39. Surah Az-Zumar

الزمرThe Groups · 75 ayahsسراج البیان

Ayah 39:41

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ۠ Open ayah 39:41 in the Quran reader

بیشک ہم نے تجھ پر لوگوں کے لئے سچے دین کے ساتھ کتاب نازل کی ۔ پھر جس نے ہدایت پابی تو اپنے بھلے کو اور جو گمراہ ہوا تو اسے ضرر کے لئے ہوا اور تو ان پر داروغہ (ف 3) نہیں

ف 3: حضور ﷺ کی تسکین خاطر کے لئے ارشاد فرمایا ہے ۔ کہ آپ پر جو صحیفہ حق نازل کیا گیا ہے ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر شخص اس کو قبول کرلے ۔ آپ صرف اس حد تک مکلف ہیں ۔ کہ ان تک میرا پیغام پہنچادیں ۔ آئندہ یہ اگر گمراہ ہوں گے تو اپنا ہی بگاڑیں گے ۔ آپ ان کی ہدایت کے لئے اس درجہ بےقرار نہ ہوں ۔ حل لغات :۔ مکانتکم ۔ اپنی جگہ بوکیل ۔ ذمہ دار ۔ اجارہ دار ۔ مسلط اور داروغہ یتوفی ۔ سے مراد مطلق روح پر ضبط واختیار حاصل کرنا ہے ۔ اس لئے جس کی دو صورتیں بیان کی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ وہ ضبط اور اختیار اس نوع کا ہو ۔ کہ پھر روح کو جسم سے الگ کرلیا جائے ۔ اور ایک یہ کہ صرف بیداری کو چھین لیا جائے ۔ اور تعلق حیات بدستور باقی رہے ۔ اس چیز کو امساک اور ارسال سے تعبیر کیا ہے ۔
Ayahs 39:42–44

اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَا١ۚ فَیُمْسِكُ الَّتِیْ قَضٰى عَلَیْهَا الْمَوْتَ وَ یُرْسِلُ الْاُخْرٰۤى اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 39:42 in the Quran reader

اللہ جانوں کو جب ان کے مرنے کا وقت آتا ہے کھینچ لیتا ہے اور جو نہیں مریں ان کو ان کی نیند میں (کھینچ لیتا ہے) پھر جن پر موت کا حکم صادر کیا ہے ۔ انہیں رکھ چھوڑتا ہے اور دوسروں کو ایک وقت معین تک بھیج دیتا ہے ۔ بیشک اس میں ان لوگوں کے لئے جو دھیان کرتے ہیں ۔ نشانیاں (ف 1) ہیں

اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُفَعَآءَ١ؕ قُلْ اَوَ لَوْ كَانُوْا لَا یَمْلِكُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 39:43 in the Quran reader

کیا انہوں نے اللہ کے سوا اور شفیع ٹھہرائے ہیں ؟ تو کہہ اگرچہ ان کو کچھ اختیار نہ ہو اور نہ ہی وہ سمجھ رکھتے ہوں تو بھی

قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِیْعًا١ؕ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 39:44 in the Quran reader

تو کہہ ساری شفاعت اللہ کے ہاتھ ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے

قیامت پر ایک دلیل 1: حشر ونشر پر ایک نہایت عمدہ دلیل پیش فرمائی ہے ۔ کہ دیکھو کہ موت اور نیند میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے ۔ جس خدا کو یہ قدرت حاصل ہے کہ وہ تمہاری بیداری کو چھین لے اور اس کو خواب بےہوشی کی کیفیات سے بدل دے ۔ اور پھر جب مناسب سمجھے بیدار کردے ۔ وہ خدا اس چیز پر بھی قادر ہے ۔ کہ جب تم موت کی نیند سوجاؤ۔ اس وقت بھی تمہیں پھر جب چاہے اٹھا کھڑا کرے ۔ کیونکہ جس نے بیداری اور نیند کے نظام کو وضع کیا ہے وہی موت اور حیات پر بھی اختیار رکھتا ہے ۔ بتانا یہ مقصود ہے ۔ کہ خود انسانی زندگی معارف سے پر ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صاحب فکر وہوش سوچیں ۔ اور بغیر ادنیٰ تامل کے یہ نہ کہہ دیا کریں ۔ کہ صاحب یوں ہوتا تو ناممکن ہے ۔ جب تک کائنات کی خوب چھان بین نہ کریں ۔
Ayahs 39:45–49

وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 39:45 in the Quran reader

اور جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے نفرت (ف 2) کرتے ہیں اور جب اللہ کے سوا اوروں کا ذکر کیا جاتا ہے تو اسی وقت وہ خوش ہوجاتے ہیں

قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَیْنَ عِبَادِكَ فِیْ مَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 39:46 in the Quran reader

تو کہہ اے اللہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے چھپے اور کھلے جاننے والے تو ہی اپنے بندوں کے درمیان ان باتوں میں فیصلہ کریگا ۔ جن میں وہ جھگڑ رہے تھے

وَ لَوْ اَنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لَافْتَدَوْا بِهٖ مِنْ سُوْٓءِ الْعَذَابِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ بَدَا لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ مَا لَمْ یَكُوْنُوْا یَحْتَسِبُوْنَ Open ayah 39:47 in the Quran reader

