33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsسراج البیان

Ayahs 33:40–45

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 33:40 in the Quran reader

محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں ہے لیکن اللہ کا رسول ﷺ اور ختم کرنے والا تمام (ف 1) نبیوں کا اور ہے ۔ اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ Open ayah 33:41 in the Quran reader

مومنو ! کثرت سے اللہ کو یاد کرو

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 33:42 in the Quran reader

اور صبح او شام اس کی تسبیح کرو

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا Open ayah 33:43 in the Quran reader

وہی ہے کہ تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تاکہ تمہیں تاریکیوں سے روشنی میں لائے اور ایمانداروں پر مہربان ہے

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

جس دن ان سے ملیں گے ان کی دعا خیر سلام ہوگی اور اس نے ان کے لئے عزت کا اجر تیار کیا ہے

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 33:45 in the Quran reader

اے نبی ہم نے تجھے گواہ اور بشارت دینے والا بنا کر بھیجا ہے

عقیدہ ختم نبوت ایجابی حقیقت ہے 1: اس آیت میں تین باتیں بیان کی گئی ہیں ۔ ایک یہ کہ آئندہ حضور ﷺ کو ابوزید نہ کہو ، وہ تم سے کسی صلبی فرزند کے باپ نہیں ہیں ۔ دوسرے یہ کہ وہ روحانی ابوت کے مشرف سے ضرور بہرہ ور ہیں ۔ اور تم میں ہر مومن ان کا بیٹا ہے ۔ اور تیسرے یہ کہ ابوت صرف تم تک نہیں ہے ۔ بلکہ تاقیام قیامت جاری رہے گی ۔ اور تمام فرزندان توحید کو شامل ہوگی ۔ کیونکہ آپ اللہ کے آخری پیغمبر ہیں ۔ جن کے بعد کوئی دوسری رسالت یا ابوت نہیں ۔ جس کی جانب مسلمان اپنے کو منسوب کرسکیں ۔ آپ نبوت کا وہ آخری اور انتہائی کمال ہیں ۔ جس کے بعد یہ تخیل تکمیل پذیر ہوجاتا ہے ۔ اور مزید رشدوہدایات کے پروگرام کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔ حل لغات :۔ خاتم شھین ۔ الحکم الابن سید میں ہے ۔ خاتم کل شیء وخابقتہ اور خاتم ، تماتہ ہر شئے کے انجام اور آخر کو کہا جاتا ہے نسان العرب میں اسے خانتھما طرھم خاتم کے معنی ہیں آخر حجاج کہتا ہے ع متبارک الاغیاء خاتم ۔ وہ مبارک ہے انبیاء کو ختم کرنے والا ہے ۔ یہ آیت اسلامی عقائد میں خاص اہمیت رکھتی ہے ۔ اس کے معنے یہ ہیں ۔ کہ مسلمان کے حضور کی تعلیمات کی موجودگی میں اب کسی حالت منتظرہ کا متمنی نہیں ہے اس کو قیامت تک بالکل دل جمعی اور اطمینان حاصل ہے ۔ کہ میں صراط مستقیم پر گامزن ہوں اور کسی وقت بھی مجھے تجدیددین کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا یہ عقیدہ ایک ایجابی حقیقت کا آئینہ دار ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ اسلام مکمل ہے ۔ اور خدائی بادشاہت کا نظریہ تکمیل واتمام کی تمام منزلیں طے کرچکا ہے اس کے سمجھنے کے لئے اور اس پر عمل پیرا ہونے کے لئے کسی نبوت جدیدہ اور رسالت مستحذلہ کی ضرورت نہیں ۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مسلمان کے پاس کتاب وسنت کی مشعل نور رہے گی ۔ اور وہ اس سے براہ راست استفادہ کرتا رہیگا ۔ اسلام کے آفتاب صداقت کے طوع ہوجانے کے بعد صبح تک اور کسی چراغ راہ کی ضرورت نہیں ۔ کیونکہ حضور ﷺ کی نبوت کا فیضان باقی اور دائمی ہے آپ کی ابوت ہمیشہ آپ کے روحانی بٹیوں کے لئے وجہ تسکین رہے گی ۔ اور آپ بحیثیت ایک تصویر اور سیرت کے کبھی اپنے عقیدت کیشوں سے اوجھل نہیں ہوسکیں گے ۔
Ayahs 33:46–48

وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا Open ayah 33:46 in the Quran reader

اور خدا کی طرف اس کے حکم سے بلانے والا اور روشن (ف 1) چراغ

وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا Open ayah 33:47 in the Quran reader

اور مومنوں کو بشارت دے کہ ان کے لئے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے

وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:48 in the Quran reader

اور کافروں اور منافقوں کا کہا نہ مان اور چھوڑ دے ان کا ستانا اور اللہ پر بھروسہ (ف 2) رکھ اور اللہ کار ساز کافی ہے

