42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsسراج البیان

Ayahs 42:37–43

وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ Open ayah 42:37 in the Quran reader

اور ان کے لئے جو کبیرہ گناہ اور بےحیائی کے کاموں سے بچتے ہیں ۔ اور جب انہیں غصہ آتا ہے تو وہ معاف کردیتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ Open ayah 42:38 in the Quran reader

اور ان کے لئے جنہوں نے اپنے رب کا فرمان مان لیا اور نماز پڑھی اور ان کا کام ان کے درمیان مشورے سے ہوتا ہے اور جو ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَهُمُ الْبَغْیُ هُمْ یَنْتَصِرُوْنَ Open ayah 42:39 in the Quran reader

اور ان کے لئے کہ جب ان پر زیادتی ہوتی ہے تو وہ بدلہ لیتے ہیں (یعنی کفار سے جہاد کرتے ہیں)

وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 42:40 in the Quran reader

اور بدی کا بدلہ اسی کی مانند بدی ہے ۔ پھر جس نے معاف کیا اور صلح کی تو اس کا اجر اللہ پر ہے ۔ بیشک وہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا

وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:41 in the Quran reader

اور جو کوئی ظلم سہنے کے بعد بدلہ لے گا تو ان پر کوئی راہ (ملامت) نہیں ہے

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:42 in the Quran reader

راہ ملامت صرف ان پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے اور زمین میں ناحق سرکشی کرتے ہیں ۔ انہیں کے لئے دکھ کا عذاب ہے

وَ لَمَنْ صَبَرَ وَ غَفَرَ اِنَّ ذٰلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ۠ Open ayah 42:43 in the Quran reader

اور البتہ جس نے صبر کیا ۔ اور بخش دیا ۔ بیشک یہ بات ہمت (ف 1) کے کاموں میں سے ہے

آیت 37 تا 43: حل لغات :۔ الفواحش ۔ جمع معشہ برائیاں استجابوا ۔ یعنی انہوں نے اللہ کی رضا کو بہرآئینہ مقدم جانا اور ہر حکم کو رضاکارانہ تسلیم کرلینے کا عہد ۔ حل لغات :۔ انتصر ۔ بدلہ اور انتقام لیا ۔ انتصار سے ہے ۔ اہل عقبے 1: ان آیتوں میں ان لوگوں کی صفات کا تذکرہ ہے ۔ جن کیلئے عاقبت کی زندگی ہے ۔ اور جو آخرت میں روحانی سعادتوں سے بہرہ مند ہونگے ۔ فرمایا : کہ یہ وہ لوگ ہیں ۔ جو اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ۔ اور مصائب وشدائد میں اس پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔ اور سراسر پاکباز ہیں ۔ وہ کوشش کرتے ہیں ۔ کہ ان کا دامن کبیرہ گناہوں سے آلودہ نہ ہو ۔ ان میں یہ صلاحیت اور قوت برداشت ہوتی ہے ۔ کہ جب جذبات میں اشتعال پیدا ہو ۔ غصہ اور غضب رونما ہو ۔ تو اس وقت وہ اپنے خطم اور مخالف کو معاف کردیں ۔ جو لوگ اللہ کے حکم کے تابع ہیں ۔ ہر ابتلاء کو جو اس کی طرف سے ہو ۔ خندہ پیشانی زبردشت کریں ۔ اور نماز کو اس کی تمام شروط ظاہری وباطنی کے ساتھ ادا کریں ۔ پابندی وقت کیساتھ پڑھیں ۔ معنے اور مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ اور مقام احسان کو حاصل کریں ۔ جہاں بندہ اپنے مولا کے قرب کو حاصل کرلیتا ہے ۔ اور اس طرح عبادت میں مصروف ہوتا ہے ۔ کہ گویا کہ اپنی بصیرت کی آنکھوں سے اس کو دیکھ رہا ہے ۔ جو زکوٰۃ دیں اور اپنے مال و دولت کو اس کی راہ میں خرچ کریں ۔ اور وہ لوگ جو شریر دشمن کے مقابلہ میں عاجز اور کمزور نہ ہوں ۔ جو بلا دلیلغ ان سے بزور بدلہ لے سکیں ۔ اور ان کو ان کے مفسدانہ طرز عمل سے بار رکھ سکیں ۔ کیونکہ برائی اور شرارت کی جزا بھی اسی قدر ہونی چاہیے ۔ ہاں جو شخص چاہے کہ باوجود قابو پانے کے اور غصہ وغضب کے اپنے مخالف کو معاف کردے ۔ تو یہ بھی ہوسکتا ہے اور یہ بہترین پوزیشن ہے ۔ اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے ۔ اور عزائم امور میں سے ہے ۔ جس کا مرتبہ عام لوگوں سے بلند اور برتر ہے ۔ یہ واضح رہے کہ اسلام نے جو دین فطرت ہے ایک طرف تو علو کی فضیلت کو بیان کیا ہے ۔ اور کہا ہے کہ یہ عادت عزیمت کی عادت ہے ۔ اور دوسری طرف سزا اور بدلہ کی بھی تعریف کی ہے اس کی وجہ ہے ۔ کہ اصل میں نہ عفو بہتر ہے ۔ اور نہ سزا وانتقام دیکھنا یہ ہے ۔ کہ مقام اور حالات کے مطابق ان دونوں حربوں میں سے کون حربہ عمل سے متاثر ہوتا ہے ۔ اور مقصد حاصل ہوجانا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ شریر کا غصہ نرمی سے اور بڑھ سکتا ہے ۔ اور وہ اس کو عاجزی اور ضعف پر محمول کرتا ہے ۔ لہٰذا اسلام کہتا ہے کہ تم ان دونوں چیزوں کو اپنے سامنے رکھو اور ہر موزوں کو سمجھو کہ وہ تمہیں کسی ایک چیز کے لئے مجبور نہیں کیا جاتا ۔
Ayahs 42:44–46

وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ Open ayah 42:44 in the Quran reader

اور جسے اللہ نے گمراہ کیا ۔ اس کے لئے اللہ کے بعد کوئی کارساز نہیں اور تو ظالموں کو دیکھے گا کہ جس وقت وہ عذاب دیکھیں گے کہینگے کہ بھلا پھرجانے کی بھی کوئی راہ ہے

وَ تَرٰىهُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْهَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ١ؕ وَ قَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ Open ayah 42:45 in the Quran reader

اور تو انہیں دیکھے گا کہ دوزخ پر ذات سے عاجزی کرتے ہوئے پیش ہونگے چھپی نگاہ سے دیکھتے ہوئے اور ایمان دار کہیں گے بیشک زیان کار وہ ہیں ۔ جنہوں نے قیامت کے دن آپ کو اور اپنے لوگوں کو نقصان میں ڈالا ۔ سنتا ہے ظالم ہمیشہ کے عذاب میں ہونگے

وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ اَوْلِیَآءَ یَنْصُرُوْنَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ سَبِیْلٍؕ Open ayah 42:46 in the Quran reader

اور اللہ کے سوا کوئی ان کے دوست نہ ہونگے ۔ کہ ان کی مدد کریں اور جسے اللہ نے گمراہ کیا ۔ اس کے لئے کوئی راہ نہیں