اور اگر ظالموں کے پاس جتنا کچھ زمین میں ہے وہ سب اور اس کے ساتھ اتنا اور بھی ہو تو قیامت کے دن برے عذاب سے اپنے چھڑانے میں سب کا سب ہی دے ڈالیں (مگر قبول نہ ہو) اور اللہ کی طرف سے انہیں وہ معاملہ پیش آئے گا ۔ جس کا انہیں کبھی خیال بھی نہ تھا

وَ بَدَا لَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 39:48 in the Quran reader

اور جو عمل وہ کرتے تھے اسی کی برائیاں ان پر ظاہر ہونگی اور جس شئے پر ٹھٹھا کرتے تھے وہ انہیں آگھیریگی

فَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَانَا١٘ ثُمَّ اِذَا خَوَّلْنٰهُ نِعْمَةً مِّنَّا١ۙ قَالَ اِنَّمَاۤ اُوْتِیْتُهٗ عَلٰى عِلْمٍ١ؕ بَلْ هِیَ فِتْنَةٌ وَّ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 39:49 in the Quran reader

سو جب آدمی پر دکھ آتا ہے تو ہمیں پکارتا ہے ۔ پھر جب ہم اپنی طرف سے اسے نعمت دیتے ہیں تو کہتا ہے ۔ یہ جو مجھے ملا میرے علم کے سبب سے ملا ہے ۔ ہرگز نہیں یہ آزمائش ہے لیکن اکثر آدمی نہیں جانتے

اللہ کے نام سے چِڑ 2: اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ مشرکین کو توحید سے کس درجہ نفرت ہے اور بتوں سے کس حد تک محبت ہے ۔ ان کے سامنے جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے ۔ اور وحدیت کے معارف عالیہ سے ان کو بہرہ مند کیا جاتا ہے ۔ اور بتلایا جاتا ہے ۔ کہ اسی کا آستانہ جلال و عظمت اس قابل ہے ۔ کہ انسان اس کے سامنے جھکے ۔ تو ان کے دلوں میں انقباض پیدا ہوجاتا ہے ۔ اور بشرے سے سخت بیزاری ٹپکنے لگتی ہے ۔ تو چاہیے یہ تھا کہ اللہ کا نام ان کے لئے وجہ تسکین ہوتا ۔ جب ان کا نام لیا جاتا ۔ تو ان کے قلوب میں روشنی اور شگفتگی پیدا ہوجاتی ۔ مگر یہاں فطرت مسخ ہوچکی ہے ۔ یہ لوگ اللہ کے نام سے منقبض ہوتے ہیں ۔ اور جب ان کے دیوتاؤں کا تذکرہ ہو ۔ ان کے ارباب کے قصے ہوں ۔ اور یہ بتایاجائے کہ ان کے اصنام کتنے صاحب کرامات وخوارق ہیں ۔ تو پھر دیکھئے ان کے چہروں پر مسرت کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے ۔ آج بھی جو لوگ مشرکانہ عقائد وتوہمات میں گرفتار ہیں مسئلہ توحید میں ان کے لئے کوئی دلچسپی اور جاذبیت نہیں ہے ۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس نوع کے مسائل کا اظہار بےکار وبے سود ہے ۔ انہیں اگر شغف ہے تو روایات اور قصص سے اور اولیاء کرام کے افسانہ ہائے عجائب وغرائب سے ۔ چناچہ جس مجلس میں توحید کا چرچا ہوتا ہے ۔ وہاں آپ دیکھیں گے کہ نہ کوئی رونق ہوتی ہے اور نہ کیفیت اور نہ خشوع وتادب کا نشان ۔ البتہ جہاں مشائخ طریقت کی محفلیں گرم ہوتی ہیں ۔ وہاں عودوعنبر ہے ۔ لوگوں کا ہجوم ہے ۔ وجد وتراقص ہے ۔ دھوم دھامی ہے ۔ لوگ خاص عقیدت سے دو زانو بیٹھے سن رہے ہیں ۔ یہ کس چیز کا مظاہرہ ہے ! ان چیزوں سے کیا ثابت ہوتا ہے ۔ مرد مومن جو بھی اللہ کے نام پر تڑپ جاتا تھا ۔ اور جس کو اس کے ذکر میں حلاوت محسوس ہوتی تھی ۔ جس کا دل اس کے جذبات محبت سے معمور تھا ۔ جو پٹینا تھا آگ میں جھونکا جاتا تھا ۔ دار پر کھینچ دیا جاتا تھا ۔ مگر عشق الٰہی سے دست بردار نہیں ہوتا تھا ۔ آج اس کا پتا نہیں اور اس کی جگہ ایک ایسے شخص نے لے لی ہے ۔ جس کا نام مسلمانوں کا سا ہے ۔ جو کلمہ توحید کا اقرار بھی کرتا ہے مگر دل میں اللہ کے ساتھ کوئی خاص لگاؤ اور نسبت نہیں رکھتا ۔ وہ دن رات مزاروں اور قبروں کا طواف کرتا ہے ۔ خانقاہوں کے گرد گھومتا ہے ۔ اور غیر اللہ کی محبت میں مارا مارا پھرتا ہے ۔ توحید میں اس کے لئے تسکین و طمانیت کا سامان نہیں ۔ وہ بدعات اور مشرکانہ رسوم کا شیدا ہے ۔ اللہ کا نام اس کے لئے بالکل روکھا پھیکا ہے ۔ جب تک کہ اس کے ساتھ چند اور ہستیوں کا ذکر نہ کیا جائے ۔ اور یہ نہ بتایا جائے کہ ان لوگوں کو کس درجہ اختیارات اللہ نے تفویض کر رکھے ہیں ۔ وہ خاص توحید کو کھری اور توحید کہتا ہے ۔ صرف ایک اللہ کے نام میں اسے کوئی بلندی اور رفعت نظر نہیں آتی ۔ وہ تو اس بات پر جان دیتا ہے ۔ کہ اس کے مشائخ کن خوارق اور کرامات کے مالک ہیں ۔ آہ ! وہ خدائے عزوجل جس کی محبت اور اطاعت شعاری سے ان بزرگان پاک نفس نے اتنے بلند مراتب حاصل کئے تھے ۔ اور جس کے سامنے جھکنے سے انہیں مقام ولایت حاصل ہوا تھا ۔ آج اس خدا کا درجہ بالکل ثانوی ہے ۔ اور جملہ فضائل وہ ان کی جانب منسوب کردیئے گئے ہیں جو اس سے مختص ہیں ۔ اور جن کے انتساب کی ان بزرگوں نے قطعی اجازت نہیں دی ۔ حل لغات :۔ اشمازت ۔ انتہائی انقباض اور نفرت
Ayahs 39:50–51

