14. Surah Ibrahim

ابراهيمAbraham · 52 ayahsسراج البیان

Ayahs 14:39–46

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ وَهَبَ لِیْ عَلَى الْكِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ Open ayah 14:39 in the Quran reader

شاکر ہے اللہ کا ، کہ اس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل (علیہ السلام) اور اسحاق (علیہ السلام) بخشا ہے ، بیشک میرا رب دعاء سنتا ہے (ف 1) ۔

رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآءِ Open ayah 14:40 in the Quran reader

اے رب مجھے (بھی) اور میری اولاد کو (بھی) نمازی رکھ ، اور اے ہمارے رب ، میری دعاء قبول کر ۔

رَبَّنَا اغْفِرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُ۠ Open ayah 14:41 in the Quran reader

اے ہمارے رب مجھے اور میرے والدین کو اور سب مومنین کو جس دن حساب قائم ہو تو بخش دینا ۔

وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ١ؕ۬ اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ Open ayah 14:42 in the Quran reader

اور تو گمان نہ کر کہ اللہ ظالموں کے کام سے بیخبر ہے ، ان کو تو اس دن تک مہلت دیتا ہے جس میں آنکھیں اوپر لگی رہ جائیں گی ۔

مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْ١ۚ وَ اَفْئِدَتُهُمْ هَوَآءٌؕ Open ayah 14:43 in the Quran reader

اپنے سر اوپر اٹھائے دوڑتے پھریں گے انکی آنکھیں انکی طرف نہ لوٹیں گی ، اور ان کے دل اڑ جائیں گے ،

وَ اَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ۙ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ نَتَّبِعِ الرُّسُلَ١ؕ اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ Open ayah 14:44 in the Quran reader

اور لوگوں کو اس دن سے ڈرا جس دن ان پر عذاب آئے گا ، تب ظالم کہیں گے ، اسے ہمارے رب ، ہمیں تھوڑی مدت تک مہلت دے کہ تیری دعوت کو مانیں اور رسولوں کے تابع ہوں (کہا جائے گا) کیا تم پہلے قسمیں کھاتے تھے ، کہ تمہیں کچھ زوال نہ ہوگا ؟

وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ Open ayah 14:45 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ستم کیا تم ان کے گھروں میں رہتے تھے ، اور تم پر کھل چڑ تھا کہ ہم نے ان سے کیا سلوک کیا تھا ، اور ہم کہاوتیں تمہیں سنا چکے تھے ۔

وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ Open ayah 14:46 in the Quran reader

اور وہ (اہل مکہ) اپنا مکر کرچکے ہیں ، اور ان کا مکر اللہ کے سامنے ہے اور ان کا مکر ایسا نہیں کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں ،

