8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsسراج البیان

Ayah 8:41

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 8:41 in the Quran reader

اور جان لو کہ جو مال غنیمت لاؤ اس کا پانچواں حصہ اللہ اور رسول اور (ان کے) قرابتیوں ، اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کے لئے ہے (ف 1) ۔ اگر تم اللہ پر اور اس پر ایمان لائے ہو جو ہم نے فیصلہ کے دن جس دن دو فوجیں بھڑ گئی تھیں ، اپنی بندے پر نازل کی تھی اور اللہ ہر شئے پر قادر ہے ۔

خمس : (ف 1) اسلام میں جہاں اخلاق و عقائد کی تشریح ہے وہاں عسکری ضابطوں کی توضیح بھی ہے کیونکہ یہ جامع مذہب ہے جس میں تمام ضروریات انسانی سے بحث ہے ۔ خمس کے معنی پانچویں حصے کے ہیں ، قاعدہ یہ ہے کہ جب مسلمان میدان جنگ میں جائیں ، اور دشمنوں کا مال لے کر لوٹیں تو اس کے پانچ حصے کردیئے جائیں ، پانچواں حصہ بیت المال میں دیں ، وہ دینی وملی ضروریات پر صرف ہو ، اسیرو یہ کہ مساکین یا مسافر جو زاد راہ کے محتاج ہوں انہیں حسب ضرورت و احتیاج دیا جائے باقی چار حصے مجاہدین میں تقسیم کردیئے جائیں ، یہ واضح رہے کہ اسلام کے عہد اول میں باقاعدہ وفوج نہ تھی نہ ان کی تنخواہیں معزز تھیں ہر مسلمان سپاہی تھا ، اور ملت ودین کی حفاظت کے لئے لڑنا ان کا فرض تھا ، جب ضرورت ہوتی ، تمام گھروں سے نکل کھڑے ہوتے ، اور جہاد میں شریک ہوجاتے ، اس لئے شریعت نے باقاعدہ مال غنیمت کے حصے مقرر کردیئے ، اور ہر سپاہی کا اس میں حصہ ہے ، جس کے صاف صاف معنی یہ ہیں کہ سپاہی ایک مستقل حیثیت رکھتا ہے ، اور جنگ میں وہ ذمہ دار انسان کی طرح شریک ہوتا ہے ۔
Ayah 8:42

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:42 in the Quran reader

جب تم میدان کے ورلے کنارے اور قریش پرلے کنارہ پر تھے اور (قافلہ کے) سوار تم سے نیچے دریا کی طرف اتر گئے تھے ، اور اگر تم آپس میں کچھ وعدہ کرلیتے ، تو تمہیں وعدہ خلاف ہونا پڑتا ، لیکن خدا کو مقررہ (ف 2) ۔ کام کرنا تھا تاکہ جو ہلاک ہو ، دلیل سے ہلاک ہو ، اور جو زندہ رہے ‘ دلیل سے زندہ رہے ، اور اللہ سنتا اور جانتا ہے ۔

(ف 2) غرض یہ ہے کہ بدر میں اللہ تعالیٰ نے تمہاری کفار مکہ کے باقاعدہ لشکر سے مڈبھیڑ کرا دی ، ورنہ اگر لڑ کرکے گھروں سے نکلتے ، تو شاید وقت پر دونوں نہ پہنچ سکتے اللہ تعالیٰ نے اس طرح کا انتظام فرما دیا کہ مسلمان جو ابوسفیان کے قافلہ کے لئے گھروں سے نکلے تھے ، ایک ہزار کے لشکر سے بھڑ گئے اور وہ جو قافلہ کی حفاظت کے لئے آئے تھے مسلمانوں سے دوچار ہوگئے اس طریق سے گھمسان کی لڑائی ہوئی مدینے کہ ادھر مسلمان تھے اور دوسری جانب مکہ والے ، قافلہ بچ کر نکل گیا ، لڑائی بیحد حیرت انگیز طریق سے ہوئی مسلمان غالب آگئے اور مخالفین کو یہ معلوم ہوگیا کہ اسلام کے پاس روحانی قوتیں بھی ہیں ، ورنہ اس قلیل جماعت کا یوں آسانی سے کامیاب ہوجانا ، محال تھا ، جب کہ مکہ والے پوری تیاری کرکے آئے تھے ۔
Ayahs 8:43–44

اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 8:43 in the Quran reader

جب تجھے (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ نے تیری خواب میں انہیں تھوڑا دکھلایا ، اور اگر وہ تجھے انکی کثرت دکھلاتا ، تو تم (مسلمان) نامردی کرتے اور کام میں جھگڑا ڈالتے لیکن اللہ نے تمہیں نامردی سے بچا لیا وہ دلوں کا حال جانتا ہے (ف 1) ۔

وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 8:44 in the Quran reader

اور جب تم ملے تھے تو تمہاری نظروں میں انہیں تھوڑا کر دکھلایا ، اور ان کی آنکھوں میں تمہیں تھوڑا کر دکھلایا ، تاکہ وہ کام کرے ، جو پہلے ہوچکا تھا ، اور سب کام اللہ کی طرف پھرتے ہیں ۔

(ف 1) یعنی حضور ﷺ کو رؤیا میں دکھایا گیا کہ کفار نہایت قلیل تعداد میں ہیں ، یا صنام سے مراد آنکھ ہے جیسا کہ دوسری آیت میں فی اعینکم “ کا لفظ موجود ہے ، بہرحال غرض یہ ہے کہ وہ تمہاری نگاہوں میں کم نظر آئے ، تاکہ تمہاری ہمتیں پست نہ ہوجائیں ، یہ بھی نصرت الہی کی ایک مخصوص سورت ہے ۔ حل لغات : ولذی القربی : رسول ﷺ کے عزیز و اقارب ۔ یوم الفرقان : بدر کا فیصلہ کن دن ، العدوۃ : کنارہ موڑ ، نقطہ ، تجاوز ۔
Ayah 8:45

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 8:45 in the Quran reader

مومنو ! جب تم کسی فوج سے بھڑو ، تو ثابت قدم رہو ، اور اللہ کو بہت یاد کرو ، شاید مراد پاؤ (ف 1) ۔

مسلمان سپاہی : (ف 1) اسلامی غزوات چونکہ دینی اور مادی مقاصد کے لئے نہیں ، اس لئے سپاہیوں کو جو ہدایت دی جاتی ہے ، وہ بھی خاص روحانی ہے یعنی ثبات و استقلال کے ساتھ اللہ کا ذکر کثیرہ کیونکہ مسلمان کی جنگ خدا پرستی اور دہریت کی جنگ ہوتی ہے ، یہ جب جہاد میں آتا ہے ، تو مقصد کفر و طغیان کی بیخ کنی کرتا ہے مال و دولت کو سمیٹنا نہیں ۔ اسلامی فتوحات کا راز یہی للہیت ہے ، غیر مسلم سپاہی شراب میں مخمور فسق وفجور کے عادی لعب وشتم کرتے اور واہیات بکتے ہوئے میدان جنگ میں آئے اور مسلمان نشئہ توحید سے سرشار اللہ کا نام بلند کرتے ہوئے پھر جن کے دلوں میں اللہ کی محبت ہے اور جو تلواروں کی جھنکار میں بھی اس محبوب حقیقی کو نہیں بھولتے ، ان کے لئے دنیا کی فتوحات تو کیا آخرت میں بھی کامرانیاں ہیں ۔ یہ مسلمان سپاہی کا کیرکٹر ہے کہ وہ توپوں اور تلواروں کے سامنے بھی ذکر کثیر میں مشغول رہتا ہے ۔ آج کل بھی سپاہی کے لئے آسانیاں مہیا ہیں اور عسکری اخلاق میں حد درجہ بہیمانہ افعال کی اجازت ہے یعنی موجودہ سپاہی سیہ کاری کا مرقع ہے مگر اسلام کہتا ہے کہ ہر حال میں پاکباز رہو ، صفوف نماز میں جس طرح تم تضرع وابتہال کا پیکر ہو ، اسی طرح مصاف جہاد میں خدا کا نام ورد زبان رہے ۔
Ayah 8:46

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ Open ayah 8:46 in the Quran reader

اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ، ورنہ بزدل ہوجاؤ گے اور تمہاری ہوا جاتی رہے گی ، اور صبر کرو ، اللہ صابروں کے ساتھ ہے (ف 2) ۔