آیت 44 ۔ 46 حل لغات :۔ ظرف خفی ۔ دزویدہ نگاہ سے ۔ سست نگاہ سے مقیم ۔ دائمی ۔ اولیاء ۔ ولی کی جمع ہے ۔ بمعنے دوست اور مدد گار ۔ چارہ ساز مرد ۔ ہٹنا ۔ لوٹنا ۔ یعنی وہ لوگ جن سے بداعمالیوں کی وجہ سے اللہ توفیق ہدایت چھین لے ۔ وہ چارہ سازی سے محروم رہینگے ۔ گھاٹے میں کون ہے وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہیں کیا ۔ اور کفروشرک اختیار کرکے اپنے قلب ووجدان پر ظلم کیا ہے ۔ ان سے عالم عقبے میں بہت ہی ذلیل کن طرز عمل روارکھا جائیگا ان کی روح افتخار کو کچل ڈالا جائے گا ۔ اور اس تمام غروروکبر کو جس کی وجہ سے یہ قرآن حکیم تسلیم نہ کرسکے پاؤں تلے مسل دیا جائے گا ۔ محسوس کریں گے ۔ کہ ذلت و نکبت نے چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے ۔ دوزخ روبرو لائے جائیں گے ۔ اور اللہ تعالیٰ سخت غصے اور غضب کا اظہار کریں ۔ اس وقت ان کی نظریں اوپر کو نہ اٹھیں گی ۔ مسلمانوں کو یہ دیکھیں گے مگر وہ زویدہ نگاہوں سے ۔ وہ بھی تاڑ جائیں گے اور ان سے کہیں گے ۔ کہو آج کون خسارے میں ہے ۔ دنیا میں تو تم لوگ کہتے تھے ۔ کہ مذہب کو قبول کرکے اپنی آزادی کو کھودیتا ہے ۔ لذتوں اور مسرتوں سے محروم ہوتا اور گھاٹے کو قبول کرتا ہے ۔ آج بتاؤ کون ہر طرح کی نعمتوں سے بہرہ مند ہے ۔ کون باغوں اور نہروں میں رہتا ہے ۔ کس کے عفیف اور جمیل کاریں تابع ہیں ۔ کون رب رحیم کے الطاف کو ناگون سے مشرف ہے ۔ کس کے لئے جامہائے شراب مہیا ہیں ۔ کس کے لئے روح میں بالیدگی اور ارتقاء ہے ۔ کس کے لئے روحانی تروتازگی اور نزہت ہے ۔ اور کون ہے جو ہر قسم کی مسرتوں سے محروم ہے ۔ دکھ اور تکلیف میں ہے ۔ دوزخ کے عذابوں میں مبتلا ہے ۔ اللہ کی رحمتوں سے دور ہے ۔ یاد رکھو ، ظالم اور برے لوگ اللہ کے مقام رضا کو کبھی حاصل نہیں کرسکتے ۔ اور ان میں یہ اہلیت ہرگز پیدا نہیں ہوسکتی ۔ کہ یہ جنات نعیم کی اسائشوں کو آزما سکیں ۔ اصل اور حقیقی زندگی یہ ہے ۔ کہ اللہ کے ہاں مقبولیت ہو وہ انعامات کے لئے پسند کرلے ۔ اور وہ روضات خلد میں جگہ دے ۔ یہ زندگی نہیں ہے ۔ کہ دنیا میں متاع عارضی کی وجہ سے اتنے سرمست اور مدہوش ہوجاؤ۔ کہ اللہ سے بالکل غافل ہوجاؤ اور اس کے حکموں کو کوئی وقعت نہ دو ۔ سب سے بڑی کوفت ان کے لئے یہ ہوگی ۔ کہ جن لوگوں کو دنیا میں اپنا چارہ ساز سمجھتے تھے جن سے عقیدت تھی ۔ اور جن کو یہ اپنا نجات دہندہ قرار دیتے تھے ۔ یہ ان سے بالکل بیزاری کا اظہار کریں گے ۔ اور قطعاً ان کو سزا اور عذاب سے نہیں بچا سکیں گے ۔
Ayahs 42:47–48

اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ١ؕ مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّ مَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِیْرٍ Open ayah 42:47 in the Quran reader

اپنے رب کا حکم مان لو ۔ اس سے پہلے کہ اللہ کی طرف (ف 1) سے وہ دن آئے جس کا پھیرنے والا کوئی نیں اس دن تمہارے لئے نہ کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ تم انکار ہی کرسکو گے

فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ Open ayah 42:48 in the Quran reader

