29. Surah Al-Ankaboot

العنكبوتThe Spider · 69 ayahsسراج البیان

Ayahs 29:41–42

مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْلِیَآءَ كَمَثَلِ الْعَنْكَبُوْتِ١ۚۖ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا١ؕ وَ اِنَّ اَوْهَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْكَبُوْتِ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:41 in the Quran reader

ان کی مثال جنہوں نے اللہ کے سوا دوست پکڑے ہیں ایسی ہے جیسے مکڑی ۔ جس نے گھر بنایا ۔ اور سب گھروں سے زیادہ کمزور مکڑی (ف 1) کا گھر ہے اگر وہ جانیں

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 29:42 in the Quran reader

خدا کے سوا جس جس چیز کو پکارتے ہیں اللہ جانتا ہے خواہ وہ کوئی چیز کیوں نہ ہو ۔ اور وہ غالب حکمت والا ہے

ایک بےمثل تشبیہہ 1: حقیقت یہ ہے کہ مشرکین کے عقیدہ کی کمزوری اور ان کی بےچارگی کی اس سے بہتر مثال نہیں بیان کی جاسکتی غور فرمائیے کہ گھر کی غرض کیا ہوسکتی ہے ۔ یہی کہ وہاں آرام اور آسودگی ہو ۔ گرمی اور سردی سے پناہ ملے ۔ اور بادوباران کے وقت آرام میسر ہو ۔ مگر مکڑی کے گھر میں یہ چیزیں کہاں حاصل ہوسکتی ہیں ۔ ہوا کا ایک جھونکا اس کو برباد کرسکتا ہے ۔ اور آگ کا ایک شرارہ اس کے سارے تانے بانے کو فنا کرسکتا ہے ۔ حل لغات :۔ العنکبوت ۔ مکڑی اوھن ۔ بہت زیادہ بودا
Ayahs 29:43–44

وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ١ۚ وَ مَا یَعْقِلُهَاۤ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ Open ayah 29:43 in the Quran reader

اور یہ مثالیں ہیں2 جنہیں ہم آدمیوں کے لئے بیان کرتے ہیں اور ان کو صرف وہی لوگ سمجھتے ہیں جو علم رکھتے ہیں

خَلَقَ اللّٰهُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّلْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 29:44 in the Quran reader

اللہ نے آسمان اور زمین کو جیسا چاہیے پیدا کیا ۔ بیشک اس میں مومنوں کے لئے نشانی ہے

ف 2: جس طرح اس عنکبوت کے کمزور اور ناچیز گھر میں پناہ نہیں مل سکتی ۔ اور یہ گھر آرام و آسودگی باعت نہیں ہوسکتا ۔ اسی طرح مشرک جو اوہام و خرافات اور مشرکانہ خیالات کا ایک مکان تعمیر کرنا چاہتا ہے ۔ سو اس کو معلوم ہونا چاہیے ۔ کہ یہ مکڑی کے گھر کی طرح دنیا بھر کے گھروں سے بودا اور نکما ہوتا ہے ۔ ذرا سی معقولیت اور ادنی سی بصیرت بھی اس کو ڈھادینے کے کافی ہے یعنی شرک کا گھر جو آدمی اپنے دماغ وقلب میں خیالات کے آرام اور آسودگی کے لئے بناتا ہے اس سے ہرگز یہ ضرورت پوری نہیں ہوتی ارشاد ہے ۔ کہ یہ امثال ان لوگوں کے لئے وجہ ہدایت ہوسکتی ہیں ۔ جو عالم اور سمجھدار ہیں ۔ اور واقعہ یہ ہے کہ یہ نہایت عمدہ تشبیہہ ہے اور اس کو سمجھنے کے لئے صحیح سلیقہ کی ضرورت ہے ۔ حل لغات : بالحق ۔ یعنی غرض ومقصد کے موافق درست و راست ۔
Ayahs 29:45–46

اُتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ Open ayah 29:45 in the Quran reader

کتاب میں سے جو کچھ تجھ پر وحی کیا گیا ۔ اسے پڑھ اور نماز کو قائم رکھ بیشک نماز (ف 1) بےحیائی اور ناپسند بات سے روکتی ہے ۔ اور البتہ اللہ کی یاد سب سے بڑی چیز ہے اور اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو

وَ لَا تُجَادِلُوْۤا اَهْلَ الْكِتٰبِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ۖۗ اِلَّا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ وَ قُوْلُوْۤا اٰمَنَّا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ اِلٰهُنَا وَ اِلٰهُكُمْ وَاحِدٌ وَّ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ Open ayah 29:46 in the Quran reader

