22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsسراج البیان

Ayah 22:41

اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ١ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ Open ayah 22:41 in the Quran reader

وہ لوگ کہ اگر ہم زمین میں انہیں مقدور (یعنی طاقت) دیں تو نماز پڑھیں ، اور زکوۃ دیں ، اور بھلائی کا حکم کریں ، اور بری بات سے منع کریں ، اور سب معاملات کا انجام اللہ کے ہاتھ میں ہے (ف 1) ۔

(ف 1) جو لوگ اسلامی حکومت کے تخیل سے خائف ہیں ان کو اس آیت پر غور کرنا چاہئے ، ارشاد ہے ، کہ ہم مسلمانوں کو جب تمکن نے الارض کی نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ دنیا میں عیاشیاں نہیں پھیلاتے ، اور حرص وآز میں گرفتار ہو کر لوگوں کے مال و دولت پر ڈاکہ نہیں ڈالتے ، وہ نہایت پاکباز اور خدا پرست ثابت ہوتے ہیں ، ان کی زندگی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ عبادت الہی کے جذبہ کو عام کریں ، اللہ کے سامنے جھکیں ، نماز پڑھیں ، اور زکوۃ دین تاکہ تمام غرباء اور مساکین کی ضرورتوں کو پورا کیا جاسکے ، وہ ہر نیکی کو پھیلاتے ہیں ، اور ہر برائی کے خلاف جہاد کرتے ہیں ان کا طرز حکومت نہایت عادلانہ اور دیندارانہ ہوتا ہے ۔
Ayahs 22:42–45

وَ اِنْ یُّكَذِّبُوْكَ فَقَدْ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُۙ Open ayah 22:42 in the Quran reader

اور اگر وہ تجھے جھٹلائیں تو ان سے پہلے قوم نوح اور عاد اور ثمود نے جھٹلایا ہے ۔

وَ قَوْمُ اِبْرٰهِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍۙ Open ayah 22:43 in the Quran reader

اور قوم ابراہیم (علیہ السلام) ، اور قوم لوط (علیہ السلام) نے ۔

وَّ اَصْحٰبُ مَدْیَنَ١ۚ وَ كُذِّبَ مُوْسٰى فَاَمْلَیْتُ لِلْكٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُهُمْ١ۚ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ Open ayah 22:44 in the Quran reader

اور اہل مدین نے ، اور موسیٰ (علیہ السلام) بھی جھٹلایا گیا تھا سو میں نے کافروں کو مہلت دی ، پھر انہیں پکڑا ، تو میرے انکار کا کیا انجام ہوا ۔

فَكَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ فَهِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ بِئْرٍ مُّعَطَّلَةٍ وَّ قَصْرٍ مَّشِیْدٍ Open ayah 22:45 in the Quran reader

سو بہت بستیاں ہیں جو ظالم تھیں ، ہم نے انہیں ہلاک کیا ، اب وہ اپنی چھتوں پر گری پڑی ہیں ، اور بہت سے کنوئیں اور گج چونے کے محل بیکار پڑے ہیں (ف 1) ۔

(ف 1) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس قانون کی وضاحت فرمائی ہے کہ باطل کو زیادہ دیر تک قیام نہیں ہوتا ، ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑ کے اور معاندین کو باوجود ان کی قوت و شوکت کے صفحہ ہستی سے ہٹا دیا جائے ۔ ارشاد ہے کہ مکذبین اور حق کو جھٹلانے والے تاریخ کے صفحات کو الٹ کر دیکھیں ، ٹوٹے ہوئے مقامات ملاحظہ کریں تو ان کو معلوم ہوگا کہ تکذیب رسل کا انجام کتنا ہولناک ہوتا ہے ۔
Ayah 22:46

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ Open ayah 22:46 in the Quran reader

کیا (اہل مکہ نے) زمین کی سیر نہیں کی کہ انہیں سمجھ دار دل ‘ یا شنوا کان حاصل ہوتے ؟ سو کچھ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں ، لیکن دل جو سینوں میں ہیں ، اندھے ہوجاتے ہیں (ف 2) ۔

(ف 2) یعنی وسوسہ کا تعلق جب دل میں رشد وہدایت کی صلاحیت نہ ہو تو پھر مشاہدات کا انکار بھی ممکن ہے اور اگر یہ مضغہ گوشت ہو تو پھر ادنی اشارات بھی ہدایت کی جانب راہ نمائی کرسکتے ہیں ، بات یہ تھی کہ منکرین حضور ﷺ کو شب وروز دیکھتے تھے ، اور ان کے احوال و عادات سے واقف تھے ، ان کو معلوم تھا کہ ہر وقت اللہ کی تائید آپکے شامل حال ہے اور آپ خدا کے سچے پیغمبر ہیں ۔ وہ ہر آن ملاحظہ کرتے تھے کہ آپ انوار و تجلیات کے حامل ہیں ، اور کائنات کا ذرہ ذرہ آپ کی تائید میں ہے ، مگر پھر بھی انکار کرتے گویا آفتاب کو دیکھتے اور آنکھیں بند کرلیتے ، اس کی تمازت کو محسوس کرتے ، اور منہ لپیٹے ہوئے غفلت و انکار کے لحاف میں پڑے رہتے ، کیونکہ دلوں سے حق وصداقت کو قبول کرنے کی استعداد چھن چکی تھی دل تاریک ہوچکے تھے اور بصیرت گم ہوگئی تھی ۔
Ayah 22:47

وَ یَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَنْ یُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ١ؕ وَ اِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ Open ayah 22:47 in the Quran reader

اور وہ مجھ سے جلد عذاب مانگتے ہیں اور خدا ہرگز اپنا وعدہ خلاف نہ کرے گا اور ایک دن تیرے رب کے نزدیک تمہاری شمار سے ہزار برس کے برابر ہے (ف 3) ۔