پھر اگر وہ منہ موڑیں تو ہم نے تجھے ان پر نگہبان نہیں بھیجا ۔ تیرے ذمہ صرف پہنچانا تھا اور جب ہم اپنی طرف سے آدمی کو رحمت چکھاتے ہیں تو وہ اس سے خوش ہوتا ہے اور جو ان کے کاموں کے بدلے میں ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو (ناامید ہوتے ہیں) سو آدمی بڑا ناشکرا ہے

آیت 47 ۔ 48 1: اس دن سے پہلے پہلے اللہ کی اطاعت کا عہد کرلو ۔ اور کاملاً اختیار اور فرمانبرداری اختیار کرو ۔ کیونکہ اس دن گنہگاروں کے لئے کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے ۔ اور نہ یہ ممکن ہے ۔ کہ کوئی شخص اس دن تمہارے بارے میں اللہ سے جھگڑا کرسکے اور بحث کرسکے ۔
Ayahs 42:49–50

لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَهَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ Open ayah 42:49 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اللہ ہی کی ہے جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ۔ جسے چاہے بیٹیاں بخشے اور جسے چاہے (ف 1) بیٹے دے

اَوْ یُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّ اِنَاثًا١ۚ وَ یَجْعَلُ مَنْ یَّشَآءُ عَقِیْمًا١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ Open ayah 42:50 in the Quran reader

یا انہیں جوڑے دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کرے بیشک وہ جاننے والا ہے قدرت والا ہے

آیت 49 ۔ 50: حل لغات :۔ کفور ۔ نہایت ناشکر گزار یھب ۔ بخشتا ہے عنیما ۔ بانجھ وراءی حجاب ۔ پس پردہ روحا ۔ یعنی کتاب حیات ۔ اولاد اللہ کی اختیار میں ہے ولی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کاملہ کے معنی یہ ہیں ۔ کہ انسان عملاً تمام اختیارات کو اسی جنب منسوب کرے ۔ اور ہر حالت میں خوش وخرم رہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ لڑکیاں دے ۔ جب بھی اعتراض نہ کرے ۔ اور اگر لڑکے ہی عطا کرے ۔ تو بھی کبروغرور کا اظہار نہ کرے ۔ اگر دونوں قسم کی اولاد یعنی لڑکے اور لڑکیاں ملیں ۔ تو بھی خوش رے ۔ اور اگر اولاد ہی سے محروم رکھا جائے ۔ تب بھی گلہ نہ کرے ۔ اور بہرحال اللہ ہی کی حکمتوں پر بھروسہ رکھے ۔ اور یہ سمجھے ۔ کہ وہ تیرے حالات اور میری ضروریات سے مجھ سے زیادہ آگاہ ہے ۔ اگر وہ مجھے اولاد سے بہرہ مند کرنا چاہے گا ۔ تو میں ضرور صاحب اولاد ہوجاؤں گے ۔ اسکوہر چیز پر قدرت حاصل ہے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا ۔ کہ اولاد کا ہونا محض اللہ کا فیضان ہے ۔ اس لئے اس خواہش کا اظہار کرنا ہو تو اسی سے کرنا چاہیے ۔
Ayah 42:51

وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِهٖ مَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیٌّ حَكِیْمٌ Open ayah 42:51 in the Quran reader

اور کسی آدمی کے لئے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے باتیں کرے مگر بذریعہ وحی کے یا پردہ کے پیچھے سے یا کوئی پیغام لانے والا (فرشتہ) بھیجے پھر وہ (فرشتہ) اس کو اللہ کے حکم سے جو چاہے پہنچا دے بیشک وہ بلند مرتبہ (ف 1) حکمت والا ہے

