10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsسراج البیان

Ayahs 10:81–82

فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا قَالَ مُوْسٰى مَا جِئْتُمْ بِهِ١ۙ السِّحْرُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَیُبْطِلُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُصْلِحُ عَمَلَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:81 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے ڈالا ، تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا جو تم لائے ہو ، یہ تو جادو ہے ، اللہ اسے شتاب باطل کرے گا ، اللہ مفسدوں کا کام درست نہیں رکھتا (ف 1) ۔

وَ یُحِقُّ اللّٰهُ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَ۠ Open ayah 10:82 in the Quran reader

اور اللہ اپنے حکم سے حق کو حق کرتا ہے ‘ اگرچہ مجرم برا نہ مانیں ۔

(ف 1) فرعون چونکہ بصیرت سے محروم تھا اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے موقف ومقام اصلی سے آگاہ نہ ہوسکا جادوگروں کو بلایا ، اور کہا کہ اپنے کسب و کمال سے اس کی معجز نمائی کا جواب دو ۔ جادوگر آئے ، اس لئے کہ اس وقت ارض مصر میں اس قسم کی باتوں پر عموما یقین رکھتے تھے ، اور اپنے سحر سے انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو متحیر کرنا چاہا موسیٰ (علیہ السلام) کو یقین تھا کہ (آیت) ” ان اللہ سیبطلہ “۔ خدا حق پرستوں کے مقابلہ میں جھوٹوں کو کبھی کامیابی عنایت نہیں فرماتا ، اس لئے آپ نے بالکل بےخوف ہو کر ان کا مقابلہ کیا اور انجام کار معجزہ کرشمہ سازی پر غالب آیا اور حق کو جھوٹ کے مقابلہ میں فتح نصیب ہوئی ۔ حل لغات : السحرۃ : جمع ساحر ۔
Ayahs 10:83–84

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوْسٰۤى اِلَّا ذُرِّیَّةٌ مِّنْ قَوْمِهٖ عَلٰى خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهِمْ اَنْ یَّفْتِنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ اِنَّهٗ لَمِنَ الْمُسْرِفِیْنَ Open ayah 10:83 in the Quran reader

پھر موسیٰ (علیہ السلام) پر کوئی ایمان نہ لایا ، مگر اس کی قوم کی کچھ ذریت ایمان لائی ، سو وہ بھی اپنے سرداروں اور فرعون سے ڈرتے ہوئے کہ انہیں فتنہ میں نہ ڈالیں ، کیونکہ فرعون ملک پر چڑھ رہا تھا اور (ظلم کیلئے) اس نے ہاتھ بالکل چھوڑ رکھتے تھے (ف 1) ۔

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰقَوْمِ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ فَعَلَیْهِ تَوَكَّلُوْۤا اِنْ كُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ Open ayah 10:84 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے قوم ، اگر تم اللہ پر ایمان لائے ہو ، تو اسی پر بھروسا رکھو ، اگر تم مسلمان ہو ۔

(ف 1) باوجود کامیابی کے پھر بھی ابتدا چند ہی لوگ ایمان لائے کیونکہ ان کے دلوں میں فرعون کا ڈر بےطرح متمکن ہوچکا تھا ، صدیوں کی غلام قومیں جرات وجسارت سے محروم ہوجاتی ہیں ، اور اظہار حق کی قوت ان سے چھن جاتی ہے ، یہ عام قاعدہ ہے ، بنی اسرائیل بھی چار سو سال سے غلام چلے آرہے تھے اس لئے فرعون کے غلبہ سے طبعی طور پر مرعوب ومغلوب تھے ۔
Ayahs 10:85–86

فَقَالُوْا عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 10:85 in the Quran reader

تب وہ بولئے ، ہم نے اللہ پر توکل کیا ، (ف 2) ۔ اے ہمارے رب ہمیں اس ظالم قوم کا فتنہ (یعنی محل عذاب) نہ کر ۔

وَ نَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 10:86 in the Quran reader