(ف 2) یہ آیت صرف جہاد سے مختص نہیں ، بلکہ ہر حال میں مسلمان کو اطاعت کے شیرازہ میں منسلک رہنا چاہئے ، جب بھی کتاب وسنت کو چھوڑ کر مسلمان اختلاف وتنازع پیدا کریگا ہوا اکھڑ جائے گی ، اور ہمتیں پست ہوجائیں گی ، قوت و غلبہ ” اعتصام بحبل اللہ “ میں مضمر ہے ، ” واصبروا “ قرآن کی اصطلاح میں شمات و استقلال کا دوسرا نام ہے ۔
Ayah 8:47

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 8:47 in the Quran reader

اور تم ان لوگوں کی مانند نہ ہو جو اپنے گھروں سے اتراتے اور لوگوں کو شان دکھلاتے نکلتے (یعنی قریش) ، اور اللہ کی راہ سے روکتے تھے ، اور اللہ کے قابو میں ان کے کام تھے (ف 3) ۔

(ف 3) جب قافلہ ابو سفیان کا بچ کر نکل گیا تو لوگوں نے ابوجہل سے کہا ، اب لوٹ چلیں کیونکہ ہم صرف قافلہ کی حفاظت کے لئے جمع ہو کر آئے تھے ، ابو جہل نے کہا یہ نہیں ہو سکتا ہم بدر تک جائیں گے ، اور شان و شکوہ کا اظہار کرتے ہوئے بادہ انگور کے دور چلیں گے ، اونٹ ذبح ہوں گے ، عورتیں گائیں گی اور عرب ہماری کامرانی سے آگاہ ہوں گے ۔ چناچہ یہ فخر و غرور کا مظاہرہ کرتے ہوئے جام پر جام لنڈھاتے ہوئے آئے اور شکست کھا کر لوٹے ، آیت کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان جب کسی جشن یا جنگ میں شریک ہوں تو متواضع ہو کر وقار ومتانت کو ہاتھ سے نہ دیں ، کیونکہ غرور کا سرنیچا ہے ۔
Ayah 8:48

وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 8:48 in the Quran reader

اور جب شیطان ان کے کام انہیں اچھے دکھلانے لگا ، اور کہتا تھا آج لوگوں میں سے کوئی تم پر غالب نہ ہوگا ، میں تمہارا تمہارے ساتھ ہوں ، پھر جب دونوں فوجیں مقابل ہوئیں تو شیطان اپنی ایڑیوں کے بل الٹا پھرا اور کہا کہ میں تم سے بیزار ہوں ، میں وہ چیز دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ، میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ کا عذاب سخت ہے (ف 1) ۔

(ف 1) حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ شیطان سراقہ بن مالک کی شکل میں قریش کے پاس آیا اور کہنے لگا تم ضرور لڑو ، میں بنی کنانہ کی طرف سے ذمہ دار ہوں ، وہ تم سے تعرض نہیں کریں گے قریش اور بنی کنانہ میں باہمی عداوت تھی ) جب مکہ والے میدان میں نکلے اور مسلمانوں سے مڈبھیڑ ہوئی تو یہ بھاگ کھڑا ہوا ، لوگوں نے کہا بھاگ رہا ہے ، سراقہ نے جوابا کہا تمہیں کیا معلوم بات کیا ہے ، فرشتے مسلمانوں کی اعانت میں آسمان سے نازل ہو رہے ہیں مجھے وہ کچھ نظر آرہا ہے جو تم نہیں دیکھ سکتے ،
Ayah 8:49

اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:49 in the Quran reader

جب منافق اور وہ جن کے دلوں میں مرض ہے ، کہتے تھے کہ مسلمان اپنے دین پر مغرور ہیں ، اور جس نے اللہ پر بھروسا رکھا ، تو اللہ زبردست حکمت والا ہے (ف 2) ۔

(ف 2) یعنی یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ منافقین نے کیونکر بزدلی کا ثبوت دیا ، انہیں تعجب تھا کہ مٹھی بھر مسلمان کس طرح غالب آجائیں گے وہ کہتے کہ یہ مذہب کی محبت میں اندھے ہو رہے ہیں ، مگر ان کو معلوم نہیں تھا کہ کامیابی کا تعلق ایمان و توکل سے ہے ، اللہ اپنے دوستوں کو ذلیل نہیں کرتا ۔ حل لغات : ترآء ت : نظر پڑے ، دکھائی دینے ، نکص لوٹ گیا ، پھر گیا ، غر : غرور سے ہے یعنی دھوکا دیا ۔
Ayahs 8:50–51