قَدْ قَالَهَا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 39:50 in the Quran reader

یہی بات ان کے اگلوں نے کہی تھی سو جو وہ کماتے (ف 1) تھے ۔ ان کے کام نہ آیا

فَاَصَابَهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ؕ وَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْ هٰۤؤُلَآءِ سَیُصِیْبُهُمْ سَیِّاٰتُ مَا كَسَبُوْا١ۙ وَ مَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 39:51 in the Quran reader

پھر جو انہوں نے کمایا تھا اس کی برائیاں ان پر پڑیں ۔ اور ان لوگوں میں سے جو ستمگار ہیں عنقریب ان کی کمائی کی برائیاں ان پر پڑینگی اور وہ تھکانہ سکیں گے

تکلیف میں خدا یاد آتا ہے 1: قاعدہ ہے ۔ کہ بھوک اور افلاس سے دل میقل ہوجاتا ہے اور اس کا رنگ دور ہوجاتا ہے ۔ اور فطرت کے انواداس میں چمکنے لگتے ہیں ۔ جب کوئی شخص تکلیف اور دکھ میں مبتلا ہوتا ہے ۔ تو بےاختیاری جی چاہتا ہے کہ خدا کو یاد کیا جائے ۔ اس وقت دل پرے تمام حجابات اٹھ جاتے ہیں ۔ اور انسان اللہ کے نام کے ساتھ ایک خاص طرح کی تسکین اور طمانیت محسوس کرتا ہے ۔ اور کیفیت یہ ہوتی ہے ۔ کہ اٹھتے بیٹھتے اللہ کا ذکر ہے اس کی حمدوستائش ہے ۔ اور شکر وصبر کا مظاہرہ ہے ۔ اس وقت کی کیفیات خشوع اگر دیر تک لوح قلب پر مرقسم ہیں تو بلاشبہ انسانی دولایت اور قرب کے مراتب عالیہ سے مشرف ہوجائے مگر ہوتا یہ ہے کہ جب یہ مصیبتیں دور ہوگئیں ۔ دل پر پھر کثیر اعجاب کی نقاب پر گئی ۔ اور دل بدستور غفلت وتساہل میں مبتلا ہوگیا ۔ خوشحالی میں یہ سمجھنے لگتا ہے ۔ کہ میری مسرتوں میں اللہ کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ میں نے جو کچھ حاصل کیا ہے ۔ وہ نتیجہ ہے میرے علم کا میری عقلمندی اور تجربہ کا ۔ فرمایا یہ غلط ہے ۔ یہ تو محض آزمائش وابتلاء کے لئے تمہارے حالات میں خوشگوار تبدیلی کی گئی ہے ۔ کہ تمہیں دیکھا جائے ۔ اور یہ معلوم کیا جائے ۔ کہ تمہارے جذبات شکرگزاری کہاں تک صادقانہ ہیں ۔ کیا مسرت اجتہاج کی زندگی میں بھی تمہاری وہی کیفیت ہوتی ہے جو غم اور تکلیف کی زندگی میں اور کیا خوشی میں بھی تم اسی طرح مجھ کو یاد کرتے ہو جس طرح کہ دکھ اور روگ میں ، غربت اور افلاس میں ارشاد ہے کہ اس اعجاب نفس کے مرض میں تم سے پہلے بھی لوگ مبتلا ہوچکے ہیں ۔ انہوں نے بھی انپے مال و دولت پر غرور وکبر کا اظہار کیا ہے ۔ مگر جب اللہ کا عذاب آیا ۔ تو ان کا سرمایہ اور دولت ان کو بچا نہیں سکی ۔ اسی طرح ان لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کی بداعمالیاں بھی حد سے گزر چکی ہیں ۔ یہ بھی مال و دولت کے نشہ میں چور ہیں اور حق وصداقت کے پیغام کو تسلیم نہیں کرتے ۔ یہ بھی عذاب سے دو چار ہونے والے ہیں ۔ ان کو آگاہ رہنا چاہیے ۔ کہ ان کا تمول ان کے قطعاً کام نہیں آسکے گا ۔ اور یہ یقینا گرفتار ابتلا ہوکر رہیں گے ۔
Ayah 39:52

