56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsسراج البیان

Ayahs 56:22–44

وَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ Open ayah 56:22 in the Quran reader

اور گورے رنگ کی بڑی (ف 1) بڑی آنکھوں والی عورتیں

كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ Open ayah 56:23 in the Quran reader

جیسے چھپے ہوئے موتی

جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 56:24 in the Quran reader

یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہے

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ Open ayah 56:25 in the Quran reader

وہاں بےہود گفتگو اور گناہ کی بات نہ سنیں گے

اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا Open ayah 56:26 in the Quran reader

مگر ایک بولتا سلام سلام

وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:27 in the Quran reader

اور داہنی طرف والے ۔ کیا ہیں داہنی طرف والے

فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ Open ayah 56:28 in the Quran reader

بیریوں میں رہیں گے ۔ جن میں کانٹے نہ ہوں گے

وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 56:29 in the Quran reader

اور تہ بر تہ کیلوں میں

وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ Open ayah 56:30 in the Quran reader

اور لمبے سایہ میں

وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ Open ayah 56:31 in the Quran reader

اور اوپر سے گرتے ہوئے پانی میں

وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ Open ayah 56:32 in the Quran reader

اور بہت میوں میں

لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ Open ayah 56:33 in the Quran reader

جو نہ کبھی نبردینگے اور نہ بندکئے جائیں گے

وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ Open ayah 56:34 in the Quran reader

اور اونچے بچھونوں میں

اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ Open ayah 56:35 in the Quran reader

عورتوں کو ہم نے ایک اٹھان پر اٹھایا ہے

فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ Open ayah 56:36 in the Quran reader

پھر ہم نے انہیں کنواریاں بنایا

عُرُبًا اَتْرَابًاۙ Open ayah 56:37 in the Quran reader

شوہروں کی پیاری ہم عمر بنایا

لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ٢ؕ۠ Open ayah 56:38 in the Quran reader

داہنی طرف والوں کے لئے

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:39 in the Quran reader

انبوہ ہے پہلوں میں سے

وَ ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:40 in the Quran reader

اور انبوہ ہے پچھلوں میں سے

وَ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الشِّمَالِؕ Open ayah 56:41 in the Quran reader

اور بائیں طرف والے کیا ہیں بائیں طرف والے ؟

فِیْ سَمُوْمٍ وَّ حَمِیْمٍۙ Open ayah 56:42 in the Quran reader

گرم ہوا اور کھولتے پانی میں

وَّ ظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍۙ Open ayah 56:43 in the Quran reader

اور (کالے سیاہ) دھوئیں کے سایہ میں

لَّا بَارِدٍ وَّ لَا كَرِیْمٍ Open ayah 56:44 in the Quran reader

جو نہ ٹھنڈا ہے اور نہ عزت والا

ف 1: اور گوری چٹی بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی ۔ محفوظ موتیوں کی مانند روشن اور تابیدہ ان کی رفاقت میں تم تسکین و طمانیت کی پوری لذتوں کو محسوس کروگے ۔ وہاں اس فضا ورنگ وبو میں کوئی بےہودہ بات نہیں ہوگی ۔ اور نہ گناہ کا ارتکاب کیا جائے گا ۔ نفوس انسانی اس وجہ ترقی کرجائیں گے اور درجہ مہذب وشائستہ ہوجائیں گے ۔ کہ باوجودان نعمتوں کی فراوانی کے باوجود شراب وکباب اور شغل ناؤنوش کے کوئی ایسی حرکت ان میخواروں سے سرزد نہ ہوگی ۔ جو آداب سے خانہ کے منافی ہو ۔ غرض یہ ہے ۔ کہ انہیں چیزوں کی وجہ سے تم لوگ اللہ کی نافرمانی کرتے ہو ۔ اور انہیں چیزوں کی ہوس تمہیں اس کی خوشنودی سے محروم رکھتی ہے ۔ اگر تم اس کی اطاعت کروگے ۔ اور اس کے حکموں پر چلو گے ۔ تو یہ سب چیزیں وہاں زیادہ مقدار میں زیادہ کیفیات کے ساتھ ملیں گی ۔ حوران جنت کے متعلق فرمایا ۔ کہ ہم نے انہیں خاص پاکبازوں کی تسکین خاطر کے لئے پیدا کیا ہے ۔ یہ معصوم حسن کی مالک ہوں گی ۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ ہم سن اور ہم ذوق ہونگی گویا اس دنیا میں بھی ازراہ کیا زندگی کا معیار یہ ہے ۔ کہ رفیقہ حیات پہلی دفعہ ان لذتوں سے آگاہ ہو ۔ اور سن وسال اور ذوق ودجدان کے لحاظ سے تغاوت نہ ہو ان آیات کے بعد اہل جہنم کے متعلق ارشاد فرمایا ہے ۔ کہ یہ دنیا میں صرف کام دوہن کی لذتوں میں کھوئے رہے ۔ انہوں نے زندگی کا نصب العین صرف یہ قرار دے گیا ۔ کہ ان عارضی مسرتوں کے دوڑ دھوپ اختیار کی جائے ۔ یہ عاقبت کو بھول گئے ۔ انہوں نے روح کی ضرورتوں کو فراموش کردیا ۔ نتیجہ یہ ہے ۔ کہ آج یہ سخت ترین عذاب میں مبتلا ہیں ۔ حل لغات :۔ سدر ۔ بیری سدرۃ ۔ وہ درخت جس کیکانٹے چھانٹ دیئے گئے ہوں طلح ۔ کیلا ۔
Ayah 56:45

اِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْرَفِیْنَۚۖ Open ayah 56:45 in the Quran reader

یہ لوگ اس سے پہلے آسودہ تھے

اہل جہنم کے اوصاف 1: جہنم والوں کے متعلق فرمایا ہے ۔ کہ ان لوگوں کے مال و دولت کے نشہ میں حق وصداقت کے پیغام کو ٹھکرایا ہے ۔ اور اس بناء پر کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تکلفات زندگی سے نوازا ہے ۔ یہ سمجھتے ہیں ۔ کہ ان کو جب دیکھتے ہیں ۔ تو ہدیف استہزاء بناتے ہیں ۔ اور کہتے ہیں ۔ کیا اللہ کو تم ایسے تفلاش ہی فضائل کے لئے منتخب کرتے تھے ۔ کیا تمہارے سوا اس کو اور لوگ نہیں ملتے تھے ۔ جن کو وہ ایمان کی سعادتوں سے بہرہ مند کرتا ۔ ان لوگوں کے نزدیک مالدار ہونے کے بعد یہ بھی ضروری ہے ۔ کہ عقل وروح کی تمام فضیلتیں بھی ان کو حاصل ہوں ۔ حالانکہ اکثر ایسا ہوتا ہے ۔ کہ اس نوح کے آسودہ لوگ یک قلم حق کی پذیرائی سے محروم رہتے ہیں ۔ اور ان میں غوروفکر کی بہت کم صلاحیت باقی رہتی ہے ۔ حل لغات :۔ ابکارا ۔ کنواریاں عربا ۔ محبوبہ اتوابا ۔ ہم سن ۔ ہم ذوق یحموم ۔ سیاہ دھواں ولاکریم ۔ اور نہ مفید اور نہ فرحت بخش ۔
Ayahs 56:46–59

وَ كَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 56:46 in the Quran reader

اور اس بڑے بےگناہ (ف 1) (شرک) پر اڑے رہتے تھے

وَ كَانُوْا یَقُوْلُوْنَ١ۙ۬ اَئِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَۙ Open ayah 56:47 in the Quran reader

اور کہتے تھے کہ جب ہم مرگئے اور مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گے ؟

اَوَ اٰبَآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 56:48 in the Quran reader

کیا ہمارے اگلے باپ دادے بھی اٹھائے جائیں گے

قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَ الْاٰخِرِیْنَۙ Open ayah 56:49 in the Quran reader

تو کہہ اگلے اور پچھلے سب

لَمَجْمُوْعُوْنَ١ۙ۬ اِلٰى مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ Open ayah 56:50 in the Quran reader

روز مقررہ وقت پر ضروراکھٹے کئے جائیں گے

ثُمَّ اِنَّكُمْ اَیُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَۙ Open ayah 56:51 in the Quran reader

پھر بیشک تم اسے جھٹلانے والے گمراہ ہو

لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍۙ Open ayah 56:52 in the Quran reader

