38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsسراج البیان

Ayahs 38:73–84

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 38:73 in the Quran reader

پھر سب فرشتوں نے اکٹھے (ف 1) ہوکر اسے سجدہ کیا

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 38:74 in the Quran reader

مگر ابلیس نے تکبر کیا اور وہ منکروں میں تھا

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ Open ayah 38:75 in the Quran reader

فرمایا اے ابلیس جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پیدا کیا اسے سجدہ کرنے سے تجھے کس نے روکا ؟ کیا تونے تکبر کیا یا تو اونچے لوگوں میں سے ہے ؟

قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ؕ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 38:76 in the Quran reader

بولا میں اس سے بہتر ہوں مجھے تونے آگ سے پیدا کیا اور اسے مٹی سے بنایا ہے

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۚۖ Open ayah 38:77 in the Quran reader

فرمایا تو یہاں سے نکل کہ تو مزدور ہوا

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ لَعْنَتِیْۤ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 38:78 in the Quran reader

اور کچھ شک نہیں کہ انصاف کے دن تک تجھ پر میری پھٹکار ہے

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 38:79 in the Quran reader

بولا اے رب اس دن تک مہلت دے کہ مردے اٹھا کر کھڑے کئے جائیں

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 38:80 in the Quran reader

فرمایا تجھے مہلت ملی

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 38:81 in the Quran reader

البتہ اس وقت کے دن تک جو معلوم ہے

قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 38:82 in the Quran reader

بولا تو تیری عزت کی قسم کہ میں ان سب کو گمراہ کروں گا

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 38:83 in the Quran reader

مگر جو تیرے چنے ہوئے بندے ہیں (وہ میرے قابو کے نہیں)

قَالَ فَالْحَقُّ١٘ وَ الْحَقَّ اَقُوْلُۚ Open ayah 38:84 in the Quran reader

فرمایا تو ٹھیک بات یہ ہے اور میں ٹھیک ہی بات کہتا ہوں

اللہ کے نائب کا عہدہ 1: یہ اس وقت کی بات ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ انسان کو وجود کی نعمت سے بہرہ ور کرنے کو تھا ۔ جب یہ طے ہورہا تھا ۔ کہ اس ظلوم وجہول کے کندھے پر خلافت عظمی کا بار رکھا جائے ۔ جب ملاء اعلیٰ کے روحانی نعمتوں سے معمور تھا ۔ اور اخلاق اکبر کو یہ منظور تھا ۔ کہ زمین کو بشر کی ہنگامہ آرائیوں کا مرکز بنایا جائے ۔ اس وقت اس میں خودداری و عظمت کا جذبہ بیدار کرنے اور زمین میں بہترین غائب بنانے کے لئے یہ ضروری قرار دیا گیا ۔ کہ طاء اعلیٰ کو اس کے سامنے جھکایا جائے اور اس کی بتلایا جائے ۔ کہ دنیا میں جانے کا مقصد تسخیر کائنات ہے ۔ تم اس لئے خلعت وجود سے نوازے جارہے ہو ۔ تاکہ قدرت کی بلند ترین اور پاکیزہ ترین قوتوں کو اپنے سامنے جھکاؤ۔ اور خود صرف اللہ کے سامنے جھکو ۔ یہ انداز بیان (اسی لئے) اختیار کیا گیا ہے ۔ کہ موجودہ انسان اپنی رفعتوں اور عظمتوں کا صحیح صحیح اندازہ کرسکے ۔ فرمایا کہ جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا ۔ کہ دیکھو میں مٹی سے ایک انسان بنانیوالا ہوں ۔ جب میں اس کو بنالوں اور اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دوں ۔ تو تمہیں یہ زیبا ہے ۔ کہ اس کے احترام میں اس کے روبرو سجدہ میں گرپڑتا ۔ چناچہ تمام قدسیاں حریم ، عزت و جلال نے آدم کے سامنے سرتسلیم خم کردیا ۔ اور نہایت عقیدت سے اس کے سامنے جھک گئے ۔ مگر ابلیس نے انکار کیا ۔ اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محرومی وشقاوت کو خرید لیا ۔ اس کے انکار سے معلوم ہوتا ہے ۔ کہ یہ حکم سے پہلے اس قابل ضرور تھا ۔ کہ فرشتوں کے ساتھ اسے بھی سجدہکا مکلف قرار دیاجائے ۔ اس کے بعد محض اپنی سرکشی سے وہ ابلیس بنا ہے ۔ اور کبر و غرور سے تتیطنت کی مسند پر بیٹھا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے نیک ہی پیدا کیا تھا ۔ اور اس کے مناسب بھی یہی تھا ۔ کہ وہ فرشتوں کے ساتھ ساتھ خدا کی اطاعت کا ثبوت دے ۔ مگر اعجاب نفس کے مرض نے اسے ہلاکت کے گڑھے میں پھینک دیا ۔ اور دائما غضب الٰہی کا اسے مورد ٹھہرایا ۔ حل لغات :۔ من روحی ۔ میری روح ۔ نسبت محض تشریف وتفضل کے لئے ہے بیدی ۔ یعنی قدرت کاملہ سے ۔
Ayahs 38:85–88

لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَ مِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 38:85 in the Quran reader

کہ میں تجھ سے اور جو کوئی ان میں سے تیرے تابع ہوگا ان سب سے ضرور دوزخ کو بھروں (ف 1) گا

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ Open ayah 38:86 in the Quran reader

تو کہہ اس پر تم سے کچھ مزدوری نہیں مانگتا اور میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 38:87 in the Quran reader