حضور ﷺ کے چار منصب 1: اس آیت میں جناب رسالت مآب کے چار منصب بیان کئے گئے ہیں :۔ (1) آپ شاہد ہیں یعنی جو کچھ کہتے ہیں اور جس چیز کو پیش کرتے ہیں ۔ وہ آپ کا وجدانی تجزیہ ہے کیونکہ آپ حق وصداقت کی منزل تک عقل و استدلال کی راہوں سے نہیں پہنچتے ہیں ۔ بلکہ مشاہدہ واحساس کے ذریعے آپ نے رسائی حاصل کی ہے ۔ (2) حضور ﷺ سے پہلے جس قدر انبیاء مبعوث ہوئے ان کے سلوب بیان پر یا تو بشارت کا رنگ غالب تھا یا انداز کا ۔ یا تو ان کے پیغام کا غالب حظہ یہ ہو تاکہ وہ لوگوں کو خدا کی بادشاہت کی خوشخبری سنائیں اور یا گناہ کے عواقب سے آگاہ کریں مگر حضور بیک وقت بشیر اور نذیر تھے ۔ آپ نے ایک ہی وقت میں تناسب کے ساتھ فتح و کامرانی کا مژدہ بھی سنایا ہے ۔ اور خدا کے عذاب کی دھمکی بھی دی ہے آپ نے ایک ساتھ مومنین کو رضت وار تقاء کی منزلوں پر گامزن بھی فرمایا ہے ۔ اور مخالفوں کو موت کے گھاٹ بھی اتارا ہے ۔ یعنی آپ میں جمالی اور جلال کا بہترین توازن تھا ۔ (3) آپ کی مرکزی تعلیم یہ تھی کہ مخلوق کو خالق کی چوکھٹ پر جھکا دیا جائے ۔ اور عملاً دنیا کو شرک کی آرائیشوں سے پاک کردیا جائے ۔ اس لئے آپ داعی الی اللہ تھے (4) سراج منیر ہونے کے معنے یہ ہیں ۔ کہ آپ کا سلسلہ فیض تمام انبیا سے زیادہ وسیع ہے ۔ اور آپ اس قابل ہیں کہ دل کی قندیلوں کو روشن کرنے کے لئے آپ سے کسب ضو کیا جائے ۔ 2: غرض یہ ہے کہ مسلمان خوش وخرم رہیں ۔ اطمینان رکھیں ۔ کہ عنقریب اللہ کی طرف سے ان پر فضل وکرم کی بارش ہونے والی ہے اور ان کی مایوسیاں امیدوں سے بدلنے کو ہیں ۔ فلا تطع الکفرین سے مقصود انشاء نہیں ہے ۔ بلکہ خبر ہے یعنی حضور ﷺ سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ان منکران حق اور منافقین کی خواہشات کفروانکار احترام کریں گے ۔ غلط ہے ۔ حل لغات :۔ شاھدا ۔ گواہ
Ayah 33:49

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:49 in the Quran reader

مومنو ! جب تم ایماندار عورتوں سے نکاح کرو پھر تم انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دیدو تو تم کو ان پر عدت بیٹھانے کا کچھ حق نہیں کہ ان سے شمار عدت پوری کراؤ۔ سو تم انہیں کچھ فائدہ دو اور اچھی (ف 1) طرح سے رخصت کردو

ف 1: اس آیت کی قبل کی آیات میں حضور ﷺ کو بتالای گیا تھا ۔ کہ آپ کے تعلقات آپ کے حرم کے ساتھ کس طرح کے ہونے چاہئیں ۔ اور اس میں یہ بتایا کہ خود مومنین اپنے سامنے کیا لائحہ عمل رکھیں ارشادہ ہے ۔ کہ اگر تم عورت کو حساس سے قبل طلادے دو ۔ تو ان پر عدت واجب نہیں ۔ اور تمہارے لئے یہ موزوں ہے کہ ان کو جب رخصت کرو تو کچھ مال ومتاع دے کر اور اس طرح کہ اس کو جمیل کہا جاسکے ۔ یعنی جب یہ عورت جس کے ساتھ تمہارے تعلقات زیادہ گہرے نہیں ہیں ۔ تمہارے اعتقات کی اس درجہ مستحق ہے ۔ کہ اس کو عزت واحترام کے ساتھ چھوڑنا لازم ہے ۔ تو پھر ان عورتوں کے ساتھ تمہارا حسن سلوک کس درجہ کا ہونا چاہئے ۔ جو تم سے وابستہ ہیں ۔ اور تمہاری محبت میں سرشار ہیں ۔ اسلام اصل میں یہ چاہتا ہے ۔ کہ مسلمان کے تعلقات جس طرح اس کے خدا کے ساتھ اچھے ہوں ۔ اسی طرح مخلوق کے ساتھ بھی وہ عمدگی کا برتاؤ کرے اور بالخصوص اس جنس لطیف کے ساتھ تو بدرجہ غایت مروت و احسان کی ضرورت ہے ، حتیٰ کہ اگر اس کو ھوڑ دینے پر بھی بحالت مجبوری ہوجائے ۔ تب بھی اس بدنام اور ذلیل نہ کرے بلکہ عزت واحترام کے ساتھ پیش آئے ۔ اور یہ بتادے کہ میں نے جو جدالی اور علیحدگی اختیار کی ہے ۔ وہ محض اس بناء پر کہ ہماری آپس میں نہیں نبھ سکی ۔ ورنہ میں تمہارے ساتھ کسی بدسلوکی کو روا نہیں رکھتا ۔ اور تمہیں بہرحال لائق عزت سمجھتا ہوں ۔ حل لغات :۔ فمععواھن ۔ متاح سے ہے اجورھن ۔ اجر کی جمع ہے بمعنی مہرہ خالصۃ لک ۔ آپ مخصوص ہے فوضنا ۔ مقرر کئے ہیں ۔
Ayahs 33:50–52