سیھنڈ کے درخت سے کھاؤ گے

فَمَالِئُوْنَ مِنْهَا الْبُطُوْنَۚ Open ayah 56:53 in the Quran reader

پھر تم اس سے پیٹ بھروگے

فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْهِ مِنَ الْحَمِیْمِۚ Open ayah 56:54 in the Quran reader

پھر اس پر کھولتا پانی پیوگے

فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْهِیْمِؕ Open ayah 56:55 in the Quran reader

پھر ایسے پیوگے جیسے تون سے ہوئے اونٹ پانی پیتے ہیں

هٰذَا نُزُلُهُمْ یَوْمَ الدِّیْنِؕ Open ayah 56:56 in the Quran reader

انصاف کے دن یہ ان کی مہمانی ہے

نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ فَلَوْ لَا تُصَدِّقُوْنَ Open ayah 56:57 in the Quran reader

ہم نے تمہیں پیدا کیا ۔ پھر تم سچ کیوں نہیں مانتے ؟

اَفَرَءَیْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَؕ Open ayah 56:58 in the Quran reader

بھلا دیکھو ۔ تو تم جو منی ٹپکاتے ہو

ءَاَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهٗۤ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ Open ayah 56:59 in the Quran reader

تم اس کو پیدا کرتے ہو یا ہم اس کے پیدا کرنے والے ہیں ؟

ف 1: جہنمی لوگوں کے متعلق دوسرا الزام یہ ہے کہ یہ توحید کے نور سے معرا تھے ۔ ایک خدا کے سامنے نہیں جھکتے تھے ۔ بلکہ اپنے اس مسلک پر مصر تھے ۔ ان کو ہرچند دلائل سے قائل کیا جاتا ۔ کہ شرک وکفر کے لئے کوئی وجہ نواز نہیں ہے ۔ اور منطقی طور پر اس عقیدہ کے حق میں کوئی دلیل نہیں ہے ۔ لیکن یہ برابر اس تاریکی میں بڑھتے چلے جاتے ۔ اور مسلمانوں کو چڑانے کے لئے بتوں کی پوجا کرتے ۔ پھر ان کا یہ عقیدہ بھی تھا ۔ کہ جو کچھ ہے یہی زندگی ہے ۔ مرنے کے بعد حشر ونشر کا عقیدہ دور از عقل ہے ۔ یہ ناممکن ہے ۔ کہ جب ہم مٹی میں مل کر مٹی ہوجائیں ۔ اور صرف بوسیدہ ہڈیاں رہ جائیں تو اس وقت ہم کو اور ہمارے آباؤ اجداد کو قبروں میں سے اٹھا کھڑا کیا جائے ۔ فرمایا : اس میں قطعاً استحالہ کی کوئی بات نہیں ۔ تم سب پہلے اور پچھلے جمع کئے جاؤ گے ۔ اور ایک وقت مقررہ پر خدا کے حضور میں پیش کئے جاؤ گے ۔ سزا کے متعلق تصریح فرمائی ۔ کہ دنیا میں تو کام ودھن کی تواضع کے لئے انہوں نے سچائی کو چھوڑ دیا تھا ۔ اور یہاں ان کو جو کچھ ملے گا ۔ وہ قطعی ان کے ناگوار ہوگا ۔ یہاں یہ نہ قوم کھائیں گے ۔ اور اسی سے پیٹ بھریں گے ۔ پھر پیاسے اونٹوں کی طرح پانی کے ساتھ کھولتا ہوا پانی پئیں گے ۔ اس وقت کہا جائے گا ۔ کہ آج بھی تمہاری مہمانی ہے ۔ کھاؤ اور برداشت کرو ۔ حل لغات :۔ یصرون ۔ اصرار کیا کرتے تھے الحنت العظیم ۔ بڑا گنا زقوم ۔ ایک نہایت تلخ درخت کا نام ہے ۔ جس کیہندی میں تھوہڑ کہتے ہیں ۔ دوزخ میں ایک درخت ہے جو دوزخیوں کی خوراک ہوگا اتھنیم ۔ پیاسے اونٹ تزلھم ۔ مہمانی ۔ دعوت ۔ بطور طنز اور تحکم ہے ۔