اَوَ لَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 39:52 in the Quran reader

اور وہ نہیں جانتے کہ اللہ جس کے لئے چاہے رنسق (ف 2) کشادہ کرتا ہے اور تنگ کرتا ہے ؟ بیشک ایماندار لوگوں کے لئے اس میں نشانیاں ہیں

ف 2: اس آیت میں بتلایا ہے کہ رزق کی کشائش اور تنگی محض اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ وہ چاہے تو گدائے حقیر کو ایک لمحہ میں خزائن شاہی کا مالک بنادے اور چاہے تو چشم زون میں قارون صفت دولتمندوں کو نان شبینہ تک کا محتاج بنادے ۔ اس لئے یہ دولت اور تمول ایسی چیزیں نہیں ہیں کہ انسان ان پر فخر کرے ۔ اور اپنے رب کو بھول جائے ۔ حل لغات :۔ خوللہ ۔ تحویل سے ہے بمعنی عطا کرنا ۔ دینا یبسط ۔ پھیلاتا ہے ۔ زیادہ دیتا ہے ۔
Ayah 39:53

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 39:53 in the Quran reader

تو کہہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے ناامید (ف 1) نہ ہو ۔ بیشک اللہ سارے گناہ بخش دیتا ہے ۔ بیشک وہی گناہ بخشنے والا مہربان ہے

ف 1: یعنی اے وہ لوگو ! جو گناہوں کی کثرت سے گھبراگئے ہو ۔ آؤ اور اسلام میں داخل ہوجاؤ۔ اور اس کے پیش کردہ مقام عبودیت کو حاصل کرلو ۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہاری تمام لغزشوں اور کوتاہیوں پر خط تنسیخ کھینچ دیا جائے گا ۔ تمہارے پہلے تمام جرائم بخش دیئے جائینگے ۔ اور تمہاری مایوسیوں کو رحمتوں اور بخششوں سے بدل دیا جائے گا ۔
Ayah 39:54

وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 39:54 in the Quran reader

اور اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آئے ۔ پھر تمہاری مدد نہ کی جائے اپنے رب (ف 2) کی طرف رجوع ہو اور اس کی فرمانبرداری کرو

ف 2: یہ آیت پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ مایوسی گناہ ہے ۔ اور ناامیدی کفر ہے ۔ اللہ کی مغفرت کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ اور اس کا عفو ہر معصیت پر چھا رہا ہے ۔ وہ تمام لوگ جو گناہوں کے بوجھتلے دبے ہوئے ہیں ازراہ مایوسی کفر کی راہ اختیار نہ کرلیں ۔ خدا کی طرف آئیں ۔ اس سے باتیں کریں ۔ اس کو ان گناہ گاروں سے زیادہ محبت ہے جو شرم وندامت کے احساس کے ساتھ اس کے آستانہ جلال و عظمت پر جھکتے ہیں ۔ اور وہ ان بندوں کو زیادہ پسند کرتا ہے ۔ جو بار بار اپنے نقائص کا اعتراف کرتے ہیں ۔ اور اس کی کبریائی اور رفعت کا اعلان کرتے ہیں
Ayahs 39:55–59

وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 39:55 in the Quran reader

اور اس سے پہلے کہ تم پر ناگہا عذاب (ف 3) آئے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو اس بہتر بات پرچلو جو تمہارے رب سے تمہاری طرف نازل ہوئی ہے

اَنْ تَقُوْلَ نَفْسٌ یّٰحَسْرَتٰى عَلٰى مَا فَرَّطْتُّ فِیْ جَنْۢبِ اللّٰهِ وَ اِنْ كُنْتُ لَمِنَ السّٰخِرِیْنَۙ Open ayah 39:56 in the Quran reader

ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص کہنے لگے کہ اے افسوس میری اس کوتاہی پر جو میں نے خدا کے حق میں کی ، اور البتہ میں ٹھٹھا کرنے والوں میں ہی رہا

اَوْ تَقُوْلَ لَوْ اَنَّ اللّٰهَ هَدٰىنِیْ لَكُنْتُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 39:57 in the Quran reader

یا کہنے لگے کہ اگر مجھے اللہ ہدایت کرتا ، تو میں متقیوں میں ہوتا

اَوْ تَقُوْلَ حِیْنَ تَرَى الْعَذَابَ لَوْ اَنَّ لِیْ كَرَّةً فَاَكُوْنَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 39:58 in the Quran reader

یا جب عذاب کو دیکھے کہنے لگے کاش کہ میں پھر کسی طرح دنیا میں جاؤں تو نیکوں میں ہوجاؤں

بَلٰى قَدْ جَآءَتْكَ اٰیٰتِیْ فَكَذَّبْتَ بِهَا وَ اسْتَكْبَرْتَ وَ كُنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:59 in the Quran reader

کیوں نہیں بلکہ تحقیق تیرے پاس میری آیتیں آئی تھیں تو انہیں تونے جھٹلایا اور تکبر کیا اور تو کافروں میں تھا