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:50 in the Quran reader

اے نبی ہم نے تیرے لئے تیری وہ عورتیں حلال کردی ہیں جن کا مہر تو دے چکا ہے اور وہ (لونڈیاں بھی) جو تیرے ہاتھ کا مال ہے جو خدائے تیرے ہاتھ کا مال ہے جو خدا نے تیرے ہاتھ لگوا دیا ہے ۔ اور تیرے چچا کی بیٹیاں اور تیری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تیرے ماموں کی بیٹیاں اور تیری خالاؤں کی بیٹیاں جنہوں نے تیرے ساتھ ہجرت کی ہے اور مومن عورت (بھی حلال ہے) اگر اپنی جان نبی کو بخش دے (ف 2) (یعنی بن مہر نکاح میں آنا چاہے) اگر نبی بھی اس کو نکاح میں لینا چاہے (توجائز ہے) یہ خاص تیرے ہی لئے ہے سوا اور ایمانداروں کے ہمیں معلوم ہے جو ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور ان کے ہاتھ کے مال (لونڈیوں) کے حق میں فرض کیا ہے تاکہ تیرے اوپر تنگی نہ رہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا Open ayah 33:51 in the Quran reader

ان عورتوں میں سے جسے تو چاہے علیحدہ رکھ دے اور جسے چاہے اپنی طرف جگہ دے اور جن کو تونے علیحدہ کردیا تھا اگر ان میں سے تو کسی کی خواہش کرے تو تجھ پر کچھ گناہ نہیں ۔ اس میں زیادہ قریب ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور غم نہ کریں اور وہ سب اس پر جو تونے انہیں دیا راضی رہیں اور اللہ چاہتا ہے جو تمہارے دلوں میں ہے اور اللہ جاننے والا بردبار ہے

لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ Open ayah 33:52 in the Quran reader

اس کے بعد تیرے لئے عورتیں حلال نہیں ہیں اور نہ یہ حلال ہے کہ ان کے بدلے اور بیویاں کرلے ۔ اگرچہ تجھے ۔ اس کا حسن پسند بھی آئے ۔ مگر جو تیرے ہاتھ کا مال ہو اور اللہ ہر شئے پر نگہبان ہے

حضور ﷺ کے تعددازدواج کا فلسفہ 2: مخالفین نے تعدد ازدواج پر بہت سے اعتراض کئے ہیں اور کہا ہے کہ جس شخص کے حرم میں بیک وقت نو بیویاں ہوں ۔ وہ کیونکر روحانیت کا پیکر ہوسکتا ہے ۔ گویا ان کے نزدیک روحانیت کے معنے مجرد اور ہبانیت کے ہیں ۔ اور خدا رسیدہ شخص ان کے نظریہ کے مطابق وہ ہے جو دنیوی برکات سے یک قلم محروم ہو ۔ قطع نظر اس اصول کے ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ حضور ﷺ کی شادی کے محرکات میں جنس جذبات نہ تھے ۔ بلکہ تبلیغی حاجات کا تقاضا یہ تھا ۔ کہ حضور ﷺ قبائل عرب میں اشاعت دین کی خاطر یہ رستہ استوار کریں ۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل حقائق پر غور فرمائیے :۔ (1) پچیس سال کی عمر تک آپ نے کامل تجرد کی زندگی بسر کی ہے (2) گرم ممالک میں اس سے بہت عرصہ پہلے آدمی شادی کے قابل ہوجاتا ہے (3) پہلی شادی ایک رانڈ عورت سے کی ہے ۔ جو آپ سے پندرہ برس عمر میں بڑھی تھیں ۔ یعنی حضرت خدیجہ ؓ سے (4) 50 برس کی عمر تک آپ نے تنہا حضرت خدیجہ ؓ کے ساتھ بسر کی (5) مدینہ میں جا کر کہیں 53 برس کے بعد مختلف قبائل میں شادی کی طرح ڈالی ہے کیا ان واقعات کے بعد بھی کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے ۔ کہ حضور ﷺ نے تسکین جنسی کے لئے اس قدر متعدد بیویاں اپنے حرم میں ڈال رکھی تھیں ۔ بات یہ تھی کہ اس طرح متعدد شادیوں سے آپ مختلف قبائل کے داماد ہوگئے تھے ۔ اور وہ ان تعلقات مصابرت کی بنا پر مجبور تھے ۔ کہ آپ کی عزت کریں اور ٹھنڈے دل سے اسلام کے متعلق غور کریں ۔ ان آیات میں یہ بتایا ہے ۔ کہ کون کون رشتے اس قابل ہیں ۔ کہ ان سے ازدواجی تعلقات کو قائم کیا جائے ۔ اسلام چونکہ دین فطرت ہے اس لئے اس نے ان رشتوں کو زنا شوئی کے لئے جائز رکھا ہے ۔ جن سے فطرتاً انسان معاشقہ کرسکتا ہے ۔ جیسے چچا کی بیٹی ۔ خالہ کی بیٹی ، ماموں کی بیٹی وغیرہا ۔ جو لوگ ان رستوں کو ازدواج کے لئے ناجائز قرار دیتے ہیں ۔ انہوں نے انسانی فطرت کا اور انسانی تاریخ کا مطالعہ گہرائی سے نہیں کیا ہے وہ نہیں جانتے کہ انسان بالطیع سب سے پہلے انہیں رشتوں کی طرف مائل ہوتا ہے اور جھکتا ہے ۔ اور تو وہ رسم و رواج کی پابندی کی وجہ سے شادی نہ کرسکے ۔ مگر اپنے دل میں ان کے متعلق جذبات محبت ضرور پاتا ہے ۔ ملک یمین بھی ایک نوع کا عقد ہوتا ہے ۔ اس لئے مملوکہ عورتوں سے بھی وہ تعلقات ہوسکتے ہیں ۔ جو شادی شدہ عورتوں سے ہوتے ہیں ۔ چونکہ آج ہم غلام ہیں اور برسوں سے عسکری ضرورتوں اور مجبوریوں سے ناآشنا ہیں ۔ اس لئے یہ بات کچھ قابل اعتراض معلوم ہوتی ہے حالانکہ اس میں بہت سی مصلحتیں ہیں ۔ جن کے اظہار کا یہ موقع نہیں ۔ حضور ﷺ کے لئے یہ مخصوص رخصت سے کہ اگر کوئی عورت آپ اپنے کو خدمات ازدواج کے لئے پیش کریے ۔ تو بلامعاوضہ یعنی بغیر مہر اس کو قبول فرمالیں ۔ اور یہ کہ جس عورت کو جب تک چاہیں اپنے پاس رکھیں اور جس کو جس وقت تک چاہیں شرف صحبت سے دور رکھیں ۔ گو کہ آپ نے اس رخصت سے عملاً کبھی استفادہ نہیں کیا ۔ آپ نے اپنے اوقات کو تقسیم کررکھا تھا ۔ اور تمام ازدواج مطہرات برابر آپ سے استفادہ کرتی تھیں ۔ جہاں آپ کے لئے پابندی بھی تھی ۔ اور وہ یہ تھی کہ آپ اب ان موجودہ بیویوں کو چھوڑ کر ان کی جگہ دوسری بیبیوں کو اپنے گھر میں نہیں لاسکتے ۔ کیونکہ وہ بہرحال آپ سے خوش ہیں ۔ اور اسلام کے لئے ہر قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں ۔
Ayahs 33:53–54