عذاب کا ایک دن ہزار سال کے برابر ہے : (ف 3) مقصد یہ ہے کہ یہ لوگ عذاب طلب کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ کا غضب جلد بھڑکے ، تاکہ زندگی کی مسرتوں سے یک قلم محروم ہوجائیں ، مگر یہ نہیں جانتے کہ اس کی گرفت کس قدر جان گسل ہوگی اور وہ عذاب اپنی ہولناک کیفیت کے ساتھ کس درجہ دراز ہوگا ۔ اللہ کا عذاب جس کے یہ لوگ طالب ہیں ، اتنا سخت اتنا خوفناک اور اس قدر شدید ہے کہ اس کا ایک ایک دن ہزار سال کی کلفتوں اور اذیتوں کے برابر ہے ۔ اس آیت میں تصریح فرما دی ہے کہ اللہ کا وعدہ عذاب اٹل ہوتا ہے اس میں قطعا تخلف نہیں ہو سکتا کیونکہ تخلف ہونے کے معنی یہ ہیں کہ معاذ اللہ وعید کی پیشگوئی کرنے والا نبی لوگوں کی نظروں میں ذلیل اور رسوا ہو ۔ وعدہ عذاب کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اب قوم میں پنپنے اور اصلاح پذیر ہونے کی صلاحیت نہیں رہی اور گناہوں کا پیمانہ لبریز ہوگیا ، اس لئے اس وقت قوم کا مٹ جانا اور تباہ ہوجانا ہی منشاء قدرت ہوتا ہے ، اور اس وقت جب عذاب کا وقت مقرر ہوجائے تو توبہ وانابت کا کوئی موقعہ نہیں رہتا ، کیونکہ تعین وقت کا اعلان دراصل اس بات کا اعلان ہوتا ہے ، کہ اب قوم کو یقینا اور ضرور عذاب دیا جائے گا اور کوئی طاقت اس کو عذاب الہی سے نہیں بچا سکے گی ، حل لغات : املیت : ڈھیل دی ، املا کے معنی مہلت کے ہوتے ہیں ۔
Ayahs 22:48–51

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا وَ هِیَ ظَالِمَةٌ ثُمَّ اَخَذْتُهَا١ۚ وَ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:48 in the Quran reader

اور کتنی ہی بستیاں ہیں کہ ہم نے ان کو مہلت دی ، اور وہ گنہگار تھیں ، پھر میں نے ان کو پکڑا اور ہماری طرف آنا ہے ۔

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَكُمْ نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌۚ Open ayah 22:49 in the Quran reader

تو کہہ ، لوگو ! میں تو تو تم کو کھول کر ڈرانے والا ہوں ۔

فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 22:50 in the Quran reader

سو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کے لئے مغفرت اور عزت کا رزق ہے ،

وَ الَّذِیْنَ سَعَوْا فِیْۤ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 22:51 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کے ہرانے میں کوشش کی ، وہی دوزخی ہیں (ف 1) ۔

(ف 1) ان آیتوں میں بتایا ہے کہ جن لوگوں نے اللہ کے رسول ﷺ کی آواز کو سن لیا ، اور اس کے بتائے ہوئے پروگرام پر عمل کیا ، ان کے لئے سراسر مغفرت ، اور عنایت ہے ، اور نہایت پاکیزہ روزی ہے وہ عزت وافتخار سے دنیا میں رہیں گے ، اور آخرت میں جنت کے وارث ہوں گے ، اور جن لوگوں نے معاندانہ کوششیں جاری رکھی ہیں اور پیغام کو نہیں مانا ، وہ خائب و خاسر رہیں گے اور جہنم کے سزاوار ۔ حل لغات : تمنی : آرزو کی ، پڑھایا ۔
Ayah 22:52

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى اَلْقَى الشَّیْطٰنُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ١ۚ فَیَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌۙ Open ayah 22:52 in the Quran reader

اور ہم نے جو رسول اور نبی تجھ سے پہلے بھیجا ، تو جب وہ کچھ (اپنے دل میں کوئی) خیال باندھنے لگا ، شیطان نے اس کے خیال میں کچھ نہ کچھ ڈال دیا ، پس اللہ شیطان کی ڈالی ہوئی بات مٹاتا ہے پھر اللہ اپنی آیتوں کو پکا کرتا ہے ، اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے (ف 1) ۔