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُوا١ۙ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ١ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 8:50 in the Quran reader

اور کاش تو دیکھئے جب فرشتے کافروں کی جان نکالتے ہیں ، تو ان کی کمروں میں اور مونہوں پر (آگ کے ہتھوڑے) مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جلنے کا عذاب چکھو (ف 1) ۔

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۙ Open ayah 8:51 in the Quran reader

یہ تمہارے کاموں کا بدلہ ہے ، اور اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم نہیں کرتا ۔

(ف 1) یعنی اگر ان منافقین کو یہ معلوم ہوجائے کو موت کے بعد ان کا کیا حشر ہونے والا ہے ، تو کبھی غداری کا ارتکاب نہ کریں اور آپ دیکھیں تو حیرت زدہ ہوجاویں ۔
Ayah 8:52

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:52 in the Quran reader

قوم فرعون (ف 2) ۔ اور ان کے اگلوں کی عادت کی مانند جنہوں نے اللہ کی آیات جھٹلائیں ‘ پھر اللہ نے ان کے گناہوں میں انہیں پکڑا ، اللہ زور آور سخت عذاب دینے والا ہے ۔

(ف 2) کدابھم : خبر ہے ، اور مبتداء محذوف ہے یعنی ان کی حالت بالکل آل فرعون کی سی ہے ، کیا ایمان ویقین کی آیات کو ٹھکراتے ہیں ۔
Ayahs 8:53–54

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:53 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ اللہ کسی قوم کو کوئی نعمت دے کر بدلا نہیں کرتا ، جب تک وہ خود اپنے دلوں کی بات نہ بدلیں ، اور اللہ تعالیٰ سنتا جانتا ہے (ف 3) ۔

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 8:54 in the Quran reader

فرعون اور اس کے پہلوں کی عادت کی مانند ، جنہوں نے اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا ، پھر ہم نے ان کے گناہوں میں انہیں ہلاک کیا ، اور قوم فرعون کو ڈبو دیا ، اور وہ سب ظالم تھے ۔

اللہ کا قانون : (ف 3) قوموں کے متعلق اللہ کا قانون یہ ہے کہ جب تک ان میں کوئی تبدیلی نہ پیدا ہو ، وہ خود ان میں تبدیلی پیدا نہیں کرتا ، یعنی ہر قوم جو باعروج ہے اور اس کے عروج کے اسباب وعلل ہیں ، جب تک وہ خود ذلت ومسکنت کے اسباب نہ پیدا کرے ، اللہ تعالیٰ اس کی نعمتوں کو ذلت سے نہیں بدلتا ۔ حل لغات : کداب : داب ، حالت شان ، کیفیت ۔
Ayahs 8:55–56

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ Open ayah 8:55 in the Quran reader

خدا کے نزدیک سب جانداروں میں بدتر کافر ہیں ، جو ایمان نہیں لاتے (ف 1) ۔

اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 8:56 in the Quran reader

جن سے تونے عہد کیا تھا ، پھر وہ ہر بار اپنا عہد توڑتے رہتے ہیں اور نہیں ڈرتے ۔

بدترین خلائق : (ف 1) یعنی جن کی آنکھیں انوار نبوت کو شب وروز دیکھیں اور نہ مانیں ، جو تیس سال تک آفتاب نبوت کو چمکتا ہوا دیکھیں ، اور ایمان کی حرارت و تمازت سے متاثر نہ ہوں ، ان کے متعلق اس کے سوا اور کیا کہا جائے ، کہ بدترین لوگ ہیں ۔
Ayahs 8:57–59

فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 8:57 in the Quran reader

سو اگر تو کبھی ان کو لڑائی میں پائے ، تو ایسی سزا دے کہ ان کے پچھلے دیکھ کر بھاگیں ‘ شاید وہ عبرت پکڑیں (ف 2) ۔

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠ Open ayah 8:58 in the Quran reader