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

مومنو ! نبی کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو ۔ مگر یہ تمہیں کھانے کے لئے اجازت دی جائے ۔ کھانا پکنے کی راہ نہ دیکھا کرو ۔ لیکن جب تم بلائے جاؤ تب آؤ۔ پھر جب کھا چکو تو آپ چلے جاؤ۔ اور باتیں سننے کے لئے جی لگا کر نہ بیٹھے رہو ۔ یہ تمہاری بات نبی کو ایذا پہنچاتی تھی پھر نبی تم سے شرماتا تھا اور اللہ سچ بات سے نہیں شرماتا ۔ اور جب تم نبی کی بیویوں سے کچھ اسباب مانگنے جاؤ تو ان سے پردہ کے باہر سے مانگ لیا کرو ۔ اس میں تمہارے دلوں اور ان عورتوں کے لئے زیادہ پاکیزگی ہے ۔ اور تمہیں مناسب نہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کو ایذا پہنچاؤ۔ اور نہ یہ کہ تم نبی کی عورتوں سے اس کے پیچھے کبھی نکاح کرو ۔ بیشک یہ اللہ کے نزدیک بڑا گناہ ہے

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

تم کسی شئے کو ظاہر کرو یا اسے چھپاؤ اللہ تو ہر شئے کو جانتا ہے

آداب دعوت قرآن ایک مکمل دستور العمل ہے ۔ اس میں تمام ضروری مسائل سے تمسک کیا گیا ہے ۔ اور کسی بحث کو تشنہ نہیں چھوڑا گیا ۔ جہاں عقائد کی تفصیل بتائی ہے ۔ وہاں عبادات کا بھی ذکر ہے ۔ معاشرت انسانی کی گتھیوں کو بھی سلجھایا گیا ہے ۔ اور اخلاق و سیرت کے متعلقہ لوازم کی بھی تشریح کی گئی ہے ۔ اور یہ بھی بتایا ہے کہ عام آداب یا عوایدر سمیہ کیا ہونے چاہئیں ۔ تاکہ مسلمان اپنی تہذیب میں دوسروں کے محتاج نہ ہوں ۔ اور ساری کائنات کے لئے ان کا وجود اسوہ اور نمونہ ہو ۔ حضرت زنیب کے ولیمہ کے موقع پر ایسا ہوا ۔ کہ بعض صحابہ دیر تک کھانے سے فراغت کے بعد حضور ﷺ کے ہاں بیٹھے رہے ۔ اور باتوں میں مشغول رہے جس سے حضور ﷺ کے دل میں تکدر پیدا ہوا ۔ مگر شرم کی وجہ سے کچھ کہہ نہ سکے ۔ اس پر ان آیات کا نزول ہوا ۔ جس میں دعوت کے آداب بتائے گئے ہیں فرمایا : جب تک تمہیں کھانے کی دعوت نہ دی جائے اس وقت تک آنے کی زحمت نہ اٹھاؤ اور جب کہا جائے آؤ کھانا حاضر ہے ۔ یہ آپ کو شراکت طاعام کی دعوت دی جاتی ہے ۔ تو اس وقت تمہیں جانا چاہیے ۔ بغیر اجازت اور اذن کے گھروں میں گھس جانا غیر موزوں بات ہے ۔ یہ بھی موزوں نہیں کہ دعوت سے کئی گھنٹے پہلے ہی جادھمکے ۔ اور لگے انتظار کرنے کہ کب پکتا ہے اور کب سامنے آتا ہے پھر جب کھاپی چکو ۔ تو فوراً اٹھ کھڑے ہو ۔ اور چل دو غیر ضروری باتیں نہ شروع کرو کیونکہ ایسی حالت میں صاحب خانہ کو تکلیف ہوتی ہے اس کے بعد یہ فرمایا : کہ اس پابندی کے معنی یہ نہیں کہ تم ادنیٰ ضرورتوں کے لئے حضور ﷺ کے ہاں نہیں آسکتے ہو ۔ اور کچھ طلب نہیں کرسکتے ہو ۔ بلکہ مقصد یہ ہے کہ ذرا احتیاط رہے جس چیز کی ضرورت وہ پردے کی اوٹ سے منگالو ۔ تاکہ دلوں میں پاکیزگی باقی رہے ۔ اور بتقاضائے بشریت خیالات میں برائی کی تحریک نہ ہوں ۔ حل لغات :۔ انہ ۔ اس کے پکنے کا ۔ انی یانی سے ہے مشتاتسین ۔ مانوس ہونے والے ۔
Ayah 33:55

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