غرانیق کا قصہ جعلی ہے !: (ف 1) ان آیات کے شان نزول میں مفسرین نے یہ قصہ ذکر کیا ہے کہ حضور ﷺ نے جب دیکھا کہ قوم کی سرکشی اور عناد روز بروز بڑھتا جاتا ہے اور کسی طرح ان کے جوش تمرد میں کمی واقع نہیں ہوئی تو ان کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ کسی طرح ان کی تالیف قلوب کی جائے ، چناچہ ایک دن آپ قریش کے مجمع میں پہنچے ، تاکہ انکے خیالات کو اسلام کی جانب پھیر سکیں اسی اثنا میں آپ پر سورة النجم کی آیات نازل ہوئیں ۔ آپ نے ان کو مجمع میں پڑھ کر سنایا ، اور جب اس آیت پر پہنچے ۔ (آیت) ” افرایتم اللات والعزی ومناۃ الثالثۃ الاخری “۔ تو شیطان کی تحریک سے آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوگئے ، ” تلک الغرانیق العلی منھا الشفاعۃ ترنجی “۔ یعنی یہ بت واقعی بڑے عظمت والے ہیں ، اور ان کی شفاعت منظور کی جائے گی ، اس لئے ان پر بھروسہ کرنا چاہئے ، ان الفاظ سے تمام مشرکین خوش ہوگئے ، کہ آج محمد ﷺ نے ہمارے بتوں کی تعریف کی ہے ، چناچہ مسلمانوں کے ساتھ وہ بھی سجدے میں گر گئے ، جب اس قصہ کا چرچا ہوا ، تو جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور انہوں نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ آپ نے یہ کیا غضب ڈھایا مشرکوں کی ہمنوائی آپ کو زیبا نہ تھی ، اس پر آپ مغموم ہوئے اور آپ کی تسلی کیلئے یہ آیتیں نازل ہوئیں ، مگر یہ قصہ بالکل غلط اور بیہودہ ہے ۔ ذیل کے نکات پر غور کیجئے : 1۔ سورة النجم کا سیاق اس غلط فہمی کے لئے کوئی گنجائش نہیں رہنے دیتا کیونکہ اس کے بعد ہی ان کے بتوں کی زبردست مذمت مذکور ہے اور یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک بےجوڑ جملہ حضور ﷺ کی زبان پر جاری ہوجائے جو ان آیات کے مخالف ہو ، اس بات کو نہ حضور ﷺ نے محسوس کیا اور نہ مسلمانوں ہی کو توجہ ہوئی ۔ 2۔ جب تمام مکی سورتوں میں توحید کو واضح کرکے بیان کردیا گیا تھا ، تو پھر اب یہ کیونکر قابل تسلیم ہے کہ حضور ﷺ نے اپنا مسلک بدل دیا اور آپ کو محسوس نہ ہوا ۔ 3۔ تبدیلی مسلک اور غلط باتوں کے پیش کرنے پر قرآن میں سخت وعید آئی ہے ۔ (آیت) ” ولو تقول علینا بعض الاقاویل “۔ الخ ۔ 4۔ یہ نص موجود ہے کہ آپ محض وحی کے تابع تھے اور اپنی طرف سے کچھ کہہ دینے کے مجاز نہ تھے (آیت) ”۔ وما ینطق عن الھوی “۔ 5۔ آپ کا دل و دماغ اور زبان سب چیزیں اسی طرح حفاظت الہیہ میں تھیں کہ شیطان کی دخل اندازی ناممکن التصور ہے ۔ (آیت) ” ولو لا ان ثبتناک “۔ الخ ، ” سنقرنک فلا تن سے “۔ 6۔ ابن خزعہ نے کہا ہے کہ یہ قصہ زنادقہ کا وضع کردہ ہے چناچہ انہوں نے اس پر ایک مستقل رسالہ بھی لکھا ہے ، امام ابوبکر احمد بن الحسین البیہقی فرماتے ہیں کہ یہ قصہ بالکل ثابت نہیں ۔ 7۔ امام بخاری (رح) نے سورة النجم کی تلاوت اور مشرکین کے سجدہ کو ذکر کیا ہے لیکن اس قصہ کو کہیں ذکر نہیں فرمایا ۔ 8۔ اگر یہ قصہ تسلیم کر لیاجائے تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ رسول کا ہر پیغام اصلی حالت میں لوگوں تک پہنچنا یقینی نہیں ہے ۔ ظاہر ہے ، کہ یہ بہت بڑا الحاد اور اتہام ہے ۔ بات یہ ہے کہ یہ ساری غلط فہمی لفظی تمنی کے مفہوم نہ سمجھنے سے پیدا ہوئی ۔ تمنی کے معنی خواہش اور آرزو کے ہیں ، اور پڑھنے اور تلاوت کرنے کے بھی ہیں چناچہ حضرت حسان ؓ کا ایک شعر حضرت عثمان ؓ کے متعلق ہے ۔ تمنی کتاب اللہ اول لیلۃ واخرھا لاتی حمام المقادر : یعنی عثمان ؓ رات کے پہلے حصے میں قرآن کی تلاوت کرتے رہے اور آخری حصے میں شہید ہوگئے ۔ اس آیت میں تمنی کے معنی پڑھنے اور تلاوت کرنے کے ہیں جن لوگوں نے اس کے معنے آرزو اور خواہش کے لئے ہیں ، ان کیلئے اس مصنوعی قصہ کے تسلیم کرلینے میں آسانیاں پیدا ہوگئیں ، اور میرا تو خیال ہے کہ یہ قصہ ہی لفظ تمنی پڑھ کر وضع کیا گیا ہے ، اور واضع کا ذہن اسی لفظ سے اس قصہ کی جانب منتقل ہوا ہے ۔ آیت کا مقصد واضح ہے کہ انبیاء جب لوگوں کے سامنے احکام پیش کرتے ہیں تو شریر لوگ اپنی طرف سے بہت کچھ بڑھا چڑھا کر اسے پھیلاتے ہیں ، اور لوگوں کے دلوں میں قسم قسم کے شبہات پیدا کردیتے ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ جوابات قاطعہ اور براہین سامعہ سے ان شبہات کو دور کردیتا ہے پھر غلط فہمی کیلئے کوئی احتمال باقی نہیں رہتا ، البتہ ان کے دلوں کی آزمائش ہوجاتی ہے ۔ حل لغات : مرض : کھوٹ ، فتخبت ۔ احبات کے معنے عاجزی سے جھکنے کے ہیں ۔
Ayahs 22:53–58

لِّیَجْعَلَ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْقَاسِیَةِ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِیْدٍۙ Open ayah 22:53 in the Quran reader

اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ خدا اس شیطان کے ملائے ہوئے سے ان کو جن کے دل میں انفاق کی ، بیماری ہے اور سخت دل لوگوں کو آزمائے ، اور بیشک ظالم مخالفت میں دور پڑے ہیں ۔

وَّ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَیُؤْمِنُوْا بِهٖ فَتُخْبِتَ لَهٗ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:54 in the Quran reader

اور یہ اس لئے ہوتا ہے کہ جنہیں علم دیا گیا ہے وہ جان لین کہ وہ (یعنی قرآن) تیرے رب کی طرف سے حق ہے پھر وہ اس پر ایمان لائیں اور ان کے دل اس کے لئے عاجز ہوں اور اللہ ایمانداروں کو راہ راست دکھلاتا ہے ۔

وَ لَا یَزَالُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ حَتّٰى تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً اَوْ یَاْتِیَهُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَقِیْمٍ Open ayah 22:55 in the Quran reader