اور تم (مسلمان) اہل کتاب کے ساتھ جھگڑا نہ کرو ۔ مگر ایسے طور پر جو بہتر ہو ۔ ہاں جنہوں نے ان میں سے تم پر ظلم کیا (ان سے جھگڑا کرو) اور کہو کہ جو ہماری طرف اتارا گیا اور جو تمہاری طرف اتارا گیا ہے ہم اسے مانتے ہیں اور ہمارا معبود اور تمہارا معبود ایک ہے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں

نماز برائیوں سے روکتی ہے 1: مقصد یہ ہے کہ حضور ﷺ کو تسلی دی جائے ۔ اور بتایاجائے ۔ کہ آپ کا کام اللہ کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانا ہے ۔ چاہے وہ قبول کریں یا رد کریں ۔ یہ آپ کے فرائض میں داخل نہیں ۔ کہ لاہد آپ ان کے دلوں تک رسائی حاصل کریں ۔ اور زبردستی ایمان کی دولت ان کے سپرد کردیں ۔ اس سلسلہ میں یہ ضروری تھا ۔ کہ گذشتہ اقوام وملل کے حالات بتلائے جائیں ۔ اس لئے ارشاد فرمایا ۔ کہ آپ قرآن پڑھیں ۔ اور دیکھیں ۔ کہ باوجود انبیاء کی سعی کی بلیغ کے انسانوں کا کثیر طبقہ رشدوہدایت سے محروم رہا ۔ اس لئے اگر یہ لوگ بھی ان بدبختان ازلی میں داخل ہوں ۔ اور قرآن کی برکات سعادت حاصل نہ کریں تو آپ قطعاً تکلیف اور کوفت محسوس نہ کریں ۔ نماز کے متعلق یہ تصریح ہے ۔ کہ اس کے قیام سے مسلمان میں ترک فواحش کی زبرست استعداد پیدا ہوجاتی ہے ۔ اور نمازی کے لئے ناممکن ہوجاتا ہے ۔ کہ وہ اللہ کی نافرمانی کی جرات کرسکے ۔ اس کے دل میں تقویٰ اور پرہیزگاری کے جذبات پیدا ہوجاتے ہیں ۔ جو اسے ہر برائی کے ارتکاب سے روکتے ہیں ۔ نماز کے معنے یہ ہیں کہ ایک گنہگار انسان اللہ سے پاک بازی کا عہد کرتا ہے ۔ اور دن رات میں پانچ وقت برابر اللہ کے حضور پیش ہوتا ہے ۔ یہ ایسا تعلق اور ایسی وابستگی ہے ۔ کہ جس کے ساتھ گناہوں کا اجتماع محال ہے ۔ نمازی نفس کی تمام خواہشات کے ساتھ جنگ کرتا ہے ۔ اور اپنے کو کامل طور پر اللہ کے سامنے جھکا دیتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ایسے مظاہر عبودیت کی تکرار انسان کو مکمل مطیع ومنقاد بنادیتی ہے ۔ اور اس طرح کی مستحق نیازمندی سے انسان لامحالہ زہدوروع کی انتہائی بلندیوں پر متمکن ہوجاتا ہے ۔ مگر یہ کیفیت اس وقت حاصل ہوتی ہے ۔ جبکہ نماز کو اس کی روح اور معنویت کے ساتھ ادا کیا جائے ۔ جب اس کو سچے معنوں میں عبادت قرار دیا جائے ! اور اس کی تمام شروط لازمہ کا خیال رکھا جائے ۔ خضوع وخشوع کا دلوں پر غلبہ ہو ۔ اور مقام احسان نگاہوں سے اوجھل نہ ہو ۔ حل لغات :۔ الفحشاء ۔ وہ برائی جس کا تعلق افراد سے ہو اور بالطبع ظاہر ونمایاں ہو ۔ وہ برائی جو حد سے گزر جائے المنکر ۔ وہ برائی جسے سوسائٹی برا سمجھے ۔ وہ برا کام جس کو ہر دیکھنے والا ناپسند کرے
Ayah 29:47

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ۚ وَ مِنْ هٰۤؤُلَآءِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِهٖ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 29:47 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے تیری طرف کتاب نازل کی ہے ۔ سو جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اسے مانتے1 ہیں ، اور ہماری آیتوں کا انکار صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو کافر ہیں

