56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsسراج البیان

Ayahs 56:60–74

نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَكُمُ الْمَوْتَ وَ مَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَۙ Open ayah 56:60 in the Quran reader

ہم نے تم میں موت کا مقدر (ف 1) (مقرر) کیا اور ہم اس بات سے عاجز نہیں

عَلٰۤى اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَكُمْ وَ نُنْشِئَكُمْ فِیْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 56:61 in the Quran reader

کہ تمہاری مانند اور قوم بدل لائیں اور اور تمہیں اس جہان میں اٹھاکریں جسے تم نہیں جانتے

وَ لَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَةَ الْاُوْلٰى فَلَوْ لَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 56:62 in the Quran reader

اور تم پہلی پیدائش جان چکے ہو ۔ پھر کیوں نصیحت پذیر نہیں ہوئے

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَؕ Open ayah 56:63 in the Quran reader

بھلا دیکھو جو تم بوتے ہو

ءَاَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ Open ayah 56:64 in the Quran reader

اسے تم اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں ؟

لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنٰهُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُوْنَ Open ayah 56:65 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کردیں پھر تم باتیں بناتے رہ جاؤ

اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَۙ Open ayah 56:66 in the Quran reader

کہ ہم تو قرضدار رہ گئے

بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ Open ayah 56:67 in the Quran reader

بلکہ ہم بےنصیب ہوگئے

اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَؕ Open ayah 56:68 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو پانی جو تم پیتے ہو

ءَاَنْتُمْ اَنْزَلْتُمُوْهُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ Open ayah 56:69 in the Quran reader

کیا تم نے اسے بادل سے اتارا ہے ۔ یا ہم اتارنے والے ہیں ؟

لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنٰهُ اُجَاجًا فَلَوْ لَا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 56:70 in the Quran reader

اگر ہم چاہیں تو اسے کھارا کردیں ۔ پھر تم کیوں شکر نہیں کرتے

اَفَرَءَیْتُمُ النَّارَ الَّتِیْ تُوْرُوْنَؕ Open ayah 56:71 in the Quran reader

بھلا دیکھو تو آگ جو سلگاتے ہو

ءَاَنْتُمْ اَنْشَاْتُمْ شَجَرَتَهَاۤ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُوْنَ Open ayah 56:72 in the Quran reader

کیا اس کا درخت تم نے پیدا کیا یا ہم پیدا کرنے والے ہیں

نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً وَّ مَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَۚ Open ayah 56:73 in the Quran reader

ہمنے وہ وہ درخت نصیحت (بنایا ہے) اور مسافروں کے فائدہ کیسے کیا

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 56:74 in the Quran reader

سو تو اپنے رب کے نام کی جو بڑی عظمت والا ہے پاکی بیان کر

ف 1: نحن قد رنابینکم الموت سے غرض یہ ہے کہ موت کو بتقاضائے مصلحت و حکمت کے پیدا کیا گیا ہے ۔ یہ صرف عدم استعداد حیات کا نام نہیں ہے ۔ اور یہ محض بحث واتفاق ہے ۔ اور نہ یہ درست ہے ۔ کہ یہ اس کی ربوبیت کا نقص ہے ۔ بلکہ اس کی تخلیق کائنات کے لئے ضروری ہے ۔ اس کو پیدا کرنے سے مقصود یہ ہے ۔ کہ خدا کسی بات سے عاجز نہیں ہے ۔ وہ چاہے تو بڑے بڑے متکبروں کو آن واحد میں موت کی آغوش میں سلادے پھر جس خدا نے زندگی کی پر لطف گھڑیوں کو سکرات موت میں تبدیل کردیا ہے ۔ وہ اس موت کو دوبارہ زندگی کے ساتھ بدل سکتا ہے
Ayahs 56:75–78

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِۙ Open ayah 56:75 in the Quran reader

پھر میں تاروں (ف 1) کے گرنے کی قسم کھاتا ہوں

وَ اِنَّهٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌۙ Open ayah 56:76 in the Quran reader

اور اگر تم جانو تو یہ بڑی قسم ہے

اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌۙ Open ayah 56:77 in the Quran reader

بیشک یہ قرآن ہے عزت والا

فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍۙ Open ayah 56:78 in the Quran reader

