41. Surah Fussilat

فصلتExplained in detail · 54 ayahsسراج البیان

Ayahs 41:36–41

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 41:36 in the Quran reader

اور اگر شیطان کے چوک (ف 1) لگانے سے تجھ کو کبھی چوک لگے ، تو اللہ کی پناہ پکڑ بیشک وہی سنتا جانتا ہے

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الَّیْلُ وَ النَّهَارُ وَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ١ؕ لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَ لَا لِلْقَمَرِ وَ اسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَهُنَّ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 41:37 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے رات دن اور سورج اور چاند ہیں نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو اور اللہ کو سجدہ کرو ۔ جس نے انہیں پیدا کیا ہے ۔ اگر تم اسی کو پوجتے ہو ۔

فَاِنِ اسْتَكْبَرُوْا فَالَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ یُسَبِّحُوْنَ لَهٗ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ هُمْ لَا یَسْئَمُوْنَ۩ Open ayah 41:38 in the Quran reader

پھر اگر وہ تکبر کریں تو جو (فرشتے) تیرے رب کے پاس ہیں وہ رات اور دن اس کی تسبیح کرتے ہیں ۔ اور وہ نہیں تھکتے

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْهَا الْمَآءَ اهْتَزَّتْ وَ رَبَتْ١ؕ اِنَّ الَّذِیْۤ اَحْیَاهَا لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ؕ اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 41:39 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تو زمین کو دیکھتا ہے کہ دبی پڑی ہے پھر جب اس پر پانی نازل کرتے ہیں تو لہلہاتی اور بڑھتی ہے بیشک جس نے اسے جلایا وہی مردوں کو جلانے والا ہے ۔ بیشک وہ ہر شئے پر قادر ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَا١ؕ اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ١ۙ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 41:40 in the Quran reader

جو لوگ ہماری آیتوں میں کجروی کرتے ہیں وہ ہم سے چھپے ہوئے نہیں ہیں بھلا جو آگ میں ڈالا جائے بہتر ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن سے آئے گا ۔ جو چاہو کرو وہ تمہارے کام دیکھتا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَكِتٰبٌ عَزِیْزٌۙ Open ayah 41:41 in the Quran reader

وہ لوگ جو ذکر (قرآن) کے جب وہ ان کے پاس آیا منکر ہوئے (ہم) انہیں بدلہ دیں گے اور یہ تو نادر کتاب ہے