وہاں مہلت نہیں ملے گی 3: غرض یہ ہے ۔ کہ اللہ کے تمام احکام حسن و جمال منطق سے آراستہ ہیں ۔ ان کی اطاعت کی صورت یہ ہے کہ دنیا میں ان کے منشاء کو سمجھنے کی کوشش کی جائے ۔ ایسا نہ ہو کہ نافرمانی کے بدلے اچانک اور غیر متوقع طور پر اللہ کا عذاب آجائے ۔ اور تم اس کی تلافی نہ کرسکو ۔ جب تم پر اچانک اللہ کا عذاب آجائے ۔ اس وقت تمہیں افسوس ہو ۔ اور تم کہو کہ ہم نے کیوں اللہ کے باب میں کوتاہی سے کام لیا ۔ تمہیں اس وقت یہ خیال نہ آئے ۔ کہ اگر اللہ دنیا میں ہمیں توفیق ہدایت سے بہرہ مند کرتا ۔ تو ہم ضرور پرہیزگاری کی زندگی بسر کرتے ۔ یا تم یوں کہنے لگو ۔ کہ اگر اب کے مہلت ملے ۔ تو قطعاً صالح بننے کی کوشش کریں ۔ یاد رکھو بیداری وہ مفید ہے جو اس دنیا میں ہو ۔ اور ایمان وہ سود مند ہے ۔ جو موت سے پہلے ہو اور دیکھو تمہیں سمجھانے کے لئے ہم نے آیات اور معجزات کو پیش کیا ہے ۔ اور انبیاء اور رسولوں کو بھیجا ہے ۔ مگر یہ تمہاری بدبختی اور محرومی ہے ۔ کہ تم نے تسلیم نہیں کیا ۔ اور کبروغرور کا مظاہرہ کیا ۔ اس لئے اب اس دنیائے مکافات میں کوئی ندامت تمہیں اللہ کی گرفت سے نہیں چھڑا سکے گی ۔ حل لغات :۔ لاتقنطوا ۔ قنوط سے ہے ۔ یعنی مایوس نہ ہوجاؤ اشرقوا ۔ زیادتی کی ہے ۔ اور بےاعتدالی کا ارتکاب کیا بقیۃ ۔ اچانک غیر متوقع طور پر ۔
Ayahs 39:60–63

وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:60 in the Quran reader

اور تو قیامت کے دن انہیں دیکھے گا جو اللہ پر جھوٹ (ف 1) بولتے تھے کہ ان کے منہ سیاہ ہوں گے ۔ کیا دوزخ (ف 2) میں کافروں کا ٹھکانا نہیں ہے ؟

وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ١٘ لَا یَمَسُّهُمُ السُّوْٓءُ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 39:61 in the Quran reader

اور متقیوں کو ان کی کامیابی کے ساتھ اللہ بخت دیگا ۔ نہ تکلیف ان کے پاس پھٹکے گی اور نہ وہ غمگین ہونگے

اَللّٰهُ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ١٘ وَّ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 39:62 in the Quran reader

اللہ ہر شئے کا خالق ہے اور وہ ہر شئے پر نگہبان ہے

لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 39:63 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں ۔ اور جو اللہ کی آیتوں کے منکر ہیں وہی زیاں کار ہیں

افتراء علی اللہ کا انجام 1: اللہ کے متعلق جھوٹ بولنے کے معنے یہ ہیں ۔ کہ وہ لوگ جو اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ۔ جن سے اس کی ذات عظمت صفات انکار کرتی ہے ۔ وہ گویا غلط باتوں کو غلط عقائد کو اس کی طرف سے پھیلاتے اور مشتہر کرتے ہیں ۔ ان لوگوں کی کیفیت قیامت کے دن یہ ہوگی ۔ کہ ان کے چہرے بےنور ہونگے ۔ اور کفر وشرک کی ظلمت اور سیاہی نے ان کو بدزیب کررکھا ہوگا ۔ کیونکہ وہ دنیا میں اس نوع کے عقائد کی اس لئے اشاعت کرتے تھے ۔ کہ عوام میں ان کی عزت افزائی ہو ۔ اور موحدین کے مقابلہ میں ان کی زیادہ آؤ بھگت ہو ۔ اب مکافات عمل کے قانون کے ماتحت ان کا یہ اعزاز جس کی خاطر سے یہ لوگ کفر وشرک کی تلقین کرتے تھے ۔ تذلیل و تحقیر سے بدل دیا جائے گا ۔ اور چہرہ کی آب وتاب جاتی رہے گی ۔ ان کا غرور اور تکبر خاک میں مل جائیگا ۔ اور ان کو معلوم ہوجائے گا ۔ کہ دنیا کی وجاہت اور عزت محض بیکار ہے ۔ اس کا اعزاز یہ ہے کہ اللہ کے ہاں سرخروئی ہو ۔ اور وہ ان کے ساتھ عزت واحترام کا سلوک روا رکھے ۔ 2: جہاں یہ بتایا ہے کہ یہ منکرین جہنم میں جائیں گے ۔ اور بےآبروئی کی زندگی بسر کریں گے متقین اور پاکبازوں کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ان کو کامیابی کے ساتھ نجات سے نوازا جائے گا ۔ اور ان کی زندگی بالکل عیش اور آسودگی کی زندگی ہوگی ۔ ان کو وہاں کوئی فکر دامن گیر نہ ہوگا ۔ نہایت سکون ووقار کیس اتھ یہ لوگ اللہ کی عنایتوں سے مستفید ہوں گے ۔ اور اپنی خوش بختی پر ناز کریں گے حل لغات :۔ فرطت ۔ تقصیر وکوتاہی ۔ قفریظ سے ہے الساخیرین ۔ شخریۃ سے بمعنی استہزا
Ayahs 39:64–66