اور کفار (مکہ) اس سے ہمیشہ شک میں رہیں گے ، یہاں تک کہ ان پر ناگاہ قیامت آجائے ، یا ان پر منحوس دن کا عذاب آپڑے ۔

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 22:56 in the Quran reader

راج اس دن اللہ کا ہے وہ ان میں حکم کریگا ، سو جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے وہ نعمت کے باغوں میں ہوں گے ۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ۠ Open ayah 22:57 in the Quran reader

اور جنہوں نے کفر کیا ، اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ، سو انہیں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا ،

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ قُتِلُوْۤا اَوْ مَاتُوْا لَیَرْزُقَنَّهُمُ اللّٰهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 22:58 in the Quran reader

اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی پھر مارے گئے ، یا مر گئے ، انہوں اللہ ضرور اچھا رزق دے گا ، اور اللہ سب سے بہتر روزی دیتا ہے (ف 1) ۔

مسلمان کیوں ہجرت کرتا ہے : (ف 1) اسلامی نقطہ نگاہ سے دین کی حفاظت ہر چیز پر مقدم ہے اور مسلمان مجبور ہے کہ وہ ہر حالت میں اپنے کلچر اپنی تہذیب اور اپنی روایات کو برقرار رکھے ، اس کے نزدیک ملک قوم اور وطنی کشش وجاذبیت کا مفہوم کچھ حیثیت نہیں رکھتا مسلمان کی جان اس کا مال اور اس کا سب کچھ مذہب ہے ، وہ افلاس کو برداشت کرسکتا ہے وہ بھوکا رہ سکتا ہے اور دنیا کی ہر مصیبت کیلئے تیار وآمادہ ہو سکتا ہے مگر دین اور روح کے ادنی وداعی سے ایک لمحہ کے لئے بھی وہ جدا نہیں ہو سکتا ، جو لوگ مسلمان کی نفسیات دینی سے واقف نہیں ، وہ ان کے جذبات وحسیات کو نہیں سمجھ سکتے ان کے نزدیک مذہب کیلئے وطن چھوڑ دینا ، مال و دولت سے الگ ہوجانا ناقابل فہم ہے ، اگر مسلمان کے لینے یہ بالکل آسان ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ اصل دنیا خیالات و افکار کی صحت و عمدگی ہے ، اور یہ ہر وقت اس کی جان کے ساتھ ہے وہ مگر ایمان کی نعمتوں سے بہرہ ور ہے اور اس کا دل و دماغ مطمئن اور قانع ہے تو پھر ملک اور وطن کی دل بستگیاں اسے ہجرت سے نہیں روک سکتیں ۔ اس آیت میں مہاجرین کے فضائل بیان فرمائے ہیں کہ اگر انہوں نے میری اہ میں اپنا وطن اور کاروبار چھوڑ دیا اور دشمنوں سے جہاد کیا بایوں طبعی موت مر گئے تو میں انہیں بہترین نعمتوں سے نوازوں گا ، مجھ سے بڑھ کر اور کون دینے والا اور بخشنے والا ہو سکتا ہے ۔ آیت سے مفہوم ہوتا ہے کہ مجاہد کی موت پر ہر آئنہ شہادت ہے وہ چونکہ اپنی ذات کو اللہ کی محبت میں اللہ کے سپرد کردیتا ہے اس لئے خواہ میدان جہاد میں لڑتا ہوا مرے خواہ جہاد کی آرزو میں اپنی موت مر جائے ، اس کا اجر متعین ہے ، اور وہ ہر صورت میں شہید کے برابر ہے حدیث میں آیا ہے المقتول فی سبیل اللہ والمتوفی فی سبیل اللہ بغیر قتل ھما فی الخیر والاجر شریکان “۔ یعنی اللہ کی راہ میں مرنے والا اور لڑ کر شہید ہونے والا دونوں خیر و برکت میں برابر کے شریک ہیں ۔ حل لغات : عاقب : معاقبہ ۔ انتقام لینا ، یولج : داخل کرتا ہے ، الباطل : غلط ، ناجائز ناچیز ۔
Ayahs 22:59–60

لَیُدْخِلَنَّهُمْ مُّدْخَلًا یَّرْضَوْنَهٗ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَلِیْمٌ حَلِیْمٌ Open ayah 22:59 in the Quran reader

وہ انہیں ایسی جگہ لے جائے گا جس سے وہ راضی ہوں گے اور بیشک اللہ جاننے والا بردبار ہے ۔

ذٰلِكَ١ۚ وَ مَنْ عَاقَبَ بِمِثْلِ مَا عُوْقِبَ بِهٖ ثُمَّ بُغِیَ عَلَیْهِ لَیَنْصُرَنَّهُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 22:60 in the Quran reader

یہ حکم ہے ، اور جس نے ایسا بدلہ دیا ، جیسا اس کے ساتھ کیا گیا تھا ، پھر اس پر زیادتی کی گئی تو اسے اللہ ضرور مدد دے گا ، بیشک اللہ معاف کرنے والا بخشنے والا ہے (ف 1) ۔

(ف 1) اس آیت میں ایک تو اس حقیقت کو بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ مظلوم کی حمایت فرماتے ہیں اور اس کو توفیق دیتے ہیں ، کہ وہ ظلم وجور کے خلاف احتجاج کرسکے ، دوسری بات یہ بیان فرمائی ہے کہ اللہ کی ذات سراسر عفو وکرم سے کام لینی ہے ، وہ غفور اور رحیم ہے ، یعنی اپنوں اور بیگانوں کی لغزشوں اور کوتاہیوں کو بخشنے والا اور رحم کر نیوالا ہے ، مقصد یہ ہے کہ تم بھی فورا احتجاج اور جہاد کے لئے آمادہ نہ ہوجاؤ بلکہ اولے اور بہتر یہ ہے کہ ابتداء وسعت حوصلہ سے کام لو ، اور جب دیکھو کہ معاملہ حد سے بڑھ گیا ہے اور سوائے اس کے اب کوئی طریق نہیں ہے کہ ان لوگوں سے جہاد کیا جائے تو پھر جہاد اولی اور ضروری ہے ۔
Ayah 22:61