اخلاص کی پکار : (ف 1) دعاء کا بقیہ حصہ یہ ہے ، کہ اللہ اپنا نیاز مند بنائیو ، رکوع و سجود کی توفیق دیجؤ، مجھے اور میرے والدین کو اپنے آغوش رحمت میں جگہ دیجؤ، مخلص دل سے نکلی ہوئی یہ دعا قبول ہوئی ، آج کئی ہزار سال گزرنے کے بعد بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے معبد کی وہی شان ہے زائرین کا ہر وقت تانتا لگا ہوا ہے ، لاکھوں کی تعداد میں لوگ بالخصوص ہر سال زیارت کعبہ کے لئے جاتے ہیں ، ” حوللیہ من کل فج عمیق “۔ روزی کی ہر چیز فراوانی کے ساتھ موجود ہے ، غور فرمائیے ایک غیر معروف شخص ایک لق ودق صحرا میں ایک معبد تعمیر کرتا ہے ، اخلاص اور قوت روحانی کا یہ اثر ہے کہ دور دور سے لوگ کھنچے چلے آتے ہیں ، اور بالآخر کعبہ مرکز حیات وروحانی قرار پاتا ہے ۔ سوچنے کی یہ بات ہے کہ کعبہ فن عمارت کے لحاظ سے کوئی خاص خوبصورت چیز نہیں ، نہایت سادہ چار دیواری ہے مگر انوار و تجلیات کی مینا کاری نے اسے دنیا جہان کے لئے قابل رشک بنا دیا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ دل میں اخلاص ہو ، باتوں میں صداقت ہو ، اللہ کی جانب سے مقبولیت کا خلعت عطا ہو ، تو اس کے اور نشرواشاعت کی ضرورت نہیں ، شان و شکوہ کی حاجت نہیں کہیں بیٹھ جائیے ، آبادیوں سے دور اپنا مسکن بنائیے دل کھنچے ہوئے چلے آئیں گے ، اور صداقت وسچائی کو قبول کریں گے ۔ اور اگر سچائی کی نعمت سے آپ محروم ہیں ، تو پھر باوجود منظم سامان کے کامیابی ممکن نہیں ۔ ہندوستان کی تبلیغی تاریخی ملاحظہ فرمائیے ، چند نفوس قدیسہ آن کر جنگلوں میں بیٹھ گئے ہیں ، اور ان کی روحانیت سے دور دور تک اسلام پھیل گیا ہے ، آج ہندوستان میں جس قدر مسلمان موجود ہیں ، وہ انہیں لوگوں کی برکات کا ثمرہ ہے اور ہندوستان میں ہزار سالہ حکومت اسلامی نے وہ کام نہیں کیا ، جو ان اللہ والوں نے کیا ہے آج جب کہ تبلیغ کے وسائل زیادہ وسیع ہیں ، لوگ زیادہ قابلیت کے ساتھ اسلام کو پیش کرسکتے ہیں ، تو کیوں اسلام کی ترقی کی رفتار نہایت حوصلہ شکن ہے ؟ محض اس لئے کہ اب دعوت وتبلیغ کا ہنگامہ تو خاصہ موجود ہے ، مگر اخلاص وعمل کا وہ جذبہ موجزن نہیں ، زبان میں حلاوت ہے ، مگر وہ روحانی گھلاوٹ نہیں ، جو ان لوگوں کا حصہ تھا ، حل لغات : تشخص : التشخص ۔ دور سے جو انسانی شکل کھڑی نظر آئے ۔ تشخصتالابصار : آنکھیں چڑھ گئیں ۔ مھطعین : دراصل اونٹ جب گردن اٹھائے ، اس ہئیت کو کہتے ہیں ھطع ۔ افئدتھم ھوآئ : بدحواسی سے کنایہ ہے ۔ ھواء کے لغوی معنے فارغ اور خالی کے ہیں ۔
Ayahs 14:47–52

فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍؕ Open ayah 14:47 in the Quran reader

سو تو یہ خیال نہ کر کہ اللہ اپنا وعدہ اپنے رسولوں سے خلاف کرے گا ، بیشک اللہ غالب بدلہ لینے والا ہے (ف 1) ۔

یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ Open ayah 14:48 in the Quran reader

جس دن یہ زمین ایک اور زمین سے بدل دی جائے گی اور سب آسمان بھی اور اللہ اکیلے زبردست کے سامنے سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے ۔

وَ تَرَى الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِۚ Open ayah 14:49 in the Quran reader

اور تو اس دن گنہگاروں کو زنجیروں میں جکڑا ہوا دیکھے گا ۔

سَرَابِیْلُهُمْ مِّنْ قَطِرَانٍ وَّ تَغْشٰى وُجُوْهَهُمُ النَّارُۙ Open ayah 14:50 in the Quran reader

ان کے کرتے گندھک (یارال) کے ہوں اور انکے چہرے آگ چھپالے گی ۔

لِیَجْزِیَ اللّٰهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 14:51 in the Quran reader

تاکہ خدا ہر کسی کو اس کی کمائی کا بدلہ دے بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے ،

هٰذَا بَلٰغٌ لِّلنَّاسِ وَ لِیُنْذَرُوْا بِهٖ وَ لِیَعْلَمُوْۤا اَنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ وَّ لِیَذَّكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ۠ Open ayah 14:52 in the Quran reader