قُلْ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّیْۤ اَعْبُدُ اَیُّهَا الْجٰهِلُوْنَ Open ayah 39:64 in the Quran reader

تو کہہ اے نادانو ! کیا تم مجھے حکم دیتے ہو ۔ کہ میں غیر (ف 1) خدا کو پوجوں ؟

وَ لَقَدْ اُوْحِیَ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 39:65 in the Quran reader

اور بیشک تیری طرف اور مجھ سے اگلوں کی طرف یہ وہی نازل ہوچکی ہے کہ اگر تونے شرک کیا ۔ تو تیرے عمل ضرور اکارت جائیں گے اور تو زیانکاروں میں ہوگا

بَلِ اللّٰهَ فَاعْبُدْ وَ كُنْ مِّنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 39:66 in the Quran reader

بلکہ اللہ ہی کی عبادت کر اور شکر گزاروں میں ہو

میں کیوں بت پرستی کروں ؟ 1: جب یہ بات ثابت اور متحقق ہے ۔ کہ آسمانوں اور زمین کے اختیارات محض اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ اور وہی ہماری کائنات کا رب ہے ۔ تو پھر تم کیوں کہتے ہو ۔ کہ میں اس کو چھوڑ کر تمہارے بتوں کی پوجا کروں ۔ کیا یہ جہالت نہیں ؟ اور اس کے مقام عظمت و رفعت سے ناواقفیت کی دلیل نہیں ؟ تم مجھ سے کیوں توقع رکھتے ہو ۔ کہ میں توحید کو چھوڑ کر شرک اور بت پرستی کو قبول کرلوں گا ۔ اور تمہارے بتوں سے اسی طرح جاہلانہ عقیدت رکھوں گا ۔ جس طرح تم رکھتے ہو ۔ بات یہ ہے کہ جس طرح حضور ان لوگوں کو ایک خدا کے سامنے جھکنے کی دعوت دیتے اسی طرح یہ بھی کہتے ۔ کہ باپ دادا کی روایات کو نہ چھوڑ ۔ اور انہیں عقائد پر جمے رہو ۔ اس پر اس نوع کی آیات کا نزول ہو تاکہ میری جانب سے تمہیں قطعی مایوس ہوجانا چاہیے ۔ یہ ناممکن ہے ۔ کہ میں ایک غیر معقول عقیدہ کو قبول کرلوں ۔ اور خدائے واحد کو چھوڑدوں ۔ مجھے تو یہ بتایا گیا ہے ۔ کہ شرک تمام اعمال حسنہ کو ضائع کردیتا ہے ۔ اور اس سے بجز خسارے اور نقصان کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ میں مجبور ہوں ۔ کہ صرف اسی کی عبادت کروں ۔ اور اپنے کو اس کا شکر گزار بندہ ثابت کروں ۔ کیونکہ شرک صرف گناہ اور معصیت ہی نہیں ۔ جناب بادی میں حددرجہ گستاخی کا اظہار کرتا بھی ہے ۔ اور خود ان تمام صلاحیتوں سے محروم ہوتا ہے ۔ جو انسانی مجذو شرافت کا لازمی نتیجہ ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی وجہ سے تمام اعمال مسموم اور زہر آلود ہوجاتے ہیں ۔ اور اللہ کے حضور میں ان کی کوئی قیمت باقی نہیں رہتی ۔ حل لغات :۔ مقالید ۔ جمع مقلید ۔ بمعنی کنجیاں اور چابیاں ۔
Ayah 39:67

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ۖۗ وَ الْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌۢ بِیَمِیْنِهٖ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 39:67 in the Quran reader

اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ جانی جیسی اس کی قدر جاننی چاہیے تھی ۔ اور ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور سب آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہونگے وہ ان کے شرک سے پاک اور بلند ہے (ف 1)

ف 1: یعنی اللہ تعالیٰ کی جلالت قدر کا تقاضا تو یہ تھا ۔ کہ کسی شخصیت کو کو اس کا شریک وسہیم نہ ٹھہرایا جاتا ۔ اور اس کے عتبہ جمال پر جنبہ سائی کی جاتی ۔ مگر ان ناشنا سان جمال حقیقت نے پتھروں کے حقیر مجسموں کو اپنی عقیدت واردات کا مدارو محور قرار دے لیا ۔ اور اس طرح اس کی توہین مرتکب ہوئے وہ تنہا تمام کائنات کا رب ہے ۔ قیامت کے دن یہ وسیع و عریض زمین اور بلندوبالا آسمان اس کی مٹھی میں اور اس کے ہاتھ میں ہوں گے ۔ کیا تمہارے بتوں اور خداؤں میں یہ طاقت ہے کہ وہ اس دن اللہ کی گرفت اور پکڑ سے بچ سکیں ۔
Ayah 39:68

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیْهِ اُخْرٰى فَاِذَا هُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ Open ayah 39:68 in the Quran reader