اور جو تو کسی قوم (کی عہد شکنی) کے دغا سے ڈرے ، تو ان کا عہد ان کی طرف ایسی طرح پر پھینک دے کہ تم اور وہ برابر ہوجاؤ خدا دغا بازوں کو پسند نہیں کرتا ۔

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا١ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ Open ayah 8:59 in the Quran reader

اور کافر یہ نہ سمجھیں کہ وہ بھاگ نکلے ہیں ، وہ (ہمیں) تھکا نہ سکیں گے ۔

(ف 2) یہود سے بنی قریظہ نے غداری کی اور مسلمانوں کے خلاف مشرکین مکہ کو مدد دی ، حضور ﷺ نے باز پرس کی تو کہہ دیا ہم بھول گئے تھے آئندہ محتاط رہیں گے ، غزوہ خندق میں پھر ان لوگوں کے ساتھ مل گئے ، اس لئے حضور ﷺ کو حکم ہوا کہ بار بار کی کی معاہدہ شکنی ناقابل برداشت ہے ، ان لوگوں کے معاہدہ کو توڑ دو ، اور عبرتناک سزائیں دو ، تاکہ دوسروں کو نصیحت ہو ، اور آئے دن کی شرارتوں سے امن ملے ۔ حل لغات : فشردبھم : تتر بتر کہ ہوئے ، فشرید کے معنی بری طرح منتشر کردینے کے ہیں ۔
Ayah 8:60

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 8:60 in the Quran reader

اور مسلمانوں جنگ کفار کے لئے جس قدر تم سے ہو سکے ، قوت اور گھوڑے باندھنے کی تیاری کرو ، تاکہ ایسا کرنے سے تم اپنے اور خدا کے دشمنوں کو ڈراؤ ، اور ان کے سوا اور لوگوں کو بھی ڈارؤجنہیں تم نہیں جانتے ، انہیں اللہ ہی جانتا ہے ، اور جو کچھ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے ، تمہیں پورا ملے گا ، اور تم پر ظلم نہ ہوگا (ف 1) ۔

(ف 1) قوت کا مفہوم بہت وسیع ہے ، غرض یہ ہے کہ مسلمان تو دشمنوں کے مقابلہ میں ہر وقت صاحب قوت رہنا چاہئے ، توپ وتفنگ کے مقابلہ میں توپ وتفنگ ، اور علم وسنان کے مقابلہ میں علم وسنان ، جس طرح کے حالات ہوں جو ذرائع ہوں ، قوت و غلبہ کے حصول کے لئے وہ سب مسلمان کو معلوم ہونا چاہئیں ۔ ہر زمانے اور ہر دور میں مسلمان کے پاس قوت کا ایک خزانہ ہو ، جس سے وہ دشمنوں کو ڈرا دھمکا سکے ، مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ دشمنوں کے مقابلہ میں خوفناک و خطرناک رہے ، اگر حصول علم قوت کے مفہوم میں داخل ہو تو سب سے زیادہ عالم ہو ، اگر ثروت و دولت کے اسلحہ کی حاجت ہو ، تو سرمایہ دار بنے ، اگر سائنس اور علوم جدیدہ قوت کے مفہوم میں داخل ہوا اور اگر مادی قوتیں زیادہ لائق امتناء ہوں تو ان کا خیال رکھے ، غرض یہ ہے ، کہ بہر حال دوسروں کے مقابلہ میں عاجز نہ ہو ،
Ayahs 8:61–62

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 8:61 in the Quran reader

اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو تو بھی اس کی طرف جھک اور خدا پر بھروسا رکھا وہ سنتا جانتا ہے (ف 1) ۔

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 8:62 in the Quran reader

اور اگر وہ تجھے فریب دینا چاہیں ، تو تجھے اللہ کافی ہے ، اسی نے تجھے اپنی مدد اور مسلمانوں سے (بدر میں) قوت دی ۔

مذہب امن : (ف 1) غرض یہ ہے کہ اسلام صلح وآشتی کا مذہب ہے وہ از خود نہیں چاہتا ، کہ جنگ کی آگ بھڑکائی جائے البتہ جب مخالفین مجبور کردیں ، تو وہ بہادری کے ساتھ مقابلہ کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ (آیت) ” و توکل علی اللہ “۔ سے مقصود یہ ہے کہ صلح کا میلان زیادہ رہے ، اور خدا پر بھروسہ کرکے ایک دفعہ مخالفین کو موقع دیا جائے کہ وہ بااعتماد ثابت ہوں اور جنگ رک جائے ،
Ayahs 8:63–64