خلق عظیم اس سے قبل کی آیت میں صبر و برداشت کی تلقین فرمائی تھی اور یہ کہا تھا کہ منکرین کی برائیوں کا جواب حسن سلوک سے دو اپنی روحانیت سے دو ۔ اس میں یہ بتایا ہے ۔ کہ یہ کام آسان نہیں ہے اس کے لئے استقامت اور صبر کی ضرورت ہے وہ لوگ اس خلق عظیم سے بہرہ مند ہوتے ہیں جنہوں نے مواجب ومالک سے حصہ وافر پایا ہو ۔ اس سے معلوم ہوا ۔ کہ جہاں تک سختی اور برائی کے جواب دینے کا تعلق ہے بہترین طریق یہی ہے ۔ کہ طرز عمل بالکل خلاف اختیار کیا جائے ۔ دشمن مشکلات سے پیدا کرے تو اس کے لئے آسانیاں بہم پہنچائی جائیں ۔ دکھ معاند اور تکلیف کا سبب ہو تو اس کے لئے راحت و سکون کی آرزو کی جائے ۔ مخالف مادی آفات نفرت سے مسلح ہو ۔ تو اس کا جواب روح کی تزئین و آرائش سے دیا جائے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حریف اخلاقی عظمت سے متاثر ہوکر اپنے کئے پر پچھتاتا ہے ۔ اور دل کی گہرائیوں سے ندامت کا اظہار کرتا ہے ۔ اس وقت اس کی دشمنی دوستی اور مودت کے جذبات سے بدل جاتی ہے ۔ شیطان کی وسوسہ اندازی 1: نزع کے لغوی معنے کسی شئے سے شرارت کی غرض سے تعرض کرنا ہے ۔ جیسے کہ ارشاد فرمایا ۔ من بعد ان نرغ ال شیطان بینی وبین اخوتی اور اس کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ دل میں وسوسہ اندازی کی تحریک کی جائے ۔ غرض یہ ہے کہ آپ اپنے مخالفین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں ۔ اور ان کی برائیوں کا جواب اپنی روحانی اخلاص سے دیں اور اگر شیطان کی جانب سے آپ کے دل میں تحریک ہوانتقام کی ۔ یا ان پر بھی سختی اور تشدد کرنے کی ۔ تو پھر حتی الامکان اس جذبے کے تاثر سے بچنے کی کوشش فرمائیے اور خدا کی پناہ میں آجائیے اور یہ دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام اس باب میں کیا ہیں ۔ یہ درست ہے کہ اسلام ناگزیر حالات میں تشدد اور سختی کی نہ صرف اجازت ہی دیتا ہے بلکہ اس کو بہتر اور ضروری قرار دیتا ہے ۔ مگر یہ مقصد نہیں ہے درحقیقت مدعا یہ ہے ۔ کہ امن و طمانیت کو برقرار رکھتے ہوئے لوگ اسلام کی برکات سے استفادہ کریں اور معلوم کریں کہ اس مذہب عقل و دانش میں ان کے لئے کہاں تک روحانی تسکین کا سامان موجود ہے یہ آیت کا وہ مفہوم ہے جس کا تعلق سیاق سے ہے اور اگر اس کو سیاق سے منقطع کرلیا جائے ۔ جب بھی ہمارے نزدیک کوئی قابل اعتراض مفہوم پیدا نہیں ہوتا ۔ ہم عصمت انبیاء کے ان معنوں میں قائل نہیں ہیں ۔ کہ انبیاء میں انسانی فطرت نہیں ہوتی ۔ اور وہ بشری تقاضوں سے دو چار نہیں ہوتے ۔ بلکہ ہم یہ سمجھتے ہیں ۔ کہ اس پاک گروہ میں بھی نفس کی خواہشات ہوتی ہیں ۔ جذبات ہوتے ہیں ۔ اور شاید زیادہ شدت کے ساتھ مگر اپنے مضبوط اخلاق اور مستحکم سیرت کی وجہ سے یوں گناہوں کے چنگل سے نکل جاتے ہیں جس طرح تیر کمان سے ؎ ہزار دم سے نکلا ہوں ایک جنبش میں جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے اس لئے اس آیت کا مفہوم واضح ہے کہ بتقاضائے بشری آپ کے دل میں بھی وساوس پیدا ہوتے ہوں گے مگر آپ ذہنی نبوی کے باعث ان پر غالب آجاتے ہیں ۔ اور خدا کی حفاظت کفالت کو حاصل کرلیتے ہیں ۔ یہ یاد رہے کہ یہ انداز بیان گو بطرز انشاء ہے ۔ مگر مراد اس سے خبر ہے ۔ وھوفی القران کثیر حل لخات : یلحدون ۔ الحاد سے ہے ۔ بمعنے کجروی ۔
Ayahs 41:42–43

لَّا یَاْتِیْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ١ؕ تَنْزِیْلٌ مِّنْ حَكِیْمٍ حَمِیْدٍ Open ayah 41:42 in the Quran reader

اس میں جھوٹ کا دخل نہیں ۔ نہ اس کے آگے سے اور نہ اس کے پیچھے سے اس کی اتاری ہوئی ہے جو حکمت والا قابل (ف 1) تعریف ہے

مَا یُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ وَّ ذُوْ عِقَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 41:43 in the Quran reader

اے محمد تجھ سے وہی کہا جاتا ہے جو تجھ سے پہلے رسولوں سے کہا گیا تھا ۔ بیشک تیرے رب کے ہاں مغفرت بھی اور دردناک عذاب بھی ہے

