Ayahs 8:70–72آیت 70
یہ آیت کریمہ اسیران بدر کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور ان قیدیوں میں رسول اللہ ﷺ کے چچا حضرت عباس بھی شامل تھے۔ جب رہائی کے عوض ان سے فدیہ کا مطالبہ کیا گیا تو انہوں نے عرض کیا کہ انہوں نے اس سے قبل اسلام قبول کیا ہوا تھا، مگر مسلمانوں نے ان سے فدیہ کو ساقط نہ کیا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی اور ان لوگوں کی دل جوئی کی خاطر یہ آیت کریمہ نازل فرمائی جو اس قسم کی صورت حال سے دوچار ہوں۔ فرمایا : (یایھا النبی قل لمن فی ایدیکم من الاسریٰ ان یعلم اللہ فی قلوبکم خیرا یوتکم خیرا مما اخذ منکم) ” اے نبی ! ان سے کہہ دو ! جو تمہارے ہاتھوں میں قیدی ہین، اگر اللہ تمہارے دلوں میں کچھ نیکی جانے گا، تو تمہیں اس سے بہتر دے گا جو تم سے لیا گیا ہے “ یعنی جو مال تم سے لیا گیا ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس کے بدلے خیر کثیر عطا کرے گا۔ (ویغفرلکم) ” اور (اللہ تعالیٰ ) تمہارے گناہ بخش دے گا “ اور تمہیں جنت میں داخل کرے گا۔ (واللہ غفور رحیم) ” اور اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے “۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عباس ؓ سے اپنا وعدہ پورا کردیا، اس کے بعد انہیں بہت زیادہ مال حاصل ہوا، حتیٰ کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بہت زیادہ مال آیا، حضرت عباس ؓ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو آپ نے ان کو حکم دیا کہ وہ اپنے کپڑے میں جتنا مال اٹھا سکتے ہیں لے لیں۔ انہوں نے اتنا مال لیا کہ ان سے اٹھایا نہیں جا رہا تھا۔
(وان یریدوا خیانتک) ” اور اگر یہ لوگ آپ سے دغا کرنا چاہتی ہیں “ یعنی اگر وہ آپ ﷺ کے ساتھ جنگ کرنے کی کوشش کرکے خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں (فقدخانو اللہ من قبل فامکن منھم) ” تو وہ خیانت کرچکے ہیں اللہ کی اس سے پہلے، پس اس نے ان کو پکڑوا دیا “۔ پس وہ آپ کے ساتھ خیانت کرنے سے بچیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ان پر اختیار رکھتا ہے اور وہ اس کے قبضہء قدرت میں ہیں۔ (واللہ علیم حکیم) یعنی اللہ تعالیٰ علیم ہے، وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حکمت والا ہے، وہ ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھتا ہے۔ یہ اس کا علم و حکمت ہی ہے کہ اس نے تمہارے لئے نہایت خوبصورت اور جلیل القدر احکام وضع فرمائے اور کفار کے شر اور ان کی خیانت کے ارادے کے مقابلے میں تمہاری کفایت کا ذمہ لیا۔
یہ موالات اور محبت کا رشتہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے مہاجرین کے درمیان۔۔۔ جو ایمان لائے، جنہوں نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کی خاطر اپنے وطن کو چھوڑا۔۔۔ اور انصار کے درمیان قائم کیا، جنہوں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کرام ؓ کو پناہ دی، اپنے گھر، مال اور خود ان کی ذات کے بارے میں ان کی مدد کی۔ یہ سب لوگ اپنے کامل ایمان اور ایک دوسرے کے ساتھ مکمل اتصال کی بناء پر ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ (والذین امنو و لم یھاجروا مالکم من ولایتھم من شی حتی یھاجروا) ” اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور ہجرت نہیں کی، تم کو ان کی رفاقت سے کچھ کام نہیں، جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں “ کیونکہ انہوں نے تم سے علیحدہ ہو کر تمہاری ولایت و دوستی کا رشتہ ایسے وقت میں منقطع کرلیا جب کہ تمہیں مردوں کی مدد کی سخت ضرورت تھی اور چونکہ انہوں نے ہجرت نہیں کی اس لئے مومنین کی طرف سے ان کی کوئی دوستی نہیں۔ البتہ (و ان استنصروکم فی الدین) ” اگر وہ تم سے دین (کے معاملات) میں مدد طلب کریں “ یعنی اگر کوئی قوم ان کے خلاف لڑائی کرے اور یہ اس لڑائی میں تم سے مدد مانگیں (فعلیکم النصر) ” تو تم کو مدد کرنی لازم ہے “۔ یعنی تم پر ان کی مدد کرنا اور ان کے ساتھ مل کر ان کے دشمن کے خلاف لڑنا واجب ہے اور اگر وہ اس کے علاوہ دیگر مقاصد کے لئے لڑتے ہیں تو تم پر ان کی مدد کرنا واجب نہیں۔