ف 1: اہل کتاب اور مسلمان میں مذہب کے باب میں بہت سی باتیں مشترک ہیں ۔ وہ بھی خدا کے قائل ہیں ۔ ملائکہ کو مانتے ہیں ۔ حشر ونشر کو تسلیم کرتے ہیں ۔ اور جنت و دوزخ کے معتقد ہیں ۔ اس لئے ارشاد ہے کہ جب ان لوگوں سے بحث کرو ۔ تو عمدہ اور احسن طریق سے ۔ جاذب اور موثر انداز سے ۔ ایسا نہ ہو ۔ کہ وہ تمہاری سختی اور خشونت سے اپنے مسلمات کا بھی انکار کردیں الا الذین ظلموا سے مراد وہ لوگ ہیں جو مشرک ہیں اور خدا کے ساتھ دوسروں کو ساجھی قرار دیتے ہیں ۔ قرآن کی رو سے یہ لوگ کسی اخلاقی رعایت کے مستحق نہیں
Ayah 29:48

وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 29:48 in the Quran reader

اور اس سے پہلے (ف 2) تو نہ کوئی کتاب پڑھتا تھا اور نہ اپنے داہنے ہاتھ سے اسے لکھتا تھا اگر ایسا کرتا ہوتا تو اس وقت البتہ یہ جھوٹے شبہ کرسکتے تھے

امی نبی ﷺ 2: اس آیت میں قرآن حضور ﷺ کی شان امت کو پیش کرتا ہے ۔ کہ وہ شخص جس نے توحید کے اسرار و رموز کو وہ شگاف طور پر بیان کیا جس نے انسانوں کی صحیح رانمائی کی ۔ جس نے مذہب کی مشکل لتھیوں آن کی آن میں نہایت آسانی سے سلجھادیا ۔ جس نے نفس عقل کو حیران و ششدر کردیا ۔ جس کی حکمت حکمت بانعہ جس نافرمان فرمان فطرت ۔ جو دنیا جہان کا محبوب ہے ۔ جس کے ادنی خادموں کی غلامی فلسفہ نے صدیوں تک کی ۔ جس نے قرآن ایسی عظیم الشان کتاب پیش کی جس نے قیامت تک کے لئے دماغوں کو مخاطب کرکے کہا ۔ کہ اگر تمہیں اس کی عظمت میں کلام ہے ۔ تو آؤ اس کا مقابلہ کرکے دیکھ لو ۔ وہ امی تھا ۔ اس نے کسی شخص کے سامنے زانوئے تلمذ طے نہیں کیا ۔ وہ ذہن وقلب کے لحاظ سے کسی انسان کا ممنون احسان نہیں ۔ ورنہ کہنے والوں کو موقع ملتا ۔ کہ یہ کلام سن کر اپنا کلام ہے ۔ جو اللہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے ۔
Ayah 29:49

بَلْ هُوَ اٰیٰتٌۢ بَیِّنٰتٌ فِیْ صُدُوْرِ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ١ؕ وَ مَا یَجْحَدُ بِاٰیٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 29:49 in the Quran reader

بلکہ یہ قرآن تو کھلی آیتیں ہیں ان کے سینوں میں جنہیں علم دیا گیا ہے ۔ اور ہماری آیتوں کا انکار صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو ظالم (ف 3) ہیں

قرآن محفوظ ہے 3: اس آیت میں قرآن کی اس فضیلت کا اظہار ہے ۔ کہ یہ کتاب گذشتہ کتابوں کی طرح ضائع نہ ہوگی ۔ اور کسی طرح کی تحریف اور تبدیلی اس میں نہیں ہوسکے گی ۔ کیونکہ اس کی حفاظت صرف کاغذ اور روشنائی قلم پر موقوف نہیں ۔ بلکہ یہ سفینوں کے ساتھ بےانتہا انسانوں کے سینوں میں موجود رہینگی ۔ چناچہ آج تمام دنیا کی مذہبی کتابوں میں یہ درجہ صرف قرآن مجید کو حاصل ہے کہ اس کا لفظ لفظ اہل علم کے حافظے میں مرتسم ہے یہ ہوسکتا ہے کہ مذاہب پر ایسی آفت آئے ۔ کہ اس کا سارا ذخیرہ دینی تلف ہوجائے ۔ مگر یہ ناممکن ہے کہ قیامت تک قرآن کو کسی نوع کا صدمہ پہنچ سکے ۔ جب تک ایک حافظ قرآن بھی زندہ ہے ۔ اس وقت تک اسلام کی تعلیمات زندہ ہیں غور فرمائیے ۔ آج ویدوں کے محققین بر ملا کہہ رہے ہیں کہ ان کے مشن میں مخالفین نے یہ بہت کچھ گھٹا بڑھا دیا ہے ۔ تورات مدت ہوتی کہ یہودیوں کی چیرودستیوں کی وجہ سے ناپید ہے اور انجیل کا تو دوسری صدی عیسوی تک تو اور روزگار میں شمار ہوچکا تھا ۔ اور اہل نسخہ مفقود تھا ۔ تیسری صدی میں تو جعلی انجیلوں کی یہ کثرت تھی کہ جامعین کے نسخوں کے مقابلہ کرنے میں سخت مشکلات پیش آئیں ۔ اور ان کو اعتراف کرنا پڑا ۔ کہ کوئی نستخہ قابل اعتماد نہیں مگر قرآن کو دیکھئے کہ لیل ونہار کی ہزاروں گردشوں کے بعد بھی اسی شکل میں اس کو حضور ﷺ نے پیش کیا تھا ۔ اس وقت تک ایک حرف بلکہ ایک زیر یا زبر کا بھی فرق نہیں ہوا ۔ اسی وجہ سے آج بھی مخالفین یہ کہنے پر مجبور ہیں ۔ کہ قرآن یقینا ہر قسم کی تخریفات سے پاک ہے ۔ حل لغات :۔ یجھد جحد سے ہے بمعنے انکار
Ayah 29:50

