38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsسراج البیان

Ayahs 38:41–47

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اور ہمارے بندہ ایوب (ف 1) کو یاد کر جب اس نے اپنے رب کو پکارا کہ شیطان نے مجھ کو ایذا اور تکلیف لگادی ہے

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

اپنا پاؤں زمین پر مار یہ نہانے اور پینے کا ٹھنڈا چشمہ ہے

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

اور ہم نے اس کے گھر والے اسے بخش دیئے اور ان کے ساتھ اسے اتنی ہی اور بھی اپنی طرف کی مہربانی سے اور عقلمندوں کے لئے یادگار

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

اور اپنے ہاتھ میں جھاڑو لے ۔ پھر اس سے (اپنی عورت کو) مارا اور قسم میں جھوٹا نہ ہو ۔ ہم نے ان کو صابر پایا دیا وہ بہت اچھا بندہ تھا رجوع رہنے والا

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یقوب کو یاد کر جو ہاتھوں اور آنکھوں والے تھے (یعنی قوت و دانائی)

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

ہم نے انہیں ایک پاک خصلت کے لئے منتخب کیا وہ آخرت کی یاد تھی

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

اور بیشک وہ سب ہمارے نزدیک چنے ہوئے نیک لوگوں میں سے ہیں

ف 1: ان تمام قصوں سے مقصد یہ ہے ۔ کہ حضور ﷺ کی تسکین خاطر کا سامان مہیا کیا جائے ۔ آپ کو بتایا جائے ۔ کہ نبوت کے لئے فقرواخلاص ضروری نہیں ہے ۔ حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کو دیکھئے ۔ کہ کیونکر اللہ تعالیٰ نے ان کو مال و دولت اور جاہ و حشمت سے نواز رکھا تھا ۔ پھر یہ بھی ضروری نہیں ۔ کہ انبیاء آسودگی اور تنعم کی زندگی ہی بسر کریں ۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) کو دیکھئے کہ وہ کس قدر تکلیف میں مبتلا ہوئے ۔ مگر پھر بھی دامن صبروشکر کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا ۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) قصہ یہ تھا کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) بیمار ہوگئے ۔ اور بیماری نے یہاں تک طول کھینچا کہ اہل و عیال بھی گھبراگئے ۔ اور بالآخر ان کو چھوڑ کر چل دیئے ۔ اس حالت میں بھی ایوب دعا وشکر اور کار و ستائش میں مصروف رہے اللہ تعالیٰ نے اپنے صابر بندے کی دعا کو سن لیا ۔ اور بیماری کو صحت و توانائی سے بدل دیا ۔ ایک چشمہ بخشا پاؤں کی ٹھوکر سے ابلا ۔ اور حضرت ایوب اس میں نہا کر بالکل تندرست ہوگئے پھر اہل و عیال کے لوگ بھی حسب دستور واپس آگئے ۔ اور حضرت ایوب امن وسعادت کی زندگی بسر کرنے لگے ۔ ایک خلش دل میں باقی تھی اور وہ یہ تھی کہ بیماری کی حالت میں اپنی بیوی کے متعلق قسم کھاچکے تھے کہ اس کو اس کی ناشکری اور خدمت گزاری کی سزا دینگے اور ماریں گے ۔ مگر اب دل نہ چاہتا تھا ۔ کہ قسم کو پورا کریں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ سینکریں کا ایک مٹھا لو اور اس سے مار کر قسم کو پورا کرلو ۔ اس سے تم اپنی قسم کو بھی پورا کرسکوگے ۔ اور تمہاری بیوی کو دکھ بھی نہیں پہنچے گا ۔ چناچہ حضرت ایوب نے اس تدبیر پر عمل کیا اور سوگند شکنی کے ارتکاب سے بچ گئے ۔ اس واقعہ سے فقہائے متاخرین نے ایسے علامات پیدا کئے ہیں کہ العیاذ باللہ پورا نظام شرعی ہی تباہ ہوجاتا ہے ۔ اور ہر حکم میں اس طرح کی لچک پیدا ہوجاتی ہے ۔ کہ اس کو اپنی خواہشات کے مطابق بنا سکیں ۔ اصل میں اس باب میں ایک اصولی چیز کو بالکل نظر انداز کردیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ شریعت اسلامی میں سہولت وآسانی مقدر ہے اگر الفاظ میں اس طرح کی گنجائش ہو ۔ کہ کوئی شخص مشکلات سے بچ سکے ۔ تو اسلام اس مدد کرتا ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ شریعت اسلامی کے احکام کو ایک قسم کا بار سمجھ لیا جائے ۔ اور اس سے گردن چھڑانے کے لئے حیلے تراشے جائیں ۔ حضرت ایوب کے قصہ میں کسی حکم شرعی کے ازار کے لئے کوئی تدبیر نہیں سوچی گئی ہے ۔ بلکہ اسی بات پر غور کیا گیا ہے کہ کیونکر حضرت ایوب کے الفاظ کو بہترین اور مفید شکل میں استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ دونوں زاویہ نگاہ کا بہت بڑا فرق ہے ۔ حل لغات : مقربین ۔ بندھے ہوئے مسنی الشیطن ۔ یعنی میں بیمار ہوگیا ہوں ۔ مگر جب بیماری کو شیطان کی طرف منصوب کرتے ہیں یختل نہانے کی جگہ صغنا ۔ سینکوں کا مٹھا ۔
Ayahs 38:48–49