یہ لوگوں کو پہنچا دینا ہے ، اور تاکہ وہ اس سے ڈرائے جائیں ، اور تاجانیں ، کہ وہی ایک معبود ہے اور تاکہ عقلمند نصیحت پکڑیں ۔

خلف وعید اور مسئلہ ندا : (ف 1) اس سے قبل یہ فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ظالموں کی ظالمانہ حرکات سے غافل نہیں ہے ۔ وہ ضرور ان کو کیفر کردار تک پہنچائے گا ، یعنی وہ لوگ جنہوں نے دنیا کو اپنے گناہوں سے معمور کردیا ہے اور جو یہاں عقوبت الہی سے بچ گئے ہیں ، یہ نہ سمجھیں کہ اللہ کا قانون مکافات ناقص ہے ، اور جب وہ یہاں سزا سے بچ گئے ہیں تو قیامت میں بھی اللہ کی گرفت سے چھوٹ جائیں گے ایسا ہونا ناممکن ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی زبان سے جو کہلوانا ہے ، ضرور اس کو پورا کرے گا ، ایک دن ضرور ایسا آئے گا ، جب مجرم پابجولاں اس کے سامنے انصاف کے لئے حاضر کئے جائیں گے ، اس وقت ان سب کو ان کی بداعمالیوں کی سزا دی جائے گی ، آگ ان کے چاروں طرف چھا جائیگی اور ان کے چہرے جھلس جائیں گے ۔ ان آیات میں اسی قانون کو وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے اور کہا ہے کہ اللہ نے جو کچھ حشر کے کوائف کے متعلق ارشاد فرمایا ہے ، وہ صرف تخویف نہیں بلکہ حقیقت ہے (آیت) ” فلا تحسبن اللہ مخلف وعدہ رسلہ “۔ سے صاف ظاہر ہے کہ خلف وعید کی صورت میں پیغمبروں کی رسوائی ہے ، وہ چونکہ اللہ کے محبوب ہیں ، اور ان کے ذریعے اسلام پھیلتا ہے ، اس لئے ناممکن ہے کہ وہ اپنی بات کو پورا نہ کر کے انہیں لوگوں کے سامنے ذلیل کرے ، نیز خلف وعید میں یہ بھی عیب ہے ، کہ اس سے علم آلہی کی وسعتوں میں نقص لازم آتا ہے ، اور معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کا علم ہمہ گیر نہیں ، جبھی تو وہ بعض مصالح کی بنا پر اپنے وعدوں کو پورا نہیں کرتا ، اور یہ مصالح وہ ہیں ، جن کا وعدہ کرتے اسے علم نہیں ” اعاذنا اللہ من شرور انفسنا “۔ بات اصل یہ ہے کہ خلف وعید کا عقیدہ عقیدہ ہذا سے لیا گیا ہے ۔ جو جھوٹے خدا پرستوں نے اپنی تنبیات کی پردہ پوشی کے لئے ایجاد کرلیا تھا ، آج بھی اس عقیدہ کی ضرورت اس لئے محسوس ہوتی ہے کہ بعض غلط پیشگوئیاں جو از قبیل خرافات ہیں ، نقد ونظر سے بچ جائیں ، اور آسانی سے ان کے متعلق کہا جاسکے کہ یہ بعض مصالح کی بنا پر خلف وعید میں شامل ہیں درحقیقت اس قسم کا عقیدہ بدترین قسم کا الزام ہے جناب باری پر جسے اسلام کی خدا دوستی ہرگز قبول نہیں کرسکتی ۔ حل لغات : ذوانتقام : اعمال بد کا بدلہ لینے والا ۔ سنا دینے والا ۔ نقمت کے معنی سزا کے ہیں ۔ القھار : غالب ۔ مقرنین : بندھے ہوئے ۔ الاصفاد : جمع صفدا ۔ قید زنجیر ۔