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 29:50 in the Quran reader

اور یہ کہتے ہیں کہ اس کی طرف سے اس پر کچھ نشانیاں کیوں نہ نازل ہوئیں ۔ تو کہہ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور میں صرف کھول کر ڈرانیوالا (ف 1) ہوں

ف 1: نزول قران سے پیشتر لوگوں میں معجزہ طلبی کا مرض پھیل چکا تھا اور انسان دماغ اس حت تک نسبت ہوچکا تھا ۔ کہ جب تک کرشمہ و عجائب سے ان کی آنکھوں میں چکا چوند نہ پیدا کی جاتی کسی حقیقت کہ ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے تھے ۔ گویا ان کے نزدیک صدق وراستی کا معیار تجربہ وعمل نہ تھا ۔ بلکہ یہ بات تھی کہ اس پیش کرنے والا کس درجہ غرائب ونوا اور پر قادر ہے ۔ چناچہحضور ﷺ نے اسلام کی ٹھوس اور سچی تعلیمات کو پیش کیا ۔ تو ان لوگوں نے اسی ذہنیت کے ماتحت کہا ۔ کہ ہم ان باتوں کو اس وقت تک ماننے کے لئے آمادہ نہیں ۔ جب تک کہ آپ معجزات نہ دکھائیں ۔ اور حیرت زانشانیوں کو پیش نہ کریں ۔ ان آیات میں ان کی ذہنیت کا جواب دیا ہے ۔ ارشاد ہے کہ ظالموں یہ چیز پیغمبر کے فرائض میں داخل نہیں ہے کہ وہ تعلیم کے ساتھ خوارق کو بھی پیش کرے اور نہ یہ صداقت کا معیار ہے کہ اس کو پیش کرنے والا قدرت اور فطرت کے امور میں تصرف کا دعویدار بھی ہو ۔ پیغمبر تو صرف اس بات کا ذمہ دار ہے کہ وہ کچھ پیش کرے وہ حق ہو ۔ درست ہو ۔ اور بنی نوح انسان کے لئے ارتقاع عروج کا باعث ہو ۔ فرمایا نشانیاں اللہ کے قبضہ اختیار میں ہیں ۔ میں تو اس کی طرف سے محض اس لئے مامور ہوں ۔ کہ تمہاری اصلاح کروں اور تم کو گناہ ومعصیت کے انجام بد سے آگاہ کروں اور اگر تم معجزہ ہی دیکھنا چاہتے ہو تو قرآن کو دیکھو یہ سب سے بڑا معجزہ ہے ۔ اس میں رحمت وتذکار کا وافر سامان موجود ہے ۔ شرط یہ ہے کہ تمہارے دلوں میں ایمان کی روشنی ہو ۔ اور تمہارے دماغوں میں مان لینے اور تسلیم کرلینے کی صلاحیت ہو
Ayah 29:51

اَوَ لَمْ یَكْفِهِمْ اَنَّاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ یُتْلٰى عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَرَحْمَةً وَّ ذِكْرٰى لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 29:51 in the Quran reader

کیا ان کو یہ کافی نہیں کہ ہم نے تجھ پر کتاب نازل کی جو ان کے سامنے پڑھی جاتی ہے بیشک اس میں ایماندار لوگوں کے لئے رحمت اور نصیحت ہے

حل لغات :۔ ذکری ۔ نصیحت
Ayah 29:52

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكُمْ شَهِیْدًا١ۚ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْبَاطِلِ وَ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 29:52 in the Quran reader

تو کہہ میرے اور تمہارے درمیان خدا کافی گواہ ہے ۔ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ۔ وہ جانتا ہے اور جو باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کا انکار کرتے ہیں وہی سب زیادہ زیاں کار ہیں

حل لغات : الخسرون ۔ یعنی درحقیقت خسران میں رہنے والے لوگ
Ayahs 29:53–55

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ وَ لَیَاْتِیَنَّهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 29:53 in the Quran reader

