30. Surah Ar-Room

الرومThe Romans · 60 ayahsسراج البیان

Ayahs 30:41–42

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیْقَهُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 30:41 in the Quran reader

لوگوں کی کرتوتوں سے خشکی اور تری میں فساد ظاہر ہے ہوا ہے تاکہ انہیں ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے شاید وہ رجوع کریں

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلُ١ؕ كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْرِكِیْنَ Open ayah 30:42 in the Quran reader

تو کہہ تم زمین میں سیر کرو ۔ پھر دیکھو کہ کہ پہلوں کا انجام کیا ہوا ۔ ان (ف 2) ان میں اکثر مشرک تھے

ف 2: اس وقت کا نقشہ ہے جب قرآن دنیا میں نازل ہورہا تھا ۔ بتایا ہے کہ کائنات میں اعتقاد اور عمل کا فساد اور طوفان رونما ہے ۔ شرک اور بت پرستی کی تاریکیوں سے افق حیات تیرہ و تاریک ہے انسانیت کے قول اعتدال میں فتورا کیا ہے ۔ اخلاق ذلیل ترین صورت اختیار کرچکے ہیں ۔ اور اب اگر اسلام کی روشنی اور اس کی برکات سے انسان نے استفادہ نہ کیا ۔ تو ہلاکت لازم درلابد ہے ۔ چناچہ تاریخ کے ورق الٹ کر دیکھئے ۔ معذب قوموں کے حالات کا معائنہ کیجئے کیونکر اللہ تعالیٰ نے ان کو صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا محض اس پاداش میں کہ انہوں نے خدا کے حکموں کو نہ مانا ۔ اور فطرت کے پیغام سے روگردانی کی ۔ پھر اگر یہ مکہ والے قرآن نہ مانیں گے ۔ تو اللہ کی زبردست پکڑ اور گرفت سے کس طرح بچ سکیں گے ۔ کان اکثرھم مشرکین سے غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرک سب سے بڑا گناہ ہے اور قوموں کی ہلاکت اور موت میں اس کا بہت بڑا حصہ ہے ۔ جب یہ مرض پیدا ہوتا ہے تو قوم میں ذلت اور ادبار اور جہالت و توہم کی تمام بیماریاں پھیل جاتی ہیں ۔ اور اس طرح سارا جسم انسانی مفلوج ہوجاتا ہے اور ان خصائل سے محروم ہوجاتا ہے ۔ جو کسی قوم کے لئے حیات وزندگی کا باعث ہوتی ہیں ۔
Ayahs 30:43–45

فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ الْقَیِّمِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ یَوْمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ Open ayah 30:43 in the Quran reader

سو تو اپنا منہ سیدھے دین کے لئے سیدھا رکھ ۔ اس دن کے آنے سے پہلے جو اللہ کی طرف سے ٹالا نہیں جائے گا اس دن لوگ جدا جدا ہوں گے

مَنْ كَفَرَ فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ١ۚ وَ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِهِمْ یَمْهَدُوْنَۙ Open ayah 30:44 in the Quran reader

جو کفار ہے اس کا کفر اسی پر ہے اور جنہوں نے نیک کام کیا وہ اپنے ہی آرامگاہ درست کرتے ہیں

لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 30:45 in the Quran reader

تاکہ ان لوگوں کو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے اپنے فضل سے بدلا دے بیشک وہ کافروں (ف 1) کو پسند نہیں کرتا