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور اسمعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو یاد کر اور ہر ایک نیکوں (ف 1) میں سے تھا

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

یہ ایک نصیحت ہے اور بیشک متقیوں کا اچھا ٹھکانہ ہے

انبیاء سب سے بہتر ہوتے ہیں 1: قرآن حکیم نے منصب نبوت کو ان معنوں میں پیش فرمایا ہے ۔ کہ نام ہے فضیلت وخیر کے آخری نقطہ ارتقاء کا پیغمبر وہ ہے جو انسانیت کے لئے پورا پورا نمونہ ہو جو جسم وروح کے لحاظ سے اعلیٰ درجے کا توازن پیش کرنے والا ہو جس میں انسان کو وہ سب کچھ مل جائے جس کا وہ خواستگار ہو جو کردار اور سیرت کے لحاظ سے دوسرے کے لئے لائق اطاعت وتقلید ہو ۔ اور جس کے چہرہ انور میں ہر نوع کی تابانی ہو یعنی کل من الانبیاء کا صاف مفہوم ہے کہ تمام پیغمبر خیر محض ہوتے ہیں ۔ ان میں ان جلو وں کی کثرت وفراوانی ہوتی ہے ۔ جن کا تعلق کمالات انسانی سے ہے ۔ اور یہ اپنے زمانے اور ماحول کی مناسبت سے تمام تاریک دنیا کو پیغام کو رد یتے اور قلوب میں روشنی پیدا کرتے ہیں ۔
Ayahs 38:50–57

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

ہمیشہ رہنے کے باغ (ف 2) (کہ) ان کے لئے دروازے کھول رکھے ہونگے

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

ان میں تکیے لگائے بیٹھے ہیں اور وہاں بہت سے میوے اور شراب منگوائیں گے

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی ہم عمر عورتیں ہیں

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

یہ وہ ہی جس کا تم حساب کے دن وعدہ دیئے جاتے ہو

اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ Open ayah 38:54 in the Quran reader

بیشک یہ ہمارا رزق ہے جس کو نبڑنا نہیں

هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:55 in the Quran reader

یہ سن چکے اور بیشک سرکشوں کا برا ٹھکانہ ہے

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 38:56 in the Quran reader

دوزخ جس میں وہ داخل ہونگے سو کیا بری آرامگاہ ہے

هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ Open ayah 38:57 in the Quran reader