اور صور (ف 2) پھونکا جاوے گا اور تمام زمین اور آسمان والوں کے ہوش اڑ جائیں گے مگر جس کو خدا چاہے پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا ۔ تو وہ اسی وقت کھڑے ہوجائیں گے ۔ کہ دیکھ رہے ہوں گے

ف 2: اس آیت میں نفخہ اولی اور نفخہ ثانیہ کا ذکر ہے ۔ کہ کیونکر جب پہلی دفعہ نرسنگا پھونکا جائے گا تو یہ سب لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے
Ayahs 39:69–70

وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ وَ جِایْٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 39:69 in the Quran reader

اور زمین اپنے رب کے نور سے (ف 3) چمک اٹھے گی ۔ اور اعمالنامے (ف 1) رکھے جائیں گے انبیاء اور گواہ حاضر کئے جائیں گے اور ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ ہوگا اور ان پر ظلم ہوگا

وَ وُفِّیَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُوْنَ۠ Open ayah 39:70 in the Quran reader

اور ہر نفس کو اس نے کیا ہے پورا بدلہ ملے گا اور وہ خوب جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں

ف 3: یعنی اس وقت جب سب حضرات اللہ کے حضور میں پیش ہوں گے ۔ دنیا اس کے نور سے چمک اٹھے گی ۔ 1: قیامت کے دن صحائف اعمال کو پیش کیا جائیگا ۔ اور ایک ایک سے اس کے اعمال کے متعلق پوچھا جائیگا ۔ اور گو ان کے اعمال کے موافق انکو جزا اور سزا دی جائیں گی ۔ اور کسی شخص پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا یہ آیت جہاں تک سیاق وسباق کا تعلق ہے ۔ یکسر عرصہ محشر کی کیفیت احتساب سے لعلق رکھتی ہے ۔ اس سے نبوت جدیدہ پر استدلال کرنا ۔ قرآن کے بیان سے اعراض کرنا ہے اور معاذ اللہ یہ کہنا ہے کہ قرآن کی دو آیتوں میں بھی باہمی ربط نہیں ہے ۔ حل لغات :۔ قبضتہ اور بیمینہ کے الفاظ محض تمثیل کے لئے ہیں ۔ ورنہ اس کی ذات اعضاوجوارح سے متصف نہیں فصعق سے مراد موت کی بےہوشی ہے ۔
Ayahs 39:71–73

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَتْلُوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِ رَبِّكُمْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنْ حَقَّتْ كَلِمَةُ الْعَذَابِ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 39:71 in the Quran reader

اور کافر جہنم کی طرف گروہ (ف 2) گروہ کرکے ہانکے جائیں گے ۔ یہاں تک کہ اس کے پاس آئیں گے تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے اور دوزخ کے داروغہ ان سے کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہارے ہی درمیان سے رسول نہ آئے تھے کہ وہ تمہارے رب کی آیتیں تم پر پڑھتے اور تمہارے اس دن کی (ف 3) ملاقات سے نہ ڈراتے تھے ؟ بولیں گے کیوں نہیں لیکن عذاب کا حکم کافروں پر ثابت ہوا

قِیْلَ ادْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 39:72 in the Quran reader

کہا جائے گا دوزخ کے دروازوں میں داخل ہوجاؤ۔ ہمیشہ وہاں رہو ۔ غرض متکبروں کا ٹھکانہ برا ہے

وَ سِیْقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ اِلَى الْجَنَّةِ زُمَرًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا وَ فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا وَ قَالَ لَهُمْ خَزَنَتُهَا سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْهَا خٰلِدِیْنَ Open ayah 39:73 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے تھے وہ گروہ گروہ کرکے جنت کی طرف ہانکے جائیں گے یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس آئیں گے دروازے کھولے جائیں گے ۔ اور اس کے داروغہ ان سے کہیں گے سلام (تم پر سل امتی ہو) علیکم ۔ تم خوشحال ہو سو ہمیشہ رہنے کو اس میں داخل ہو