خدا انسان کا حریف نہیں ہے 1: ان آیتوں میں بتایا ہے ۔ کہ جہاں تک کفر و انکار کا تعلق ہے اس سے ذات صویت کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا ۔ اسی طرح ایمان و اعمال صالح سے اس کی جلالت قدر میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا اگر ساری دنیا کفر و طغیان کو اپنا شیوہ بنا لے ۔ اور برملا خدا کا انکار کردے ۔ تو اس کے وجود باجود میں اور اس کے تحفق قومیت میں ذرہ برابر فرق نہیں ہوتا ۔ اسی طرح اگر دنیا میں کوئی منکر نہ رہے تمام ملحد اپنے غلط عقائد سے توبہ کرلیں ۔ اور مومن صادق بن جائیں ۔ اور زہد وورع کا لباس زیت تن کرلیں ۔ تو اس کی عظمت اور رفعت میں کچھ بھی ترقی نہیں ہوتی ۔ یہ کفروعصیاں تو محض اس لئے مذموم ہے ۔ کہ اس سے خود انسان کو دیکھ پہنچتا ہے ۔ یہ تمدن صالحہ کے لئے سخت مضر ہے ۔ اور اس کی وجہ سے نوع انسانی اپنے مقام روحانی سے گر کر حیوانیت کے اسفل گڑھوں میں جاپڑنی ہے کفر چونکہ سراسر فسادواختلال ہے ۔ کون ومکان کے لئے اس کا وجود باعت لعنت ہے ۔ اس لئے اس سے پرہیز لازم ہے ۔ ورنہ منکر اور خدائے برتر و غالب کے لئے کسی طرح حریف بن سکتے ہیں اسی طمع نیکی اور تقویٰ اور اس کے لائق ملتناء ہیں ۔ کہ ان سے روح انسان میں جلا پیدا ہوتی ہے ۔ ان سے اخلاق سنورتے ہیں اور خود انسانیت بلند ترین روحانی مقامات پر ممکن ہوتی ہے ۔ ورنہ اس ذات بےنیاز کو ہمارے تقوے اور پرہیزگاری کی کیا ضرورت ہے ! انہ لا یحب الکفرین سے غرض یہ ہے کہ گو وہ باعتبار تکوین کے کافروں اور منکروں سے تعرض نہیں کرتا ۔ اور ان کے افعال و اعمال میں مزاحم نہیں ہوتا مگر اس کے یہ معنے نہیں ہیں ۔ کہ وہ ان کے اعمال کو پسند بھی کرتا ہے اور وہ ان کو باوجود سرکشیوں کے محبوب بھی رکھتا ہے ۔ کائنات کی مصالح کا تقاضا ہے کہ منکر کو انکار میں اور مومن کو ایمان میں پوری پوری آزادی بخشی جائے اس لئے وہ برائی کی طرف بڑھنے والوں کو روک تو نہیں دیتا ہے مگر اس کی خواہش یہی ہے کہ اس کے بنا سے کفر سے بچیں اور ایمان وتقویٰ کی دعوت کو قبول کریں ۔
Ayah 30:46

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖۤ اَنْ یُّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرٰتٍ وَّ لِیُذِیْقَكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَ لِتَجْرِیَ الْفُلْكُ بِاَمْرِهٖ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 30:46 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ بشارت دینے والی ہوائیں بھیجتا ہے اور تاکہ اپنی رحمت میں سے تمہیں کچھ چکھائے اور تاکہ اس کے حکم سے کشتیاں جاری ہوں اور تاکہ اس کا فضل (روزی) تلاش کرو اور شائد تم شکر گزارہو