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

اور ان کے دلوں میں الفت ڈالی ، اگر تو ساری زمین کا تمام مال بھی خرچ کرتا ان کے دلوں میں الفت نہ ڈال سکتا ، لیکن اللہ نے ان کے درمیان الفت ڈالدی ، وہ غالب حکمت والا ہے (ف 2) ۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

اے نبی ! تجھے اللہ کافی ہے اور جو کوئی مومنین میں سے تیرے تابع ہے سب کو بس ہے ۔

(ف 2) یعنی مسلمانوں کے دلوں میں جو مضبوط وحدت واخوت کے جذبات ہیں ، اور دل ایک دوسرے سے وابستہ ہیں تو یہ محض اللہ کی مہربانی ہے کوئی دنیوی لالچ ان کو اس طرح ایک مرکز پر جمع نہیں کرسکتا ۔ اسلام سے پہلے عرب ہمیشہ باہم دست و گریبان رہتے ، ہر قبیلہ دوسرے قبیلے کا دشمن ہوتا اور چھوٹی چھوٹی باتیں فتنہ و فساد کی آگ کو بھڑکا دیتیں ، بچے جب پیدا ہوتے ، تو انتقام کی فضا میں بڑھتے ، اور پروان چڑھتے ، اس لئے وہ مخالفت وعداوت کے طوفان میں مبتلا رہتے ، اور بالطبع مسلسل لڑائیوں میں گرفتار ، اسلام آیا تو دلوں کے کینے دور ہوگئے سب مسلمان بھائی بھائی قرار پائے سب کا مفاد یکسان عزیز اور محبوب باہمی تفریق مٹ گئی ، اور مسلمان اللہ کے نام پر جمع ہوگئے ، اس آیت میں اسی نعمت کی طرف اشارہ ہے ۔ حل لغات : حرض : امر ہے ، تحریض کے معنی برانگیختہ کرنے کے ہیں ۔
Ayahs 8:65–66

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 8:65 in the Quran reader

اے نبی ! مسلمانوں کو لڑائی پر ابھار ، اگر تم میں سے بیس آدمی ثابت قدم ہوں ، دو سو پر غالب آسکتے ہیں اور جو تم میں سو ہوں ، تو ہزار کافروں پر غالب ہوں گے ، کیونکہ کافروں کو سمجھ نہیں ہے (ف 1) ۔

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 8:66 in the Quran reader

اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کیا اور معلوم کرلیا کہ تم میں سستی ہے ، پس اگر تم میں سو صابر ہوں ، دو سو پر غالب ہوں گے ، اور اگر تم میں ہزار ہوں ، دو ہزار پر غالب ہوں گے ، اللہ کے حکم سے اور اللہ ثابت قدموں کے ساتھ ہے ۔

(ف 1) (آیت) ” یفقھون “ سے غرض یہ ہے کہ کفار شہادت کی قدروقیمت سے آگاہ نہیں ، وہ موت سے ڈرتے ہیں اور مسلمان پوری جانبازی سے لڑتا ہے ، وہ جانتا ہے کہ جیئے تو غازی اور مرے تو شہید یعنی مسلمان کے لئے کامیابی کے زیادہ امکانات موجود ہیں اس لئے اسے چاہئے کہ کفار کی کثرت سے ہراساں نہ ہو ، کامیابی اسی کی ہے ۔
Ayahs 8:67–68

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:67 in the Quran reader

نبی کو لائق نہیں ، کہ اس کے پاس قیدی آویں ، جب تک کہ زمین پر (جہاد میں) اچھی طرح خونریزی نہ کرے (ف 2) ۔ تم دنیا کا مال چاہتے ہو ، اور اللہ آخرت چاہتا ہے ، اور اللہ زبردست حکمت والا ہے ۔

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 8:68 in the Quran reader

اگر پہلے سے خدا کا نوشتہ نہ ہوتا ، تو تمہارے اس (فدیہ) لینے میں تم کو بڑا عذاب ہوتا ۔