یہ (عذاب) ہے اب اسے چکھو ۔ کھولتا پانی اور پیپ

اہل جنت 2: ان آیتوں میں پاکبازوں کے لئے حسن مآب کا وعدہ ہے ۔ جنہوں نے دنیا میں خدا کے دین کی اشاعت کے لئے ہر نوع کی لذتوں کو ٹھکرایا ہے اور اپنے کو مصائب ومشکلات کا ہدف بنائے رکھا ہے جنہوں نے نفس کو خواہشات سے روکا ہے ۔ اور جذبات کی کڑی نگرانی کی ہے ۔ جنہوں کے دل کو اس طرح اللہ کے حکموں کے ماتحت کرلیا ہے ۔ کہ وہ بغاوت سرکشی اور آمادہ نہیں ہوتا ۔ جنہوں نے ایمان محکم کی نعمت کو پالیا ہے اور اعمال صالحہ سے بہرہ مندی حاصل کی ہے ۔ ہاں وہ جنہوں نے روح وقلب کی نورانیت کے لئے ان تمام منزلوں سے گزرنا گوارا کرلیا ۔ جو لومتہ الائم کے اذیت وہ کانٹوں سے اٹی پڑی تھیں ۔ ان پاک اور بلند ہمت نفوس کے لئے اللہ کے ہاں نہایت خوشگوار زندگی ہے ۔ وہاں روح وجسم کی تمام آسائشوں کا سامان ہے ۔ وہاں باغات ہیں جو سدا شاداب رہیں گے ۔ جن کے دروازے ان کے لئے کھلے ہونگے ۔ اور یہ بلا روک ٹوک ان میں داخل ہونگے ۔ ان باغہائے نعمت میں یہ لوگ اطمینان ووقار کے ساتھ تکیہ کے سہارے بیٹھے ہونگے ۔ یہ بوقلمون توا کہ سے اپنے کام وذہن کی تواضع کرینگے ۔ پینے کے لئے عمدہ عمدہ چیزیں ہونگی ۔ اور تسکین نفس کے لئے ہم سن اور ہم مذاق خواتین ہونگی ۔ جن کی نگاہیں صرف اپنے چاہنے والوں کے چہروں پر مرکوز ہونگی ۔ گویا وہاں نفس اور قلب کی ہر آسائش اور ہر آسودگی کا خیال رکھا جائیگا ۔ کوئی خلش نہیں ہوگی ۔ اور نہ کوئی غلجان باقی رہیگا ۔ ساری حسرتیں نکلیں گی ۔ اور سب ارمان پورے ہونگے ۔ حل لغات :۔ افواب ۔ فوب کی جمع ہے ۔ ہم سن ۔ ہم عمر ۔ دودستان ۔
Ayah 38:58

وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ Open ayah 38:58 in the Quran reader

اور اسی طرح کے اور مختلف (ف 1) عذاب ہیں

ف 1: ان آیات کے بعد ان لوگوں کا ذکر ہے ۔ جنہوں نے دنیا میں خدا کو نہیں پہچانا ۔ اور سرکشی وبغاوت سے کام لیا ۔ جنہوں نے عقبیٰ پر اس متاع غرور کو ترجیح دی ۔ اور جنہوں نے ہمیشہ اللہ کے دین کو ٹھکرایا ۔ ان لوگوں کے لئے بدترین ٹھکانہ اور بدترین سزائیں ہیں ۔ انہوں نے دنیا میں عاجل کو مقدم جانا ۔ اور آجل سے غفلت اختیار کی ۔ اس لئے انہیں وہاں سب کچھ دیدیا گیا ہے ۔ جس کے یہ طالب تھے ۔ اور آخرت کی نعمتیں ان سے چھین لی گئیں ۔
Ayahs 38:59–62

هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ Open ayah 38:59 in the Quran reader

یہ اہل دوزخ کی ایک فوج ہے کہ تمہارے ساتھ گھس آتی ہے ۔ انہیں خوشی نصیب نہ ہو یہ آگ میں جانے والے ہیں (ف 2)

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 38:60 in the Quran reader

وہ کہیں گے بلکہ تم ہی ہو کہ تم کو خوشی نصیب نہ ہو ۔ تم ہی تو یہ بلا ہمارے پیش لائے ہو بری قرار گاہ ہے

قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ Open ayah 38:61 in the Quran reader

کہیں گے اے ہمارے رب جو کوئی بلا ہمارے آگے لایا ہے آگ میں اس کا وہ چند عذاب بڑھا دے

وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ Open ayah 38:62 in the Quran reader

اور کہیں گے ہمیں کیا ہوا کہ ہمیں وہ آدمی نظر نہیں آتے ۔ جنہیں ہم شریروں میں شمار کرتے تھے