اور ہمیں اپنی رحمت سے کافروں سے چھڑا ۔

(ف 2) دین ودنیوی استقلال کے لئے پہلا زینہ جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کے لئے تجویز فرمایا وہ توکل ہے ، یعنی ۔ 1۔ خدا پر کامل ایمان ۔ 2۔ کامیابی کا پورا یقین ۔ 3۔ وسائل وذرائع میں دیانت وصیانت کا لحاظ ۔ ظاہر ہے جب قوم میں یہ تین چیزیں پیدا ہوجائیں تو سمجھ لیجئے کہ قوم بیدار ہوچکی ، اور کامرانی کی راہیں اس پر کھل چکی ہیں ۔ اللہ کو اگر چارہ ساز مان لیا جائے تو پھر کامیابی یقینی وقطی ہے ۔ توکل کا صحیح مفہوم یہی ہے آج توکل کے معنے تعلل وبے کاری کے ہیں ، اللہ مسلمانوں کو سمجھ دے ، آمین ۔ حل لغات : المسرفین : مسرف حدود فطرت سے تجاوز کرنے والا ، فتنۃ : وجہ آزمائش ۔
Ayahs 10:87–90

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰى وَ اَخِیْهِ اَنْ تَبَوَّاٰ لِقَوْمِكُمَا بِمِصْرَ بُیُوْتًا وَّ اجْعَلُوْا بُیُوْتَكُمْ قِبْلَةً وَّ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:87 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے بھائی کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی قوم کے لئے مصر میں گھر بناؤ ، اور اپنا گھر قبلہ رو بناؤ ، اور نماز پڑھو ، اور مومنین کو بشارت دے (ف 1) ۔

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبَّنَاۤ اِنَّكَ اٰتَیْتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَاَهٗ زِیْنَةً وَّ اَمْوَالًا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِكَ١ۚ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلٰۤى اَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْا حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:88 in the Quran reader

اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ، اے ہمارے رب تونے دنیا کی زندگی میں فرعون اور اس کی قوم کو زینت اور بہت مال دیا ہے ، اے ہمارے رب اس لئے (دیا) کہ وہ تیری راہ سے (لوگوں کو) گمراہ کریں ؟ اے رب ان کے مال مٹا دے ، اور ان کے دل سخت کر دے ، کہ ایمان نہ لائیں ، جب تک دکھ کا عذاب نہ دیکھیں ،

قَالَ قَدْ اُجِیْبَتْ دَّعْوَتُكُمَا فَاسْتَقِیْمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیْلَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:89 in the Quran reader

فرمایا تم دونوں کی دعاء قبول ہوئی ، سو تم ثابت قدم رہو ، اور بےعلموں کی راہ پر نہ چلو ،

وَ جٰوَزْنَا بِبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَهُمْ فِرْعَوْنُ وَ جُنُوْدُهٗ بَغْیًا وَّ عَدْوًا١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ١ۙ قَالَ اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِیْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِیْلَ وَ اَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 10:90 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا پار اتارا ، تو فرعون اور اس کا لشکر بھی شرارت اور زیادتی سے ان کے پیچھے ہو لیا ، تاآنکہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو بولا ، میں ایمان لایا ، کہ کوئی معبود نہیں مگر وہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں ، اور میں مسلمانوں میں ہوں ۔