اور تجھ سے جلد عذاب مانگتے ہیں اور اگر ایک مقررہ میعاد نہ ہوتی تو ضرور ان پر عذاب آجاتا اور البتہ وہ ان پر ناگہاں آئے گا اور انہیں خبر بھی نہ ہوگی

یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 29:54 in the Quran reader

تجھ سے جلد عذاب مانگتے ہیں ۔ اور دوزخ نے کافروں کو گھیر رکھا ہے

یَوْمَ یَغْشٰىهُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ وَ یَقُوْلُ ذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 29:55 in the Quran reader

جس دن ان کے اوپر سے اور ان کے پاؤں کے نیچے سے انہیں عذاب گھیر لے گا اور کہے گا کہ جو کچھ تم کرتے تھے چکھو

حل لغات : بغتۃ ۔ خلاف توقع ۔ ناگہاں
Ayah 29:56

یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ اَرْضِیْ وَاسِعَةٌ فَاِیَّایَ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 29:56 in the Quran reader

اے میرے ایماندار بندو میری زمین (ف 1) فراخ ہے سو تم میری ہی عبادت کرو

ہجرت 1: اسلام چونکہ تہذیت و تمدن اور عقائد و عبادات کے لحاظ سے ایسا مذہب نہیں ہے جس میں کسی خاص ماحول یا فضا کے ساتھ دینی اختصاص ہو ۔ اس لئے وہ بالطیع قیود ووطن سے آزاد ہے ۔ اس کے نزدیک ہر وہ خطہ ارض وطن ہے ۔ جہاں مسلمان مومنین اسلامی زندگی بسر کرسکے ۔ اور ہو وہ جگہ چھوڑ دینے کے لائق ہے جہاں دین کی آزادی میسر نہیں ۔ اگرچہ وہ مکہ جیسی متبرک جگہ ہی کیوں نہ ہو اسلام ایسا مکمل حدود تا آشیانہ اور ہمہ صداقت مذہب ہے کہ لاہ مکان ونسان کی حدود سے بےنیاز ہے ۔ ساری دنیا کیوسعتیں اس کا صحن مکانی ہیں ۔ چناچہ ارشاد ہے ارغی واسعۃ یعنی میری زمین میرے مومن بندوں پرکشادہ ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ ملکی رسم و رواج یا ملک کا مستبعدانہ قانون مسلمان کی روح آزادی کو نہ کچل دے ۔ مسلمان کو ہر آن لازم ہے ۔ کہ اسکے دل اور جسم پر بجز رب کعبہ کے کسی کی حکومت نہ وہ جب جھکے ! اس کے سامنے جھکے اور جب محبت کا اظہار کرے تو اسی سے کرے
Ayah 29:57

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١۫ ثُمَّ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 29:57 in the Quran reader

ہر جی (ف 2) موت کو چکھے گا پھر تم میری طرف آؤ گے

ف 2: ان آیات میں اس حقیقت کا اظہار فرمایا ہے کہ ہر نفس کے لئے موت مقدر ہے ۔ ہر شخص کو مرنا ہے ۔ یہ چاہے وہ جلالت قدر اور عظمت میں ساری دنیا سے بڑھا ہوا ہو ۔ اس لئے اسے دنیا کی زندگی میں سمجھ لینا چاہیے ۔ کہ کہیں ہجرت و جہاد سے تحلف اس بنا پر نہیں کہ موت سے خائف ہے اور ہجرت و جہاد کو ہلاکت کا سبب سمجھتا ہے ۔ اگر حین بزدلی کا یہ بندیہ دل میں ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ موت کے لئے کوئی جگہ یا وقت اور کیفیت کا سوال نہیں ۔ وہ ہر وقت اور جگہ آسکتی ہے ۔ اس کے حملوں سے کوئی شخص نہ کبھی بچا ہے اور نہ بچ سکتا ہے ۔ پھر کیا صورت بہتر نہیں کہ اللہ کی راہ میں اس کے دین کے اعلاء میں اور اس کی آزادانہ تبلیغ و اشاعت میں ہم موت سے ہم کنار ہوں ! ارشاد ہے کہ وہ لوگ جو ایمان کی نعمت سے کماحقہ بہرہ ور ہیں ۔ جنہیں دولت ایمان فی الحقیقت عزیز ہے اور جو عمل وسعی کا پیکر ہیں اللہ اگر دنیا میں ہمارے لئے اپنی محبوب ترین آسائشوں کو چھوڑدیتے ہیں تو ہم بھی ان کے لئے کچھ کم مہربانیوں اور شفقتوں کا اظہار نہیں کرتے ۔ ہم اخروی زندگی میں ان مکانوں سے کہیں بہتر مکان ان کو رہنے کے لئے دینگے ۔ جن کو وہ ہماری خاطر چھوڑ رہے ہیں ۔ ہمارے ہاں سعی وعمل کا نہایت عمدہ صلہ ہے ۔ ہاں اس تصور اجر کو تسلیم کرنے کے لئے اور ہجرت پر آمادہ ہونے کے لئے زبردست صبر و توکل کی ضرورت ہے پھر شخص کے یہ بس کی بات نہیں کہ وہ خدا کے لئے اپنا تمام متاع لٹا دے اور ہجرت کی صعوبتوں اور مشقتوں کو برداشت کرے ۔ حل لغات :۔ ذائقۃ الموت ۔ ذوق سے ہے ۔ جس کے معنے چکھنے کے ہیں مقصد یہ ہے کہ تم تو موت کی تلخیوں سے بچنا چاہتے ہو ۔ مگر شربت فنا کے گھونٹ تمہارے حلق میں اتر کر رہیں گے ۔ اور تم کسی طرح بھی اس کے جرعات سے کام ودہن کو محفوظ نہیں رکھ سکتے
Ayahs 29:58–61