بدر کے قیدی : (ف 2) جب بدر میں ستر آدمی قید ہو کر آئے جو نہایت مفسد اور شریر تھے تو حضور ﷺ نے صحابہ کرام ؓ اجمعین سے پوچھا کہ انہیں کیا کیا جائے ، حضرت ابوبکر ؓ نے مشورہ دیا کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اور جان بخشی کی جائے ، شاید انہیں رجوع کی توفیق مرحمت ہو ۔ حضرت عمر ؓ کی رائے تھی انہیں جان سے مار دیا جائے کیونکہ مفسد ہیں ۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر ؓ کی رائے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور مسیح (علیہ السلام) کی طرح ہے ، دونوں نے مغفرت کی طلب کی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” فمن تبعنی فانہ منی ومن عصانی فانک غفور رحیم “۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کے دن یوں فرمائیں گے ، (آیت) ” ان تعذبھم فانھم عبادک وان تغفرلھم فانک انت العزیز الحکیم “۔ اور عمر ؓ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کا سا مطالبہ کیا ہے (آیت) ” رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا “۔ اور بالآخر حضور ﷺ کا جذبہ رحم حضرت ابوبکر ؓ اور دیگر صحابہ کرام ؓ اجمعین کے ساتھ متحد ہوگیا ، جو فدیہ کی رائے دیتے تھے ، قرآن کی نظر میں چونکہ یہ لوگ خطرناک مجرم تھے اور ان کا چھوڑ دینا امن عامہ کے لئے سخت مضر تھا ، اس لء ے یہ آیات نازل ہوئیں کہ فدیہ لے کر چھوڑ دینے میں غلطی ہوئی ، انہیں جان سے مار دینا چاہئے تھا ، (آیت) ” یریدون “ سے مراد عوام ہیں جو کہ اخلاص کی وجہ سے نہیں بلکہ مال ومتاع کی وجہ سے فدیہ لینے کی رائے دیتے تھے ۔
Ayahs 8:69–71

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 8:69 in the Quran reader

پس جو غنیمت تم لائے ہو ، حلال پاک ہے تم کھاؤ اور اللہ سے ڈرو ، اللہ بخشنے والا مہربان ہے (ف 1) ۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 8:70 in the Quran reader

اے نبی ! ان کو جو قیدیوں میں سے تمہارے ہاتھ میں ہیں ، یوں کہہ کہ اگر اللہ تمہارے دلوں میں کچھ نیکی معلوم کرے گا ، تو جو مال تم سے چھینا گیا ہے اسے بہتر تمہیں دے گا اور تمہیں بخشے گا ، اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:71 in the Quran reader

اور اگر وہ تیرے ساتھ دغا کرنے کا ارادہ کریں گے تو وہ پہلے اللہ سے دغا کرچکے ہیں سو اس نے تجھے ان پر قابو دیا ، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے ۔

(ف 1) یہودیوں میں غنیمت کا استفادہ ناجائز تھا انہیں حکم تھا کہ جو کچھ میدان جنگ میں ہاتھ آئے آگ کی نذر کر دو ، کیونکہ وہ بہت درجہ حریص ہوگئے تھے ، ضرورت اس بات کی تھی ، کہ ان میں زیادہ سے زیادہ اخلاص پیدا کیا جائے ، مسلمانوں کو اس آیت میں بتایا کہ تمہیں مال غنیمت کا استعمال درست ہے ، حل لغات : اسری : جمع اسیر ، بمعنے قیدی ۔ حتی یثخن : مصدر اثخان ہے اچھی طرح خون بہانا ، ثخن بمعنی حجم سطری ۔
Ayah 8:72

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:72 in the Quran reader

جو ایمان لائے اور ہجرت کی ، اور اللہ کی راہ مین اپنی جان ومال سے جہاد کیا ، اور جنہوں نے (مدینہ میں) جگہ دی ، اور مدد کی ، وہ سب ایک دوسرے (ف 1) ۔ کے رفیق ہیں ، اور جو ایمان لائے اور ہجرت نہ کی ، تم کو ان کی رفاقت سے کیا کام ہے ، جب تک وہ ہجرت نہ کریں ، اور اگر وہ دین کے کام میں تم سے مدد چاہیں ، تو تمہیں مدد دینا چاہئے ، مگر اس قوم پر نہیں ، جن سے تم ہم عہد ہو اور اللہ تمہارے کام دیکھتا ہے ۔