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 22:61 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ اللہ رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور اللہ سنتا دیکھتا ہے ۔ (ف 2) ۔

(ف 2) اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کو بیان فرمایا ہے کہ کیونکر وہ رات کے بعض اجزا کو دن میں شامل کردیتا ہے ، اور دن کے اجزا کو رات میں یعنی تاریکی آہستہ آہستہ روشنی میں تبدیل ہوجاتی ہے ، اور روشنی تاریکی کی شکل اختیار کرلیتی ہے ، اسی طرح اللہ کی لئے یہ بھی آسان ہے کہ وہ کفر وشرک کی ظلمتوں کو اسلام و ایمان کی روشنی میں بدل دے اور کفار ومنکرین کفر و طغیان کے اندھیرے سے نکل کر توحید و طمانیت کے اجالے میں آجائیں ۔
Ayahs 22:62–63

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ هُوَ الْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ Open ayah 22:62 in the Quran reader

یہ اس لئے ہے کہ اللہ وہی حق ہے اور اس کے سوا جسے وہ پکارتے ہیں وہ باطل ہے ، اور اللہ بلند مرتبہ بڑا ہے ۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١٘ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَطِیْفٌ خَبِیْرٌۚ Open ayah 22:63 in the Quran reader

کیا تونے نہ دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے پانی اتارا پھر زمین سبز ہوگئی ، بیشک اللہ باریک بین خبردار ہے (ف 1) ۔

مستور معانی کی جھلک : (ف 1) قرآن حکیم میں یہ خوبی ہے کہ وہ مشاہدات قدرت سے عجیب عجیب استدلال کرتا ہے اور وجہ استدلال کو بعض دفعہ بیان نہیں کرتا ، تاکہ ذہن پر زیادہ زور پڑے ، اور پوشیدہ معارف کو حاصل کرکے وہ ایک نوع کی روحانی مسرت محسوس کرے ۔ اس آیت میں کہنے کو تو ایک صریح حقیقت بیان کی ہے کہ دیکھو بارش کے بعد خشک زمین کیسی سرسبز ہوجاتی ہے ، مگر آخری الفاظ (آیت) ” ان اللہ لطیف خبیر “۔ پر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ پس پردہ معافی اور معارف کا قصر بلند موجود ہے ، یعنی کفار کی توجہ کو اللہ کے لطف عمیم کی جانب مبذول کیا ہے تاکہ وہ اسلام کی ضرورت واہمیت کو سمجھ سکیں ۔ جب اللہ تعالیٰ کے لطف وکرم اور علم و حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ مینہ برسا کر خشک اور بےرونق زمین بھی سرسبز و شاداب کردی جاتی ہے ، تو کیا تمہارے دلوں کی شادبی کے لئے اس نے ابر رحمت کے برسانے میں بخل سے کام لیا ہے ، یا وہ تمہاری روحانی تشنیگوں سے بیخبر ہے ، جب تم تسلیم کرتے ہو تو وہ لطیف ہے یعنی نہایت نیکو کار اور مددگار ہے اور خیبر یعنی آگاہ ہے تو پھر ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ تمہیں سچے مذہب سے آشنا کرے اور تمہاری دلوں کی دنیا کو تسکین طمانیت کا سامان بہم پہنچائے ، یہ آیت بھی اسی قبیل سے ہے یعنی مقصود کرشمہ کر رکھا ہے مگر ربط اور سیاق سے مطلب بالکل واضح ہے یعنی دلوں کی دنیا کو دل دینا ہماری طاقت وقوت سے باہر نہیں ہم تمہاری عناد کو محبت کے ساتھ اور تمہارے کفر کو ایمان کے ساتھ بدل سکتی ، میں کیونکر یہاں آسمان و زمین میں جو کچھ ہے وہ ہمارے ہیں ۔
Ayahs 22:64–66

لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 22:64 in the Quran reader

جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے ، اور وہی ہے بےپروا قابل تعریف ۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ سَخَّرَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ وَ الْفُلْكَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ یُمْسِكُ السَّمَآءَ اَنْ تَقَعَ عَلَى الْاَرْضِ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 22:65 in the Quran reader

کیا تونے نہ دیکھا کہ جو کچھ زمین میں ہے خدا نے سب تمہاری تابع کردیا ہے ، اور کشتیاں بھی کہ اس کے حکم سے دریا میں چلتی ہیں ، اور وہ آسمان کو زمین پر گرنے سے تھامے ہوئے ہے (کہ) بغیر اس کے حکم کے (گر نہیں سکتا) بیشک اللہ لوگوں پر بڑا شفیق ، مہربان ہے ۔

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَحْیَاكُمْ١٘ ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ١ؕ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ Open ayah 22:66 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہیں زندہ کیا ، پھر تمہیں مارے گا ، پھر تمہیں جلائے گا ، بیشک آدمی ناشکرا ہے (ف 1) ۔