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُبَوِّئَنَّهُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ غُرَفًا تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَۗۖ Open ayah 29:58 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ۔ ہم انہیں بہشت کے بالاخانوں میں جگہ دینگے ۔ جن کے نیچے نہریں بہتی رہیں ۔ وہ اس میں ہمیشہ رہینگے ۔ اچھا اجر ہے کام کرنے والوں کا

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 29:59 in the Quran reader

جنہوں نے صبر کیا اور اپنے رب پر بھروسہ رکھا

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ دَآبَّةٍ لَّا تَحْمِلُ رِزْقَهَا١ۗۖ اَللّٰهُ یَرْزُقُهَا وَ اِیَّاكُمْ١ۖ٘ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 29:60 in the Quran reader

اور بہت جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے ۔ اللہ انہیں اور تمہیں رزق دیتا ہے اور وہی سنتا ہے اور جانتا ہے

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 29:61 in the Quran reader

اور اگر تو ان (اہل مکہ) سے پوچھے کہ کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور سورج اور چان کو مسخر کیا ؟ تو کہیں گے کہ اللہ نے پھر کہاں سے پھرے جاتے ہیں

حل لغات غرفا ۔ بالا خانے ۔ غرفۃ کی جمع ہے ۔
Ayahs 29:62–63

اَللّٰهُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ یَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 29:62 in the Quran reader

اللہ اپنے بندوں میں سے جب کی روزی (ف 1) چاہتا ہے فراخ کرتا ہے اور جس کی چاہتا ہے تنگ کرتا ہے ۔ بیشک اللہ ہر شئے سے خبردار ہے

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 29:63 in the Quran reader

اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمان سے پانی کس نے نازل کیا پھر اس سے زمین کو اس کے مرے پیچھے زندہ کیا تو کہیں گے اللہ نے ۔ تو کہہ سب تعریف اللہ کے لئے ہے ۔ لیکن بہت لوگ سمجھتے نہیں

ف 1: دنیا میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جن کی ساری کوششیں فکرمعاش پر مرکوز ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے بڑی ذمہ داری قدرت کی جانب سے ان پر عائد نہیں ہوتی ہے ۔ دن رات اس غم میں گھلے جارہے ہیں ۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس قسم کے لوگوں کے لئے ہجرت کا مسئلہ بہ نسبت دوسرے لوگوں کے زیادہ ٹیڑھا ہے ۔ وہ سب سے پہلے یہ سوچتے ہیں ۔ کہ اس وقت تو بمشکل تگ ودو کرکے برسوں کی محنت ورسوخ سے روزی مل رہی ہے ۔ جب اپنا ملک چھوڑ دیں گے اور بالکل غیروں کے ہاں جا کر بسیں گے ۔ تو پھر کھائیں گے کہاں سے ؟ ان پیٹ کے بندوں سے اس آیت میں مخاطب سے ، کہ کم بختو ، تم کس قدر کونا ہمت ہو اللہ پر تمہارا بھروسہ کس درجہ کم ہے ۔ تم حیوانات سے بھی گزر گئے ہو ۔ دیکھو ۔ وہ باوجود عقل وخرد کی کوتاہی کے فکر معاش سے کتنے بےپرواہ ہیں ۔ وہ دن کا کھانا کھا کر کبھی رات کے کھانے کی فکر میں غلطاں وپیماں نہیں رہتے ! اور رات کو دن کی فکر میں نہ گھلتے اللہ برابر ان کو کھانا دیتا ہے تمہیں رزق کی تقسیم پر مقرر نہیں کیا گیا ہے تم خود آپ اپنے رازق نہیں ہو ۔ تمام کائنات کو وہی دیتا ہے تم کو بھی وہی دیگا ۔ توکل اور بھرورسہ شرط ہے
Ayahs 29:64–65

وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:64 in the Quran reader

اور یہ دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشہ ہے اور آخرت کا گھر ہے وہی واصل ، زندگی ہے اگر وہ جانیں

فَاِذَا رَكِبُوْا فِی الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 29:65 in the Quran reader

پھر جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو خالص اس کی بندگی کرتے ہوئے پکارتے ہیں ۔ پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف نجات دیتا ہے تو وفرا ہی شرک کرنے لگتے ہیں

حل لغات :۔ لھو ۔ کے معنی اصل میں برگشتہ کرنے کے ہیں یعنی دنیا ایسا مقام ہے جس کے مشاغل عقبی کی فکر سے انسان کو برگشتہ کردیتے ہیں اور ان عارضی دلچسپیوں میں پڑ کر انسان کچھ اس قدر کھو جاتا ہے کہ دنیا کا جاودانی پہلو اس کی نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے لعبا ۔ سے مراد یہ ہے کہ یہ دنیا ایسی چیز نہیں جسے آپ غیر ضروری وقعت دیں اور اسے بہت اہم سمجھیں اصل زندگی کے مقابلے میں اور زندگی کی حقیقی تگ و دو کے مقابلہ میں اس کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسے کھیل کود کی یعنی دنیا کی دلچسپیاں محض اس لئے ہیں کہ ان کی روحانی زندگی کی جانغسل مساعی کو جاری رکھنے کے لئے مدد مل سکے ! اور نفس کو تھوڑی سی آسودگی حاصل ہوجائے اور بس
Ayah 29:66

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِیَتَمَتَّعُوْا١ٙ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 29:66 in the Quran reader

تاکہ جو ہم نے انہیں دیا ہے اس کی ناشکری (ف 1) کریں اور فائدہ اٹھائیں ۔ سو آگے وہ معلوم کرلیں گے

توحید کا اقرار 1: توحید کے متعلق اسلامی نظریہ یہ ہے ۔ کہ فطرت کا عقیدہ سے دل کی آواز ہے ! اور ایسی صداقت ہے جس کا انکار ہوش و حواس کی سل امتی میں قطعاً ممکن نہیں ۔ اس لئے قرآن حکیم فرمتا ہے ۔ کہ جب ان مکہ کے مشرکوں سے پوچھا جاتا ہے ۔ کہ بتاؤ آسمانوں اور زمین کو کس نے بنایا ہے اور سورج اور چاند کو کس نے تمہارے لئے مسخر کردیا ہے ؟ تو یہ لوگ بےاختیار چلا اٹھتے ہیں کہ خدا نے وہی رزق کو بانٹتا ہے ۔ اور کشائش وتنگی اسی کے دست قدرت میں ہے ۔ اسی طرح جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ جس وقت زمین اپنی تروتازگی کھو بیٹھتی ہے ۔ باغ وراغ پانی کے ایک ایک قطرے کو ترستے ہیں ۔ جب کھیتیاں ختک ہوجاتی ہیں ۔ تو اس وقت کون پانی برساتا ہے ۔ کس کی رحمت جوش میں آتی ہے ۔ اور کون چند لمحوں میں جل تھل کردیتا ہے ۔ ان سب باتوں کا جواب یہی ہے کہ خدا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حقیقت جو ان کے لبوں تک آتی ہے ۔ دراصل فطرت کی آواز ہے ۔ دل کی گہرائیوں کی صدا ہے ۔ مگر یہ لوگ دنیا کی عشرتوں میں پڑ کر اس درجہ غافل ہوجاتے ہیں ۔ کہ دل کی باتیں سننے کے لئے ان کے پاس فرصت ہی نہیں رہتی ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ روشنی ماند پڑجاتی ہے ۔ یہ آواز ہزاروں خواہشوں تلے دب جاتی ہے اور اس وقت ظاہر ہوتی ہے ۔ جب یکایک کوئی مصیبت ان کو گھیر لیتی ہے ۔ اور یہ مخلصی کی کوئی راہ نہیں پاتے ۔ جب کشی میں سوار ہوتے ہیں ۔ اور موجیں چاروں طرف سے موت کا پیغام لے کر آتی ہیں ۔ اور بڑھ بھ کر ان کو سناتی ہیں ۔ اور اس شوروغل میں یہ حواس کھو بیٹھتے ہیں ۔ تو ٹھیک اس وقت فطرت خوابیدہ بیدار ہوتی ہے ۔ اور دل کی روشنی برروئے کار آتی ہے اور خواہشات سے دبی ہوئی آواز لب تک آنے کی جرات کرتی ہے ۔ اس وقت یہ لوگ بڑے خلوص اور بڑی صداقت سے اللہ کو یاد کرتے اور جب یہ مصیبت دور ہوجاتی ہے ۔ زندگی کے جذبات پھر ان کو اپنی جانب متوجہ کرلیتے ہیں ۔ اور یہ پھر خدا کو بھول جاتے ہیں اور پھر دیوی دیوتاؤں کو پوجنا شروع کردیتے ہیں ۔ انسان کی نفسیات کی اور عبرت کی کتنی سچی تصویر اللہ نے کھینچی ہے ؟ کہ یہ مصیبت کے وقت تو اللہ کی طرف دوڑتا اور لپکتا ہے ۔ مگر مسرت میں اس کو بھول جاتا ہے ان آیات کے ضمن میں بتایا ہے کہ وہ دنیا جو اس کے لئے گمراہی کا باعث ہوتی ہے ۔ اپنے رتبے اور مقام کے لحاظ سے کس درجہ حقیر اور ذلیل ہے ۔ اس کی بےثباتی اور فنا پذیری کو دیکھئے ، تو معلوم ہوتا ہے ۔ محض گھروندا ہے ۔ ایک کھیل ہے ۔ تماشا ہے ۔ مگر لوگ بےسمجھ ہیں ۔ کہ اس پر جان تک فدا کررہے ہیں ۔ کیا دانائی اور عقلمندی کا یہ تقاضا نہیں ۔ کہ دائمی اور ابدی زندگی کے لئے کوشش کی جائے ۔ اور آخرت کے لئے زاد سفر مہیا کیا جائے دارآخرت کو لھی الحیون کے لفظ سے تعبیر کرکے قرآن کے اس نظریہ کی تائید فرمائی ہے ۔ کہ زندگی غیر متقطع اور مسلسل ہے اور موت کے معنے محض یہ ہیں ۔ کہ انسان ایک عارضی لباس کو کھینچی کی طرح اتار پھینکتا ہے ۔ اور ایک دوسرا جادوانی لباس پہن لیتا ہے ۔
Ayahs 29:67–68