قرآن عزیز 1: مکہ والوں کی یہ انتہائی بدبختی اور محرومی تھی ۔ کہ وہ اس قرآن عزیز سے استفادہ نہ کرسکے ۔ ورنہ نفس کتاب کی خوبیاں اور درجہ نمایاں ہیں ۔ کہ ان میں قطعاً شاب وشبہ کی گنجائش نہیں ۔ عربی میں عزیز کے دو معنے ہیں ۔ ایک تو یہ کہ یہ اپنے انداز بیان کے لحاظ سے عدیم النظیر ہے ۔ دنیا کی کوئی کتاب فصاحت اور بلاغت میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی ۔ اسے دلائل کا وہ استحکام حاصل ہے جس کی وجہ سے تمام مذہبی اور اپنی صحیفوں پر غالب اور مفتخر ہے ۔ اس میں کوئی بات ایسی نہیں جس کے لئے دلیل نہ ہو ۔ اور عقل و دانش کے قرین نہ ہو ۔ دوسرا وصف یہ ہے کہ اس میں تحریف وتبدیلی کسی عنوان بھی راہ نہیں پاسکتی ۔ اور کسی وقت بھی یہ نہیں ہوسکتا ۔ کہ اس میں باطل کی آمیزش ہوجائے ۔ چناچہ یہ حیرت انگیز بات ہے ۔ کہ چودہ سو سال ہوگئے ہیں ۔ مسلمانوں پر زوال بھی آیا ۔ فتنوں اور آزمائش کا طوفان بھی امڈا ۔ مجوسیت اور عجمیت نے اسلامی لٹریچر میں بڑی حد تک دخل اندازی بھی کی ۔ مگر قرآن جوں کا توں ہے ۔ اور آج بھی اس درجہ مستنداد معتبر ہے ۔ جس درجہ قرآن اولیٰ میں تھا ۔ یہ ہوسکتا ہے کہ لوگوں کو اس کی تعلیمات میں کلام ہو ۔ اور زندگی کے پیش کردہ مسائل میں اس کے ساتھ اتفاق نہ کرسکیں ۔ مگر بڑے سے بڑا دشمن بھی بشرطیکہ وہ اسلام کے متعلق کچھ بھی معلومات رکھتا ہو ۔ اس اعتراف پر مجبور ہے کہ یہ قرآن آج اسی طرح مسلمانوں میں موجود ہے ۔ جس طرح کہ محمد ﷺ نے ان کو دیا تھا اور اس میں ایک شوشہ اور کسی اعراب کی بھی تبدیلی نہیں ہوئی ہے ۔ حالانکہ جتنے مذہبی صحیفے اس وقت موجود ہیں ان میں سے کسی کے متعلق فطعی طور پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ اپنی اصلی حالت میں موجود ہے . بائبل کی تعریف تو تقریباً اہل علم کے حلقوں میں مسلم تھی ۔ اب ویدوں کے جاننے والے اور ریسرچ کرنے والے بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ متعدد مقامات میں بعض ملاحدہ نے ان میں حسب منشاء تبدیلی پیدا کردی ہے ۔ ظاہر ہے کہ اس صورت حالات میں اعتماد قطعاً اٹھ جاتا ہے ۔ اور پھر ایسی کوئی کتاب لائق تاسی نہیں رہتی ۔ حل لغات :۔ من بین یدیہ ولا من خلفہ بطور تمثیل کے ہے ۔ یعنی قرآن بمنزلہ ایک ایسے محفوظ اور مستحکم قلعہ ہے جس میں افواج یا فتنہ کے لئے کوئی راستہ ہی موجود نہیں ۔ نہ آگے کی طرف اور نہ پیچھے کی جانب سے اعجمی ۔ غیر عربی ۔
Ayahs 41:44–46

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا لَّقَالُوْا لَوْ لَا فُصِّلَتْ اٰیٰتُهٗ١ؕ ءَؔاَعْجَمِیٌّ وَّ عَرَبِیٌّ١ؕ قُلْ هُوَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّ شِفَآءٌ١ؕ وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّ هُوَ عَلَیْهِمْ عَمًى١ؕ اُولٰٓئِكَ یُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ۠ Open ayah 41:44 in the Quran reader