(ف 1) قبلۃ : سے غرض یا تو یہ ہے کہ فرعون نے جب عام کلیساؤں میں بنی اسرائیل کو عبادت سے روک دیا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم گھروں میں نماز پڑھ لیا کرو ، اور گھر اس نوع کے بناؤ کہ وہ قبلہ رو ہوں اور بیک وقت اس سے عبادت وسکونت کے دونوں کام لئے جائیں ، اور یا یہ مقصد ہے کہ رہائش مکان باہم متقابل بناؤ یعنی تمہاری ایک الگ نو آبادی ہونی چاہئے ، تاکہ آزادی سے تم ایک دوسرے کی مدد کرسکو ، کامیابی کے لئے نماز دوسری شرط ہے کیونکہ یہی ایک ذریعہ ہے جس سے قوم میں صحیح بیداری پیدا کی جاسکتی ہے یہ وحدت فی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے ، نماز سے قوم میں خدا پرستی ، خدا ترسی اور باہمی محبت کے جذبات زندہ رہتے ہیں ، قوم میں اجتماعی زندگی کے بسر کرنے کی استعداد پیدا ہوتی ہے آج بھی کامیابی کے لئے نماز ویسی ہی ضروری ہے جیسی ابتداء میں تھی ، مسلمان اگر جرات و استقلال کی نعمتوں سے بہرہ ور ہونا چاہتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اس کا ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ نماز ہے مسلمان کا نصب العین دوسری قوموں سے بالکل جدا ہے اور اس کا طریق جدوجہد دوسری قوموں سے الگ ہے ، مسلمان کی فطرت میں دینداری ہے ، یہ دین کے احیاء کے لئے زندہ ہے ، یہ مال دولت بھی چاہتا ہے آسائش و راحت کا بھی خواہاں ہے ، مگر صرف اس لئے کہ اللہ کے دین کو دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچا سکے ، اصل مقصود اور نصب العین حصول دین اور دین کی اشاعت ہے یعنی یہ اگر آزادی حاصل کرنا چاہتا ہے تو صرف دین کے لئے تاکہ خدا کی پرستش کے آزادانہ مواقع حاصل ہو سکیں ، وہ اس لئے کہ الحاد پھیلے ، وہ آزادی جو غلط اور غیر مشروع وسائل سے حاصل کی جائے گی مسلمان کے لئے مفید نہیں ۔ حل لغات : لیضلوا : کام غایت وعاقبت کے لئے ہے یعنی ان کی دولت و ثروت کا حال یہ ہے کہ لوگ گمراہ ہوں ۔
Ayah 10:91

آٰلْئٰنَ وَ قَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 10:91 in the Quran reader

اب یوں بولا ! اور پہلے نافرمان رہا ، اور تو مفسدوں میں تھا ، (ف 1) ۔

فرعون کا حال : (ف 1) ایمان اس وقت تک قبول ہے جب تک جسم میں جان ہو ، موت کے یقینی علامات وآثار کا ظہور نہ ہوا ہو کیونکہ مقصد عمل ہے اور جب عمل کی تمام امیدیں ہی منقطع ہوجائیں ، تو پھر ایمان کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے ، فرعون عمر بھر تو خدا کی نافرمانی میں مشغول رہا اور جب قلزم میں غرق ہونے لگا موت سامنے دکھائی دینے لگی ، اس وقت تضرع وزاری کرنے لگا ، اللہ نے فرمایا اس وقت جب کہ یاس وقنوط کے بادل تمہارے مطلع دل پر چا رہے ہوں ، ایمان و توبہ مقبول نہیں ۔
Ayahs 10:92–93

فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰیَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ۠ Open ayah 10:92 in the Quran reader

سو آج ہم تیری لاش کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے پچھلوں کیلئے نشان ہو ، اور البتہ (مکہ میں) بہت لوگ ہماری آیتوں سے غافل ہیں (ف 2) ۔

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 10:93 in the Quran reader

اور ہم نے بنی اسرائیل کو پسندیدہ جگہ (ملک کنعان) میں جگہ دی ، اور ان کو ستھری چیزیں کھانے کو بخشیں ، سو ان میں اختلاف نہیں ہوا جب تک کہ ان کو خبر آپہنچی ، ان کی اختلافی باتوں کا فیصلہ قیامت کے دن تیرا رب کرے گا ۔

(ف 2) فرعون کو دوبا کر مار دیا گیا ، اللہ تعالیٰ نے مزید رسوائی اور عبرت کے لئے اسے پانی سے باہر نکال پھینکا تاکہ بنی اسرائیل اس پر شکوہ انسان کی لاش کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں ، جو اس سے قبل کبروغرور کے عرش پر متمکن تھا ، آج وہ عذاب الہی کی وجہ سے بےحس و حرکت پڑا ہوا ہے ۔
Ayahs 10:94–97