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ یُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَكْفُرُوْنَ Open ayah 29:67 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہ دیکھا کہ ہم نے حرم مکہ کو امن گاہ بنایا ہے ۔ اور لوگ ان کے آس پاس سے اچکے جاتے ہیں ! پس کیا وہ باطل پر ایمان لاتے اور اللہ کے احسان کی ناشکری کرتے ہیں

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِیْنَ Open ayah 29:68 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جس نے خدا پر جھوٹ باندھایا حق کو جب اس کے پاس آیا جھٹلایا ؟ کیا دوزخ میں کافروں کا ٹھکانا نہیں ؟

حل لغات : ویتخطف الناس من حولھم یعنی یہ لوگ محض بیت اللہ کی وجہ سے امن وضمانیت کی زندگی بسر کررہے ہیں اور سارے ملک میں فساد کی آگ مشتعل ہے ۔ حقیقت تلیین کے لغوی معنے اچک لیجانے اور اٹھا لیجانے کے ہیں
Ayah 29:69

وَ الَّذِیْنَ جَاهَدُوْا فِیْنَا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 29:69 in the Quran reader

اور جنوں نے ہماری راہ میں محنت کی انہیں ہم اپنی راہیں دکھلائیں گے اور بیشک اللہ نیکوں کے ساتھ ہے (ف 1)

فیوض رحمت کی بارش 1: عرفان اور سلوک کی وسعتیں بےانتہا ہیں ۔ اور مجاہدین ذات و تفرید کے لئے داد بہائے ایمن بوقلمون کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا ۔ کہ اس نے تجلیات وانوار کا پور پورا احاطہ کرلیا ہے ۔ جس قدر اس خطیرہ قدس کا قرب حاصل ہوگا ۔ اسی تناسب سے نظروں میں وسعت پیدا ہوگی ۔ اور معلوم ہوگا کہ ہزار وہزار پردے درمیان میں حائل ہیں ۔ اور مقامات واحوال کی کثرت کا یہ عالم ہے کہ ان سب پر کسی شخص کا احاطہ ناممکن ہے ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جدوجہد کرنے والوں کے لئے اللہ کی طرف سے توفیق وتیسیرارزاقی ہے ۔ اور سالک ایک قسم کی اعانت اور شفقت محسوس کرتا ہے ۔ یعنی ہمت اور خلوص شرط ہے ۔ پروردگار عالم کے فیوض رحمت کی بارش کمزور اور ناتوان انسان پر ہمیشہ ہوتی ہے