اور اگر ہم اس کو عجمی زبان کا قرآن کرتے تو (اہل عرب) کہتے ہیں کہ اس کی آیتیں واضح کیوں نہ کی گئیں ، کتاب عجمی ہے اور نبی عربی تو کہہ قرآن ان کے لئے جو ایمان لائے ہدایت اور صحت ہے اور جو ایمان نہیں لائے ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور یہ (قرآن) ان پر ان کی بینائی کا جاتا رہنا ہے ۔ یہی لوگ دور کے مکان سے پکارے (ف 1) جاتے ہیں

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 41:45 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی پھر اس میں اختلاف کیا گیا اور اگر ایک بات نہ ہوتی جو تیرے رب سے پہلے نکل چکی ہے تو ان میں فیصلہ کیا جاتا اور وہ لوگ اس (قرآن) سے قوی شک میں ہیں

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ Open ayah 41:46 in the Quran reader

جس نے نیک کام کیا اپنے ہی لئے ہے اور جس نے برا کیا تو اس کی برائی اسی پر ہے اور تیرا رب بندوں پر ظلم نہیں کرتا

ف 1: اللہ تعالیٰ کی اپنی کوئی خاص زبان نہیں اس نے تمام زبانوں کو پیدا کیا ہے ۔ اس لئے اس کا تعلق ربوبیت ہر زبان میں یکساں ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا تھا ۔ کہ پھر جب کہ اس کا تعلق تمام زبانوں کے ساتھ برابر کا ہے ۔ تو عربی کو کیوں ترجیح دی گئی ۔ اور کیوں قرآن کو جو دنیا کی آخری کتاب ہے ۔ اس زبان میں نازل کیا گیا ؟ ۔ جواب یہ ہے کہ یہی زبان ایسی ہے ۔ جس میں مذہبی اور دینی مطالب کے لئے ایضاح و تفصیل کی قابلیت اور استعداد دوسری زبانوں سے زیادہ ہے ۔ اور اس لئے بھی عربی زبان کا استعمال ناگریز تھا ۔ کہ جن لوگوں کو اولاً رشدوہدایت کے لئے منتخب کرنا ضروری تھا ۔ وہ عرب تھے ۔ قرآن کا عامل اور پیش کرنے والا بھی عربی تھا ۔ لہٰذا یہی انسب تھا کہ باوجود غیر جنبہ واری کے اللہ تعالیٰ قرآن کی عربی کے خوبصورت انداز بیان ہی میں نازل فرماتا ۔ حل لغات :۔ وقو ۔ بوجھ ثقل ، گرانی گرش بظلام ۔ حق تلفی کرنے والا ۔ ظالم ۔
Ayahs 41:47–49

اِلَیْهِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَةِ١ؕ وَ مَا تَخْرُجُ مِنْ ثَمَرٰتٍ مِّنْ اَكْمَامِهَا وَ مَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَ لَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ١ؕ وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ اَیْنَ شُرَكَآءِیْ١ۙ قَالُوْۤا اٰذَنّٰكَ١ۙ مَا مِنَّا مِنْ شَهِیْدٍۚ Open ayah 41:47 in the Quran reader

قیامت کی خبر کا خدا ہی کی طرف حوالہ (ف 1) ہے اور جو میوے اپنے غلافوں میں سے نکلتے ہیں اور جو عورت حاملہ ہوتی اور جنتی ہے اسی کے علم میں ہے اور جس دن اللہ انہیں پکارے گا کہ میرے شریک کہاں ہیں تو کہیں گے کہ ہم نے تجھے جتا دیا ہے کہ ہم میں سے کوئی اس کا اقرار کرنے والا نہیں ہے

وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَدْعُوْنَ مِنْ قَبْلُ وَ ظَنُّوْا مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 41:48 in the Quran reader

اور جنہیں وہ پہلے پکارتے تھے وہ ان سے گم ہونگے اور گمان کرینگے کہ ان کو کہیں خلاصی نہیں

لَا یَسْئَمُ الْاِنْسَانُ مِنْ دُعَآءِ الْخَیْرِ١٘ وَ اِنْ مَّسَّهُ الشَّرُّ فَیَئُوْسٌ قَنُوْطٌ Open ayah 41:49 in the Quran reader

آدمی بھلائی مانگنے سے نہیں تھکتا اور جو اسے برائی چھوئے تو مایوس ناامید ہوجاتا ہے