فَاِنْ كُنْتَ فِیْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَۙ Open ayah 10:94 in the Quran reader

سو (اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ ہم نے تیری طرف نازل کیا ، اگر تجھے اس میں شک ہے ‘ تو ان سے پوچھ جو تجھ سے پہلے کتاب پڑھ رہے ہیں بیشک تیرے رب سے تیری طرف حق بات آئی ہے ، تو تو ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہو (ف 1) ۔

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 10:95 in the Quran reader

اور ان میں نہ ہو ، جو اللہ کی آیتیں جھٹلاتے ہیں ، ورنہ تو زیاں کاروں میں ہوگا ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ حَقَّتْ عَلَیْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 10:96 in the Quran reader

جن پر تیرے رب کی بات ٹھیک آئی ، وہ ایمان نہ لائیں گے ۔

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰیَةٍ حَتّٰى یَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِیْمَ Open ayah 10:97 in the Quran reader

اگرچہ ان کے پاس سارے معجزات کیوں نہ آئیں یہاں تک کہ وہ دکھ کا عذاب دیکھیں ۔

(ف 1) قرآن حکیم کا انداز بیان ہے کہ مخاطب حضور ﷺ کو کیا جاتا ہے اور مقصود دوسرے ہوتے ہیں ، کیونکہ آپ ترجمان وحی ہیں اور انسانیت کے وکیل بھی اس لئے اللہ تعالیٰ بالوحی انہیں سے تخاطب فرماتے ہیں ، ورنہ آنحضرت ﷺ شک وریب سے پاک ہیں ، وہ تو سراپا یقین و ایمان ہیں ، حضرت ابن عباس ؓ سعید بن جبیر ، ؓ قتادہ ؓ اور حسن بصری (رح) سے روایت ہے کہ ” لم یسئلک رسول اللہ “۔ یعنی حضور ﷺ کو کبھی شک نہیں پیدا ہوا ۔ اور غور فرمائیے جو دوسروں کو ایمان ویقین کی نعمتیں بانٹ رہا ہے ، جو دلوں کو نور ومعرف سے اجاگر کر رہا ہے کیا وہ خود سرمردود ہو سکتا ہے ۔ غرض یہ ہے کہ قرآن سابقہ کتب کا موید ہے توریت وانجیل میں صدہا پیش گوئیاں موجود ہیں ، جو قرآن کی صداقت پر دال ہیں ۔ حل لغات : حقت علیم کلمت ربک : یعنی جن کی فطرت کے متعلق پہلے سے علم ہے کہ یہ حق کی طرف رجوع نہیں کرینگے وہ کیونکر ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہو سکتے ہیں ۔
Ayahs 10:98–99

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 10:98 in the Quran reader

پھر کیوں نہ ہوئی کوئی اور بستی کہ (جو عذاب دیکھ کر) ایمان لائی ہو ‘ اور ان کے ایمان نے ان کو نفع دیا ہو مگر قوم یونس (علیہ السلام) (کا یہ حال ہوا) کہ جب وہ ایمان لائے تو ہم نے حیات دنیا کی رسوائی کا عذاب ان سے ہٹا دیا ، اور ایک وقت تک انہیں فائدہ پہنچایا (ف 1) ۔

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:99 in the Quran reader

اور اگر تیرا رب چاہتا ، تو سب لوگ جو زمین میں ہیں ، اکٹھے ایمان لے آتے ، پس کیا تو آدمیوں پر جبر کرتا ہے ، کہ وہ مومن ہوجائیں ؟