چھپی ہوئی کتاب میں لکھا ہوا ہے

سطحی واقعات اور پر اثر نتیجہ 2: قرآن حکیم میں یہ خوبی ہے ۔ کہ اس میں ہر نوع کے لوگوں کے لئے دلائل ہیں ۔ اور ہر مذاق کے افراد کے لئے سامان تسکین ہے ۔ یہ عقلاء اور دانشوروں کو بھی مخاطب کرتا ہے ۔ اور عوام کو بھی ۔ اس میں عمیق اور لائق فکروغور باتیں بھی ہیں ۔ اور سطحی واقعات سے استدلال بھی ۔ غرض یہ ہے کہ ان کا کوئی طبقہ ہدایت سے محروم نہ رہے ۔ اور یہ کوئی نہ سمجھے ۔ کہ یہ کتاب ہمارے لئے نہیں ہے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے ضمن میں ان لوگوں کے لئے جو زیادہ دانائی سے بہرہ ور نہیں ہیں ۔ اور جن کی نظر صرف معمولی واقعات و حقائق تک محدود رہتی ہے ۔ چند فطرت کے مظاہر بیان کئے ہیں ۔ جو اس کی مہربانی اور شفقت پر دلالت کناں ہیں ۔ اور جن سے معلوم ہوتا ہے ۔ کہ اس کائنات کے پس پردہ کوئی نہایت رحیم اور شفیق ذات کارفرما ہے ۔ فرمایا : یہ بتلاؤ کہ تم جو زمین میں بوتے ہو ۔ اس کو ہم اگاتے ہیں یا تم اگاتے ہو ۔ ہم اگر پیداوار کو چورا چورا کردیں ۔ تو تم تعجب اور حیرت کا اظہار نہیں کرتے اور یہ نہیں کہتے ۔ کہ ہم پر تاوان پڑگیا ۔ اور ہم یک قلم محروم رہ گئے ۔ اور یہ پانی جو تم پیتے ہو ۔ اس کو ہم نازل کرتے ہیں ۔ یا تم نازل کرتے ہو ۔ اگر ہم اس کو کھاری یا کڑوا کردیں ۔ تو تم کو کس درجہ تکلیف ہو ۔ تم کیوں خدائے رحمان کا شکر ادا نہیں کرتے ۔ آگ کے فوائد ملاحظہ کرو ۔ تم اس کو سلگاتے ہو ۔ اور بوقلمون کھانے اس سے تیار کرتیہو ۔ کیا اس کے لئے ایندھن کو تم نے پیدا کیا ہے ۔ یا ہم نے ؟ یاد رکھو ہم نے جنگلوں میں اس کے لئے تعرایاں پیدا کی ہیں ۔ تاکہ تم ہماری نعمتوں کے سلسلہ میں شکر گزاری کرو ۔ اور مسافرت کے عالم میں اس سے استفادہ کرو ۔ کیا ان حالات میں یہ زیبا ہے ۔ کہ ایسے خدا کو چھوڑ کر جو تمہاری روز مرہ کی ضروریات کو پورا کرتا ہے ۔ تم ایسے معبودوں کی پرستش کرو ۔ جن کا تمہاری عملی زندگی میں کوئی ساجھا نہیں ۔ یہ کتنے سادہ واقعات ہیں ۔ اور کتنا پر اثر نتیجہ ۔ حل لغات :۔ حظاما ۔ چورہ چورہ ۔ اور کہا ہے ، کہ یہ بہت بڑی گواہی ہے ۔ یعنی تم لوگ اگر اس حقیقت پر غور کرو ۔ کہ کیونکر قرآن نے آہستہ آہستہ دلوں میں اپنی جگہ بنالی ہے ۔ اور کیونکر اس کو قبول عام کی نعمت میسر ہوتی ہے ۔ حالانکہ اس کی شدید مخالفت کی گئی ۔ اور سخت ترین عداوت اور بغض کا اظہار کیا گیا ۔ تو تمہیں معلوم ہوجائے کہ محض اس لئے کہ یہ قرآن وصف کرم سے متصف ہے ۔ بنی نوع انسان کے لئے مفید ہے اور باعث برکت وسعادت ہے ۔ حل لغات :۔ لغرمون ۔ غرما سے ہے ۔ بمعنی تاوان تورون ۔ اطری سے ہے ۔ جس کے معنے آگ پیدا کرنے کے ہیں ۔
Ayahs 56:79–86

لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَؕ Open ayah 56:79 in the Quran reader

اسے وہی چھوٹے ہیں جو پاک ہیں

تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 56:80 in the Quran reader

جہاں کے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے

اَفَبِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَۙ Open ayah 56:81 in the Quran reader

اب کیا تم اس بات میں سستی کرتے ہو

وَ تَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 56:82 in the Quran reader

اور تم اپنا حصہ ٹھہراتے ہو کہ اسے جھٹلاتے ہو

فَلَوْ لَاۤ اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَۙ Open ayah 56:83 in the Quran reader

پھر کیوں نہیں جب جان گلے میں پہنچتی ہے

وَ اَنْتُمْ حِیْنَئِذٍ تَنْظُرُوْنَۙ Open ayah 56:84 in the Quran reader

اور تم اس وقت دیکھتے ہو

وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 56:85 in the Quran reader

اور ہم اس کی طرف تم سے زیادہ نزدیک ہوتے ہیں لیکن تم دیکھتے نہیں

فَلَوْ لَاۤ اِنْ كُنْتُمْ غَیْرَ مَدِیْنِیْنَۙ Open ayah 56:86 in the Quran reader

پھر اگر تم کسی کے حکم میں نہیں ہو تو کیوں نہیں

لایمسہ الا المظھرون ۔ سے غرض یہ ہے ۔ کہ جس طرح لوح محفوظ میں فرشتے اس کی حفاظت اور نگرانی پر مقرر ہیں ۔ اسی طرح اس دنیا میں اسی جماعت کے سینے اس کے علوم ومعارف کی روشنی سے منور ہوتے ہیں ۔ جو پاکباز ہوتے ہیں ۔ تاریک اور فسق وفجور سے معمور دلوں میں اس کی کرنیں نہیں پہنچتیں فرمایا : تمہاری یہ کتنی بدبختی اور محرومی ہے ۔ کہ تم اس پاک کلام کو تسلیم کرنے میں تامل کرتے ہو ۔ اور تم نے یہ ٹھان لی ہے ۔ کہ بہر حال اس کی مخالفت کروگے ۔
Ayahs 56:87–94

تَرْجِعُوْنَهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 56:87 in the Quran reader

اس (ف 1) روح کو پھیر لیتے ۔ اگر سچے ہو

فَاَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 56:88 in the Quran reader

پھر اگر وہ مقربوں میں سے ہے

فَرَوْحٌ وَّ رَیْحَانٌ١ۙ۬ وَّ جَنَّتُ نَعِیْمٍ Open ayah 56:89 in the Quran reader

توراحت اور روزی ہے اور نعمت کا باغ

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِۙ Open ayah 56:90 in the Quran reader

اور اگر وہ اپنے ہاتھ والوں میں سے ہے

فَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:91 in the Quran reader

تو داہنے ہاتھ والوں کی طرف سے خاطر جمع رکھ

وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِیْنَ الضَّآلِّیْنَۙ Open ayah 56:92 in the Quran reader

اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہے

فَنُزُلٌ مِّنْ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:93 in the Quran reader

