارش صرف اسی کے حق میں ہو سکے گی جس نے رحمان سے پروانہ حاصل کرلیا ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے دنیا میں ایمان لاکر خدا سے کچھ تعلق جوڑ کر اپنے آپ کو خدا کے عفو و درگزر کا مستحق بنا لیا ہو۔ اور یہ بات کہ سفارش وہی کرسکے گا جس کو پروانہ ملا ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں نے جن جن کو اپنا شفیع اور سفارشی سمجھ لیا ہے وہ سفارشیں کرنے کے مجاز نہ ہوں گے بلکہ خدا خود جس کو اجازت دے گا وہی شفاعت کے لیئے زبان کھول سکے گا۔
Ayahs 19:96–98

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا Open ayah 19:96 in the Quran reader

یقیناً جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور عملِ صالح کر رہے ہیں عنقریب رحمٰن اُن کے لیے دلوں میں محبت پیدا کر دے گا۔ 53

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِیْنَ وَ تُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا Open ayah 19:97 in the Quran reader

پس اے محمدؐ، اِس کلام کو ہم نے آسان کر کے تمہاری زبان میں اسی لیے نازل کیا ہے کہ تم پرہیز گاروں کو خوشخبری دے دو اور ہٹ دھرم لوگوں کو ڈرا دو

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ١ؕ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا۠ Open ayah 19:98 in the Quran reader

ان سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں، پھر آج کہیں تم ان کا نشان پاتے ہو یا اُن کی بھنک بھی کہیں سنائی دیتی ہے؟

سورة مَرْیَم 53 یعنی آج مکہ کی گلیوں میں وہ ذلیل و رسوا کیے جارہے ہیں۔ مگر یہ حالت دیر پا نہیں ہے۔ قریب ہے وہ وقت جبکہ اپنے اعمال صالحہ اور اخلاق حسنہ کی وجہ سے وہ محبوب خلائق ہو کر رہیں گے۔ دل ان کی طرف کھنچیں گے۔ دنیا ان کے آگے پلکیں بچھائے گی۔ فسق و فجور، رعونت اور کبر، جھوٹ اور ریا کاری کے بل پر جو سیادت قیادت چلتی ہو وہ گردنوں کو چاہے جھکالے، دلوں کو مسخر نہیں کرسکتی۔ اس کے برعکس جو لوگ صداقت، دیانت، اخلاص اور حسن اخلاق کے ساتھ راہ راست کی طرف دعوت دیں، ان سے اول چاہے دنیا کتنی ہی اپرائے، آخر کار وہ دلوں کو موہ لیتے ہیں اور بد دیانت لوگوں کا جھوٹ زیادہ دیر تک ان کا راستہ روکے نہیں رہ سکتا۔