Ayahs 74:40–41(فِيْ جَنّٰتٍ ۺ يَتَسَاۗءَلُوْنَ ۔ عَنِ الْمُجْرِمِيْنَ ) یعنی جنت کے اندر ان کو تمام چیزیں حاصل ہوں گی جن کی وہ طلب کریں گے، ان کے لیے کامل راحت و اطمینان پوگا، وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر سوال کریں گے، وہ آپس کی بات چیت میں مجرموں کے بارے میں پوچھیں گے کہ وہ کس حال کو پہنچے ہیں کیا انہوں نے وہ کچھ پا لیا ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ کیا تھا ؟
Ayahs 74:42–44پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے کیا تم انہیں جھانک کر دیکھنا چاہتے ہو ؟ وہ ان کو جھانک کر دیکھیں گے تو انہیں جہنم کے درمیان اس حال میں پائیں گے انہیں عذاب دیا جا رہا ہوگا تو وہ ان سے کہیں گے (مَا سَلَكَكُمْ فِيْ سَقَرَ ) یعنی کس چیز نے تمہیں جہنم میں ڈالا۔ اور کس گناہ کے سبب سے تم جہنم کے مستحق قرار پائے ہو ؟ (قَالُوْا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّيْنَ ۔ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِيْنَ ) کہیں گے ہم نماز پڑھتے تھے نہ مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے، یعنی ہم معبود کے لیے اخلاص اور احسان رکھتے تھے نہ ضرورت مند مخلوق کو فائدہ پہنچاتے تھے۔
Ayah 74:45(وَكُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَاۗىِٕضِيْنَ ) اور ہم (باطل میں) مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل میں مشغول ہونے والوں کے ساتھ مشغول ہوتے تھے۔ یعنی ہم باطل میں پڑے ہوئے تھے اور باطل کے ذریعے سے حق کے خلاف جھگڑتے تھے۔
Ayah 74:46(وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّيْنِ ) اور ہم یوم جزا کو جھٹلاتے تھے۔ یہ باطل میں مشغول ہونے کا اثر ہے اور وہ ہے تکذیب حق۔ سب سے بڑے حق میں ہے قیامت کا دن ہے جو اعمال کی جزاوسزا، اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور تمام مخلوق کے لیے اس کے عدل پر مبنی فیصلے کا محل ہے ہمارا عمل اسی باطل نہج پر جاری رہا۔
Ayah 74:47(حَتّىٰٓ اَتٰىنَا الْيَقِيْنُ ) یہاں تک کہ ہمیں موت نے آلیا پس جب وہ کفر کی حالت میں مرگئے تو ان کے لیے حیلے دشوار ہوگئے اور ان کے سامنے امید کا دروازہ بند ہوگیا۔
Ayah 74:48(فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشّٰفِعِيْنَ ) پس سفارش کرنے والوں کی سفارش انہیں کچھ فائدہ نہیں دے گی۔ کیونکہ وہ صرف اسی کی سفارش کریں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ راضی ہوگا اور یہ ایسے لوگ ہیں جن کے اعمال سے اللہ راضی نہیں جب اللہ نے مخالفین کا انجام واضح کردیا اور یہ بھی بیان کردیا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا تو موجودہ کفار پر عتاب اور ملاملت کی طرف توجہ دی۔
Ayah 74:49چناچہ فرمایا (فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ ) پس انہیں کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے روگرداں ہیں۔ یعنی نصیحت سے غافل اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 74:50(كَاَنَّهُمْ ) گویا کہ وہ، اس نصیحت سے اپنی سخت نفرت میں (حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَةٌ) بدکے ہوئے جنگلی گدھے ہیں جو ایک دوسرے سے بدک گئے ہیں اور اس بنا پر ان کی دوڑ میں تیزی آگئی ہے۔
Ayah 74:51(فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ ) جو کسی شکاری یا کسی تیر انداز سے، جو ان کو نشانے میں لینے کا ارادہ رکھتا ہو یا کسی شیر وغیرہ سے، ڈر کر بھاگے ہیں۔
Ayah 74:52اور یہ حق سے سب سے بڑی نفرت ہے۔ اس نفرت اور عراض کے باوجود وہ بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں پس (بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِۍ مِّنْهُمْ اَنْ يُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً ) ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس کھلی کتاب آئے۔ یعنی اس پر آسمان سے نازل ہو، وہ سمجھتا ہے کہ وہ اس صورت میں حق کو تسلیم کرلے گا۔ حالانکہ انہوں نے جھوٹ بولا ہے ان کے پاس اگر ہر قسم کی نشانی بھی آجائے تب بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں کیونکہ انکے پاس واضح دلائل آئے جنہوں نے ھق کو بیان کرکے واضع کردیا اگر ان میں کوئی بھلائی ہوتی تو وہ ضرور ایمان لے آتے۔
Ayah 74:53(كَلَّا ۭ ) ہرگز نہیں ہم انہیں وہ چیزیں عطا نہیں کریں گے جس کا انہوں نے مطالبہ کیا ہے، اس مطالبے سے ان کا مقصد عاجز کرنے کے سوا اور کوئی نہیں۔ (بَلْ لَّا يَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَ ) حقیقت یہ ہے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔ پس اگر انہیں آخرت کا خوف تو ان سے یہ سب کچھ صادر نہ ہوتا جو صادر ہوا ہے۔
Ayah 74:54(كَلَّآ اِنَّهٗ تَذْكِرَةٌ) کچھ شک نہیں کہ یہ نصیحت ہے۔ ضمیر یا تو اس سورة مبارکہ کی طرف لوٹتی ہے یا اس نصیحت کی طرف لوٹتی ہے جس پر یہ سورة مبارکہ مشتمل ہے۔
Ayah 74:55(فَمَنْ شَاۗءَ ذَكَرَهٗ ) پس جو چاہے اسے یاد رکھے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے سامنے سیدھے راستے کھول کر بیان کردیا، اور اس کے سامنے دلیل واضح کردی۔
Ayah 74:56(وَمَا يَذْكُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ ۭ ) اور یاد بھی تب رکھیں گے جب اللہ چاہے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر نافذ ہے کوئی قلیل یا کثیر حادث اس کی مشیت سے باہر نہیں۔ اس آیت میں قدریہ کا رد ہے جو بندوں کے افعال کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت داخل نہیں کرتے نیز اس میں جبریہ کا بھی رد ہے جن کا زعم ہے کہ بندے کی کوئی مشیت ہے نہ حقیقت میں اس کا کوئی فعل ہے وہ تو اپنے افعال پر مجبور محض ہے پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لیے مشیت اور فعل کا اثبات کیا ہے اور یہ سب کچھ اللہ کی مشیت کے تابع ہے۔
(هُوَ اَهْلُ التَّقْوٰى وَاَهْلُ الْمَغْفِرَةِ ) یعنی وہ اس کا اہل ہے کہ اس سے تقوی اختیار کیا جائے اور اس کی عبادت کی جائے کیونکہ وہی معبود ہے، عبادت صرف اسی کے لائق ہے وہ اس کا بھی اہل ہے کہ جو کوئی اس سے ڈرے اور اس کی رضا کی اتباع کرے وہ اس کو بخش دے۔