ف 2: درمیان میں مظاہر قدرت کے جمال کی طرف نظروں کو متوجہ کیا ہے ۔ تاکہ قرآن کا انداز تنوع قائم رہے ۔ اور مسلمان احکام و شریعت کے ساتھ تکوینی اسرارروموز پر بھی غور کریں ۔ اور یہ یقین رکھیں ۔ کہ دونوں کا سرچشمہ ایک ہے ۔ دونوں ایک ہی ذات کے پر تو ہیں ۔ ایک ہی جمال کے دو پہلو ہیں اور ایک ہی حسین کی دوا دائیں ہیں فرمایا ہے کہ اس کی نشانیوں میں ہواؤں کو بڑی اہمیت حاصل ہے ان کی افادیت پر غور کرو ۔ کیونکہ وہ آنے والی بارش کا پتہ دیتی ہیں ۔ پھر کس طرح ان کی وساطت سے کشتیاں چلتی ہیں ۔ اور جہاز سطح سمندر پر رواں دواں نظر آتے ہیں یہ سب نعمتیں اس لئے ہیں تاکہ تم قدرت کے ان فیوض کو دیکھو ۔ اور اپنا ذہن شکروامتنان کے جذبات سے بھرپور ان سے استفادہ کرو بلکہ ان پر حکومت کرو ۔ اور ثابت کرو کہ زمین میں تم اللہ کے نائب ہو ۔ حل لغات :۔ یصدعون ۔ اصل میں یتصدعون ہے قریب المخرج ہونے کی وجہ سے ت ۔ ص کے ساتھ بدل کر مدغم ہوگئی ہے ۔ معنے جدا جدا ہوجائیں گے ۔ صدع سے مشتق ہے ۔ یمھدون ۔ مھد سے مشتق ہے یعنی استعادے کے قابل بنانا ۔ فانتقمنا نقمۃ سے مشفق ہے معنی سزا دینا اور وہیں لفظ مقام میں مفہوم میں استعمال ہوتا ہے ۔ عربی میں اس مفہوم میں استعمال نہیں ہوتا حل لغات :۔ الودق ۔ اصل میں کہر کو کہتے ہیں ۔ بانی کو عام طور پر اس کو اطلاق بارش پر ہوتا ہے ملبلسین ، ابلاس سے مشتق بھی ناامید ہونا ۔
Ayah 30:47

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا اِلٰى قَوْمِهِمْ فَجَآءُوْهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا١ؕ وَ كَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 30:47 in the Quran reader

اور ہم تجھ سے پہلے کتنے ہی رسول اپنی اپنی قوم کے پاس بھیج چکے ہیں ۔ پھر ان کے پاس معجزات لے کر آئے ۔ پھر ہم نے ان لوگوں سے جو گنہگار تھے بدلہ لیا اور مومنین کی مدد ہم پر لازم تھی3

ف 3: مقصد یہ ہے کہ آپ سے پہلے بھی انبیاء آئے ہیں اور لوگوں نے ان کی حسب عادت مخالفت کی ہے ۔ پھر جب ان کی سرکشی حد سے بڑھ گئی ۔ تو اللہ تعالیٰ کا قانون مکافات حرکت میں آیا اور ان لوگوں کو سخت ترین سزائیں دی گئیں ۔ حقا علینا نصراللومنین سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی زمانے میں بھی اپنے بندوں کو ذلیل اور رسوا نہیں کرتے ۔ ہر دن اور ہر وقت وہ ان کے لئے اعانت کا ہاتھ بڑھاتے ہیں کیونکہ ازراہ نوازش وکرم اس چیز کو اللہ نے پانے اوپر لازم قرار دیا ہے ۔
Ayahs 30:48–51

اَللّٰهُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا فَیَبْسُطُهٗ فِی السَّمَآءِ كَیْفَ یَشَآءُ وَ یَجْعَلُهٗ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِهٖ١ۚ فَاِذَاۤ اَصَابَ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَۚ Open ayah 30:48 in the Quran reader

اللہ وہ ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے ۔ پھر وہ ہوائیں بادل اٹھاتی ہیں ۔ پھر خدا اس کو جس طرح چاہیے آسمان میں پھیلاتا اور اسے تہ برتہ رکھتا ہے پھر تو دیکھتا ہے کہ اس کے درمیان سے منیہ نکلتا ہے پھر جب اس کو اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے پہنچاتا ہے تو فوراً وہ خوشیاں کرنے لگتے ہیں

وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْهِمْ مِّنْ قَبْلِهٖ لَمُبْلِسِیْنَ Open ayah 30:49 in the Quran reader

اگرچہ وہ اس وقت سے پہلے اس سے پیشتر کہ وہ ان پر نازل ہونا امید تھے

فَانْظُرْ اِلٰۤى اٰثٰرِ رَحْمَتِ اللّٰهِ كَیْفَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ لَمُحْیِ الْمَوْتٰى١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 30:50 in the Quran reader