ان عورتوں پر کچھ گناہ نہیں کہ اپنے باپوں اور اپنے بیٹوں اور اپنے بھائیوں اور اپنے بھتیجوں اور اپنے بھانجوں اور اپنی ہم جنس عورتوں اور اپنے ہاتھ کے مال (باندی غلاموں) کے سامنے آئیں ۔ اور (اے عورتو ! ) اللہ سے ڈرتی رہو بیشک ہر شئے اللہ کے سامنے ہے

کچھ ایسے لوگ بھی تھے ۔ جو ازواج مطہرات کے متعلق یہ خواہش رکھتے تھے ۔ کہ حضور ﷺ کے بعد ان سے شادی کرلیں گے ۔ چناچہ طلحہ بن عبیداللہ صاف طور پر کہتا تھا کہ اگر میں محمد (ﷺ) کے بعد زندہ رہا ۔ تو عائشہ ؓ سے ضرور شادی کروں گا ۔ فرمایا ۔ اس نوع کے ناپاک جذبات کو دل سے نکال دو ۔ پیغمبر کی عزت و حرمت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی بیویاں ساری امت کی مائیں قرار پائیں ۔ ان کے متعلق اس قسم کے خیالات رکھنا خبث باطنی اور گناہ ہے ۔ یہ حکم نہ بھی ہوتا اور یہ آیتیں نازل نہ ہوتیں جب بھی ازواج مطہرات کے سامنے کردار و سیرت کا اتنا بہترین ذخیرہ تھا ۔ کہ وہ عمر بھر بھی کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتیں ۔ بھلا جن لوگوں نے صحیت نبوی سے استفادہ کیا ہو ۔ کیا وہ دوسرے لوگوں کی صحبت میں ان انوار و تجلیات کو پاسکتے ہیں ؟ جن آنکھوں نے حضور ﷺ کے رخ زیبا کو دیکھا ہو ۔ ان کے سامنے دوسروں کا کیا منہ ہے کہ آسکیں ۔
Ayahs 33:56–57

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں ۔ مومنو ! تم بھی اس پر درود اور سلام بھیجا (ف 1) کرو

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ایذا پہنچاتے ہیں اللہ نے دنیا اور آخرت میں ان پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے رسوائی کا عذاب تیار کیا ہے

پیغمبر ﷺ پر دود بھیجو 1: اس سے قبل کی آیتوں میں یہ بتایا تھا ۔ کہ پیغمبر ﷺ کا رتبہ اور مقام کس درجہ رفیع ہے ۔ اور کیونکر وہ اور اس کی ازواج مطہرات بدرجہ غایت احترام کی مستحق ہیں ۔ اس آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے ۔ کہ پیغمبر کا احترام صرف عالم ادنیٰ یا عالم تاسوت تک محدود نہیں ہے ۔ بلکہ ملاء اعلیٰ تک حضور ﷺ پر صلوٰۃ وبرکات کا تحفہ بھیجتے ہیں ۔ اس لئے تم پر بھی واجب ہے کہ اس کا احترام کرو ۔ اور اس پر رحمت اور سلام بھیجو ۔ اس آیت میں لفظ صلوٰۃ مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے ۔ صلوٰۃ کے معنے برکت کے ہیں یعنی خدا اپنی برکات رسول ﷺ پر بھیجتا ہے اور فرشتوں کے درود کے معنے یہ ہیں ۔ کہ وہ رسول ﷺ کے لئے رحمت اسلامی کی دعا کرتے ہیں ۔ اور مسلمانوں سے مطالبہ ہے ۔ کہ وہ بھی رسول ﷺ پر درود بھیجیں ۔ نیز لفظ صلوٰۃ کے معنے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دین محمد ﷺ کی تائید میں کوشاں ہے ۔ فرشتے بھی یہی چاہتے ہیں ۔ اور تمہارا فرض بھی یہی ہے کہ قول وعمل سے حضور ﷺ کے اس پیغام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤ۔ بہترین اور زیادہ اجروثواب کا حامل وہ درود ہے ۔ جو ہم نمازوں میں پڑھتے ہیں ۔
Ayah 33:58