(ف 1) ان آیات میں اللہ نے اپنی مزید عنائیت کا ذکر فرمایا ہے ارشاد ہے کہ جو کچھ دنیا میں موجود ہے ہم نے تمہیں اس کا حاکم بنایا ہے اور ہر چیز پر تمہیں اختیار دیا ہے ، گویا کائنات میں تمہارا درجہ ہر شے سے بڑا ہے ، تم اس لئے پیدا کئے گئے ہو کہ یہاں حاکمانہ رہو ، اور خدا کی مہربانیوں کا شکر ادا کرتے رہو فرمایا دیکھو کشتیاں اور پہاڑوں کے لئے بھی ہم نے ایسے مفید قانون بہا دیئے ہیں کہ تم ان کے ذریعے سے کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہو ، پھر یہ بھی ہماری نوازش ہے کہ تمہیں آسمان اور آسمانی حوادث سے محفوظ رکھا ہے ، اور سب سے بڑی مہربانی یہ ہے کہ تمہیں زندگی کا خلعت بخشا ہے ، یاد رکھو تم موت سے محفوظ نہیں رہ سکتے ، جس نے تمہیں زندگی عنایت کی ہے وہ تم پر موت کی سختیاں میں وارد کرے گا ، اور پھر حساب ومکافات کے لئے دوبارہ زندگی بھی عنایت فرمائے گا جس کے بعد موت نہیں آئے گی ، ان نعمتوں پر غور کرو ، اور دیکھو کہ انسان کس درجہ ناشکر گزار ہے چاہئے تو یہ تھا ، کہ اس کی گردن ان احسانات گرانبار سے جھکی رہتی ، مگر حالت یہ ہے کہ مغرور اور متکبر انسان یہ سب کچھ دیکھتا اور سنتا ہے ، مگر غور اور پروا نہیں کرتا ۔
Ayahs 22:67–68

لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا هُمْ نَاسِكُوْهُ فَلَا یُنَازِعُنَّكَ فِی الْاَمْرِ وَ ادْعُ اِلٰى رَبِّكَ١ؕ اِنَّكَ لَعَلٰى هُدًى مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 22:67 in the Quran reader

ہر امت کے لئے ہم نے ایک راہ بندگی کی مقرر کی ہے جس پر وہ عمل کرتے ہیں پس چاہئے کہ وہ لوگ دینی معاملہ میں تیرے ساتھ کچھ جھگڑا نہ کریں اور تو اپنے رب کی طرف بلا ، بیشک تو سیدھے رستے پر ہے ۔

وَ اِنْ جٰدَلُوْكَ فَقُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 22:68 in the Quran reader

اور وہ جو تجھ سے جھگڑیں ، تو کہہ ، خدا خوب جانتا ہے جو تم کرتے ہو (ف 2) ۔

(ف 2) پھر اصل موضوع کی جانب توجہ فرمائی ہے یعنی سورة الحج کا مقصد عبادات اور مناسک کی تشریح کرنا ہے اور اس ضمن میں جس قدر شبہات پیدا ہو سکتے ہیں ان کو دور کرنا ہے ، ارشاد ہے کہ تم اسلامی طریق عبادت اور قربانی پر کیوں معترض ہو ، ہر قوم اور گروہ میں کسی نہ کسی طریق سے ان مذہبی رسوم کو ادا کیا جاتا رہا ہے ، طریقہ کے مختلف ہونے سے اصل غرض مفقود نہیں ہو سکتی ۔ ، بہرحال مختلف شرائع کے طریقے بمقتضاء وقت ہم نے ہی مقرر کئے ہیں اس لئے مسلمانوں سے دوسرے لوگوں کو جھگڑنا نہ چاہئے ۔ حل لغات : کفور : ناشکر گزار اس کی نعمتوں سے فائدہ نہ اٹھانے والا ۔ منسکا : فسک سے ہے جس کے معنے قربانی اور عبادت دونوں کے ہیں ۔ الامر : یعنی شریعت اسلامی ۔
Ayahs 22:69–71

اَللّٰهُ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 22:69 in the Quran reader

اللہ قیامت کے دن تمہارے درمیان ان باتوں میں فیصلہ کرے گا ، جن میں تم اختلاف کرتے ہو ،

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ فِیْ كِتٰبٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ Open ayah 22:70 in the Quran reader

کیا تو نہیں جانتا ، کہ جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے ، اللہ کو معلوم ہے ، یہ کتاب میں لکھا ہے ، یہ اللہ پر آسان ہے ۔

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ مَا لَیْسَ لَهُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ Open ayah 22:71 in the Quran reader

اور وہ اللہ کے سوا اس کو پوجتے ہیں ، جس کے لئے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی اور جس کا انہیں علم نہیں ، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں (ف 1) ۔

شرک ناقابل فہم ہے !: (ف 1) (آیت) ” مالم ینزل بہ سلطنا “۔ سے مقصود یہ ہے کہ شرک کے لئے کوئی عقل وجہ جواز موجود نہیں ، اور یہ کیونکر ممکن ہے ؟ کہ ایک مٹھی یا پتھر کے بت کو خدا قرار دے لیا جائے ، یا ایک شخص کو جس کی زندگی اور زندگی کی بےچارگیاں ہمارے سامنے ہیں ہم اس کو خدائی مسند پر بٹھا دیں ، اللہ تعالیٰ نے بار بار شرک کی مذمت فرمائی ہے ، اور اس کو ایک غیر عقلی اور غیر مدلل عقیدہ قرار دیا ہے ، مگر یہ عجیب بات ہے کہ اکثر لوگ اسی شرک کے مرض میں مبتلا ہیں ، اور نہیں محسوس کرتے کہ یہ کھلی گمراہی ہے ، بھلا جو شخص بھوک کی شدت سے بےتاب ہوجاتا ہے ، جسے پیاس بےقرار کردیتی ہے ، بیمار ہوتا ہے تو طبیب کا سہارا ڈھونڈتا ہے ، بتایئے ، وہ مرجانے کے بعد بھلا کیونکر خدا بن سکتا ہے ؟ پتھر کا وہ حقیر اور ذلیل ٹکڑا جس کو تم اپنی خداداد قابلیت سے ایک حسین و جمیل صورت میں بدل دیتے ہو ، وہ الوہیت کا حامل کس طرح ہوسکتا ہے وہ قبر اور مزار جس کو تم اپنے ہاتھوں سے بناتے ہو اس میں خدائی کہاں سے آجاتی ہے ۔ ؟ پھر کیا وجہ ہے کہ تم ان مٹی کے ڈھیروں کے سامنے جھک جاتے ہو ، اور پتھروں کو اپنا معبود سمجھنے لگتے ہو ، کیا یہ محض جہالت نہیں ، اور بےسود فعل ؟
Ayah 22:72