حل لغات :۔ اکمام ۔ کم کی جمع ہے ۔ پھل کا غلاف ۔ شگوفے لایسئمم ۔ اکتا نہیں جاتا ہے لیوس ۔ ناامید ہراساں ۔ ناامید ۔ پورا پورا علم صرف اللہ کو ہے 1: غرض یہ ہے کہ کوئی انسان یہ نہیں جان سکتا ۔ کہ مستقبل میں کیا ظہور پذیر ہونے والا ہے اور فردا کی آغوش میں کون سے حوادث پنہاں ہیں ۔ کوئی یقینی طور پر غیب کے متعلق پیش گوئی نہیں کرسکتا ۔ اور نہیں کہہ سکتا ۔ کہ آئندہ بطن تقدیر سے کیا تولد ہونے والا ہے اس باب خاص میں سب لوگ ناآشنا اور بےبہرہ ہیں ۔ ہاں انبیاء (علیہ السلام) کو بعض حالات سے مطلع کردیا جاتا ہے ۔ کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے ۔ مگر ہر واقعہ اور ہر بات کے متعلق وہ بھی جواب نہیں دے سکتے ۔ قیامت کے وقوع کے متعلق بارہا مکہ والوں پوچھا ۔ کہ بتاؤ کب ہے ۔ ایان مرسھا مگر حضور ﷺ قرآن کی زبان میں یہی جواب دیتے رہے ۔ کہ میں نہیں جانتا یہ باتیں اللہ تعالیٰ سے مختص ہیں ۔ وہی بتاسکتا ہے کہ کب یہ دنیا اپنی زیبائش و آرائش سمیت فنا کے پردوں میں منہ چھپا لے گی نہ صرف یہ بلکہ انسانی علم تو یہ بھی نہیں بتا سکتا ۔ کہ کوئی پھل اپنی خول اور شگوفہ میں سے کب اور کس طرح کا نکلے گا ۔ اور یہ کہ ماں کے پیٹ میں کس نوع کا بچہ ہے ۔ یہ ساری باتیں اللہ کے دائرہ علم سے تعلق رکھتی ہیں ۔ انسان ان کو جاننا بھی چاہے تو نہیں جان سکتا ۔ پھر اگر ان لوگوں کی جہالت کس درجہ افسوسناک ہے ۔ جو ایسے علیم خدا کو چھوڑ کر بتوں کو پوجتے ہیں ۔ جن میں سرے سے علم کی استعداد ہی نہیں ۔ جو اپنی فطرت کے لحاظ سے علم کی صلاحیتوں سے یک قلم محروم ہیں ۔ یہ کیونکر ان کی راہ نمائی کرسکتے ہیں ۔ اور کیونکر اس کی معروضات سن سکتے ہیں ۔ فرمایا ۔ کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان کو پکار پکار کر پوچھے گا ۔ کہ بتاؤ تمہارے وہ معبود کہاں ہیں ۔ جن پر تم کو دنیا میں بڑا ناز تھا ۔ اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں گی ۔ اور کہیں گے کہ ہم تو ان پر اب اعتقاد نہیں رکھتے ۔ اور ادھر یہ معبود ان باطل غائب ہوجائیں گے نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کی مخلصی کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گی
Ayahs 41:50–51

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ رَحْمَةً مِّنَّا مِنْۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ هٰذَا لِیْ١ۙ وَ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰى رَبِّیْۤ اِنَّ لِیْ عِنْدَهٗ لَلْحُسْنٰى١ۚ فَلَنُنَبِّئَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِمَا عَمِلُوْا١٘ وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 41:50 in the Quran reader

اور اگر ایک تکلیف کے بعد جو اس کو لگی ہوئی ہو ہم اپنی طرف سے اسے رحمت (ف 2) چکھائیں تو کہتا ہے کہ یہ میرے لئے ہے اور میں گمان نہیں کرتا کہ قیامت قائم ہو اور اگر میں اپنے رب کی طرف لوٹایا گیا ۔ تو میرے لئے اس کے یہاں بھلائی ہے سو ہم کافروں کو دکھائیں گے جو وہ کرتے تھے اور ہم انہیں ایک گاڑھا عذاب چکھائیں گے (ف 1)