قوم یونس : (ف 1) لولا تحضیضیہ ہے ، فھلا کے معنوں میں جیسا کہ حضرت ابی اور عبداللہ بن مسعود ؓ کے مصحف میں تصریح ہے ۔ غرض یہ ہے کہ تباہ شدہ قوموں نے آخری وقت ایمان و توبہ کا اظہار نہیں کیا آیت میں اظہار مستحسر ہے کہ کیوں ان قوموں کو توبہ کی توفیق نہ ہوئی اور کیوں عذاب الہی سے نہ بچ گئے ؟ (آیت) ” الا قوم یونس “۔ میں الا منقطعہ ہے غرض یہ ہے کہ صرف یونس (علیہ السلام) کی قوم ایسی ہے جنہوں نے عذاب کے علامات وآثار دیکھ کر خالص توبہ کی اور ان پر سے اللہ نے عذاب دور کردیا ، یہ غلط فہمی نہ رہے کہ قرآن نے کسی عذاب کی پیشگوئی کا ذکر نہیں فرمایا ارشاد صرف یہ ہے کہ قوم یونس (علیہ السلام) کی نافرمانی کی وجہ سے عذاب کے علائم وآثار ظور پذیر ہوئے مگر وہ سنبھل گئے چونکہ مقصد عذاب میں مبتلا کرنے کا نہ تھا اس لئے معاف کر دئیے گئے ، سابقہ پیشگوئی کا تقاضا یہ تھا کہ وہ بہرحال پوری ہو کر رہتی ، کیونکہ پیشگوئی کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کو خوب معلوم ہے کہ وہ آخر تک ایمان کی نعمت سے محروم رہیں گے ، لہذا خلف وعید کا سوال پیدا نہیں ہوتا ۔
Ayahs 10:100–105

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

اور کسی سے ہو نہیں سکتا کہ بغیر اذن خدا کے ایمان لائے اور وہ ان پر ناپاکی ڈالتا ہے ، جو نہیں سمجھتے (ف 2) ۔

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

تو کہہ ، دیکھو تو آسمان اور زمین میں کیا کچھ ہے ، مگر نشانیاں اور ڈرانے والے ان کے کچھ کام نہیں آتے ، جو نہیں مانتے ۔

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

سو وہ اور کیا انتطار کرتے ہیں مگر یہی کہ پہلے مرمٹوں کے سے دن آئیں ، تو کہہ تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں ۔

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

پھر ہم اپنے رسولوں اور مومنین کو بچا لیتے ہیں ، اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ ہم مومنین کو بچائیں ۔

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 10:104 in the Quran reader

لوگو ! اگر تم میرے دین کی نسبت شک میں ہو ، تو میں ان کو جنہیں تم خدا کے سوا پوجتے ہو ، نہیں پوجتا ، لیکن اس اللہ کو پوجتا ہوں ، جو تمہیں وفات دیتا ہے ، اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں ایمانداروں میں ہوں ۔

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 10:105 in the Quran reader

اور یہ حکم ملا کہ اپنا منہ دین کے لئے یکطرفہ ہو کر قائم رکھ ، اور مشرکوں میں نہ ہو ،

(ف 2) مشیت واذن الہی کے دو معنے ہیں ایک کا تعلق تکوین سے ہے ایک کا تشریع سے ، اللہ کے نزدیک پسندیدہ تو یہی ہے کہ سب لوگ ایمان لے آئیں ، مگر تکوین میں اس نے اختلاف رائے کو باقی رکھا ہے تاکہ حق و باطل میں امتیاز قائم رہے ۔ اسی طرح اگر ” الا باذن اللہ “ سے مقصود یہ ہے کہ ایمان کے لئے جہاں تک آسانیوں اور توفیق وتسہیل کا تعلق ہے وہ اللہ کی تکوین کا نتیجہ ہے ، اس لئے وہ شخص جو ان وسائل ہدایت سے محروم ہے ، ہدایت قبول نہیں کرسکتا ، غرض یہ ہے کہ آپ ان لوگوں کی گمراہی پر غم نہ کریں اختلاف رائے مشیت ایزدی ہے ، یہ باقی رہے گا البتہ تلقین و دعوت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے ۔ حل لغات : کشفنا : کھول دیا یعنی عذاب کے بعض اوائل وعلائم سے دو چار ہوچکے تھے ۔ مثل ایام : عذاب کے دن ۔
Ayah 10:106