سو اللہ کی رحمت کے نشان دیکھ کر زمین کو اس کے مرے پیچھے کیونکر زندہ کرتا ہے بیشک وہ مردے جلانے والا ہے اور وہ ہر شئے پر قادر ہے

وَ لَئِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 30:51 in the Quran reader

اور اگر ہم ایک ہوا بھیجیں پھر وہ اس (کھیت) کو زرد پڑگئی دیکھیں تو اس کے بعد وہ ناشکری (ف 1) کرنے لگتے ہیں

حشرونشر 1: قرآن کا طرز استدلال اتباسا اور اتنا موثر ہے کہ اس میں زیادہ غوروفکر کی ضرورت ہی نہیں ۔ جہاں آپ نے سنا دل میں اتر گیا مظاہر قدرت کو قرآن پیش کرتا ہے ۔ جن کو ہم روزانہ دیکھتے ہیں ۔ اور کوئی حرف مدار کا پہلو ہمارے ذہن میں پیدا نہیں ہوتا ۔ پھر ان سے اتنے چھوٹے انداز میں بڑے بڑے فلسفیانہ مسائل کا استباط کرتا ہے کہ وہی معمولی واقعات منطق کی شہادتیں معلوم دیتی ہیں ۔ مکہ والوں میں ایک گروہ احیاء موتیٰ کا منکر تھا ۔ یعنی اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی تھی کہ کیونکر فنائے عام کے بعد پھر انسانوں کے عساکر اٹھ کھڑے ہونگے ۔ وہ حشرونشر کے واقعات کو محض افسانہ سمجھتے تھے ۔ اور ان کی رائے میں یہ حقیقت قرآن عقل نہیں تھی ۔ کہ موت کو پھر زندگی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے ! اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ان کے اس عقلی استبعاد کو دور کرنے کے لئے کئی دلائل بیان فرمائے ہیں اور بتایا ہے کہ جس چیز کو تم محال سمجھتے ہو اس کے مثل تم زندگی میں بار بار دیکھتے ہو مگر سرسری نظروں سے غوروفکر سے کام نہیں لیتے ! آؤ ہم تمہیں دکھائیں ۔ کہ روز مرہ کے حقائق ہمارے اس دعوے کے لئے بطور رہ دلیل کے کام آسکتے ہیں ۔ ہواؤں کو چلتے ہوئے تم نے دیکھا ہوگا یہی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں اسنے دوش پر ابروسیماب کی روئیں اوڑھے کس طرح فضا میں چلتی پھرتی رہتی ہیں ۔ اور پھر کس طرح ساری فضا میں پھیل جاتی ہیں ۔ پھر کہ ہائے ابر کی صورت میں منقسم ہوجاتی ہیں ۔ پھر پرستی ہیں ۔ اس نظام وعمل کو دیکھ کر خدا کے بندے خوش ہوتے ہیں ۔ ان کی مایوسیاں امیدوں سے بدل جاتی ہیں ان آثار رحمت پر غور کرو ۔ کیا اس طرح مردہ اور خشک کھیتوں میں زندگی کی روح نہیں پیدا ہوجاتی ۔ پھر اگر یہ ممکن ہے بلکہ مشاہدہ ہے تو کیا وہ اپنی قدرت اور رحمت کے چھینٹوں سے دوبارہ انسانی پودوں کو پیدا نہیں کرسکتا ! کیا وہ ہر چیز پر قادر نہیں ہے ، دیکھو کتنے عظیم الشان واقعات ہیں اور اس استدلال نے ان کو کس درجہ اہمیت دے دی ہے ۔ کیا اب بھی حشرونشر کے حالات کا انکار کروگے ۔
Ayahs 30:52–53

فَاِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 30:52 in the Quran reader

سو بیشک تو مردوں کو نہیں سنا سکتا ۔ اور بہروں کو (ہی) سنا سکتا ہے جب وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 30:53 in the Quran reader