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور وہ جو ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں کو بغیر اس کے کہ انہوں نے کوئی (قصور کا) کام کیا ہو ایذا دیتے ہیں ۔ انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ (ف 2) اٹھایا ہے

ف 2: اللہ تعالیٰ تو مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کی عزت اور حرمت نہایت عزیز ہے ۔ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی شخص کسی مرد مسلمان کو ذلیل کرے ۔ کیونکہ مسلمان کی عزت اور حرمت سے کائنات کا نظام حیات قائم ہے ۔ مسلمان کی ذات کے معنے حق وصداقت کی تذلیل ہے ۔ اور خدا پرستوں کی ایسی جماعت کی تحفیر ہے ۔ جو کائنات میں امام ہیں اور ساری دنیا کی راہ نمائی جن کا دینی فرض ہے حل لغات :۔ لعنھم ۔ یعنی خدا ان لوگوں کو اپنی رحمت سے دور رکھتا ہے ۔
Ayahs 33:59–62

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے نبی اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دے ، کہ اپنی چادریں اپنے اوپر تھوڑی سی نیچی لٹکا لیا کریں ۔ یہ طریقہ قریب تر ہے ۔ کہ وہ (کہیں) پہچانی جائیں ایذا نہ (ف 1) پائیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

منافق اور وہ جن کے دلوں میں روگ ہے اور وہ جو مدینہ میں بری خبریں اڑاتے ہیں اگر باز نہ آئیں گے تو ہم تجھے ان کے پیچھے لگادینگے ۔ پھر وہ مدینہ میں تیرے پڑوس میں رہنے نہ پائیں گے مگر تھوڑے دنوں

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

پھٹکارے ہوئے جہاں پائے گئے پکڑے گئے اور جان سے مارے گئے

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

یہ اللہ کی سنت ہے جو ایسے لوگوں کے معاملے میں پہلے سے چلی آرہی ہے ، اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے

ف 1: بات یہ تھی کہ اول اول چونکہ پردہ کارواج نہ تھا ۔ اس لئے مسلمان عورتیں ضروریات کی وجہ سے گھروں سے نکلتیں تو بدکار اور آوارہ لوگ ان کو چھیتے اور جب ان سے پوچھا جاتا کہ تم ایسی حرکات کا کیوں ارتکاب کرتے ہو ۔ تو کہتے ہمیں غلط فہمی ہوئی ہم یہ سمجھے تھے کہ شائد غلام عورتیں ہیں ۔ لونڈیوں سے چھیڑ چھاڑ اس وقت اس قبیل کے لوگوں میں معیوب نہیں تھی ۔ اس پردہ کا یہ حکم نازل ہوا کہ امہات المومنین اور عام مسلمان عورتوں کو چاہیے کہ کھلے منہ باندیوں کی طرح گھروں سے باہر نہ نکلا کریں ۔ بلکہ نکلیں تو گھونگھٹ نکال کر تاکہ معلوم ہوجائے ۔ کہ یہ شریف پردہ دار خاتونیں ہیں ۔ لونڈیاں نہیں ہیں ۔ اور اس طرح ان بدقماش لوگوں کو شرارت کا موقع نہ ملے یہ پردہ کی وہ سادی اور نہایت حیا پرور صورت ہے جو معقول بھی ہے اور حفظ کے لئے ضروری تھی ۔ برقع موجودہ حالات میں شرعی پردہ نہیں ہے ۔ بلکہ پردہ کی ایک ارتقائی شکل ہے ۔ اور تمدن کے ارتقاء کے ساتھ اس نوع کا ارتقاء بھی ضروری تھا ۔ گو یہ بڑی حد تک مفید ہے ۔ مگر چونکہ تمدن کی ارتقائی بدعت ہے ۔ اور اسلامی سادگی سے ذرہ مختلف ہے ۔ اس لئے طبعاً اس میں چند نقائص ہیں جن کا ذمہ دار اسلام یا قرآن نہیں ہے چونکہ نکتہ چین حضرات پردہ اور برقع میں بعض اوقات امتیاز روا نہیں رکھتے ۔ اس لئے ان سے اس باپ میں لغزش ہوجاتی ہے ۔ اور وہ ان عیوب کو جو برقع کا لازمی نتیجہ ہیں نفس پردہ کی جانب منسوب کرتے ہیں ۔ حالانکہ یہ دونوں بالکل جدا جدا چیزیں ہیں ۔ پردہ ایک تمدنی نصب العین ہے جس کا مقصد ہے حفظ ناموس اور برقع محض ایک ذریعہ ہے ۔ جو عموماً مفید ہے ۔ اور بعض مضرتیں بھی اس میں ہیں اس لئے اس ذریعہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے ذریعہ کو اختیار کیا جاسکتا ہے ۔ جس سے منہ ڈھکا رہے ۔ زینت کے مقامات بھی ظاہر نہ ہوں ۔ اور وہ سادگی میں بےضرر بھی ہو ۔ بشرطیکہ کوئی دوسرا ذریعہ اس کی جگہ لے سکے ۔ کہ قانون قدرت بجائے خود منشاء الٰہی کا دوسرا نام ہے کسی چیز کے ظہور اور باقی رہنے کے لئے اصل چیز وہ قانون نہیں جو اس میں کارفرما ہے ۔ بلکہ اللہ کا ارادہ اور اس کی قومیت ہے ۔ حل لغات :۔ جلا بیھن ۔ جلباب کی جمع ہے ۔ بمعنی چادر ان یعرمن ۔ یعنی پردہ کی وجہ سے یہ معلوم ہوجائے کہ شریف زادیاں ہیں المرجفون ۔ پروپیگنڈا کرنے والے
Ayahs 33:63–68