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:106 in the Quran reader

اور اللہ کے سوا انہیں جو تیرا بھلا برا نہ کریں ، مت پکار ، پھر اگر تو ایساکرے گا تو تو بھی اس وقت ظالموں میں ہوجائے گا (ف 1) ۔

اعلان توحید : (ف 1) مکہ والے چاہتے تھے ، رسول اللہ ﷺ ان کے ہم نوا ہو کر بت پرستی اور شرک کی تائید کریں ، ان آیات کے بموجب حضور ﷺ نے کھلے لفظوں میں ارشاد فرما دیا ہے کہ مجھ سے تمہیں اس قسم کی توقع نہ رکھنی چاہئے ، میں تمہارے بتوں کے سامنے نہیں جھک سکتا ، میری پیشانی تو اس خدا کے سامنے جھکے گی جس کی جانب سے یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہر آن مومن ہوں ، اور خلوص کے ساتھ توحید سے وابستہ رہوں ، میں ان خداؤں کو ماننے کے لئے تیار نہیں ، جن کے ہاتھ میں نفع وضرر کی کنجیاں نہیں ، جو خود سراپا احتیاج ہیں ، جو نہ نفع پہنچا سکیں ، اور نہ ضرر سے بچا سکیں ، کیونکہ یہ انسانی عقل و دانش ، انسانی شرافت و عظمت اور انسانی عزت و حرمت پر ظلم ہے ، کہ پیکر فضائل انسان کو بےجان اور غیر متحرک پتھروں کے سامنے جھکایا جائے ، وہ انسان جو اس لئے پیدا ہوا ہے کہ کائنات میں حکومت کرے ، اور اللہ کا نائب وخلیفہ ثابت ہو ، وہ اگر دنیا کی حقیر اور بےحقیقت چیزوں کے سامنے جبین عقیدت خم کر دے ، تو اسے بڑھ کر ظلم اور کیا ہو سکتا ہے ۔
Ayah 10:107

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 10:107 in the Quran reader

اور جو اللہ تجھے کچھ مصیبت پہنچائے تو اس کے کوئی اس کا دور کرنے والا نہیں ، اور جو وہ تیرے ساتھ بھلائی کرنا چاہئے تو کوئی اس کے فضل کا روکنے والا نہیں ، اپنے بندوں میں سے جن پر چاہے اپنا فضل پہنچائے ، اور وہ بخشنے والا مہربان ہے (ف 2) ۔

(ف 2) مضرت اور نفع رسانی کا تعلق صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے مختص ہے ، کوئی شخص انسانی مشکلات میں چارہ سازی کا اہل نہیں سچا اور حقیقی کارساز وہی خدا ہے جس نے سب کو پیدا کیا ہے اور جو سب کو مناسب طور پر رزق دیتا ہے ۔ حل لغات : حنیفا : اخلاص و توحید کا حامل ۔
Ayahs 10:108–109

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ۚ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍؕ Open ayah 10:108 in the Quran reader

تو کہہ ، لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب سے کلام حق آیا ، اب جو کوئی راہ پر آئے ، تو وہ اپنی جان کے لئے راہ پر آتا ہے ، اور جو گمراہ ہو ، تو وہ اپنی جان پر گمراہ ہوتا ہے ‘ اور میں تمہارا وکیل نہیں ہوں (ف 1) ۔

وَ اتَّبِعْ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ اصْبِرْ حَتّٰى یَحْكُمَ اللّٰهُ١ۖۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ۠ Open ayah 10:109 in the Quran reader

اور تو اسی پر چل جو تجھ پر وحی کی جاتی ہے اور ثابت قدم رہ ، یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کرے ‘ اور وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔

(ف 1) غرض یہ ہے کہ اسلام ایک صداقت ہے اللہ کی نعمت ہے ، اب جو اسے قبول کرتا ہے اپنی عاقبت سنوارتا ہے ، اللہ اور اس کے رسول پر کوئی احسان نہیں کرتا ، اور جو گمراہ ہے ، منکر ہے اس کا نتیجہ بد ، اور نقصان بھی وہی اٹھائے گا نبی یا پیغمبر اس کا ذمہ دار نہیں ۔