اور تو اندھوں کو ان کی گمراہی سے راہ پر نہیں لاسکتا تو تو اسی کو سنا سکتا ہے جو ہماری آیتوں پر یقین رکھتے ہیں سو وہی مسلمان ہیں2

ف 2: مشرکین کہ ان دلائل کو سنتے ۔ مگر بیکار ان پر ذرہ برابر اثر نہ ہوتا ۔ قرآن کہتا ہے کہ یہ مردہ ہیں ان کے دلوں میں زندگی کی قوتیں ختم ہوچکی ہیں ۔ یہ دل کے کانوں کے لحاظ سے بہرے ہیں ۔ ان میں حق وصداقت کو سننے کی مطلقات اہلیت نہیں ۔ اس لئے اگر آپ کے پیغام حق سے یہ متمتع نہ ہوں ۔ تو آپ متفکر نہ ہوں ۔ ملال نہ کریں ۔ وہ محردمان فضل وکرم ہیں جن سے زندگی کی تمام استعدادیں چھن چکی ہیں ۔ یہ دل کے اندھے ہیں ۔ ان میں قوت بصیرت باقی نہیں رہی ۔ یہ آپ کے اختیار میں نہیں ۔ کہ آپ کی باتیں سنیں اور متاثر ہوں ۔ قبولیت کے لئے قلب دماغ کی صحت بہت ضروری ہے ۔ حل لغات :۔ الصم ۔ اصم کی جمع ہے ۔ یعنی بہرہ شیبد ۔ بڑھاپا ۔
Ayah 30:54

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ ضُؔعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ ضُؔعْفًا وَّ شَیْبَةً١ؕ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْقَدِیْرُ Open ayah 30:54 in the Quran reader

اللہ وہ ہوے جس نے تمہیں کمزوری سے بنایا ، پھر کمزوری کے بعد قوت دی پھر قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے وہی علم اور قدرت والا ہے

حشر کے متعلق یہ دوسرے انداز کا استدلال ہے ارشاد ہے کہ تم خود اپنی حالت پر غور کرو ۔ اس میں کتنی تبدیلیاں پیدا ہوئی ہیں ۔ جب تمہیں پیدا کیا گیا تھا اس وقت تم سخت ناتواں تھے ۔ پھر تمہیں رفتہ رفتہ توانائی بخشی ۔ جہاں ہوئے اور پھر اصولوں وضعف کی طرف لوٹادیئے گئے ۔ اس طرح کیا موت کے بعد پھر کسی دوسری تبدیلی کا مکان نہیں ہے ۔
Ayahs 30:55–57

وَ یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَ١ۙ۬ مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَةٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَانُوْا یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 30:55 in the Quran reader

جس دن قیامت قائم ہوگی ۔ مجرم قسمیں کھائینگے کہ ہم ایک گھڑی سے زیادہ (دنیا میں نہیں رہے اسی طرح (دنیا میں بھی) پھیرے جاتے تھے

وَ قَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَ الْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ اِلٰى یَوْمِ الْبَعْثِ١٘ فَهٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَ لٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:56 in the Quran reader

اور تمہیں علم اور ایمان ملا ہے ۔ وہ کہیں گے کہ تم اللہ کی کتاب کے موافق قیامت تک رہے سو یہ قیامت کا دن ہے ۔ لیکن تم نہیں (ف 1) جانتے تھے

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُهُمْ وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 30:57 in the Quran reader