تو کھولتے ہوئے پانی سے مہمانی ہے

وَّ تَصْلِیَةُ جَحِیْمٍ Open ayah 56:94 in the Quran reader

اور دوزخ میں داخل ہونا ہے

جب ظاہر کی آنکھیں بند ہونگی 1: یعنی گو یہ اس وقت حقائق کی بلاتکلیف جھٹلادیتے ہیں ۔ اور نہایت ڈھٹائی اور بےشرمی سے واقعات کو ٹھکرادیتے ہیں ۔ مگر جب یہ زندگی کے لمحات ختم ہونے کے ہوتے ہیں ۔ جب روح اس کسوت میں گھبراجاتی ہے ۔ اور تہمیۃ پرواز کرلیتی ہے ۔ جب حیات کی آرزوئیں منقطع ہوتی ہیں ۔ اور جب سکرات موت طاری ہوتا ہے ۔ اس وقت یہ محسوس کرتے ہیں ۔ کہ ہم اللہ کے نزدیک ہیں ۔ اور وہ سب باتیں درست ثابت ہیں ۔ جن کا اظہار غریب کی زبان سے ہوا کرتا تھا ۔ تو اس وقت یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے متعلق ایک مضبوط اور مستحکم عقیدہ رکھیں گے ۔ جس میں شک وشبہ کی گنجائش نہ ہوگی ۔ مگر یہ ایمان جو دیکھ کر اور محسوس کرکے پیدا ہو معتبر نہیں ۔ معتبر وہ ایمان ہے ۔ جو بن دیکھے ہو اور زندگی کے خوشگوار لمحوں میں ہو تاکہ اس کے بعد اعمال صالحہ کی تکمیل کا موقع مل سکے ۔ یہ عجیب بات ہے ۔ کہ جب ظاہر کی آنکھیں بند ہوتی ہیں تو عین اس وقت باطن کی آنکھیں کھل جاتی ہیں ۔ اور وہ حقائق جو زندگی بھر اوجھل رہے تھے ۔ اب ظاہر ہونے لگتے ہیں ۔ فرمایا ۔ کہ اگر تمہارے اعمال کی جانچ نہیں ہوگی ۔ اور حشر ونشر محض ڈھکوسلہ ہے ۔ تو پھر یہ کیوں نہیں ہوتا کہ تم میت کے چٹکل سے بچ جاؤ۔ اور جب روح پرواز کرنے لگے ۔ تو تم اس کو روکو ۔ اگر موت کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے ۔ تو پھر منطقی طور پر موت ہی کی ضرورت کیا ہے ۔ اور اگر یہ سانحہ تمہارے ارادوں اور حوصلوں کے ماتحت نہیں ہے ۔ اور نہ تمہاری منطق کے موافق ہے ۔ تم چاہو یا نہ چاہو ۔ اس کا نزول بہرآئینہ قطعی اور یقینی ہے ۔ کسی صورت میں بھی اس کے قابو سے مخلصی حاصل نہیں ہوسکتی ۔ تو پھر تمہیں اس تمہید کے بعد کتاب زندگی کے دوسرے اوراق الٹنے کے لئے تیار رہنا چاہیے ۔ حل لغات :۔ غیر مذنبین ۔ غیر محسوب مدبین کی جمع ہے ۔ اصل دین ہے ۔ جس کے معنے حساب اور پاداش دینے کے ہیں فروح ۔ مسرت ۔ آسائش ۔ تازگی ریخان ۔ روزی ۔ رزق ۔
Ayahs 56:95–96

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْیَقِیْنِۚ Open ayah 56:95 in the Quran reader

بیشک یہ بات جو ہے یہی لائق یقین (ف 1) کے ہے

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 56:96 in the Quran reader

سو تو اپنے رب کے نام کی جو سب سے بڑا ہے پاکی بیان کر

ف 1: ان آیات میں موت کے بعدزندگی کی تشریح فرمائی ہے ۔ کہ اگر مرنے والا اللہ کے مقربین میں سے ہے ۔ تو پھر اس کو بالکل بےخوف وخطر رہنا چاہیے ۔ اس کے لئے وہاں کامل مسرت اور بہترین زندگی ہے ۔ اور جنت ہے ۔ جو بجائے خود ضامن ہے ۔ ہر فلاح وسعادت اور آسودگی ونعمت کی ۔ اور اگر اس سے ذرا کم درجے میں ہے ۔ تو بھی چونکہ فرمانبرداروں اور اطاعت شعاروں میں ہے ۔ اس لئے بھی ہر خوف وہراس سے سل امتی ہے ۔ اور اگر ان لوگوں میں سے ہے ۔ جنہوں نے دنیا میں حق وصداقت کے پیغام کو ٹھکرایا ۔ اور اپنے لئے گمراہی اور ضلالت کی راہوں کو تجویز کیا ہے ۔ تو پھر خبر نہیں ہے ۔ ان لوگوں پر اللہ کا غضب ہوگا ۔ کھولتے ہوئے پانی اور جہنم سے ان کی تواضع کی جائے گی ۔ اس لئے ابھی سے ان واقعات پر کامل یقین ہونا چاہیے ۔ اور اپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح کرنی چاہیے ۔ ورنہ نتیجہ سامنے ہے ۔ حل لغات :۔ حق الیقین ۔ اعتقاد کا وہ مقام جہاں شکوک نہ پیدا ہوسکیں ۔