مکالمہ کی تین صورتیں 1: بندوں کو اللہ تعالیٰ جب شرف مکالمہ سے نوازتے ہیں ۔ تو اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں ۔ یا تو قلب میں القا ہوگا ۔ اور لوح دل پر منشاء الٰہی مرتسم ہوجائیگا ۔ یا پیغمبر اور الہام کے درمیان کوئی حجاب اور واسطہ ہوگا ۔ مگر وہ پیغام بہر آئینہ پیغمبر تک پہنچ جائے گا ۔ اور یا یہ صورت ہوگی کہ جبرائیل امین بنفس نفیس تشریف لائیں گے ۔ اور بالمشافہ مراد الٰہی سے آگاہ فرمادیں گے جہاں تک نفس الہام کا تعلق ہے ۔ یہ عقلاً ممکن ہے ۔ کیونکہ اپنے سینے کے خیالات کو دوسرے تک منتقل کردینا بالکل ممکن ہے ۔ مسمریزم میں یہ ہوتا ہے ۔ کہ عامل وسیط (میڈیم) میں اپنے خیالات کو بجنسہ پہنچا دیتا ہے ۔ اور یہ درمیانی آدمی بالکل عامل کے نقطہ نگاہ سے سوچتا اور دیکھتا ہے ۔ بلکہ اس کی تمام حرکات اس کے تابع ہوجاتی ہیں ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ جن بندوں کو نبوت کے لئے چن لیتے ہیں ۔ اور اپنے الہامات ، پیغامات اور تعلیمات کو ان تک پہنچا دیتے ہیں ۔
Ayahs 42:52–53

وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا١ؕ مَا كُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْكِتٰبُ وَ لَا الْاِیْمَانُ وَ لٰكِنْ جَعَلْنٰهُ نُوْرًا نَّهْدِیْ بِهٖ مَنْ نَّشَآءُ مِنْ عِبَادِنَا١ؕ وَ اِنَّكَ لَتَهْدِیْۤ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍۙ Open ayah 42:52 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تیری طرف ایک روح (یعنی فرشتہ جبرائیل) بھیجی تو نہ جانتا تھا کہ کتاب اور ایمان کیا ہوتا ہے ۔ لیکن ہم نے اسے ایک نور بنایا (سو اپنے بندوں) میں سے جسے ہم چاہیں اس (کتاب) کے ذریعہ سے ہدایت کریں ۔ اور تو البتہ راہ (ف 2) راست کی طرف ہدایت کرتا ہے

صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 42:53 in the Quran reader

اور اس اللہ کی راہ کی طرف جو آسمانوں اور زمین کی سب چیزوں کا مالک ہے سنتا ہے ۔ اللہ ہی کی طرف سب کام پھرتے ہیں

آیت 52 ۔ 53: کتابِ زندگی 2: یعنی آپ کی نبوت میں کوئی ندرت اور انوکھا پن نہیں ۔ بلکہ نہیں ذرائع الہام کو استعمال کیا گیا ہے ۔ اور سابقہ پیغمبروں کی طرح آپ کو بھی یہ شرف حاصل ہوا ہے ۔ کہ اللہ نے آپ سے گفتگو فرمائی ہے ۔ اور اس چیز کو آپ کی طرف نازل فرمایا ہے ۔ جو انسانیت کے لئے بمنزلہ روح کے ہے ۔ جس کی وجہ سے انسانی ہیئت اجتماعیہ میں زندگی اور تازگی ہے ۔ جس کی وجہ سے معاشرت اور تہذیب و تمدن کا بقا ہے ۔ آپ اس سے قبل کتاب وصحیفہ کے نام سے آگاہ نہیں تھے ۔ اور نہ آپ یہ جانتے تھے ۔ کہ ایمان کی حقیقت مفصلہ کیا ہے ؟ ہم نے آپ کو ایک کتاب عنایت کی ہے جو نور اور روشنی ہے ۔ اور اس سے استفادہ وہی لوگ کرسکیں گے ۔ جن کو ہم توفیق دیں گے ۔ آپ لوگوں کو صراط مستقیم کی جانب جو اس اللہ کی مقررکردہ ہے ۔ جس کی ہمارے آسمانوں اور زمین پر بادشاہت ہے ۔ اور انجام کار سب امور جس کی جانب لوٹیں گے ۔