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی ۔ کہو اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے ۔ تمہیں کیا خبر ، شاید کہ وہ قریب ہی آلگی ہو

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

بہرحال یہ امر یقینی ہے کہ اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کردی ہے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، کوئی حامی و مددگار نہ پاسکیں گے

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس روز ان کے چہرے آگ پر الٹ پلٹ کیے جائیں گے اس وقت وہ کہیں گے کہ ” کاش ہم نے اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کی ہوتی

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے اپنے سرمایہ داروں اور اپنے لٹیروں کا کہا مانا تھا ۔ سو انہوں نے ہمیں راہ سے بہکا دیا

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اے ہمارے رب انہیں دونا عذاب دے اور ان پر بڑی لعنت بھیج

ف 2: یعنی بعض چیزیں ایسی ہیں جن کا علمصرف جناب باری کو و ہے کسی انسان کو ان سے بہرہ ور نہیں کیا گیا ۔ اس لئے اگر حضور ﷺ قیامت کے متعلق نہیں جانتے کہ اس کا ظہور کب ہوگا ۔ تو یہ ان کے منصب نبوت کے منافی نہیں ۔ کیونکہ اس کا علم اللہ تعالیٰ سے مختص ہے اور خود انسانی مصالح کا تقاضا ہے ۔ کہ اس کو فطرت کے بعض اسراء سے ناآشنا کیا جائے ۔ ورنہ ہمہ دانی کا نتیجہ یہ ہوگا ۔ کہ زندگی گزارنا دشوار ہوجائے اور دنیا الم وافسوس کا جہنم زاد بن جائے ۔ یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو دنیا میں اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت سے محروم تھے اور مشائخ و کبار کی اندھی عقیدت میں مبتلا تھے ۔ یہ اس وقت محسوس کرینگے کہ ان لوگوں نے ان کو دنیا میں گمراہ کررکھا ہے ۔ اس لئے ان عی عقیدت اس وقت ملقویت ومقام سے بدل جائے گی ۔ اور یہ خواہش کرینگے کہ اے کاش ان لوگوں کو عذاب ہو ۔ اور یہ غلط قیادت کے مزے کو چکھیں ۔
Ayahs 33:69–70

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

مومنو ! تم ان جیسے مت ہو جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ستایا ۔ پھر اللہ نے ان باتوں سے جو انہوں نے کہی تھیں موسیٰ (علیہ السلام) کو پاک ثبت کیا اور وہ خدا کے نزدیک آنے عزت (ف 1) والا تھا

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

مومنو ! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو

ف 1: اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ تم نے رسول ﷺ کو اذیت پہنچائی ہے مگر اللہ کا قانون ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے پیغمبروں کو الزامات سے بری کرتا ہے اور الزام تراشنے والے اور دکھ پہنچانے والے لوگوں کو ذلیل ورسوا کرتا ہے دیکھو موسیٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر کے متعلق بھی اس کی قوم نے کتنا اذیت دہ رویہ اختیار کیا ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو عزت بخشی ۔ اور ان کو قوم کی نظروں میں مفتحر ثابت کیا ۔
Ayah 33:71

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

کہ وہ تمہارے لئے تمہارے اعمال سنوارے اور تمہارے گناہ بخش دے اور جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی اس نے بڑی مراد پائی

مسلمان کے معنی یہ ہیں کہ وہ اس دنیا میں ایک مشن کی تکمیل کے لئے بھیجا گیا ہے ۔ اس لئے طبعاً اس پر بعض ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جو دوسروں پر عائد نہیں ہوتیں ۔ اس لئے ضروری ہے کہ عقائد و افکار سے لے کر اعمال تک تقویٰ اور پاکیزگی قلب کا حامل ہو اور جو بات کہے اس میں محولادی استحکام ہو ۔ ہر آن اور ہر منزل میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو ہاتھ سے نہ جانے دے یہی نہیں بلکہ ہر نفس اس کا نشہ اطاعت میں ڈوبا ہوا ہونا چاہیے ۔ تاکہ معلوم ہو کہ مسلمان کائنات میں منصب امامت کا تنہا حقدار ہے اور سیرت و سجایا کے اعتبار سے کوئی قوم اس کی ہمسائیگی کا دعویٰ نہیں کرسکتی ۔ یہ فوز و فلاح کا کفیل ہے اور خدا کی مخلوق میں سب سے زیادہ کامیاب ہے ۔ عقبے وآخرت کی تمام مسرتیں اس کے حصہ میں آئی ہیں ۔ اور یہ کسی بات میں دنیا والوں سے پیچھے نہیں ۔ حل لغات :۔ سادتنا ۔ جن کو دین کے لحاظ سے عظمت رفعت حاصل ہو کبرانا ۔ جمع کبیر یعنی بزرگان دنیوی نقطہ نگاہ سے صاحب اقتدار لوگ ۔ سدیدا ۔ پکی بات ۔
Ayahs 33:72–73