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الْمُنْكَرَ١ؕ یَكَادُوْنَ یَسْطُوْنَ بِالَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ؕ قُلْ اَفَاُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكُمْ١ؕ اَلنَّارُ١ؕ وَعَدَهَا اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ۠ Open ayah 22:72 in the Quran reader

اور جب ہماری کھلی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں ، تب تو کافروں کے مونہوں پر ناخوشی پہچانتا ہے ، قریب ہوتے ہیں کہ جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں ، ان پر دوڑ کر حملہ کریں تو کہہ میں تمہیں اس سے زیادہ بری چیز بتاؤں ؟ وہ آگ ہے ، کافروں کو اللہ نے اس وعدہ دیا ہے وہ بری جگہ ہے (ف 2) ۔

(ف 2) ارشاد ہے کہ گو قرآن ہمہ خیر و برکت ہے اور اس کے دلائل واضح اور روشن ہیں مگر منکرین کے دلوں میں اس کے خلاف بغض وعناد ہے کہ وہ شائستگی کے ساتھ اس کو سن بھی نہیں سکتے حضور ﷺ جب ان تمام بدبختوں کو قرآن سناتے اور چاہتے کہ ان کو محرومی اور بدنصیبی کی دنیا سے نکال کر سعادت و فلاح کی دنیا میں پہنچا دیا جائے ، تو یہ شقیان ازلی نہایت تنفص اور تنفر کا اظہار کرتے ہیں گویا قرآن بہت تلخ جرعون کا نام ہے جو ان کے حلق میں نہیں اڑتے ۔ فرمایا تم قرآن حکیم کی آیتوں کو ناگوار سمجھ کر نہیں ، سنتے ہو مگر میں تمہیں بتاؤں ایک اس سے بھی کہیں ناگوار چیز تمہیں برداشت کرنا پڑے گی اور وہ آگ ہے ، جہنم کی آگ ، کیا اس آگ کو برداشت کرلو گے ؟ اے کاش سمجھو اور غور کرو ۔ حل لغات : سلطانا : فیصلہ کرنے اور چھا جانے والی دلیل ۔ المنکر : ناپسندیدگی ۔
Ayah 22:73

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَنْ یَّخْلُقُوْا ذُبَابًا وَّ لَوِ اجْتَمَعُوْا لَهٗ١ؕ وَ اِنْ یَّسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْهُ مِنْهُ١ؕ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَ الْمَطْلُوْبُ Open ayah 22:73 in the Quran reader

لوگو ایک کہاوت کہی گئی ہے ، سو تم اسے سنو ، جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ، اور ہرگز ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے اگرچہ وہ سب اس کے لئے جمع ہوں ، اور اگر مکھی ان سے کچھ چھین لے جائے تو اسے اس سے چھڑا بھی نہیں سکتے ، عاجز ہے چاہنے والا ، اور (وہ بھی) عاجز کہ جن کو وہ چاہتا ہے (ف 1) ۔

(ف 1) اس سے قبل کی آیت میں شرک کی مذمت فرمائی تھی اور یہ بتایا تھا کہ ان مشرکوں کے پاس اس کی تائید کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں ، اب اس عقیدے کی بےمائگی کا اظہار فرمایا ہے ، ارشاد ہے کہ انکے تمام معبود جمع ہوجائیں ، اور اپنی پوری قوت صرف کردیں ، جب بھی ایک مکھی تک پیدا کرنے میں قاصر رہیں گے ، حالانکہ مکھی ایک نہایت ہی ادنی درجہ کی مخلوق ہے ، اور مکھی کا پیدا کرنا تو بڑی بات ہے اگر وہ انکے کھانے میں سے کچھ چھین لے جائے تو یہ اس کو چھڑا بھی نہیں سکتے ۔ جب مطلوب و معبود کی یہ کیفیت ہے کہ ادنی درجے کی مخلوق کے پیدا کرنے پر بھی وہ قادر نہیں ، اور ماننے والوں کی یہ حالت ہے کہ مکھی پر بھی اختیار نہیں ، تو پھر بت پرستی کیسی ؟ کیا اس بےچارگی اور عجز کے بعد بھی کسی شئے کو خدا مان لینا جائز اور درست ہو سکتا ہے ۔ ؟ حقیقت یہ ہے کہ شرک وبت پرستی میں کوئی معقولیت نہیں صرف وہ لوگ اس معصیت کے مرتکب ہوتے ہیں ، جو ذہنا نہایت پست اور ذلیل ہیں ، اور جنہیں مبدا فیاض سے عقل قطعا ارزانی نہیں ہوئی ۔
Ayah 22:74

مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:74 in the Quran reader

اللہ کی جیسی قدر کرنی چاہئے تھی ، انہوں نے ویسی اس کی قدر نہ جانی ، بیشک اللہ زور آور زبردست ہے (ف 2) ۔

(ف 2) وہ خدا جو ادراک وفہم کی حدود سے بالا ہے جسے نظر نہیں پاسکتی ، اور جو زمان ومکان سے منزہ وپاک ہے جو سب کا خالق اور پیدا کرنے والا ہے ، جس نے اعلی وادنی اور دوست و دشمن سب پر عنایات کی بارش فرمائی ہے ، اس کا کیونکر شریک اور ساجھی ہو سکتا ہے ، جو سب پر غالب ہے ، جس کی حکومت کے دائرے سے کوئی چیز خارج نہیں ، جو قاہر ، مختار ہے اور قوی و عزیز ہے ، اس کے متعلق خیال بھی نہیں کیا جاسکتا ، کہ خود اسی کی ادنی مخلوق اس کی ہمسر ہو سکے ۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں نے اللہ کی عظمت و جلال کا صحیح صحیح اندازہ ہی نہیں کیا ، اور کما حقہ اس کو نہیں پہچانا ۔ حل لغات : مثل : ہر وہ بات جس میں کوئی باریک نکتہ پہناں ہو ۔ الطالب : یعنی عقیدت مند ۔ المطلوب وہ جس سے عقیدت ہو ۔
Ayah 22:75

اَللّٰهُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ رُسُلًا وَّ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌۚ Open ayah 22:75 in the Quran reader

اللہ فرشتوں ، اور آدمیوں میں سے رسول جن لیتا ہے ، بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے (ف 1) ۔

زور لفظ اللہ پر ہے : (ف 1) ولید بن مغیرہ اور اس قماش کے دوسرے لوگ کہتے تھے کہ نبوت کا منصب محمد ﷺ کو کیوں مل گیا ، جب کہ دنیوی اعتبار سے ہم لوگ اس کے زیادہ مستحق تھے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ نبوت کے لئے خاص استعداد ذہنی وفکری کی ضرورت ہے جس کو میرے سوا کوئی نہیں جانتا ، میں فرشتوں اور انسانوں میں سے جسے مناسب سمجھتا ہوں ، پیغام پہنچانے کے لئے منتخب کرلیتا ہوں ، یہ انتخاب محض میری ذات پر موقوف ہے تم لوگ اور تمہارے ہم مسلک دوسرے لوگ نبوت کے منصب کو نہیں حاصل کرسکتے ، یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ زور لفظ اللہ پر ہے ” یصطفے “ پر نہیں چناچہ محض اس نکتہ کے نہ سمجھنے سے بعض کوتاہ فہم لوگوں کو لغزش ہوئی اور انہوں نے سمجھا کہ نبوت اب بھی جاری ہے کیونکہ لفظ ” یصطفی “ استمرار کو چاہتا ہے حالانکہ یہاں بتانا یہ مقصود ہے کہ یہ اصطفاء اور برگزیدگی صرف اللہ کے اختیار میں ہے ۔ فافہم ۔
Ayahs 22:76–78

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 22:76 in the Quran reader

جو ان کے آگے اور پیچھے ہے ، وہ جانتا ہے ، اور اللہ کی طرف سب معاملے جاتے ہیں ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ارْكَعُوْا وَ اسْجُدُوْا وَ اعْبُدُوْا رَبَّكُمْ وَ افْعَلُوا الْخَیْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ۩ Open ayah 22:77 in the Quran reader

مومنو ! رکوع کرو ، اور سجدہ کرو ، اور اپنے رب کو پوجو ، اور نیکی کرو ، شاید تم مراد کو پہنچو ۔

وَ جَاهِدُوْا فِی اللّٰهِ حَقَّ جِهَادِهٖ١ؕ هُوَ اجْتَبٰىكُمْ وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ١ؕ مِلَّةَ اَبِیْكُمْ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِیْنَ١ۙ۬ مِنْ قَبْلُ وَ فِیْ هٰذَا لِیَكُوْنَ الرَّسُوْلُ شَهِیْدًا عَلَیْكُمْ وَ تَكُوْنُوْا شُهَدَآءَ عَلَى النَّاسِ١ۖۚ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اعْتَصِمُوْا بِاللّٰهِ١ؕ هُوَ مَوْلٰىكُمْ١ۚ فَنِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ۠ Open ayah 22:78 in the Quran reader

اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو ، جیسے اس کے جہاد کا حق ہے ، اس نے تمہیں چن لیا اور تم پر دین میں کچھ تنگی نہیں کی ، تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا دین ہے : اس ہی نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے ، پہلے سے ، اور اس کتاب (قرآن) میں بھی ، تاکہ رسول تم پر گواہ ہو ، اور تم (اور) لوگوں پر گواہ ہو ، پس نماز پڑھو ، اور زکوۃ دو ، اور اللہ کو مضبوط پکڑو ، وہ تمہارا صاحب ہے ، سو خوب صاحب ہے اور اچھا مددگار (ف 1) ۔

(ف 1) ان آیات میں کئی چیزیں بیان کی ہیں ، پہلے تو یہ تاکید فرمائی کہ رکوع اور سجود سے اللہ کی عبادت کرو اور اس قسم کے نیک افعال جاری رکھو ، کہ نجات اور روحانی کامیابی کے لئے یہ ضروری ہیں پھر جہاد کی تلقین کرکے یہ نکتہ سمجھایا کہ عبادت سے غرض تحفظ دین کا جذبہ پیدا کرنا ہے یعنی نیاز مندی اور عقیدت کے معنے یہ ہیں کہ جب دشمنان دین تمہاری نمازوں سے تمہیں روکیں ، اور تمہارے دین کو مٹانا چاہیں اور ان تعلقات کا امتحان لینا چاہیں تو تم نے اپنے مولا سے استوار کر رکھے ہیں تو پھر میدان جہاد میں کود پڑو ۔ اس کے بعد اسلام کی خوبی اور فضیلت بیان کی کہ اس میں کہیں دشواری تنگی موجود نہیں ، نہایت سہل اور آسمان مذہب ہے پھر اس حقیقت کو بیان فرمایا کہ تمہارے لئے تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا دین پسند کیا گیا ہے پہلے یعنی پچھلی کتابوں میں تمہارا نام مسلمان رکھا تھا ، اور اس کتاب میں بھی وہی نام رکھا ہے ۔ پھر یہ ارشاد فرمایا کہ رسول تمہارے لئے اسوہ اور نمونہ ہے اور تم لوگوں کے لئے اسوہ اور نمونہ ہو ، اور آخر میں اعتصام باللہ کی تلقین کی ، فرمایا کہ مسلمانوں کا دوست اور مددگار صرف خدا ہے گویا ان آیات میں مسلمانوں کو وہ سب کچھ اختصار کے ساتھ بتا دیا ہے جس کا بتلا دینا ان کی تربیت روحانی اور مادی کے لئے ضروری ہے ۔ حل لغات : حرج تنگی ، ضیق ، ایسی بات جو تنفص وتنفر کا باعث ہو ، شھیدا : گواہ اور مبلغ جو اپنے طرز عمل سے دوسروں تک اسلام کو پہنچائے یعنی اسوہ اور نمونہ ۔