اہل جہنم کی غلط فہمی 2: قیامت میں جب یہ لوگ دیکھیں گے ۔ کہ جنہوں نے مسلمانوں کو بیحد تکلیفیں پہنچائی تھیں ۔ ہمارے ساتھ جہنم میں نہیں ہیں ۔ تو ازراہ تعجب وحیرت ایک دوسرے سے دریافت کرینگے کہ وہ لوگ جنہیں ہم دنیا میں مفسد اور شریر کہتے تھے ۔ اور جن سے ہم مذاق کرتے تھے ۔ آج کہاں ہیں ۔ حل لغات :۔ نفاذ ۔ کم ہوجانا ۔ ختم ہوجانا المھاد ۔ جگہ حمیم ۔ گرم پانی غشاق گدلا اور غیر مصفی پانی ۔
Ayahs 38:63–72

اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ Open ayah 38:63 in the Quran reader

کیا ہم نے انہیں ٹھٹھے میں اڑا دیا تھا یا ان پر ہماری نظر (ف 1) نہیں جمتی ؟

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ Open ayah 38:64 in the Quran reader

بیشک یہ حق بات ہے ، یعنی دوزخیوں کا آپس میں جھگڑنا

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ Open ayah 38:65 in the Quran reader

تو کہہ میں تو صرف ڈرانے والا ہوں اور سوائے اللہ کے جو اکیلا زبردست ہے اور کوئی معبود نہیں

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 38:66 in the Quran reader

وہ آسمانوں اور زمین کا اور جو ان میں ہے اس کا رب ہے زبردست گناہ بخشنے والا

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ Open ayah 38:67 in the Quran reader

تو کہہ یہ ایک بڑی خبر ہے

اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ Open ayah 38:68 in the Quran reader

کہ تم اس کو دھیان میں نہیں لاتے

مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 38:69 in the Quran reader

مجھے اوپر والی مجلس کی کچھ خبر نہ تھی ۔ جب وہ جھگڑتے تھے

اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 38:70 in the Quran reader

میری طرف تو یہی وحی آتی ہے کہ میں صرف کھول کر ڈرانے والا ہوں

اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ Open ayah 38:71 in the Quran reader

جب تیرے رب نے فرشتوں کو کہا کہ میں مٹی سے ایک انسان پیدا کرنے والا ہوں

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 38:72 in the Quran reader

پھر جب میں اسے ٹھیک بناچکا ہوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم اس کے آگے سجدہ میں گرپڑنا

ف 1: کیا بات ہے ہم ان کو نہیں دیکھتے ہیں یا یہ کہ ہماری نظروں میں کچھ فتور ہے ؟ یعنی دنیا میں تو انہیں اپنے ماں اور ذہنی دولت پر ناز تھا ۔ اپنے اعمال اور اپنی سمجھ پر غرہ تھا ۔ ان کو یقین تھا ۔ کہ ہم امن وصلاح کے حامی ہیں ۔ اور یہ مسلمان حقیر اور ذلیل ہیں ۔ مفلس اور غریب ہیں ۔ یہ خواہ مخواہ اسلام کو پھیلا کر گویا فتنوں اور اختلافات کو بڑھاتے ہیں ۔ اس لئے ان کا ٹھکانا جہنم ہوگا ۔ اور ہم جنت میں جائیں گے ؟ مگر یہاں معاملہ بالکل خلاف ہوگا ۔ یہ لوگ اپنے غرور نفس اور خدع و فریب میں مبتلا اپنے کو جہنم میں پائیں گے ۔ اور یہ دیکھ کر مسلمان یہاں نہیں ہیں ۔ سخت بوکھلائیں گے ۔ اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں گی اور ان کو معلوم ہوگا ۔ کہ اللہ کے نزدیک مسلمانوں کی کیا قدروقیمت ہے ۔ اس وقت یہ محسوس کریں گے ۔ کہ یہ محرومی سعادت و فلاح سے محرومی ہے ۔ مگر ” ولات حین مناص “ فرمایا یہ مکالمہ اور تخاصم جو اہل نار کے مابین ہوگا ۔ یہ قطعی اور حتمی ہے ۔ اور اس کو بیان کرتا اس بات کی دلیل ہے ۔ کہ حضور ﷺ کو بذریعہ وحی والہام یہ سب کچھ بتلایا گیا ہے ۔ ورنہ انسانی علم کی کوتاہی کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ وہ ان احوال و کوائف کے متعلق کچھ نہ جان سکے ۔ حل لغات :۔ سخریا ۔ ہدف استہزائ القھار ۔ غالب ۔ بااقتدار تخاصم ۔ آپس میں لڑنا جھگڑنا