اس دن ظالموں کو ان کا عذر نفع نہیں دیگا اور نہ ان سے توبہ طلب کی جائے گی

اعتراف حقیقت 1: گذشتہ آیتوں میں یہ بقایا تھا کہ گو اس وقت یہ اس وقت یہ لوگ قیامت کے منکر ہیں ۔ مگر ایک وقت آئے گا ۔ جبکہ یہ سب اس کی حقانیت کا اعتراف کریں گے ۔ اور محسوس کرینگے کہ وہ خدا کے سامنے ہیں ۔ اس وقت ان کے عوام تو جس طرح دنیا میں ہمیشہ الٹی باتیں کہتے تھے ۔ اور ان کو واقعات کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا تھا ۔ یہ کہیں گے کہ ہم عالم برزخ بس ایک ساعت ہی رہے ۔ مگر ان میں کے اہل علم و ایمان یہ ہی ان کی غلط فہمی یہ کہہ کر دور کردینگے کہ یہ میدان حشر ہے ۔ تم کتاب اللہ کے موافق یوم المعیت تک اس عالم میں رہے ہو اب تیار ہوجاؤ کہ احتساب کا وقت آگیا قیل وقال اور بحث و مباحثہ کا وقت نہیں ہے ! اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں گی مگر بےفائدہ ! اس وقت کی بیداری سود مند نہ ہوگی ۔ ان کی کوئی معذرت قبول نہیں کی جائے گی ۔ اور کسی رطح بھی یہ اللہ کی ناراضی کو دور نہیں کرسکے گے ۔ اس لئے ضرورت سے کہ ابھی سے اس ہولناک منظر کو سامنے رکھا جائے ! اور اس سے قبل کہ عرصہ محشو میں کشاں کشاں پہنچیں اپنے دامن عمل کو ایمان ویقین کی نعمتوں سے بھرلیں ۔ اور اتنے بڑے سفر کے لئے کچھ زاد راہ اپنے ساتھ لے لیں ۔ تاکہ اس قابل ہوجائیں کہ وقت پر ندامت نہ ہو ۔ حل لغات :۔ ولاحم یستعتبون ۔ اور نہ ان کی توبہ قبول کی جائے گی ۔
Ayahs 30:58–59

وَ لَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ لَئِنْ جِئْتَهُمْ بِاٰیَةٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ Open ayah 30:58 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کے لئے ہر طرح کی مثال بیان کی ہے ۔ اور اگر تو ان کے پاس کوئی نشانی (ف 2) لائے تو جو کافر ہیں وہ یہی کہیں گے کہ تم تو جھوٹ بناتے ہو

كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 30:59 in the Quran reader

یوں اللہ ان کے دلوں پر مہر کرتا ہے ۔ جو نہیں جانتے

غرض یہ ہے ۔ جہاں تک سمجھانے اور حقائق کو دل تک اتارنے کا تعلق ہے ۔ قرآن حکیم کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا ۔ ہر نوع کے استدلال اور ہر قسم کے استنباط سے م لیا ہے ایک جاہل سے لے کر فاضل فلسفی تک کے لئے ذہنیتوں کا خیال ما ہے ۔ سادی باتیں بتائی ہیں ۔ اور حکیمانہ انداز میں اختیار کیا ہے ۔ حق تو یہ ہے کہ عبرت پذیری کے لئے جرتد ذریعے افہام و تفہیم کے ہوسکتے ہیں وہ سب قرآن میں موجود ہیں مگر منکرین کو کیا کیا جائے ۔ کہ ان کو اس میں کوئی خوبی نظر نہیں آتی ۔ وہ دلائل اور مشاہدات دیکھتے ہوئے بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ سب جھوٹ اور فریب ہے واقعات کے خلاف ہے ۔ اس لئے کہ ان کے دلوں میں ہدایت کو قبول کرنے کی استعداد ہی باقی نہیں رہے ؎ گرنہ بیند ہو ذرسپرہ چشم چشمہ آفتاب راچہ گناہ
Ayah 30:60

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّ لَا یَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 30:60 in the Quran reader

سو تو صبر کر بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور وہ جو یقین نہیں کرتے تجھے پھسلانہ دیں

حق کی نصرت مقدرات میں سے ہے اس لئے حضور ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے کہ آپ فکر مند اور طول نہ ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے یقینا آپ کامیاب اور فائز المرام ہونگے ۔ اور آپ کے یہ دشمن ناکام اور رسوا ۔ آپ گھبرائیے نہیں اور ایسا نہ ہو کہ یہ بےیقین لوگ اپنی حرکات سے آپ کے پیمانہ صبر کو چھلکادیں ۔