علم الٰہی کی اکملیت 2: منکرین حق وصداقت کو گروہ در گروہ جہنم کی طرف کشاں کشاں لیجایا جائے گا ۔ اور جب وہ جہنم کے قریب پہنچ جائیں گے ۔ تو اس کے دروازے ان کے لئے کھل جائیں گے ۔ محافظ پوچھیں گے ۔ کہ کیا تمہارے پاس اللہ کے رسول نہیں آئے تھے ۔ جو تمہیں اللہ کے احکام سناتے اور آج کے دن کی اہمیت سے آگاہ کرتے ۔ وہ کہیں گے کہ ہاں پیغمبر تو تشریف لائے تھے مگر ہم نے محرومی وشقاوت کی وجہ سے ان کو تسلیم نہ کیا ۔ اور کبر و غرور میں مبتلا ہوکر ان کے پیغام کو ٹھکرایا ۔ جہنم کے محافظ فرشتے یہ سارا مکالمہ زجر وتوبیخ کے انداز میں کرینگے ۔ کہ ان لوگوں کو معلوم ہو کہ اللہ کے مرسلوں کی تکذیب کا انجام کتنا خوفناک ہوسکتا ہے ۔ اور ان کو محسوس ہو کہ اللہ کے ہاں ہمارے مال و دولت کی قدروقیمت نہیں ہے وہاں ہمارے جاہ ومنصب کی کوئی رعایت نہیں کی جاتی ۔ بلکہ اس دربار عزت و جلال میں ان لوگوں کی بات سنی جاتی ہے ۔ جن کو ہم دنیا میں ہدف استہزا بناتے تھے ۔ اس حریم قدس و عظمت میں ان کی بازیابی ہے جو دنیا میں ایمان وعمل کے زیور سے آراستہ تھے اور اس ایوان حشمت و شکوہ میں صرف وہ لوگ جگہ پاسکتے ہیں جن کو یہ فخر حاصل ہے کہ انہوں نے اپنے انبیاء سے اظہار عقیدت کیا ہے اور ان کی پیروی اور اطاعت کو باعث نجات سمجھا ہے ۔ 3: حقت کلمۃ ال عذاب سے گمراہ یہ ہے ۔ کہ ان لوگوں کے متعلق ازل فیصلہ یہ تھا کہ یہ لوگ اپنے اختیار سے خواہشات نفس کو ترجیح دیں گے اور عقبیٰ کا خیال نہیں رکھیں گے ۔ یہ گمراہ ہوں گے اور اپنے لئے عذاب کو پسند کریں گے ۔ اس لئے لازمی اور حتمی تھا کہ یہ اپنے اعمال سے اللہ کے اس اٹل علم کی تصدیق کریں ۔ اور واقعہ میں ثابت کردیں ۔ کہ حکمت اڑیسہ میں جو کچھ لکھا جاچکا تھا ۔ وہ حرف بہ حرف صحیح ہے ۔ اس انداز بیان سے غلط فہمی نہ ہو ۔ کہ اللہ کا فیصلہ ہمارے اعمال پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ اور وہ ہمیں مجبور کرتا ہے ۔ کہ ہم عملاً اس کی تصدیق کریں ۔ بلکہ ہوتا یہ ہے کہ جو کچھ ہمیں اپنے اختیارات سے کرنا ہے ۔ بلا کسی قوت آسمانی کے تعرض کے وہ اللہ پہلے سے جانتا ہے اور اس طرح جانتا ہے کہ اس میں تخمین کی غلطی نہیں ہوسکتی ۔ یہ علم بجائے خود ضرور کامل ہوتا ہے مگر یہ ہمیں مجبور نہیں کرتا کہ ہم اس کی تصدیق کے لیے کوشش کریں ۔ بلکہ یہ ایک علم کی اکملیت کا تقاضا ہے ۔ کہ ہم بالکل اسی طرح کی زندگی بسر کرتے ہیں ۔ جس طرح کہ لوح محفوظ میں ہمارے لئے مقدر ومرتسم ہے ۔ یہ ایک باریک فرق ہے ۔ جس کو نظر انداز کردینے سے اکثر غلط فہمی پیدا ہوجاتی ہے ۔ اور سمجھا جاتا ہے ۔ کہ شاید علم الٰہی ہمارے اعمال کا خودذمہ دار ہے ۔ حالانکہ ایسا نہیں ۔ ہم اپنے اعمال کے خود ذمہ دار ہیں ۔ البتہ علم الٰہی میں ہمارے اعمال کی تمام تفصیلات پہلے سے موجود ہے ۔
Ayahs 39:74–75

وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُ١ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ Open ayah 39:74 in the Quran reader

اور کہ کہیں گے سب تعریف واسطے اللہ کے ہے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچ کیا اور ہمیں اس زمین کا وارث کیا جہاں ہم چاہیں (ف 1) جنت میں رہیں ۔ سو کیا خوب بدلا ہے عمل کرنے والوں کا

وَ تَرَى الْمَلٰٓئِكَةَ حَآفِّیْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ١ۚ وَ قُضِیَ بَیْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ قِیْلَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 39:75 in the Quran reader

اور تو دیکھے گا کہ عرش کے گرد فرشتے حلقہ باندھے کھڑے ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائیگا اور کہا کہ سب تعریف اللہ کو ہی جو سارے جہان کا رب ہے

ف 1: جہاں منکرین کا استقبال زجروتوبیخ کے الفاظ سے ہوگا ۔ وہاں پاکبازوں کہ عزت واحترام کے ساتھ جنت کے دروازوں تک لایا جائے گا ۔ جب یہ دروازے ان کے خیر مقدم میں کھلیں گے ۔ تو فرشتے مسرت اور خوشی کا اظہار کرینگے ۔ اور کہیں گے کہ اللہ کی تم پر سل امتی ہو ۔ خوشحالی اور فارغ البالی سے جنت میں رہو ۔ ادھر یہ اللہ کی حمد و ستائش میں مصروف ہوجائیں گے ۔ اور اس کا شکر ادا کریں گے ۔ کہ اس نے اپنا وعدہ پورا کیا ۔ اور جنت میں ان کے لئے ہر قسم کی آسودگی مہیا کی ۔ انہیں آزادی بخشی ۔ کہ جہاں چاہیں اپنے لئے تمام تجویز کرلیں ۔ حل لغات :۔ زمرا ۔ جمع زمرہ آدمیوں کے متفرق گروہ ۔ گروہ درگروہ خزنتھا ۔ محافظ حافین ۔ گھیرا ڈالے ہونگے ۔ حف یحف سے ہے