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

ہم نے (ایک) امانت آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر پیش کی ۔ سو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا ۔ اور اس سے ڈر گئے اور انسان نے اسے اٹھا لیا بےیک وہ بڑا بےترس اور بڑا نادان (ف 1) تھا

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

تاکہ اللہ منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو عذاب دے اور ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں کو معاف فرمائے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

عرضِ امانت 1: اماتت سے مراد عقل و شریعت کی ذمہ داری ہے اور فرضنا سے مراد یہ ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے جب کائنات کو پیدا کیا ۔ تو دیکھا کہ کیا آسمانوں کی بلندیاں ، اور زمین کی وسعتیں اور پہاڑوں کا استحکام اس قابل ہے کہ ان چیزوں پر عقل و شریعت کی ذمہ داریاں ڈال دی جائیں ۔ اور ان کو اپنے صفات حسنہ کا مظہر بنایا جائے ان کی فطرت کو ٹٹولا گیا ۔ تو معلوم ہوا ۔ کہ ان سب میں یہ اہلیت نہیں ہے ۔ پھر انسانی مشت خاک پر نظر پڑی ۔ تو معلوم ہوا کہ یہ باوجود کائنات میں بہت زیادہ کمزور اور تحیف ہونے کے اپنی فطرت واطوار کے لحاظ سے اس قابل ضرور ہے ۔ کہ تکلیفات شرعیہ کو اٹھا کے اور دنیا میں خلافت الٰہیہ کا علم بردار ہو ۔ چناچہ یہ امانت کا بار گراں اس کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ۔ اور اس نے اس کو اٹھا لیا ؎ آسماں بار امانت نتوانست کشید قرعہ فال بنام من دیواد تودمہ غرض یہ ہے کہ حضرت انسان کو فطرت نے ازل سے اس خدمت کے لئے منتخب کررکھا تھا ۔ اس لئے ضروری ہے کہ کہ یہ اس منصب جلیل کا اہل ثات ہو اور اپنے فکروعمل سے آسمانوں اور زمین پر بستیوں اور بلندیوں پر اپنا تفوق ثابت کردے ۔ یہ ایک پیرایہ بیان ہے ۔ انسانی فضیت کے اظہار کا اور حقیقت یہ ہے ۔ کہ اس سے زیادہ بلیغ اسلوب اختیار کرنا انسانی وسعت کے باہر ہے ورنہ معاذ اللہ یہ مقصد نہیں ہے کہ خدائے تعالیٰ کو یہ معلوم نہیں تھا کہ دنیا میں کون شریعت کے اس بار کو اٹھا کستا ہے ۔ اور کون نہیں اٹھا سکتا ۔ اس سورت میں ظلوا اور ھہولا کا لفظ بطور طنز کے نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ انسانی فطرت کا عین تقاضا تھا ۔ کہ وہ رشدوہدایت کا محتاج ہو ۔ اور فکر و شریعت کی راہ نمائی کو قبول کرلے ۔ اس کے لئے اور کوئی چارہ ہی نہیں ۔ بجز اس کے کہ اس امانت عزیز کا بشرشمتحمل ہوجائے اور اس پر اپنی برتری کو محسوس کرے ۔ جو اس کائنات کی تمام چیزوں پر حاصل ہے ۔ یہاں انسانی شرف ومجد کا ذکر ہے ۔ لہٰذا اس کے معنی یہاں ترجم اور تلطف کے ہونگے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ کہ دیکھو یہ ظالم اور ناعاقبت اندیش انسان کس درجہ رحم کے قابل ہے کہ اس گراں بہا ذمہ داری کو تنہا اٹھا لینے کا مدعی ہے ۔ حل لغات :۔ یعملھا ۔ حمل کے معنے یہ بھی ہوتے ہیں ۔ کہ وہ بوجھ اور ثقل سے عہد برآہ نہ ہوسکا ۔ اس صورت میں آیت کا مطلب بالکل بدل جائے گا ۔ اور یوں ہوگا ۔ کہ ہم نے آسمان زمین اور پہاڑوں کے فطری ثقل یا فرائض کو ان پر پیش کیا انہوں نے عہد براء ہونے سے انکار کردیا ۔ بمعنی اپنے ان فرائض کو قبول کرلیا ۔ جو اللہ نے ان پر عائد کئے تھے اور وہ اللہ کے خوف سے معمور ہوگئے مگر انسان نے عہدہ برآہ ہونے کے لیے یعنی اپنے مفوضہ فرائض کو ادا نہ کیا ۔ اس لئے یہ ظالم ہے اور جاہل ہے ۔