حفظ عہد (ف 1) مقصد یہ ہے کہ انصار اور مہاجرین باہم بھائی بھائی ہیں ، ان میں باہمی اعانت کا ہر طریق جاری رہنا چاہئے ، مگر وہ لوگ جو مومن تو ہیں ، اور ہجرت سے محروم رہے ، انہیں مہاجرین وانصار کی حمایت وولایت کا قطعی استحقاق نہیں ، جب تک کہ وہ اللہ کے لئے ہجرت اختیار نہ کریں ، البتہ دینی امانتیں بہرحال قائم رہیں گی ، مخالفین اگر ان مسلمانوں کو کمزور سمجھ کر ستائیں یا تکلیف دیں ، تو اس صورت میں ہر مسلمان اخلاقی ودینی طریقی سے اپنے بھائیوں کی اعانت کرے گا ، ہاں اگر مسلمان ان لوگوں سے تعرض کریں ، جن سے مہاجرین وانصار عہد ومیثاق کرچکے ہیں تو اس وقت حفظ عہد کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمانوں کی مدد نہ کی جائے کیونکہ پاس میثاق بہرحال ضروری ہے اور جن سے عہد کیا گیا ہے ، نبھایا جائے ۔
Ayahs 8:73–74

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ Open ayah 8:73 in the Quran reader

اور کافر بھی آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اگر تم (بھی آپس میں) یوں (رفاقت) نہ کرو گے تو ملک میں فتنہ اور بڑا فساد پھیل جائے گا (ف 1) ۔

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 8:74 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے ، اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا ، اور جنہوں نے جگہ دی ، اور مدد کی وہی سچے مسلمان ہیں ، ان کے لئے مغفرت اور عزت کی روزی ہے ۔

(ف 1) یعنی بفہوائے الکفر مسلئۃ واحدۃ ۔ تمام کافر کفر کی تائید پر کمربستہ ہیں اور آپس میں اتحاد واخوت کے تعلقات قائم رکھتے ہیں جہاں کہیں اور جب کہیں اسلام سے تصادم ہوتا ہے ، یہ سب اکھٹے ہوجاتے ہیں اور اپنے اختلافات کو بھول جاتے ہیں ، اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ بھی متحد الکلہ رہیں اور پوری طرح ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ رہیں ورنہ کفر مسلمانوں کے خلاف ایک طوفان پیدا کر دے گا ، کیونکہ کفر واسلام میں ایک دائمی جنگ اور ایک مستقبل آویزش ہے ۔
Ayah 8:75

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 8:75 in the Quran reader

اور جو پیچھے ایمان لائے ، اور ہجرت کی ، اور تمہارے ساتھ جہاد کیا سو وہ تم میں ہیں اور خدا کی کتاب میں رشتہ دار آپس میں ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں ، اللہ سب کچھ جانتا ہے (ف 1) ۔

(ف 1) (آیت) ” واولوالارحام بعضھم اولی ببعض “۔ سے مقصود یہ ہے کہ ہجرت اور اسلام کے تعلقات میں باہمی تناصر و تعاون ضروری ہے ، مگر میراث قرابت والوں کا حصہ ہے ، اس میں مہاجرین شریک نہیں ہو سکتے ۔ بات یہ تھی کہ انصار نے مہاجرین کو جب بھائی کہا تو اپنے مال سے ان کا حصہ بھی مقرر کیا اس سے قرابت والوں کی حق تلفی ہوئی اس لئے یہ آیت نازل ہوئی ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں میں محض اسلام کی وجہ سے کس درجہ خلوص تھا کوئی قوم اور کوئی مذہب اس طرح کی عظیم الشان اخوت و برادری کی مثال نہیں پیش کرسکتا ۔ ان لوگوں کا مطمح نظر محض اللہ کے لئے جینا اور اللہ کے لئے مرنا تھا ، اس لئے وہ مال و دولت کو ایک بھائی کی محبت کے مقابلہ میں نہایت حقیر فی خیال کرتے تھے ۔