(الاعلی قوم بینکم و بینھم میثاق) ” مگر ان لوگوں کے مقابلہ میں کہ تم میں اور ان میں (صلح کا) عہد ہوچکا ہے ( مدد نہیں کرنی چاہیے) “۔ یعنی جن کے ساتھ تمہارا جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہے اور وہ مومن جنہوں نے ہجرت نہیں کی، اگر ان کے ساتھ لڑنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو ان کے خلاف ان مومنوں کی مدد نہ کرو، کیونکہ تمہارے اور ان کے درمیان جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہے۔ (واللہ بما تعملون بصیر) ” اور اللہ تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے “ 0 یعنی وہ تمہارے احوال اور رویوں خو جانتا ہے، اس لئے اس نے تمہارے لئے ایسے احکام شروع کئے ہیں جو تمہارے احوال کے لائق ہیں۔
Ayah 8:73آیت 73
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اہل ایمان کے درمیان موالات کا رشتہ قائم کردیا تو اس نے آگاہ فرمایا کہ چونکہ کفار کو ان کے کفر نے اکٹھا کردیا ہے اس لئے وہ ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہیں اور ان جیسے کفار کے سوا ان کا کوئی ولی اور دوست نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (الا تفعلوہ) ” تو (مومنو) اگر تم (بھی) یہ (کام) نہ کرو گے “ یعنی اگر تم مومنوں کے ساتھ موالات اور کفار کے ساتھ عداوت کے اصول پر عمل نہیں کرو گے، یعنی تم اہل ایمان کی حمایت اور کفار سے دشمنی نہیں کرو گے، یا تم کفار کی حمایت کرو گے اور اہل ایمان سے دشمنی رکھو گے (تکن فتنۃ فی الارض و فساد کبیر) ” تو ملکوں میں فتنہ برپا ہوجائے گا اور بڑا فساد مچے گا۔ “ یعنی حق و باطل اور مومن و کافر کے اختلاط سے ایک ایسی برائی جنم لے گی جس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا اور بہت سے بڑی بڑ عبادات مثلاً جہاد اور ہجرت وغیرہ معدوم ہوجائیں گی۔ جب اہل ایمان صرف اہل ایمان ہی کو اپنا دوست اور حمایتی نہیں بنائیں گے تو شریعت اور دین کے اس قسم کے مقاصد فوت ہوجائیں گے۔
Ayahs 8:74–75آیات (74)
گزشتہ آیات میں مہاجرین و انصار کے رشتۂ موالات کا تذکرہ تھا اور ان آیات میں ان کی مدح اور ثواب کا ذکر ہے۔ چناچہ فرمایا : (والدین امنو اوھاجروا فی سبیل اللہ والذین او وا ونصروا) ” اور جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں لڑائیاں کرتے رہے اور جنہوں نے (ہجرت کرنے والوں کو) پناہ دی اور ان کی مدد کی “ یعنی مہاجرین و انصار (اولیک ھمہ المومنون حقا) یعنی وہی بچے مومن ہیں کیونکہ انہوں نے ہجرت، نصرت دین ‘ ایک دوسرے کے ساتھ موالات اور اپنے دشمنوں کفار و منافقین کے ساتھ جہاد کر کے اپنے ایمان کی تصدیق ہے۔ (لھمہ مغفرۃ) ” ان کے لئے مغفرت۔ “ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ جس سے ان کی برائیاں محو کردی جائیں اور ان کی لغزشیں ختم کردی جائیں گی (ورزق کریمہ) ” اور عزت کی روزی “ یعنی کے لئے ان کی طرف سے نعمتوں بھری جنتوں میں خیر کثیر ہے۔ بسا اوقات اس دنیا ہی میں انہیں بہت جلد ثواب عطا کردیا جاتا ہے جس سے ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں اور دل مطمئن ہوتے ہیں۔ اسی طرح جو لوگ ان مہاجرین و انصار کے بعد آئیں، نیکیوں میں ان کی اتباع، ایمان لائیں، ہجرت کریں اور اللہ کے راستے میں جہاد کریں (فاولٓیک منکمہ) ” پس وہ لوگ تم ہی میں سے ہیں “ ان کے وہی حقوق ہیں جو تمہارے حقوق ہیں اور ان کے ذمے وہی فرائض ہیں جو تمہارے ذمے ہیں۔ ایمان پر مبنی یہ موالات اسلام کے ابتدائی زمانے میں تھی۔ اس کی بہت بڑی وقعت اور عظیم شان ہے۔ حتیٰ کہ نبی مصطفیٰ ﷺ نے مہاجرین و انصار کے درمیان جو اخوت قائم کی تھی، وہ خوص اخوت تھی جو اخوت عامہ و ایمانیہ کے علاوہ ہے، حتیٰ کہ ہے وہ ایک دوسرے کے وارث بھی بنے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرما دی (واولوا الارحامہ بعضھمہ اولی ببعض فی کتب اللہ) ” اور رشتے دار آپس میں زیادہ حق دار ہیں ایک دوسرے کے، اللہ کے حکم میں “ اس لئے میت کی وراثت صرف انہی لوگوں کو ملے گی جو اصحاب الفروض ہیں یا میت کا عصبہ ہیں۔ اگر میت کا عصبہ اور اصحاب الفروض موجود نہ ہوں تو ذو والارحام میں سے وہ لوگ وارث بنیں گے جو رشتہ میں میت کے سب سے زیادہ قریب ہیں جیسا کہ آیت کریمہ کا عموم دلالت کرتا ہے۔ (فی کتب اللہ) ” اللہ کی کتاب میں “ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی کتاب میں۔ (ان اللہ بکل شئ علیمہ) ” کچھ شک نہیں کہ اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ “ اس کے احاطۂ علم میں تمہارے احوال بھی شامل ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی مناسبت سے تم پر دینی اور شرعی احکام جاری کرتا ہے۔