یہ تو سارے جہان والوں کے لئے ایک نصیحت ہے

وَ لَتَعْلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعْدَ حِیْنٍ۠ Open ayah 38:88 in the Quran reader

اور ایک وقت کے بعد تم اس کی خبر معلوم کروگے

شیطان نے کیوں گستاخی کی 1: شیطان کے انکار سے طبیعتوں میں یہ شبہ پیدا ہوتا تھا ۔ کہ اس کو اس کے قرب کے باوجود اور یہ جانتے ہوئے ۔ کہ اللہ کے حکموں کی مخالفت کی سزا کتنی سخت ہوسکتی ہے ۔ یہ جرات کیسے ہوئی ۔ کہ صاف صاف بغاوت کا اظہار کرے ۔ اور خدا کے حضور میں برملا کہہ دے ۔ کہ میں آپ کے اس حکم کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہوں ۔ جہاں تک گناہوں کی نفسیات کا تعلق ہے ۔ ان کی وجہ یہ ہوئی ہے ۔ کہ انسان کو ان کے خوفناک نتائج کا قطعی علم نہیں ہوتا ۔ اور اللہ پر بحکم اور مضبوط ایمان نہیں ہوتا ۔ اور اگر نتائج کے متعلق یقینی علم ہو ۔ تو پھر معصیت پر جسارت کا حوصلہ کم ہوتا ہے ۔ کیا وہ شخص جس کے سامنے سمندر متلاطم ہو ۔ اس میں کود سکتا ہے ۔ جو اپنی آنکھوں کے سامنے آگ کا الاؤ دیکھ رہا ہو ۔ کیا وہ اس میں اپنے کو جھونک سکتا ہے ؟ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص سوراخ میں بچھو یا سانپ اپنی آنکھ سے دیکھے اور بھر اس میں اپنی انگلی ڈال دے اگر یہ ممکن نہیں ہے ۔ تو پھر یہ کیونکر ہوسکتا ہے ۔ کہ شیطان جس کو خدا سے حددرجہ قرب حاصل تھا ۔ خدا کی گفتگو کو سنتا تھا ۔ اور محسوس کرتا تھا ۔ کہ وہ اپنی جلالت قدر اور عظمت میں کتنا بڑا ہے ۔ اور یہ بھی جانتا تھا ۔ کہ اس کی مخالفت کے معنے اس کے غضب واقتدار کو آزمانا ہے ۔ اس کی مخالفت پر آمادہ ہوجائے ۔ اور یک بیک باغی ہوجائے ۔ اور جرات کے ساتھ کہہ دے کہ میں آدم کے سامنے نہیں جھک سکتا ؟۔ ان آیتوں میں اللہ نے اتنی بڑی گستاخی اور اتنی بڑی جسارت کا سبب بتادیا ہے ۔ بات یہ ہے کہ باوجود قرب اور حضوری کے ہزاروں ایسے حجاب ہیں جو درمیان میں حائل ہیں ۔ یہ درست ہے کہ شیطان ہم سے زیادہ مقام تزلف پر فائز تھا ۔ مگر اسی تناسب کے ساتھ اس میں اور اللہ میں حجابات بھی زیادہ تھے اور وہ جس حجاب کی وجہ سے اس تقرب سے محروم ہوا ۔ وہ حجاب کبروغرور ہے ۔ اس نے اس کے مرتبہ ومقام کو اس کے ذہن سے اوجھل کردیا ۔ اس کی وجہ سے یہ بھول گیا ۔ کہ میں اس وقت کس جناب عالی وقار سے گفتگو کررہا ہوں ۔ اس لئے گستاخی کا مرتکب ہوا ۔ اور مردود قرار پایا ہوسکتا ہے یہ گفتگو ان معنشوں میں نہ ہو ۔ جن میں ہم سمجھتے ہیں ۔ اور صرف یہ بتانا مقصود ہو کہ جہاں تک مقتضائے طبیعت ہے ۔ دنیائے کون میں دو طرح کے عناصر ہیں ۔ ایک وہ ہیں جو انسان کے تابع اور مسخر ہیں ۔ یا اسکا اس کے عزائم خیر میں ساتھ دیتے ہیں اور دوسرے طبعات اس کے مخالف اور سرکش وباغی ہیں ۔ خدا کے نیک بندوں کا فرض یہ ہے کہ وہ نیابت الٰہیہ کے فرض کو خوبی کے ساتھ انجام دیں ۔ اور ہر دو قسم کے عناصر پر قبضہ وقدرت حاصل کرلے ۔ واضح رہے کہ شکایت حال وطبیعت کے لئے بھی قال وقیل کے الفاظ عربی میں مستعمل ہیں ۔ جیسے اذا متلاء الحوض قال قطنی اس لئے یہ توجیہہ بھی لائق اغناء ہے ۔ اس طرح گویا قصہ کی یہ نوعیت ہی بدل جائے گی ۔ اور مدعا یہ قرار پائیگا ۔ کہ رب فاطر انسان کو اس مکالمہ کے ذریعہ اس کی عزت اور اس کے مقام اور مرتبہ سے آگاہ کرنا اور اس میں تفوق و برتری کے احساسات پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ حل لغات :۔ رجیم ۔ مرود انظرنی ۔ مجھے مہلت دیجئے من المتکلفین ۔ یعنی میں جس سیرت کا اظہار کر رہا ہوں ۔ اس میں سراسر حقیقت اور واقیت ہی ہے نمائش اور بناوٹ کو اصلا دخل نہیں