وَ اِذَاۤ اَنْعَمْنَا عَلَى الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَ نَاٰ بِجَانِبِهٖ١ۚ وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَآءٍ عَرِیْضٍ Open ayah 41:51 in the Quran reader

اور جب انسان پر نعمت بھیجتے ہیں تو وہ ٹلاجاتا ہے اور اپنی کروٹ موڑ لیتا ہے اور جب برائی چھوئے تو چوڑی دعائیں مانگتا ہے

حل لغات :۔ حریض ۔ چوڑی لمبی پھیلاؤ زیادہ ہو ۔ شقاق ۔ مخالفت اور عناد کرنا ۔ الافاق ۔ افق کی جمع ہے یعنی کنارہ آسمان ۔ اطراف عالم ۔ مراد دنیا ۔ قرآن حکیم میں ایک بڑی خوبی یہ ہے ۔ کہ یہ ان تمام نفسیاتی کمزوریوں سے آگاہ ہے جو انسان میں پائی جاتی ہیں ۔ اور ایک ایک کرکے ان سب چیزوں کو بیان کرتا ہے ۔ تاکہ لغزش کے تمام مواقع اسے معلوم ہیں ۔ اور وہ کسی حالت میں بھی سچی راہنمائی سے محروم نہ رہے ۔ فرمایا : کہ یہ انسان اپنی فلاح و بہبود کے لئے ہمیشہ دست بدعا رہتا ہے ۔ اور ترقی کی خواہس سے اس کا کبھی جی نہیں بھرتا ۔ پھر جب اس کی توقعات کے خلاف ہوتا ہے اور اگر تکلیف کے بعد پھر اللہ آسائش وتنعم کے سامان مہیا کردے ۔ تو کبرونخوت کے مرض میں مبتلا ہوکر کہنے لگتا ہے ۔ کہ یہ مصب متاع راحت میری عقلمندی اور مساعی کا نتیجہ ہے ۔ اور یہ قیامت کا مسئلہ محض ڈھکو سلہ ہے ۔ میں اپنے اعمال کے لئے اللہ کے سامنے جواب دہ نہیں ہوں ۔ اور اگر وہاں جانا پڑا ۔ تو بہرآئنہ وہاں بھی اچھی ہی جگہ مل کر رہے گی ۔ ارشاد فرمایا ۔ کہ یہ وہم باطل ہے وہاں سرمایہ داری کا اختیار نہ ہوگا ۔ وہاں صرف اعمال دیکھے جائیں گے ۔ اور اسے لوگ جو سرمایہ داری کے نشہ میں اللہ کا انکار کردیتے ہیں شدید ترین عذاب کے مستحق ہونگے ۔ اور ان میں سے کوئی رعایتی سلوک نہیں روارکھا جائیگا
Ayah 41:52

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهٖ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 41:52 in the Quran reader

تو کہہ بھلا دیکھو لو یہ (قرآن) اللہ کی طرف سے ہوا ، پھر تم اس کے منکر ہوئے تو اس سے زیادہ گمراہ کون ہے جو ڈور کی مخالفت میں ہے

ف 1: منکرین سے کہا ہے ۔ کہ جب بھی قرآن تمہارے سامنے پیش کیا ہے ۔ تم نے انکار کیا اور اس کے پیغام کو ٹھکرایا ۔ کیا تم نے کبھی سوچا ہے کہ اگر یہ کتاب عزیز واقعی اللہ کی طرف سے ہو ۔ اور تم بدستور سرکشی اور تمرد پر قائم رہو ۔ تو پھر تمہاری پوزیشن کیا ہوگی ؟ تم اللہ کو کیا جواب دوگے ؟ یعنی دو ہی باتیں ہیں ۔ یا تو یہ کلام اللہ کا کلام نہیں ہے ۔ اور محض حضور ﷺ کا افتراء ہے ۔ اس صورت میں بھی اس کو تسلیم کرلینا اس لحاظ سے مفید ہے کہ اس میں جو تعلیمات ہیں ۔ وہ انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے ہیں ۔ اور یا یہ یقینی اور حتمی طور پر خدا کا کلام ہے ۔ بتاؤ اگر صورت حال یہ ہے ۔ تو پھر تمارے پاس اس محرومی اور بدبختی کا کیا جواب اور کیا عذر ہے
Ayahs 41:53–54

سَنُرِیْهِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُ الْحَقُّ١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 41:53 in the Quran reader

عنقریب ہم ان (قریش) کو اطراف (دنیا) میں اور خود ان کی جانوں میں اپنی نشانیاں دکھلائینگے یہاں تک کہ ان پر کھل جائے گا کہ وہ (قرآن باخدا) (ف 3) حق ہے یا تیرا رب کافی نہیں کہ وہ ہر شئے پر گواہ ہے

اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ۠ Open ayah 41:54 in the Quran reader

سننا ہے وہ اپنے رب کی ملاقات سے شک میں ہیں ۔ سنتا ہے ۔ وہ ہر شئے کو گھیر رہا ہے

قرآن کی صداقت پرخارجی اور باطنی شواہد 2: یہ پیشگوئی ہے ۔ کہ ہم قرآن کی حقانیت کے ثبوت میں پوری کائنات کو حرکت میں لے آئینگے ۔ اور آفاق میں ایسے ایسے دلائل مہیا کرینگے ۔ کہ پھر اہل دانش کے لئے ناممکن ہوجائیگا ۔ نیز ان کی نفسیات میں ایسا عظیم انقلاب پیدا کریں گے ۔ اور ان کو ایسا روحانی ارتقاء بخشیں گے ۔ کہ وہ خود بخود اسلامی نظریات عقائد وعمل کی تصدیق کرنے لگیں گے ۔ ہمارے نزدیک اس کی تین صورتیں ہیں :۔ (1) اسلامی فتوحات کی کثرت ایک بےسروسامان جماعت کا ساری دنیا پرچھاجانا ۔ اور اپنے بےپناہ غلبہ واقتدار سے ثابت کرنا ۔ کہ اللہ کی تائید ان کے شامل حال ہے ۔ اس کے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور اسلامی عساکر کے دلوں کو مضبوط کرتے ہیں ۔ (2) ان دلائل فطرت کو اسلام کی تصدیق میں پیش کرنا ۔ جو آفاق میں پیداکئے ہوئے ہیں ۔ ان مظاہر و شواہد کو کثرت کے ساتھ بیان کرنا ۔ جن کا تعلق صاحب عالم حیات لیتے ہے ۔ (3) آئندہ زمانے میں ان خوزق علمیہ کا ظہور جو اسلامی فطرت کی تصدق کریں ۔ ہماری رائے یہ ہے کہ تعبیروتفسیر کی یہ صورت زیادہ صحیح ہے ۔ آج کا سائنس اور تجربہ اسلامی نظام حیات کو درست اور فطرت کے قریب سمجھتا ہے ۔ آج سے پہلے کوئی قیامت کا معترف تھا ۔ مگر آج یہ ایک طبعی نظریہ ہے ۔ سائنس دان کہہ رہے ہیں ۔ کہ ہر وقت اس کا امکان ہے ۔ خدا کے متعلق جن خیالات کا اظہار قرآن نے کیا ہے آج لوگ تسلیم کررہے ہیں ۔ کہ ان پر سر مو اضافہ نہیں ہوسکتا اور معاشرتی نظام تو اتنا مکمل ہے ۔ کہ آج یورپ کھچا آرہا ہے ۔ اور تمام اس کو قبول کرتا چلا جاتا ہے اسی طرح نفسیاتی طور پر لوگوں نے باطن میں اتنی ترقی کرلی ہے ۔ کہ عظیم الشان رومی اکتسافات منظر عام پر آرہے ہیں ۔ اور معلوم ہورہا ہے ۔ کہ عالم برزخ کے متعلق قرآن نے جو کچھ پیش کیا تھا ۔ وہی صحیح ہے اور اگر حالات کو دیکھ کر کوئی پیش گوئی کی جاسکتی ہے ۔ یقینا وہ وقت بہت قریب ہے جبکہ ساری دنیا قرآن کے الفاظ میں انہ الحق پکاراٹھے گی ۔